Baaghi TV

Author: ریحانہ جدون

  • اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    اپنا حق اور مصلحت ،تحریر : ریحانہ جدون

    ذندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع کرنے کی بجائے محبتیں بانٹیں اور بعض دفعہ کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرکے سکون پائیں…
    کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک ردعمل دکھائیں اور ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دے سکتے ہیں پر جہاں اپنے حق کے لئے بولنا لازم ہوجائے وہاں چپ رہنا کسی اور کے ساتھ زیادتی ہو نہ ہو اپنی ذات کے ساتھ زیادتی ضرور ہے

    بےحسی ہمارے معاشرے میں ایسے رچ بس گئی ہے کہ ہمیں صحیح اور غلط کا فرق بھی نہیں پتا چلتا کسی کی تکلیفوں کا اندازہ لگانا تو دور ہم سننا گوارہ نہیں کرتے..
    انسان اتنا سنگدل کیسے ہوسکتا ہے جہاں اسے اپنے حق کے لئے بولنا چاہیئے وہاں وہ چپ سادھ لیتا ہے
    باجی یہ تو ظلم ہے)
    ایسا جملہ جس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پہ مجبور کیا.
    ہمارے ساتھ والے گھر میں ایک فیملی کرائے پر رہنے آ ئی
    اس عورت کے 4 بیٹے 3 بیٹیاں تھیں
    بیٹیاں شادی شدہ تھیں.
    میں جب بھی اس عورت کو دیکھی سہما ہوا اسکا چہرہ دیکھی..
    ایک دن ایسا ہوا وہاں پانی کا مسئلہ تھا پانی کا ٹینکر منگوا کے استعمال کیا جاتا تھا. میں نے کبھی اس عورت کی اونچی آواز نہیں سنی کیونکہ اسکا شوہر سخت مزاج تھا پانی کا ٹینکر آیا میں نے سوچا غریب فیملی ہے کچھ پیسے میں نے پانی کے دئیے اور 400 اس عورت کو کہا کہ آپ دے دیں. پانی ٹینکی میں ڈالنے سے پہلے میں نے اسے کہا کہ پینے کے لئے ایک واٹر کولر بھر لیں, اس نے پانی بھرا اور باقی پانی ٹینکی میں ڈال دیا گیا. جب میں نے اس عورت کو 400 روپے دینے کا کہا تو اسنے حیرت سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا باجی یہ تو ظلم ہے…

    میں نے ایک کولر بھرا آپ نے 400 روپے دلوا دئیے….
    مجھے اسکی معصومیت پہ ہنسی ائی میں نے کہا کہ آپا یہ جو پانی ٹینکی میں ڈالا گیا ہے یہ بھی آپکا ہی ہے جو آپ روز مرہ استعمال کریں گی ایک واٹر کولر کے پیسے 400 روپے نہیں ہیں..
    تب اس نے خوشی سے کہا اوو اچھا باجی خفا نہیں ہونا
    میں نے کہا کوئی بات نہیں مجھے خوشی ہے کہ آپ کو یہ بولنا بھی تو آیا کہ یہ تو ظلم ہے پر میری ایک بات کا جواب دیں یہ جو آپ اپنی فیملی میں سہہ رہی ہیں یہ کیا ہے ؟
    بیٹا ماں کے منہ پہ تھپڑ مار رہا ہے, اور شوہر آپ پہ ہاتھ اٹھا رہا ہے ( صرف اس لئے کہ گیٹ آپ نے کیوں کھلا چھوڑا)
    کیا یہ ظلم نہیں ؟؟
    میری بات سن کے میرا ہاتھ پکڑ کے بولی… باجی میرا شوہر میرے سے بہت پیار کرتا ہے بس کسی نے اسے جادو کھلا دیا ہے اس لئے اسے غصہ زیادہ آتا ہے
    اور جو بیٹا آپکے منہ پہ تھپڑ مارا وہ کیا ہے ؟ میں نے پھر سوال کیا

