Baaghi TV

Author: News Editor

  • شمالی وزیرستان:فائرنگ سے پانچ افراد جاں بحق

    شمالی وزیرستان:فائرنگ سے پانچ افراد جاں بحق

    میران شاہ: شمالی وزیرستان میں فائرنگ کے واقعے میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میران شاہ کے علاقے ٹول خیل میں فریقین کے مابین فائرنگ کے درمیان پانچ ہلاکتیں ہوئی ہیں، ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق لاشوں کو میرانشاہ ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، واقعہ زمین کا تنازع بتایا جارہا ہے۔

    ادھرسندھ ہائی کورٹ کی جانب سے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کو کیماڑی میں ہونے والی 18 اموات کا کیس درج کرکے تحقیقات کرنے کے حکم کے بعد پولیس نے 10 ایف آئی آرز درج کرلیں۔ اس کے علاوہ مبینہ طور پر زہریلی گیس خارج کرنے والی 5 فیکٹریوں کو سیل کردیا اور عدالت سے متاثرین کی قبر کشائی کی اجازت دینے کی درخواست کردی۔

    تفتیش کاروں نے ڈان کو بتایا کہ آئی جی نے ڈی آئی جی جنوبی عرفان علی بلوچ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کے ورثا کی شکایات پر علی محمد گوٹھ اور اس کے آس پاس کے علاقے میں کام کرنے والی فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس کے مالکان کے خلاف 10 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

    شکایت گزاروں خادم حسین، میر حسن، شکور احمد، محمد حسن، شبیر احمد، عبدالوہاب، ریاض احمد، وزیر احمد اور غلام قادر نے موچکو پولیس تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 322، 384 اور 34 کے تحت مقدمات درج کرائے۔

  • کراچی:بیٹےنےماں کوچھریوں کےوارکرکےقتل کردیا

    کراچی:بیٹےنےماں کوچھریوں کےوارکرکےقتل کردیا

    کراچی:شہرقائد کے علاقے کورنگی میں بیٹے نے چھریوں کے وار کرکے ماں کو قتل کردیا جبکہ بھائی زخمی ہوگیا۔پولیس کے مطابق کورنگی کے علاقے زمان ٹاؤن میں ایک نوجوان چھریوں کے وار کرکے بیدردی سے اپنی ماں کو قتل کردیا، 50 سالہ نسرین کو قتل کرنیوالے ملزم شاکر کو گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے اپنے بھائی کو بھی چھری کا وار کرکے زخمی کیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اہل خانہ کے مطابق گرفتار ملزم شاکر گزشتہ کافی عرصے سے بیروزگار اور ذہنی تناؤ کا شکار تھا۔

    ادھر اس سے پہلےقائد پولیس نے لانڈھی میں 7 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنیوالے ملزم کی گرفتاری بدھ کو ظاہر کردی۔سندھ اور خیبرپختونخوا پولیس نے مانسہرہ کے علاقے جلال آباد میں مشترکہ کارروائی کرکے ملزم کو گرفتار کیا۔متاثرہ بچی منیبہ 16 نومبر 2022ء کو اپنے گھر سے باہر جانے کے بعد پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی۔اس کی لاش لانڈھی کے مسلم آباد کے رہائشی نے اس کے لاپتہ ہونے کے 2 دن بعد 18 نومبر کو اپنے گھر کی چھت پر دیکھی۔

    بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) منتقل کیا گیا جہاں خاتون میڈیکولیگل افسر نے لاش کا پوسٹ مارٹم کیا۔ایم ایل او کا کہنا تھا کہ انہیں مقتول بچی کے جسم پر ہر حصے بالخصوص سر پر بے تحاشہ زخم ملے۔

    ان کے مطابق ابتدائی جانچ پڑتال نے اس بات پر سختی سے اکسایا کہ بچی کے ساتھ بدترین زیادتی کی تحقیقات کی جائے۔ پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ نتائج کے مطابق موت کی ممکنہ وجہ دم گھٹنا ہے جبکہ ٹوکسیکولویکل اسکریننگ کیلئے بھی نمونے محفوظ کرلئے گئے ہیں۔قائد آباد پولیس نامعلوم شخص کیخلاف زیادتی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرچکی ہے۔

