Baaghi TV

Author: News Editor

  • اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار”  حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین

    اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار” حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین

    اداکارہ نیلو کا ” جرئت انکار”

    حبیب جالب کا منظوم خراج تحسین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    11فروری 1965 کو افروایشیائی سیمینار کے مندوبین کیلئے لاہور میں سرکاری طور پرایک ثقافتی شو کا اہتمام کیا گیا۔ مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالا باغ نےنیلو کو شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے رقص کرنے کیلئے کہا۔ اس نے انکار کیا تو گالیاں دیں اورڈرایا دھمکایا ۔ اس بے عزتی پر نیلو نے بڑی مقدار میں خواب آور گولیاں کھالیں۔ بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹر کئی دن کی کوششوں سے نیلو کی جان بچانے میں کامیاب رہے ۔
    فلمی صنعت نے اس واقعہ پر احتجاجاََ ایک دن کی ہڑتال کی۔ حبیب جالب نے نظم ’’نیلو‘‘ لکھی۔ جس کا پہلا بند یہ تھا ۔۔۔

    توکہ ناواقفِ آدابِ شہنشاہی تھی
    رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
    تجھہ کو انکار کی جرأت ہوئی تو کیونکر
    سایۂ شاہ میں اس طرح جیا جاتا ہے؟

    مشہور رائٹر، ڈائریکٹر اور فلم ساز ریاض شاہد نے نیلو کی جرأت اور عزتِ نفس کو کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ اسے شادی کی پیشکش کر دی، اور وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

    ریاض شاہد نے 1969 میں فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی پر اپنی مشہور فلم ’’زرقا‘‘ بنائی۔ زرقا کا مرکزی کردار نیلو نے ادا کیا۔

    فلم کو فلسطینیوں کی تنظیم ’’الفتح‘‘ نے بہت سراہا۔ 21 اکتوبر 1969 کو کراچی میں ایک تقریب ہوئی، جس میں ’’الفتح‘‘ کے نمائیندےخالد الشیخ نے ریاض شاہد کو یہ فلم بنانے پرمبارکباد دی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
    ریاض شاہد نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیلئےفلم کی نمائش کے حقوق الفتح کو دے دئیے اور کہا کہ اس کی آمدنی جدوجہدِ آزادی میں صرف کی جائے۔

    اس موقع پر نیلو نےفلمی زندگی سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ زرقا ان کی زندگی کا عظیم ترین کردار تھا، اس کے بعد وہ عام فلمی کردار ادا کرنا پسند نہیں کریں گی۔
    لیک ریاض شاہد کی موت کے بعد معاشی ضرورتوں نے انہیں اس عہد پر قائم نہ رہنے دیا،اور انہیں پھر کچھہ عرصے کیلئے فلموں میں آنا پڑا

  • چمن ریلوے اسٹیشن کے قریب بم دھماکا کرنے کا منصوبہ ناکام

    چمن ریلوے اسٹیشن کے قریب بم دھماکا کرنے کا منصوبہ ناکام

    کوئٹہ:چمن میں ریلوے اسٹیشن کے قریب لیویز رسالدارمیجر کے کوارٹر کے گیٹ کے ساتھ موجود بم کو پاک فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنادیا۔پولیس حکام کے مطابق چمن ریلوے اسٹیشن کے ساتھ گورنمنٹ گرلز کالج کے قریب لیویز رسالدار میجر عزیز احمد خان کے کوارٹر کے گیٹ کے ساتھ نامعلوم افراد نے بم رکھا اور فرار ہوگئے۔

    شیخ رشید راہداری ریمانڈ پر مری پولیس کے حوالے

    حکام نے بتایا کہ لیویز رسالدار میجر نے پولیس کو بم کی موجودگی کی اطلاع دی، جس پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور پاک فوج کی بم ڈسپوزل سکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیا۔پاک فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بم کو کوارٹر سے باہر نکالا اور دھماکا سے اڑا دیا، دھماکے کی آواز دور دور تک سنائی دی۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق بم ریموٹ کنٹرول تھا اور اس میں موجود بارودی مواد کا وزن ایک کلو تھا، جب کہ بم کو جوس کے ڈبے میں بنایا گیا تھا۔ دہشت گردوں کا ہدف لیویز رسالدار میجر تھا تاہم فورسز کی بروقت کارروائی سے دہشت کردی کا یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

