Baaghi TV

Author: News Editor

  • تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

    تباہ کن سیلاب سے 30 لاکھ سے زائد پاکستانی بچے خطرات کا شکار

    اسلام آباد:اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سب سے شدید سیلاب کی وجہ سے 30 لاکھ سے زائد بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور وہ پانی سے پھوٹنے والی بیماریوں، ڈوبنے اور غذائی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں۔

     

     

    یونیسیف نے ایک بیان میں بتایا کہ ادارہ متاثرہ علاقوں میں بچوں اور خاندانوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فادِل نے کہا کہ جب آفات آتی ہیں تو بچے ہمیشہ سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہوتے ہیں، سیلاب پہلے ہی بچوں اور خاندانوں کو تباہ کن نقصان پہنچا چکا ہے اور صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

    یونیسیف، حکومت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ متاثرہ بچوں کو جلد از جلد ضروری مدد مل جائے۔بیان میں کہا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں پانی کے نظام کو 30 فیصد نقصان پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جس سے لوگوں کے کھلے مقام پر رفع حاجت کرنے اور غیر محفوظ پانی پینے کے ساتھ بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک پاکستان پہنچ گئے

    اس کے علاوہ اسہال اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، سانس کے انفیکشن اور جلد کی بیماریوں کے کیسز پہلے ہی رپورٹ ہو رہے ہیں جو زیادہ خطرات کی شکار آبادیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

    علاوہ ازیں 40 فیصد بچے جو دائمی طور پر کم غذائیت کا شکار تھے وہ اب مزید غذائی قلت کا شکار ہوچکے ہیں۔یہ خطرناک انسانی صورت حال آنے والے دنوں اور ہفتوں میں مزید خراب ہونے کی توقع ہے کیونکہ پہلے سے زیر آب علاقوں میں اب بھی شدید بارشیں جاری ہیں۔

    قوم کو مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا

    دوسری جانب اقوام متحدہ کی ہنگامی اپیل کے ایک حصے کے طور پر یونیسیف 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی اپیل کر رہا ہے جس کا مقصد آنے والے مہینوں میں بچوں اور خاندانوں تک زندگی بچانے والے طبی آلات، ضروری ادویات، ویکسینز، محفوظ ڈیلیوری کٹس، پینے کے صاف پانی اور صفائی کی فراہمی، غذائیت کی فراہمی، عارضی تعلیمی مراکز اور سیکھنے کی کٹس سمیت دیگر مدد فراہم کرنا ہے۔

    یونیسیف کے چلڈرن کلائمیٹ رسک انڈیکس (سی سی آر آئی) کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے لیے معروف ہے اور وہ ملک ہے جہاں بچوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے ‘انتہائی خطرے’ کا شکار سمجھا جاتا ہے۔

    گرین لینڈ میں پگھلنے والی برف سطح سمندرمیں ایک فِٹ تک کا اضافہ کرسکتی ہے، تحقیق

    پاکستان سی سی آر آئی کی درجہ بندی والے 163 ممالک اور خطوں میں سے 14ویں نمبر پر ‘انتہائی بلند خطرے’ کے زمرے میں آتا ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ سیلاب سے تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو بھی کافی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں کیونکہ 17 ہزار 566 اسکولوں کو نقصان پہنچا یا تباہ ہوگئے جس سے بچوں کی تعلیم کو مزید خطرہ لاحق ہے۔

    خاص کر گزشتہ دو سال کی وبائی بیماری کے بعد اسکول کی بندش کے بعد بچوں کی تعلیم میں مزید خلل پڑنے کا خطرہ ہے، باالخصوص ان علاقوں میں جہاں ایک تہائی لڑکیاں اور لڑکے بحران سے پہلے ہی اسکول سے باہر تھے۔

  • دبئی :ایشیا کپ، سری لنکا نے بنگلہ دیش کو 2 وکٹوں سے شکست دیدی

    دبئی :ایشیا کپ، سری لنکا نے بنگلہ دیش کو 2 وکٹوں سے شکست دیدی

    دبئی:ایشیا کپ کے اہم میچ میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 وکٹوں سے شکست دیدی۔سری لنکا نے 184رنز کا ہدف 4 گیندوں پہلے عبور کیا۔ کامیابی نے سری لنکا کو سپر فور مرحلے میں پہنچادیا ہے جبکہ بنگلہ دیش ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔

    بنگلہ دیش نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 183 رنز بنائے اور سری لنکا کو 184 رنز کا ہدف دیا تھا۔

    بنگلہ دیش کی طرف سے مہدی حسن نے 38 اور افیف حسین نے 39 رنز بنائے جبکہ سری لنکا کے ونندو ہاسارنگا اور چمیکا کارون رتنے نے 2،2 شکار کیے۔

    اس سے قبل دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکا کے کپتان داسن شانکا نے ٹاس جیت کر بنگلادیش کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    بنگلہ دیش کی جانب سے عفیف حسین 39، مہدی حسن مرزا 38، محمود اللہ 27 اور شکیب الحسن 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ان تمام کھلاڑیوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 100 سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے۔اختتامی اوورز میں مصدق حسین نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 9 گیندوں پر 24 رنز کی ناقابل شکست اننگز جڑ دی۔

    سری لنکا کی جانب سے ہسارانگا ڈی سلوا اور چمیکا کارونا رتنے نے 2، 2 جبکہ دلشان مدوشانکا، مہیش تھکشانا اور اسیتھا فرنانڈو نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

    گروپ بی میں بنگلہ دیش کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پردوسرے اور سری لنکا تیسرے نمبر پرتھی،کامیابی نے سری لنکا کو سپر فور مرحلے میں پہنچادیا ہے جبکہ بنگلہ دیش ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔

    سری لنکن کپتان داسن شاناکا نے کہا ہے کہ مستفیض الرحمان اچھا بالر اور شکیب الحسن عالمی معیار کے بالر ہیں تاہم ان کے علاوہ بنگلادیش کی ٹیم میں کوئی عالمی معیار کا بالر نہیں ہے۔

    بنگلایش کے ٹیم ڈائریکٹر خالد محمود نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم میں تو کوئی عالمی معیار کا بولر نہیں ہے، کم از کم بنگلہ دیش کے پاس مستفیض الرحمان اور شکیب الحسن کی صورت میں اچھے بولرز تو موجود ہیں۔

    گروپ بی میں بنگلہ دیش کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پردوسرے اور سری لنکا تیسرے نمبر پر ہے۔ یہ میچ جیتنے والی ٹیم سپرفور میں کوالیفائی کرجائے گی۔بنگلایش اور سری لنکا کی ٹیم کو افغانستان کی ٹیم پہلے ہی شکست دے کر سپر فور میں کوالیفائی کرچکی ہے۔

     

    سری لنکن کپتان داسن شاناکا نے کہا ہے کہ مستفیض الرحمان اچھا بالر اور شکیب الحسن عالمی معیار کے بالر ہیں تاہم ان کے علاوہ بنگلادیش کی ٹیم میں کوئی عالمی معیار کا بالر نہیں ہے۔

    بنگلایش کے ٹیم ڈائریکٹر خالد محمود نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم میں تو کوئی عالمی معیار کا بالر نہیں ہے، کم از کم بنگادیش کے پاس مستفیض الرحمان اور شکیب الحسن کی صورت میں اچھے بالرز تو موجود ہیں۔

  • پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک پاکستان پہنچ گئے

    پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک پاکستان پہنچ گئے

     

    اسلام آباد :ایران سے پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک پاکستان پہنچ گئے۔ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں 300 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھیں۔

    پاکستان میں جون سے اگست کے آخری ہفتے تک جاری مون سون بارشوں اور اس کے بعد سیلابی صورتحال کے نتیجے میں فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ ذرائع مواصلات بھی بری طرح متاثر ہونے سے سبزیوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

    پاکستان میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں 300 روپے فی کلو تک پہنچنے کے بعد حکومت نے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد کی اجازت دیتے ہوئے اس پر ڈیوٹی 90 روز کیلئے ختم کردی تھی۔حکومتی اجازت کے بعد ایران سے پیاز اور ٹماٹر کے 40 ٹرک تفتان پہنچ گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے روزانہ کی بنیاد پر ٹماٹر اور پیاز کی درآمدات جاری رہے گی۔

