Baaghi TV

Author: News Editor

  • این اے 245 :پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کومنہ کی کھانی پڑی

    این اے 245 :پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کومنہ کی کھانی پڑی

    کراچی:این اے 245 :پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کومنہ کی کھانی پڑی ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پراس وقت ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں کراچی کے حلقہ این اے 245 میں ہونے والی ضمنی انتخاب میں‌ پولنگ کے دوران پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی پولنگ اسٹیشن کے اندرموجودگی پرسخت احتجاج کیا جارہا ہے

    اس حوالےسے منظرعام پرآنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی رکن اسمبلی فردوس شمیم نقوی ایک پولنگ اسٹیشن کے اندرآتے ہیں دھر لیے جاتے ہیں اوراس دوران دوسری پارٹی کے ورکرز فردوش شمیم نقوی کو پولنگ اسٹیشن کے اندرآنے پرآڑے ہاتھوں لیتے ہیں ،

    سولجر بازار کے پولنگ اسٹیشن پر پی۔ٹی- آئی کے فردوس شمیم نقوی بلا جواز پولنگ اسٹیشن میں جاکر عملے کو ہراساں کر رہیں تھے جس پہ عوام نے فردوس شمیم کی درگت بنادی

    یہ سیاسی ورکرز فردوس شمیم نقوی کے سامنے کھڑے ہوکربار بار یہ کہتے ہیں کہ یہ پی ٹی آئی کے ممبرصوبائی اسمبلی فردوس شمیم نقوی ہیں جن کوپولنگ اسٹیشن کے اندرجانے کا کوئی حق نہیں مگرپھر بھی وہ پولنگ اسٹیشن میں جاکراثرانداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں اس دوران فردوس شمیم نقوی بھی بحث کرتےہیں اوریوں یہ بحث شدت اختیار کرجاتی ہے ،

     

     

    اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فردوس شمیم نقوی اس کشمکش کے دوران اپنی گاڑی میں بیٹھ کروہاں سے چلے جاتے ہیں

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دوسری سیاسی جماعت کے ورکروں کا کہنا تھا کہ فردوس شمیم نقوی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ پولنگ اسٹیشن کے اندر جائیں ،ویسے بھی وہ اس علاقے سے تعلق نہیں رکھتے ، اس لیے ان کی اس طرز عمل کی مخالفت کی گئی

     

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقے اين اے دو سو پينتاليس ( NA 245 ) ميں ضمنی اليکشن آج بروز اتوار 21 اگست کو ہو رہا ہے، جس کیلئے پولنگ کے وقت کا آغاز ہوگيا، جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔

    ايم کيوايم، پی ٹی آئی، پی ایس پی، ٹی ایل پی اور فاروق ستار سميت پندرہ اميدواروں ميں سخت مقابلہ متوقع ہے۔ ضمنی انتخاب میں 8 آزاد امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں، جس میں فاروق ستار بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ یہ نشست پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر عامر لياقت کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی

  • بارشوں اورسیلاب نے بلوچستان کا دیگرصوبوں سےرابطہ کاٹ دیا

    بارشوں اورسیلاب نے بلوچستان کا دیگرصوبوں سےرابطہ کاٹ دیا

    شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بلوچستان کادیگر صوبوں سےریل رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں ہونے والی شدید بارشوں نے جہاں مکانات اور دیگر املاک کو تباہ کیا، وہیں بجلی کا نظام اور ریلوے ٹریک بھی شدید متاثرہوئے ہیں۔

    بلوچستان:پٹ فیڈرکینال میں شگاف ، درجنوں دیہات ڈوب گئے

    شدید بارش کے باعث کوئٹہ جانے والے متعدد ريلوے ٹريکس پانی ميں ڈوب گئے ہیں، جس کے بعد لاہور سے کوئٹہ جانے والی ٹرينيں سکھر تک محدود کردی گئی ہیں۔ جب کہ کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس کول پور اسٹیشن سے واپس کردی گئی ہے۔

    سیلاب سے تباہی: آرمی چیف کی کمانڈر بلوچستان کور کو صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کی

