Baaghi TV

Author: News Editor

  • این اے 245 ضمنی انتخاب؛ کس کا پلڑا کتنا بھاری؟عوام کس کو پسند کرتے ہیں:کل پتے لگ جان گے

    این اے 245 ضمنی انتخاب؛ کس کا پلڑا کتنا بھاری؟عوام کس کو پسند کرتے ہیں:کل پتے لگ جان گے

    کراچی :کل اتوارکو کراچی کے حلقے NA245 میں ضمنی الیکشن کا معرکہ سجنا ہے۔ پہلے سے ہرکوئی اپنی مرضی کی پیشن گوئی کررہا ہے ، مگرجیتے گا کون اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ، اس حلقے کے نتائج کئی حوالوں سے ملک کی 2 سیاسی جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔

     

     

    کراچی کے یہ  حلقہ این اے 245 ضمنی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے، قومی اسمبلی کے حلقے میں سخت مقابلے کی توقع ہے کراچی میں موسلا دھار بارش،سیلابی صورتحال اوراس سے پہلے عیدالاضحیٰ اور دیگر عام تعطیلات کے باعث انتخابی مہم شدید متاثرہوئی ہے، بارش آج بھی ہورہی ہے مگرکل اگرموسم خراب رہا تو جواپنے ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن پر لانے میں کامیاب رہا وہ الگے مرحلے میں بھی کامیاب ہوسکتا ہے

     

     

    ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کو مرکز میں مخلوط حکومت میں اپنے اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ نشست ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی جنہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر فاروق ستار کو 56 ہزار 673 ووٹ لے کر شکست دی تھی جبکہ ستار کے 35 ہزار 429 ووٹ تھے۔

    ان انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے محمد احمد رضا نے 20 ہزار 737 ووٹ، ایم ایم اے کے سیف الدین نے 20 ہزار 143 ووٹ، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ طارق نذیر نے 9 ہزار 682 ووٹ، پی ایس پی کے ڈاکٹر صغیر احمد نے 6 ہزار 222 ووٹ حاصل کیے۔ احمد نے 890 ووٹ، اے این پی کی ثمینہ ہما میر نے 606 ووٹ، آزاد امیدوار سلیم سچوانی نے 996 ووٹ، ارشد علی نے 569 ووٹ، محمد جمیل نے 524 ووٹ، عبدالخورشید خان نے 183 ووٹ اور عبدالانیس خان نے 80 ووٹ حاصل کیے۔

    اس حلقے میں 166,869 ووٹ ڈالے گئے۔ جن میں سے 2,866 کو باطل اور 164,003 کو درست قرار دیا گیا۔ انفرادی اعداد و شمار کے مطابق مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت نے ایم کیو ایم کے امیدوار کو 21 ہزار 244 ووٹوں سے، ٹی ایل پی کے امیدوار کو 35 ہزار 936 اور ایم ایم اے کے امیدوار کو 36 ہزار 530 ووٹوں سے شکست دی تھی۔

    21 اگست کو ہونے والے اس ضمنی انتخاب میں این اے 245 کی نشست کے لیے سترہ امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں پی ٹی آئی کے محمود باقی مولوی، ایم کیو ایم کے معید انور، ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا اور پی ایس پی کے سید حفیظ الدین نمایاں ہیں۔

    پی پی پی کے محمد دانش خان اور جے یو آئی کے امین اللہ نے اپنے امیدواروں کو واپس لے لیا اور پی ڈی ایم اتحاد کے فیصلے کے مطابق ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں‌

    اس سے پہلے ایم کیوایم یہ الزام لگاتی رہی ہے کہ اس سے یہ حلقہ چھینا گیا ، 2018 کے انتخابات میں کراچی میں اس کا مینڈیٹ چرایا گیا تھا، لیکن اب ایم کیو ایم کو اپنے دعوے کی حقیقت کا علم ہوجائے گا کہ کیا واقعی یہ حلقہ چھینا گیا تھا یا لوگوں نے پی ٹی آئی کو وو ٹ دیا جس طرح اس الیکشن میں بھی یہی خیال کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی یہ سیٹ جیت سکتی ہے

