Baaghi TV

Author: Regional News

  • ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک دن دو سانحے اور مجرم ایک!!!!تحریر: غنی محمود قصوری

    16 دسمبر 1971 کو دشمن کی مدد سے اپنے ہی غداروں نے مکتی باہنی بنا کر پاکستان کو دولخت کر دیا تھا حالانکہ دنیا گواہ ہے کہ چند دن کے گولہ بارود ہونے کے باوجود ہماری بہادر افواج تقریبا سات ماہ تک لڑی اور آخر کار عالم اسلام کی وہ مایہ ناز فوج کے جس نے 1948 اور 1965 میں انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد کروایا تھا اور عرب اسرائیل جنگ میں کہ جب عالم اسلام کے کئی خلیجی ملک اسرائیل کے قبضے میں جا چکے تھے اس وقت تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا تھا اس اسلامی جہادی فوج نے ورنہ یقینا اسرائیل ایک اٹامک پاور ہوتا اور دنیا کا نقشہ آج یہ نا ہوتا مگر افسوس کہ وہ فوج اپنوں کی غداری کی بدولت ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہو گئی اور پھر ڈھاکہ ڈوب گیا
    ہم نہیں بھولے سقوط دھاکہ اور ہم نہیں بھولے سانحہ اے پی ایس 16 دسمبر 2014 کو ایک بار پھر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہمارے ملک کے اندر سے ہی غداروں اور دین کے نام نہاد دعویداروں کو خریدا اور پشاور میں بچوں کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کرتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد بچوں کو شہید کر دیا اور اس بار مکتی باہنی کا کردار دین کے نام نہاد دعویداروں ٹی ٹی پی یعنی تحریک طالبان پاکستان نے ادا کیا مگر میں قربان افواج پاکستان اور عوام پاکستان پر کہ جنہوں نے مل کر مقابلہ کیا اور ٹی ٹی پی کے تمام سورمے جہنم واصل کر دیئے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا کہ اب ارض پاک کے بچے سکول نہیں جائینگے
    میرے ملک کے دشمنوں دکھ تو ضرور ہوتا ہے ان گزرے واقعات کو یاد کر کے مگر ہمارا حوصلہ پھر بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے لئے رب نے ناکامی رکھی ہی نہیں کیونکہ ہم اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے جائیں یا لڑتے ہوئے دشمن کو مار دیں ہر صورت ہم ہی کامیاب و کامران ہوتے ہیں وہ ہمارے پولیس و فوج کے جوان ہو یا آرمی پبلک سکول کے اساتذہ و نہتے معصوم بچے ان شاءاللہ کامیاب و کامران ہیں
