Baaghi TV

Author: News Editor

  • امریکہ نے تائیوان کے لیےمزید1 ارب 10 کروڑ ڈالرکا جدید اسلحہ روانہ کردیا

    امریکہ نے تائیوان کے لیےمزید1 ارب 10 کروڑ ڈالرکا جدید اسلحہ روانہ کردیا

    بیجنگ:امریکا نے تائیوان کے لیے 1 ارب 10 کروڑ ڈالر کے آرمز پیکج کا اعلان کر دیا۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکا نے تائیوان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کی منظوری دے دی جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے تائیوان کے لیے سب بڑا اسلحہ پیکج ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان 60 ہرپون بلاک ٹو میزائل کی خریداری پر 355 ملین ڈالر خرچ کرے گا۔ اس سسٹم کے ذریعے سمندر کے راستے کسی بھی حملے کو ناکام بنایا جاسکے گا۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسلحہ پیکج میں 856 ملین ڈالر کے 100 سے زائد سائیڈونڈر میزائل بھی شامل ہیں۔

     

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    واضح رہے کہ امریکہ تائیوان کو چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور تائیوان کے حوالے سے امریکہ اور چین کے مابین کچھ عرصے سے سرد جنگ جاری ہے تاہم اس میں شدت اس وقت آئی جب گزشتہ مہینے امریکی کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی نے چین کے سخت انتباہ کے باوجود تائیوان کا دورہ کیا۔

    دوسری طرف ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اس ملک کی افواج روس کی جانب سے منعقدہ فوجی مشقوں میں شرکت کر رہی ہیں اور ماسکو کے ساتھ نئی دہلی کا فوجی تعاون کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    قابل ذکر ہے کہ روس کی جانب سے بحر جاپان اور روس کے مشرقی سمندروں میں ووسٹوک دو ہزار بائیس فوجی مشقوں کا سلسلہ جمعرات کی صبح سے شروع ہوچکا ہے جس میں چین اور ہندوستان سمیت گیارہ ممالک نے شرکت کی ہے۔

    ادھر یوکرین کی جنگ کے بہانے واشنگٹن مشقوں میں شریک ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا تاہم تیرہ ممالک اس وسیع برّی، بحری اور فضائی فوجی مشقوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ یہ مشقیں سات ستمبر تک جاری رہیں گی۔

  • آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتاکہ پاکستان اس کےشکنجےسےنکلے:شوکت ترین

    آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتاکہ پاکستان اس کےشکنجےسےنکلے:شوکت ترین

    کراچی :تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کوآئی ایم ایف کے شکنجے سے چھڑانے کا تہیہ کررکھاتھا ،مگرہماری چھٹی کرا دی گئی ، ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ستمبر 2022 تک آئی ایم ایف کی چھٹی کرادینی تھی کیوں کہ آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔

    کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے شوکت ترین نے سخت انداز میں آئی ایم ایف پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف تو اپنا چورن بیچتا رہے گا اور کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔انھوں نے کہا کہ جنوری 2022 تک ہمارے لئے یہ ہی آئی ایم ایف بہت اچھی رپورٹ دے رہا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں ہم آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے لیکن موجودہ حکمران بالکل لیٹ گئے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    شوکت ترین نے تجویز دی کہ اب حکومت یہ کرے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے اور کہیں کہ ملک میں سیلاب کے باعث ہمیں عوام کو ریلیف دینا ہے، آئی ایم ایف سے شرائط نرم کروائی جائیں۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ روس سمیت جہاں سے سستا تیل مل سکتا ہے اس کو حاصل کرنا چاہئے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھا کر ٹیکس ریونیو بڑھایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین کو غدار کہنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ شوکت ترین پاکستان کیلئے تھائی لینڈ سے ایک ملین ڈالر کی نوکری چھوڑ کر آیا۔

    اپنی آڈیو سے متعلق انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے اورمیری گفتگو ٹیپ کرنا غیرقانونی ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ کے ساتھ گفتگو کٹ اینڈ پیسٹ اور ڈاکٹرڈ تھی۔اس لیک ٹیپ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور وقت آنے پر یہ کارروائی کروں گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