    ایف بی آر نے قیمتوں کے استحکام کیلئے پیاز اور ٹماٹر کی درآمد پر دو ایس آر اوز جاری کر دئیے، پیاز اور ٹماٹر کی درآمد پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مکمل چھوٹ دے دی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب سے ملک بھر میں کھڑی فصلوں کو شدید نقصان سے مقامی منڈیوں میں پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، وزیراعظم نے لوگوں کی مشکلات کم کرنے کیلئے پیاز اور ٹماٹر کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کا حکم دیا ہے، ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی چھوٹ سے پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے ایف بی آر نے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد پر 31 دسمبر، 2022 تک تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز سے استثنی دیا ہے، اس سے پہلے ایف بی آر نے ان تمام اشیاء پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی چھوٹ دے دی ہے جن کی تصدیق این ڈی ایم اے یا پی ڈی ایم اے کرے گی۔

  • کشمیری قوم کے لیےسیدعلی گیلانی اوریاسین ملک کو راتوں کو روتے دیکھا:مشعال ملک

    کشمیری قوم کے لیےسیدعلی گیلانی اوریاسین ملک کو راتوں کو روتے دیکھا:مشعال ملک

    راولپنڈی:مشعال ملک نے کہا ہے کہ حریت رہنما سیدعلی گیلانی اوریاسین ملک کواپنی قوم کے لئے راتوں کو روتے دیکھا ہے۔راول پنڈی بارکونسل سے خطاب کرتےہوئے کشمیری رہنما مشعال ملک نے کہا کہ پاکستانیوں نے جو محبت مجھے دی وہ کوئی نہیں دے سکتا۔ انھوں نے کہا کہ اللہ نے مجھے اتنے بڑے مرد مجاہد (یاسین ملک) کی بیوی بننا نصیب کیا اس پر مجھے کوئی غرور نہیں ہے۔

     

    حریت رہنما علی گیلانی سے متعلق مشعال ملک کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی محبت پاکستان کے ساتھ تھی،اتنے بڑے رہنما کے ساتھ جو سلوک بھارتی فوج نے کیا ایسا کبھی نہیں ہوا۔انھوں نے کہا کہ جب تک ہم تاریخ کونہیں سمجھیں گے اس وقت تک ہماراعمل درست نہیں ہوگا۔

     

    مشعال ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ سید علی گیلانی جس بات پر اڑجاتے تھے تو ان کو اس مقصد سے کوئی پیچھے نہیں کرسکتا تھا۔ جس دلیری سے کشمیری قوم نے نریندر مودی کا مقابلہ کیا اس سے متعلق تاریخ بتائے گی۔مشال نے کہا کہ ’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہا‘ کا نعرہ سید علی گیلانی نے لگایا تھا۔

     

    مشعال نے کہا کہ 249 سال قبل بابا بلھے شاہ کے جسد خاکی کی بھی بے حرمتی کی گئی تھی جس کے جنازے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ گیلانی کی نماز جنازہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور تدفین کے بعد بھی ان کی قبر کو سب جیل قرار دیا گیا جو کہ بھارتی حکومت کے ناقابل تصور خوف کی عکاسی کرتا ہے۔

     

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیری عوام نےسید علی شاہ گیلانی کی پہلی شہادت کی برسی پر مقبوضہ وادی کشمیر میں مکمل شٹرڈاؤن کیا تاکہ ہندوتوا حکومت کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ کشمیری عوام کو دیرینہ حق خودارادیت کے حصول کے اپنے مشن کی تکمیل تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری عوام نے اپنی لازوال قربانیوں سے آزادی کو زندہ رکھا اور وہ اس تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں گے جو بھی ہو۔چیئرپرسن نے کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک آتش فشاں ہے جو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس لیے دنیا کو اقوام متحدہ کے متفقہ فارمولے کے مطابق حل کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

    اس موقع پر ارشد مجید ملک ایڈووکیٹ صدر بار راولپنڈی، سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ مبشر رفیق، سابق صدر ہائی کورٹ سردار عبدالرزاق اور سبین حسین سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

  • سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے

    سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے

    راجن پور :سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرستمبرکا مہینہ بھاری :دومرتبہ اسٹیج سے گرگئے ،اطلاعات کےمطابق سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کے خطاب کے دوران اسٹیج ٹوٹ گیا۔

    یوسف رضا گیلانی سیلاب سے متاثرہ راجن پور کے علاقے فاضل پور میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران اسٹیج ٹوٹ گیا، یوسف رضا گیلانی نے اسٹیج پر لڑکھڑانے کے باوجود تقریر جاری رکھی۔

     

    یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سےغریبوں کے مال مویشی تباہ ہوگئے، کروڑوں کا سامان دینے والے مخیر حضرات قابل تعریف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈی جی خان سے فاضل پور اور راجن پور تک روڈ بنانے کی ضرورت ہے، حکومت سے گزارش ہےکہ متاثرین کے لیے خاص پالیسی بنائے۔

     

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ روجھان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ گئے

    اس سے پہلے یوسف رضا گیلانی 3 ستمبر2016 کوملتان میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے خطاب کے دوران اسٹیج سے گرگئے تھے، یوسف رضاگیلانی کوساتھ کھڑے لوگوں نے پکڑکربچالیا۔

     

    وفاقی محتسب کی اپنے افسران کوسیلا ب متا ثرین کی فوری مدد کرنے کی ہدایت

    ملتان کے مقامی ہوٹل میں پیپلزلائرزفورم کے وکلا کا کنونشن جاری تھا، یوسف رضا گیلانی خطاب کے لیے آئے تو ساتھ لوگوں کا ہجوم اُمڈ آیا، ابھی تقریر شروع ہی کی تھی کہ اسٹیج دھڑام سے نچے آگرا۔

     

     

    ڈیڑھ لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین وبائی امراض کا شکار، امداد نہ ملنے کا شکوہ

    یوسف رضاگیلانی کوپیچھےکھڑےلوگوں نے تھام کرگرنےسےبچالیا،انتظامیہ نے ڈائس کو متاثرہ مقام سے ہٹاکر یوسف رضا گیلانی کے خطاب کی راہ ہموار کی تو سابق وزیراعظم نے شاباشی دے دی

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازبھی اسٹیج سے گرگئی تھیں اوران کو چوٹیں آگئی تھیں، جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ مجھے پہلے بھی چوٹیں آتی رہتی ہیں‌

  • سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکمرانوں کی لاپرواہیاں: ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کی زندگیاں خطرے میں

    سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکمرانوں کی لاپرواہیاں: ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کی زندگیاں خطرے میں

    کراچی:جنسی اور تولیدی صحت کے ادارے اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) نے سیلاب سے متاثر ہونے والی خواتین کی تاریک تصویر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان علاقوں میں کم از کم ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین کو، جن میں سے 73 ہزار کے ہاں آئندہ ماہ ولادت متوقع ہے، زچگی کی صحت کی خدمات کی اشد ضرورت ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے نے یہ بھی متنبہ کیا کہ بہت سی خواتین اور لڑکیاں صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرے میں ہیں کیونکہ سیلاب میں تقریباً 10 لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

     

    ادارے نے کہا کہ اگلے مہینے تک 73 ہزار خواتین کے ہاں پیدائش متوقع ہے اور ان کو ماہر دائی، نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال اور مدد کی ضرورت ہوگی۔ ادارے نے کہا کہ حمل اور بچے کی پیدائش ہنگامی حالات یا قدرتی آفات کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ ایسے میں ایک عورت اور بچے کو سب سے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔یو این ایف پی اے پاکستان کے قائم مقام نمائندے ڈاکٹر بختیار قادروف نے کہا کہ یو این ایف پی اے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ حاملہ خواتین اور نئی ماؤں کو انتہائی مشکل حالات میں بھی زندگی بچانے والی خدمات ملیں، شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق سندھ میں ایک ہزار سے زائد صحت کی سہولیات کو جزوی یا مکمل طور پر نقصان پہنچا، جب کہ بلوچستان کے متاثرہ اضلاع میں صحت کی 198 سہولیات کو نقصان پہنچا۔ ادارے نے کہا کہ سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصان نے لڑکیوں اور خواتین کی صحت کی سہولیات تک رسائی کو اور متاثر کردیا ہے۔ ڈاکٹر بختیار قادروف نے کہا کہ ہم انسانی ہمدردی کے چیلنج والے حالات کے باوجود مکمل طور پر کام کرنے کے لیے آلات اور انسانی وسائل کے ساتھ صحت کی سہولیات کی حمایت جاری رکھیں گے۔

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    اپنے ہنگامی ردعمل کو تیز کرنے کیلئے یو این ایف پی اے پاکستان نے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں فوری ترسیل کے لیے8 ہزار 311 ڈگنٹی کٹس، 7 ہزار 411 نوزائیدہ بچوں کی کٹس، اور 6 ہزار 412 کلین ڈیلیوری کٹس خریدیں۔اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا ہے کہ وہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام اور ردعمل کی خدمات کو بھی ترجیح دے رہی ہے، جس میں طبی اور نقسیاتی مدد بھی شامل ہے۔اقوامِ متحدہ کمیشن برائے انسانی حقوق نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان پہنچایا ہے۔

