Baaghi TV

Author: News Editor

  • خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

    خيرپور ناتھن شاہ، گاؤں ناگو شاہ اور کوٹ نواب سيلاب میں ڈوب گئے

    خیرپور ناتھن شاہ سیلابی ریلے پہنچ گئے، شہر کے کئی مقامات پر پانی پہنچ گیا، شہریوں نے افراتفری میں نقل مکانی شروع کردی۔ضلع دادو میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوچکی ہے۔ تحصیل میہڑ جو پہلے ہی ڈوب چکا تھا، اب تحصیل خیرپور ناتھن شاہ بھی ڈوب گیا، انڈس ہائی وے زیر آب آگئی، جس کے باعث میہڑ، کے این شاہ اور جوہی کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

     

     

    جوہی میں سیلابی ریلے کی آمد ہے، جو بچائو بند سے ٹکرا رہا ہے، دبائو بڑھنے کے باعث شہر کا حفاظتی بند خطرے میں پڑ گیا۔ جوہی کا ڈگری کالج بھی زیر آب آگیا۔کھوسہ کالونی کے رنگ بند میں دراڑیں پڑ گئیں، جہاں سے پانی کا رسا شروع ہوگیا۔ گورکھ ہل جانے والے راستے پانی آنے کے باعث بند ہوگئے۔خیرپور ناتھن شاہ میں ہر جگہ پانی ہی پانی آگیا۔ شہر کے کئی علاقوں میں سیلابی ریلے پہنچ گئے۔ شہری گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ شہر میں میڈیکل، کریانہ اور سبزی کے دکانوں سمیت پیٹرول پمپ بھی بند ہوگئے۔

     

     

    نوشہرو فيروز
    نوشہرو فيروز شہر کو ڈوبنے سے بچانے کے ليے شہری خود اپنی مدد آپ کے تحت بائی پاس پر پہرا دينے لگے ہیں، جہاں شہريوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وڈيرے اپنی فصلوں کو بچانے کے ليے پانی شہر کی جانب چھوڑ رہے ہيں۔

    بھریاروڈ
    بھریاروڈ کے قریب پانی کے تیز بہاؤ سے پکا چانگ روڈ ٹوٹ گیا، جس کے باعث سیلابی ریلے سے گزرنا شہریوں کیلئے دشوار بنا ہوا ہے۔
    سیلاب کے باعث بھريا روڈ کا خيرپور اور ضلع نوشہروفيروز کے ديگر شہروں سے رابطہ تيرہويں روز بھی منقطع ہے، جب کہ سڑک دريا بن گئی ہیں جہاں عورتيں اور بچے پانی ميں ڈوبے ہوئے انتظاميہ کی راہ تک رہے ہیں۔سیلاب کے باعث راستے بحال نہ ہونے پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت پيدل گزرنے کیلئے بانس لگا کر راستہ بنا رہے ہیں۔

     

    سانگھڑ
    سانگھڑ میں بھی صورت حال مختلف نہیں ، جہاں کوٹ نواب اکبر بگٹی مکمل سیلاب میں ڈوب گيا۔علاقے میں بارہ روز گزرنے کے باوجود کوئی حکومتی امداد آخری اطلاعات تک بھی نہ پہنچ سکی، کئی کئی فٹ جمع پرانے پانی کے باعث علاقے میں بيمارياں پھيلنے لگی ہیں۔متاثرین نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ کيا ہم اس وطن کے باسی نہيں؟۔ سانگھڑ یوسی کوٹ نواب میں ایک اندازے کے مطابق سترہ گاؤں زیر آب آئے ہیں۔ سانگھڑ میں سڑک کنارے ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں۔

     

     

    دادو
    دوسری جانب دادو کے علاقے جوہی سے آنے والا ریلا منچھر جھیل میں داخل ہوگیا ہے، جس سے خیرپور ناتھن شاہ سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔شہر ميں جگہ جگہ کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔ شہريوں کا کہنا ہے کہ مکمل تباہی سے بچانے کیلئے منچھر جھيل کا بند توڑا جائے، تاہم اس مطالبے کو پورا کرنے میں منتخب وڈيرے رکاوٹ بن گئے ہیں۔

     

    میہڑ
    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی نے میہڑ کی جانب رخ کرلیا ہے اور پانی کا بہاؤ شہر کی جانب ہے، انڈس ہائی وے ڈوبنے سے مہڑ کا زمینی رابطہ مکمل طور پر سندھ کے دیگر شہروں سے منقطع ہے، میہڑ شہر کو بچانے کے لیے مہڑ رنگ بند کو مضبوط کرنے کا کام جاری ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے جوہی انڈس ہائی وے مکمل طرح ڈوب چکا ہے جبکہ پانی کا دباؤ جوہی شہر کے رنگ بند پر برقرار ہے۔

     

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوہی شہر کا زمینی رابطہ دادو سے منقطع ہے۔اہل علاقہ نے کہا کہ دادو ضلع میں سیلابی صورتحال شدید خراب ہوتی جارہی ہے، اب تک جوہی، خیرپور ناتھن شاہ اور میہڑ تحصیلیں مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوبنے کے باعث سیکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں جبکہ شہریوں کو اشیائے خورونوش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

     

     

    مٹیاری
    مٹیاری کے قريب نیو سعیدآباد میں بارش کے پانی سے سرکاری گودام میں چالیس ہزار سے زائد گندم کی بوریاں خراب ہونے لگیں ہیں۔ سیلابی ریلے میں بھیگنے کی وجہ بوریوں سے تعفن اٹھنے لگا ہے۔ٹنڈوالہٰ یار میں بھی لوگ گھر چھوڑ کر کيمپوں ميں رہنے پر مجبور ہيں۔ حيدرآباد کے نياز اسٹيديم سے پانی نہ نکالا جاسکا، جہاں ميدان گندے جوہڑ کا منظر پيش کر رہا ہے۔واضح رہے کہ مون سون کی غیر معمولی، بد ترین بارشوں، کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے، جب کہ 14 جون سے اب تک 399 بچوں سمیت کم از کم ایک ہزار 191 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

     

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کی رپورٹ جاری
    وزارت منصوبہ بندی اور ترقی کی جانب سے سیلاب سے ہونے والے نقصان پر رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے 13 ارب 57 کروڑ روپے کا نہری نظام تباہ ہوا، سندھ، کے پی، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں 710 منصوبوں کو نقصان پہنچا۔ جاریرپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کے پی میں ایک ارب اور سندھ میں 8 ارب 42 کروڑ کے نہری نظام کو نقصان پہنچا۔

    وزارت منصوبہ بندی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب سے بلوچستان میں 3 ارب 87 کروڑ کا نظام آبپاشی تباہ ہوا ہے۔ قبائل علاقہ جات میں 6 کروڑ 80 لاکھ ، سندھ میں 355 منصوبے اور کے پی میں 178 منصوبے تباہ ہوئے۔سیلاب سے 12 لاکھ کے قریب مکانات متاثر بھی ہوئے، جب کہ ساڑھے 7 لاکھ کے قریب جانور ہلاک ہوئے۔ سیلاب کے باعث 243 پل اور 5063 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں۔

     

    نوشہرہ
    خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی چھتیس دیہی کونسلز کو مقامی انتظامیہ نے آفت زدہ قرار دے دیا ہے، جب کہ کالام کا مانکیال گاؤں پتھروں کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگیا۔حکومت کی جانب سے یکم ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان تو کیا گیا تاہم ادارے کھلنے کے باوجود کئی اسکولوں میں صفائی کا کام جاری ہے۔ ادھر سوات میں سیلاب متاثرین تا حال امداد کے منتظر ہیں، آفت زدہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی بھی نہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔

    کالام
    کالام میں پل اور سڑکیں بہہ جانے سے وادی کالام کے قریب گاؤں سمیت بارہ بستیوں کا زمینی رابطہ شہر سے کٹ گیا۔ دریا کے دوسرے کنارے لوگ مدد کے منتظر ہیں۔ امدادی ہیلی کاپٹروں سے مدد کیلئے محصورین سرخ جھنڈیاں لگا کر علامتی ہیلی پیڈ بنائے بیٹھے ہیں۔

  • سعودی فوجی اتحاد نےیمن کےایندھن کےحامل4 بحری جہازوں کوروک لیا

    سعودی فوجی اتحاد نےیمن کےایندھن کےحامل4 بحری جہازوں کوروک لیا

    صنعا:سعودی فوجی اتحاد نےیمن کےایندھن کےحامل4 بحری جہازوں کوروک لیا.اطلاعات کے مطابق المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی قومی گیس کمپنی کے ترجمان عصام المتوکل نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد نے یمن کے 4 بحری جہازوں جن میں سے 2 پٹرول اور 2 ڈیزل کے حامل تھے روک لیا ہے۔ اس طرح اب تک روکے جانے والے بحری جہازوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔

     

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

     

    یمن کی گیس کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ ایندھن کے حامل یمن کے ان بحری جہازوں کو سعودی اتحاد نے اقوام متحدہ کا فراہم کردہ پرمٹ کے باوجود روکا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے تحت 54 بحری جہازوں کو یمن آنے کی اجازت تھی تاہم ابھی تک صرف 33 بحری جہاز یمن پہونچ پائے ہیں۔

     

    ترجمان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی اتحاد کی جانب سے اس قسم کی جاری خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اپنے فرائض پر عمل کرتے ہوئے سعودی اتحاد کے خلاف مؤثر عملی کارروائی کرے۔

     

    واضح رہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ایسی حالت میں جاری ہے کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرینڈ برگ نے یمن میں جنگ بندی کی مدت میں مزید دو ماہ کی توسیع کئے جانے کا اعلان کیا تھا مگر سعودی اتحاد نے کبھی بھی اس معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

  • مہنگائی بنگلہ دیش پہنچ گئی:مہنگائی کےخلاف عوام احتجاج کرتےہوئےسڑکوں پرنکل آئی،ایک ہلاک 24 زخمی

    مہنگائی بنگلہ دیش پہنچ گئی:مہنگائی کےخلاف عوام احتجاج کرتےہوئےسڑکوں پرنکل آئی،ایک ہلاک 24 زخمی

    ڈھاکہ :بنگلادیش میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے شروع ہوا۔ گزشتہ شب بنگلہ دیش کے دارالحکومت سے 15 کیلو میٹر دور واقع شہر نارایانگانج میں احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے۔

     

     

    بنگلادیش کی تاریخ میں اس سے قبل اتنی مہنگائی نہیں ہوئی تھی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ بلند ترین اضافہ ہے جس کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ہزاروں مظاہرین نے فیول اسٹیشنت کا گھیراؤ کرلیا۔

     

    مظاہرین نے اس اضافے کو بدترین مہنگائی لانے والی سونامی قرار دیتے ہوئے حکومت سے قیمتیں فی الفور کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔بنگلادیش نے حال ہی میں 4 ارب ڈالر کے قرض کے لیے آئی ایم ایف میں درخواست جمع کرائی ہے۔

     

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

     

    بنگلادیش کے وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ معیشت مستحکم ہے تاہم یوکرین روس جنگ کے بعد سے پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور ڈالر کی اونچی پرواز سے ادائیگیوں کے توازن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

  • سیلاب متاثرین کے سڑک کنارے سوئے بچوں کوٹرک نے کچل دیا

    سیلاب متاثرین کے سڑک کنارے سوئے بچوں کوٹرک نے کچل دیا

    کراچی :بدين کے علاقے گولارچی ٹرالر نے سڑک کنارے سوئے ہوئے سیلاب متاثرین 3 بچوں کو کچل دیا۔پولیس کے مطابق سامان سے لدھا ہوا ٹرالر تیز رفتاری سے سڑک سے گزر رہا تھا کہ اسی دوران سڑک کے کنارے سوئے ہوئے سیلاب متاثرین کے بچوں پر چڑھ گیا۔

    جنوبی پنجاب کے 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مختلف بیماریوں کی لپیٹ میں

    حادثے میں 3 بچے موقع پر ہی جاں بحق، جب کہ دیگر 6 افراد زخمی ہوگئے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی اور زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے تعلقہ اسپتال گولارچی منتقل کردیا گیا ہے۔

    واقعہ کے بعد ورثا کی جانب سے ڈرائیور کی گرفتاری کیلئے احتجاج بھی کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔

    خوفناک سیلاب سے تباہی: خیرپور میں لاش دفنانے کیلئے خشک جگہ ملنا مشکل ہوگیا

    ادھرکراچی میں ڈینگی کے مزید 65 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔محکمہ صحت سندھ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کراچی میں ڈینگی کیسز میں ہوشربا اضافہ سامنے آیا ہے۔

    محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں سندھ میں ڈینگی کے 69 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 65 کا تعلق کراچی سے ہے۔محکمہ صحت سندھ نے بتایا کہ ضلع وسطی میں 26 ، ضلع جنوبی 10، ضلع غربی 6 ،ضلع کیماڑی 4 اور ضلع ملیر 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ رواں ماہ اگست میں کراچی بھر میں 1265 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ سندھ بھر میں 2 ہزار 568 کیسز رپورٹ ہوئے۔

  • لاہور:اے ٹی ایم کارڈزکوہیک کرکےاکائونٹ سے پیسے نکلوانےوالا گروہ پھرسرگرم:نیا طریقہ استعمال کرنےلگے

    لاہور:اے ٹی ایم کارڈزکوہیک کرکےاکائونٹ سے پیسے نکلوانےوالا گروہ پھرسرگرم:نیا طریقہ استعمال کرنےلگے

    لاہور:اے ٹی ایم کارڈز کو ہیک کر کے اکائونٹ سے پیسے نکلوانے والا گروہ پھرسرگرم:نیا طریقہ استعمال کرنے لگے،اطلاعات کے مطابق لاہور میں ایک بار پھرہیکرز لاہور کی اے ٹی ایم مشینوں سے کروڑ روپے ہتھیانے لگے،پہلے فراڈ کرنے کے طریقے اور تھے اوراب نئے طریقوں سے صارف کے ساتھ فراڈ ہوتا ہے اور اسے پتہ تک بھی نہیں چلتا

    اے ٹی ایم ا ستعمال کرنے والے خبردار رہیں، آپ کے اے ٹی ایم کا پورا راز کوئی اور چرا کر آپ کے لاکھوں روپے نکلواسکتا ہے، پاکستان کے شہریوں کے ساتھ بین الاقوامی سطح کے بڑے فراڈ، بڑے گڑبڑ گھٹالے کا انکشاف ہوا ہے۔

     

    مصدقہ ذرائع کے مطابق آج کل جو فراڈ ہورہا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ جب اے ٹی ایم مشین صارف سے کوئی سوال پوچھ لیے ،صارف سے کہے کہ وہ بائیومیٹرک طریقہ استعمال کریں‌ یا قومی شناختی کارڈ مانگے تو فورا مشین سے اے ٹی ایم کارڈ نکال لینا چاہیے ، اور اگرکارڈ نہیں نکلتا تو پھرمتعلقہ بینک کو فون کرکے یہ کارڈ بلاک کروا لینا ضروری ہے وگرنہ وہاں‌ارد گرد میں موجود فراڈیئے آپ کے پیسے لے اُڑیں گے

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایک دن میں پانچ سے چھ اس فراڈ کے متعلقہ ایف آئی آرز لاہور کے تھانہ جوہرٹاون اور ماڈل ٹاون میں ہوئی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس فراڈ میں ایک صارف پانچ لاکھ سے محروم ہوگیا اورایسے ہی ایک صارف تین لاکھ سے محروم ہوگیا ، باقی صارف بھی بھاری مالی نقصان اٹھا چکے ہیں

    پاکستانی صارفین کو اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے چوری ہونے کا پتا بینک کے بتانے پر چلا، ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے تحقیقات شروع کردیں ۔

    اس میں ہوتا یہ ہے کہ اے ٹی ایم مشین کی کسی خفیہ جگہ پرفراڈیئے ایک ڈیوائس لگا دیتے ہیں جوقومی شناختی کارڈ پوچھتے وقت یا بائیومیٹرک کرتے وقت آپ کا سب ڈیٹا محفوظ کرلیتا ہے اورجب صارف وہاں سے تنگ آکرچلا جاتا ہےتو پیچھے سے فراڈی آکر وہ رقم نکلوا لیتے ہیں‌

    !نوسربازوں نے اے ٹی ایم سے فراڈ کا نیا طریقہ دریافت کرلیا، ٹرانزیکشن سے پہلے مشین میں کاغذ پھنسا دیکھیں تو ہرگز استعمال نہ کریں۔جب بھی اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے جائیں اور مشین میں کارڈ ڈالنے کی جگہ پر اگر آپ کو کچھ کاغذ پھنسے ہوئے دکھائی دیں تو مشین ہرگز استعمال نہ کریں، اگر کارڈ پھنس جائے اور اے ٹی ایم کے باہر سے کوئی شخص آپ کی مدد کیلئے آئے تو اسے ہرگز اپنا پاسورڈ نہ بتائیں

     