     

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ٹیپ خود لیک کرکے آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں ڈالا اور اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو یہ آڈیو ایسے موقع پر لیک نہ کی جاتی،یہ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام پر بہت کچھ بول چکے ہیں تو ہم نے تو انہیں غدار نہیں کہا تھا۔

  • پہلی ناکام کوشش کےبعدآج پھرناسا30 منزلہ جدید راکٹ خلا میں بھیجے گا

    پہلی ناکام کوشش کےبعدآج پھرناسا30 منزلہ جدید راکٹ خلا میں بھیجے گا

    فلوریڈا :ناسا کے 30 منزلہ جدید راکٹ کو خلائی مشن پر آج بھیجا جائے گا۔اس سلسلے میں پہلی کوشش 30 اگست کو ناکام ہوگئی تھی۔غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق فلوریڈا کے خلائی مرکز سے مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی دوپہر 2 بج کر 17 منٹ پر راکٹ کی لانچ متوقع ہے۔ اگر کسی وجہ سے مقررہ وقت پر راکٹ روانہ نہ ہوسکا تو مزید 2 گھنٹے انتظار بھی کیا جائے گا۔

    کینیڈی اسپیس سینٹر کے ڈپٹی منیجر جرمی پارسنز نے بتایا ہے کہ اس مشن کے لیے ٹیم تیار ہے اور پچھلی کوشش کے دوران بھی بہترین تیاری کی تھی۔اس خلائی مشن میں کسی خلا باز کو راکٹ کے ذریعے نہیں بھیجا جارہا ہے تاہم راکٹ میں کچھ ایسی سنسرز( حساس آلات ) نصب ہیں جو ریڈیشن لیول، حرارت اور دیگر تبدیلیوں کو ریکارڈ کریں گے۔

     

    اس خلائی مشن کا مقصد اسپیس لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کی جانچ کرنا ہے۔ آرٹیمز ون نامی اس خلائی مشن میں اورین کریوکیپسول راکٹ کے اوپری حصے پر نصب ہے۔اس راکٹ میں مشن کےلیے 30 لاکھ الڑا کولڈ لیکویڈ ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال ہوگی۔

     

     

    ناسا کی چاند پر خلائی مشن بھیجنے کی پہلی کوشش 30 اگست کو کامیاب نہ ہوسکی تھی۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے بتایا تھا کہ فلوریڈا میں آرٹیمز ون کی روانگی فنی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکی۔انھوں نے بتایا تھا کہ جب تک راکٹ میں موجود خرابی دور نہیں کی جائے گی، خلائی مشن نہیں روانہ ہوسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ راکٹ بہت پیچیدہ مشین ہے اور اس کی روانگی کے لیے کئی مراحل درپیش ہوتے ہیں۔

    پہلی کوشش میں خلائی مشن اس لیے نہیں بھیجا گیا کیوں کہ راکٹ کے چار آرایس 25 انجن میں سے ایک انجن کو مطلوبہ درجہ حرارت نہیں ملا تھا۔اس خلائی مشن کی روانگی کے لیے ہزاروں افراد فلوریڈا کے ساحل پر موجود تھے جن میں امریکی نائب صدر کمالا ہیرس بھی شامل تھیں۔اگراس بار بھی کسی وجہ سے خلائی مشن کو بھیجنا ممکن نہ ہوا تو 5 ستمبر بروز پیر کو خلائی مشن کو بھیجاجائےگا۔

  • نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر

    نواب شاہ:نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیر،اطلاعات کے مطابق سندھ کے باسی کئی محاذوں پر لڑرہے ہیں ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف حکومت کی بے رحمانہ پالیسیاں اورطاقتوروں ،وڈیروں کی خواہشات کا شکار ہورہے ہیں اس اثنا میں اگران پرکوئی اورظلم زیادتی یا تکلیف آجائے تو وہ کدھر جائیں گے

