Baaghi TV

Author: News Editor

  • گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائیں‌گے: ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری

    گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائیں‌گے: ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری

    گوادر: ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلمپنٹ اتھارٹی مجیب الرحمن قمبرانی نے منگل کے روز گوادر کے تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی بحالی و تحفظ سے متعلق اجلاس کی صدارت کی اجلاس میں چیرمین منیجمنٹ بورڈ براۓ نوادرات و آثارقدیمہ سندھ و ممتاز و معروف آرکاٸیولوجسٹ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے بھی شرکت کی اور گوادر کی تاریخی ورثہ اور ثقافتی مقامات کی تاریخی اہمیت اور پس منظر سے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی اور انکی تعمیر و مرمت ، تزین و آرا اور بحالی و تحفظ سے متعلق ایک جامع پلان بھی پیش کیا۔

     

     

    مجوزہ پلان کے تحت گوادر کے تمام تاریخی ورثہ کو بحال کرکے انکی تحفظ کی جائیگی اور انہیں اصل و بنیادی حالت میں رکھا جاٸیگا ۔ تاریخی ساٸیٹ کی خدو خال اور ڈیزاٸن میں کوئی مداخلت نہیں کی جائیگی تاکہ انکی اپنی تاریخی و قدیمی اہمیت وحیثیت برقرار رہے۔ ابتداٸی مرحلہ میں چار پادگو، تار آفس،شاہی بازار، اسماعیلیہ محلہ اور عمانی فورٹ کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا جاٸیگا۔ تاریخی ورثہ کی بحالی کے بعد ان مقامات کو تفریحی، علمی اور فنی سرگرمیوں کیلیے استمعال میں لایا جاسکتا ہے۔

     

     

     

    اجلاس میں ڈاٸریکٹر جنرل جی ڈی اے نے کہا کہ گوادر کی تاریخی و ثقافتی مقامات اس وقت خستہ حالت میں ہیں۔ انکی بحالی و تحفظ کو شہر کی ترقی کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جو کہ اولڈ ٹاٶن بحالی منصوبہ کے حصہ ہونگے۔ گوادر کی تاریخ اور ثقافتی پہلو کو اجاگر کرکے محفوظ بنایا جاٸیگا تاکہ باہر سے آنے والے سیاح اور ہمارے مسقبل کے نوجواں یہاں کی تاریخ اورثقافتی مقامات کی بنیادی اہمیت سے آشنا ہوں۔

  • کالا باغ ڈیم کی کمی آج شدت سے محسوس ہو رہی ہے:فیصل انور

    کالا باغ ڈیم کی کمی آج شدت سے محسوس ہو رہی ہے:فیصل انور

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (خان قیوم خان) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات فیصل انور بھٹی نے ملک میں موجودہ سیلابی صورتحال کو انتہائی تکلیف دہ آزمائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1948 میں قائداعظم محمد علی جناح نے کالا باغ ڈیم بنانے کی ہدایت کی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر آبی جارحیت کر سکتا ہے۔ 1948 میں بھی بھارت نے آبی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روک دیا تھا۔

    فیصل انور نے کہا کہ دشمن ملک بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کالا باغ ڈیم پر کام کا آغاز کرے۔ اگر ہم نے آج بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ماضی میں جس جس نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی انہوں نے جانے انجانے میں ملک دشمن قوتوں کا ساتھ دیا۔

    مسلم لیگ قیوم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت نے ہماری صفوں میں دراڑ ڈال کر خود کشن گنگا ڈیم تعمیر کر لیا تاکہ پاکستان کا پانی روکا جا سکے. بھارت نے کالا باغ ڈیم منصوبہ رکوانے کے لیے ہر بار ایک نئی سازش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سے 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جو ملک میں سب سے سستی بجلی ہوتی۔

  • فوادچوہدری توہین معاملہ:ہائیکورٹ نےابتدائی دلائل سماعت کےبعدالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا

    فوادچوہدری توہین معاملہ:ہائیکورٹ نےابتدائی دلائل سماعت کےبعدالیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا

    راولپنڈی:سابق وفاقی وزیر، فواد چوہدری کی جانب سے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری توہین الیکشن کمیشن نوٹس لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں چیلنج کر نے کے معاملے پر ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس جواد الحسن نے ابتدائی دلائل سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ۔منگل کو عدالت نے سات ستمبر کو الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ۔