    پاکستان ريلوے نے بلوچستان ميں آپريشن روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی، پشاور اور لاہور سے کوئٹہ جانے والی ٹرینیں سکھر تک چلیں گی۔ریلوے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حبیب کوٹ، سبی، ڈیرہ مراد جمالی اور نوتال اسٹیشن بند کردیئے گئے ہیں، ان اسٹیشنوں کے ٹریکس پر 6 سے 12 انچ تک پانی اوپر سے گزر رہا ہے۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق ٹریکس کے اوپر سے ایک فٹ تک سیلابی ریلا گزر رہا ہے، صورت حال کنٹرول کرنے کے لیے ریلوے ٹیمیں کام کررہی ہیں۔

    بارشوں سے سب سے زیادہ نقصان بلوچستان میں ہوا،شازیہ مری

    کراچی ملیر لنک روڈ کے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی کار میں سوار فیملی کی خاتون کی لاش 5 روز بعد مل گئی۔
    پولیس حکام کے مطابق 16اگست کو لنک روڈ پر پانی کے ریلے میں گاڑی بہہ گئی تھی، گاڑی میں ڈرائیور اور ایک خاندان کے 6 افراد سوار تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک میاں بیوی اور 4 بچوں کی لاشیں مل گئی ہیں، جبکہ ڈرائیور کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

  • ترکی میں دو مختلف حادثات میں 35 افراد ہلاک

    ترکی میں دو مختلف حادثات میں 35 افراد ہلاک

    استنبول: ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صوبہ غازی انتیپ میں مسافر بس سڑک کنارے کھڑی ایمبولینس اور فائر بریگیڈ سے ٹکرا کر الٹ گئی۔

    حادثے کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے، زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

    ترکی میں دو سالہ بچی نےسانپ کو اپنےدانتوں سے کاٹ کر مار ڈالا

    مرنے والوں میں تین فائر فائٹرز، دو ایمرجنسی ورکرز اور دو صحافی بھی شامل ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ حادثے کے بعد ہونے والے ریسکیو آپریشن کےدوران پیش آیا۔

    ترک صحافیوں کی یونین نے اپنے دو ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ سوشل میڈیا پرتصاویر میں کئی لوگوں کو سڑک پر پڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر انصاف بیکر بوزدگ نے حادثے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے جبکہ متعدد ترک سیاست دانوں نے واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔دوسرا حادثہ کچھ گھنٹوں بعد شہر ماردین میں پیش آیا جہاں ایک تیز رفتار ٹرک عوام کے ہجوم پر چڑھ دوڑا۔

    ترکیہ میں آج سے پرااسلامک گیمز کا آغاز

    مقامی حکام کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ دوسرے حادثے میں زیادہ تعداد ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے ورکرز کی تھی جس میں 17 افراد ہلاک اور 29 افراد زخمی ہوئے جب کہ 8 افراد شدید زخمی ہیں اور یہ حادثہ ٹرک کے بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔

    انتظامیہ کی جانب سے بتایا جارہا ہے کہ دونوں حادثوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے تاہم وزیر انصاف کی جانب سے دونوں حادثات کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ہے۔

  • شہباز گل کی ہسپتال سے نئی ویڈیو سامنے آ گئی

    شہباز گل کی ہسپتال سے نئی ویڈیو سامنے آ گئی

    اسلام آباد:شہباز گل کی ہسپتال سے نئی ویڈیو سامنے آ گئی،اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما شہبازگل کی نئی ویڈیوپمز ہسپتال سے آگئی ہے اور یہ ویڈیوجیونیوز کے رپورٹرمرتضیٰ علی شاہ نے ٹویٹ کے ذریعے شیئر کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرمرتضٰی علی شاہ نے شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ویڈیو میں شہبازگل اپنے لیے کھانے کی درخواست کررہے ہیں ، اس ویڈیو میں شہبازگل کے کمرے میں پولیس والے بھی نظرآرہے ہیں ،ایک شخص کمرے میں داخل ہوتا ہے ، جسے دیکھتے ہی شہباز گل اپنے لیے فوری کھانے کی درخواست کرتے ہیں

     