    نواب شاہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نواب شاہ،سکرنڈمیں غیرمعیاری امدادی کھاناکھانےسےسیلاب متاثرین کی حالت غیرہےاوران کوکوئی پوچھنے والا نہیں مریض تڑپ رہے ہیں

    اس سلسلے میں‌ سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بعد نواب شاہ،متاثرین میں خواتین اوربچوں سمیت 20 افراد کوہسپتال منتقل کردیاگیا ہے ، جہاں ان کی حالات خراب بتائی جاتی ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ کھانا سندھ حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیاتھا ، لیکن کھانا باسی تھا اورپھرناقص بھی جس کی وجہ سے کھانا کھانے والے سب بیمار ہوگئے

     

     

    ادھروزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔

  • ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    لاہور:ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری،یہ کوئی کسی نیوز ایجنسی کی خبر نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، پاکستان کے سینئرصحافی مبشرلقمان جو کہ پچھلے کئی دنوں سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام الناس کے مسئائل جاننےکےلیے وہاں پہنچے ، انہوں نے وہاں کیا دیکھا اس دُکھ بھری کہانی کو وہ خود بیان کرتے ہیں‌

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیرہ غازی خان اورتونسہ کے علاقوں میں گئے ہیں ، وہاں بے بس انسانوں کوان ظالم حکمرانوں کی بے حسی کا شکاردیکھا ، کوئی کسی کی مدد کو نہیں پہنچ رہا ، یہ سب ڈرامے بازیان ہیں ، فرضی اور گھوسٹ کیمپ لگے ہوئے ہیں اوروہاں سوائے علامتی صورتحال کے سوا کچھ نہیں

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت وہاں نظر نہیں آئی ،ہاں مذہبی جماعتوں کی تنظیموں کو سلام جنہوں نے بلا امتیازپریشان حال لوگوں کی بڑی مدد کی اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے ، الخدمت والے تو بہت بہتر کام کررہےہیں ایسا کام انہوں نے کسی اور تنظیم کانہیں دیکھا ایک میکنزم ہے ، حق داروں تک حق پہنچ رہا ہے،لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جارہے ، ایسے ہی تحریک لبیک ، دعوت اسلامی والے بھی خدمت میں مصروف ہیں اگروہاں نہیں‌ ہیں تو حکومت کے اہلکار نہیں

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بڑی تعداد میں حاملہ خواتین اگلے چند دنوں تک پیدائش کے مرحلے سے گزریں گی تو پھرایسی صورت حال میں تو بہت بڑی خطرے کی بات ہے ، ان کےلیے مخصوص میڈیکل کیمپ ہونے چاہیں ، جہاں پہلے ہی شدید گرمی ہے وہاں کس طرح‌ ان معاملات کو حل کیا جائے گا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے امریکہ ، برطانیہ اور دیگرملکوں سے امداد کی آفر کی گئی لیکن میں نے اس لیے ٹھکرا دی کہ ہمارے پاس آڈٹ والا اکاونٹ ہی نہیں‌، آپ پاک آرمی کو دے دیں ، لبیک والوں کو دے دیں‌، الخدمت والوں کو دے دیں‌مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے اور حق داروں تک پہنچائیں گے

    مبشرلقمان کہتےہیں‌ کہ لوگوں کے بُرے حال ہیں ،کرشنگ پلانٹ لگا کرجوقدرتی بند تھے وہ کاٹ دیئے گئے ، سیلاب کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی اور اس نے بڑے بڑے شہراورہزاروں بستیاں تباہ کردیں،

     