    ہاں مگر دشمنوں خارجیوں دین و ملت کے باغیوں ناکامی صرف تمہارے لئے ہی ہے کہ تم نے مکتی باہنی بنا کر میرے اپنوں کو میرے خلاف کرکے ڈھاکہ کا سقوط تو کروا لیا مگر آج بھی دیکھ لو بنگلہ دیش کے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگ پاکستان سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور دیکھ لو بنگلہ دیش بنانے والوں کا انجام بھی ذرا کہ کیسے اپنی ہی بنگلہ دیشی فوج کے ہاتھوں اپنے بیوی بچوں سمیت قتل ہو گئے اور نشان عبرت بن گئے اور تم نے اپنی اس حزیمت کا بدلہ لینے کیلئے پشاور میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کو شہید کروا دیا اور تمہارا خیال تھا کہ اب پاکستان کے بچے ڈر جائیں گے اور سکول کی راہ نہیں لینگے مگر دیکھو ظالموں تم پھر ناکام ہو گئے
    اللہ کی قسم ایسی درندگی کی مثال نہیں ملتی تم نے سوچا تھا اے پی ایس کو ویران کرکے ملک کے باقی سکولوں میں دہشت کی فضا قائم کرکے بچوں کو سکول سے دور کر دو گے مگر آؤ دیکھو اسی اے پی ایس کے سکول کے بچوں کے حوصلے پہلے سے بھی زیادہ بلند ہیں اور اے پی ایس اسی شان و شوکت سے قائم و دائم ہے مگر اب تو ہمارے معصوم بچے بھی بے خوف ہو کر تمہیں للکار رہیں ہیں کہ جس عمر میں بچے ویڈیو گیم اور چاکلیٹ کھانے کی باتیں کرتے ہیں اب اے پی ایس کے بچے بلکہ پورے ملک کے بچے کہہ رہے ہیں مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
    کیا جب کبھی کوئی دہشت گرد مرتا ہے تب اس کے بچوں نے بدلہ لینے کی بات کی ؟ نہیں بلکل نہیں کیونکہ بچے بھی جانتے ہیں حق کیا ہے باطل کیا ہے دہشتگردوں خارجیوں اللہ کے دین کے دشمنوں تم نے بہت نہلایا اس ارض پاک کو خون سے مگر اللہ کی قسم ہمیشہ تم ناکام ہوئے اور ان شاءاللہ ہوتے ہی رہوگے کیونکہ آج بنگالی بھی مانتے ہیں کہ ہم پاکستان کیساتھ زیادہ مضبوط تھے اب تو پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے والے بھی کہہ رہے جیوے جیوے پاکستان مگر کہاں گئے وہ دہشت گرد اور ان کے یار آج وہ بیرون ممالک اور پہاڑوں غاروں میں منہ چھپائے بیٹھے ہیں
    دنیا نے دیکھا پاکستان کو توڑنے والے خود مٹ گئے کیونکہ اس ارض پاک کی بنیادوں میں سولہ لاکھ شہداء کا خون شامل ہے اور خون کی بنیاد بڑی مضبوط ہوتی ہے ان شاءاللہ تم جتنا مرضی زور لگا لو جتنا لگا چکے اس سے بھی زیادہ لگا کر دیکھ لو پاکستان تھا ہے اور قیامت تک رہے گا ان شاءاللہ کیونکہ اس ملک کے بچے بوڑھے اور جوان سب کا ایک اللہ پر ایمان
    اوہ مودی نجس میرے فوجیوں میرے اے پی ایس کے بچوں کے قاتل تو اب اپنے ہی ملک میں بنگال اور بھارت کے دیگر علاقوں میں اٹھتی ہوئی سونامی کو دیکھ اور ڈر اس وقت سے جب تیرے اس ہندوستان کے اندر کئی پاکستان بنے گے ان شاءاللہ

