سلانوا لی ۔ (اے پی پی) سلانوا لی کے قریب ٹریفک حادثہ تیز رفتار ڈمپر نے مو ٹرسائیکل سوار طالب علم کو کچل د یا۔ تیزرفتار ڈمپر نے مو ٹرسائیکل سوار طالب علم کو ٹکر دے ما ر ی جس سے مو ٹرسائیکل سوار میٹر ک کا طالب علم محمد او یس موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ ڈمپر ڈرا ئیور کو لوگوں نے پکڑ کر سلانوا لی پو لیس کے حوا لے کر د یا تفصیلا ت کے مطا بق سلانوا لی کے نواحی چک نمبر137جنوبی موڑ پر ایک تیزرفتار ڈمپر نے مو ٹرسائیکل سوار محمد او یس کو ٹکڑ دے ما ر ی جس کے نتیجہ میں وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا ڈمپر ڈرائیو ر محمد اقبا ل و لد رحیم بخش سکنہ رحیم یا ر خان کو لوگوں نے پکڑ کر پو لیس کے حوا لے کر د یا سلا نوا لی پو لیس نے لا ش تحویل میں لے کر ضرور ی کا روا ئی کے بعد ورثہ کے حوا لے کر د ی۔
Author: Regional News

ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں 3 ماہ کے دوران 64کیس رپورٹ ہوئے
ملتان۔ (اے پی پی) شہید بے نظیر یھٹو ہیومن رائٹس سنٹر فار ویمن ملتان میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران مختلف نوعیت کے تشدد کے 64کیس رپورٹ ہوئے جن میں زیادہ تر نان نفقے اور جہیز ریکوری کے معاملات ہیں۔ منیجر ہیومن رائٹس فار ویمن سمارا شیریں نے اے پی پی کوبتایا کہ گھریلو تشدد ہمارے معاشرے کا شیوہ بن چکا ہے اور محدود اور جارحیت پسند ذہنیت رکھنے کے لوگ سرعام تشدد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، عورتوں پر ظلم وستم نہ صرف سماجی و قانونی لحاظ سے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی ایک غیرمہذب روش ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہیومن رائٹس سنٹر خواتین پر تشدد کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

بے قابو بس نے 3 موٹر سائیکل سواروں کو روند ڈالا،مشتعل افراد نے بس کو ۱ٓگ لگادی
فیصل آباد۔ (اے پی پی) پولیس تھانہ ٹھیکری والا فیصل ۱ٓباد کے علاقہ ٹھیکری والا جھپال مین جھنگ فیصل ۱ٓباد روڈپر ایک تیز رفتاربے قابو بس نے 3 موٹر سائیکل سواروں کو روند ڈالاجس کے نتیجہ میں 2 موٹر سائیکل سوار موقع پر ہی جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا۔ واقعہ کے فوری بعدمشتعل افراد نے بس کو ۱ٓگ لگادی تاہم ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس اور ریسکیو 1122 کے ذرائع نے بتایا کہ جھنگ سے فیصل ۱ٓباد جا نے والی تیز رفتار مسافر بس نے ٹھیکری والا جھپال کے قریب مین جھنگ فیصل ۱ٓباد روڈ پر مخالف سمت سے ۱ٓنیوالے موٹر سائیکل کو روند ڈالا جس کے نتیجہ میں 2 موٹر سائیکل سوار 28سالہ محمد مجید ولد بوٹا سکنہ نیا لاہور اور 18سالہ شیراز ولد امتیاز سکنہ چک نمبر 347ج ب فیصل ۱ٓباد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان خالد محمود ولد محمد صادق سکنہ نیا لاہورعمر25سال شدید زخمی ہوگیا جسے تشویشناک حالت کے باعث الائیڈ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے نیزہلاک شدگان کی میتیں مزید قانونی کاروائی کیلئے آر ایچ سی 30چک فیصل ۱ٓباد منتقل کردی گئی ہیں۔ المناک حادثہ کے فوری بعد شہریوں کی بڑی تعداد جا ئے وقوعہ پر اکٹھی ہوگئی جن میں سے مشتعل افراد نے بس کو آگ لگا دی تاہم ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کی گرفتاری کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔ایک دوسرے واقعہ میں بڑا گھسیٹ پورہ شیخوپورہ روڈ فیصل ۱ٓبادکے علاقہ میں دو گروپوں کے مابین تصادم میں گولی لگنے سے 26سالہ شخص وقاص ولد عنایت شدید زخمی ہوگیا جسے الائیڈ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔مزید تفتیش جاری ہے۔

صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری
ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.
عوامی مقامات پر مفت انٹرنیٹ، ایسی خبر کہ کے پی کے والے خوش ہوجائیں
پشاور۔(اے پی پی)خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑااورسائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے معاون خصوصی کامران بنگش نے کہاہے کہ صوبہ کوجدید سہولیات کی فراہمی ترقی دے رہے ہیں،21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن ضروری ہے، پشاور کو پاکستان کے دیگر شہروں کے ہم پلہ بنا رہے ہیں، تمام عوامی مقامات پرمفت انٹرنیٹ سہولت دینے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے پیر کو وزیرخزانہ تیمور جھگڑا اور کامران بنگش نے کے پی کنسیکٹ پروجیکٹ کے تحت فری وائی فائی‘ڈیجیٹل لائبریری اور بزنس سینٹر کاافتتاح کے موقع پرکیا۔انہوں نے کہاکہ محکمہ سائنس وانفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی خیبرپختونخوا حکومت کا ایک اہم قدم ہے‘ انہوں نے کہاکہ 9کروڑ 40لاکھ روپے کے خرچ سے فری وائی فائی کی سہولت دے رہے ہیں جس سے نوجوان نسل نیٹ کی سہولت سے بہ آسانی مستفید ہوگی‘ انہوں نے کہاکہ تاریخی مقامات پر بھی مفت وائی فائی سروس دینے کیلئے ہماری کوششیں جاری ہیں‘ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کی سیاست کو عوام 2018ء کے عام انتخابات میں مسترد کرچکی ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی نارروا پابندیوں کے باعث عالمی برادری کی مداخلت نا گزیر ہو گئی ہے، صدرآزاد کشمیر
مظفر آباد۔ (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے نارروا پابندیاں اُس مرحلہ میں داخل ہو گئی ہیں جہاں عالمی برادری خصوصاً امریکہ کی مداخلت نا گزیر ہو گئی ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ امریکہ میں ہمیں واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ پانچ اگست سے پہلے امریکہ میں بھارت کے لیے حمایت بہت زیادہ تھی کیونکہ بھارت اور امریکہ کے درمیان گہرے اقتصادی اور اسٹرٹیجک تعلقات ہیں لیکن اب یہ سب کچھ بدل رہا ہے جس کا ثبوت حالیہ دنوں میں امریکی قانون سازوں کی طرف سے ہندو قوم پرست وزیراعظم نریندر مودی کی کشمیر کے حوالے سے پالیسیوں پر کھل کر تنقید ہے۔ دو ہفتے پہلے پریمیلا جیا پال کی قیادت میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے 14 قانون سازوں نے بھارتی وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی ناکہ بندی ختم کر کے انٹرنیٹ اور موبائل سروس بحال کر ے اور وہاں کے عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کرنے کی سہولت فی الفور بحال کریں۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر ہوسٹن میں بھارتی امریکیوں کی ایک ریلی میں شرکت کر کے بھارت سے اپنی قربت کا اظہار ضرور کیا لیکن دوسری جانب اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کر کے امریکی حکومت کی پالیسی واضح کر دی۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکی میڈیا سمیت عالمی ذرائع ابلاغ کئی عشروں کے بعد پہلی بار بھارتی اسٹبلشمنٹ کے بیانیہ کے بجائے کشمیریوں کی حقوق کی بات کر رہا ہے اور کشمیر میں ہونے والے واقعات کو سچائی کے ساتھ بیان کر رہا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے بھارت کے اس موقف کو مستر د کر دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 370 اور 35-A اس لیے ختم کی گئی کہ بھارتی حکومت کشمیر کو بہتر انداز میں بھارت کے ساتھ ضم کرنے اور ریاست میں لوگوں کو خوشحالی اور علاقے کی تعمیر و ترقی کے عمل کو تیز کرنا چاہتی ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ دہلی کی حکومتوں نے ستر سال کشمیر کو اپنے ساتھ ضم کرنے کی بہت کوششیں کیں لیکن وہ اس میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اُنہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی اقدامات کے بعد آزاد کشمیر کے نوجوان غصے سے بھرئے ہوئے ہیں اور وہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب اپنے بھائیوں اور بہنوں کے حقو ق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت اسرائیل کی طرز پر بھارت کے ہندو خاندانوں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر آباد کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تاکہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے۔ سردار مسعود خان کشمیریوں کے حقوق پر عوامی جمہوریہ چین کی طرف سے کھل کر حمایت پر چین کی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

