Baaghi TV

Author: News Editor

  • چین پاکستان تعلقات رواں سال بہت سی آزمائشوں سے گزرے:چینی وزارت خارجہ

    چین پاکستان تعلقات رواں سال بہت سی آزمائشوں سے گزرے:چینی وزارت خارجہ

    اسلام آباد:چینی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر جنرل لیو جن سونگ نے اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز اور چائنا انسٹی ٹیوٹ آف کنٹیمپریری انٹرنیشنل ریلیشنز کی طرف سے منعقدہ دوسرے “چین پاکستان تھنک ٹینک فورم” میں شرکت کی اور تقریر کی۔

    جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق انہوں نے کہا کہ اس سال چین پاکستان تعلقات بہت سی آزمائشوں سے گزرے اور چین پاک دوستی مزید مضبوط ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تین چیزوں نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ چین نے پاکستان کو سیلاب سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ اس سال جون سے پاکستان دہائیوں میں بدترین سیلاب کا شکار ہوا ہے جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 33 ملین سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔ چینی عوام پاکستانی عوام کے لیے ہمدردی محسوس کرتے ہیں اور بہت پریشان ہیں۔ پاکستانی عوام کی امداد کے لیے چین نے ہنگامی طور پر امدادی سازوسامان اور مالی امداد فراہم کی۔مجھے یقین ہے کہ پاکستانی بھائی اس آفت پر قابو پا کر اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کر سکیں گے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ چین پاک اقتصادی راہداری پاکستان کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ایک مضبوط سہارا بن رہی ہے۔ اب سی پیک کا منصوبہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سی پیک کی تعمیر کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے دو دفعہ گوادر پورٹ کا معائنہ کیا اور وہاں چینی کاروباری اداروں کے ساتھ سیمپوزیم کا انعقاد کیا اور موقع پر ہی چینی کاروباری اداروں کے مطالبات کا جواب دیا۔

    تیسری چیز چین کے بنیادی مفادات جیسے تائیوان اور سنکیانگ سے متعلق معاملات پر پاکستان کی چین کی مضبوط حمایت ہے۔کووڈ-19 کی وبا، یوکرین کے بحران اور کچھ ترقی یافتہ ممالک کی مالیاتی پالیسیوں کے اثرات کی وجہ سے “پانچ سیکیورٹی” کے مسائل جیسے کہ خوراک ،توانائی،مالیات، پیداوار اور سپلائی چین کی سلامتی، اور ماحولیاتی سلامتی تیزی سے نمایاں ہو گئے ہیں۔ اس تناظر میں چین اور پاکستان کو چاروں موسموں کے اسٹریٹجک شراکت داروں کے طور پر، مندرجہ ذیل کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے دونوں ممالک کو یکجہتی، تعاون اور باہمی تعاون کو مضبوط کرنا چاہئیے۔دوسرا یہ ہے کہ سی پیک کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر کو فروغ دیا جانا چاہئیے۔ تیسرا یہ ہے کہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو کو لاگو کرنے میں پیش قدمی کرنی چاہیے۔

    ایک اور اطلاع کے مطابق، پاکستان کی وزارت خارجہ کے چائنا ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلال احمد نے 5 ستمبر کو چین کے صوبہ سی چھوان کے شہر لوڈنگ میں آنے والے زلزلے کے متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے چین پاکستان تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان چینی صدر شی جن پھنگ کے تجویز کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور گلوبل سیکورٹی انیشیٹو کو سراہتا ہے۔ تصادم سے کسی بھی ملک کو فائدہ نہیں ہوگا اور تعاون اور ترقی وقت کا مرکزی دھارا ہے۔ پاکستان “دی بیلٹ اینڈ روڈ” خصوصاً چین پاک اقتصادی راہداری کی اعلیٰ معیار کی تعمیر کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کوشش کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا جاسکے۔

  • ایشیا کپ،سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    ایشیا کپ،سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    ایشیا کپ،سری لنکا کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    سی لنکن کہتان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں ،کپتان قومی کرکٹ ٹیم بابراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم میں تبدیلیاں کی گئی ہیں،نسیم شاہ اور شاداب خان کی جگہ عثمان قادر اور حسن علی کھیلیں گے،

    سری لنکا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ہے،ٹاس جیتنے کے بعد سری لنکا کے کپتان داسن شناکا نے کہا کہ ٹاس جیت کر خوشی ہے اور فائنل سے قبل پاکستان سے میچ اچھا شگون ہے

    واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا نے سپر فور مرحلے کے اپنے ابتدائی دو میچز بھارت اور افغانستان کے خلاف جیتے تھے۔پاکستان اور سری لنکا دونوں ٹورنامنٹ میں اپنے ابتدائی میچ ہار گئے لیکن ابتدائی دھچکے کے بعد ایونٹ میں ناقابل شکست رہے۔آج کا میچ اور فائنل دبئی میں کھیلا جائے گا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • اسلام آباد:شامل تفتیش نہ ہونے پرعمران خان کو نوٹس

    اسلام آباد:شامل تفتیش نہ ہونے پرعمران خان کو نوٹس

    اسلام آباد:پولیس نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو شامل تفتیش نہ ہونے پر نوٹس جاری کردیا۔عدالتی حکم کے باوجود چیئرمین تحریک انصاف عمران خان دہشت گردی کے مقدمے میں اب تک شامل تفتیش نہیں ہوئے۔

    عمران خان کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جےآئی ٹی) نے آج دن 3 بجے تھانہ مارگلہ میں طلب کیا تھا، عمران خان نے 12 ستمبر تک انسداد دہشت گردی کی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کررکھی ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف 20 اگست کی تقریر پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض یکم ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کی تھی، یکم ستمبر کو عمران خان عدالت پیش نہ ہوئے تو انہیں عدالت کی جانب سے پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا۔

    عمران خان یکم ستمبر کی دوپہر انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہوئے، جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 12 ستمبر تک توسیع دے دی۔عمران خان کی عدم حاضری پر پولیس مؤقف کے ساتھ چالان عدالت میں جمع کرائے گی۔عمران خان کو جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا نوٹس ان کے سکیورٹی افسر ایس پی راجہ طاہر کے ذریعے بھجوایا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینےکےکیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان جمع کرانے سے روکتے ہوئے عمران خان کو دہشت گردی کے مقدمے میں شامل تفتیش ہونےکا حکم دیا تھا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں: پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مشکلات کا شکار ہوگئی

    سیلاب کی تباہ کاریاں: پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مشکلات کا شکار ہوگئی

    فیصل آباد:حالیہ سیلاب اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے ملک میں کپاس کی فصل بری طرح متاثر،پنجاب میں 15 فیصد، سندھ میں 80اور بلوچستان میں 100فی صد کپاس کی فصل تباہ ہو گئی،ملک بھر میں زیر کاشت کپاس کی 16 لاکھ ایکڑ سے زائد فصل تباہ ہو گئی،

    تفصیلات کے مطابق اس سال حالیہ سیلاب اور طوفانی بارشوں سے جہاں ملک بھر میں دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے وہاں کپاس کی فصل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے اور گزشتہ دس سالوں کے دوران کپاس کی سب سے زیادہ پیداوار متوقع تھی جس میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہیوزارت زراعت کیاعداد و شمار کے مطابق اس سال پنجاب میں 36 لاکھ 70ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی ریکارڈ فصل کاشت کی گئی تھی جس میں سے سیلاب اور بارشوں سے5 لاکھ 50ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی فصل بری طرح متاثر ہوئی ہے جو کہ مجموعی کاشت کا پندرہ فیصد ہے

    اسی طرح سندھ میں اس سال 12لاکھ 70ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کی گئی تھی جس میں سے10لاکھ 21 ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کی فصل بری طرح متاثر ہوچکی ہے جو کہ مجموعی کاشت کا 80 فیصد ہے جبکہ بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور بارشوں کے نتیجہ میں زیر کاشت 3876 رقبہ پر کھڑی فصل سوفیصد متاثر ہو چکی ہے ملک میں کپاس کی مجموعی کاشت کا 32.2 فیصد رقبہ متاثر ہوا ہے اعداد و شمار کے مطابق اس سال پنجاب میں کپاس کی 6 ملین گانٹھ کی پیداوار متوقع تھی جو کہ اب کم ہوکر 0.9 ملین رہ گئی ہے۔

    شدید بارشوں، ژالہ باری اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 100 فیصد، سندھ میں 80 فیصد جبکہ پنجاب میں 30 فیصد سے زائد کاٹن کی فصل پانی کی نظر ہوئی۔پیداواری ٹارگٹ 1 کروڑ 10 لاکھ بیل سے کم ہوکر صرف 60 لاکھ بیل تک رہ گیا ہے۔