    ایم کیوایم اب مکمل طور پر تقسیم ہوچکی ہے اور اس حلقے میں ایم کیو ایم کے چار دھڑوں کے اپنے اپنے امیدوار ہیں‌،لائنز ایریا جہاں اردو بولنے والوں کی اکثریت رہتی ہے وہاں اس بار آفاق احمد نے اپنا مضبوط امیدوار کھڑا کیا ہے جبکہ مصطفی کمال بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

    محمود مولوی علی زیدی کے قریبی دوست ہیں ۔ پیسہ اچھا خاصا خرچ کیا جارہا ہے ۔امید کی جارہی ہے کہ محمود مولوی اس وقت ایم کیوایم کی تقسیم کی وجہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اورپی ڈی ایم کی حمایت بھی شاید ایم کیوایم پاکستان کو یہ سیٹ نہ جتوا سکے

     

    جہاں تک تعلق ہے ٹی ایل پی کا تو 2018 میں تحریک لبیک 22 ہزار ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی۔مگراس وقت یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اصل مقابلہ ٹی ایل پی اور پی ٹی آئی میں ہو ،مقامی حالات کا جائزہ لینے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس حلقے میں تین جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ ہو

     

     

    این اے 245 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار ہے ، جن کے لئے 263 پولنگ اسٹیشن اور 1052 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔

    263 میں 203 پولنگ اسٹیشز کو انتہائی حساس اور باقی کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

    ضمنی انتخاب کو ہر صورت غیر جانبدار، شفاف اور پُر امن بنانے کے لیے پولیس اور رینجرز کے علاوہ فوج کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ فوج اور رینجرز کو انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات کیا جائے گا۔

  • این اے 118: عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کیخلاف اپیل دائر

    این اے 118: عمران خان کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کیخلاف اپیل دائر

    لاہور:ننکانہ صاحب میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 118 سے سابق وزیراعظم عمران خان ( Imran Kahn ) کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے خلاف الیکشن ٹریبیونل میں اپیل دائر کردی گئی ہے۔

    اپیل حلقے سے امیدوار شذرہ منصب کھرل نے اپنے وکیل خالد اسحاق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے۔ اپیل کنندہ کا کہنا ہے کہ ریٹرننگ آفیسر نے حقائق کے برعکس کاغذات نامزدگی منظور کیے۔

    اپیل کنندہ نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف کو قومی اداروں سے چھپایا۔ عمران خان نے جان بوجھ کر اپنے اور اہلیہ کے اثاثہ جات چھپائے۔

    دائر اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان نے ریٹرننگ افسر کو اوتھ کمشنر سے تصدیق کیے بغیر کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

    اپیل کنندہ نے استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن ٹربیونل ریٹرنگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ الیکشن ٹربیونل عمران خان کو حلقہ این اے 118 سے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 5 اگست کو تحریک انصاف کے ارکان کے استعفوں کی منظوری کے بعد خالی ہونے والے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں میں ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کیا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق ان حلقوں کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 10 سے 13 اگست تک جمع کرائے جاسکتے تھے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات کی جانچ پڑتال 17 اگست تک کی گئی، جہاں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ 25 ستمبر کو ہوگی۔

    9 حلقے کون کون سے ہیں؟

    الیکشن کی جانب سے جاری کئے گئے شیڈول کے مطابق ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کے حلقہ 22 مردان، حلقہ 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 237 ملیر کراچی، این اے 239 کورنگی اور این اے 246 کراچی ساؤتھ میں ہوں گے۔ یہ نشستیں تحریک انصاف کےارکان کےاستعفوں کے باعث خالی ہوئی تھیں۔