  • خانیوال:سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

    خانیوال:سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

    لاہور:خانیوال میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، انتہائی مطلوب دہشتگرد عرفان اللہ کو ہلاک کردیا، عرفان اللہ راولپنڈی میں کار دھماکے کا ماسٹرمائنڈ تھا۔

    پولیس کے مطابق خانیوال میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے، سی ٹی ڈی نے انتہائی مطلوب دہشتگرد عرفان اللہ کو ہلاک کردیا ہے، عرفان اللہ راولپنڈی میں کار دھماکے کا ماسٹرمائنڈ تھا۔ ہلاک دہشتگرد سے کلاشنکوف ، دستی بم اور دیگر سامان برآمد ہوا ہے۔

    خانیوال میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان 20 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ مفرور 2 سے 3دہشتگردوں کی تلاش جاری ہے۔

    اس سے پہلے یہ بھی اطلاعات تھیں کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی) نے پنجاب میں پنجاب بھر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 9 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق دہشت گردوں کو لاہور سمیت گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار دہشت گردوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے ہے۔حکام کے مطابق دہشت گردوں میں عبدالرحمان، روید خان، غلام اللہ، احمد حسن، جلیل احمد، امداد اللہ، باسط علی، جنید علی شامل ہیں۔

    حکام نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں سے خودکش جیکٹ بنانے کا سامان، ہینڈ گرنیڈ اور دیگر بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ دہشت گرد حساس اضلاع میں دہشت گردی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔گرفتار دہشتگردوں کے خلاف 7 مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 20 مشتبہ افراد سے تفتیش کی گئی ، رواں ہفتے سی ٹی ڈی نے 476 کومبنگ آپریشنز کے دوران 91 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جب کہ مشتبہ افراد کے خلاف 67 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

  • اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان

    اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان

    لاہور:اہل شام کی مدد کیجیئے،عالمی برادری شام پرانسانیت کیخاطرپابندیاں ختم کردے:مبشرلقمان نے دکھی دل کے ساتھ عالمی برادری کواہل شام کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی اپیل کردی ہے، مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ شام والے توپہلے ہی مشکلات اورسانحات میں گھرے ہوئے ہیں اوپر سے یہ زلزلہ آگیا ہے ، ان حالات میں انکی کیفیت اور صورتحال بہت پریشان کن اورقابل رحم ہے

    مبشرلقمان نے اہل پاکستان اور دنیا بھرمقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہےکہ وہ وہاں کی حکومتوں کواس بات پر مجبور کریں کہ وہ شام کے معاملے پرخاموشی کا مظاہرہ نہ کریں یہ مجرمانہ خاموشی انسانیت کوتہس نہس کردے گی ،ان کا کہنا تھاکہ پاکستانی اور دیگران کے دوست ان حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ شام جیسے قابل رحم ملک پرعائد پابندیاں‌ ختم کرنے کےلیے دباو ڈالیں اور شام میں گھرے لوگوں کی مدد کو پہنچا جائے

     

    https://www.tiktok.com/@realmubasherlucman/video/7197839033395957018?is_from_webapp=1&web_id=7195158896805103105

    ان کا کہنا تھا کہ شام اور ترکی میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہوگئی ہیں اور اب تو صورت حال اس قدر خراب ہے کہ زلزلے سے تباہ ہونے والے مکانات کے نیچے شامی بے بسی سے چیخ وپکار کررہے ہیں لیکن کوئی ان کی آواز نہیں سن رہا اس کی بڑی وجہ عالمی برادری کی طرف سے شام پر پابندیوں نے دنیا کوشام کی مدد سے محروم کردیا ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام پاکستانیوں کو دل کھول کرشامیوں کی مدد کرنی چاہیے ، ان کے لیے خوراک ، ادویات اوردیگرضروریات کی حامل اشیا جلد از جلد اہل شام کےلیے روانہ کردینے چاہیں اورعالمی برادری انسانیت کی‌خدمت کے اس جزبے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اپنی مدد پیش کرے

  • امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ
    (Elizabeth Bishop)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیدائش: 8 فروری 1911
    وفات: 6 اکتوبر 1979

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ امریکہ کی ریاست میسا چیوسیس کے چھوٹے سے شہر ورکرسٹر Worcester میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک کنٹریکٹر تھے جب ان کی عمر آٹھ سال تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی والدہ صدمے سے ذہنی مریضہ بن گئی۔

    ان کی شاعری پر میریں مور Marianne Moore کے لبرل خیالات کا گہرا اثر رہا۔ انھوں نے نیویارک کے وارسر کالج سے 1934 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بشپ کی نظمیں” ایک ادبی جریدے ٹرائیل بیلنس” میں شائع ہو چکی ہیں۔

    1949-1950 کے دوران وہ واشنگٹن میں شعبہ شاعری کی مشیر رھی۔

    ان کی شاعری کا اسلوب منفرد نوعیت کا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے آپ کو” تسخیر”کرنا چاہتی ہیں۔ اور الزبتھ بشپ ” آبلہ فریبی” سے فاصلہ رکھے ہوئی ہیں۔

    ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ” لزبن "ہم جنس نسواں” تھی۔ یہ غلط تاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ عورتوں کی شاعری کرتی ہیں۔ بقول ان کے "عورتوں کی زیادہ تر شاعری فطرتا نیلے رنگ کے گیت ہوتے ہیں جس میں آہ و زاری کی جاتی ہے اور درد کا شکار ہوکر سادیت کے گیت لکھتی ہے۔

    1956 میں انھیں پولینٹرز انعام مل چکا ہے۔ ان کی زندگی پر بابرا ھوکر نے ایک فلم This House on Elizabeth Bishop کے نام سے بنائی۔

    بشپ کی تحریروں کی عمدہ اور شاندار خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو صدیوں پرانے شعری رویوں سے آگہی اور اس کی کلیوں کو وہ سمتیں ہیں جن کو بڑی ہی مہارت سے اپنی شاعری میں سمودینے کی تخلیقی ہنر مندی ان کو آتی ہے۔ وہ اپنے جذباتی شعری اظہار کو اعتدال کے ساتھ کنٹرول کر لیتی ہیں۔ وہ اپنے جذباتی اور حساس کو بڑی مہارت سے شعری پیکر اور اس کو جمالیاتی طور پر تشکیل دے لیتی ہیں۔ جب قاری ان کے جذبوں سے آگاہ ہوتا ہے تو وہ "بلبلاتا ” بھی ہے۔ دراصل ان کے شعری فن میں یہ بات تو ہے کہ وہ اپنے ” زخموں” کو کمال ہوشیاری سے چھپا بھی لیتی ہیں۔ مگر وہ اپنی ذاتی واردات اور زخموں کو بے نقاب کرنے کے لیے اساطیری فکریات اور ڈھانچے سے اسلوبیاتی اور اپنا شعری بیانیہ ترتیب دیتی ہیں۔

    مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بشپ کی شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ اسرار اور پر اسرار کے ساتھ کرنا ہے۔ جس طرح ان کی شاعری صرف شاعرہ کو کشف، الہام اور وحی کے بغیر طاقتور، مباحثہ احساسات سے اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔ بشپ نے اس وقت جمالیاتی صوابدید کا ایک راستہ اپنایا جب اس کے بہت سے ہم عصر شعرا ان کی شعری فطانت کا کا تعاقب کررہے تھے. اور ان کی شاعری کے بہت سے ٹکڑوں کو رد و بدل کرنے بعد شائع کرنے والے شعرا کی بھی کمی نہ تھی۔ جس میں بشپ کی شعری فضا اور خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ یہ دھوکہ دہی اور پریشانی کا سبسب بھی بنی۔ جس میں جمالیات اور تخلیقی مرکبیات، عمل کیمیائی کے بعد مراقبے کا شکار ہوجاتی ہے۔ جو ان کا حفاظتی حصار تھا۔ وہ التباس کا شکار رہی۔ مگر ان کی یہ تشکیک اور تشویش تو ہے مگر یہ مراقبہ نہیں ہے۔ یہ اصل میں شاعرہ کے نئے شعری اظہار کی تلاش اور جستجو ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” بلی کی لوری”

    ” میاوں”۔۔۔۔ نیند خواب ہوجاتے ہیں
    اپنی بڑی آنکھوں کو بند کرلو
    ایک مسرت آمیز حیرانگی کے ساتھ
    پیاری ” میاوں” ۔۔۔ اپنی چڑھتی ہوئی تیوری کو گرا دو
    بس تعاون کرو
    ایک بلی کا بچہ نہ ڈوب جائے
    مارکسی حالت میں
    خوشی اور محبت دونوں تمہارے ہوجائیں گے
    ” میاں” ۔۔۔ اداس نہ ہو
    خوشی کے دن جلد آرہے ہیں
    نیند —– اور انھیں آنے دو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الزبتھ بشپ کی تصانیف

    North & South (Houghton Mifflin, 1946)
    Poems: North & South. A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1955) —winner of the Pulitzer Prize[1]
    A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1956)
    Questions of Travel (Farrar, Straus, and Giroux, 1965)
    The Complete Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 1969) —winner of the National Book Award[2]
    Geography III (Farrar, Straus, and Giroux, 1976)
    The Complete Poems: 1927–1979 (Farrar, Straus, and Giroux, 1983)
    Edgar Allan Poe & The Juke-Box: Uncollected Poems, Drafts, and Fragments by Elizabeth Bishop ed. Alice Quinn (Farrar, Straus, and Giroux, 2006)
    Poems, Prose and Letters by Elizabeth Bishop, ed. Robert Giroux (Library of America, 2008) ISBN 9781598530179
    Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 2011)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سورن لتا سے  سعیدہ بانو تک کا سفر

    سورن لتا سے سعیدہ بانو تک کا سفر

    اداکارہ سورن لتا

    یوم وفات : 8 فروری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم "_سچائی” بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم” پھیرے” ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔” پھیرے” کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم” لارے” اور اردو فلم "انوکھی داستان” ریلیز ہوئیں۔

    1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم ” بھیگی پلکیں” تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں ، شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیر ، ریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام، شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس بعد فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔ سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
    8 فروری 2008ء کو برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • کئی ممالک میں شدید زلزلوں کا قوی امکان ہے:جاپانی ماہرین ارضیات کا دعویٰ‌

    کئی ممالک میں شدید زلزلوں کا قوی امکان ہے:جاپانی ماہرین ارضیات کا دعویٰ‌

    ٹوکیو : جاپان کے ایک ماہر ارضیات نے پیش گوئی کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں جلد ہی مزید ہولناک زلزلوں کا قوی امکان ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپان کی یونیورسٹی آف تسوکوبا کے پروفیسر یاگی یوجی نے ترکیہ اور اس کے ہمسایہ ممالک میں مزید زلزلوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عنقریب مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں 7.8 شدت کے مزید تباہ کن زلزلوں کا قوی امکان ہے۔

    یاگی یوجی کا کہنا ہے کہ اس زلزلے کے مرکز کے قریب کئی فالٹس ہیں جہاں اناطولیائی پلیٹیں عرب پلیٹ سے مل جاتی ہیں جس سے ان کے درمیان ایک پیچیدہ سا ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل سے تناؤ پیدا ہوتا ہے اور جب یہ انتہا کو پہنچ جاتا ہے تو پلیٹیں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں جس کی وجہ سے زلزلہ آجاتا ہے۔

    واضح رہے کہ سال 2020 میں بھی مشرقی اناطولین فالٹ کے قریب 6.7 شدت کا زلزلہ آیا تھا جب کہ عمارت گرنے سے کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

    ترکیہ کے مشرقی ایرزنکن میں 1939 میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی جب کہ اس زلزلے میں 30 ہزار افراد جان کی بازی ہار بیٹھے تھے۔

    یاد رہے کہ 6 فروری کی صبح 4 بج کر 17 منٹ پر ترکیہ اور شام زلزلے سے لرز اٹھا تھا جب کہ زلزلے کے کافی دیر بعد بھی آفٹر شاکس محسوس کیے گئے۔ ریکٹر اسکیل کے مطابق زلزلے کی شدت 7.8 فیصد تھی۔

    زلزلے سے مجموعی طور پر 1 کروڑ 35 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ ترکیہ اور شام میں زلزلے سے 11 ہزار سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہوچکی ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ہے جب کہ اس زلزلے نے ترکیہ اور شام کی ہزاروں عمارتوں کو منہدم کردیا ہے ترکیہ میں عمارتوں کے ملبے سے 9 ہزار سے زائد افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے تاہم ابھی تک سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں۔

  • والدین اور بھائیوں نےقتل کرکے لاش تیزاب میں ڈال دی

    والدین اور بھائیوں نےقتل کرکے لاش تیزاب میں ڈال دی

    اتر پردیش: والدین اور بھائیوں نے 21 سالہ بہن کو بیدردی سے قتل کرنے کے بعد لاش تیزاب میں ڈال دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے علاقے کاؤ شمبی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں والدین نے اپنے دو بیٹوں کیساتھ ملکر اپنی ہی بیٹی کو بیدردی سے قتل کردیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ والدین نے لڑکی کو قتل کرنے کے بعد لاش کو ناقابل شناخت بنانے کیلئے تیزاب میں ڈال دیا جسے بعد میں گاؤں کے باہر پھینک دیا۔ لڑکی کی لاش منگل کو گاؤں کے باہر ایک کنال سے ملی تھی۔پولیس سپریٹندنٹ برجیش کمار نے بتایا کہ لڑکی کے والد نریش نے 3 فروری کو مقامی تھانے میں اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی، جب پولیس تفتیش کیلئے انکے گھر پہنچی تو اسے وہاں قتل کے شواہد ملے۔پولیس نے لڑکی کے والدین سے تفتیش کی تو انہوں نے اپنی بیٹی کو گلا دباکر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔

    پولیس نے بتایا کہ والدین نے اپنی بیٹی کی لاش کی شناخت کو مسخ کرنے کیلئے اس پر تیزاب ڈال دیا، لاش کو ٹھکانے لگانے میں انکے دونوں بیٹوں گلاب اور رامیش نے بھی پوری مدد فراہم کی۔

    لڑکی کے والد نریش کا کہنا ہے کہ اسکی بیٹی فون پر کئی لڑکوں کے ساتھ بات کرتی تھی، جب اسکو اپنی بیٹی کے پاس سے پریگنینسی ٹیسٹ کی کٹس ملیں تو یقین ہوگیا کہ اسکا کسی لڑکے کیساتھ جسمانی تعلق ہے جس پر غصے میں آکر اسکو قتل کردیا۔پولیس نے لڑکی ماں، والد اور دونوں بھائیوں کو قتل کے الزام میں گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔

  • زلزلےنےترکیہ کی معیشت کوبھی تباہ کردیا:پہلی بارتجارتی سرگرمیاں معطل

    زلزلےنےترکیہ کی معیشت کوبھی تباہ کردیا:پہلی بارتجارتی سرگرمیاں معطل

    استنبول:ترکیہ میں شدید زلزلے کے بعد صورت حال اس قدرخراب ہے کہ اب تو ترکی نے اپنی معاشی سرگرمیاں ہی مطل کردی ہیں، ترک حکام کے مطابق ترکی کے سٹاک ایکسچینج نے 24 سالوں میں پہلی بار تجارت کو معطل کر دیا، اس فروخت کے بعد جس نے دو تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں اس کی مرکزی ایکویٹی گیج کی قیمت سے 35 بلین ڈالر کا خاتمہ کر دیا۔