    وہ عورت مسکراتے ہوئے بولی باجی میرا وہ بیٹا بچپن سے ہی غصے والا ہے میں جب غلطی کرجاتی ہوں تو اسکو غصہ آتا ہے پر میرے سے پیار بہت کرتا ہے.
    اسکے جواب سن کے میں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی کہ وہ کس طرح اپنے شوہر اور بیٹے کے دفاع میں بول رہی تھی اور میری بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے مذید دلائل دینے لگی.
    ایسی بھی عورتیں ہمارے معاشرے میں ہیں جو اچھا برا صیحیح غلط, سچ جھوٹ جانتے ہوئے بھی ان سب سے لاعلم ہوں
    میرے خیال میں 400 روپے کے لئے اسکا کہنا کہ باجی یہ تو ظلم ہے اس بات کی عکاس کرتا کہ اسے ظلم اور جبر کی پہچان ضرور ہے مگر اپنی ذات کے معاملے میں وہ بالکل اس سے لاعلم ہے یا لاعلم رہنا چاہتی ہے.

    خیر کچھ دن بعد گھر کے باہر ایک ٹرک کھڑا تھا جس پر انکا سامان لادا جارہا تھا ،معلوم کرنے پر پتا چلا کہ وہ یہاں سے شفٹ ہورہے ہیں.
    خدا حافظ کہنے وہ میرے گھر آئی میں خوش اسلوبی سے اس سے ملی مگر وہ نظریں چرا رہی تھی جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو
    میں نے اسکا ہاتھ تھام کہ کہا آپا اپنی زندگی اپنی ذات کا بھی انسان کو سوچنا چاہیئے ناں
    جب تک آپ کسی کو اپنی خوشی یا اپنے غم کا احساس نہیں دلائیں گی کوئی آپکی قدر نہیں کریگا
    وہ پھر کچھ بولنے کے لئے میری طرف دیکھی پر صرف مسکرا کے چلی گئی.
    اسکے جانے کے بعد میں وہیں بیٹھ گئی ایک عورت کو اپنے خاوند سے چاہیے ہی کیا ہوتا ہے ؟ ایک ماں کو اپنے بیٹے سے کس چیز کی امید ہوتی ہے ؟؟
    شاید یہ خواہش یا مطالبات اس عورت نے کہیں دفن کر دئیے تھے

  • سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سفید پوشی, خود داری اور یہ مجبوریاں ..تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    خود داری بہترین انسانی صفت ہے اور آج تک خوددار انسان کبھی ناکام نہیں ہوا.
    ہر انسان خود دار رہنا پسند کرتا ہے اور اپنی خودداری پہ کبھی سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتا. مگر بعض اوقات اُسے ایسی مجبوریاں جکڑ لیتی ہیں جو اسکی خودداری کو جھکنے پر مجبور کردیتیں ہیں.
    آپ نے کبھی ایسے مجبور باپ کو دیکھا ہوگا جو اپنی اولاد کے لئے دن رات محنت کرتا ہے اسے طرح طرح کی مصیبتیں جھیلنی پڑتیں ہیں اور کئی لوگوں کی ڈانٹ اور گالیاں بھی سننی پڑتی ہیں. اسکے باوجود وہ اپنی محنت سے کام کرتا ہے کیونکہ اس نے اپنا گھر چلانا ہوتا ہے. اپنے بچے پالنے ہوتے ہیں.
    ایک ریڑھی والے کو جب 1500 کا چالان تھما دیا جاتا ہے تو اسکی حالت کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو خود مزدور ہو,
    مگر جیسے تیسے کرکے اس نے چالان بھی بھرنا ہوتا ہے چاہے اسکے لئے اسے خود بھوکا سونا پڑ جائے…
    باپ جو اپنے بچوں کے لئے کسی ہیرو سے کم نہیں ہوتا وہ اپنے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنے کے لئے اپنا آپ بھول جاتا ہے. اس کے لئے اپنی صحت اپنی ہمت معنی نہیں رکھتی وہ اپنے آپ کو کمزور کرتا ہے تاکہ اُسکی اولاد کسی قابل بن سکے.
    وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے دکھ اپنے چہرے سے ظاہر نہ دے کیونکہ وہ اپنی اولاد کو ہر وہ خوشی دینا چاہتا ہے جو اسکے اختیار میں ہوتی.
    اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ اسکو اپنی خود داری کو دفن کرنا پڑتا جاتا ہے. اسے کئی طرح کے طعنے سننے پڑتے ہیں مگر اُسے سب برداشت کرنا پڑتا ہے.