    دوسری طرف کاٹن ریسرچرمحمد رضوان کہتے ہیں کہ روئی کی خشک فصل ہوتی ہے، اگرکپاس کے کھیت میں 24 گھنٹے سے زیادہ پانی کھڑا رہے تو پودا خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے، ہماری تقریباً 40 سے 50 فیصد فصل مکمل تباہ ہوچکی ہے اور اگر پانی جلدی نہ اترا تو اگلی فصلیں بھی بہت متاثر ہوں گی۔

    کپاس کی تباہی سے فیصل آباد کے صنعتکار بھی پریشان ہیں اور دھاگے کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ چیمبر آف کامرس کے صدرعاطف منیر نے بتایا کہ ابھی سے دھاگے کے بیگ میں 8 سے 10 ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔کاٹن ریسرچرز کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں آئندہ ایک سال تک زمین کپاس کی فصل اگانے کے قابل نہیں رہے گی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج

    لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج

    لاہور:لیسکو ملازمین کا ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر میکلوروڈ کمپلیکس میں احتجاج ،اطلاعات کے مطابق لاہور میں اس وقت اہم مقام پر واپڈا لاہور کے ملازمین نے احتجاج کررکھا ہے اور ان ملازمین کا کہنا ہےکہ حفاظتی سامان کی عدم فراہمی کی وجہ سے پریشان ہیں اور وفاقی حکومت کی طرف سے واپڈا ملازمین کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے

    اطلاعات کے مطابق لیسکو ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے میکلوروڈ آپریشن ڈویژن، ریونیو آفس ،ایم اینڈ ٹی کے تمام دفاتر میں دوسرے روز بھی کام بند ہے جس کا خمیازہ عوام الناس کو بھگتنا پڑرہا ہے ، لیسکو ملازمین کا کہنا ہے کہ ٹی اینڈ پی نہ ملنے پر وہ یہ احتجاج کررہے ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لیسکو ملازمین کی بڑی تعداد میکلوروڈ لیسکو کمپلیکس کے باہر موجود ہے ، دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین تھرڈ سرکل نے مطالبات منظور نہ ہونے تک دھرنا دینے کا اعلان کردیا

    واپڈا ذرائع کے مطابق لیسکو مغل پورہ اور باغبانپورہ ڈویژن میں بھی کام بند ہے اور اس علاقے میں بھی عوام الناس سخت پریشان دکھائی دیتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین تھرڈ سرکل کے عہدیدار احتجاج میں شریک ہیں ، واپڈا کے احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ لیسکو انتظامیہ کی جانب سے لائن سٹاف کو معیاری حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جارہا، مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ربر گلوز،سیفٹی بوٹ،گاڑیاں، بیلٹ سمیت دیگر سامان کی شدید قلت ہے،

    لیسکو کے احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ جو سامان موجود ہے وہ بھی انتہائی غیر معیاری ہے جس سے لائن سٹاف کی حفاظت ممکن نہیں،فیلڈ میں کام کے دوران ملازمین کو شرپسند عناصر کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے پر افسران تعاون نہیں کرتے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ لیسکو میں سٹاف کی شدید کمی کا سامنا ہے، جبکہ افسران کا رویہ ملازمین سے انتہائی ہتک آمیز ہے،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    سیلاب کے بعد کیمپوں میں مقیم متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوسکیں۔ مختلف وبا اور بیماریاں پھوٹنے سے 5 افراد انتقال کر گئے ہیں، انہیں حالات کے پیش نظر سندھ حکومت نے پنجاب سےمدد مانگ لی

    خیرپور کے سیلاب متاثرہ علاقوں گیسٹرو کا مرض وبائی شکل اختیار کر لیا گیا، جس کے بعد خیرپور میں پیر گوٹھ بچاؤ بند ہونے پر کیمپ میں چار افراد کی زندگی بازی ہار گئی۔ متاثرین خوراک اور علاج کی حالت سے خوفزدہ ہیں، جہاں مزید لوگوں کا بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدشہ ہے کہ ضلع بھر میں تاحال میڈیکل کیمپ نہیں چلا۔سکھر میں بھی گیسٹرو سے بچہ دم توڑ گیا ہے اور یہاں بھی علاج معالجے کی سہولیات نہیں ہیں