    یاد رہے کہ اس سے پہلے کل مریم اورنگزیب نے پمزہسپتال سے شہبازگل کی تصاویراور ویڈیوشیئر کی تھی اورکہا تھا کہ شہبازگل اب صحت مند نظرآرہے ہیں

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کل پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے گرفتار رہنما شہباز گل کی تازہ ویڈیو چلائی تھی جس میں وہ ہٹے کٹے نظر آرہے ہیں۔

     

    شہبا گل نے عمران خان کے کہنے پرہی بیان دیا، مقدمے سےتوجہ ہٹانے کیلئے پروپیگنڈا

    وزیر اطلاعات نے شہبازگل پر تشدد کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا شہبازگل سے منسوب سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو چکوال کے ریپسٹ کی ہے، مقدمے سے توجہ ہٹانے کیلئے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہبازگل پر تشدد نہيں ہوا، مقدمے سے توجہ ہٹانے کے لئے پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، انہوں نے شہبازگل کی اپنی پریس کانفرنس سے ایک گھنٹہ قبل کی ویڈیو جاری کردی۔

    مریم اونگزیب نے کہا ویڈیو میں ںظر آنے والے ہشاش بشاش شہبازگل کا ماسک کہاں گیا، شہباز گل کتابیں پڑھ رہے ہیں، چہل قدمی اور پولیس سے گفتگو کر رہے ہیں۔

     

    ایف آئی اے کو عمران خان کو گرفتار کرنا چاہیئے،مریم اورنگزیب

    مریم اورنگزیب نے کہا عمران خان اصل حقیقت سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں، شہباز گل کے خلاف مقدمہ قانون کے مطابق بنا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہاتھا پی ٹی آئی کا اصل مقصد کہانی کو بدل دینا ہے، کہانی کے تانے بانے عمران خان سے ملتے ہیں۔

  • طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    کہا جاتا ہےکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔نام نہاد ساستدانوں کا نعرہ سالوں سے سنا جا رہا ہے ۔صوبوں میں سیلابی ریلے میں طاقت کا چشمہ بہہ رہا ہے ۔ بعض مقامات پر لاشیں بہہ رہی ہیں۔ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں ۔نہ کھیت نہ گھر ،نہ مال مویشی ،جان لیوا بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسر طرف اسلام آباد میں سیاستدانوں کا جنگی ماحول جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اختیارات، مفادات، اقتدار کی جنگ ہوس زر اور ہوس اقتدار نے انہیں دیوانہ بنا دیا۔ جس ملک کے ماہرین اقتصادیات کے مطابق معیشت آخری سانس لے رہی ہو کیا وہاں کے حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروا کر وکٹری کا نشان بناتے ہیں؟

     

    چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب اور مرکز میں جو کھیل جاری ہے کیا اس کا فائدہ ملک و قوم کو ہو رہا ہے ؟ ہر طرف اخلاقی تباہی دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ یہ قوم کہیں کسی سیلاب میں بالکل بہہ نہ جائے ؟ 75 سالوں میںپاکستان کو جس بھنور میں پھنسا دیا ہے اس کا تصور کرنا بھی محال ہو گیا ہے۔ عصر حاضر کے وطن عزیز کے حالات و واقعات نے روشن مستقبل کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ صوبوں میں سیلاب زدگان کی آہ وبکا نے زندہ دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو کل تک اپنے گھروں میں تھے وہ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں بلوچستان کو تو سیلابی ریلے نے اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ قیامت کی اس گھڑی کو اس قدر قریب سے دیکھنے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہ کرے تو کیا کہا جائے؟

    جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ملک کسی سیاستدان، کسی جاگیردار، کسی وڈیرے، کسی سرمایہ دار، کسی جرنیل، کسی بیورو کریٹ کی جاگیر نہیں یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکومت میں شامل جماعتیں ہوں یا اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں 75 سالوں کے بعد بھی ہم بالغ نظر، باصلاحیت اور معاملہ فہم قیادت سے شاید محروم ہیں۔ مشکل حالات میں اختلافات کو اجاگر کرنے کے بجائے بالغ نظری کا مظاہرہ کریں ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے کے لئے مل بیٹھیں اور عالمی دنیا کو تاثر نہ دیں کہ پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے۔ ہوس اقتدار، ہوس زر، ہوس اختیارات، ہوس مفادات سے باہر نکل کر ملک و قوم کے مفاد میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک دوسرے پر غداری کے فتوے نہ لگائیں اس ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وزرات عظمیٰ پر بیٹھنے والوں پر کیا گزری اور کیا گزر رہی ہے سبق حاصل کریں ورنہ تاریخ بار بار دہرائی جاتی رہے گی۔