جدید سہولیات سے آراستہ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کنگ عبداللہ کیمپس کی تعمیر مکمل
مظفر آباد۔ (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کنگ عبداللہ کیمپس کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے جسے جامعہ کشمیر کی تحویل میں دے دیا گیا۔ کنگ عبد اللہ کیمپس سعودی حکومت کے ترقیاتی ادارے سعودیہ فنڈ فارڈویلپمنٹ کے تحت 8ارب روپے کی لاگت سے ترکی کی تعمیراتی کمپنی سیاہ قلم نے تعمیر کیا ہے۔کیمپس زلزلہ مزاحم اور عالمی معیار کے مطابق جدید سہولیات سے مزین ہے۔کنگ عبداللہ کیمپس میں 14شعبہ جات کیلئے کلاس رومز کے علاوہ جامع مسجد، ملٹی پرپز ہال، کیفے ٹیریا، مارکیٹ،فیکلٹی کیلئے 2سو بیڈ پر مشتمل ہاسٹل اور طلبا و طالبات کیلئے 12سو بیڈ پر مشتمل بوائز اور گرلز ہاسٹلزبھی اس کیمپس میں تعمیر کئے گئے ہیں۔ کنگ عبد اللہ کیمپس چھتر کلاس کو آزاد جموں وکشمیریونیورسٹی کے حوالے کی تقریب کا انعقادکیا گیا۔جس میں آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی،چیف انجینئر سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ سید یاسر گیلانی،سمیت ترک تعمیراتی کمپنی کے حکام،جامعہ کشمیر کے پرنسپل افسران،سربراہان شعبہ جات،کوارڈینٹر کنگ عبد اللہ کیمپس،ڈائر یکٹر سٹیٹ اور دیگر آفیسران نے شرکت کی۔تقریب میں چھتر کلاس کیمپس کو یونیورسٹی کے حوالے کئے جانے کے ڈرافٹ پر یونیورسٹی کی طرف سے ڈائر یکٹر سٹیٹ سید وقار گیلانی،ایرا کی جانب سے سید یادر گیلانی اور سیاہ قلم کمپنی کے نمائندے نے دستخط کئے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے اس موقع کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 8اکتوبر 2005کے زلزلہ کے بعد برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے انسانیت کی خدمت کی عظیم مثال قائم کی۔ زلزلہ متاثرین کیلئے امداد،ریلیف کی سرگرمیوں سمیت جامعہ کشمیر کے کنگ عبد اللہ کیمپس کی تعمیر کشمیریوں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کا اظہار ہے۔ رئیس جامعہ ڈاکٹر عباسی نے مزید کہا کہ جامعہ کشمیر کا سٹی کیمپس ترکی کی حکومت کی جانب سے تعمیر کیا گیا جبکہ کنگ عبداللہ کیمپس سعودی حکومت نے تعمیر کیا،جس پر ہم دونوں ممالک کے شکر گزار ہیں۔ کیمپس کی تعمیر کے بعد جامعہ کشمیر میں تعلیمی سرگرمیاں پہلے سے بہتر انداز میں جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔ مختلف شعبہ جات کے طلبہ کو اب جدید ترین سہولیات سے آراستہ لیبارٹریز میں تحقیق کیلئے بہترین ماحول مہیا ہوگا۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے مزید کہا کہ 8اکتوبر 2005کے زلزلہ میں جامعہ کشمیر کا سٹی کیمپس مکمل تباہ ہوا،زلزلہ میں 107اساتذہ، طلبہ اور ملازمین شہید ہوئے، جانی نقصان کے علاوہ یونیورسٹی کے تمام کلاس رومز اور ایڈمنسٹریشن بھی تباہی کی نذ ر ہوئیں۔طلبہ،اساتذہ اور ملازمین کی شہادتوں کا کوئی نعم البدل نہیں،مگر 8اکتوبر 2005کے زلزلہ کے بعد جامعہ کشمیر کے ساتھ دونوں اسلامی ممالک سعودی عرب اور ترکی نے جس طرح تعاون کیا،اس تعاون اور خلوص کو کشمیری قوم قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مسئلہ کشمیر ہو یا کوئی سانحہ،دونوں ممالک نے جہاں پاکستان کے موقف کی حمایت کی وہاں بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنگ عبد اللہ کیمپس میں 14مختلف شعبہ جات کو شفٹ کیا جائے گا، جبکہ بقیہ 16شعبہ جات یونیورسٹی کے مظفرآباد کیمپسز سٹی کیمپس اور چہلہ کیمپس میں بدستور کام کرتے رہیں گے۔ وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ کیمپس میں شفٹنگ سے پہلے بجلی اور پانی کیلئے حکومت آزاد کشمیر اور وزیر اعظم سے درخواست کی گئی ہے۔ یونیورسٹی کو توقع ہے کہ حکومت آزاد کشمیر بجلی کی فراہمی میں مدد کرے گی تاکہ اس کیمپس کی تکمیل کرتے ہوئے اپنے شعبہ جات کو کیمپس میں شفٹ کیا جا سکے۔

