Baaghi TV

Author: ریحانہ جدون

  • معاشرتی تبدیلی کا واحد رستہ،خود احتسابی

    معاشرتی تبدیلی کا واحد رستہ،خود احتسابی

    آج کے دور میں ہم جس معاشرتی، اقتصادی اور ثقافتی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو بدلنے کی بجائے دوسروں کی غلطیوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ ہمارے معاشرتی رویے، اخلاقی معیار، اور ریاستی ذمہ داریوں کا لحاظ نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا سسٹم اور معاشرہ مسلسل بدعنوانی، ناانصافی اور عدم مساوات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کا حل ایک سادہ سا اصول ہے: "سسٹم اور معاشرے کو بدلنے کے لیے پہلے خود کو بدلنا ہوگا”۔

    آج بھی ہمارے معاشرے میں جہیز کا مسئلہ انتہائی حساس اور سنگین ہے۔ لڑکوں کی طرف سے یہ بات کبھی نہیں سنی جاتی کہ انہیں جہیز نہیں چاہیے یا وہ اس نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ لڑکوں کو یہ بات سمجھانے کی بجائے لڑکیوں پر جہیز دینے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ یہ ایک غلط رسم ہے جو نہ صرف معاشرتی عدم مساوات کو بڑھاتی ہے، بلکہ اخلاقی طور پر بھی غلط ہے۔

    جہاں لڑکوں کی طرف سے جہیز کے حوالے سے خاموشی ہے، وہیں لڑکیاں دوسری شادی کی افادیت پر بات کرنے سے کتراتی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے کہ معاشرتی اور اقتصادی حالات میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، ہم اس بات کو صرف افسوس کے ساتھ نظر انداز کرتے ہیں۔ لڑکیاں چاہتی ہیں کہ وہ دوسری شادی کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ کریں، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اس سے ان کی عزت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

    ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں ایک اور خامی یہ ہے کہ بھائی بہنوں کی وراثت پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ وراثت کا حق ہر فرد کا ہوتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، لیکن ہمارے معاشرے میں مردوں کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ بہنوں کی وراثت میں حصہ نہ دیں۔ اس مسئلے پر بات کرنا یا اس کے حل کے لیے کوئی قدم اٹھانا ہر کسی کی نظر میں "غیر ضروری” سمجھا جاتا ہے۔

    مختلف کاروباری طبقے میں موجود افراد، خصوصاً سیٹھ لوگ، حرام کمائی سے منسلک مسائل پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حرام کی کمائی کو چھپانے کی کوشش کرنا اور اس پر گفتگو سے بچنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے ہمارے معاشرتی اصول اور اخلاقیات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔

    مزدور طبقے کا کام ہمارے معاشرے میں ہمیشہ پس پشت رہتا ہے۔ جب محنت اور جدوجہد کی بات ہوتی ہے، تو زیادہ تر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کام صرف اپنے گھریلو معاملات تک محدود ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ محنت کرنے والے ہی معاشرتی ترقی کا بنیادی ستون ہیں۔

    ایک اور مسئلہ جو ہمارے معاشرتی رویوں میں پایا جاتا ہے وہ بیویوں کی طرف سے صرف شوہر کی ذمہ داریوں پر زور دینا ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ شوہر صرف ان کی ضروریات پوری کرے، لیکن انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ شوہر کے بھی کچھ حقوق ہیں اور دونوں کے درمیان توازن ہونا ضروری ہے۔ اس کے برعکس، شوہر بھی اپنے حقوق پر زور دیتے ہیں، اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے رشتہ اکثر تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

    ایک اور اہم پہلو شہریوں اور ریاست کے تعلقات کا ہے۔ شہری اپنی ریاستی ذمہ داریوں کو سنجیدہ نہیں لیتے، اور ریاست بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتی ہے۔ ریاست صرف قوانین بنانے تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے، جبکہ اس کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ ایک بنیادی فرض ہے، جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

    ان تمام مسائل کی جڑ دراصل خود احتسابی میں چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہم اپنے اندر تبدیلی لانے کی کوشش کریں اور یہ تسلیم کریں کہ معاشرتی مسائل میں ہر فرد کا کردار ہوتا ہے، تو ہم سسٹم کی تبدیلی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ خود احتسابی کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور ان پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ اگر ہر فرد اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، تو مجموعی طور پر سسٹم اور معاشرتی ڈھانچہ بھی بہتر ہو گا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معاشرتی تبدیلی کا آغاز ہم سے ہی ہوتا ہے۔ جب تک ہم اپنی ذاتی زندگیوں میں تبدیلی نہیں لائیں گے، تب تک معاشرتی سسٹم میں تبدیلی ممکن نہیں۔ خود احتسابی کی بنیاد پر ہم اپنے رویوں، اخلاقیات اور ذمہ داریوں کو بہتر بنا سکتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ایک مضبوط، خوشحال اور انصاف پسند معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ اس راستے پر چلنے کے لیے ہمیں اپنے اندر کی خودی کو بیدار کرنا ہوگا تاکہ ہم ایک صحت مند اور کامیاب قوم کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

  • شاعر مشرق اور آج کا نوجوان.تحریر:ریحانہ جدون

    شاعر مشرق اور آج کا نوجوان.تحریر:ریحانہ جدون

    علامہ اقبال، جنہیں "شاعر مشرق” کے لقب سے نوازا گیا، نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ایک فلاسفر اور مفکر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی گہری بصیرت اور دلوں کو متحرک کرنے والی قوت تھی جو آج بھی نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کا پیغام ہمیشہ سے یہی رہا کہ انسان کو اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے اور اپنی تقدیر خود لکھنی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کا نوجوان اقبال کے پیغام کو سمجھتا ہے اور ان کی شاعری کو اپنے معاشرتی، سیاسی اور ذاتی زندگی میں کس طرح ڈھالتا ہے؟

    علامہ اقبال کی شاعری میں جو جوش اور جذبہ تھا، وہ آج بھی نوجوانوں کے لئے ایک قیمتی خزانہ ہے۔ اقبال نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو اپنے عزم و ارادے کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے محنت کرنی چاہیے۔ ان کی مشہور نظم "خُدی کو کر بلند اتنا” اسی پیغام کا عکاس ہے۔آج کا نوجوان اگرچہ اپنے دور کے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے پاس وسائل اور مواقع بھی بے شمار ہیں۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور جدید ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لئے نئے دروازے کھولے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ، اگر اس نوجوان کی شخصیت میں اقبال کی طرح کی بلندی نہ ہو، تو وہ ان وسائل کا صحیح استعمال نہیں کر پائے گا۔

    اقبال نے ہمیشہ "خودی” کے تصور پر زور دیا۔ ان کے نزدیک "خودی” انسان کی اندرونی طاقت ہے، جو اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی جرات اور حوصلہ دیتی ہے۔ آج کے نوجوانوں میں یہ خودی کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ معاشرتی دباؤ، مقابلہ بازی، اور خود کو ثابت کرنے کی خواہش کی وجہ سے نوجوان اکثر اپنے حقیقی مقصد سے بھٹک جاتے ہیں۔اقبال کا پیغام تھا کہ انسان جب تک اپنے آپ کو نہیں پہچانے گا، اس کی زندگی کا مقصد بھی غیر واضح رہے گا۔ وہ ہمیشہ اپنی شاعری میں اس بات پر زور دیتے رہے کہ انسان کو اپنی تقدیر کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور اپنے اندر کی قوت کو پہچان کر اسے دنیا میں نمایاں کرنا چاہیے۔