    ان علاقوں میں ٹینٹس نہیں اور لوگ دن کو کھلے آسمان تلے سخت دھوپ میں وقت گزارتے ہیں اور رات کو مچھر اور کیڑوں مکوڑوں کے حملوں‌ کا سامنا کرتے ہیں‌ ، ادھر سکھر سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سکھر بیراج کے دوسرے راستے سے نامعلوم شخص کی لاش برآمد کی گئی۔سکھر بیراج پرموجود حکام کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران واقعات کی تعداد 33 واضح ہے۔ اس سے پہلے والی لاشوں میں 9 خواتین بھی شامل ہیں، تاہم کسی کی شناخت نہ ہو سکی۔

    کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق صوبہ بلوچستان کے علاقے مرادی میں بارش کو تھمے ہوئے روز گزرے مگر میونسپل کمیٹی ڈی کی جانب سے شہر کے گلی محلوں سے پانی نہیں ملنے جاسکا۔ شہر کے اندر ہر طرف تالاب اور منہدم مکانات سے تباہی دل دہلا دینے کا منظرپیش کررہا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صوبے کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ چکی ہیں اور لوگوں کے پاس علاج معالجے کی سہولت نہیں ہے

    خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی سندھ کی طرح حالات اچھے نہیں ہیں، کوہستان ، کالام ، سوات ، ڈیرہ اسمٰعیل خان اور دیگرعلاقوں میں سیلاب کی باقیات ابھی موجود ہیں اور لوگ ایک طرف سخت دھوب میں وقت گزار رہے ہیں تو دوسری طرف بیماریوں میں بھی مبتلا ہورہے ہیں

    سندھ میں سیلاب کے پیش نظر ہیلتھ کیئر ورکرز کی کمی ہوگئی ہے سندھ نے پنجاب حکوت سے ڈاکٹرز،نرسز، پیرامیڈیکس بھیجنے کی استدعا کی ہے ۔

    سندھ حکومت کی استدعا پر سب سے پہلے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے ڈاکٹرزاور نرسز پر مشتمل 10رکنی وفد لاڑکانہ روانہ کردیا ہے، اور اس وفد کے ساتھ ڈائریا، جلدی امراض، سمیت مختلف بیماریوں کی ادویات کا اسٹاک بھی ساتھ رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹرز سندھ کے مختلف علاقوں میں کیمپ لگائیں گے اورپھرسندھ حکومت کی ہدایات کی روشنی میں متاثرہ علاقوں میں مزید طبی سہولتیں فراہم کریں گے

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات سے برطانیہ کی قدیم روایات اور اقدارہی بدل گئیں

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات سے برطانیہ کی قدیم روایات اور اقدارہی بدل گئیں

    لندن :ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات نے برطانیہ کی قدیم اقدارہی بدل دیں،اس سے پہلے تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ تخت پر 70 سال گزرنے کے بعد، ہم سب ملکہ کی تصویر روزمرہ کی چیزوں جیسے بینک نوٹ، سکے اور ڈاک ٹکٹوں پر دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

     

    لیکن ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد برطانیہ کے بہت سے طور طریقے بدل جائیں گے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سب سے پہلے انہیں نئے بادشاہ چارلس III کے نمایاں پورٹریٹ کے لیے تبدیل کرنا پڑے گا۔

    اس موقع پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ برطانوی کرنسی کا انداز تبدیل تو ہوگا مگر برطانوی کرنسی کو راتوں رات تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔ اس میں برسوں لگ سکتے ہیں، کیونکہ نئے سکے اور نوٹ بادشاہ کے چہرے کے ساتھ بنائے جاتے ہیں اور پرانے نوٹوں کو آہستہ آہستہ گردش سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

    ایک اور تبدیلی یہ ہوگی کہ جب کہ سکوں پر ملکہ کی تصویر کا رخ دائیں طرف ہو گا، نئی تصویریں بادشاہ کو بائیں طرف منہ کر کے دکھائے گی۔ اس کی وجہ 17 ویں صدی کی ایک روایت ہے جو یکے بعد دیگرے بادشاہوں کو درپیش ہے۔ ملکہ کے سکے 1953 تک ظاہر نہیں ہوئے

    نئے سککوں اور نوٹوں کو ڈیزائن اور ٹکسال یا پرنٹ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پھر رائل منٹ ایڈوائزری کمیٹی کو نئے سکوں کی سفارشات چانسلر کو بھیجنا اور شاہی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ڈیزائنوں کا انتخاب کیا جاتا کرنا ہوگا اور حتمی انتخاب کی منظوری چانسلر اور پھر بادشاہ کے ذریعے کی جاتی ہے۔

    ڈاک ٹکٹوں میں ملکہ کی تصویر بھی دکھائی جاتی ہے لیکن یہ بھی اسٹائل تبدیل ہوگا جن میں بادشاہ کا چہرہ نمایاں ہو گا، ایک بار پھر موجودہ اسٹاک کو بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ چارلس پہلے ہی اس طرح کے مجسمے یا پورٹریٹ کے لیے کوئی خاص پوز بنوا چکے ہوں ، جس کے لیے اسے دوبارہ ڈیزائنوں کی منظوری دینی پڑے گی۔

    رائل میل پوسٹ باکسز جن پر کوئینز ای آر سائفر (‘الزبتھ ریجینا’، لاطینی برائے ملکہ) کو ہٹائے جانے کا امکان نہیں ہے – درحقیقت، کچھ پر ملکہ کے والد کنگ جارج ششم کے جی آر (‘جارج ریکس’، لاطینی فار کنگ) سائفر کے ساتھ مزین ہیں۔ آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن کوئی بھی نیا پوسٹ باکس نئے بادشاہ کا نشان دکھا سکتا ہے۔

    اور فوجداری عدالت کے مقدمات میں، کراؤن کو ظاہر کرنے کے لیے R کا مطلب ریجینا کے بجائے ریکس ہے۔ قانون کے معاملات میں ایک اور تبدیلی یہ ہے کہ بادشاہ کی طرف سے مقرر کردہ بیرسٹرز اور وکیل اپنے عنوان کو کوئینز کونسل (QC) سے کنگز کونسل (KC) میں تبدیل کرتے ہوئے دیکھیں گے۔

    دریں اثنا، قومی ترانے کے الفاظ اب ‘خدا ہمارے مہربان بادشاہ کو بچائے’ میں بدل گئے ہیں۔

     

    ملکہ کے مجسمے کو نمایاں کرنے والے فوجی تمغوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی، جبکہ پولیس اور ملٹری یونیفارم جس میں ملکہ کا سائفر ہوتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ نئے بادشاہ کے سائفر کے ساتھ اپ ڈیٹ کیے جانے کا امکان ہے – یہ مونوگرام شاہی اور ریاستی دستاویزات پر متاثر ہے۔

    برطانیہ کے پاسپورٹ نئے بادشاہ کے نام سے جاری کیے جائیں گے اور کسی وقت ان کے الفاظ تبدیل کر دیے جائیں گے۔ ملکہ برطانیہ دوم کا پاسپورٹ آفس ہز میجسٹی کا پاسپورٹ آفس بن جائے گا، جیسا کہ ایچ ایم آرمڈ فورسز اور ایچ ایم جیل سروس کےمعاملات میں تبدیلی کا امکان ہے

  • ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کاانتقال، برطانیہ میں پوسٹل اور ریل ملازمین کی ملک گیرہڑتال موخر

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کاانتقال، برطانیہ میں پوسٹل اور ریل ملازمین کی ملک گیرہڑتال موخر

    لندن : برطانیہ میں پوسٹل اور ریل ملازمین نے ملکہ ایلزیبتھ کے انتقال پر ملک گیر ہڑتال موخر کردی۔اس حوالے سے غیرملکی خبرایجنسی نے کمیونیکیشن ورکرز یونین کے جنرل سیکریٹری ڈیو وارڈ کے حوالے سے بتایا کہ جمعہ کو بھی 48 گھنٹے سے جاری ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا تاہم ملکہ ایلزیبتھ کے انتقال پر باعث احترام ہڑتال کی کال واپس لے لی گئی ہے۔

    ریل یونین کی جانب سے اگلے ہفتے اعلان کردہ واک آؤٹ کے اعلان کو واپس لے لیا گیا جبکہ ٹرانسپورٹ یونین کی جانب سے ستمبر میں ہڑتالوں کی کال بھی واپس لے لی گئی۔برطانیہ میں ریل کے نظام کے نگراں ادارے نیٹ ورک ریل کی جانب سے ہڑتالوں کو موخر کئے جانے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔برطانیہ میں مختلف سیکٹرز کی جانب سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ہڑتالوں کی کال دی گئی تھی۔

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں،اطلاعات کے مطابق ملکہ کے انتقال کا اعلان بکنگھم پیلس نے پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے کیا۔

    شاہی خاندان کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے صاحبزادے کنگ چارلس سوئم اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر جمعرات بیلموریل پیلس میں گزاریں گے اور جمعے واپس لندن آئیں گے۔
    واضح رہے کہ ملکہ گزشتہ کچھ عرصے سے سکاٹ لینڈ میں واقع بیلموریل پیلس میں مقیم تھیں۔

    ملکہ الزبتھ کے دور اقتدار کا دورانیہ جنگ عظیم دوم کے بعد کفایت شعاری کی مہم، بادشاہت سے دولت مشترکہ میں منتقلی، سرد جنگ کے خاتمے اور برطانیہ کی یورپی یونین میں شمولیت اور پھر علیحدگی پر مشتمل تھا۔

    ان کے دوراقتدار میں ونسٹن چرچل سے لزٹرس تک 15 وزرائے اعظم آئے۔ چرچل 1874 میں پیدا ہوئے تھے جب کہ الزبتھ کے دور بادشاہت کے آخری وزیراعظم لز ٹر کی پیدائش 101 سال بعد 1975 میں ہوئی جن کو ملکہ نے رواں ہفتے وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ملکہ الزبتھ نے اپنے دور اقتدار میں وزائے اعظم کے ساتھ ہفتہ وار ملاقائیں جاری رکھیں۔

    ملکہ الزبتھ 21 اپریل 1926 کو مے فیر لندن میں پیدا ہوئیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ الزبتھ برطانیہ کی ملکہ بن جائیں گی لیکن دسمبر 1936 میں ان کے چچا ایڈورڈ ہشتم نے دو مرتبہ کے طلاق یافتہ امریکی خاتون ویلس سیمپسن سے شادی کے لیے تخت سے دستبردار ہوگئے۔ جس کے بعد الزبتھ کے والد جارج ششم بادشاہ بن گئے اور 10 سال کی عمر میں الزبتھ جو جو کہ اس وقت لیلیبٹ کے نام سے خاندان میں مشہور تھیں ولی عہد بن گئی۔

    اس کے تین سال بعد برطانیہ اور نازی جرمنی کے درمیان خلاف جنگ چھڑ گئی۔ جنگ کے دوران کا زیادہ عرصہ الزبتھ اور ان کی چھوٹی بہن پرنس مارگریٹ نے ونڈسر پیلس میں گزاریں جب ان کے والدین نے انہیں کینیڈا بھیجنے سے انکار کیا۔اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد الزبتھ نے آکزیلیری ٹیریٹوریل سروس سے بنیادی ڈرائیونگ کی تربیت حاصل کی۔

    ملکہ الزبتھ کے وفات پر برطانوی وزیراعظم لز ٹرس نے کہا کہ ملکہ نے ہمیں استحکام اور طاقت فراہم کی جس کی ہمیں ضرورت تھی۔’زندگی میں انہوں نے 96 سے زیادہ ملکوں کے دورے کیے اور کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدلیں۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’جیسا ایک ہزار سے زائد سالوں سے ہوتا آیا ہے آج تاج ہمارے نئے بادشاہ اور ریاست کے نئے سربراہ کنگ چارلس سوم کو منتقل ہوگا۔ ہم کنگ چارلس سے ان کی والدہ کی موت پر تعزیت کرتے ہیں۔‘دوسری جانب ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر دنیا بھر کے سربراہان حکومت اور اہم شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ملکہ ایلزبتھ دوئم سے متعلق چند حیرت انگیز حقائق جوتاریخ کا حصہ بن گئے

    ملکہ ایلزبتھ دوئم سے متعلق چند حیرت انگیز حقائق جوتاریخ کا حصہ بن گئے

    لندن: ملکہ ایلزبتھ دوئم سے متعلق چند حیرت انگیز حقائق جوتاریخ کا حصہ بن گئے ،برطانوی میڈیا ملکہ کی وفات کے ساتھ ہی ملکہ برطانیہ کی زندگی کے اہم پہلووں پر روشنی ڈال رہا ہے ، برطانوی مورخین کے مطابق ملکہ ایلزبتھ دوم اپنی 96 برس کی عمر میں بیل مورل پیلس میں انتقال کر گئیں، وہ 70 برس پر تخت برطانیہ پر براجمان رہیں.