    عمران خان کا 9 حلقوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان

    5 اگست کو ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری ہونے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے تمام 9 حلقوں سے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔

    اسلام آباد میں سینیر صحافیوں سے ملاقات میں عمران خان کا کہنا تھا کہ مخالفین کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑوں گا۔ مخالفین مجھے سنگل آؤٹ کرنا چاہتے ہیں مگر میں ہر میدان میں اُن کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عام انتخابات اسی سال ہوں گے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا تھا کہ اُن سے دو بڑی غلطیاں ہوئی ہیں۔ سکندر سلطان راجہ کا بطور چیف الیکشن کمشنر تقرر میرا بلنڈر تھا۔ بولے دوسری بڑی غلطی کیا تھی یہ ابھی نہیں بتا سکتا۔

    ادھر دوسری طرف اس سے پہلے تحریکِ انصاف کےچئیرمین عمران خان نے فیصل آباد سےکاغذات نامزدگی مسترد ہونےکا فیصلہ چیلنج کردیا تفصیلات کےمطابق تحریک انصاف کےچیئرمین عمران خان نےاین اے108 فیصل آباد سےکاغذات نامزدگی مسترد ہونےکافیصلہ لاہورہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کیا۔

    سربراہ تحریک انصاف کی جانب سے ریٹرنگ افسر کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کی۔

     

    این اے 118 کے بعد این اے 108 میں عمران خان کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں

    درخواست میں عمران خان نے ریٹرننگ افسرکا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کی۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد وحید پر مشتمل الیکشن ایپلٹ ٹریبونل عمران خان کی الیکشن اپیل پر سماعت کرے گا۔

    عمران خان کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے اثاثہ جات کی تفصیلات کے متعلق بلاجواز اعتراض لگا کر کاغذات نامزدگی مسترد کیے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 108 فیصل اباد سے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئےتھے۔ ضلعی الیکشن کمشنر نے عمران خان کے این اے 108 کے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق کاغذات نامزدگی مسترد کیےتھے ۔

    عمران خان کے 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کے خلاف درخواست،عدالت کا حکم آ گیا

    ضلعی الیکشن کمشنر کے مطابق اثاثہ جات سے متعلق اعتراضات کا تسلی بخش جواب نہ ملنے پر عمران خان کے کاغذات مسترد ہوئے۔

    ریٹرننگ آفیسر این اے 108 نے کاغذات کی جانچ پڑتا کے بعد انتخابی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی تھی ۔ ریٹرننگ افسر فیصل آباد نے 12 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے، عمران خان کو طلب کیا گیا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے، سابق وزیراعظم کے نامزدگی کاغذات میں دستخطوں کا فرق تھا۔

    ریٹرننگ آفیسر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کاغذات دستخط تصدیق معاملے کی وجہ سے مسترد نہیں ہوئے.الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ واجبات کے گوشوارے غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سےکاغذات نامزدگی مسترد کیے گیے.

    اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر مملکت فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ فیصل آباد کے ریٹرننگ افسر نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی کو بلا جواز مسترد کیا، سابق وزیراعظم کے 9 حلقوں میں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے تھے، یہ اعتراضات واٹس ایپ کے ذریعے سب کو بھجوائے گئے تھے۔

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہی کاغذات 8 حلقوں میں جمع کرائے گئے، تمام کاغذات پورے ہونے کے باوجود کاغذات کو مسترد کیا گیا، اس ریٹرننگ افسر پر ہمیں آئندہ بھی اعتماد نہیں ہوگا، مسلم لیگ کے ایک امیدوار پانچ سال سے واسا کے ڈیفالٹر ہیں، پانچ سال کے ڈیفالٹرکے امیدوار کے کاغذات کو منظور کیا گیا۔

    بعدازاں تحریک انصاف نے این اے 108 فیصل آباد سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اپیل کی تیاری شروع کردی گئی، تحریک انصاف ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو چیلنج کریگی۔

    یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کے 11 اراکین کے استعفے منظور کرلئے تھے، ان استعفوں میں این اے 108 کا حلقہ بھی شامل تھا، 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے فرخ حبیب نے 112740 ووٹ لیکر عابد شیر علی کو شکست دی تھی۔

  • شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے

    شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے

    شہباز گل کے حوالہ سے چند سوالات،ہدف کچھ اور ہے
    ،اطلاعات کے مطابق اس وقت  پاکستان میں شہبازگل پرتشدد کے حوالے سے ہرطرف بحث ہورہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک طرف ملک میں سیلاب اور بارشیں ہیں ، اس دوران یہ تشدد کی بحث کس نے اور کیوں شروع کروائی باغی ٹی وی کچھ حقائق سامنے لایا ہے

     

    باغی ٹی وی حقائق کے مطابق یہ معاملہ شہبازگل کی رہائی کا نہیں بلکہ کچھ اور ہے ،اس معاملے کے پیچھے پاکستان کی ایک اہم صحافتی شخصیت اور خود عمران خان ہیں جن کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہے

    حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ شہبازگل گرفتاری کے بعد تین بار عدالت پیش ہوئے مگرتشدد کا ذکر نہیں ہوا  ، اس کےبعد شہبازگل اڈیالہ جیل منتقل ہوئے جو کہ پنجاب حکومت کے زیرکنٹرول ہے وہاں طبی معائنہ ہوا مگر تشدد کا ذکر نہیں ہوا ، حالانکہ اگرایسی بات تھی تو ضرور اس کا ذکرکیا جانا چاہیے تھا اس کے بعد شہبازگل سے اڈیالہ جیل میں صوبائی وزیرداخلہ کرنل ریٹائرڈ ہاشم کی ملاقات ہوئی لیکن انہوں نے کہا کہا کہ تشدد نہیں ہوا

    باغی ٹی وی حقائق پیش کررہا ہے کہ اصل میں اس سارے کھیل کے پیچھے ایک بہت بڑی صحافتی شخصیت ہے ،یہ حقیقت ہے کہ شہبازگل پر تشدد کی بات سب سے پہلے حامد میر نے کی جس کا مقصد پاک فوج اور ملک کے سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنا تھا پھرمنصوبہ بندی کے ساتھ حامد میر کے بعد عمران خان نے تشدد کا ذکر کیااور اس کھیل مین دونوں کی ملی بھگت ہے ، پہلے صحافی حامد میر نے اس کہانی کا آغازکیا پھرعمران خان کو کہا گیا کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھائیں

    حقیقت یہ ہے کہ حامد میر اور عمران خان دونوں کا ہدف پاک فوج اور ملک کی سلامتی کے ادارے تھے ، حامد میر عمران خان کے ساتھ مل کر پاک فوج کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ، حامد میر اس سارے کھیل کا مرکزی کردار ہے ان حالات میں جب شہبازگل پر تشدد کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ بھی آگئی ہے تو یہ بحث اب ختم ہونی چاہیے تھی لیکن یہ دونوں احباب معاملے کو قوم کے سامنے بار بار رکھ رہے ہیں تاکہ قوم ان حقائق پر پاک فوج کے خلاف کھڑی ہوجائے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ایک طرف بارشیں اور سیلاب ہے قوم اس میں پھنسی ہوئی ہے عمران خان شہبازگل پر مبینہ تشدد کے معاملے کو ہوا دے رہا ہے تاکہ یہ معاملہ قوم کے سامنے پیش ہو اور قوم اس تشدد کے معاملے پر اپنے جزبات کا اظہارکرے، عمران خان نے اقتدار جانے کے بعد نفرت کی سیاست کی ہے اور اداروں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، عمران خان کی جماعت کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اداروں پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں، عمران خان اور انکی پارٹی کے رہنماؤں کو ملکی سلامتی سے زیادہ وزیراعظم کی کرسی عزیز ہے