    آج کا نوجوان اقبال کی شاعری کو کسی حد تک سمجھتا ہے، مگر اس کے لئے ان کے پیغام کو عملی زندگی میں لانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اقبال کا خواب تھا کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت ایک نئی تحریک پیدا کرے، لیکن کیا آج کے نوجوان ان خیالات کو حقیقت کا روپ دے پا رہے ہیں؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔آج کا نوجوان کئی مرتبہ معاشرتی دباؤ، تعلیم، روزگار، اور ذاتی مسائل کے شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اقبال کی "خودی” کا پیغام اور اس کے مطابق اپنی تقدیر خود بنانے کا نظریہ ایک ترغیب فراہم کر سکتا ہے۔ اقبال کی شاعری نوجوانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کامیابی صرف محنت اور عزم سے آتی ہے، اور اگر انسان خودی کو بلند کرنے میں کامیاب ہو جائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے روکھ نہیں سکتی۔

    اقبال کی شاعری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر نوجوان کو اپنے اندر جھانک کر اپنی کمزوریوں کو پہچاننا چاہیے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں جہاں فنی، سائنسی اور فکری جدتیں آ رہی ہیں، وہیں نوجوانوں کو اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ان نئی تبدیلیوں کو اپنانا ضروری ہے۔ اس میں اقبال کی شاعری ایک رہنمائی کا کام کر سکتی ہے۔

    آج کے نوجوان کے لئے اقبال کا پیغام واضح ہے:
    "خُدی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خُدا بندے سے خود پُوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟”

    شاعر مشرق، علامہ اقبال کی شاعری نہ صرف ایک عہد کا آئینہ ہے، بلکہ آج کے نوجوانوں کے لئے ایک قیمتی ہدایت ہے۔ اگر ہم اقبال کی تعلیمات پر عمل کریں، تو نہ صرف اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر معاشرتی اور سیاسی نظام کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہمیشہ نوجوانوں کے لئے یہ ہے کہ "خود پر یقین رکھو”، "محنت کرو”، اور "دنیا کو بدلنے کے لئے اپنے آپ کو بدلنا ضروری ہے”۔یاد رکھیں، اقبال کی شاعری آج بھی ہمارے لئے ایک روشن راہ دکھاتی ہے۔ اس راہ کو اختیار کر کے ہم اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی قوم اور اپنے ملک کو بھی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

  • زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    زندگی ایک کڑا امتحان،تحریر : ریحانہ جدون

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ….

    کبھی اپنا وقت بھی آ ئے گا…. یہ کہنے کو تو ایک تسلی ہے مگر اس ایک جملے میں ہم نہیں جانتے کتنے ہی لوگ اپنی امیدوں کے پورا ہونے کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں اور پھر اپنی حسرتوں اپنی امیدوں کو اپنے ساتھ لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں ,
    البتہ اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ جاتے ہیں کہ انہوں نے وقت کے انتظار میں بیٹھے رہنے کی بجائے ایک چھوٹی سی کوشش بھی کی ہوتی تو شاید ان کی تکلیفیں کم ہوجاتیں,
    اور جو لوگ اپنی حیثیت کے مطابق کوشش بھی کرتے ہیں مگر اس کے اردگرد کے لوگ اس کو support نہیں کرتے اگر ایسے وقت اسے تھوڑی سی بھی support مل جائے تو کئی لوگ اپنے رویوں میں نہ صرف تبدیلی لے آئیں گے بلکہ اس انسان کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ بھی کریں گے
    ہم زندگی میں کئی لوگوں سے ملتے ہیں ان کے مسکراتے چہرے دیکھ کر اکثر غلط اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ بھرپور زندگی گزار رہے ہیں مگر ان کے مسکراتے چہروں کے پیچھے کئی راز ہوتے ہیں جو نہ ہم جان سکتے ہیں اور نہ وہ کسی پر ظاہر ہونے دیتے ہیں.
    مانتی ہوں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا مگر جس انسان نے اپنے بھلے وقت میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی, اپنوں کا خیال رکھا مگر جب اس انسان پر برا وقت آتا ہے ناں تو یقین کریں جس پر ان کو پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے وہی اس انسان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور وہ انسان ان کے سامنے ڈوب رہا ہوتا ہے مگر وہ دور سے تماشائی بنے اس کا تماشہ دیکھ رہے ہوتے ہیں.
    کیا اپنوں کا ایسا طرز عمل اس انسان کو ہمت دے گا ؟؟؟
    اس کو تو اوع دلبرداشتہ کردے گا کہ میں کیا کرتا رہا اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے….
    آ ج یہ تحریر لکھتے ہوئے میرے ذہن میں کئی سوالات امڈ رہے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اپنے ہی لوگ اپنوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں…
    وہ مجھے بتا رہی تھی کہ اب گھر میں بیچنے کو کچھ بھی نہیں بچا, گاڑی خالہ کو بیچ دی اب ایک چھت رہ گئی ہے وہ بھی جیٹھانی کہہ رہی کہ اگر بیچنا ہوا تو مجھے بتا دینا میں خرید لونگی….
    یہ اس عورت کو کہا جا رہا ہے جو انہی لوگوں کا اس وقت سہارا بنی جب اس کی جیٹھانی بیوہ ہوئی تھی اور اس کے گھر کے اخراجات بچوں کی پڑھائی کا زمہ اس عورت نے اٹھایا تھا اور آخر کار اسکے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے…
    کہتے ہیں ناں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا کسی کو اللہ دے کر آ زماتا ہے اور کسی کو اس سے محروم رکھ کر,
    اس عورت کے شوہر کی جاب چار پانچ سال پہلے کسی وجہ سے چلی گئی اور تب سے یہ عورت کسی کے آ گے ہاتھ پھیلانے کی بجائے خود گھر سے باہر کام کرنے جانے لگی اور وہی ہوا جو ہمارے ہاں اکثر ہوتا ہے کہ اسے کئی طرح کی باتوں کا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
    آ ج وہ کسی کام سے میرے گھر آئی تو میری زرا سی تسلی سے اس کی آنکھیں بھر آ ئیں
    میرے چپ کروانے پر بولی کہ کاش میرے گھر والوں کو میری تکلیفوں کا احساس ہو کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں, وہ روتے روتے کہنے لگی کہ آپا میں بہت حساس ہوں شاید…. میری ماں بھی نہیں رہی کہ اس کی گود میں سر رکھ کر رو لوں, میں اپنے بچوں میں اپنی ماں کا پیار ڈھونڈتی ہوں کہ مجھے وہ سہارا دیں مگر آپا ان کو بھی میری تکلیفیں نظر نہیں آرہی…
    میں کیسے ان کی ضرورتیں پوری کررہی ہوں یہ ان کو نہیں پتا…
    بس دعا کرتی ہوں کہ اللہ کسی کو سب کچھ دے کر پھر تنگدستی نہ دے کیونکہ عیش و آرام کے بعد تنگدستی کی زندگی جینا بہت کٹھن ہے.
    میں نے اسے حوصلہ دیا کہ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوجائے گا اللہ پر بھروسہ رکھو تو آ نسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی اور ساتھ گویا ہوئی آپا میں اپنے شوہر کو کہتی ہوں کوئی کام تلاش کرے تو کہتا ہے کوئی کام ملتا ہی نہیں تو کیا کروں کہاں جا کے کام کروں تم کام کررہی ہو ناں… اور جب جواب میں اسے کہتی ہوں میرے میں ہمت نہیں رہی ہے گھر میں بیٹھنے سے کام تمھیں نہیں ملے گا ڈھونڈنا شروع کروگے تو ملے گا تو کہتا ہے ساری زندگی میں نے عیش کروائی ہے کیا ہوگیا جو اب تم کام کر رہی ہو.
    آپا کیا وہ عیش کی زندگی میں نے اکیلے گزاری تھی کہ اب سارا بوجھ مجھے اٹھانا پڑ رہا ہے ؟ اس عیش میں اس کے اپنے گھر والے بھی تو تھے ناں

    یہ کہتے وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی مگر میرے پاس اس کے سوالوں کا جواب نہیں تھا سوائے تسلی دینے کے کہ حوصلہ رکھو سب بہتر ہوجائے گا تو جواب میں اس کا جواب آیا کہ جب میں ہی نہ رہی تو سب ٹھیک ہوگا بھی تو مجھے کیا….