     

     

    ملکہ عالیہ شاذ و نادر ہی انٹرویوز دیتی ہیں، اس لئے عوام کو ان کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات مل پاتی ہیں، ملکہ کی حیرت انگیز تعلیمی تاریخ سے لے کر اس حقیقت تک کہ ان کے کردار کو کتنی بار اسکرین پر پیش کیا گیا، ان کی زندگی سے متعلق چند دلچسپ حقائق مندرجہ ذیل ہیں۔

     

     

    ملکہ کا کردار سو سے زیادہ فملوں اور ٹی وی ڈراموں میں پیش کیا گیا، بین الاقوامی پلیٹ فارم آئی ایم ڈی بی کے مطابق اداکاراؤں نے ملکہ برطانیہ کے کردار کو تقریباً 100 بار مختلف فلموں اور ڈراموں میں پیش کیا، جن میں کلیئر فوئے بھی شامل ہیں جنہوں نے نیٹ فلکس شو ‘دا کراؤن ایںڈ ہیلین مائرین’ میں ملکہ کا روپ دھارا تھا اور ‘دا کوئین’ فلم میں ملکہ کے کردار کیلئے ہی انہیں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

     

     

    ملکہ کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا
    موجودہ جدید دور میں ہر انسان کو بین الاقوامی سفر کیلئے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ملکہ کیلئے ایسا نہیں ہے، وہ دنیا بھر میں سفر کیلئے میرون رنگ کے برطانوی پاسپورٹ کی محتاج نہیں تھیں۔شاہی خاندان کی ویب سائٹ کے مطابق ‘برطانوی پاسپورٹ ملکہ عالیہ کے نام پر جاری کئے جاتے ہیں اس لئے انہیں خود اس کی ضرورت نہیں’۔

     

     

    ملکہ کی دو سالگرہ منائی جاتی ہیں
    ویسے تو ملکہ 21 اپریل 1926ء میں پیدا ہوئی تھیں لیکن سرکاری طور پر ان کی سالگرہ جون میں سالانہ ‘ٹروپنگ دا کلر’ پریڈ کے ذریعے منائی جاتی ہے، اس روایتی جشن کا انعقاد 1748ء سے کیا جارہا ہے۔

     

    14 برطانوی وزائے اعظم سے حلف
    ملکہ ایلزبتھ دوم اپنی زندگی میں ونسٹن چرچل سے بورس جانسن تک 14 برطانوی وزائے اعظم سے حلف لے چکی ہیں۔

     

     

    آرسنل فٹ بال کلب کی مداح
    ملکہ ایلزبتھ بھی شمالی لندن کے فٹبال کلب آرسنل کی مداح ہیں، جس کا انکشاف کسی اور نے نہیں بلکہ آرسنل کے پُرجوش مداح جیریمی کاربین نے 2016ء میں درالعوام میں ایک تقریر کے دوران کیا تھا۔سابق مڈ فیلڈر سیسک فیبریگاس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ 2007ء میں بکنگھم پیلس میں ایک استقبالیہ کے دوران ملکہ نے انہیں بتایا کہ وہ آرسنل کی مداح ہیں۔

     

     

    ملکہ روانی سے فرانسیسی بولتی تھیں
    ملکہ تاریخ میں سب سے زیادہ سفر کرنیوالے برطانوی شاہی افراد میں سے ایک ہیں، جنہوں نے سرکاری دوروں کے دوران مختلف زبانوں پر عبور ہونے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی بار فرانسیسی زبان میں تقاریر کی ہیں۔

     

     

    سالانہ بکنگھم پیلس میں 50 ہزار افراد کی میزبانی
    بڑھتے ہوئے سوشل کیلنڈر کے باعث ملکہ حقیقی معنوں میں بہترین میزبان ہیں جو مختلف لنچ، ڈنر، ضیافتوں اور گارڈن پارٹیز میں ہزاروں لوگوں کو محل میں خوش آمدید کہتی تھیں۔کووڈ سے پہلے کے دور میں ملکہ ایلزبتھ دوئم بکنگھم پیلس میں ہر سال 50 ہزار سے زیادہ لوگوں کی میزبانی کرتی تھیں۔

     

     

    شادی کو 70 سال سے زیادہ عرصہ
    سال 2017ء میں ملکہ اور آنجہانی شہزادہ فلپ نے اپنی شادی کی 70ویں سالگرہ منائی تھی۔انہوں نے 20 نومبر 1946ء کو لندن کے ویسٹ منسٹر ایبی میں شادی کی تھی اور ونڈسر کیسل میں ایک نجی پارٹی میں پلاٹینم سالگرہ کا جشن منایا تھا۔اپریل 2021ء میں ڈیوک آف ایڈنبرا کی موت کے وقت شاہی جوڑے کی شادی کو 73 سال بیت چکے تھے۔