    اس میں‌ سارا ڈیٹا یہ فراڈ کرنے والوں کے پاس پہنچ جاتا ہے ،اس لیے احتیاط ضروری ہے یاد رہےکہ لاہور میں ایسے واقعات بڑی تیزی سے روزانہ کی بنیاد پرہونے لگے ہیں‌

     

    اے ٹی ایم  کارڈ استعمال کرنے کے طریقے

    ATMاصل میں Automated teller Machine  مخفف ہے۔اس مشین سے آپ بآسانی اپنی رقم کسی بھی وقت نکال سکتے ہیں لیکن آجکل کچھ شرپسند عناصر اس مشین پر کچھ اضافی چیزیں نصب کرکے آپکی معلومات چرا نے کی کوشش کرتے ہیں لہذا اے ٹی ایم مشین کا استعمال کرنے سے قبل چند باتوں کا جاننا بہت ضروری ہے ورنہ آپ کو مالی نقصان کاسامنا ہوسکتا ہے۔

    اے ٹی ایم کا استعمال کرتے وقت اپنی اور اپنے پیسوں کی حفاظت کے بارے میں سوچنا ہر انسان کیلئے ضروری ہے۔ ویران علاقوں میں اے ٹی ایم استعمال کرنے سے گریز کریں بینکوں یا سپر مارکیٹوں کے اندر واقع اے ٹی ایمز استعمال کریں جہاں دوسرے لوگوں ارد گرد موجود ہوں کیوں کہ اسطرح کی جگہ پہ چھینا جھپٹی کے خطرات کم ہوتے ہیں ۔

    اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال

    اے ٹی ایم استعمال کرنے سے پہلے  اس بات کا یقین کر لیں  کہ مشین کی کسی چیز کو چھیڑا ہوا نہیں ہےاگر آپ کو لگتا ہے کہ مشین کے کی بورڈ پر اضافی بورڈ لگایا گیا ہے یا سکرین کے بالکل اوپر کوئی اضافی کیمرا نصب ہے تو اس کا استعمال ہر گز  نہ کریں(کیوں کہ اس  کا مطلب یہ ہے کہ کسی مجرم نے آپکی  مالی معلومات کو چوری کرنے کے لئے اے ٹی ایم کو "سکینر” سے منسلک کیا ہے۔)

    اے ٹی ایم مشین کا استعمال کرنے سے قبل اس Slot کو ہلا کرضرور دیکھیں اگر اس پر آپ کا ڈیٹا چوری کرنے کیلئے  کوئی اضافی Slot لگی ہوئی تو وہ ضرور ہلے گی اور ہو سکتا ہے وہ اتر ہی آئے ایسی صورت میں اس اے ٹی ایم مشین کا استعمال ترک کرکے کسی اور اے ٹی ایم کا رخ کریں اور اگر کوئی اضافی Slot نہیں لگی تو وہ بالکل نہیں ہلے گی۔ ان اضافی چیزوں کو skimming devices  کہا جاتاہے۔

    اےٹی ایم میں پن نمبر کا اندراج کرتے وقت اوپر ہاتھ رکھ لیں تاکہ آپ کے خفیہ کوڈ کے بارے کوئی جان نہ سکے۔

    اے ٹی ایم مشین میں دو بار سے زیادہ غلط پن نمبر کا اندراج نہ کریں ورنہ آپ کا کارڈ مشین ضبط کرسکتی ہے اور اس صورت آپ کو آپکی برانچ سے رابطہ کرنا ہوگا۔

    اے ٹی ایم کو چھوڑنے سے پہلے اپنے پیسے اور اے ٹی ایم کارڈ ضرور نکال لیں  اس بات کا بھی دھیان رکھیں کہ مشین سے پیسے باہر نکلنے کے بعد آپ دیر نہ کریں اور دس سیکنڈ سے پہلے ان کو نکال لیں ورنہ ہو سکتا ہے اے ٹی ایم آپکے پیسوں کو حفاظت کے پیش نظر واپس ضبط کرلے اس طرح آپ کا وقت ضائع ہوسکتا ہے اور آپ کو اپنی برانچ کا رجو ع بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔

     

  • روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی چاہیے:دوست مزاری

    روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی چاہیے:دوست مزاری

    روجھان:روجھان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا،حکومت کوبھی انسانی بنیادوں پرامداد دینی چاہیے:دوست مزاری سابق ڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک بہت بڑے زمیندار بھی ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس علاقے میں متاثرین کی مدد تو کررہی ہے مگرسیاسی بنیادوں پر ، جبکہ یہ حالات سیاست کرنے کے نہیں انسانی ہمدردی سب سے پہلے ہے