  • امریکی تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہ رہ سکے:فائرنگ،قتل وغارت گری عام

    امریکی تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہ رہ سکے:فائرنگ،قتل وغارت گری عام

    واشنگٹن :امریکی تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہ رہ سکے:فائرنگ،قتل وغارت گری عام ،اطلاعات کے مطابق حال ہی میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات تقریباً ایک دہائی میں سب سے زیادہ تعداد میں پہنچ گئے۔

    گن کنٹرول کرنے کے حوالے سے ایک تنظیم ٹاؤن فار گن سیفٹی کے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ 1 اگست 2021 سے 31 مئی 2022 کے درمیان پری اسکولوں اور K-12 اسکولوں میں 193 "فائرنگ کے واقعات” رپورٹ ہوئے۔ یہ پچھلے تعلیمی سال سے تین گنا زیادہ ہے، جس میں گولی باری کے 62 واقعات ہوئے، اور 2018-2019 تعلیمی سال کے دوران 75 واقعات کے پچھلے اونچے واقعات سے قابل ذکر اضافہ، دی ہل نے رپورٹ کیا۔

    امریکہ : یوم آزادی پریڈ کے دوران فائرنگ،ہلاکتیں:24 گھنٹےگزرنےکے باوجود ہرطرف خوف

    امریکن فیڈریشن آف ٹیچرز اور نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021-22 کے دوران اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات میں 59 افراد ہلاک اور 138 افراد زخمی ہوئے۔ 10 میں سے 6 متاثرین جنہیں جان لیوا گولی ماری گئی تھی اور 10 میں سے 4 زخمی جو زخمی ہوئے تھے وہ اسکولوں کے موجودہ یا سابق طلباء تھے جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے، "پچھلے 20 سالوں سے، طلباء، اساتذہ اور والدین نے اسکولوں میں مسلسل فائرنگ کی حقیقت کے ساتھ زندگی گزاری ہے،” رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے، "اس تشدد کا بدترین دور 2021-2022 کے تعلیمی سال میں رہا، جس میں 2013 کے بعد فائرنگ کے واقعات کی اوسط تعداد تقریباً چار گنا ہے۔

    ایوری ٹاؤن نے 2013 میں بندوق سے ہونے والے تشدد کے واقعات کا سراغ لگانا شروع کیا اور 2013-14 کے تعلیمی سال میں فائرنگ کے 36 واقعات کی اطلاع دی۔

    امریکہ کی پاکستان کو دھمکیاں، لیکن آپ نے گھبرانا نہیں. کیوں، دیکھیں اس ویڈیو میں

    تنظیم نے متعدد طریقوں کی بھی تفصیل دی ہے جن کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں بندوق کے تشدد کو روکا جا سکتا ہے، جس میں بندوق کے سخت قوانین کو نافذ کرنا اور اسے نافذ کرنا، نیم خودکار ہتھیاروں کی خریداری کے لیے عمر بڑھانا اور بندوق کی تمام فروخت پر پس منظر کی جانچ کی ضرورت شامل ہے۔

    یہ رپورٹ ٹیکساس کے اوولڈے میں راب ایلیمنٹری میں تباہ کن اسکول شوٹنگ کے تین ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں 19 طلباء اور دو اساتذہ ہلاک ہوئے تھے۔

    فائرنگ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل اس وقت جانچ پڑتال میں آیا جب یہ اطلاع ملی کہ افسران نے کلاس روم کے باہر ہال میں ایک گھنٹے سے زیادہ انتظار کیا جہاں شوٹر موجود تھا۔

  • چین کی ’اسکائی ٹرین‘  جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    چین کی ’اسکائی ٹرین‘ جو ہوا میں معلق رہتی ہے

    بیجنگ: اب چین نے اپنی پہلی معلق میگلیو لائن کی رُنمائی کی ہے جس کو مستقل مقناطیسوں سے بنایا گیا ہے۔ اس کے متعلق انجینئروں کا دعویٰ ہے کہ یہ توانائی کی ترسیل کے بغیر بھی ایک ’اسکائی ٹرین‘ کو ہوا میں معلق رکھ سکتی ہے۔

     

    چینی اور روسی صدور کی انڈونیشیا میں جی 20 اجلاس میں شرکت

    ریڈ ریل نامی 2600 فٹ طویل تجرباتی ٹریک جنوبی چین کے جیانگ شی صوبے کی شِنگ گو کاؤنٹی میں بنایا گیا ہے۔
    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس ٹریک میں طاقتور مقناطیس استعمال کیے گئے ہیں جو مستقل مدافع قوت پیدا کرتے رہتے ہیں اور یہ قوت اتنی ہوتی ہے کہ 88 مسافروں کے ساتھ ایک ٹرین کو ہوا میں اٹھا سکے۔

    موجودہ میگلیو لائنز کے برعکس یہ معلق ریل زمین سے 33 فٹ اوپر کام کرتی ہے۔ یہ ٹرین ریل کو چھوتی بھی نہیں اور اس کے نیچے 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے خاموشی کے ساتھ چلتی ہے۔

    جنوبی سمندری چین میں کشیدگی،تائیوان امریکہ نےباہمی تجارتی مذاکرات کا اعلان کردیا

    الیکٹرو میگنٹس کے بجائے مستقل مقناطیس کے استعمال کے ساتھ مزاحمت میں کمی کا مطلب ہے کہ اس کے لیے تھوڑی مقدار میں بجلی چاہیے ہوگی جو انجن کو آگے دھکیلے گی۔جیانگ شی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین کے مطابق اس کی تعمیری لاگت بھی کم ہے۔ یہ ٹرین سب وے کی لاگت کے دسویں حصے میں بنائی جاسکتی ہے۔

    چین کی ہوا میں معلق "اسکائی ٹرین”جو بجلی کےبغیربھی سفرکرسکتی ہے

  • سلمان رشدی بارے عمران خان کے بیان کے بعد ہمارا موقف سچا ثابت ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمان

    سلمان رشدی بارے عمران خان کے بیان کے بعد ہمارا موقف سچا ثابت ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد:سلمان رشدی بارے عمران خان کے بیان کے بعد ہمارا موقف سچا ثابت ہو گیا۔اطلاعات کے مطابق جے یوآئی فضل الرحمن گروپ کے سربراہ فضل الرحمن نے کہاکہ کہ سلمان رشدی بارے عمران خان کے بیان کے بعد ہمارا موقف سچا ثابت ہو گیا

    فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آسیہ ملعونہ اورعبدالشکورقادیانی کواپنی حکومت میں رھا کرنےکےبعداب حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنےوالےملعون سلمان رشدی کےحق میں بیان دینےکےبعدعمران خان نےھمارےروزاول کےموقف کوپھرسچاثابت کیاھے

     

    فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ وہ اسلام اور پاکستانیت کےلبادےمیں بیرونی اوربالخصوص یہود کاایجنٹ ھے

    یاد رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ عمران خان کے سخت مخالفین میں سے ہیں اورہمیشہ عمران خان کوآڑے ہاتھوں لیا ہے ، آج بھی انکا یہ بیان عمران خان کے خلاف اپنے پرانے موقف کی تائید ہے جس میں وہ عمران خان کو یہود کا ایجنٹ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تو پہلے دن سے کہتے تھے کہ عمران خان پاکستان کا خیرخواہ نہیں ، عمران خان کی بجائے قوم کو ہمارے پیچھے چلنا چاہیے

  • کیا عمران خان کی غداری کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کی رہائی کے لئے ریلی نکالنا اس کے جرم کی تائید نہیں؟

    کیا عمران خان کی غداری کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کی رہائی کے لئے ریلی نکالنا اس کے جرم کی تائید نہیں؟