  • کراچی ائیرپورٹ پر دو طیارے خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئے

    کراچی ائیرپورٹ پر دو طیارے خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئے

    شہر قائد کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتے کے روز دو طیارے خوفناک حادثے سے بال بال بچ گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایوی ایشن ذرائع نے بتایا کہ یہ جاننے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کی گئی ہیں کہ آیا یہ واقعہ پائلٹوں کی غلطی یا ائیر ٹریفک کنٹرول (ATC) کی غفلت کے باعث پیش آیا۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق شہر قائد کراچی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے لیے ایک پرواز نے ہفتے کی دوپہر 1 بجے اڑان بھرنی تھی جب کہ ایئربس اے 320 نے دوپہر 1 بجکر 14 منٹ پر رن ​​وے سے روانہ ہونا تھا۔

    ایئربس A-320 نے رن وے 7R سے 1:15 پر اڑان بھری جب کہ پشاور کی ایک اور ایئر لائن اسی رن وے سے ایک کلومیٹر دور تھی جہاں اسے لینڈ کرنا تھا۔

     

    ایک طیارے نے اسی رن وے پر ٹیک آف کرنا شروع کیا جہاں دوسرا لینڈنگ کرنے والا تھا۔ اس موقع پر پائلٹ کو اے ٹی سی کی جانب سے ہدایات دی گئین تا ہم پائلٹ نے مبینہ طور پر اے ٹی سی حکام کی طرف سے دی گئی ہدایات کو نظر انداز کر دیا ایوی ایشن ذرائع کے مطابق جس وقت ائیر سیال کا طیارہ ٹیک آف کر رہا تھا عین اسی وقت پی آئی اے کا طیارہ اسی رن وے کو ٹچ کرچکا تھا۔

    ایک ذرائع کے مطابق ائیر ٹریفک کنٹرول کی جانب سے مبینہ طور پر قومی ائیر لائن کے پائلٹ کو ’گو اراؤنڈ‘ کا کہا گیا مگر مبینہ طور پر غفلت کی گئی۔ اس سلسلے میں کراچی ائیرپورٹ پر اعلیٰ سطح کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں

  • مشہور گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    مشہور گلوکارہ نیرہ نور انتقال کر گئیں ۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    لاہور:وطن کی مٹی گواہ رہنا جیسا شہرہ آفاق ملی نغمہ گانے والی نیرہ نور انتقال کر گئیں، انا لله و انا الیه راجعون، نیرہ نورپاکستان کی ایک معروف شخصیت تھیں جن کا ہرکوئی دل سے احترام کرتا ہے،

    نیرہ نور،شمال مشرقی ہندوستان کی ریاست آسام کے گوہاٹی شہرمیں3نومبر 1950کو پیدا ہوئیں۔ یہیں پلی بڑھیں اور بیگم اختر کے نغموں،علی الصبح مقامی مندروں کے لاؤڈ اسپیکر س سے گونجنے والے بھجنوں اور شہر میں منعقد ہونے والے کنسرٹس سے محظوظ ہوتی رہیں۔ پھر کشاںکشاں ان کی آواز اور وجود میں یہ فن لطیف داخل ہوہی گیا۔دوسری جانب نیر ہ کے تجارت پیشہ اہل خانہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی پاکستان ہجرت تحریک پر، آسام سے رخت سفر باندھنا شروع کردیا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ نیرہ کے والد محترم اور چند دیگر اہل خانہ، آل انڈیا مسلم لیگ(اے آئی ایم ایل)کے ممبر اور آسام اکائی کے اہم عہدوں پر فائز تھے۔چنانچہ یہ کارواں پہلے پہل امرتسر واردہوا ،پھر 1958میںوہاں سے سیدھا کراچی پلائن کرگیا۔نیر ہ نور کی گنگناہٹ سب کا دل موہ لیتی تھی ۔ پاکستان میں ریڈیو پاکستان،پاکستان ٹیلی ویژن ،لالی ووڈ فلم انڈسٹری،پاکستان فلمس کارپوریشن جیسے ادارے وجود میں آچکے تھے اور تب تک ان کا مرکزی کراچی ہی تھا۔چنانچہ موقع اور دستور کے مطابق نیرہ نور نے اپنا پہلا نغمہ پی ٹی وی سے ہی نشر کیا ۔