    اللہ کا قانون ہے کسی کو آسائشیں دے کے آزماتا ہے تو کسی کو ان آسائشوں سے محروم رکھ کے آزماتا ہے.
    اچھا اور برا وقت ہر کسی پہ آتا ہے اچھے وقت میں اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور بُرے وقت میں صبر. اور صبر اور شکر دونوں اللہ کو بہت پسند ہے.
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اندھیرے میں اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے مطلب کے بُرے وقت میں کوئی کسی کا ساتھ نہیں دیتا.. مگر بُرا وقت اچھے برے اور اپنے پرائے کی تمیز ضرور کرا دیتا ہے.
    بُرے وقت میں اگر ہم کسی کو کچھ دے نہیں سکتے مگر تسلی کے دو بول تو دے سکتے ہیں اسکے ساتھ کھڑے رہ کر اسے حوصلہ تو دے سکتے ہیں.
    آج اس دور میں غمِ روزگار نے سب کو پریشان کر رکھا ہے. ایک طرح سے اپنے رشتے داروں سے بھی دور کردیا ہے. اور یہ انکی مجبوری بھی ہے
    انسان جب کسی کو کسی تکلیف میں دیکھتا ہے تو کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ اسکی تکلیف دور کرسکے.
    میں جب کسی کو سڑک پہ ٹھیلہ لگائے دھوپ میں کھڑا ٹھنڈا شربت پی لو… کی آوازیں لگاتے دیکھتی ہوں یا کوئی اپنے کندھے پہ کسی کا سامان لادے اسکے پیچھے چلتا ہوا دیکھتی ہوں تو سوچنے پہ مجبور ہوجاتی ہوں کہ مالک انکی آزمائش واقعی کٹھن ہے.
    میرا جانا راولپنڈی کے ایک مشہور اسپتال ہوا
    وہاں میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو لگ بھگ 70 سال کے تھے.
    بہت تکلیف میں تھے پر انکے ساتھ کوئی نہیں تھا.
    مجھ سے رہا نہیں گیا میں اُن کے پاس چلی گئی, پوچھا بابا جی کیا ہوا ہے آپکو..
    تو کانپتے ہاتھ سے اشارہ کِیا کہ سینے میں درد ہے.
    میں ڈاکٹر کو بُلا کے لائی, ڈاکٹر نے چیک کرنے کے بعد کچھ ٹیسٹ لکھے اور نرس کو انجکشن لگانے کی ہدایت کرکے چلا گیا
    دل میں طرح طرح سوال تھے کہ انکے ساتھ کوئی کیوں نہیں, یہ کون ہیں کہاں کے ہیں وغیرہ
    میں اسی سوچ میں تھی کہ اُن بزرگ نے مجھے آواز دی
    بیٹی آپکے بیٹے کو کیا ہوا ہے ؟
    میں نے انھیں بتایا کہ اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو چیک کروانے آئی ہوں. اب رپورٹس کا انتظار کررہی ہوں..
    میں نے پوچھا : بابا جی آپ کہاں سے آئے ہیں؟
    تو بولے میں چکوال سے ہوں.
    آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے ؟؟ میں نے پھر سوال کیا.
    تو اُنکی آنکھوں میں آ نسو آ گئے, بولے میرے ساتھ بس میرا اللہ ہے.
    جوان بیٹا ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیا اب اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں, انکے لئے میں یہاں آیا ہوں مزدوری کرنے..
    میں نے پوچھا بابا جی کیا کام کرتے ہیں ؟
    تو بولے ریڑھے پہ سامان لاد کے لے جاتا ہوں اور ایک پھیرے کا 30 روپے مل جاتے ہیں, کبھی کبھی طبیعت خراب ہوتی ہے تو لوگوں کی گالیاں بھی سنتا ہوں کیونکہ انکو کام چاہیے ہوتا ہے.
    جیسے جیسے وہ بتا رہے تھے میرے لئے کسی دکھ سے کم نہ تھا کہ وہ اس حالت میں, اس عمر میں مزدوری کررہے کیونکہ انکا سہارا کوئی نہیں اور اب بھی وہ کسی کا سہارا بنے ہوئے ہیں
    میں نے بابا جی کو تسلی دی کہ اللہ پاک آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے اور کچھ مدد کرنی چاہی پر بابا جی نے میرا ہاتھ روک دیا کہ میری بیٹی ہوتی تو آج وہ تمھاری عمر کی ہوتی اور باپ بیٹیوں سے پیسے نہیں لیتے.
    میں نے جب اصرار کیا تو کہنے لگے پتر مینوں شرمندہ نہ کر.
    کتنی خودداری تھی انکی آواز میں کہ میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کردیا.
    بابا جی کی آنکھوں میں آنسو تھے پھر آنکھیں بند کردی
    اور دھیمی آواز میں کہنے لگے اللہ تمھیں اپنے بچے کی خوشیاں نصیب کرے. بچوں کو اللہ ماں باپ کے لئے زندہ رکھے. اللہ تمھارے بچے کو زندگی دے..
    پتا نہیں کیوں میری آنکھیں بھیگنے لگیں
    میں دل سے دعا کررہی تھی کہ اے اللہ مجھے اتنی طاقت دے کہ میں لوگوں کی زندگی سے انکی تکلیفیں دور کرسکوں کسی کی آنکھوں میں آنسو آ نے نہ دوں اور نہ کبھی کسی کی آنکھ میں آنسو آنے کی وجہ بن سکوں.
    آمین