    اسلام آباد:کیا عمران خان کی غداری کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کی رہائی کے لئے ریلی نکالنا اس کے جرم کی تائید نہیں؟یہ سوال اب سوشل میڈیا پرکچھ صارفین پوچھ رہے ہیں ، اس حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں کچھ اہم گفتگو بھی ہے جسے سننا بہت ضروری ہے

    اس ویڈیو میں عمران خان کہتے ہیں‌ کہ عدالت کے حکم کے باوجود پولیس نے ہمارا راستہ روکا، پولیس نے مجھے شہباز گل سے ملاقات نہیں کرنے دی، پولیس بتائے وہ کس سے آرڈرلے رہی ہے، بتایا جائے ملک میں قانون یا ڈنڈے کی حکمرانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کل شہبازگل کے لیے ملک گیر ریلی نکالیں گے، اسلام آباد کے لوگوں کو ریلی میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، شہبازگل پر اگر ٹارچر ہو سکتا ہے تو کسی پر بھی ہوسکتا ہے، کل مغرب کے وقت ریلی نکالی جائے گی۔ میڈیا کا منہ بند کرکے چوروں کومسلط کیا جارہا ہے، ہم ان چوروں کی غلامی کبھی قبول نہیں کریں گے۔

     

     

    اس ویڈیو میں فیصل جاوید خان بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ شہبازگل کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا ، ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے ، ایک اورویڈیو کلپ میں شہباز گل کچھ طنز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اورپھراس کے بعد شہبازگل کی اسلام آباد پولیس کی موجودگی میں تکلیف کی وجہ سے آہ وبکا کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں

    اس ساری حقیقت کو پیش کرنے کےبعد صارف پوچھتا ہے کہ کیا اب بھی کوئی گنجائش ہے کہ اس شخص کو رعایت دی جائے

    کہنے والے نے پوچھا ہے کہ کیا عمران خان کی غداری کے مقدمے میں گرفتار شہباز گل کی رہائی کے لئے ریلی نکالنا اس کے جرم کی تائید نہیں؟

  • صدر مملکت نے 128 وکلاء کی بطور ایڈیشنل ڈپٹی اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل تقرری کی منظوری دیدی

    صدر مملکت نے 128 وکلاء کی بطور ایڈیشنل ڈپٹی اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل تقرری کی منظوری دیدی

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 128 وکلاء کو مختلف سٹیشنوں پر ایڈیشنل، ڈپٹی اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے طور پر تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

    ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت نے موجودہ 118 ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی بھی منظوری دی۔

    صدر نے سنٹرل لا آفیسرز آرڈیننس کے تحت تقرریوں اور برطرفی سے متعلق نوٹیفکیشن اور وزارت قانون و انصاف کی طرف سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دی۔

     

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”531874″ /]

    ذرائع کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 128 وکلاء کو مختلف سٹیشنوں پر ایڈیشنل، ڈپٹی اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے طور پر تعینات کرنے کی منظوری دی ہے، ایوان صدر نے جمعہ کو بتایا۔

    صدر نے موجودہ 118 ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ڈپٹی اٹارنی جنرل اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی بھی منظوری دی۔

    چوہدری عامر رحمان کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل IV اسلام آباد سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل I اسلام آباد تعینات کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں صدر مملکت نے مرزا نصر احمد کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل-I، لاہور سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل-II، لاہور منتقل کرنے کی منظوری دی۔وزیر ولایت علی کی بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل گلگت بلتستان تقرری کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔

    صدر نے سنٹرل لا آفیسرز آرڈیننس کے تحت تقرریوں اور برطرفی سے متعلق نوٹیفکیشن اور وزارت قانون و انصاف کی طرف سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دی۔

    ذرائع کے مطابق 12 وکلا کو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے جن میں عثمان رسول گھمن، محمد اقبال، محمد نسیم، محمد بشیر، محمد عثمان نواز، مس عذرا بتول کاظمی، احمد رشید، شوکت نواز اعوان، سر بلند خان، خالد محمود، محمد جواد ارسلان اور یاسر عرفات شامل ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی میں 13 لاہور میں 31 ملتان 9 بہاولپور 5 کراچی 16سکھر5 لاڑکانہ 2 حیدرآباد 3 پشاور 8 ڈیرہ اسمٰعیل خان 1 ایبٹ آباد 3 بنوں 2سوات منگورہ 2 کوئٹہ 7 اور گلگت بلتستان 1 لاافسرتعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے

  • لاہور میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ پرمالکان کا تشدد، میاں بیوی گرفتار

    لاہور میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ پرمالکان کا تشدد، میاں بیوی گرفتار

    لاہور: 10 سالہ گھریلو ملازمہ پر مالکان کی جانب سے تشدد کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر متاثرہ بچی کو بازیاب کروا لیا۔اطلاعات کے مطابق اقبال ٹاؤن کے علاقے میں 10 سالہ بچی فاطمہ فرحان نامی شخص کے گھر پر تین ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ظالم مالکن اور اسکا شوہر فرحان بچی پر تشدد کرتے تھے۔

    اطلاع ملنے پر پولیس نے بچی کو بازیاب کر کے تشدد کرنے والے میاں بیوی کو حراست میں لے لیا، متاثرہ بچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ مالکن اس پر تشدد کرتی اور والدین سے بات نہیں کرواتی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ بچی کا میڈیکل کروانے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کیا جائے گا۔

    ادھر ایک اور واقعہ میں بہاولپور میں نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم محمد عاشق کو شیخوپورہ سے گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزم نے یزمان سےفرار ہوکر شیخوپورہ میں پناہ لے رکھی تھے۔ ملزم کو بہاولپور منتقل کرنے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    تفتیشی حکام کے مطابق نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم تفتیش جاری ہے،تمام حقائق جلد سامنے آجائیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں نوجوان کو ایک شخص پر بری طرح تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

  • سینیٹر الیاس بلور کو جعلی پولیس افسر نے کیسے گیارہ لاکھ کا چونا لگایا؟تفصیلات آگئیں

    سینیٹر الیاس بلور کو جعلی پولیس افسر نے کیسے گیارہ لاکھ کا چونا لگایا؟تفصیلات آگئیں

    پشاور:عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر الیاس احمد بلور کو جعلی پولیس افسر نے کال کر کے دس لاکھ اٹھانوے ہزار کا چونا لگا دیا۔تھانہ کینٹ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    سینیٹر الیاس احمد بلور کی جانب سے تھانہ کینٹ میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ایس آئی شاہ صاحب نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ،آپ کا بھانجا لڑکیوں ساتھ رنگ رلیاں مناتے پکڑا گیا ہے اگر اسکو بچانا چاہتے ہوں تو دس لاکھ اٹھانوے ہزار ایزی پیسہ بھجوا دو۔میری اس سے بات بھی کروائی گئی جو رو رو کر کہہ رہا تھا بابو میری جان بچا لو۔

     

    سینیٹر الیاس بلور کے مطابق انہیں رقم بجھوانے کے لئے نمبر بھی فراہم کئے گئے۔میرے لئے یہ بات پریشان کن تھی لہذا میں نے فوری کسی تصدیق کے بغیر ایف آئی آر میں درج کرائے گئےُنمبروں پر رقم بھجوا دی۔

    بعدازاں میں نے اپنے بھانجے سہیل شمشاد سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو وہ پشاور میں اپنی فیکٹری میں موجود تھا۔

    درخواست ہے کہ اس معاملے کی فوری انکوائری کی جائے اور ایسی کالی بھیڑوں کو جو محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث ہیں،قرار واقعی سزا دی جائے۔تھانہ کینٹ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی۔