    نیرہ کی گلوکارانہ صلاحیتوں کو سب سے پہلے جس شخص اور شخصیت نے دریافت کیا،اس کا نام نامی ہے پرو فیسر اسرار احمد ،جو اس وقت اسلامیہ کالج ،لاہور میں مدرس تھے۔یہ1968کی بات ہے،ایک دن نیرہ نیشنل کالج آف آرٹس،لاہور میں منعقدہ سالانہ ڈنر کے موقع پر اپنی کالج فرینڈس اور اساتذہ میں گھری میڈم نور جہاں،بیگم اختراور ناہید اختر کی آوازوں میںگارہی تھیں۔وہیں پرو فیسر موصوف نے اس جوہر قابل کو پرکھا اور یونیورسٹی آف لاہور کے مرکزی کیمپس میں واقع،ریڈیو پاکستان،لاہور کے اسٹوڈیو لے آئے ۔اب نیر ہ نور کی آواز،ہواکے دوش پر سوار ہو کرکراچی سے خیبر تک،لاہور سے پشاور تک اور اسلام آباد سے گوادر تک پورے ملک میں سُروں کی عطربیزی کرنے لگی۔ پھر محض دوسال بعد ہی انھیں پی ٹی وی،نیشنل اسٹوڈیو ،اسلام آباد سے دعوت نامہ موصول ہوا اور نیرہ کچھ اپنے پروں اور کچھ فن کے پروں پر اڑتی ہوئی’کانسٹی ٹیوشن اوینیو‘ جاپہنچی ۔نیرہ نے پی ٹی وی کے لیے مرزا غالب ،فیض احمد فیض اور احمد فراز کی غزلیں گا کر آواز و ساز عطا کیا ۔اس وقت پی ٹی وی مہدی حسن،احمد رشدی جیسے لیجنڈ اور اساتذہ سے موسوم تھا،نیرہ کو ان کے ساتھ گلوکاری کے مواقع میسر آئے۔

    نیرہ نور بہت جلد پاکستان شوبز انڈسٹری کے افق کا ستارہ بن گئی ۔اب وہ ریڈیو اور ٹی وی گلوکاری کے علاوہ فلموں میں بھی پلے بیک دینے لگیں۔ان کی پہلی فلم1973میں کے ۔خورشید کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ”گھرانہ“ہے۔جس میںانھوںنے رونا لیلیٰ علی اوراحمد رشدی کے ساتھ ’تیراسایہ جہاں بی ہو سجنا‘نغمہ گایا ۔شائقین و فلم بینوں کی پسند پر وہ اس نغمے کے لیے لالی ووڈ کے باوقار ایوارڈ”نگار ایوارڈ “ سے سرفرازکی گئیں،علاوہ ازیں انھیں تین مرتبہ ”آل پاکستان میوزیکل کانفرنس“ کی جانب سے گولڈ میڈل ملے۔لالی ووڈ کے آگے کے سفر میں نیرہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں’ایم اشرف‘،’روبن گھوش‘،’کمال احمد‘اور ’نثار بزمی‘نے کلیدی کردار اداکیا۔