    @Rehna_7

  • زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    زندگی کی خوبصورتی اور خود ساختہ مسائل. تحریر:ریحانہ بی بی (جدون)

    نفسیاتی مسائل جنھیں ہم عام الفاظ میں ٹینشن بھی کہتے ہیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں.
    دیکھا جائے تو انکی فہرست بہت بڑی ہے. ہم معاشی مسائل اور غلط قسم کے رسم و رواج میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ان سے نکلنا مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے اور بے حسی لوگوں میں اس طرح رچ گئی ہے کہ اب انھیں صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے معلوم نہیں… اگر معلوم ہوتا بھی ہے پر انکو اسکے صحیح اور غلط سے کوئی سروکار نہیں ہوتا.
    اور اسکی وجہ سے ہمارا خاندانی نظام بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کا شکار ہورہا ہے.
    پہلے غربت تھی پر رشتوں کی اہمیت بہت سمجھی جاتی تھی مگر اب یہاں رشتوں کی بجائے روپے پیسے کی اہمیت نے جگہ لینی شروع کردی ہے..

    وجہ ؟؟؟
    انسان نے اپنی ضروریات اس قدر بڑھا لی ہیں کہ اب ایک فرد کی کمائی میں گھر کا خرچ چلانا بہت مشکل ہوگیا ہے اور ایک مشین کہ طرح کام میں لگا رہتا ہے پر پھر بھی ضروریات پوری نہیں ہوتیں.. نہ اپنے خاندان کو وقت دے سکتا ہے نہ اپنے بچوں کو….
    بچوں کی ضروریات پوری کرتے کرتے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بچوں کو اسکے پیار اسکے وقت کی بھی ضرورت ہے.
    ایک ریسرچ کے مطابق بچوں میں نفسیاتی مسائل کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اسکی بڑی وجہ والدین کے جھگڑے یا بچوں کے ساتھ سخت رویہ بھی ہوسکتا ہے
    اور جب بچے اپنے والدین کی امیدوں پر پورا نہیں اترتے تو وہ شدید قسم کے ڈپریشن کا شکار ہوجاتےہیں جس کے خطرناک نتائج بھی ہوسکتے ہیں.
    والدین کو چاہئیے کہ وہ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی وقت بھی دیں. اپنے اور بچوں کے درمیان ایک دوستانہ ماحول بنائیں, بچے کے مسائل سمجھیں اس سے ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے گی.
    مگر افسوس ہماری خواہشات اور ترجیحات خود ہم نے بدل دی ہیں. بچوں کے ساتھ ساتھ ہم اپنوں سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں (یا دور ہوگئے ہیں) اب ہمیں سہولیات میسر تو آئیں ہیں مگر وقت کی کمی کا رونا بھی روتے ہیں.
    پہلے خوشی غمی کے موقع پر سب رشتہ دار اکٹھے ہوجاتے تھے مگر اب یہ بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے.
    افسوس اب تو بزرگوں کے تجربے سے یا دور اندیشی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا بلکہ اب جس کا اسٹیٹس بڑا ہو اسی سے مشورہ اور اسی سے ملنا اور تعلقات رکھے جاتے ہیں صاف الفاظ میں اب تو زیادہ تر لوگ مفاد کا رشتہ رکھتے ہیں, پر مطلب اور مفاد کے رشتوں سے ہمیشہ تکلیف ہی ملتی ہے کیونکہ پیسے اور مفاد کے بنائے گئے رشتوں کی حقیقت اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب یہ دونوں چیزیں نہیں رہتی.