  • خون سفید ہوگیا چھوٹے بھائی نے بیوہ بھابی اور اس کے بچوں پر زمین تنگ کردی

    خون سفید ہوگیا چھوٹے بھائی نے بیوہ بھابی اور اس کے بچوں پر زمین تنگ کردی

    بستی ملوک(نمائندہ باغی ٹی وی ) خون سفید ہوگیا بڑے بھائی کی وفات کے بعد چھوٹے بھائی نے بیوہ بھابی اور اس کے بچوں پر زمین تنگ کردی وراثتی زمین ہتھیانے کےلئے بھتیجے۔بھتیجی کا سر کھول دیا۔تفصیلات کے مطابق تھانہ بستی ملوک کی حدود میں مرحوم بھائی کی وراثتی زمین ہتھیانے کےلئے اپنے ہی خونی رشتوں کا خون کر دیا۔محمد ایوب نےاپنے والد محمد ادریس کے ہمراہ بتایا کہ میرابڑا بھائی محمد جمشید کچھ عرصہ قبل وفا ت پا گیا تھا جس کی بیوی اور سات بچے میرے ساتھ رہتے ہیں جبکہ میرا دوسرا بھائی فلک شیر بھائی کی وفا ت کےبعد اس کی زمین ہتھیانے کےلئے آئے روز ہم سب کو پریشان کرتا رہتا ہے مرحوم بھائی جمشید کے بچے اپنی وراثتی زمین پر مکان بنانا چاہتے ہیں لیکن فلک شیر 15پر کال کر کے پولیس کو بلوا لیتا ہے زمین کا معاملہ عدالت میں بھی چل رہا ہے گزشتہ روز بھی اس نے بھتیجے اور بھتیجی کو مارا پیٹا ڈانڈا لگنے سے ان کے سر پھٹ گئے پولیس نے ڈاکٹ جاری کرتے ہوئے کاروائی شروع کردی جبکہ دوسرے دن ایوب نے بھی فرضی لڑائی کا بہانا بنا کر پولیس سے ڈاکٹ بنوا لیا اور ہمیں بلیک میل کرنے کےلئے کاروائی کر رہا ہے ہمارے والد بھی حیات ہیں وہ بھی اس سے سخت تنگ ہے ہماری اعلی حکام سے اپیل ہے کہ بلا جواز پریشان کرنے پر اس کے خلاف کاروائی کی جائے اور جو جس کا حق ہے اسے ہی دیا جائے۔
    رانا اظہر منیر نمائندہ باغی ٹی وی ملتان شجاع آباد

  • عوامی بھٹہ مزدور یونین پنجاب کا 24 گھنٹے کے اندر احتجاج کا اعلان

    عوامی بھٹہ مزدور یونین پنجاب کا 24 گھنٹے کے اندر احتجاج کا اعلان

    ۔
    گوجرانوالہ (ادریس نواز سے) عوامی بھٹہ مزدور یونین پنجاب (رجسٹرڈ) نے 24 گھنٹے کے اندر لاھور پریس کلب کے سامنے احتجاج کا اعلان کر دیا۔
    تفصیلات کے مطابق
    عوامی بھٹہ مزدور یونین پنجاب کے صدر محمد حسین وٹو نے کہا ھے۔ کہ نام نہاد بھٹہ مالک اور ایس ایچ او تھانہ صدر وزیرآباد نے ھمارے چیٸرمین اور سابق ایم پی اے پی پی 29 شہباز حسین اور عہدیداران کے خلاف جھوٹہ مقدمہ درج کیا ھے۔ جس کی میں بھرپور مزمت کرتا ھوں۔ اور صدر محمد حسین وٹو نے کہا کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر ایس ایچ او تھانہ صدر وزیرآباد نے اس جھوٹے اور بے بنیاد مقدمہ کو خارج نہ کیا تو تو ھماری پوری عوامی بھٹہ مزدور یونین پنجاب لاھور پریس کلب کے سامنے نام نہاد بھٹہ مالک اور ایس ایچ او تھانہ صدر وزیرآباد کے خلاف پرزور احتجاج کریں گے۔ اور کہا کہ ھماری سی پی او گوجرانوالہ آٸی جی پنجاب اور اعلی حکام سے اپیل ھے کہ ہمیں انصاف دلوانے میں اھم کردار ادا کریں۔

  • "وکلاء بھی ہم لیڈی ڈاکٹرز کے ہاتھوں گائنی وارڈوں  میں اپنی ماءوں کی کوکھ  سے جنم لیتے ہیں” ڈاکٹرز نے دیا بڑا بیان

    "وکلاء بھی ہم لیڈی ڈاکٹرز کے ہاتھوں گائنی وارڈوں میں اپنی ماءوں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں” ڈاکٹرز نے دیا بڑا بیان

    ڈاکٹر حنا اسسٹنٹ میڈیکل سپریڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور نے کہا کہ ہم سانحہ لاہور کارڈیالوجی پر دکھ کا اظہار کرتے ہیں
    تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر حنا اسسٹنٹ میڈیکل سپریڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ڈاکٹر برادری سانحہ کارڈیالوجی پر گہرے دکھ کا اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں ہم لوگ وہ ہیں کہ جو مرتے ہوئے شحض کو اللہ کے بعد سہارا دیتے ہیں اور اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دن رات بغیر کسی امیر غریب کی تفریق کے لوگوں کا علاج کرتے ہیں مگر افسوس کی بات کہ وکلاء برادری نے پڑھے لکھے اور قانون کے رکھوالے ہونے کے باوجود بھی قانون شکنی کا مظاہرہ کیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ہم ان وکلاء کے بھی مسیحا ہیں وکلاء کو مسیحوں کے ساتھ ایسا رویہ قطعا نہیں کرنا چائیے کیونکہ وکلاء بھی ہم لیڈی ڈاکٹرز کے ہاتھوں گائنی وارڈوں میں اپنی ماءوں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں ڈاکٹر حنا نے مذید کہا کہ ہمارے پاس پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کے علاوہ کوئی بھی پولیس کی سیکیورٹی نہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے اور او پی ڈی بند کرنے کا فیصلہ ابھی تمام ڈاکٹرز تنظیموں کے ساتھ مل بیٹھ کر کیا جائے گا وکلاء کو چائیے کے اپنے رویے پر معافی مانگیں اور قوم کے مسیحوں کی عزت کرنا سیکھیں
    رپورٹ غنی محمود قصوری
    ڈسٹرکٹ رپورٹر باغی ٹی وی قصور

  • اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا

    اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا

    ایس پی قصور فہد اور ڈی ایس پی سٹی سرکل عالم شیر کا ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کا دورہ
    تفصیلات کے مطابق ایس پی قصور محمد فہد اور ڈی ایس پی سٹی سرکل عالم شیر نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور کی سیکیورٹی فول پروف ہے لاہور کارڈیالوجی میں آج جو کچھ ہوا وہ انتہائی دکھ کی بات ہے قصور پولیس ڈسٹرکٹ ہسپتال کی سیکیورٹی کے لئے ہر وقت حاضر ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھوں میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا
    رپورٹ غنی محمود قصوری
    ڈسٹرکٹ رپورٹر باغی ٹی وی قصور

  • کیا پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے ؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر معاشرے کے اندر اچھے اور برے افراد پائے جاتے ہیں چند برے افراد کی بدولت اچھے لوگوں کی اچھائی بھی دب کر رہ جاتی ہے بات کرتے ہیں پاکستان میں فحش مواد دیکھے جانے کی تو سب سے پہلے یہ دیکھیں جب بھی رپورٹ جاری ہوتی ہے تب یہ تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان فحش مواد دیکھنے میں پہلے نمبر پر ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس فحش مواد کو دیکھا کتنے اکاءونٹس سے جا رہا ہے اور وہ کل انٹرنیٹ صارفین کا کتنے فیصد ہے
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی اقلیتوں سمیت تقریبا 22 کروڑ ہے جس میں سے 1.85فیصد ہندو اور 1.65 فیصد عیسائی جبکہ قادیانی و سکھ اور لبرلز اس کے علاوہ ہیں پاکستان کی کل آبادی کے 22.2 فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں
    ایک دکاندار کو اپنی آمدن سے غرض ہوتی ہے وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس ایک بندے نے دن میں پانچ بار مجھ سے ایک ہی چیز خریدی ہے بلکہ وہ یہ دیکھے گا کہ یہ چیز دن میں کتنی بار میری دکان سے خریدی گئی ہے وہ جب آگے سے وہی چیز خریدے گا تو یہی بتائے گا کہ فلاں چیز ایک دن میں اتنی بار فروخت ہوتی ہے یہ ہرگز نہیں بتائے گا کہ ایک بندہ دن میں یہ چیز اتنی بار مجھ سے خریدتا ہے
    اگر آپ یوٹیوبر ہیں تو آپ کو اپنے فالوورز سے تو سروکار ہوگا مگر یہ جاننے کی آپ کوشش ہرگز نہیں کرینگے کہ آپ کے ایک فالوور نے کتنی بار آپ کی ایک ہی ویڈیو دیکھی ہے ایک فالوور اگر آپ کی ایک ویڈیو دن میں ہزار بار بھی دیکھے گا تو آپ کے اس ویڈیو کے ہزار ویوورز یعنی دیکھنے والوں میں شمار ہوگا نا کہ یہ ہوگا کہ اس فالوور نے یہ ویڈیو ایک بار ہی دیکھی ہے ایسے ہی ڈارک ویب ہیں آپ ایک دن میں کسی ویب کو سرچ کریں تو اس کے ویوورز بڑھتے جاتے ہیں حتی کہ آپ دن میں ہزاروں مرتبہ اس ایک ویب پر ایک لنک کو اوپن کریں تو جب بھی آپ لنک اوپن کرینگے تو آپ کے ہر بار لنک اوپن کرنے سے ویوورز بڑھتے جائینگے
    مگر یہاں قصور وار ہم بھی ہیں ہم بنا سوچے سمجھے اور بغیر دیکھے ایسے کتنے ہی گندے لنکس اپنے واٹس ایپ گروپوں،فیسبک وال اور ٹویٹر و انسٹاگرام اکاونٹس پر لگا دیتے ہیں جن پر کلک کرتے ہی اس لنک کی ریٹنگ بڑھنے لگتی ہے بھلے آپ اس لنک کو کلک کرتے ہی بنا دیکھے چھوڑ دیں
    پاکستان کے 22.2 فیصد انٹرنیٹ صارفین میں سے بیشتر ان پڑھ ہیں یا پھر کم پڑھے لکھے اس لئے وہ ان چالوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور فوری جاری کردہ فہرست کو آگے شیئر کرتے جاتے ہیں جس سے ہمارے دشمن ممالک کے لوگ اپنا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور پاکستان قلعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    یہی تو ان اسلام و پاکستان دشمن لوگوں کی ففٹھ جنریشن وار کی کامیابی ہے کہ بات آپ کے دشمن کی ذہن آپ کا انٹرنیٹ پیکج اور موبائل فون آپ کا اور باتیں عروج پر آپ کے دشمنوں کی تو معزز قارئین کرام آپ خود سوچیں آپ دن میں کتنی مرتبہ فحش مواد یا ڈارک ویبز دیکھتے ہیں ؟ یاں پھر آپ کے حلقہ احباب کے لوگ ایسی سائٹس کتنی بار دیکھتے ہیں ؟ یقینا نہیں
    تو پھر دشمن کی اس پھیلائی ہوئی شازش کو سمجھیں اور بنا تحقیق کے باتیں اور لنکس آگے فارورڈ کرنے سے پرہیز کیجئے

  • روجھان کے علاقے موضع دیرہ دلدارمیں معصوم بچے کے ساتھ افسوس ناک واقعہ پیش آگیا

    روجھان کے علاقے موضع دیرہ دلدارمیں معصوم بچے کے ساتھ افسوس ناک واقعہ پیش آگیا

    روجھان کے علاقے موضع دیرہ دلدارمیں افسوس ناک واقعہ پیش آیا.

    روجھان کے علاقے موضع دیرہ دلدار میں گورنمنٹ پرائمری سکول کے باہر مسلح تین افراد نے دس سالہ طالب علم کو پکڑ کر ناک کاٹ دیا. تفصیلات کے مطابق معمولی سی بات پر بڑوں سے بدلہ لینے کی بجائے دس سالہ طالب علم محمد ابرھیم کا تیز دھار آلے سے ناک کاٹ دیا گیا. ملزمان فرار دس سالہ ابرھیم کو تشویشناک حالت میں روجھان ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ملتان ریفر کر دیا گیا پولیس اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر روانہ ہوگئی.

  • "کرتارپور میں ہورہا ہے خلاف توقع اور فکر انگیز کام” تحریر : طارق محمود

    2 روز قبل چند دوستوں کے ساتھ کرتار پور جانے کا اتفاق ہوا تقریباً 140 کلومیٹر سفر کرنے کے بعد جب گیٹ پر پہنچے تو پاکستان رینجرز کے جوانوں نے ہیمں فوراً روک لیا اور کہا کہ آپ کیمرہ لے کر اندر نہیں جا سکتے۔ کیمرہ یا مائیک اندر وہی لے کر جا سکتے ہیں جن کے پاس آئی ایس پی آر کا اجازت نامہ نا ہو یہ سننے کے بعد ہم نے سیکورٹی اہلکاروں سے بحث کرنا مناسب نا سمجھا اور اپنے کیمرے باہر رکھ کر اندر چلے گئے جب دربار کرتار پور صاحب میں داخل ہوئے تو وہاں کا منظر ہی کچھ نرالہ تھا ہم نے تقریباً 50 کے قریب کیمرے لوگوں کے پاس دیکھے جو وہاں کے مناظر کو محفوظ کر رہے تھے دوستوں نے استفسار کیا کہ یار ہمیں کیمرے کی اجازت نہیں دی گئی پر یہاں تو لاتعداد کیمرے ہیں یہ کیسے اندر ا گئے ہیں دوستوں کا کہنا تھا کہ یار سب باتیں ہیں پورا سسٹم ہی خراب ہے جس کی اپروچ ہوتی ہے وہ کیمرہ اندر لے آتا ہے ورنہ ایسا کون سا خطرہ ہے جو ہمارے کیمرے سے درپیش ہے اور دوسروں کے کیمرے اس سے استثنیٰ ہیں دوسری بات جس نے دلخراش کیا وہ یہ تھی کہ ہم عام شہریوں کی طرح لائن میں لگ گئے اور سیکیورٹی اہلکار بھی لوگوں کو لائنوں میں رہنے کا بار بار کہہ رہے تھے اسی دوران گاہے بگاہے چند لوگ اہلکاروں سے ا کر کچھ کہتے اور نظم و ضبط کے سارے اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کو فوراً اندر بھیج دیا جاتا۔ یوں نظم و ضبط قائم کروانے والے ہی اس کی دھجیاں بکھیرتے رہے۔ واپسی پر جب گیٹ سے باہر نکلنے لگا تو سوچا ساری صورتحال پر اہلکاروں کا مؤقف ہی لے لوں جب سوال کیا کہ حضور ہمیں کیمرہ کی اجازت نہیں دی گئی لیکن اندر تو بے شمار کیمرے تھے وہ کس دستور کے تحت اندر گئے تو اہلکار کا جواب سن کر جو سکتا طاری ہوا وہ شائد ابھی بھی قائم ہے رینجرز اہلکار کا کہنا تھا کہ صاحب آپ کو پتا ہے جنگل کا قانون ہے جو پروٹوکول والی گاڑیاں ہوتی ہیں ان کو ہم چیک نہیں کرتے ۔ ان میں کیا کچھ اندر چلا جاتا ہے ہمیں کچھ پتا نہیں ہوتا۔ دوسری وجہ اوپر سے فون آنا ہوتا ہے جس کی کال ا جائے اس کو ہم منع نہیں کر سکتے۔ آپ کو ہماری مجبوریوں کو سمجھنا ہو گا اور گزارہ کرنا ہوگا آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں جیسے شہری جو بڑی مشکل سے وقت نکال کر اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد جب محتلف سیاحتی یا مذہبی مقامات پر پہنچتے ہیں اور اپنے کیمرے سے پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو کیمرہ اندر لےجانے سے منع کیوں کیا جاتا ہے حالانکہ غیر ملکی سیاحوں کو کیمرہ اور ڈرون سے کبھی منع نہیں کیا گیا۔ کیا سیکورٹی خدشات صرف اور صرف میرے جیسے دیگر پاکستانی سیاحوں سے لاحق ہیں؟ اور سیکورٹی اہلکاروں کا پروٹوکول یا اپروچ والا رویہ درست ہے اگر ایسا ہے تو پھر سیاحت سے اور پاکستان کے مثبت چہرہ کو دیکھانے سے میری توبہ۔

  • بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!!   تحریر غنی محمود قصوری