    بہزاد لکھنوی کی غزل ”اے جذبہ دل گر میں چاہوں“اس وقت مراد ِشاعر بنی، جب نیرہ نور نے اسے ارشد محمود کی موسیقی میں پی ٹی وی کے پرو گرام ’سخن ور‘ میں گایا ۔آج بھی نیرہ کے البم’میری پسند‘ کاسب سے بہترین اور زیادہ سناجانے والا نغمہ ہے۔جدید شاعروں کے نائب امام ،ناصر کاظمی کی روح بھی اس وقت مسرت سے جھوم اٹھی جب نیرہ نے ان کی’رنگ برسات نے بھرے کچھ تو‘ اور ’پھر ساون رُت کی پون چلی‘غزلیں گائیں ——- اور اختر شیرانی کے رومان پر رنگ اس و قت چڑھا جب نیرہ نے ’اے عشق ہمیں برباد نہ کر‘غزل کو اپنا ساز دروں دیا۔فیض احمد فیض،ابن انشا،تسلیم فاضلی،کلیم عثمانی،مسرور انور وغیرہ دیگر شعرا و سانگ رائٹرس ہیں جنھوں نے نیرہ کے لیے نغمے تحریر کیے اور نیرہ نے انھیں سازو آواز کی روح پھونکی۔

    یہ بات کس قدر متاثر کن اور زندگانی ساز ہے کہ حکومت پاکستان کے باوقار اعزاز’صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی۔2005‘کی مالک نیرہ نور، انتہائی سادہ، کم گو اور شرمیلی خاتون ہیں۔ انھوں نے آغاز سے اب تک اپنے مخصوص انداز اور معیار کو قائم رکھاہوا ہے۔ان کے چہرے پر گلوکاری کے وقت بھی کسی قسم کے تاثرات کی جھلک نہ ہوتی تھی اور عام زندگی میں بھی ان کی شرافت و نجابت مثالی تھی۔ان کا ظاہری رکھ رکھاؤ سادگی کی اعلیٰ مثال ہے۔آج بھی پاکستان میں ان کی وہی شخصی قدرو منزلت۔ہاں البتہ 2012کے بعد سے انھوں نے شوبز کی دنیا سے منہ موڑلیا

  • پیمرا نے عمران خان کی لائیو تقریر نشر کرنے پر پابندی لگادی

    پیمرا نے عمران خان کی لائیو تقریر نشر کرنے پر پابندی لگادی

    اسلام آباد:پیمرا نے عمران خان کی لائیوتقریر نشر کرنے پر پابندی لگادی ہے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے سابق وزیراعظم عمران خان کی تقاریرنشر کرنے پرپابندی لگا دی ہے اور اس حوالے سے پمرا نے نوٹس جاری کردیا ہے ،

    پیمرا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عمران خان چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اپنی تقریروں/بیانات میں ریاستی اداروں پر مسلسل الزامات لگا رہے ہیں‌،پیمرا کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بے بنیاد الزامات لگانا اور اپنے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر پھیلاناریاستی اداروں اور افسران کے خلاف جو کہ امن و امان کی بحالی کے لیے مضر ہے۔اور عوامی امن و سکون کو درہم برہم کرنے کا خدشہ ہے۔ ان کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ بنایا گیا۔اسلام آباد نفرت انگیز تقریر کرنے والا حوالہ تیار حوالہ کے لیے ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

    جس میں عمران خان کہتے ہیں‌کہ شرم کرو۔ آئی جی۔ اسلام آباد آئی جی تم اور ڈی آئی جی آپ کو ہم نے نہیں چھوڑنا
    اوپر کیس کرنا ہم نے دیا ہے اور مجسنے صاحبہ زیبا بھی تیار ہو جائیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کو کہتا ہوں کہ ساری قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے، آئین و قانون کی حکمرانی آپ کی ذمہ داری ہے، لوگوں کو غلام بنانے کیلئے دہشت پھیلائی جارہی ہے، چیلنج کرتا ہوں جو مرضی کرلیں آزادی چاہنے والے عوام کے سمندر کو نہیں روک سکتے۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”532307″ /]

    نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے تاہم، اظہار رائے کا یہ حق دین اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، سلامتی، ملک یا اس کے کسی حصے کے دفاع، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، شائستگی و اخلاقیات، توہین عدالت یا کسی جرم پر اکسانے کے سلسلے میں قانون کی جانب سے عائد کردہ معقول پابندیوں کے تابع ہے۔

    اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 200، پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کے مطابق آرڈیننس کے تحت لائسنس یافتہ شخص اتھارٹی کے منظور کردہ پروگراموں اور اشتہارات کے ضابطوں کی تعمیل کرے گا اور اتھارٹی کو اطلاع دیتے ہوئے ادارے کے اندر ایک مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے گا تاکہ اس آرڈیننس کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