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں لوگوں‌ کوایک کے بعد دوسری مصیبت میں دیکھا،ایک طرف لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں‌تو دوسری طرف بجلی کے بل ہیں‌، بجلی کے کھمبے کئی ماہ سے گرے ہوئے ہیں لوگوں کو بجلی میسر نہیں ، یونٹ صفر ہے مگر بل سترہ ہزار ، یہ کیسی بدمعاشی اور ظلم ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ان حکمرانوں کو ، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی بھی اس علاقے میں نہیں گئے ،عارف علوی آئے تو ایک فرضی کیمپ میں فوٹوسیشن کروا کرچلے گئے ، مونس الہی گجرات میں ہیں ، ان حالات میں اگر عوام الناس کی طرف سے کوئی سخت ردعمل آیا تو بجا نہ ہوگا ، حالات خراب سے خراب تر ہورہے ہیں ، جہاں اس کے ذمہ دار حکمران ہیں وہاں‌س کے بڑے ذمہ وہاں کے طاقتور ، وڈیرے زیادہ ذمہ دار ہیں

  • سیلاب:منفی اثرات اسٹاک اورکرنسی مارکیٹوں میں بھی نظرآنےلگے:آئی ایم ایف کی مددبھی سنھبال نہ سکی

    سیلاب:منفی اثرات اسٹاک اورکرنسی مارکیٹوں میں بھی نظرآنےلگے:آئی ایم ایف کی مددبھی سنھبال نہ سکی

    اسلام آباد:مون سون بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے ملکی معیشت کے تمام شعبوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے، پاکستان اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں پر بھی منفی اثرات نمودار ہونے لگے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج جہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی پر زبردست تیزی کی توقع ظاہر کی جارہی تھی جبکہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بھی 200 روپے سے بھی نیچے آنے اور 180 روپے تک ہونے کے اندازے لگائے جارہے تھے، لیکن آئی ایم ایف پروگرام بحال اور قرضے کی قسط موصول ہونے کے باوجود اسٹاک اور کرنسی مارکیٹوں میں توقعات کے مطابق کچھ نظر نہیں آرہا۔

    معاشی ماہرین کے مطابق سیلابی تباہ کاریاں اس حد تک زیادہ ہیں کہ اس کے سامنے آئی ایم ایف کا قرض پروگرام بھی ناکافی نظر آنے لگا ہے یہاں تک کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اور اس میں پاکستانی معیشت سے متعلق اہداف دیئے گئے ہیں، خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس رپورٹ میں سیلاب کے نقصانات شامل ہی نہیں، اس لئے آئی ایم ایف کو اگلی جائزہ رپورٹ میں تمام تخمینوں پر نظرثانی کرنی پڑے گی۔

    اسٹاک مارکیٹ
    پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں 29 اگست تا 2 ستمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران مندی کا رجحان غالب رہا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 282 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 42 ہزار 591 پوائنٹس سے کم ہوکر 42 ہزار 309 پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے، مندی کے سبب سرمایہ کاروں کو 87 ارب روپے سے زائد نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    ڈارسن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ سیلابوں سے نقصانات کے پیش نظر سرمایہ کاروں نے اپنی سرگرمیاں محدود کردیں اور اگست میں زبردست تیزی کی وجہ سے قیمتیں اونچی سطح پر پہنچ گئیں، جس پر سرمایہ کار اب فروخت کرکے منافع حاصل کرنے لگے ہیں۔

    کرنسی مارکیٹ
    انٹربینک میں 29 اگست کو ڈالر کی قدر میں 1.26 روپے کے اضافے سے 221.92 روپے ہوگئی لیکن اس کے بعد 30، 31 اگست اور یکم ستمبر کو ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی اور ڈالر 218.60 روپے کی سطح پر آگیا لیکن 2 اگست کو پھر ڈالر کی قدر بڑھ کر 218.98 روپے ہوگیا۔

    اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر 26 اگست کو 229.50 روپے تھا لیکن 29 اگست کو ڈالر کی قدر میں کمی آنا شروع ہوئی اور 31 اگست کو ڈالر کم ہوتے ہوئے 218.50 روپے کی سطح پر آگیا لیکن یکم ستمبر سے صورتحال پھر بدل گئی اور ڈالر دو دنوں میں پھر بڑھ کر 223.50 روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