     

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ اس تباہی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ردعمل میں اپنا تعاون بڑھائے۔یو این ایچ آر سی نے پناہ گزین دیہاتوں کے ساتھ ساتھ میزبان کمیونٹیز کو 71 ہزار سے زیادہ ہنگامی امدادی اشیا فراہم کی ہیں، جن میں خیمے، پلاسٹک کی ترپالیں، سینیٹری مصنوعات، کھانا پکانے کے چولہے، کمبل، شمسی لیمپ اور سونے کی چٹائیاں شامل ہیں۔ایک بیان میں کہا گیا کہ مزید برآں ادارے نے 10 ہزار بوریاں بھی فراہم کیں تاکہ گھرانوں کو ان کے گھروں کے ارد گرد دفاعی تحفظ فراہم کیا جا سکے، اب تک 15 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کی جاچکی ہے لیکن مزید امداد کی ضرورت ہے۔

  • یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت

    یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت

    کیف:یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت ,اطلاعات کے مطابق امریکی اور مغربی عہدیداروں اور یوکرائنی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ موجودہ یوکرائنی جوابی کارروائی کی تیاری میں واشنگٹن نےکیف پر زور دیا کہ وہ آپریشن کو اپنے مقاصد اور اس کے جغرافیہ دونوں میں محدود رکھے تاکہ متعدد محاذوں پر حد سے زیادہ توسیع اور الجھنے سے بچ سکے۔

    ذرائع نے بتایا کہ ان مباحثوں میں کیف کے ساتھ "جنگی کھیل” میں شامل ہونا شامل تھا – تجزیاتی مشقیں جن کامقصد یوکرائنی افواج کو یہ سمجھنےمیں مددکرنا تھا کہ مختلف منظرناموں میں کامیاب ہونے کے لیےانہیں کس طاقت کی سطح کواکٹھا کرنا ہوگا۔امریکی اوریوکرائنی حکام نے بتایا کہ یوکرینی ابتدائی طور پر ایک وسیع تر جوابی کارروائی پر غورکر رہے تھے، لیکن حالیہ ہفتوں میں، کھیرسن کےعلاقے میں، جنوب تک اپنے مشن کو محدود کر دیا۔

    سپریم کورٹ ،نیب قانون میں ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پرہوئی سماعت

     

    پینٹاگون کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نےسی این این کو بتایا کہ "امریکہ کا یوکرین کے ساتھ متعدد سطحوں پر معمول کے مطابق ملٹری ٹو ملٹری ڈائیلاگ ہے۔ ہم ان مصروفیات کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔عام طورپرہم یوکرین کے باشندوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ انہیں بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے۔ وہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں اور روسی جارحیت کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کرتے ہیں۔ بالآخر، یوکرینی اپنی کارروائیوں کے حتمی فیصلے کر رہے ہیں۔”

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    حکام کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اب یوکرین اور روسی فوجوں کے درمیان برابری بڑھ گئی ہے۔ لیکن مغربی حکام نوزائیدہ یوکرائنی آپریشن کو – جو پیر کو جنوبی صوبے خرسن میں شروع ہوا تھا – کو ایک حقیقی "جوابی کارروائی” کا نام دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    تازہ ترین انٹیلی جنس سے واقف ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ یوکرین کے کھوئے ہوئے علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے میں کتنا کامیاب ہونے کا امکان ہے یہ ایک کھلا سوال ہے۔ یوکرائنی حکام پہلے ہی نوٹ کر چکے ہیں کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر ایک سست کارروائی ہو گی، اور سزا کے طور پر سردی کا موسم آنے والا ہے اور پھر موسم بہار کی ابتدائی کیچڑ، یہ دونوں لڑائی کو روکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

  • سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:عذرا پیچوہو

    سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:عذرا پیچوہو

    کراچی:سارا سندھ ہی سیلاب میں ڈوب گیا:وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے:سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت سندھ عذرا پیچوہونے کہا ہے کہ سندھ کے تمام ہی اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں ، سندھ اس وقت ڈوب چکا ہے