     

    اس سلسلے میں باغی ٹی وی کےسنیئررپورٹرفیض چغتائی جوکہ اس وقت راجن پور، ڈیرہ غازی خان اورتونسہ کے علاقوں میں سیلاب سے متاثرین خاندانوں سے مل رہے ہیں اور ان کے مسائل جان رہے ہیں اس وقت ڈیرہ غازی خان کے اس علاقے میں موجود ہیں جوسیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہوا ہے ،

     

    یہ روجھان کا علاقہ ہے جس علاقے سے دوست محمد مزاری تعلق رکھتے ہیں‌، دوست مزاری کا کہنا ہے کہ حکومت امداد کو سیاسی بنیادوں پرتقسیم کررہی ہے ، جبکہ اس علاقے کا ہرخاندان متاثرہے ، حکومت کو چاہیے کہ ایک مکمل سروے کرے اور پھرمتاثرین کوان کی ضروریات کے مطابق امداد دے تاکہ متاثرین پھر سے زندگی کی دوڑ میں شامل ہوسکیں

    تونسہ راجن پور،اور روجھان سیلاب سے تباہی،نواحی علاقے بستیاں زیر آب، متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

    بارشوں کے باعث 27 ہزار 860 ایکڑ پر کاشت فصلیں متاثر ہو گئیں، راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کی سفارش ، آبیانہ، زرعی انکم ٹیکس سمیت سرکاری واجبات اور قرض معاف کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

  • ابرار الحق فارغ، شاہد احمد لغاری چیئرمین ہلال احمر پاکستان مقرر

    ابرار الحق فارغ، شاہد احمد لغاری چیئرمین ہلال احمر پاکستان مقرر

    اسلام آباد:ابرار الحق فارغ، شاہد احمد لغاری چیئرمین ہلال احمر پاکستان مقرر،اطلاعات کے مطابق حکومت نے چیئرمین ہلال احمد پاکستان ابرار الحق کو عہدے سے ہٹادیا۔

    نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کو آرڈی نیشن حکومت پاکستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ابرار الحق کو چیئرین ہلال احمر پاکستان کے عہدے سے ہٹادیا۔

     

     

    https://twitter.com/MirzaAdeelPTI/status/1565324161433698306?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1565324161433698306%7Ctwgr%5E15384ff5fb7537a426bc5027d9e0e49044c46a46%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.samaa.tv%2Fnews%2F40006663

    صدر مملکت نے بطور صدر ہلال احمر پاکستان سردار شاہد احمد لغاری کو تین سال کیلئے چیئرمین ہلال احمر پاکستان مقرر کردیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق شاہد احمد لغاری کی تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔

     

     

    واضح رہے کہ ابرار الحق نے آج بطور چیئرمین ہلال احمر پاکستان سوات کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی تھیں۔معروف گلوکار ابرار الحق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور مستعفی رکن قومی اسمبلی ہیں۔

     

     

    یاد رہے کہ وزارت ماحولیات تبدیلی کا کہنا ہے کہ طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے  سیلاب سے ملکی معیشت کو ابتدائی تخمینہ کئ مطابق 10 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    وزارت ماحولیات تبدیلی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں سیلابی ہنگامی صورتحال نویں ہفتے بھی جاری ہے، اور ملک کا 70 فیصد حصہ زیرآب ہے، پاکستان کے جنوبی حصوں میں کئی مقامات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

    وزارت ماحولیات کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کے باعث صحت سے متعلق خدشات بھی سامنے آرہے ہیں، دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب ہیں، سیلاب سے اب تک 1200 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 3000 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے ملک کے مختلف حصوں میں 5000 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ 243 پل تباہ ہوگئے ہیں۔

    سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہے اور 10 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔

    وزارت ماحولیاتی تبدیلی کا کہنا ہے کہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ ہوا ہے، سندھ کا 90 فیصد اور ملک کی کل فصلوں کا 45 فیصد حصہ زیر آب ہے

  • راشن دینےکے بہانے ملزمان کی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی

    راشن دینےکے بہانے ملزمان کی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی

    سانگھڑ:راشن دینےکے بہانے ملزمان کی لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی،اطلاعات کے مطابق سندھ کے ضلع سانگھڑ کے شہر شہداد پور میں راشن دینےکے بہانے ایک لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