    نوٹس میں مزید کہا گیا ہےکہ پیمرا رولز (1) 15 کے تحت براڈکاسٹ میڈیا یا ڈسٹری بیوشن سروس آپریٹر کے ذریعے نشر یا تقسیم کیے جانے والے پروگراموں اور اشتہارات کا مواد آرڈیننس کے سیکشن 20کے قواعد، ضابطہ اخلاق کے شیڈول اے اور لائسنس کی شرائط و ضوابط کے مطابق ہوں گے۔

    الیکٹرانک میڈیا (پروگرام اور اشتہارات) ضابطہ اخلاق 2015 کی دفعات کے مطابق لائسنس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جس میں عدلیہ یا افواج پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی ہو۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ رولز کے مطابق لائسنس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ خبروں، حالات حاضرہ اور ذیلی عدالتی معاملات پر پروگرام معلوماتی انداز میں نشر کیے جاسکتے ہیں، انہیں معروضی طور پر ہینڈل کیا جائے گا اور کوئی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جو عدالت، ٹربیونل یا کسی دوسرے عدالتی یا نیم عدالتی فورم کے فیصلے کو متاثر کرتا ہو۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو مزید ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نشریات آن ایئر کرنے کے لیے ایک موثر تاخیری نظام وضع کیا جائے اور الیکٹرانک میڈیا (پروگرام اور اشتہارات) کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی شق 17 کے تحت ایک غیر جانبدار اور آزاد ادارتی بورڈ تشکیل دیا جائے۔

    پیمرا کا کہنا ہے کہ لائسنس دہندگان اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے پلیٹ فارم کو کوئی بھی ریاستی اداروں کے خلاف کسی بھی طرح سے توہین آمیز ریمارکس کے لیے استعمال نہ کرے۔

    نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 27، 29، 30 اور 33 کے تحت پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2007 کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • عمران خان نے سلمان رشدی بارے جو کہا وہی ہم نے شائع کیا۔ برطانوی صحافی ڈٹ گیا

    عمران خان نے سلمان رشدی بارے جو کہا وہی ہم نے شائع کیا۔ برطانوی صحافی ڈٹ گیا

    لندن:سلمان رشدی کے بارے میں عمران خان کے انٹرویو پرصحافی کا ردعمل بھی آگیا ،اطلاعات کے مطابق ملعون سلمان رشدی کے حوالے سے مشہوربرطانوی اخبار دی گارجین کی طرف سے سابق وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو پر ہونے والی بحث میں ڈرامائی موڑ آگیا ہے جب انٹرویوکرنے والے صحافی نے اصل حقائق پیش کردیئے

    برطانوی صحافی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جو کہا ہم نے وہی شائع کیا ہم اپنے موقف پر قائم ہیں

    عمران خان کا انٹرویو کرنے والے دی گارجین کے صحافی جیولین بارگر نے اس حوالےسے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہےکہ عمران خان سے انٹرویو کے دوران سلمان رشدی کے حوالے سے جوسوالات کیے تھے اس پر اخبارکا دعویٰ ہے کہ عمران خان کاغلط حوالہ نہیں دیا۔ عمران خان بھی یہ مانتے ہیں کہ سلمان رشدی کے حوالےسے سوالات کیئے گئے ہیں

    جیولین بارگر کا کہنا ہے کہ عمران خان یہ نہیں کہہ رہے کہ انٹرویو میں یہ باتیں نہیں ہوئی ، عمران خان کا اصرار صرف یہ ہےکہ اس انٹریو میں جوبات منسوب کی گئی ہے اور جو ریمارکس دیئے گئے ہیں وہ میں نے نہیں کہے ،

    جیولین بارگر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موقف پرکھڑے ہیں اورکہ عمران خان کا انٹرویو لیا گیا اور عمران خان بھی یہ تسلیم کرتے ہیں سلمان رشدی کے حوالے سے اس انٹرویو میں سوالات پوچھے گئے تھے

     

    جیولین بارگر کا کہنا ہے کہ ہم نے اس بات کے ازالے کے لیے اب انٹریوبھی پیش کردیا ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی نہ رہے ،عمران خان سے دی گارجین نے انٹرویو لیا اوراس انٹرویو میں سلمان رشدی کے قتل کے حوالےسے سوالات ہوئے