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہونے سیلاب کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں کے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں‌ ڈائریا ،جلد کے امراض ،ڈینگی ملیریا پھیلنے کا خدشہ ہے،صوبائی وزیرصحت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ڈرپس ،بخار، نزلہ، کھانسی سمیت اینٹی الرجی ادویات کی قلت ہے ،

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں 62ہزار افراد کا کیمپو ں میں علاج کررہے ہیں، 4لاکھ افراد کیمپوں سے باہر ہیں، متاثرین کو میڈیکل امداد فراہم کر رہے ہیں، سندھ کے تمام ہی اظلاع سیلاب کی لپیٹ میں آئے ہیں ،

    وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دادو، حفاظتی بند کو مضبوط کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے،محکمہ انہار کی طرف سے اس حوالے سے تازہ ترین اپ ڈیٹس جاری کی گئی ہیں جن کے مطابق دادو، منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے

    محکمہ انہارکے حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دادو، پانی تیزی کے ساتھ منچھر جھیل میں داخل ہونا شروع ،دادو،منچھر جھیل زیرو پوائنٹ پربند کا ایک حصہ سیلابی پانی کے دباؤ سے ٹوٹ گیا

  • بھارتی دارالحکومت دہلی میں ببانگ دہل خواتین کی عزتیں تار تارہونے لگیں :خواتین کیلیے’خطرناک ترین‘ شہر قرار

    بھارتی دارالحکومت دہلی میں ببانگ دہل خواتین کی عزتیں تار تارہونے لگیں :خواتین کیلیے’خطرناک ترین‘ شہر قرار

    دہلی : دہلی میں ببانگ دہل خواتین کی عزتیں تار تارہونے لگیں :خواتین کیلیے’خطرناک ترین‘ شہر قرار،اطلاعات کے مطابق عالمی اداروں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین بھارت کا رخ نہ کریں ، خصوصا بھارتی دارالحکومت دہلی کا معاملہ سنگین ہے ، رپورٹ کے مطابق خواتین کیلیے غیر محفوظ شہروں کی نئی فہرست میں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    بھارت میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات آئے دن میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں، اس صنفی جرائم سے ملک تو کیا غیر ملکی خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں جس کا ثبوت خود بھارتی ادارہ ہے جس نے ملک میں خواتین کے لیے غیر محفوظ ترین شہروں کی نئی فہرست مرتب کی ہے اور اس میں بھی بھارتی راجدھانی کا راج برقرار ہے۔

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    بھارت میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو( این سی آربی) کی جانب سے غیر محفوظ شہروں کی جاری کردہ رپورٹ میں دارالحکومت نئی دہلی کو خواتین کے لیے سب سے زیادہ خطرناک شہر قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خواتین کے لیے بھارت کے تین سب سے خطرناک میٹرو پولیٹن شہروں کی فہرست میں دہلی کے علاوہ جے پور اور ممبئی بھی شامل ہیں۔

    این سی آر بی کے تازہ ترین سروے میں کہا گیا کہ 2021 میں میٹرو پولیٹن شہروں میں نئی دہلی میں عصمت دری کے سب سے زیادہ ایک ہزار 226 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ گزشتہ سال بھارت کے 18 میٹرو پولیٹن شہروں میں عصمت دری کے 3 ہزار 208 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔این سی آر بی کی اس رپورٹ میں خواتین کے لیے کولکتہ کو سب سے محفوظ شہروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

  • برطانیہ:نسلی اورمذہبی انتہاپسندی نے1لاکھ 20 ہزاراقلیتی افراد کوملازمتیں جھوڑنے پرمجبورکردیا

    برطانیہ:نسلی اورمذہبی انتہاپسندی نے1لاکھ 20 ہزاراقلیتی افراد کوملازمتیں جھوڑنے پرمجبورکردیا

    لندن:نسلی اورمذہبی انتہاپسندی نے1لاکھ 20 ہزاراقلیتی افراد کوملازمتیں جھوڑنے پرمجبورکردیا،طلاعات کے مطابق اقلیتی نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے 120,000 سے زیادہ کارکنوں نے نسل پرستی کی وجہ سے اپنی ملازمتیں چھوڑ دی ہیں، ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کام کی جگہ پر امتیازی سلوک برطانیہ کی افرادی قوت کے ایک بڑے حصے کے اعتماد کو ختم کر رہا ہے۔