سکھر شہر میں صفائی اور نکاسی آب کا نظام مفلوج، سول سوسائٹی سراپا احتجاج
سکھر۔ (اے پی پی) سکھر شہر میں صفائی اور نکاسی آب کا نظام مفلوج، شہر کی سڑکوں پر گندا پانی جمع ہونے کے خلاف سول سوسائٹی سراپا احتجاج، مظاہرین نے بیراج روڈ سے گندہ پانی نکالا، سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں صفائی اور نکاسی آب کا نظام مفلوج ہونا روز کا معمول بن گیاہے اور شہر کی سڑکوں، گلیوں اور محلوں میں کوڑے کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور جمع گندا پانی شہریوں کا منہ چڑانے میں مصروف ہے اس پریشان کن ناگفتہ بہ صورتحال کے خلاف سکھر کی سول سوسائٹی کے افراد نے سکھر شہر کے علاقے بیراج روڈپر پر ہاتھوں میں جھاڑو اور میئر سکھر کا پتلہ اٹھا کر گندے پانی میں کھڑے ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی مظاہرین احتجاج کے دوران سڑک پر جمع پانی نکالتے رہے، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ شہریوں کی حالت پر رحم کھا کر صفائی ستھرائی اور فراہمی آب کی صورت حال بہتر بنائی جائے اور اس عذاب سے نجات دلائی جائے۔

سول اسپتال سکھر میں مریضوں کو سخت پریشانی اور مشکلات کا سامنا
سکھر۔ (اے پی پی) سول اسپتال سکھر میں ڈیجیٹل ایکسرے مشین گزشتہ کئی روز سے خراب ہونے کے باعث سیکڑوں مریضوں کو سخت پریشانی مشکلات کا سامنا درپیش ہے،متاثرہ مریضوں کی شکایات کیمطابق اسپتال کا عملہ مشین ٹھیک کرنے کے بجائے مریضوں کو پرائیویٹ طور پر ایکسرے کرانے کا مشورہ دینے لگا ہے جس نے مریضوں کو سخت پریشانی کا شکار بنا دیا ہے عملے کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز بجلی کے جھٹکے لگنے کے باعث نہ صرف ایکسرے مشین کا سافٹ ویئر اڑ گیا ہے بلکہ بیٹری بھی جل گئی ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسا ٹیکنیشن نہیں ہے جو یہ خرابی دور ہوسکے ہم نے اس کی اطلاع اسپتال کی انتظامیہ کو دی گئی ہے۔

سندھ میں ایڈز کے بعد کونسی خوفناک بیماری سامنے آگئی …
سکھر۔ 14اکتوبر (اے پی پی) ممبر قومی اسمبلی اور سینیر رہنما پیپلز پارٹی خورشید شاہ کے حلقے سکھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ، تعداد پانچ ہوگئی،زرائع کیمطابق سکھر سول ہسپتال میں گزشتہ ایک روز کے دوران شکارپور، جیکب آباد، گھوٹکی، کے چار مریضوں غلام سرور، ساجد، حماد اللہ، گلزار بروہی اور منور علی کو ڈینگی وارڈ میں داخل کیا گیا ہے، سول ہسپتال میں ڈینگی بخار میں مبتلا داخل مریضوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مریضوں کو علاج و معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔