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جج جسٹس جواد الحسن نے ابتدائی دلائل سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا ،سات ستمبر کو الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کو فوادچوہدری کیخلاف کاروائی سے بھی روکنے کا حکم جاری کردیا گیا ۔

    درخواست گزار کے وکیل کے مطابق آئین کے مطابق الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے،توہینِ عدالت کا اختیار صرف اعلیٰ عدالتوں کو حاصل ہے۔ ضرور پڑھیں :فواد چودھری نے موجودہ نظام حکومت کو الٹانے کا دعویٰ کردیا ،

    وکیل درخواست گزار کا موقف میں مزید کہنا ہے کہ آئین میں دیئے گئے مخصوص اختیارات عام قانون سازی کے تحت دوسرے اداروں کو تفویض نہیں کئے جا سکتے، عدالت عالیہ نے درخواست پہ الیکشن کمیشن کو سات ستمبر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حتمی حکم جاری کرے سے روک دیا۔

  • پی اے ایف کے خیبر پختونخوا میں ریسکیو آپریشنز جاری

    پی اے ایف کے خیبر پختونخوا میں ریسکیو آپریشنز جاری

    پشاور: پاک فضائیہ نے بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف اور بحالی کے آپریشن کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی ریسکیو آپریشنز کو وسعت دے دی۔ خیبر پختونخوا کے گاؤں خیشکی اور نوشہرہ کلاں سے 800 افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں رسالپور کے فیلڈ کیمپوں میں 1400 افراد کو رکھا گیا ہے جہاں انہیں مفت طبی علاج، کھانا اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

    وادی نلتر میں پاک فضائیہ کی جانب سے مفت راشن اور طبی امدادی کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ائیر مارشل حامد راشد رندھاوا ڈپٹی چیف آف ائیر سٹاف (ایڈمنسٹریشن) اور ائیر وائس مارشل معید خان ڈائریکٹر جنرل ائیر آپریشنز نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ دونوں ایئر آفیسرز نے پی اے ایف کے اہلکاروں کی طرف سے سیلاب سے بچاؤ اور بحالی کی سرگرمیوں کا معائنہ کرنے کے لیے فیلڈ کیمپس کا بھی دورہ کیا۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 13960 پکے ہوئے فوڈ پیکٹ، 924 راشن پیک، جن میں بنیادی اشیائے خوردونوش اور اجناس شامل تھیں، ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کیے گئے۔ مزید برآں، پی اے ایف کے فیلڈ ہسپتالوں میں میڈیکل ٹیموں نے 804 مریضوں کو مفت علاج اور ادویات کی سہولیات فراہم کیں۔ پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔

  • پی سی بی نے پاک انگلینڈ T20 سیریز کیلئے ٹکٹ کی قیمتوں کا اعلان کردیا

    پی سی بی نے پاک انگلینڈ T20 سیریز کیلئے ٹکٹ کی قیمتوں کا اعلان کردیا

    لاہور:لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاک انگلینڈ سیریز کیلئے ٹکٹوں کی قیمتوں کا اعلان کردیا۔ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کل سے شروع ہوگی، کراچی میں شیڈول میچز کی ٹکٹ کی قیمت 250 سے 1500 تک رکھی گئی ہے۔

    لاہور میں شیڈول میچز کی قیمت 500 سے 3000 رکھی گئی ہے، وی آئی پی انکلوژر کی قیمت ایک ہزار روپے کم کرکے 3000 رکھی گئی۔

    انگلینڈ اور پاکستان کے مابین 7 میچز پر مشتمل سیریز20 ستمبر سے شروع ہوگی، میچ کی تمام رقم وزیراعظم فنڈ ریلیف میں عطیہ کی جائے گی۔

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پہلا مرحلہ 20 سے 25 ستمبر تک کراچی میں جبکہ دوسرا مرحلہ 28 ستمبر سے 2 اکتوبر تک لاہور میں کھیلا جائے گا۔

    پی سی بی کے مطابق کراچی میں ٹکٹوں کی قیمتیں ڈھائی سو سے 15 سو تک ہیں جبکہ لاہور میں ہونے والے میچز کے ٹکٹ 500 سے 3 ہزار روپے تک دستیاب ہوں گے۔پی سی بی کا کہنا ہے کہ 20 ستمبر کے میچ کی گیٹ منی پی ایم فلڈ ریلف فنڈ میں دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 7 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے، 4 کراچی اور 3 لاہور میں ہوں گے۔

    افغان ٹیم نے میچ جیتا تو سپر فور مرحلے میں جگہ بنانے والی پہلی ٹیم بن جائے گی ،اطلاعات کے مطابق آج ہونے والے ایشیا کپ T20 ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش نے افغانستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ بیس اوورز میں 7 کھلاڑیوں کے نقصان پر 127 رنز بنا کرافغآنستان کو جیتنے کے لیے 128 رنز کا ہدف دیا ہے

     

     

    افغان ٹیم ایشیا کپ کے پہلے میچ میں سری لنکا کو آؤٹ کلاس کرچکی ہے، اگر افغانستان نے آج کا میچ جیتا تو سپرفور مرحلے میں اس کی جگہ پکی ہوجائے گی۔اس فارمیٹ میں دونوں ٹیموں کے درمیان 8 انٹرنیشنل میچز ہوئے ہیں۔ افغانستان نے 5 اور بنگلہ دیش نے 3 جیتے ہیں۔

  • دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    لاہور: دُنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا میں ایورج 3240 مِلی میٹرہوتی رہی اور سب سے کم بارش مِصر میں 18مِلی میٹر ہوئی

     

     

    جبکہ دُنیا کے 195 مُمالک میں ھونے والی ایورج بارشوں میں پاکستان کا نمبر 145 واں ہے۔ جہاں سالانہ ایورج 494 مِلی میٹر بارش ھوتی ہے یہ اعدادوشمار 2017 کے ہیں‌ جبکہ اس سال ہونے والی بارش نے پاکستان کوکئی درجات اونچا کردیا ہے اس کی درجہ بندی مون سون کے موسم کے اختتام پر ہوگی

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے دُنیا میں 144 مُمالک ایسے ہیں جہاں پاکستان سے زیادہ بارشیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس سال پاکستان میں ہونے والی بارشوں نے پاکستان کے ہی پچھلے سب ریکارڈ توڑ دیئے

    دنیا میں سب سے زیادہ بارشوں والے ٹاپ 10 ممالک کی فہرست کچھ اس طرح ہے

     

     

     

    10-بنگلہ دیش:
    ہر جگہ پانی، بنگلہ دیش ایک خلیج کے دہانے پر واقع ہے جس میں کئی دریا زیادہ ہیں ملک کی مون سون کی آب و ہوا اس کے بیشتر حصوں میں شدید بارش لاتی ہے۔ مون سون کا موسم عام طور پر جون سے شروع ہوتا ہے اور اکتوبر میں ختم ہوتا ہے۔ ان دنوں کے دوران، یہ تقریباً 80 فیصد بارش کا تجربہ کرتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن کے قریب واقع علاقوں میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے جس میں بنیادی طور پر سلہٹ کا علاقہ شامل ہے۔ اوسط بارش کا تخمینہ 2666 ملی میٹر سالانہ ہے۔

    9. انڈونیشیا
    انڈونیشیا گرم پانیوں کے ذخائر کے ساتھ ایک خوبصورت ملک ہے، جو اس کی آب و ہوا کو زیادہ بارش کا سبب بنتا ہے۔ کل زمین کا 81% گرم پانیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ مانسون کا دورانیہ دسمبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ میں ختم ہوتا ہے۔ ملک کے مغربی اور شمالی علاقوں میں دیگر حصوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال ملک میں تقریباً 2702 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

     

    8. برونائی دارالسلام
    برونائی بھی دنیا کی اشنکٹبندیی پٹی کے بیچ میں واقع ہے اس لیے سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ اس میں بنیادی طور پر ذیلی موسمی حالات ہیں جس کے نتیجے میں تیز بارش اور زیادہ نمی کے ساتھ گرم موسم ہوتا ہے۔ بارش کی اوسط شرح 2722 ملی میٹر سالانہ ہے، جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ بارشوں والا 8 واں ملک بناتا ہے۔

    7. ملائیشیا
    ہر سال 2875 ملی میٹر بارش کے ساتھ، ملائیشیا اس فہرست میں اگلے نمبر پر آتا ہے۔ یہاں بھی مون سون کا موسم دسمبر کے اوائل سے شروع ہو کر مارچ میں ختم ہو جاتا ہے۔ شمال اور مغرب میں واقع علاقے جیسے سراواک اور صباح کی ڈھلوانیں سب سے زیادہ بارش کی زد میں ہیں، جو اس ملک میں ہونے والی کل بارش کا 70% سے زیادہ حصہ لیتے ہیں۔

    6. کوسٹا ریکا
    کوسٹ ریکا اپنے سفید ریتیلے ساحلوں کے لیے مشہور ہے اور دنیا بھر سے بہت سے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ آپ کے موسم گرما کو سرفنگ اور دھوپ میں گزارنے کے لیے ایک بہترین میدان فراہم کرتا ہے۔ اس ملک میں بھی ہر سال بارشوں کا شدید سلسلہ ہوتا ہے جو مئی میں شروع ہوتی ہے اور سات ماہ تک جاری رہتی ہے۔ ان مہینوں کے دوران جوار بہت زیادہ ہوتے ہیں اور سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ساحلوں پر نہ جائیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ اوسطاً 2926 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔

    5. پانامہ
    پانامہ میں مون سون کا معمول اپریل میں شروع ہوتا ہے اور دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے! بارش کے 9 مہینے۔ اس کے نتیجے میں تقریباً ہر سال 2926 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ پاناما کا جغرافیہ ضرورت سے زیادہ بارشوں کا واحد عنصر ہے، بخارات کیریبین کے شمال اور شمال مشرق سے ہوتے ہیں جو بارش کا سبب بنتے ہیں۔ ساحلی پٹی کے قریب واقع علاقوں میں زیادہ تر بارش ہوتی ہے۔

    4. سلیمان جزائر
    سولومن جزائر سب سے زیادہ بارش والے ٹاپ ٹین ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دو الگ الگ آب و ہوا کی انتہا کا تجربہ کریں، ایک گیلی اور دوسری مکمل طور پر خشک۔ بارش کا موسم فروری سے شروع ہو کر مئی میں ختم ہوتا ہے جبکہ گیلے موسم کا دوسرا دور ستمبر سے نومبر تک جاری رہتا ہے۔ شدید بارشوں کے علاوہ، ملک کو ان جزائر کے بہت شمال سے آنے والے ٹائفون کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ اوسط بارش کا تخمینہ 3,028 ملی میٹر سالانہ ہے۔

    3. پاپوا نیو گنی
    پاپا نیو گنی دنیا میں سب سے زیادہ بارش والے 10 ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ جہاں مون سون کا موسم عام طور پر دسمبر سے شروع ہوتا ہے اور مارچ میں ختم ہوتا ہے جس کی وجہ سے سالانہ اوسطاً 3142 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ یہ ملک کے مغربی اور شمالی حصے ہیں جہاں زیادہ تر بارشیں ہوتی ہیں۔ سیلاب اور تباہی واضح ہو جاتی ہے اگر بارش کے پانی کو صحیح طریقے سے استعمال یا چینلائز نہ کیا جائے۔

    2. SAO TOME اور PRINCIPE
    ملک کے برساتی موسم کو دو مختلف مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ سب سے زیادہ بارش والے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پہلا شارٹ اکتوبر سے شروع ہوتا ہے اور نومبر تک جاری رہتا ہے جبکہ لمبا حصہ مارچ سے مئی تک جاری رہتا ہے دونوں موسموں میں بارش کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ دونوں موسموں میں اوسط بارش کی مشترکہ رقم تقریباً 3200 ملی میٹر سالانہ ہے۔ خط استوا کے آس پاس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں ملک میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے۔

    1. کولمبیا
    کولمبیا میں بارش کی سب سے زیادہ شرح ہے جس کا تخمینہ 3240 ملی میٹر سالانہ ہے۔ بہت زیادہ اور بھاری بارش کی وجہ سے ریاست کا کچھ علاقہ مستقل طور پر سیلاب کی زد میں رہتا ہے۔ بحرالکاہل کا سامنا کرنے والے علاقے سب سے زیادہ بارش کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً ہر روز بارش ہوتی ہے۔ نتیجتاً، ملک میں بارشی جنگلات کی کثرت ہے۔ جب ہم ملک کے مشرقی حصوں کی طرف بڑھے تو بارش کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔

    1. کولمبیا 3240
    2. ساؤ ٹوم 3200
    3. پاپا نیو گنی 3142
    4. جزیرہ سلیمان 3028
    5. پانامہ 2929
    6. کوسٹا ریکا 2926
    7. ملائیشیا 2875
    8. برونائی 2722
    9. انڈونیشیا 2702
    10. بنگلہ دیش 2666

  • فلڈ ریلیف کمیٹی  نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت کردی

    فلڈ ریلیف کمیٹی نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت کردی

    اسلام آباد:فلڈ ریلیف کمیٹی نے اپنے اہم اجلاس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سیلاب متاثرہ اضلاع اوروہاں کے دیگرمقامات کی نشاندہی کرکے نقشے تیار کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں

    پاکستان میں سیلاب سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 75 افراد جان سے گئے۔ فلڈ ریلیف کمیٹی نے متاثرہ اضلاع کے نقشے تیار کرنے کی ہدایت اس کام کو جلد ازجلد مکمل کرنے کےبھی ہدایات جاری کیں‌

     

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کی زیر صدارت فلڈ ریلیف کمیٹی کا اجلاس ہوا، بریفنگ میں بتایا گیا ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں سیلاب سے مزید 75 افراد کی ہلاکت کے بعد اموات کی تعداد 1100 سے تجاوز کرگئی۔وفاقی وزیر نے سیکریٹری صحت سے صوبوں کے ساتھ اجلاس کے بعد تفصیلی بریفنگ طلب کرلی۔

    فلڈ ریلیف کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 53 قیمتی جانیں سندھ میں، 16 کے پی میں، 5 گلگت بلتستان اور 2 قیمتی جانیں بلوچستان میں سیلاب کی نذر ہوگئیں۔

    کمیٹی نے مستقبل میں ناخوشگوار واقعات سے بچنے کیلئے حکمت عملی کا جائزہ لیا اور این ڈی ایم اے کو اس حوالے سے قواعد و ضوابط تیار کرنے کی ہدایت کردی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد معلوم کرکے مدد کی جائے گی۔

    اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کے فنڈ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور دوبارہ آباد کاری پر خرچ کئے جائیں گے۔

    پہلے بھی تباہی ہوئی،تعمیرات کی اجازت دیکر غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، آرمی چیف

    ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے 10 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی، اس قدرتی آفت میں ایک ہزار 150 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریبا 10 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے، سیلاب سے 3 کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    احسن اقبال نے مزید کہا کہ پوری قوم کو اجتماعی طور پر اتنے بڑے چیلنج سے نمٹنا ہوگا، قدرتی آفت سے ایک موقع یہ بھی ملا ہے کہ غریب خاندانوں کو منظم انداز میں استوار کیا جائے۔

  • شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے

    شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے

    شکارپور:شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے:  سندھ کے باسیوں کی حالت زار سے پردہ اٹھا کے عوام الناس کی خدمت کے جھوٹے دعووں اور وعدوں کو بے نقاب کردیا ہے ،

     

    شکارپوربائی پاس سے باغی ٹی وی کے نمائندے عبداللہ عبداللہ جو کہ اس وقت وہاں موجود ہیں اور علاقے میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی کے آثارکا مشاہدہ کررہے ہیں اور ساتھ ہی شکار پور اور گردونواح کے باسیوں کی حالت زار پر بھی نوحہ کناں‌ ہیں‌

     

    عبداللہ عبداللہ نے شکارپوربائی پاس سے اس وقت ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی کچھ ویڈیوز شیئر کی ہیں اور پھراس کے بعد وہاں کے لوگوں کے مسائل جان کرحالات کی عکاسی کی ہے ، ان کی طرف سے وائرل کی جانی والی ویڈیوز میں شکارپوربائی پاس کے گردوںواح کی آبادیاں اور گوٹھوں کے رہنے والے باسیوں کا کہنا ہے کہ ہماری آبادیوں میں سیلاب کاپانی ہے اورہمارے گھر منہدم ہورہےہیں ، ہم حکام کی منتیں کررہے ہیں کہ ہمارے گھروں سے پانی نکالا جائے ،

     

    ان لوگوں کا کہنا تھا کہ نہ تو وہ ہمارے گھروں سے پانی نکال رہے ہیں اور نہ نکالنے دے رہے ہیں ، آخریہ حکمران ایسا کیوں کررہے ہیں ، ہمیں بتایا جائے ہمارا کیا قصور ہے ،

    شکار پور کے ہونے والے شکار لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عبداللہ عبدالہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ بہت دکھی ہیں ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں کھانے پینے کےلیے کچھ نہ دیں مگرہمارے گھروں سے پانی تو نکالیں یا نکالنے دیں ، یہ ہمارا سب کچھ ہے جو ایک ایک کرکے منہدم ہورہے ہیں ، عبداللہ عبداللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بڑھ کرپاکستان میں کسی طبقے کی بے بسی اور بدحالی اس سےپہلے نہیں دیکھی،

    ادھر سندھ میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، گوٹھ ڈوب گئے اور سیلابی ریلے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گئے، زمینی رابطہ منقطع ہونے سے متاثرین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

    شکارپور کا 800 گھروں پرمشتمل فقیر گوٹھ سیلاب نے اجاڑ ڈالا، گوٹھ ہر طرف سے دلدل اور کیچڑ سے بھرا ہوا ہے، سیلابی ریلہ تباہی مچاتے ہوئے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گیا جس کے باعث متاثرین کے لیے گاؤں سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں رہا۔

    پنجال شیخ میں مکانات ایک ایک کر کے منہدم ہونے لگے، کیونکہ موسلا دھار بارش نے چھوٹے سے جنوبی پاکستانی گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کے اردگرد کے کھیتوں کے وسیع رقبے میں پانی بھر گیا۔

    اس ماہ تقریباً دو ہفتوں کی مسلسل بارشوں کے بعد، تباہ شدہ دیواروں، ملبے اور لوگوں کے سامان کے ڈھیروں کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا جو کہ بھورے سیلابی پانی اور مٹی کے تالابوں میں سے باہر نکل رہے تھے۔

    بدترین مون سون سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں لوگوں میں شامل ہیں، جس نے جون میں بارش شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 10 لاکھ مکانات کو تباہ یا نقصان پہنچایا ہے اور 1,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔“جب بارش شروع ہوئی تو ہر طرف تباہی پھیل گئی۔”بارشوں نے ایک ایک کرکے “سارا گاؤں ہی مٹا دیا گیا ہے۔”

     

    دوسری طرف اس وقت سندھ میں گڈوبیراج پراونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی سطح مزید بلند ہورہی ہے، لوگ پریشان ہیں اورانتظامیہ کو کچھ سوجھ بوجھ دکھائی نہیں دے رہی کہ اب کس طرح عوام الناس کی مدد کی جانی چاہیے

  • پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئےمالی معاونت پرغورکررہےہیں:ایشیائی ترقیاتی بینک

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئےمالی معاونت پرغورکررہےہیں:ایشیائی ترقیاتی بینک

    اسلام آباد:پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئےمالی معاونت پرغورکررہےہیں:اطلاعات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے حوالےسے اہم فیصلےکیے ہیں‌، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان میں سیلاب سے اربوں ڈالر کے نقصانات کے باعث ایشین ڈویلپمنٹ بینک، ورلڈ بینک سمیت عالمی مالیاتی اداروں نے مدد کیلئےکام شروع کردیا۔

    اے ڈی پی حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے مالی معاونت پرغور کررہے ہیں اور اے ڈی بی ٹیم اس حوالے سے منصوبے پرکام کررہی ہے۔

    پاکستان گلوبل وارمنگ کی وجہ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے. وزیر خزانہ

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے ساتھ مل کر سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ہنگامی خدمات کی فوری فراہمی کے لیے کام کیا ہے۔ اس منصوبے نے سیلاب سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو عارضی پناہ گاہیں اور بستر فراہم کیے ہیں۔ اس میں 24,588 خیمے اور 20,000 مچھر دانیوں کی فراہمی شامل ہے۔

    حکام نے کہا ہے کہ سیلاب کےعلاوہ موجودہ مالی سال پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر فراہم کیےجائیں گے۔یہ فنڈز30 جون 2023 تک مختلف پروگرامز کیلئے فراہم کیے جائیں گے۔

     

    پاکستان نے 10 سال میں 18ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کیا: برطانوی ہائی کمشنر

    ادھر اس سے قبل آسٹریلیا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے 20 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان کردیا۔آسٹریلوی وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کو فوری انسانی ضروریات کے لیے مدد فراہم کررہے ہیں جس کے تحت آسٹریلیا عالمی خوراک پروگرام کے ذریعے پاکستان کو 20 لاکھ ڈالرکی امداد دے گا۔