    گولڈ مارکیٹ
    عالمی مارکیٹ میں 29 اگست تا 2 ستمبر پر مشتمل کاروباری ہفتے کے دوران سونے کی قیمت میں کمی 33 ڈالر کی کمی پر ریکارڈ کی گئی، جس سے فی اونس سونے کی قیمت 1738 ڈالر سے کم ہوکر 1705 ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    عالمی مارکیٹ کے زیر اثر مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی سونے کی قیمت میں کمی آئی لیکن ڈالر کی قدر بڑھنے کے تناسب سے بعض دنوں میں کمی کا حجم کم رہا، ہفتہ بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3 ہزار روپے کی کمی ہوئی اور ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 47 ہزار روپے سے کم ہوکر ایک لاکھ 44 ہزار روپے ہوگئی۔

    صارف مارکیٹیں
    مون سون بارشوں اور سیلابوں سے سب سے زیادہ صارف مارکیٹیں متاثر ہورہی ہیں۔ ملک بھر میں پھلوں، سبزیوں، اجناس اور دیگر اشیائے صرف کی ترسیل متاثر ہے جبکہ کئی اشیاء کی قلت بھی دیکھی جارہی ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

    بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان پہنچنے کے سبب خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اشیائے صرف کی عدم دستیابی اور قیمتیں بڑھنے کے حوالے سے مسائل آنے والے دنوں میں بھی برقرار رہیں گے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق یکم ستمبر کو ختم ہونیوالے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 1.31 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سالانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو یہ ہفتہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 45.50 فیصد زائد مہنگا رہا۔

  • لاہور: منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

    لاہور: منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

    لاہور:منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل ،اطلاعات کے مطابق پہلے واقعہ میں لاہور میں منگیتر کی فائرنگ سے بیس سالہ لڑکی جاں بحق ہوگئی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔

    پولیس کے مطابق واقعہ وحدت کالونی کی حدود میں پیش آیا، بیس سالہ رباب فاطمہ کا منگیتر دو دن پہلے ملتان سے آیا تھا۔ملزم نے مقتولہ کے بھائی کے پستول سے فائرنگ کی جس سے دو گولیاں رباب کے بازو اور سینے پر لگیں۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    پولیس نے ملزم علی گردیزی کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا ہے، ملزم نے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ گولی حادثاتی طور پر چلی۔پولیس نے حتمی وجوہات اور حقائق جاننے کے لیے دونوں کے موبائل فون اور دیگر شواہد اکھٹے کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

    لاہور میں ایک دردناک واقعہ میں لاہور میں 10 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے مناواں میں سوئمنگ پول سے مردہ حالت میں ملنے والی باجوڑ ایجنسی کی بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تفتیش کو نیا رخ دے دیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    مناواں پولیس نے سوئمنگ پول کے مالک کو گرفتارکررکھا ہے لیکن شریک ملزم اسلم تاحال مفرور ہے جس کی عدم گرفتاری پر متاثرہ فیملی سراپا احتجاج ہے۔

    بچی کی لاش چند روز قبل سوئمنگ پول سے ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بچی سے دو بار زیادتی کی گئی جس کے بعد اسے قتل کیا گیا۔مقتول بچی کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان بااثر ہیں جن کے ساتھ پولیس ملی ہوئی ہے۔

  • کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی

    کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی

    کراچی :کراچی یونیورسٹی میں لیب کی چھت گر گئی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم کمپیوٹر اور دیگر سامان مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کے سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ کی لیب کی گارڈر اور سلیب سے بنی چھت گر گئی۔

    وائس چانسلر خالد عراقی کا کہنا ہے کہ لیب کی چھت گرنے سے سامان کا نقصان ہوا ہے تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
    رپورٹ کے مطابق واقعے میں دو سے 3 اسپلٹ ایئر کنڈیشن، 24 سے زائد کمپیوٹر اور دیگر سامان مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔

    ادھر دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں 30 لاکھ کچے مکانات تباہ ہوگئے، سیکڑوں پکے مکانات بھی رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ سے زائد لوگ بے گھر ہوچکے، 470 اموات ہوئیں، 8 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 2010ء کے بعد یہ سب سے بڑا سیلاب ہے، گزشتہ 12 سے 13 روز میں 27 اضلاع کی حقیقت دیکھی، ابھی جیک آباد، گھوٹکی اور کشمور میں نہیں گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 470 افراد جاں بحق اور 8 ہزار 314 زخمی ہیں، 30 لاکھ سے زیادہ کچے مکانات تھے، جو نہیں بچے، اگر کوئی مکان گرا نہیں ہے تو وہ رہنے کے قابل نہیں رہا، پکے مکانات بھی کئی جگہوں پر ایسے ہیں جو رہنے کے قابل نہیں، ڈیڑھ کروڑ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ کہیں کوئی کٹ لگانا ہو یا پانی نکالنا ہوگا اس کا فیصلہ محکمہ آبپاشی کریگا، سب سے درخواست کرتا ہوں صبر سے کام لیں، پانی قدرتی گزر گاہوں سے سمندر تک جائے گا۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر وزیر اپنے اپنے ضلع میں گیا ہے، کوئی ایک کونا نہیں سندھ میں جہاں ہمارا منتخب نمائندہ نہیں پہنچا، جو اپنے گھر سے نکلے گا اس کی کیا کیفیت ہوگی، لوگوں نے غصے کا اظہار کیا لیکن جائز کیا۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 16 اگست کے بعد جو بارش ہوئی تھی اُس کی تیاری نہیں تھی، ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اس کی تیاری کرسکیں، میڈیا نے دکھانا شروع کیا تب لوگوں کو احساس ہوا کہ حالات واقعی خراب ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ جس قسم کی صورتحال ہے میڈیا چینل اب تک وہ نہیں دکھا رہے، میڈیا کو بہت زیادہ درخواست کی تھی تب جاکر کچھ دکھانا شروع کیا، پورا سندھ دریا بنا ہوا ہے، ہر شہر میں دریا کی صورتحال ہے، کئی مقامات پر میری گاڑی روکی گئی لیکن ہم نے لوگوں کو چھوڑا نہیں، جتنا بڑا نقصان ہوا اس میں ہمارے پاس جو سامان تھا ختم ہوگیا۔

    انہوں نے کہا اگست میں معمول سے 700 گنا زیادہ بارش ہوئی، این ڈی ایم اے نے سندھ حکومت کو صرف 8 ہزار ٹینٹ دیئے، ایک لاکھ 10 ہزار ٹینٹ سندھ حکومت تقسیم کرچکی ہے، ہم نے مزید 3 لاکھ ٹینٹ کا آرڈر دیا ہے، اسٹاک میں موجود 20 ہزار ترپال تقسیم کرچکے، 30 لاکھ مچھر دانیوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ مچھر دانیوں کی تعداد پوری ہوجائے گی۔

  • سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌

    سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌

    سوات:سوات میں سیلاب مگرپی ٹی آئی ارکان اسمبلی ابھی تک غائب ہیں‌،اطلاعات کےمطابق کے پی کے مشہورسیاحتی علاقے سوات میں تاریخ کے بد ترین سیلاب سے تباہی کے باوجود علاقے سے منتخب اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کے موجود نہ ہونے پر مقامی لوگ سخت نالاں نظر آتے ہیں۔

    اس حوالے سے میڈیا ذرائع کا کہناہے کہ سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان ہیں، جس میں وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہے، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود ہی نہیں۔

    ذرائع کے مطابق دونوں ارکان غیر ملکی دورے پر ہیں، میاں شرافت علی جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر علی انگلینڈ میں موجود ہیں۔ اور سیلاب کی تباہی کے باوجود بھی علاقے میں نہ پہنچ سکے۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید گزشتہ اتوار کو وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، جس کے باعث مقامی لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔

     

    بحرین سے کالام تک سڑک دریا برد ہوگئی ہے جبکہ علاقے میں کئی رابطہ پل بھی تباہ ہوگئے ہیں، جس کے باعث بالائی علاقوں میں اشیائے خور و نوش اور ادویات کی کمی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

  • پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان

    پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان

    اسلام آباد:پاکستان کے چاروں صوبوں، کشمیر اور گلگت بلتستان میں خواتین پولیس کونسلز کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔یہ اعلامیہ اسلام آباد میں تین روزہ نیشنل فیلو شپ فار ویمن پولیس کونسل کانفرنس کے اختتام پہ جاری کیا گیا ۔

    کانفرنس کاانعقاد پارلیمنٹرین کمیشن فار ہیومن راٸٹس اورپولیس عوام ساتھ ساتھ نے یو ایس آٸی پی اورآٸی این ایل کے تعاون سےکیا۔کانفرنس میں وویمن پولیس کونسلز کو فعال بنانے اور ان اہداف کی تکمیل کے لیے تجاویز بھی مرتب کی گیٸں ۔

    اس تین روزہ پروگرام کا مقصد محکمے میں نامزد کردہ ویمن پولیس کونسلز کے ممبران کی تربیت سازی اور کونسلز کے سالانہ منصوبے کی تیاری تھی ۔ وویمن پولیس کونسلز اپنی مجوزہ محکموں میں خواتین پولیس افسران کی فلاح و بہبود ، پیشہ ورانہ استعدادکار اور یکساں وساٸل اور مواقعوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پولیس میں خواتین کی بھرپور شمولیت کے لیے کام کریں گی ۔

    کانفرنس میں آئی جی پنجاب فیصل شاہکار، آئی جی آزاد کشمیر امیر احمد شیخ ، ڈپٹی ڈی جی آنٹی نارکوٹکس عامر ذوالفقار ، سابق آئی جی اسلام آباد کلیم امام ، ڈی آئی جی انوسٹیگیشن کامران عادل ، سابق ڈی جی نیشنل پولیس بیورو احسان غنی ، وفاقی محتسب کی سربراہ کشمالہ خان ، مسلم لیگ نون کی رہنما شائشہ پرویز ملک ، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ریاض فتیانہ، یو ایس آئی پی کے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر عدنان رفیق ، پی سی ایچ آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد شفیق چوہدری سمیت ملک بھر سے خواتین و مرد پولیس افسران ، قانونی و آٸینی ماہرین ، انسانی حقوق کے نماٸندوں اور سماجی کارکنوں نے کانفرنس میں اظہار خیال کیا ۔

    آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے کانفرنس کے شرکاء کو یقین دہانی کروائی کہ وویمن پولیس کونسلز کے لیے ان کی خدمات ہر طرح سے حاضر ہیں ، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین پولیس اہلکاروں کو محکمے میں اعلی سطح پہ ترقیاں ملیں اور انہیں پالیسی سازی میں شامل کیا جائے

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    ڈپٹی ڈی جی انٹی نارکوٹکس فورس عامر ذوالفقار نے کہا پولیس فورس میں خواتین پولیس اہلکاروں کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی اداٸیگی میں مشکلات کا سامنا تھا ، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کے مساٸل حل ہوں گے جس سے ان کی کرکردگی میں نمایاں تبدیلی آۓ گی

    آئی جی آزاد کشمیر امیر احمد شیخ نے کہا کہ وویمن پولیس کونسل کا قیام وقت کی اشد ضرورت تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ملکی آبادی کو نصف ہیں اور ان کے مساٸل حل کیے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرنا ممکن نہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ریاض فتیانہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وویمن پولیس کونسلز کا قیام خوش آئند ہے لیکن ہمیں اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے وقت مقرر کرنا ہو گا تاکہ کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں وویمن پولیس کونسلز کے قیام کے بعد اس پہلو پہ بھی سوچنا ہو گا کہ اس منصوبے کو طویل عرصے کے لیے کیسے پائئیدار بنایا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں کئی منصوبے ایسے تھے جو شخصیات کے گرد گھومتے رہے اور افسران کے تبادلوں کے ساتھ ان منصوبوں کو بھی سرد خانوں میں ڈال دیا گیا۔