    اس کی اس بات پر میں نے حیرانگی سے پوچھا ایسا کیوں کہہ رہی ہو تو وہ بولی آ پا میں سوچتی تھی کہ خودکشی کرنے والوں کو ڈر کیوں نہیں لگتا مگر اب سمجھ آرہی ہے کہ لوگ خودکشی کو کیوں اتنا آ سان سمجھتے ہیں ایک بار کی تکلیف ہوتی ہے ناں, روز روز کی تکلیفوں سے کم از کم نجات تو پالیتے ہیں,
    میں نے اس کی پوری بات سن کر اس کو ڈانٹا کہ اپنے ذہن سے منفی سوچ نکالو کہ خودکشی کرنے سے سب تکلیفیں ختم ہوجائیں گی تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو کر ایسی باتیں کررہی ہو مجھے حیرت ہے, اپنے آپ کو مضبوط بناؤ جیسے دکھاتی ہو کہ تم ہمت والی ہو, اور خودکشی بزدل لوگ کرتے ہیں جو حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتے. خیر میرے ڈانٹنے پر وہ تھوڑا مسکرا دی اور میرے گلے لگ گئی یہ کہتے ہوئے کہ آپا کبھی تو اپنا وقت بھی آئے گا ناں ؟اس کی بات سن کر میں نے مصنوعی ہنسی سے کہا ہاں انشاءاللہ ضرور آئے گا بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہیے.

    یہ وہ عورت تھی جو ایک خوشحال اور زندگی سے بھرپور زندگی گزار رہی تھی مگر حالات نے اس مقام پر لا کھڑا کردیا کہ اسے مرنا آسان لگنے لگا تھا ،اس کے برے حالات سے زیادہ میرے خیال میں اسے اس کے اپنوں کے رویے اذیت دے رہے تھے کیونکہ بقول اس کے کہ اس کی تکلیفوں کا کسی کو بھی احساس نہیں ،وہ اپنی استطاعت کے مطابق مشکل حالات کا اکیلے مقابلہ کررہی تھی کیونکہ اسے مشکل حالات کے ساتھ ساتھ اپنوں کے منفی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہوگئی تھی

    یہ سچ ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آ تے رہتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی انسان کو سبق سیکھا دیتے ہیں,
    اس کڑے وقت میں وہ گھر داری کے ساتھ ساتھ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہے اس کو بہت سی باتیں اور تنقید بھی سننے کو ملتی ہے اسکی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مردوں کا ہے عورت جتنا مرضی کام کر لے اس کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے.

    یہاں اس اکیلی کی زمہ داری نہیں تھی, ان حالات میں اسے اسکے شوہر کی زیادہ support کی ضرورت تھی مگر جو نظر نہیں آتی, اگر اس کا ساتھ ان حالات میں شوہر بھی دیتا تو کم از کم وہ زندگی سے مایوس نہ ہوتی, وہ آ ج خود کو اکیلا محسوس نہ کرتی, شوہر کا یہ کہنا کہ ساری زندگی عیش کروائی ہے تو کیا ہوا اب جو تمھیں کام کرنا پڑ رہا ہے یہ ہر لحاظ سے غلط سوچ ہے
    ہمیں اس معاشرے میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے تو گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کا عزت دینا ہوگی ان کو تحفظ کا احساس دلانا ہوگا اور یہ تبھی ہوگا جب ہم منفی کی بجائے مثبت سوچ رکھیں گے جب دوسروں کی تکالیف کا احساس کریں گے جزاک اللہ
    @Rehna_7

  • نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ،تحریر: ریحانہ جدون

    ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں
    اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے
    جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے

    نیکی کا زمانہ ہی نہیں ہے
    یہ جملہ آپ نے اپنی زندگی میں ایک دفعہ تو ضرور سنا ہوگا
    کوئی ایک تجربہ جب آپ نے کسی کے ساتھ نیکی کی ہو یا کسی کی مدد کی ہو اور اس کے بدلے اس انسان نے بعد میں آپ کی نیکی یا مدد کو پس پشت ڈال کی آپ سے برا برتاؤ کیا ہو یا آپکی اچھائی کے بدلے دوسروں سے آپکی غیبت کی ہو یا کسی وجہ سے آپ کا دشمن بن گیا ہو… تو ایسے مقام پر آپ یا دوسرے لوگ ضرور کہتے ہونگے کہ اس کے ساتھ نیکی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی.,
    ہم ایسا کیوں کہتے ہیں یا دوسرے لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟؟کیونکہ ہم بھول جاتے ہیں کہ جزا اور سزا کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے کسی انسان کے ہاتھ نہیں, اور ہم دنیا کے مادی اور فانی چیزوں میں تو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ خیر و بھلائی کے کاموں میں بھی دوسروں سے جیتنا چاہییے .جب ہم نیکی اللہ کی رضا کی نیت سے کرتے ہیں تو اس کے بدلے کا یقین بھی اللہ پر رکھنا چاہیے ناکہ ہر نیکی کے پیچھے کوئی نہ کوئی دُنیاوی مفاد کار فرما ہو,
    جب آپ اللہ کی رضا کے لئے کسی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں تو وہ اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوجاتی ہے. ہمارا جسم ہمارا hard ware ہے جس میں دل دماغ اور باقی جسمانی اعضاء شامل ہیں اللہ نے ہمیں hard ware دیا ہوا ہے اب اس میں software ہم نے ڈالنا ہے جس طرح کا software ڈالیں گے اسی طرح ہمارا سسٹم چلے گا اور اسی طرح ہمارے ایکشن ہونگے اگر آپ نے software اپنے دماغ میں ڈالا ہوا ہے کہ (نیکی کا تو کوئی زمانہ ہی نہیں…) تو آپ واقعی میں کوئی نیکی نہیں کرو گے , آپ کسی کی مدد نہیں کریں گے اور نیکیوں کے مواقع ضائع کر دیں گے جو ایمان کی کمزوری بھی ہے دوسروں کے دکھ درد کا احساس نہیں ہوگا بےحسی آپ کے اندر اپنا ٹھکانہ بنا لے گی. آپ کے اعمال پر آپ کے belief system کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے اس لئے اپنا belief system بدلیں

    صحابہ کرام اپنے وقت میں ایک دوسرے سے زیادہ نیکیاں کمانے میں مقابلہ کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا یقین تھا کہ ان کی نیکیاں اللہ ریکارڈ کر رہا ہے. ہمیں بھی چاہیے ہم کبھی بھی نیکی کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں, اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہے تو اس کی ضرور مدد کریں جیسا کہ اللہ نے فرمایا کہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو. اور دیکھا جائے تو بے شمار نعمتیں اللہ نے ہماری بھلائی کے لئے عطا کی ہیں اور اس کا بدلہ وہ ہم سے کچھ نہیں چاہتا.. خدا کے بندوں سے نیکی کرنا اللہ کو بہت پسند ہے اور جو لوگ اللہ کے بندوں سے محبت کرتے ہیں وہ اللہ کے دوست ہوتے ہیں.
    روایت ہے کہ
    تم زمین والوں پر رحم کرو, آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا.
    بخاری اور مسلم کی روایت ہے کہ جو بندوں پر رحم نہیں کرتا اللہ بھی اسے اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے.
    اس لئے ضرورت مندوں سے محبت اور ہمدردی کریں اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد کریں تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو.
    @Rehna_7

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    واٹس ایپ کے ذریعے فحش پیغام بھیجنے والا ملزم ہوا گرفتار، کئے ہوش اڑا دینے والے انکشاف

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

  •  ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

     ہیلتھ لیوی ،تحریر : ریحانہ جدون

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں
    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں. ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے.

    یہ سب جانتے ہوئے بھی ہر دوسرا بندہ تمباکو کا استعمال کر رہا ہے ہمارے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے حتیٰ کہ اشیائے ضروریہ پر ٹیکسزمیں اضافہ جبکہ تمباکو نوشی پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے
    پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ تمباکو پر ٹیکس میں کم از کم 30 فیصد تک اضافہ کرے، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کیلئے آسان ہدف ہے۔عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 6 سے 15 سال کی عمر کے 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں سالانہ تقریبا 166،000 افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں جو روزانہ چار سو اسی افراد بنتے ہیں جن کو پورا کرنے کیلئے تمباکو انڈسٹری نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتے ہے۔ پوری دنیا میں تمباکو نوشی کے رجحان کو کم کرنے کی ایک ثابت شدہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافہ ہے لہذا حکومت کو چاہئیے کہ وہ آئندہ مالی سال میں تمباکو پر ٹیکس کم از کم 30 فیصد اضافہ کرے۔ ٹیکسز میں اضافے سے حکومت کو اضافی ریونیو حاصل ہو گا جو صحت کے بجٹ کو بڑھانے کے کام آ سکتا ہے۔

    حکومت اشیائے ضروریہ پر ٹیکسز میں بے تحاشا اضافہ کرتی ہے تاہم تمباکو جیسی غیر ضروری چیزوں پر ٹیکس بڑھانے سے اجتناب کیا جاتا ہے، پاکستان میں سالانہ تین ارب روپے سگریٹ کے دھویں میں اڑا دیئے جاتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کیلئے ٦٦۵ ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، ٹیکس، تمباکو پر قابو پانے کی جامع حکمت عملی کا ایک اہم عنصر ہے۔ تاہم دیرپا فوائد کو حاصل کرنے لیے زائدہ متاثر گروپوں جیسا کہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے افراد پر ٹیکسوں کے بڑھے ہوئے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ تمباکو کی صنعت بنیادی طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو پاکستان کی 64٪ آبادی پر مشتمل ہے اور کم قیمتوں کی وجہ سے تمباکو کی صنعت کے لئے آسان ہدف ہے۔

    حکومت پاکستان کو ایف سی ٹی سی کی سفارشات کے مطابق سگریٹ پر ٹیکسوں میں فوری اضافہ کرنا چاہئے۔ اس سے حکومت کو آنے والے عرصے میں تمباکو کے استعمال پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ اس سے حکومت کو پچھلے کچھ سالوں میں کھوئی ہوئی ٹیکس آمدنی کو دوبارہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اضافی آمدنی سے حکومت کو صحت کے شعبے، تعلیمی ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے اور دیگر قابل استعمال قیمتوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے میں مدد ملے گی۔

    باغی ٹی وی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند کئے جانے کی درخواست دینے پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور و دیگر عہدیداران کا رد عمل

     بجلی نہ ہونے کی خبر دینے پر شرپسند افراد نے باغی ٹی وی کے رپورٹر فائز چغتائی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    :وزیرخارجہ ٹویٹرکی طرف سے بھارتی ایما پردھمکیوں کا نوٹس لیں:باغی ٹی وی کا شاہ محمود قریشی کوخط 

    ٹویٹر کے غیر منصفانہ اقدام پر باغی کے ساتھ ہمدردیاں جاری رہیں گی ، عمار علی جان

    باغی ٹی وی تحریری مقابلہ،پوزیشن ہولڈرز میں انعام تقسیم

    آل پاکستان قائداعظم میموریل برج ٹورنامنٹ کا آغاز،باغی ٹی وی کی ٹیم بھی شامل

    بچوں کو اغوا کرنے والی گینگ کی خاتون باغی ٹی وی کے دفتر کے سامنے سے اہل محلہ نے پکڑ لی

    حکومت پاکستان ٹویٹرکی بھارتی نوازی کا معاملہ عالمی سطح پراٹھائے”باغی ٹی وی”کےاکاونٹ کوبلاک کرنےکا نوٹس لے

    ”باغی ٹی وی”کاٹویٹراکاونٹ بلاک کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیاں ناقابل قبول:بھارت نوازی بند کی جائے:طاہراشرفی 

    بھارت کی ایما پر”باغی ٹی وی”کا ٹویٹراکاونٹ بند کرنےکی ٹویٹرکی دھمکیوں ‌کی مذمت کرتےہیں‌:وزرائےگلگت بلتستان اسمبلی

  • اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کیجانب سے سیلاب زدگان کیلیے 249,000 امریکی ڈالرز کا عطیہ

    اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کیجانب سے سیلاب زدگان کیلیے 249,000 امریکی ڈالرز کا عطیہ

    اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی جانب سے پاکستانی سیلاب زدگان کی مدد کے لیے 249,000 امریکی ڈالرز کا عطیہ

    اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے حالیہ سیلاب سے متاثرہ کمیونٹیز کی ہنگامی امداداور بحالی کے لیے مجموعی طور پر 249,000 کا عطیہ دیا ہے۔فوری امداد کے اِس اقدام میں دی سٹیزنز فاونڈیشن اور اورنج ٹری فاونڈیشن جبکہ بحالی کے لیے برٹش ایشین ٹرسٹ فار ری ہیبلی ٹیشن شریک دار ادارے ہیں۔یہ دونوں ادارے، سیلاب سے متاثرہ افراد اور کمیونٹیز کے لیے کی جانے والی مخیرانہ کوششوں کی رسائی میں اضافے کا وسیع اور اُمید افزا تجربہ اور اثاثے رکھتے ہیں۔یہ عطیہ عالمی اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی جانب سے عالمی سطح پر کی جانے والی انسان دوست کوششوں کے مطابق ہے۔

    اس عطیے نے پاکستانی سیلاب زدگان میں 50,000سے زائد کھانے اور دیگر اشیائے صرف کے پیکٹوں کی تقسیم یقینی بنائی ہے جس میں سے ہر پیکٹ پانچ افراد پر مشتمل ایسے خاندان کے لیے کافی ہے جو خوراک، رہائش اور صحت کی سہولتوں سے محروم ہے۔اِس کے علاوہ، سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بے گھر افراد کو پناہ اور آرام کی فراہمی کی غرض سے سینکڑوں خیمے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

    اِن ہنگامی کوششوں کا ایک مقصد کمیونٹیز کی بحالی بھی ہے جس میں 240 گھرانوں کے لیے نقد امداد، پینے کے صاف پانی کے لیے 140 واٹر پوائنٹس کی بحالی اور کاشتکاروں میں گندم اور سورج مکھی جیسی اہم فصلوں کے بیجوں کی تقسیم بھی شامل ہے۔اِس بارے میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان) لمٹیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، ریحان شیخ نے کہا:“ہمیں پاکستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر صدمہ ہے۔ہمارا عزم قطعی ہے اور ہماری پوری توجہ اور لگن سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی اور اعانت پر مرکوز ہے۔ ہم اپنے اْن بھائیوں کی زیادہ سے زیادہ اعانت کے لیے پر عزم ہیں جنھیں پاکستان میں بڑے پیمانے پر سیلابوں سے زبردست نقصان پہنچا ہے۔