    پھر ہم وقت کا رونا روتے ہیں کہ وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے مگر یہ ہم خود کی تسلی کے لئے وقت کو بدنام کررہے ہوتے ہیں.
    اصل میں جیسے ہی انسان کے پاس دولت یا عہدہ آ تا ہے تو وہ اپنے رشتے داروں سے خود کو دور کرلیتا ہے.
    اور اسی ترک تعلق نے انسان کو تنہا کردیا ہے اور جب ناکامی ہوتی ہے تو وہ خود کو اکیلا کھڑے دیکھتا ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار.
    دیکھیں حالات جیسے بھی ہوں پر اپنوں کا ساتھ کبھی مت چھوڑیں, انکا دکھ درد بانٹیں, یہ رتبہ, یہ عہدہ کسی کام کا نہیں آ نا
    زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان رشتوں کو نبھانے سے ملیں گی کیونکہ یہ بہت انمول ہوتے ہیں.

    @Rehna_7

  • سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سگریٹ نوشی باعثِ فخر نہیں, مضرِصحت ہے. تحریر: ریحانہ بی بی (جدون)

    سگریٹ نوشی گلہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اِردگرد کے ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہے.
    سگریٹ پینے والا انسان سگریٹ کے دھوئیں سے اپنے ساتھ ساتھ بچوں اور عورتوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے.
    پاکستان میں ہر دوسرا شخص تمباکو کا استعمال کرتا ہے اور اس رجحان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے, اس وقت پاکستان اینٹی سموکنگ سوسائٹی کے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 35 سے 40 کمپنیوں کے پاس سگریٹ بنانے کے کارخانے موجود ہیں اور اسکی فروخت میں حکومت اربوں کے حساب سےسالانہ ٹیکس وصول کرتی ہے.
    پروفیسر ڈاکٹر جاوید کے مطابق پاکستان میں مناسب قانون نہ ہونے کی وجہ سے سگریٹ عام دستیاب ہیں اور اگر قانون ہے بھی تو اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا.
    پاکستان میں ناخواندگی زیادہ ہے اور سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں لاعلمی زیادہ ہے. لہذا سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے لئے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے ماحول سازگار ہے اور نوجوان اس لت میں گرفتار ہورہے ہیں.

    المیہ یہ کہ پاکستان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی سگریٹ نوشی کی لت میں ایسے گرفتار ہے کہ کھلے عام سگریٹ پی جاتی ہے.
    اسکے ساتھ ساتھ میں یہ بھی بتاتی چلوں کہ 12 سے 15 سال کے بچوں میں بھی سگریٹ پینا معمولی بات سمجھی جارہی ہے. اور یہ والدین کے لئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے اور انکو علم ہونا چاہیے کہ انکے بچے کا اٹھنا بیٹھنا کیسے لوگوں میں ہے. جب والدین اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھیں گے تو بچے اسی طرح بُری عادتوں میں پڑیں گے.
    دیکھیں سگریٹ نوشی سے ہماری جسمانی صحت تو برباد ہوتی ہے مگر پیسے کا ضیاع بھی ہے, اور نفسیاتی بیماریاں ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں.
    ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے.

    دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ پھیپھڑے, سانس اور خوراک کی نالی اور منہ سمیت کئی کینسر صرف سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتے ہیں.
    سگریٹ نوشی سے نہ صرف اپنی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ ہمارے اردگرد رہنے والے لوگوں کو بھی کئی بیماریاں لگ سکتی ہیں اور خاص طور پر چھوٹے بچے سگریٹ کے دھوئیں سے جلدی متاثر ہوتے ہیں.
    تمباکو ایک زہر کی مانند ہماری نوجوان نسل کو تباہ کررہا ہے.
    سگریٹ پینے سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا دکھنے لگتا ہے. اس سے نہ صرف پھیپھڑے تباہ ہوتے ہیں بلکہ ہڈیوں پر بھی اسکے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں. ہڈیاں کھوکھلی ہوجاتی ہیں.
    سگریٹ نوشی سے خون گاڑھا ہوجاتا ہے اور دل کے امراض بہت بڑھ سکتے ہیں.
    اور کسی کھلاڑی کے لئے سگریٹ نوشی اسکا مستقبل تباہ کرسکتی ہے کیونکہ سگریٹ نوشی سے سانس پھول جاتا ہے.
    ریسرچ کے مطابق ہر دس مریضوں میں سے نو جن کو پھیپھڑوں کا کینسر ہوتا ہے وہ سموکرز ہوتے ہیں .
    سگریٹ نوشی کرنے والے کو نمونیہ کا خدشہ بھی ہروقت لگا رہتا ہے.

    ہمیں معاشرے میں یہ شعور اُجاگر کرنا ہے کہ تمباکو نوشی کی عادت اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی نقصان دہ ہے اور اس سے ہر ممکن حد تک بچنا ہے.

    دیکھیں کسی بھی نشے کی طرح سگریٹ نوشی کی عادت سے بھی چھٹکارا پانا بہت آسان ہے بس اسکے لئے مضبوط ارادے اور خود کو مصروف رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے.
    پاکستان میں انسداد سگریٹ نوشی کے سلسلے میں قوانین پر سنجیدگی سے عمل کی ضرورت ہے.
    صحت مند زندگی گزارنے کے لئے ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ سگریٹ نوشی کی پیشکش سے انکار کریں گے اور جو ہمارے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے سگریٹ نوش افراد ہیں.. انکی بھی سگریٹ نوشی کی عادت ترک کروانے میں کوشش کریں گے.
    ہم سب نے مل کر سگریٹ نوشی کی اور خاص کر پبلک مقامات پر اسکی حوصلہ شکنی کرنی ہے.

    @Rehna_7

  • عورت مظلوم مگر عورت سا ظالم کوئی نہیں :تحریر : ریحانہ بی بی  (جدون )

    عورت مظلوم مگر عورت سا ظالم کوئی نہیں :تحریر : ریحانہ بی بی (جدون )

    دیکھا جائے تو عورت عرصہ دراز سے مظلوم چلی آرہی ہے. دنیا کا ایسا کوئی حصہ نہیں جہاں عورت پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں.
    اسلام سے پہلے اہل عرب میں عورت کے وجود کو باعث شرمندگی سمجھا جاتا تھا اور زندہ دفن کردیا جاتا تھا.
    کہیں پہ شوہر کی چِتا پر اسکی بیوہ کو جلایا جاتا تھا اور دنیا میں بیشتر تہذیبوں میں عورت کی کوئی سماجی حیثیت نہیں تھی نہ ہی اسکو معاشی حقوق حاصل تھے.
    اسلام ایسا مذہب ہے جس نے عورت کو اس ذلت سے نکالا اور اسکا اسکا اصل مقام دیا.
    زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اسکے کیا حقوق ہیں اور اسکی فطرت کے مطابق نبی کریم نے عورت کو ذمہ داریاں دی.
    حضرت محمد مصطفی کا لایا ہوا دین اسلام عورت کو عورت کی حیثیت سے ہی اسے ساری عزتیں اور حقوق دیتا ہے اسلام نے عورت کو اسکے تمام فطری حقوق دیئے.
    مگر آج آ پ سے بحیثیت ایک عورت ہونے کے کچھ باتیں شئیر کرونگی.
    سب سے پہلے ایک سوال کہ آج کی عورت کہاں کھڑی ہے ؟ ؟؟