  • ملکہ برطانیہ نے پاکستان کے کس دور میں دورے کیے تفصیلات آگئیں

    ملکہ برطانیہ نے پاکستان کے کس دور میں دورے کیے تفصیلات آگئیں

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم نے دو بار 1961 اور 1997 میں پاکستان کے دورے کیے۔اطلاعات کے مطابق ملکہ برطانیہ نے پاکستان کا پہلا دورہ 1961 میں 34 سال کی عمر میں کیا۔ ان کا پاکستان کا سرکاری دورہ 1 سے 16 فروری تک جاری رہا۔

     

     

     
     

    دورہ پاکستان کے دوران انکے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ بھی ہمراہ تھے، ملکہ برطانیہ کراچی، پشاور، کوئٹہ، لاہور اور ملک کے شمالی علاقوں میں بھی گئیں۔شاہی جوڑے کا کراچی ایئرپورٹ پر اس وقت کے صدر محمد ایوب خان نے پرتپاک استقبال کیا۔ اس کے بعد 20 منٹ کی تقریب ہوئی جس کا آغاز 21 توپوں کی شاہی سلامی کے ساتھ ہوا۔

    ٹرمینل شاہی جوڑے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس کے بعد شاہی جوڑے کو 100 آدمیوں کی شاہی سلامی دی گئی جب وہ صدر ایوب کے ساتھ قالین والے ڈائس کے اوپر کھڑے تھے۔

     

    بحریہ کے ایک بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے۔ دونوں کو ہوائی اڈے سے ایوان صدر لے جایا گیا اور سفر کے دوران پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی رہیں۔

    شاہی جوڑا 4 فروری کو پشاور روانگی تک صدارتی رہائش گاہ پر قیام پذیر رہا۔ اپنے قیام کے دوران جوڑے کے اعزاز میں کراچی میں متعدد تقاریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مزار قائد پر حاضری بھی شامل تھی۔

    کوئٹہ میں ملکہ برطانیہ نے پائن کا ایک پودا لگایا، یہ وہی جگہ تھی جہاں ان کے دادا کنگ جارج پنجم نے اپنے دورے سے 56 سال قبل چنار کا پودا لگایا تھا۔

     

     

    ملکہ اور ڈیوک کو ایک سینئر پختون رہنما سردار محمد خان جوگیزئی اور ایک سینئر بلوچ رہنما سردار خیر بخش خان مری نے دو دو بھیڑیں بھی پیش کیں۔ شاہی جوڑے نے کوئٹہ اسٹاف کالج کا دورہ بھی کیا۔

    پشاور میں ملکہ اور ڈیوک کو اس وقت کے مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان نے گورنمنٹ ہاؤس میں ایک ضیافت میں مدعو کیا تھا۔اگلی صبح شاہی جوڑا سینٹ جانز چرچ گیا جو خطے میں سب سے قدیم ہے۔ ملکہ نے پشاور یونیورسٹی، خیبر پاس، پاک افغان سرحدی مقام طورخم اور لنڈی کوتل کا بھی دورہ کیا۔

    لاہور میں شاہی جوڑے نے علامہ اقبال کے مزار، لاہور قلع، شالیمار گارڈن اور بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔ ان کے اعزاز میں آرمی کی جانب سے ایک شاندار عشائیہ بھی دیا گیا۔

    ملکہ نے اگلی بار 36 سال بعد 1997 میں پاکستان کا دورہ کیا جب ملک آزادی کے 50 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا تھا۔وہ دوبارہ اپنے شوہر شہزادہ فلپ کے ہمراہ تھیں۔ یہ جوڑا چکلالہ، اسلام آباد پہنچا جہاں جہاز سے نکلتے ہی 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

    ملکہ اور ڈیوک کا استقبال اس وقت کے وزیر خارجہ گوہر ایوب خان نے کیا۔ انہیں ایوان صدر پہنچایا گیا جہاں صدر فاروق لغاری نے ان کا استقبال کیا اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔دوپہر کو انہوں نے وزیراعظم نواز شریف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دن ملکہ اور ڈیوک نے شاہ فیصل مسجد کا دورہ کیا۔

    صدر نے ملکہ اور ڈیوک کے لیے صدارتی محل میں شاہی ضیافت کا اہتمام کیا۔ ایک سرمایہ کاری کی تقریب بھی منعقد کی گئی جس کے دوران ملکہ کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان اور ڈیوک کو نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔

    ملکہ الزبتھ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ شاہی جوڑے نے اسی دن اسلام آباد کنونشن سینٹر میں برٹش کونسل کی ایک نمائش“ احترام کی روایات“ (مغرب میں اسلام کے اثرات) کا بھی افتتاح کیا، شاہی جوڑے نے کراچی کا دورہ بھی کیا۔