    سیاہ فام اور دیگر اقلیتی نسلی پس منظر سے تعلق رکھنے والے ہر چار میں سے ایک کارکن کو پچھلے پانچ سالوں میں کام کے دوران نسل پرستانہ مذاق کا سامنا کرنا پڑا ہے اور 35 فیصد نے کہا کہ اس سے وہ کام پر کم اعتماد محسوس کر رہے ہیں، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سب سے بڑا نمائندہ سروے ہے۔ برطانیہ کے 3.9 ملین اقلیتی نسلی کارکن۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، ٹریڈ یونین کانگریس کے مطالعے کے مطابق، آٹھ فیصد متاثرین نے نسل پرستی کے نتیجے میں اپنی ملازمت چھوڑ دی۔

    TUC کے جنرل سکریٹری، فرانسس اوگریڈی نے کہا ہے کہ "بہت سے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ انہیں نسل پرستانہ غنڈہ گردی، ایذا رسانی – اور بدتر کا سامنا کرنا پڑا۔”

    O’Grady نے مزید کہا کہ تشویشناک بات یہ ہے کہ، اکثریت نے اپنے آجر کو اس کی اطلاع نہیں وزراء کو قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ آجر اپنے کارکنوں کی حفاظت اور کام پر نسل پرستی کو روکنے کے ذمہ دار ہوں،”

    انگلینڈ کے جنوب مغرب میں ایک سیاہ فام کیریبین لیکچرر نے محققین کو بتایا، "میں ایک اچھی کار چلاتا ہوں اور عملے کے ایک رکن نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں منشیات فروش ہوں، کیوں کہ میں اس کے علاوہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں؟” جب اس نے اس واقعے کی اطلاع دی تو اسے بتایا گیا کہ "یہ اس ملک کے علاقے کی وجہ سے ہے جس میں ہم رہتے ہیں، جو کہ زیادہ تر سفید فام ہے”۔

    لندن سے تعلق رکھنے والی ایک برطانوی ہندوستانی خاتون، جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اسے نوکری کے لیے نظر انداز کیا گیا تھا کیونکہ کمپنی نہیں چاہتی تھی کہ سامنے والا عملہ "مضحکہ خیز لباس” پہنے ہو، نے کہا کہ اس نے کبھی بھی نسل پرستی کے واقعے کی اطلاع نہیں دی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ وہ اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔ .

    سروے میں پایا گیا کہ صرف 19 فیصد ان لوگوں نے جنہیں ہراساں کرنے کا سامنا کرنا پڑا تھا، اپنے آجر کو تازہ ترین واقعہ کی اطلاع دی۔ تقریباً نصف کو خدشہ تھا کہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا۔

    ڈاکٹر حلیمہ بیگم، رننی میڈ ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو، ایک نسلی مساوات کے تھنک ٹینک نے نوٹ کیا کہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے آجروں کے پاس "نسل پرستی کے واقعات کی اطلاع دینے کے لیے ملازمین کی مدد کرنے والے جوابدہ ڈھانچے” کی کمی ہے۔”آجروں کی جانب سے مناسب کارروائی کے بغیر نسل پرستی کا پھیلاؤ بڑھ جاتا ہے، اور یہ جوابدہی کا فقدان ہے جو کام کی جگہ کے اندر فرد کے ‘خراب ایپل’ سے لے کر ادارہ جاتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔”

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف پرسنل اینڈ ڈویلپمنٹ، جو انسانی وسائل کے پیشہ ور افراد کی نمائندگی کرتا ہے، نے کہا کہ 1,750 افراد پر مشتمل یہ سروے "ایک واضح یاد دہانی ہے کہ ابھی تک بہت سارے سیاہ فام اور اقلیتی نسلی کارکنوں کو کام کی جگہ پر مستقل بنیادوں پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے”۔ اس نے مزید کہا کہ نتائج سے حکومت کو نسلی تنخواہ کی لازمی رپورٹنگ متعارف کرانے کے لیے نئی تحریک ملنی چاہیے۔

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    فوکس گروپس میں دی گئی نسل پرستی کی مثالیں بچوں سے لے کر ایک غیر برطانوی لہجے والی ٹیچر سے پوچھتی ہیں کہ وہ کہاں سے ہے، لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ "اپنے ملک واپس جاؤ”۔ 18 سے 24 سال کی عمر کے کارکنوں کے یہ کہنے کا زیادہ امکان تھا کہ انہیں بڑی عمر کے کارکنوں کی نسبت نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