    بورسا استنبول نے بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا،”ہمارے اسٹاک ایکسچینج نےایکویٹی، فیوچرز اور آپشنز مارکیٹوں میں تجارت کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے،”۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ تجارت کب دوبارہ شروع ہوگی۔

    100 انڈیکس اس ہفتے 16 فیصد کم ہو گیا ہے، جس نے ترکی کے جنوبی علاقے میں آنے والے دو مہلک زلزلوں کے نتیجے میں اس کے ممبر اسٹاک کی مالیت سے تقریباً 35 بلین ڈالر کا نقصان کیا ہے۔ ترک اسٹاک، جو اس سال عالمی سطح پر بدترین بحران کا شکار ہے ،حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ منگل کو اپنی جنوری کی بلند ترین سطح سے 20 فیصد سے زیادہ گرنے کے بعد تکنیکی ریچھ کی مارکیٹ میں داخل ہوئے۔

    استنبول میں مارمارا کیپیٹل کے مینیجنگ پارٹنر حیدر اکون نے کہا، "اس طرح کی تباہی کے وقت، سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے اسٹاک مارکیٹ میں تجارت کو معطل کرنا ایک بہتر فیصلہ ہے۔” ایکویٹیز میں سرمایہ کاری مقامی لوگوں میں ملک کی بڑھتی ہوئی افراط زر کے خلاف ایک اچھے فیصلے کے طور پرپسند کیا جارہا ہے ، جو 2022 میں تقریباً 86 فیصد کی بلندی تک پہنچ گئی۔

    ترکی کے دس شہروں اور ہمسایہ ملک شام کے کچھ حصوں میں آنے والے طاقتور زلزلوں سے مرنے والوں کی تعداد پہلے ہی 11,000 سے تجاوز کر چکی ہے، ہنگامی ٹیمیں منجمد درجہ حرارت میں ملبے میں پھنسے ممکنہ طور پر ہزاروں متاثرین کو بچانے کے لیے بھرپورکوشش کررہی ہیں ۔ ترکی نے تین ماہ کی ایمرجنسی کے اعلان کے بعد زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوجیوں کو تعینات کرنا شروع کر دیا ہے۔

  • نیویارک میں امریکی ڈاکوؤں نےپاکستانی نژاد پولیس افسرکوگولی مارکرجان سےماردیا

    نیویارک میں امریکی ڈاکوؤں نےپاکستانی نژاد پولیس افسرکوگولی مارکرجان سےماردیا

    نیویارک:امریکا میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر ڈاکو نے پاکستانی نژاد 26 سالہ پولیس افسر کو گولی مار کر قتل کردیا۔اطلاعات کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈپارٹمنٹ کے پاکستانی نژاد پولیس اہلکار 26 سالہ عدید فیاض کو ڈکیتی کے دوران گولی مار دی گئی اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں انتقال کرگئے۔

    پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی نژاد اہلکار کو گزشتہ روز ایک 38 سالہ ملزم رینڈی جونز نے گولی ماری تھی گرفتار کرلیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق ملزم بروکلین میں ڈکیتی کے بعد اپنی گرل فرینڈ اور پانچ چھوٹے بچوں کے ساتھ اس ہوٹل میں چھپا ہوا تھا۔ ملزم کو سخت سے سخت سزا دلوانے کا عہد کرتے ہیں۔

    نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پولیس آفیسر فیاض عدید پر گولی چلانے والے ملزم کو چھ فروری کو جسے وقوعہ سے 50 میل دور ایک ہوٹل سےاپ سٹیٹ نیویارک کے علاقے سے گرفتار کرلیا گیا ہے اور ملزم سے تفتیش شروع کردی گئی ہے ۔پانچ سالوں سے نیویارک پولیس میں خدمات انجام دینے والے عدید فیاض کے لواحقین میں والدین کے علاوہ بیوہ اور دو بچے شامل ہیں

     

    نیویارک پولیس نے پاکستانی نژاد اہلکار عدید فیاض کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