    کئ عورتیں حقوق کے نام پر عورت ذات کے تقدس کی پامالی کررہی ہیں. جیسے کہ میرا جسم میری مرضی…
    اور یہ اس لئے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے. مگر میں نے کئی ایسی عورتیں دیکھی ہیں جو اپنا گھربار اور مستقبل اپنے مفاد کے لئے ختم کر دیا ہے.
    میرے نزدیک ایک شادی شدہ عورت کے لئے اسکی پہلی ترجیح اسکا اپنا گھر اور اسکے بچے ہیں اسکے بعد اسکا مستقبل.
    عورتوں کو حد سے زیادہ آزادی ہمارے معاشرے نے دے دی ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں جب لڑکی جوان ہوتی ہے عموماً وہ کسی کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے. کئی تو انٹرنیٹ پر دوستی پھر محبت تک پہنچ جاتے ہیں.
    اور پھر جب یہ کہا جاتا ہے کہ عورت مظلوم ہے تو مجھے وہ منظر یاد آ جاتا کہ عورت ہی بعض دفعہ عورت پر ظلم کرتی آرہی ہے..
    ہمارے جاننے والی ایک فیملی ہے لڑکے کی شادی ایک غریب گھرانے میں ہوئی, جس سے اسکے تین بچے بھی ہیں.
    کافی ٹائم بعد انکے گھر جانا ہوا تو میری ملاقات وہاں ایک نئے چہرے سے ہوئی.

    میں نے اس خاتون سے پوچھا تو پتا چلا اسکی بھی شادی اس گھر میں ہوئی ہے مطلب اس لڑکے نے اس سے شادی کرلی تھی.
    وہیں پہلی بیوی بھی آ گئی. کافی دیر بات ہوئی اس دوران میں نے محسوس کیا کہ دوسری بیوی پہلی والی کو کسی خاطر میں نہ لا رہی. باتوں میں پتا چلا کہ نئی دلہن پہلے سے طلاق یافتہ ہے اور چار بیٹیاں اور ایک بیٹے کی ماں ہے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ لائی ہے جس میں سے دو کی شادی اس گھر میں آ کے ہوئی.
    تین سال سےوہ عورت اس پہلی عورت کے شوہر کے ساتھ تعلقات میں تھی اُسی کے پاس وہ رہتا تھا. جب پہلی بیوی کے علم میں بات آ ئی تو اسنے اُسے کہا کہ بہتر ہے شادی کرلو, جس طرح تم کررہے ہو یہ غلط ہے.
    یوں وہ 5 بچوں کی ماں اپنے بچوں سمیت دلہن بن کے اُس گھر میں آ گئی. اور اسکے آ تے ہی اسکا مطالبہ تھا پہلی والی کو طلاق دو. پہلی والی نے شوہر کے پیر پکڑ کے کہا میرے بچے ہیں میں کہاں جاؤنگی ماں باپ مر گئے ہیں اور کوئی ٹھکانہ نہیں. مجھے اس گھر میں رہنے دو بیشک میرے سے تعلق نہ رکھو.
    مجھے یہاں پہلے والی تو انتہائی مظلوم لگی جبکہ دوسری والی نہایت ظالم.
    جس عورت نے اسے عزت دی ایک مقام دیا اب وہ اُسی عورت کا گھر اجاڑنے پر تُلی ہوئی.
    کیا یہ ظلم نہیں کہ ایک شادی شدہ مرد کو عورت اپنے مفاد اپنے پیار کے چنگل میں پھنسا کر اسکو اپنے گھر میں رکھے ؟؟؟
    اُسکی جوان بیٹیاں اُن پر کیا اثر پڑا ہوگا کہ انکی والدہ کے پاس یہ مرد کون آ تا ہے.