     

     

    واضح رہے کہ عمران خان نے برطانوی جریدے گارڈین کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے سلمان رشدی پر حملہ افسوسناک قرار دے دیا، شاتم رسول سلمان رشدی نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو کے حملے میں بری طرح زخمی ہوا ، گارڈین نے عمران خان سے سوال کیا کہ سلمان رشدی پر نیویارک میں حملہ ہوا، اس کو کیسے دیکھتے ہیں؟ جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ "میرے خیال میں یہ خوفناک اور افسوسناک ہے،””رشدی (مسلمانوں کی نبی کریم سے محبت) سمجھ گئے، رشدی ایک مسلمان گھرانے سے آئے تھے، رشدی ہمارے دلوں میں بسنے والے نبی کی محبت، احترام، تعظیم کو جانتا ہے، "یہ غصہ میں عمل تو سمجھ گیا لیکن جو ہوا اس کا جواز آپ نہیں بتا سکتے،”

     

     

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے سلمان رشدی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "خوفناک” اور "افسوسناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں سلمان رشدی کی کتاب The Satanic Verses پر عالم اسلام کا غصہ قابل فہم تھا، بالکل ویسا ہی اس طرح کے حملے کا جواز بھی نہیں بن سکتا ہے کہ ان پر حملہ کیا جائے

  • مردان میں باچا خان میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں طالبہ کی لاش برآمد

    مردان میں باچا خان میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں طالبہ کی لاش برآمد

    پشاور:باچاخان میڈیکل کالج مردان کے ھاسٹل میں میڈیکل طالبہ کی پراسرار ہلاکت،سیدوشریف سوات سے تعلق رکھنے والی میڈیکل طالبہ کی لاش ھاسٹل کے کمرےکادروازہ توڑ کرنکالی گئی ، ابتداٸی پوسٹ مارٹم کے مطابق اکتیس سالہ طالبہ کی موت زہرخوانی سے ہوئی،

    مردان سے ذرائع کے مطابق جانبحق ہونے والی طالبہ کے بازو پر نشہ آور انجکشن کے نشانات بھی دیکھے گئے ہین ، ادھراس سلسلے میں تحقیقاتی اداروں نے دو موباٸل سیٹس سمیت اھم ثبوت قبضے میں لے لیےہیں ،یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ طالبہ کی ہلاکت کی تھانہ شیخ ملتون میں رپورٹ درج کروا دی گئی ہے ۔

    مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز باچاخان میڈیکل کالج مردان کےھاسٹل کےکمرے کادروازہ توڑکرفورتھ سمسٹر کی میڈیکل کی طالبہ باچاصحت ولدمحمدیعقوب سکنہ سیدوشریف سوات کی لاش برآمد کردی گٸی،

    تھانہ شیخ ملتون پولیس نے لاش ضروری پوسٹ مارٹم کیلٸے ایم ایم سی ھسپتال منتقل کردیاگیا جہاں پرپوسٹ مارٹم کے بعدلاش لواحقین کے حوالہ کردی گٸی،ابتداٸی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق طالبہ کے بازوں پر نشہ آور انجکشن کے نشانات ہیں اورموت کی وجہ بظاہرنشہ آورانجکشن کی اوور ڈوز ھونے کی وجہ بھی ہوسکتی ہے،تاہم لاش کے مختلف اعضاء لیبارٹری بھیج دیٸے گٸے،

    ادھر باچاخان میڈیکل کالج مردان کے ڈین پروفیسر ڈاکٹرمحمدعباس نے موقف ظاہر کیا کہ فورتھ سمسٹر کی میڈیکل کی طالبہ باچاصحت کی دو رومیٹ طالبات ھاسٹل سے گھر گٸی تھی جبکہ زیربحث میڈیکل طالبہ ھاسٹل کے کمرے میں اکیلی تھی جس کے کمرے کادروازہ صبح نہ کھولنے پر تھوڑ کر اس کی لاش برآمد کردی گٸی،انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کے بعد اصل صورتحال سامنے آجاٸےگی۔