    اِن ممتاز غیر سرکاری تنطیموں کے ساتھ کام کرنے سے، ہم تیز رفتار اور مؤثرامدادی کوششوں کی فراہمی کے قابل ہوئے ہیں جن کا مقصد تباہ کن سیلابوں سے پیدا ہونے ہونے والے اہم چیلنجوں سے نمٹنا ہے

  • کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    یہ ایک سوال جس کے بارے میں کچھ کہنے کی جسارت کر رہی ہوں کیونکہ موجودہ دور میں زیادہ تو لوگوں کے منفی رویے ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں افسوس اس معاشرے میں بگاڑ اتنا پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا پڑتا ہے یہاں انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں, انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پر کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہوتو اسکی ویڈیو بنانے کے لئے لوگ رکیں گے ضرور مگر اس کی مدد نہیں کریں گے
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں لوگوں کا وہ ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفاد کی دلدل میں پھنستا جا رہا ہے

    یہ کہانی کچھ پرانی نہیں ہے جب پاکستان میں کارونا کی پہلی لہر آئی تو ہر طرف خوف تھا عالم یہ تھا کہ میں خود بھی بہت ڈری ہوئی تھی. گیٹ کو باہر سے تالا لگایا ہوا تھا کہ نہ کوئی جائے نہ کوئی آئے پر شوہر نے کام پر جانا تو تھا ہی
    اس لئے روز بحث ہوتی اور مجبوراً ہار مان کر گیٹ کھول دیتی تھی ایک دن ایسا ہوا کہ بیٹے کو کسی کام سے اسٹور تک جانا پڑا تو واپس تھوڑا دیر سے آیا میں پریشان ہوگئی جب واپس آیا تو اس نے بتایا ساتھ گلی میں ایک گھر کے سامنے کوئی بزرگ پڑے ہوئے تھے تو انکل نے ان کو اٹھا کے سامنے کچرے والے پلاٹ میں پھینک دیا ہے پھینک دیا لفظ پر مجھے حیرت ہوئی اور تجسس ہوا کہ وہ بزرگ کون ہیں جاکے دیکھنا چاہیے

    میں جب گیٹ سے نکلی تو سامنے گھروں کی عورتیں دروازوں میں کھڑی اسی بزرگ کی طرف دیکھ رہی تھیں, مجھے وہاں جاتے دیکھ کر بولیں باجی کیا کر رہی ہو وہاں نہ جاؤ لگتا ہے یہ کارونا کا مریض ہے اسی لئے کوئی اسے یہاں پھینک گیا ہے… میں نے کہا اگر کارونا بھی ہے اس کو مگر ہے تو ایک انسان ہی ناں مرنا تو ایک نہ ایک دن سب کو ہے مگر انسانیت نہیں مرنی چائیے میں نے وضاحت دی مگر وہ عورتیں اپنا اپنا فلسفہ سنا کے مجھے روکنے کی کوشش کرتی رہیں میں نے ان کی باتیں ان سنی کرکے اس بزرگ تک پہنچی تو دیکھا وہ لگ بھگ 80 سال کے تھے اور بیماری کی وجہ سے اٹھنے کی ہمت کھو چکے تھے میں نے ان کو ہاتھ سے جیسے پکڑا تو اندازہ ہوگیا کہ ان کو سخت بخار ہو رہا ہے . میرے اٹھانے سے وہ اٹھ نہ پائے اتنے میں میرا بیٹا جو 14 سال کا ہے وہ آگیا میں نے اسے کہا کہ میری مدد کرو اس طرح ایک طرف سے اس نے اور ایک طرف سے میں نے اس بزرگ کو کندھا دیا اور بمشکل گھر تک لے آئی اور یہ منظر وہاں کھڑے مرد حضرات بھی دیکھ رہے تھے ( مگر بےحسی ایسی کہ کوئی مدد کو نہ آیا)

    گھر پہنچا کہ میں اس بزرگ کو صحن میں ہی بستر پر لیٹا دیا اور جلدی سے قہوہ بنا کہ ان کو چمچ سے پلایا ان کے میلے کپڑے پر ان کے چہرے سے وہ کسی اچھے گھر کے لگ رہے تھے جب قہوہ پی چکے تو ان کو پیناڈول ٹیبلٹ دی مگر وہ بخار کی ٹیبلٹ لینے سے انکاری تھے ہمارے اوپر والے پورشن میں ایک کرائے دار فیملی رہتی تھی ان کی ایک عورت چھت سے دیکھ رہی تھی کہنے لگی باجی یہ بخار کی گولی نہیں لے رہے کیا پتا کوئی جاسوس نہ ہو اس کو باہر جا کے چھوڑ کے آؤ میں نے کہا کہ بابا جی کی ایسی حالت نہیں کہ ان کو سڑک پر چھوڑا جائے میں یہ کہتے ہوئے اصرار کرنے لگی بابا جی یہ دیکھیں یہ کوئی اور ٹیبلٹ نہیں ہے یہ پیناڈول ہے اس سے آپ کا بخار کم ہوگا میرے اصرار پر انھوں نے میرے ہاتھ سے گولی لے کر منہ میں ڈالی مگر کچھ ہی دیر میں نکال لی, تب مجھے اپنے والد صاحب کا خیال آیا کہ وہ بھی ٹیبلٹ کے چار حصے کرکے تب لیتے ہیں میں نے ٹیبلٹ کو چار حصوں میں کرکے بابا جی کو دیا جو انھوں نے آسانی سے کھا لی
    اس وقت ان کی حالت ایسی نہیں تھی کہ میں ان سے ان کے متعلق کوئی سوال کرتی اس لئے ان کو آرام کرنے دیا ٹیبلٹ لینے کے بعد وہ سو گئے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد انھوں نے آواز دی نسرین کہاں ہو میں پاس گئی ماتھے پہ ہاتھ رکھا اب ان کا بخار اتر چکا تھا میں نے ان سے پوچھا آپکا نام کیا ہے

    تو بولے میرا نام ریاض ہے نسرین کہاں ہے اور ساتھ ہی نسرین کو آوازیں دینے لگے میں نے ان کی جیب کی تلاشی لی کہ شاید کوئی شناخت ملے مگر ایک کاغذ تک ان کی جیب میں سے نہ نکلا تو میری پریشانی بڑھ گئی. اس بزرگ کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ ان کو کچھ بھی یاد نہیں تھوڑی دیر بعد ان کو کھانا کھلایا ان کی حالت کافی سنبھل چکی تھی مگر میں سوچوں میں گم کہ اب کیا کروں پولیس کو بتاؤں یا نہ بتاؤں میں نے ان بزرگ کی موبائل سے تصویر لے کر پہلے ہی سوشل میڈیا واٹس ایپ پر شئیر کردی تھی رات ہونے والی تھی اور میرے شوہر کے آنے کا وقت قریب تھا سوچا جب وہ آجائیں تو پولیس کو بتائیں گے تقریباً شام 8:30 پہ مجھے ایک انجان نمبر سے کال آئی میں نے اٹینڈ کی تو دوسری طرف سے کوئی لڑکا بولا آپ نے سوشل میڈیا پر جو تصویر شئیر کی وہ بزرگ آپ کے گھر میں ہیں اس وقت ؟میں نے کہا جی ہاں میرے گھر پر ہیں تو اس نے بتایا کہ وہ ہمارے ایک جاننے والے ہیں انکے رشتہ دار ہیں اور صبح سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں

    میں نے پوچھا کہ یہ کہاں کے ہیں تو اس نے بتایا کہ چکوال سے ہیں پر رہتے قاسم مارکیٹ کے پاس ہیں میں نے ان کو گھر کا ایڈریس بتایا اور ایک گھنٹے کے اندر ہی ان کی فیملی میرے گھر آگئی ساتھ میں ایک عورت بھی تھی میں نے بتایا کہ بابا جی تو کچھ بتا نہیں رہے بس کسی نسرین کو آوازیں دے رہے ہیں تو وہ عورت بولی نسرین میرا نام ہے اور یہ میرے والد ہیں ان کی یاد داشت کھو گئی ہے اسی لئے ان کو میں اپنے پاس لے آئی تھی کہ ان کا علاج ہو سکے اور صبح نماز کے وقت گھر سے بنا بتائے نکل گئے تھے ہم تب سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں ،انھوں نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور نسرین نے بہت دعائیں دیں اور بابا جی بیٹی کو پہچان کے اس کے ساتھ چلے گئے دوسرے دن وہی عورتیں میرے گھر آئیں کہ باجی آپ نے بہت بڑی نیکی کی ہے اس کا اجر آپ کو بہت ملے گا, ان کی باتیں سن کر میرے دماغ میں ان کی کل کی باتیں گونجنے لگیں کہ باجی اس کے پاس نہ جانا یہ کرونا کا مریض لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ

    ان میں سے ایک نے کہا آ پ کو ڈر نہیں لگا کیونکہ آپ تو گیٹ کو باہر سے بھی تالا لگا کر رکھتی ہیں, میں نے کہا ہاں مجھے ڈر لگا تھا ان بزرگ کو دیکھ کر کہ اگر اس بزرگ کی جگہ میرے اپنے والد ہوتے اور وہ اس حالت میں ہوتے تو ان کا ایسے کوئی تماشہ دیکھتا…
    میرے اس جواب پر وہ چپ ہوگئیں.

  • عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون

    عورت کی عورت سے چھپی لڑائی ،تحریر : ریحانہ جدون

    غیر شادی شدہ خواتین کو جس طرح معاشرتی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طرح شادی شدہ خواتین کو بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے, کہیں پہ عورت کے کندھوں پہ تہذیب کا بوجھ ہوتا ہے تو کہیں پہ طلاق کا دھبہ اس کے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے
    کئی جگہوں پر تو عورت کی خود مختاری ضبط کر لی جاتی ہے تو کہیں اس کا کام صرف گھر سنبھالنا ہی طے ہوتا ہے کیونکہ اس معاشرے میں اکثر عورت کے حقوق کو سبو تاژ کیا جاتا رہا ہے کہیں عورت کو ہمیشہ عیش اور عشرت پرستی کا ذریعہ سمجھ کر حکمرانی کی جاتی ہے.
    ابھی بھی کچھ لوگ عورت کو اس کا اصل مقام دینے کے حامی نہیں ہیں اور یہی لوگ آزادی نسواں کے خلاف بھی ہیں.
    یہی وجہ ہے کہ عورت کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا موضوع مختلف تہذیبوں میں زیر بحث رہا ہے
    مختلف معاشروں میں عورتوں کے طبقے پر ظلم ہوا ہے عورتوں کے ساتھ جبروتششدد کے واقعات میں زیادہ تر مردوں کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن
    پس منظر کو دیکھیں تو ایک عورت ہی کہیں نہ کہیں آ لےکار ثابت ہوئی ہے ایک عورت پر ظلم کرنے میں خواہ وہ سوتن کے روپ میں, نند کے روپ میں یا پھر ساس کے روپ میں..
    بےشک معاشرے میں بےشمار خرابیاں ہیں مگر اس چیز کو بھی دیکھنا ہوگا کہ ان سب میں کہیں تھوڑا سا قصور عورت کا بھی تو نہیں ہے

    ایسا ہی کچھ دنوں پہلے کشمیر کے ایک گاؤں کاچلیاں میں ہوا
    لڑکی کی شادی کو تین سال کا عرصہ ہوا ایک بیٹی ایک سال کی اور وہ دوسرے بچے کی امید سے تھی. اس بےخبر کو نہیں معلوم تھا کہ اس کے شوہر کے تعلقات اپنی کزن کے ساتھ ہیں
    لڑکی کا شوہر کام کے سلسلے میں دوبئی میں رہتا تھا پر اپنی کزن کے ساتھ رابطے میں تھا.
    یہ لڑکی دوسری بار ماں بن رہی تھی اور اسے پتا نہیں تھا کہ اس کو راستے سے ہٹانے کے لئے اس کی ساس اور شوہر منصوبہ بندی کر رہے ہیں
    ایک دن لڑکی اپنی بچی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی کہ ساس نے اپنی بھتیجی ( لڑکی کے شوہر کی معشوقہ) کو فون کرکے بتایا کہ وہ اپنے منصوبے پر عمل کرسکتی ہے.

    گاؤں میں گھر دور دور ہوتے ہیں جب شوہر کی معشوقہ چھری لے کے لڑکی کے گھر گئی تو وہ سو رہی تھی, اسکے سر پر کسی چیز سے ایسا وار کیا کہ لڑکی بے ہوش ہوگئی اور بےہوشی میں ہی اس کے ہاتھ پیر کی سب انگلیاں کاٹ دی جب گلے پہ چھری رکھی تو لڑکی کو ہوش آگیا مزاحمت کرنے کی کوشش کرنے لگی اور اس کی دو سال کی بچی کے رونے کی آواز اور لڑکی کے چلانے کی آواز کھیت میں کام کرنے والے ایک آدمی کو سنائی دی وہ بھاگ کے مدد کو آیا تو دیکھا شوہر کی معشوقہ نے لڑکی کی گردن پہ چھری رکھی ہوئی ہے اور لڑکی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کے ساتھ واسطے دے رہی ہے کہ میں نے کیا کیا ہے مجھے مت مارو

    اس آ دمی نے اس عورت سے چھری چھین لی اور اسے کمرے میں بند کرکے پولیس کو کال کی.
    زخمی لڑکی کو اسپتال لے جایا گیا مگر اس کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث راولپنڈی اسپتال ریفر کر دیا گیا. گاؤں والوں نے لڑکی سے پوچھا ایسا کیوں کیا تو اس نے بتایا کہ میرے کزن نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو راستے سے ہٹاؤ تو تم سے شادی کرونگا اور اس منصوبہ بندی میں میری پھپھو ( لڑکے کی ماں) بھی شامل ہے.
    خیر یہ اچھا ہوا مظلوم لڑکی کی جان بچ گئی اور مجرمہ جیل چلی گئی پر اس کے اقرار جرم اور اس کے عمل نے یہ ثابت کردیا کہ عورت ہی عورت کی اصل دشمن ہے. شاہد یہ بات سننے میں عجیب لگے پر آپس کی دشمنی یا لالچ کی وجہ سے دوسری عورت کو مارنے یا برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی. اور کئی گھرانوں میں عام دیکھا گیا ہے کہ مرد کو ہتھیار بنایا جاتا ہے جب اس کو ایک عورت خواہ ماں ہو یا بہن یا بیوی) اسے دوسری عورت کے خلاف اکساتی ہے تو وہ قہر برسانے لگتا ہے…

    ہمیں اپنی خامیوں کو بھی قبول کرنا ہوگا مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی لڑائی کو ختم کرنا ہوگا, اور جب عورت ہی عورت کی ڈھال بن جائے تو ہھر کوئی عورت کا مقابلہ نہیں کرسکتا.