  • شیخ رشید کی مری میں درج مقدمے میں ضمانت منظور

    شیخ رشید کی مری میں درج مقدمے میں ضمانت منظور

    راولپنڈی:جسٹریٹ محمد ذیشان نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی مری میں درج مقدمے میں ضمانت منظورکرلی۔تفصیلات کے مطابق کارسرکار میں مداخلت اور پولیس ملازمین کو دھمکیاں دینے کے معاملے پرعدالت نے سربراہ عوامی مسلم لیگ و سابق وزیرداخلہ شیخ رشید کی تھانہ مری میں درج مقدمے میں ضمانت منظورکر لی۔

    شیخ رشید کے کاغذات نامزدگی منظور

    مری پولیس نے شیخ رشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجوا رکھا تھا۔ ملزم شیخ رشید کی جانب سے سردارعبدالرزاق خان اور سردار شہباز خان پیش ہوئے۔تھانہ مری کے علاقہ مجسٹریٹ محمد ذیشان نے پچاس ہزار روپے کے مچلکوں پر شیخ رشید کی ضمانت منظور کی۔

    شیخ رشید کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کا تحریری فیصلہ جاری

    اس سے قبل شیخ رشید کو مری میں مجسٹریٹ سول جج محمد ذیشان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سخت سردی اور بارش کے باعث پیشی کے موقع پر جھیکا گلی جوڈیشل کمپلیکس کی سیکیورٹی ہاٸی الرٹ کی گئی۔عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ اورتفتیشی کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا اورمذید سماعت آج 11 فروری تک ملتوی کر دی تھی۔

    سیشن عدالت اسلام آباد تھانہ مری میں درج مقدمے میں پیشی کے معاملے میں عدالت نے شیخ رشید کے راہداری ریمانڈ سے متعلق محفوظ فیصلہ سنایا۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں میں سماعت کے دوران وکیل علی بخاری نے کہا کہ شیخ رشید اس وقت حراست میں ہیں۔ راہداری ریمانڈ اور سفری ریمانڈ دو مختلف چیزیں ہیں۔ مری پولیس کی جانب سے راہداری ریمانڈ کی استدعا پہلے مسترد ہوچکی۔ شیخ رشید کہیں بھاگے نہیں جارہے،

  • بلوچستان: سیکورٹی فورسز کےآپریشن میں شہید فوجی افسران کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

    بلوچستان: سیکورٹی فورسز کےآپریشن میں شہید فوجی افسران کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

    راولپنڈی: وچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں شہید فوجی افسران کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شہید میجر محمد جاوید اور کیپٹن صغیر عباس کی نماز جنازہ ادا کردی گئی ہے۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دونوں افسران کی نماز جنازہ راولپنڈی اور کوٹ ادو میں ادا کی گئی ہے جس میں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید اور دیگر افسران سمیت حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران، فوجیوں نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شہداء کے رشتہ داروں، معاشرے کے مختلف طبقات کے افراد نے بھی بڑی تعداد میں جنازے میں شرکت کی۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں شہید افسران کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دونوں افسران کوہلو، بلوچستان میں آپریشن کے دوران دیسی ساختہ بم پھٹنے سے شہید ہوئے تھے۔

  • بغاوت پراکسانےکا کیس؛ شہبازگل کی بریت کی درخواست مسترد

    بغاوت پراکسانےکا کیس؛ شہبازگل کی بریت کی درخواست مسترد

    اسلام آباد:بغاوت پر اکسانے کا کیس؛ شہبازگل کی بریت کی درخواست مسترد کردی گئی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما شہبازگل کی بریت کی درخواست مسترد کرکے فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کردیا۔عدالت نے شہبازگل کی بریت کی درخواست مسترد کردی کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ 27 فروری مقررکردی ہے۔

    یاد رہے کہ شہباز گل کے خلاف مذکورہ مقدمہ مسلح افواج کے اہلکاروں کو قیادت کے خلاف اکسانے کے الزام میں عائد کیا گیا تھا۔اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں شہبازگل کیس کی سماعت ہوئی جس میں شہبازگل اورعماد یوسف عدالت میں پیش ہوئے۔

    شہبازگل کی مقدمہ سے بریت کی درخواست پران کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ درخواست 265 ڈی کے تحت دائرکی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں دفعہ 124 اے لگائی گئی جس کے لیے وفاقی حکومت کی اجازت لازمی ہے۔ ایف آئی آر 9 تاریخ اوردفعہ 124 اے کیلئے اجازت 10تاریخ کوملی یعنی کہ ایف آئی آرپہلے درج کی گئی، اوراجازت بعد میں لی گئی اس طرح اگر10 تاریخ کواجازت ملی تو9 تاریخ کی ایف آئی آرغیرقانونی ہوگئی۔

    جج نے استفسار کیا کہ اس کیلئےاجازت نامہ جاری ہوناضروری ہے یاتھانے کوموصول ہوناضروری ہے؟ جواب میں وکیل نے بتایا کہ مقدمے میں جتنی ریکوری ہورہی ہے وہ 9 تاریخ کی ہورہی ہے۔ تمام پروسیجر9 تاریخ کوہوچکا، حکومت سے اجازت 10 تاریخ کوملی۔
    وکیل نے کہا کہ یہ واحد کیس ہےجس میں شکایت کنندہ اپنی مرضی کی دفعات لکھ کرپولیس کودیتا ہے، پولیس شکایت کنندہ کےخواہش کےمطابق دفعات شامل کردیتی ہے۔

    جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شکایت کنندہ مجسٹریٹ ہیں،ان کے پاس قانون کا علم توہے۔ اس پر وکیل نے کہا کہ بے شک مجسٹریٹ ہیں لیکن شکایت کنندہ بھی ہیں۔ پولیس کو اپنا دماغ استعمال کرنا چاہیے تھا۔ اجازت 10اگست کوملی تو8 اگست کوانہوں نےکیسے شکایت درج کرائی۔ شکایت کنندہ نے تفتیشی افسرکوبیان سے متعلق یوایس بی جمع کرائی۔ یوایس بی کوقانون شہادت اورسپریم کورٹ فیصلوں کےتناظرمیں دیکھاجائےگا۔ جدید ڈیوائسز کے بطوردستاویز سے متعلق طےشدہ اصول دیکھےجائیں گے۔

    شہباز گل کے وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ الیکٹرانک ٹرانزیکشنزآرڈی نینس کےتحت اس کودیکھاجائےگا، دیکھنا ہوگا کہ کیا قانون شہادت کےتحت قابل قبول شہادت بھی ہےیا نہیں؟ کورٹ میں پیش کی گئی یوایس بی سربمہرنہیں تھی، ہمیں علم نہیں پیش کی گئی یوایس بی کا سیریل نمبرکیا ہے؟ ۔جج نے ریمارکس دیے کہ آپ کایہ کہنا ہے ہم فرد جرم کے موقع پرشواہد کا جائزہ لیں؟ اگریہی کرنا ہےتوبیانات اورشہادتیں ریکارڈ کرنےکی ضرورت کیا ہے؟ اس پر وکیل نے کہا کہ آپ نے فرد جرم کچھ بنیادی شواہد پرہی عائد کرنی ہے۔ شواہد کی چین ٹوٹ جائےتو بریت دیکھی جا سکتی ہے۔

    وکیل نے مزید کہا کہ شہبازگل کیخلاف صرف ایک یوایس بھی دی گئی ہے۔ اگروہ قابل قبول شہادت نہیں توپھرفرد جرم کیسےہوگی؟ معائنے کیلئے توشیباکی یوایس بھی بھیجی گئی اور واپس ایچ پی کی آئی۔ سِیل بھی ٹوٹی ہوئی ہے تو مطلب شواہد ٹمپرہوگئے۔

    وکیل نے مزید کہا کہ شہبازگل کیخلاف موجود واحد ثبوت ایک یوایس بی ہے اور وہ بھی قابل قبول شہادت نہیں ہے، میری استدعا ہے کہ شہبازگل کوکیس سے بری کیا جائے۔

    ایڈیشل سیشن جج نے استفسار کیا کہ کیا شہبازگل نے اپنے بیان سے انکارکیا ہے؟جواب میں وکیل نے کہا کہ میں نہیں بتاؤں گاکہ کیا کہا تھا، یہ پراسیکیوشن نےثابت کرناہے سپریم کورٹ کہہ چکی آئین اورقانون کی خلاف ورزی میں جاری آرڈرنہ ماناجائے۔ ایک تاریخ دے دی جائے تاکہ دوسرے وکیل بھی اس میں دلائل دےسکیں۔جج نے کہا کہ سادگی دیکھیں کہ دلائل مکمل کرکے پھرتاریخ مانگ رہے ہیں، مجھے عدالتی فیصلوں کے حوالہ جات دے دیں، وہ دیکھ لیتا ہوں جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت میں تین بجے تک وقفہ کردیا تھا۔

    وقفے کے بعد عدالت نے شہباز گل کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا جو 27 فروری کو عائد کی جائےگی۔ی۔

  • پسند کی شادی پر دو برادریوں میں تصادم، دلہے کے دو ساتھی جاں بحق

    پسند کی شادی پر دو برادریوں میں تصادم، دلہے کے دو ساتھی جاں بحق

    لاہور:پسند کی شادی پر دو خاندانوں میں فائرنگ کے تبادلے میں دلہے کے دو ساتھی جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی تحصیل رینالہ خورد میں پسند کی شادی پر دو خاندانوں میں ہونے والے تصادم میں دلہے کے دو ساتھی جاں بحق ہوگئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔پولیس حکام کے مطابق لڑکی اور لڑکے والوں کے مابین پسند کی شادی پر تنازعہ تھا، لڑکی اور لڑکے کی شادی ہوچکی تھی تاہم گھر والے لڑکی کو میکے لے کر چلے گئے تھے۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ دلہا اپنے ساتھیوں سمیت دلہن لینے ان کے گھر پہنچا تو جھگڑا ہوگیا، اور بات ہاتھا پائی تک جاپہنچی اور فائرنگ ہوگئی، جس کے نتیجے میں دلہے کے ساتھ آئے اس کے دو ساتھی جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ اس سے پہلے لڑکے والوں نے بھی دلہن کی بہن کو اسکول میں فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا، جس کی وجہ سے لڑکی کے گھر والے مشتعل ہو گئے تھے۔پولیس نے دونوں برادریوں کیخلاف مقدمات درج کرلیے ہیں، تاہم لڑکی اور لڑکے دونوں کے گھر والے مفرور ہوگئے ہیں۔

  • پنجاب سے کالعدم تنظیموں کے 9 دہشت گرد گرفتار

    پنجاب سے کالعدم تنظیموں کے 9 دہشت گرد گرفتار

    محکمہ انسداد دہشت گردی پنجاب نے کامیاب آپریشنز کے دوران صوبہ پنجاب سے کالعدم تنظیموں کے 9 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔

    برف باری کے دوران مری میں سیاحوں کی تعداد بڑھنے لگی

    پنجاب میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے آج بروز ہفتہ 11 فروری کو جاری بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس آپریشن کرتے ہوئے دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق گرفتار دہشتگردوں میں عفان، کاشف، جواد سعید، ثاقب الیاس، سبز علی، داؤد شاہ اور احمد جان شامل ہیں، دہشتگردوں کے خلاف 10 مقدمات درج ہیں جن کی تفتیش جاری ہے۔

    بارش،برفباری:مظفرآباد اورمری میں ٹریفک جام،سیاح پھنس گئے

    ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہےکہ کارروائی کے دوران خودکش جیکٹ، دھماکا خیز مواد، دستی بم، ڈیٹونیٹر، اسلحہ، ریموٹ کنٹرول ڈیوائسز اور حساس مواد پر مشتمل کتابیں برآمد کرلی گئیں۔ترجمان کے مطابق دہشت گردوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش کے مختلف گروپوں سے ہے، دہشتگردوں کی شناخت 26 مشتبہ افراد سے تفتیش کے دوران ہوئی۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہےکہ رواں ہفتے 564 کومبنگ آپریشنز میں 93 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

  • وہ "کون”پاکستانی تھا جوترک سفارتخانےمیں آیا اورترک زلزلہ متاثرین کےلیے8 ارب روپے دیکرچلاگیا

    وہ "کون”پاکستانی تھا جوترک سفارتخانےمیں آیا اورترک زلزلہ متاثرین کےلیے8 ارب روپے دیکرچلاگیا

    لاہور:وہ "کون”پاکستانی تھا جوامریکہ میں‌ ترک سفارتخانے میں آیا اورترک زلزلہ متاثرین کے8 ارب روپے دیکرچلاگیا،اطلاعات کے مطابق اس مشکل وقت میں جبکہ ترکی اورشام میں زلزلے میں وفات پاجانے والوں کوتباہ حال عمارتوں سے نکالا جارہا ہے اوراس زلزلے نے اس قدرترکی اورشام کو متاثرکیا ہے کہ ابھی تک لاشیں اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے

    اس اثنا میں جبکہ ایک طرف ترکیہ بہت سی مشکلات میں گھرا ہوا ہے اورکچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کیا جائے ، ترک مسلمانوں کی امداد کےلیےدنیا بھرسے مسلمان بھی اس موقع پرترکی کےساتھ کھڑے ہیں‌،دنیا بھر سے امداد کا سلسلہ جاری وساری ہے ، اس دوران کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ جن سے ایمان تازہ ہوگیا ہے اورہرمسلمان اس واقعہ سے بہت متاثرہے

     

    اس حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں ترک سفارتخانے میں ایک شخص آتا ہے اوروہ خاموشی سے 30 ملین امریکی ڈالرز کی امداد دے کرچلا گیا ، یہ پاکستانی 8 ارب اور دس کروڑ سے زائد رقم بنتی ہے ، یہ پاکستانی بزنس مین کون ہے کسی کو کوئی پتہ نہیں

    یہ بھی معلوم ہواہےکہ یہ پاکستانی جاتے ہوئےیہ کہہ گیاکہ میراسلام بھی میرے ترک اورشامی مسلمان بھائیوں تک پہنچادینا ترکیہ اورشام میں آنے والے زلزلے میں اموات کی تعداد تئیس ہزار سات سو سے متجاوز کرگئی ہیں۔ پانچ روز بعد بھی ریسکیو کا عملہ انسانی جانیں بچانے میں مصروف ہے۔ شام کے علاقے ادلب میں پورا خاندان معجزانہ طور پر زندہ نکال لیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکیہ اور شام میں اس صدی کے تباہ کن زلزلے کے دوران ملبے تلے کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا۔ دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ 23 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ شام کے شہرادلب میں پورا خاندان معجزانہ طور پرملبے سے زندہ نکالنے پرجذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

    رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک میں زلزلے سے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ دونوں ممالک میں ایک ہزار سے زائد آفٹر شاکس آئے ہیں۔ سخت سردی میں ریسکیو عملہ انسانی جانیں بچانے میں مصروف ہیں، جہاں کہارا مانمارس میں 2 افراد کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے۔ حاطے کے علاقے میں خاتون اور نوجوان کو 110 گھنٹے بعد ریسکیو کیا گیا

  • 2008ميں شوکت خانم کے 3 ملین ڈالرز سے سرمایہ کاری کی:عمران خان

    2008ميں شوکت خانم کے 3 ملین ڈالرز سے سرمایہ کاری کی:عمران خان

    اسلام آباد:چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایک بار پھر اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے 2008 ميں شوکت خانم کے 3 ملین ڈالرز سے سرمایہ کاری کی اور 7 سال کے بعد یہ رقم اسپتال کو واپس کردی گئی۔اسلام آباد کی ماتحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے ن لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے خلاف ہتک عزت کیس کی سماعت ہوئی۔

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، اور وکیل ولید اقبال ان کی معاونت کرنے کے لیے ساتھ موجود رہے۔

    خواجہ آصف کے وکیل علی شاہ گیلانی نے عمران خان پر جرح کی۔ تو عمران خان نے اپنے بیان میں اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بات درست ہےکہ 2008 ميں 3 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی، یہ رقم 7 سال ایچ بی جی گروپ کے پاس رہی، اور 2015 میں شوکت خانم کو واپس دے دی گئی تھی۔عمران خان نے بیان میں بتایا کہ ايچ بی جی گروپ کے چیف ایگزیکٹو امتیاز حیدری ہیں، اور وہ بھی سرمايہ کاری کی منظوری دينے والی کمیٹی میں شامل تھے، لیکن انہوں نے ذاتی فائدے کيلئے سرمايہ کاری کی منظوری نہیں دی تھی۔

    عمران خان نے کہا کہ بورڈ میٹنگز میں اس سرمایہ کاری سے متعلق بات ہوئی تھی، خواجہ آصف کو لیگل نوٹس بھیجتے وقت سرمایہ کاری کی رقم واپس نہیں آئی تھی۔عمران خان نے بیان میں کہا کہ معلوم نہیں کہ امتیاز حیدری پی ٹی آئی کے ڈونر بھی تھے یا نہیں، شوکت خانم اسپتال کے لئے متعدد سمندر پار پاکستانی ڈونیشن دیتے ہیں، امتیاز حیدری کے کردار کے حوالے سے عدالت کو گمراہ نہیں کیا۔

    عمران خان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم انڈومنٹ فنڈ بورڈ کب بنایا گیا تھا، صرف اتنا معلوم ہے کہ انڈومنٹ فنڈ بورڈ 90 کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔خواجہ آصف کے وکیل نے کہا کہ 2005 میں بورڈ آف گورنرز میٹنگ میں آپ نے کہا تھا کہ انڈومنٹ فنڈ بورڈ ابھی نہیں بنایا، اور اب کہہ رہے ہیں خہ 90 کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔

    خواجہ آصف کے وکیل نے عمران خان سے سوال کیا کہ کیا آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا آپ کو معلوم ہے۔عمران خان نے اپنے جواب میں کہا کہ شوکت خانم اسپتال کے فیصلوں کا مجھے معلوم نہیں، شوکت خانم اسپتال کے مالی فیصلوں کی آڈٹ رپورٹ ہوتی ہے، اسپتال کا بورڈ مجھ سے پوچھ کر فيصلے نہیں کرتا، اب معلوم ہوا ہے 2 آف شور کمپنیوں میں شوکت خانم اسپتال کا پیسہ انویسٹ کیا گیا۔

  • پیٹربنچلے:معروف امریکی ناول نگار،ناول اورصحافی

    پیٹربنچلے:معروف امریکی ناول نگار،ناول اورصحافی

    پیدائش:08 مئی 1940ء
    نیویارک شہر
    وفات:11 فروری 2006ء
    پرنسٹن، نیو جرسی
    وجۂ وفات:پھیپھڑوں کا مرض
    شہریت:ریاستہائے متحدہ امریکا
    مادر علمی:ہارورڈ یونیورسٹی
    زبان:انگریزی

    انگریزی کے مشہور ناول نگار جن کے ناول پر ہالی ووڈ کی مشہور فلم ”جاز“ بنائی گئی۔ نیویارک میں پرورش پائی اور ہارورڈ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے کے لیے صدر لنڈن بی جانسن کی تقریریں لکھنے کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

    ناول ’جاز‘ کی 1974ء میں پہلی اشاعت سے قبل انھوں نے صحافی کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ پیٹر بنچلے کو بچپن سے ہی شارکوں سے دلچسپی تھی اور ان کا بچپن جزیرہ نما نیٹاکیکٹ میں بھی گزرا۔ ان کا ناول ’جاز‘ ایک ایسی بہت بڑی سفید شارک کے بارے میں ہے جس نے ایک شہر کو ہراساں کر رکھا ہے۔ اس ناول کی اب تک دو کروڑ جلدیں فروخت ہو ئیں۔

    ان کے اس ناول پر فلم مشہور ڈائریکٹر اسٹیون سپلبرگ نے بنائی اور انھوں نے اس فلم میں خود بھی ایک رپورٹر کا کردار ادا کیا۔ انھیں سمندر اور سمندری حیاتیات سے گہری دلچسپی تھی اور ان کے دوسرے دو ناول ’دی ڈیپ‘ اور ’دی آئی لینڈ‘ بھی سمندر سے متعلق ہیں۔