     

    متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا ہےکہ نشہ آور چیز کھلا کر اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، وہ سبزی لینے جارہی تھی کہ اسے راشن کا جھوٹا دلاسا دیا گیا۔

    سیلاب سے متاثرہ ایک ایک خاندان جلد دوبارہ آباد ہوگا، راجہ بشارت

    پولیس کو دیےگئے بیان میں متاثرہ لڑکی نےکہا ہےکہ رکشا ڈرائیور خالد اور دل شیر ماچھی نے زیادتی کی۔پولیس کے مطابق لڑکی کو بیان کے لیے طلب کرلیا ہے، ایک ملزم زیر حراست ہے، لڑکی کے بیان اور میڈیکل کے بعد مقدمہ درج کیا جائےگا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈی آئی جی نواب شاہ کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق پتہ چلا تو ملزم کی نشاندہی کر لی ہے ملزم کانام گل شیرماچھی ہے اور اسے جلد گرفتار کر لیا ہے۔

    برطانیہ سیلاب زدگان کیلئے مزید ڈیڑھ کروڑ پاؤنڈ امداد دے گا

    ی آئی جی عرفان بلوچ کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق مزید تحقیقات کر رہے ہیں ملزم رکشہ وغیرہ چلاتا ہے ملزم کومتاثرہ لڑکی کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے جب لپ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل دوبارہ کرایا جا رہا ہے۔

  • لسبیلہ کوتقسیم کرنےکا فیصلہ نامناسب،حب کوضلع بنانےکانوٹیفکیشن منسوخ کیاجائے، جام کمال خان

    لسبیلہ کوتقسیم کرنےکا فیصلہ نامناسب،حب کوضلع بنانےکانوٹیفکیشن منسوخ کیاجائے، جام کمال خان

    کوئٹہ:سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے حب کو ضلع بنانے کی مخالف کردی،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان نے لسبیلہ کو 2 اضلاع میں تقسیم کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حب کو ضلع بنانے کا فیصلہ ہر لحاظ سے نامناسب ہے، قائمقام گورنر بلوچستان نوٹیفکیشن کو منسوخ کریں۔

     

    بلوچستان حکومت نے گزشتہ روز لسبیلہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے حب کو ضلع بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ لسبیلہ سمیت پورا بلوچستان سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، صوبے کے عوام پریشان حال ہیں، ایسے وقت میں قائمقام گورنر بلوچستان جان محمد جمالی کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ حب کو ضلع بنانے کا مقصد وہاں کی عوام کی ترقی اور خوشحالی نہیں بلکہ ڈپٹی کمشنر اور انتظامی امور کو ہاتھ میں رکھنا ہے، انہوں نے گورنر جان محمد جمالی سے نوٹیفکیشن فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں…

    جام کمال خان نے مزید کہا کہ حب کو ضلع بنانے کا فیصلہ ہر لحاظ سے نامناسب ہے، اگر حب کو ضلع بنانا ضروری ہے تو اس کا ایک طریقۂ کار ہوتا ہے، جب تک ضلع کے لوگوں اور اس کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا تو کسی صورت اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالت میں اس سلسلے میں کیس بھی چل رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان بھی کر رکھا ہے، ایسے وقت میں لسبیلہ کو 2 حصوں میں تقسیم کرنا انتہائی غیرمناسب ہے۔

    تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

    جام کمال خان نے بلوچستان ہائیکورٹ سے بھی اپیل کی کہ ان کے کیس کو جلد سن کر انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری فریاد عدالتیں اور موجود حکمران نہیں سنتے تو وہ اور لسبیلہ کے عوام سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

  • عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

    عمران خان کی سابق اہلیہ بھی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مددکےلیے میدان میں آگئیں‌

    لندن :پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی مدد کے لیے دل کھول کر دیں۔

    ان کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ پاکستان میں اور اس کے باہر رہنے والے لوگ سیلاب سے بھری سڑکوں اور کھیتوں کی تصویروں سے حیران رہ گئے ہیں اور لوگ سیلاب سے اپنے گھر تباہ ہونے کی وجہ سے اپنے دن اور راتیں باہر گزارنے پر مجبور ہیں۔

    اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے ان فلاحی تنظیموں کے نام بتائے ہیں جو بحران کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہی ہیں، جب کہ دوسری میں انہوں نے بینک آف پنجاب اور بینک آف خیبر کے اکاؤنٹ نمبر دیے ہیں۔ جہاں لوگ اپنے پیسے جمع کراسکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپنی تحریر کردہ فلم کی لندن میں پرائیوٹ اسکریننگ کا اعلان کردیا۔

    ٹوئٹر پیغام میں جمائما گولڈ اسمتھ نے بتایا کہ پرائیوٹ اسکریننگ میں فلم دیکھنے کیلئے سب سے زیادہ رقم کی بولی لگانے والے شخص کو اس کے 20 ساتھیوں کے ہمراہ فلم دکھائی جائے گی۔

    لندن میں خصوصی اسکریننگ جمائمہ خان اور فاطمہ بھٹو کی طرف سے منعقد کی جارہی ہے۔ ویب سائٹ 32 آکشن ڈاٹ کوم پر بولی کا سلسلہ جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق زیادہ بولی لگانے والے افراد ریلیز ہونے سے قبل ہی پرائیوٹ اسکریننگ پر 20 دوستوں کے ساتھ فلم دیکھیں گے۔

     

     

     

    بولی جیتنے والاشخص اپنے20 ساتھیوں کا انتخاب خود کرےگا اورفلم دیکھنے کیلئے وقت اور تاریخ کا تعین بھی خود کرسکے گا۔جمائمہ کی فلم What’s Love Got To Do With It جنوری 2023ء میں بین الاقوامی سطح پرریلیز ہوگی۔ فلم میں مرکزی کردارمعروف اداکارہ سجل علی ادا نبھا رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں لگاتار جاری ہیں اور اس دوران جان گنوانے والے افراد کی تعداد 1191 ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے شمال سے آنے والا سیلابی ریلا دریائے سندھ کے بندوں کو توڑتا ہوا ضلع دادو میں داخل ہو گیا ہے، جس سے وہاں 10 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں ایک، خیبر پختون خوا میں 4 اور سندھ میں 15 افراد کی جان چلی گئی۔ اب تک سندھ میں سب سے زیادہ 422 اموات درج جکی گئی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی یومیہ رپورٹ کے مطابق 14 جون سے اب تک 3500 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں 87 افراد زخمی ہوئے ہیں اور 27 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    سیلاب کے باعث بلوچستان میں 253، خیبر پختونخوا میں 264 اور پنجاب میں 188 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ سیلابی ریلوں اور بارشوں کے باعث حادثات میں جاں بحق ہونے والوں میں 522 مرد، 246 خواتین اور 399 بچے شامل ہیں۔ ملک بھر کے 80 اضلاع بارشوں اور سيلاب سے متاثر ہيں۔بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک بھر میں 3لاکھ 72 ہزار 8 سو 23 گھر تباہ ہوئے۔بارشوں اور سيلاب سے جزوى طور پر 7 لاکھ 33ہزار 536 گھروں کو نقصان پہنچا۔

    ملک بھر میں 243 پلوں اور 173 دکانوں کو حاليہ بارشوں سے نقصان پہنچا۔ کل 5063 کلو ميٹر سڑک بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئیں۔7 لاکھ 31 ہزار سے زائد مويشيوں کا نقصان ہوا۔

    اطلاعات کے مطابق خیرپورناتھن شاہ اور جوہی تعلقہ میں مین نارا ویلی (ایم این وی) نالے میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔یہ دادوشہر سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اگر اس نالے میں پانی کی سطح بڑھتی رہتی ہے تو دادو شہرشدید متاثر ہوگا۔

    پاکستان میں رواں سال اگست میں 30 سالہ اوسط کے مقابلے میں قریباً 190 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے جو مجموعی طور پر 390.7 ملی میٹر (15.38 انچ) ہے۔بارشوں کے نتیجے میں سیلاب سے صوبہ سندھ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا اور 30 سالہ اوسط سے 466 فی صد زیادہ بارش ہوئی ہے۔

    ملک کے شمال میں پہاڑوں سے شروع ہونے والا سیلاب ہزاروں مکانوں، کاروباری اداروں، بنیادی ڈھانچے اور فصلوں کو بہا لے گیاہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 22 کروڑافراد پر مشتمل کل آبادی میں سے تین کروڑ 30 لاکھ افراد(15 فی صد) متاثر ہوئے ہیں۔