    وزیر خارجہ پینی وونگ کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثر خواتین، بچے اور کمزور افراد فوری امداد کے مستحق ہیں۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں :سوات ایکسپریس وے پلئی کے مقام پرجزوی طور پر ٹریفک کے لیے بند

    سیلاب کی تباہ کاریاں :سوات ایکسپریس وے پلئی کے مقام پرجزوی طور پر ٹریفک کے لیے بند

    سوات:کے پی میں‌ سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدرزیادہ ہیں کہ ملکی مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ حکام نے مالاکنڈ میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سوات ایکسپریس وے پلئی کے مقام پرجزوی طور پر ٹریفک کے لیے بند کردی گئی ہے۔

    ترجمان موٹروے پولیس نے بتایا ہے کہ مالاکنڈ میں سڑک بند ہونے کی وجہ سےاسلام آباد اور پشاور سے آنے والی ٹریفک کو موٹروے پولیس کی جانب سے کاٹلنگ انٹرچینج سے آؤٹ کروایا جا رہا ہے۔

    اس ایکسپریس وے پر سوات اور دیرسے آنے والی ٹریفک چکدرہ کے مقام پربند کردی گئی ہے۔سوات ایکسپریس وے کی صفائی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

    ترجمان موٹروے پولیس نے عوام سے گذارش کی کہ موسمی حالات کے پیش نظرغیرضروری سفر سے گریزکریں۔ سفرشروع کرنےسے پہلے یا کسی مدد کی صورت میں موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    دوسری طرف افواج پاکستان کے سربراہ قمر جاوید باجوہ آج بروز منگل 30 اگست کو سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے سوات پہنچے

    پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) ( ISPR ) کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سوات میں اپنے دورے کے دوران کمراٹ، کالام میں جاری پاک افواج کی امدادی سرگرمیوں اور ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا

    پاکستان گلوبل وارمنگ کی وجہ سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے. وزیر خزانہ

    آئی ایس پی آر نے مزید کہا ہے کہ: 27 ہیلی کاپٹر پروازوں کے ذریعے سیلاب کی وجہ سے پھنسے 316 افراد کو نکالا گیا ہے۔
    ترجمان کے مطابق 24 گھنٹے کے دوران 23 ٹن سے زائد راشن اور امدادی اشیا متاثرین میں تقسیم کی گئی ہیں، جب کہ اس سے قبل راشن کے 3 ہزار540 پیکٹس، 250 ٹینٹ بھی متاثرین میں تقسیم کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب عسکری ترجمان کی جانب سے آرمی فلڈ ریلیف سے متعلق تفصیلات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ جاری اعداد و شمار کے مطابق کوآرڈینیشن سینٹر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوآرڈینیشن میں مصروف عمل ہے، جہاں تمام فارمیشنز کے تحت امدادی اشیا کی وصولی و تقسیم کیلئے217 کلیکشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔

    کلیکشن پوائنٹس میں اب تک 122.87 ٹن آٹا، دال اور چینی وصول ہوئی ہے، اسلام آباد سے 5.9 ٹن خیمے، لحاف اور ملبوسات بھی جمع کروائے گئے۔ 0.15 ٹن ادویات، شمسی لائٹس، سلیپنگ بیگز بھی جمع کروائے گئے۔

    پاکستان نے 10 سال میں 18ارب ڈالرز کے نقصان کا سامنا کیا: برطانوی ہائی کمشنر

    ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ترکیہ سے 7 فوجی طیاروں سے امدادی اشیا کراچی پہنچائی جاچکی ہیں، یواے ای سے3 فوجی طیاروں سے امدادی اشیا نور خان ائیر بیس راولپنڈی اور چین سے 2 طیارے 3 ہزار خیمے لے کر آج بروز 30 اگست کو کراچی پہنچیں گے، جب کہ جاپان سے ترپالیں اور شیلٹرز بھی آج کراچی پہنچ جائیں گے۔

    ترجمان کے بیان کے مطابق برطانیہ متاثرین سیلاب کی امداد کیلئے 1.5 ملین پاؤنڈ کا اعلان کر چکا ہے اور آذربائیجان نے بھی سیلاب متاثرین کیلئے 20 لاکھ ڈالر کا اعلان کیا ہے۔