    @Rehna_7

  • کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟ تحریر : ریحانہ جدون

    غریبوں کے بچے خواب دیکھنے کی بجائے زندہ رہنے کے لئے مزدوری کررہے ہیں اور پیسے اور وسائل پر چند فیصد لوگ برا جمان ہیں اور اس کے برعکس غریب دیہاڑی کے لئے ترس رہا ہے
    حقیقت یہی ہے پاکستان میں سرمایہ داروں نے حکمرانوں نے جم کے ترقی کی.
    ترقی تو وہ ہوتی ہے جس میں عوام کو سہولیات میسر ہوں خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو.
    پر
    جہاں کچرے سے کاغذ چن کے انکو بیچ کر بھوک مٹائی جائے وہاں ترقی نہیں ہوتی.
    میں روز صبح کام پر جاتے ہوئے دو معصوم بچوں کو دیکھتی ہوں جن کے نازک کندھوں پر پرانا تھیلا لٹکا ہوتا ہے
    معمول کے مطابق جب میں بس سٹاپ پر پہنچی تو پتا چلا کہ گاڑی لیٹ ہے اس لئے میں پیدل چلنے لگی تو وہی بچے میرے سامنے تھے جن کو میں روز دیکھتی تھی
    ان میں سے ایک بچہ لگ بھگ 7 سال کا تھا وہ اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ تھامے کچرے کے ڈھیر سے کاغذ چن رہا تھا اور اسکا وہ معصوم چھوٹا بھائی بھی اپنے کام میں ماہر لگ رہا تھا.
    میں ان کے قریب گئی تو مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ اس معصوم کے پیروں میں جوتے تک نہیں تھے اور اس سردی میں بنا جوتوں کے وہ کچرے میں سے کاغذ اور پلاسٹک کی بوتلیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے اپنے تھیلے میں جمع کر رہے تھے, میں نے اس چھوٹے بچے کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ میں لے آئی تو اس کا 7 سالہ بھائی کسی محافظ کی طرح میرے پاس آیا اپنے بھائی کا ہاتھ چھڑایا اور چل نکلا
    میں نے کہا بیٹا اس کے جوتے کہاں ہیں ؟
    تو اس نے نفی میں سر کو ہلا کے جواب دے دیا
    آپ کا نام کیا ہے پر اس نے میرے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اور اپنے بھائی کا ہاتھ تھامے چل پڑا

    وہاں کھڑے ایک شخص سے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو اس نے بتایا کہ یہ لوگ ادھر پاس ہی کرائے کے مکان میں رہتے ہیں باپ دیہاڑی لگاتا ہے اور یہ بچے ہر روز کاغذ چنتے ہیں پھر کباڑ میں فروخت کرکے جو پیسے ملتے ہیں گھر لے جاتے ہیں.
    یہ سن کر میں تیز قدموں سے ان کے پاس پہنچ گئی جو سڑک کے کنارے ایک کوڑے دان کے پاس کھڑے تھے پر کوڑے دان ان کے قد سے بڑا تھا
    میں نے بڑے بچے کو پیار سے کہا بیٹا آپکے بڑے بہن بھائی ہیں تو پھر اس نے نفی میں سر ہلایا
    کتنے پیسے اس ردی کے مل جاتے ہیں میں نے اس کے تھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو اس نے معصومیت سے جواب دیا 50 روپے.
    میں نے 100 روپے کا نوٹ اس بچے کو دکھاتے ہوئے کہا یہ آپ کی کمائی, اب آپ گھر جائیں ٹھنڈ بہت ہے تو اس نے ہچکچاتے ہوئے پیسے لے لیے.

    یہ بچے جب بڑے ہونگے تو ان کو اپنا بچپن یاد ہوگا ؟
    کیا ان بچوں کی پسند نا پسند نہیں ؟
    کیا ان کے خواب نہیں ؟
    بالکل ہیں اور ہونگے کیونکہ والدین کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ ان کے بچے ایک قابل اور کامیاب انسان بنیں مگر اپنی غربت کے ہاتھوں وہ اپنے خوابوں کا گلہ گھونٹ دیتے ہیں. کئی ایک ایسے ہیں جو خود مشکل سے گزر بسر کرکے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں مگر ڈگری پاس ہونے کے باوجود اس کو کہیں اچھی نوکری نہیں ملتی.
    کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان کی ویڈیو دیکھنے کو ملی جو ایم ایس سی ریاضی ہے پر دو وقت کی روٹی کے لئے خاکروب کی ملازمت کرنے پر مجبور ہوگیا ہے. تین سال مسلسل نوکری کی تلاش کے باوجود اسے مایوسی ہوئی اور مایوس ہونے کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی میں خاکروب کی نوکری کرلی وہ بھی صرف ڈیلی ویجز پر.
    ملک میں اب بھی کئی لوگ جھگیوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف کئی کنال پر مشتمل محلوں میں کچھ خاندان بستے ہیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ؟؟
    معاشرے میں امیر اور غریب کا فرق مزید بڑھتا جارہا ہے مسلسل مہنگائی نے ناصرف غریب کی کمر توڑی ہے بلکہ امیر اور غریب کے اس فرق کو خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے .
    @Rehna_7

  • بیٹی اور ماں باپ کا رشتہ بہت انمول ہوتا ہے.تحریر : ریحانہ جدون

    بیٹی اور ماں باپ کا رشتہ بہت انمول ہوتا ہے.تحریر : ریحانہ جدون

    بہت پیارے لمحے ساتھ گزار کر پھر وہ کسی اجنبی کے ہاتھ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ بڑے حوصلے سے تھما دیتے ہیں اور پھر کہیں کونے میں چھپ کے آنسو بہا لیتے ہیں, بیٹیوں کے دکھ کو جیسے اپنا دکھ بنا لیتے ہیں.
    اپنی بیٹیوں کی پرورش وہ ایسے کرتے ہیں جیسے وہ شہزادیاں ہوں, انکے جہیز میں چاہے قرض لینا پڑ جائے پر کوئی کمی نہیں چھوڑتے
    ہاں ایک چیز جو وہ نہیں دے سکتے وہ ہے اچھا نصیب…
    کئی دفعہ والدین کے غلط فیصلے اولاد کے لئے ساری زندگی کا دکھ بن جاتے ہیں اور بعض دفعہ اولاد اپنی ضد اور ناسمجھی سے اپنے لئے خود گڑا کھود دیتی ہے.
    میرے خیال میں عمر کا 16 سے 25 سال کا دورانیہ انتہائی نازک ہوتا ہے. اس میں اگر انسان سنبھل جائے تو اپنے لئے ایک بہتر مستقبل بنا سکتا ہے مگر اس دوران اگر ناسمجھی میں اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ بنا سوچے سمجھے کردے تو ساری زندگی اسکا پچھتاوا ایک سائے کی طرح پیچھا کرتا رہتا ہے.

    جب اس نے ماں باپ کی مرضی کے خلاف اپنی شادی کا فیصلہ کیا تب وہ میٹرک کی طلبہ تھی اور تقریباً 15 سال اسکی عمر تھی اور دو بھائیوں کی اکلوتی بہن ،ان دنوں میٹرک کے امتحانات ہو رہے تھے گھر سے پیپر دینے نکلی مگر دل میں یہ فیصلہ کرکے نکلی کہ وہ واپس اس گھر میں نہیں جائے گی جہاں اسکی پسند کو ترجیح نہیں دی جاتی .مگر وہ آج اس دوراھے پر کھڑی ہے کہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا کہ وہ اپنے لئے کونسا راستہ اختیار کرے ،ماں باپ کی مرضی کے خلاف جاکر اس نے اپنا مستقبل داؤ پہ لگا کر تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنی پسند کی شادی کر لی اسکے والدین نے لڑکے پر اغواء کا کیس کردیا کیس عدالت میں چلا وہاں ماں باپ نے پوری کوشش کی کہ انکی بیٹی انکو واپس مل جائے اس لئے انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹی کی عمر 15 سال ہے اس لئے ہم اس نکاح کو نہیں مانتے پر وہاں لڑکی نے لڑکے کے حق میں بیان دے دیا کہ میں بالغ ہوں اور اپنی مرضی سے شادی کرنا میرا حق ہے اس لئے میں نے اپنی مرضی سے اپنی پسند سے شادی کی ہے

    یوں کیس ختم ہوگیا لڑکی اپنے سسرال چلی گئی جہاں اسکی سوتیلی ساس اور اسکی زندگی کے امتحان اسکا منتظر تھے
    کچھ عرصہ تو سب ٹھیک رہا مگر پھر آہستہ آہستہ وہی گھریلو مسائل بڑھنے لگے, ساس کو اس لڑکی سے کافی شکایات تھیں
    نازو سے پلی بڑھی یہ بچی ساس کو خوش رکھنے کے لئے گھر کے سب کام کرنے لگی مگر سب بے سود

    ہم کہتے ہیں کہ عورت بہت مظلوم ہوتی ہے مگر اگر اس کے پس منظر میں جا کے دیکھیں تو یہ حقیقت بھی سامنے آ جائے گی کہ بعض دفعہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی حال تھا ،لڑکی کا اپنے ماں باپ سے ملنا جلنا بند تھا مگر جب بیٹی کے پیار میں مجبور ہوکر والدین اس کو ملنے جاتے تو ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جاتا ،لڑکا خود مجبور تھا کیونکہ وہ خود طالب علم تھا اور اپنی سوتیلی ماں اور باپ کے رحم کرم پہ تھا آخر ایک دن تنگ آکر وہ الگ مکان کرائے پہ لے کر بیوی کو ساتھ لے گیا

    ایک سال بعد اللہ نے انکو ایک بیٹے سے نوازا بیٹے کی پیدائش پر لڑکے کا باپ لڑکی کو گھر لے آیا کہ اب اکٹھے رہیں گے
    مگر حالات بدستور ویسے ہی رہے اور آخر ایک دن گھر میں ہنگامہ ہوگیا کہ لڑکی نے اپنی ساس کی جیولری چوری کی ہے
    لڑکی نے ہر طرح سے یقیں دلانے کی کوشش کی مگر کسی کو اس پر یقین نہ آیا اور معاملہ ایسا بگڑا کہ لڑکے کو مجبور کیا گیا کہ اس کو طلاق دو
    لڑکے نے طلاق دے دی
    وہ بے چاری کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا سوائے اسی ماں باپ کے جن کو وہ چھوڑ دی تھی

    مجبوراً بچے کو لے کر ماں باپ کے گھر چلی گئی, ماں باپ تو پھر ماں باپ ہوتے ہیں جو اولاد کی غلطیوں کو معاف کرکے بھی گلے لگا لیتے ہیں
    ادھر جب لڑکے کو احساس ہوا کہ اس نے کتنی بڑی غلطی کردی تو بہت پچھتایا مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت ،کچھ ٹائم بعد لڑکی کے والدین نے لڑکی کی شادی کردی مگر وہ وہاں خوش نہیں تھی وہ اب بھی سابقہ شوہر کے پاس جانا چاہتی تھی مگر اسکے شوہر نے اسے طلاق دینے سے صاف انکار کردیا.

    جب لڑکے کے گھر والوں کو معلوم ہوا کہ لڑکی وہاں سے طلاق لے کر واپس سابقہ شوہر کے پاس آنا چاہتی ہے تو انھوں نے لڑکے کو بہلا پھسلا کر نئی جگہ جلد بازی میں شادی کردی اور یہ لڑکی اب اپنے والدین کی چوکھٹ پہ بیٹھی ہے
    اسکی داستان سن کر میں نے اسے مشورہ دیا کہ بیٹا واپس شوہر کے پاس چلی جاؤ اس لڑکے نے تو شادی کرلی ہے پر اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے کہ آنٹی میں مر جاؤں گی میں اسکے بغیر جی نہیں سکتی, کوئی میری حالت کو سمجھتا کیوں نہیں ہے تو پھر شوہر کو بولو طلاق دے دے تو اس نے انکشاف کیا کہ شوہر نے شرط رکھی ہوئی ہے کہ میرا زیور اور پیسے واپس کرو میں طلاق دے دونگا. میں نے اسے کہا تو اسکی چیزیں واپس کردو ناں..

    آنٹی میرے پاس اسکا کچھ بھی نہیں ہے زیور اور پیسے مما کے پاس ہیں اور مما نہیں چاہتی میں طلاق لوں
    تو پھر کیا اسی طرح لٹکی رہو گی ؟؟
    وہ میری باتیں چپ کرکے سن رہی تھی مگر اسکی آنکھیں آنسوؤ سے تر تھیں
    میری کسی بات کا جواب اسکے پاس نہیں تھا وہ اب یقینی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی کہ آیا وہ یہاں سے طلاق لے گی تو سابقہ شوہر اس سے شادی کرے گا یا نہیں
    سابقہ شوہر کو چھوڑنا اسکے اختیار میں نہیں تھا. واقعی محبت بڑا نرم اور پیارا جذبہ ہوتا ہے محبت والے دل بس محبت کرنا جانتے ہیں. اپنی کسی ضد کسی مقابلے بازی یا انا کے جھگڑوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی
    جس کے لئے اس نے اپنی زندگی لٹا دی تھی اسی نے اس کو بری طرح توڑ کے دکھوں کے حوالے کردیا تھا. وہ اپنی زندگی کا ایک غلط فیصلہ کرکے اپنی زندگی کی خوشیوں کو داؤ پہ لگا چکی تھی. جس محبت کے لئے وہ جی رہی تھی اسی محبت نے اسے اندر سے کھوکھلا کردیا تھا.

    کیا خوب کہا کسی نے

    پانی آنکھ میں بھر کے لایا جاسکتا ہے
    اب بھی جلتا شہر بچایا جاسکتا ہے
    ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت
    لیکن اس سے کام چلایا جاسکتا ہے.

    اس کی عمر مشکل سے 19 سال ہے اور ایک بیٹے کی ماں
    اور وہ ماں جسے نہ تو اپنے مستقبل کا تعین اور نہ اپنے بیٹے کے اچھے مستقبل کی امید
    کیا آ گے زندگی میں بھی اسکے یا اس جیسی لڑکیوں کے ساتھ یہ امتحانات پیش آتے رہے گے ؟؟
    عورت اگر عورت کی ڈھال بن جائے تو کوئی اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا. یہاں اگر سوتیلی ساس کھلے دل سے اس بچی کو اپنا لیتی یا اس کی غلطیوں کو درگزر کرکے اسے بہو کی بجائے بیٹی کا درجہ دے دیتی تو آج اس لڑکی کا اور اس کے بچے کا مستقبل داؤ پر نہ لگتا.
    کہیں نہ کہیں عورت ہی عورت کے لئے مشکلات پیدا کرتیں ہیں
    کبھی تہمت لگا کر, کبھی نیچا دکھا کر یا کبھی سازش کرکے..

    @Rehna_7