    بچوں کا عالمی دن اور کشمیری بچے!!! تحریر غنی محمود قصوری

    آج 20 نومبر ہے اور پوری دنیا میں بچوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد بچوں پر ظلم و تشدد روکنا ان کی تعلیم و تربیت و صحت کا خیال کرنا ،ان سے جنسی زیادتی رکوانا اور بچوں سے محنت و مشقت رکوانا ہے
    یہ دن عالمی طور پر 20 نومبر 1989 سے ہر سال منایا جا رہا ہے تاہم 14 دسمبر 1954 کو اقوام متحدہ میں اس دن کو منانے کیلئے شفارشات پیش کی گئی تھیں
    آج ساری دنیا میں بچوں کے نام پر بڑے بڑے لوگ اور تنظیمیں اس دن کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گی انسانوں تو انسانوں جانوروں کے بچوں کے حقوق کا بھی رونا روئیں گیں مگر افسوس کہ آج عالم اسلام اور بالخصوص مقبوضہ وادی کشمیر کے بچوں کو یکسر نظر انداد کیا جائے گا حالانکہ اس دن کا مقصد ہی بچوں پر ظلم و تشدد رکوانا اور ان کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے انہیں آزاد زندگی گزارنے کے مواقع مہیا کرنا تھا اور شاید اب بھی ایسا ہی ہے مگر صرف مسلمانوں کے بچوں کے لئے ایسا ہر گز ہر گز نہیں
    اقوام متحدہ کہ جس نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا آج وہی تقریبا 4 ماہ سے کشمیری محصور بچوں پر ہونے والے تشدد پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں پوری دنیا کا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں چیخ چیخ کر اقوام متحدہ کو بتا رہی ہیں کہ کشمیری بچے سینکڑوں دنوں سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ان کی تعلیم کا سلسلہ ختم ہے ان کے پاس کھانے کو خوراک نہیں سردی سے بچنے کیلئے گرم کپڑے نہیں بیمار ہونے پر دوا نہیں میسر نہیں اور نومولودوں کیلئے دودھ بھی نہیں مگر افسوس صد افسوس کہ نام نہاد انسانی حقوق کی علمبردار اقوام متحدہ بھارت کو کچھ کہنا تو دور کی بات اپنے طور پر بھی ان مظلوم و مجبور محصور کشمیری بچوں کیلئے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے حالانکہ یہی لوگ کتوں اور بلیوں کے بچوں کے تحفظ کی خاطر اربوں روپیہ خرچ کر دیتے ہیں اور کسی بھی جنگلی جانور کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتے ہیں اور ان بقاء و سلامتی کیلئے ان طیارے ان کے ہیلی کاپٹر تک کئی کئی دن ریسکیو کرتے رہتے ہیں
    مگر افسوس ان کو ہندو فوجیوں کی پیلٹ گنوں سے زخمی و نابینا ہوتے بچے اور ہندو ناپاک کے جنسی تشدد کا نشانہ بنتی آصفہ بانو جیسی معصوم بچیاں نا پچھلے 73 سالوں سے نظر آ رہے تھے اور نا اب نظر آ رہے ہیں وجہ صرف ان بچوں کا مسلمان ہونا ہے تاریخ گواہ ہے اقوام متحدہ کا کردار بھارت کی لونڈی کا سا ہے پچھلے 73 سالوں سے ان کشمیری بچوں کے والدین جبکہ وہ خود بچے تھے اب ان کے بچوں کے بھی بچے ہو چکے وہ تب سے اس اقوام متحدہ کو یاد کروا رہے ہیں کہ ہم کشمیریوں پر ظلم و تشدد ہو رہا ہے ہندو ہمارے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہا ہے ، ہمارے معصوم بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانا بنایا جا رہا ہے اور جانوروں پر استعمال کرنے والی پیلٹ گن ہمارے بچوں پر استعمال کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد عالمی حقوق کی علمبردار درحقیقت عالم کفر کی راکھیل اقوام متحدہ سب کچھ سن دیکھ کر خاموش ہے اور اس کی خاموشی اس کے انسانی حقوق کے نعروں کی نفی کر رہی ہے

  • چکوال میں خونی روڈ نے مزید دو جانیں نگل لیں

    چکوال میں خونی روڈ نے مزید دو جانیں نگل لیں

    چکوال میانوالی روڈ پر القائم مل اور بلکسر انٹرچینج کے درمیان کار اور بس کی ٹکر ہوئی جس کے نتیجہ میں کار میں موجود کل 3 افراد میں سے 02 افراد جانبحق جبکہ 1 زخمی ہوا،ریسکیو 1122 اسٹیشن چکوال سے 3 ایمرجنسی گاڑیاں روانہ کی گئیں ریسکیو آپریشن کمانڈر نے بتایا کہ کار میں موجود افراد گاڑی میں پھنسے ہوئے تھے جنہیں گاڑی کاٹ کر نکالا گیا 78 سالہ روات کے رہائشی صوفی جاوید ولدخوشی محمد نامی زخمی کو ابتدائی طبعی امداد مہیا کرنے کے بعد سٹی ہسپتال تلہ گنگ منتقل کر دیا گیا کار روات سے میال (تلہ گنگ) جارہی تھی جبکہ مسافر بس اوچھالی سے راولپنڈی جا رہی تھی جو قمنے سامنے سے ٹکرائے جانبحق افراد میں روات کے رہائشی 40 سالہ گلزار احمد ولدزشید احمد اور 45 سالہ الیاس ولدمحمد اسلم شامل ہیں جنہیں ریسکیو 1122 نے سٹی ہسپتال تلہ گنگ منتقل کر دیا۔ یاد رہے کار کے مسافر میال میں ایک جنازہ میں شرکت کیلئے جا رہے تھے۔