    پارلیمنٹری کمیشن فار ہیومن راٸٹس کے ایگزیکٹو ڈاٸریکٹر محمد شفیق چوہدری نے وویمن پولیس کونسلز کے قیام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا اس کامیابی میں تمام پارٹنرز ، سول سوساٸٹی اور سینٸر پولیس افسران نے بھرپور کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وویمن پولیس کونسلز کے قیام سے جراٸم میں کمی آۓ گی اور عدلیہ کے سامنے خواتین سے متعلق کیسوں کی انتہاٸی جامع اور مکمل انکواٸری رپورٹ پیش ہوگی جس سے انہیں فیصلہ کرنے میں بہت مدد ملے گی ۔

    یو ایس آٸی پی کے کنٹری ڈاٸریکٹر ڈاکٹر عدنان رفیق نے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ اگرچہ تبدیلی کی رفتار سست ہے لیکن ہم درست میں گامزن ہیں اور وویمن پولیس کونسلز کا قیام کامیابی کی جانب پہلا قدم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی پولیس کو بین الاقوامی معیار کی فورس بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور مستقبل میں چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوۓ ایسی مزید اصلاحات تجویز کریں گے جس سے پولیس کے محکمے میں بہتری آۓ اور پولیس اپنی کارکردگی اور عویے سے حقیقی معنوں میں عوام دوست پولیس ثابت ہو۔

    مسلم لیگ نون کی سینئر رہنما شائسہ پرویز ملک نے کہا کہ اب اس تاثر کو ختم ہونا چاہیے کہ خواتین کسی مجبوری کے تحت پولیس فورس میں نوکری کرتی ہیں ۔ خواتین کو اللہ تعالی نے خداداد صلاحیتوں سے نوازا ہے اور یہ کسی بھی شعبے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔

    وفاقی محتسب کی سربراہ کشمالہ خان نے خواتین پولیس اہلکاروں کو تاکید کی اب اگر ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی ہوتی ہے تو انہیں چپ نہیں رہنا چاہیے کیونکہ زمانہ بدل چکا ہے اور خواتین کو اپنے حقوق کی جنگ خود لڑنا ہو گی ۔

    کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوۓ لاہور ہاٸیکورٹ کی سابق جج جسٹس ناصرہ جاوید ملک نے وویمن پولیس کانسلز کے قیام کو خوش آٸند قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کونسلز کے ذریعے ملک میں نہ صرف خواتین شہریوں کے پیچیدہ مساٸل کو حل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ خواتین پولیس افسران بھی بااختیار ہوں گی ۔

    اس موقع پہ ڈی جی لیگل اینڈ جسٹس اتھارٹی ڈاکٹر رحیم اعوان کا کہنا تھا کہ اسلامی اور برصغیر دونوں کی تاریخ میں خواتین نے بہترین حکمرانی کی مثالیں قاٸم کی ہیں ۔ ہماری خواتین پولیس افسران کو بھی چاہیے کہ اپنے آٸینی و قانونی حقوق سے آگاہی حاصل کریں جو انہیں بااختیار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے ۔ ڈاکٹر رحیم اعوان نے کہا پولیس کانسلز کے قیام کے بعد تفتیش کے دوران تھانوں میں آنیوالی خواتین شہریوں کو تحفظ کا احساس ہو گا اور شفاف انکواٸری ہو گی ۔

    سابق آٸی جی اسلام آباد کلیم امام نے کہا کہ اگر ملک نے آگے بڑھنا ہے تو معاشرے کو خواتین کے حوالے سے رویے میں تبدیلی لانا ہو گی اور خواتین ہولیس افسران کو بھی اپنی کارکردگی اور کردار سے منفرد کام کرتے ہوۓ آگے بڑھنا ہو گا ۔ خواتین افسران کو اپنے کام سے محبت کرتے ہوۓ اپنی استعداد کو بڑھاٸیں تاکہ پولیس محکمے میں نٸی آنیوالی خواتین کے لیے مثالی نمونہ بنیں ۔

    تقریب کے اختتام پہ شرکاء کو شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ دئے گئے ۔