    چلو شادی ہوگئی یہ اچھا ہوا مگر ایک بات صاف کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے اور کئی گھرانے توڑنے میں بھی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے.
    ایک عورت ہونے کے ناطے اس میں یہ جذبہ بھی ہوتا کہ وہ کسی دوسری عورت کو ظلم سے بچائے بجائے اسکے وہ خود آ گے بڑھ کر ظلم کی ترغیب دیتی ہے..
    جب ہم عورت پرہونے والے ظلم کی داستان کو اسکے پس منظر کے ساتھ دیکھیں تو ثابت ہوجاتا کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے.
    زرا سوچیں وہ کون جو دوسری عورت کے راز سے پردہ اٹھاتی ہے الزام تراشی کرتی ہے. بدکردار, مکار کہتی ہے اور عورت کو ہی سرعام رسوا کرتی ہے.
    عورت نے مرد کو ظالم ثابت کرنے کے لئے رو پیٹ کر عالمی یوم خواتین منانے کا حق منوا تو لیا مگر خود جو عورت ہی عورت پر ظلم کرتی آ رہی ہے وہ دن کب منایا جائے گا.
    مرد ظالم ہوتا نہیں یہ صرف ان عورتوں نے ظالم دیکھایا ہے اور معاشرے میں مردوں کو ظالم ہی پیش کیا جاتا ہے. یہ نہیں دکھایا جاتا کہ مرد بھی عورت کی طرح کئی ذمہ داریوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے اور بہت سے رشتوں میں بندھا ہوتا ہے. اسے وہ سارے رشتے بھی نبھانے ہوتے ہیں, اگر ان سے وہ منہ پھیر لے تو بےحس ثابت کردیا جاتا ہے.
    اپنی تسلی کے لئے کسی ایسی عورت سے پوچھ کر دیکھ سکتے ہیں جسکی شادی کو پندرہ بیس سال ہوئے ہو کہ اسکا اپنے خاوند کے بارے میں کیا خیال ہے تو 80% خواتین کا جواب ہوگا یہ میں ہی ہوں جو اسکے ساتھ گزارا کررہی ہوں. ورنہ یہ اس لائق نہیں..

    ایک مرد ایک عورت سے میرے خیال میں وفاداری چاہتا ہے جو بدقسمتی سے ناپید ہوتی جارہی ہے..
    کچھ دن پہلے ایک عورت گھر میں اسپتال کا بتا کے نکلی 4 بچوں کی ماں
    مگر اسپتال کی بجائے عدالت پہنچ گئی کہ میرا شوہر نشئی ہے مارتا ہے مجھے اسکے ساتھ نہیں رہنا. دارالامان بھیجا جائے اور دوسرے دن دارلامان کی بجائے اسی سے نکاح کرلی جس کے ساتھ تعلقات تھے. اور شوہر دو دن تلاش کرتا رہا اسپتالوں میں. بعد میں پتا چلا کہ وہ تو نئی شادی کرلی. برحال کیا ہوتا آ گے وہ عدالت کا کام.
    عورت کو عورت کے ساتھ اس چھپی جنگ کو ختم کرنا ہوگا اور ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا.
    مل کر معاشرے کی برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ جب عورت, عورت کی ڈھال بن جاتی ہے تو اسکا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا.
    @Rehna_7

  • کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ،تحریر : ریحانہ جدون

    معاشرتی ومعاشی ترقی میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے. میڈیا ہمارے معاشرے کی آواز ہے. اور یہ ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے. میڈیا ابلاغ کا ایک موڈ ہے, اس نے خواتین کو بااختیار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے. اسکے علاوہ کوویڈ 19 کے بارے میں اور کیسوں کی تعداد سے لے کر ویکسین تک ہر تفصیل کے بارے میں ہمیں آگاہ کررہا ہے.

    حالات سے باخبر رہنا کسی بھی انسان کی بنیادی خواہش ہوسکتی ہے. آج میڈیا کی ترقی دیکھ کر جہاں خوشی ہوتی ہے وہیں افسوس بھی ہوتا ہے کیونکہ کچھ میڈیا چینلز نے سب سے پہلے کی دوڑ میں اصل صحافتی اقدار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے. میرے خیال میں میڈیا حکومت کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے اچھے کاموں کے اقدامات سے بھی عوام کو آگاہ رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. کیونکہ صحافی برادری معاشرے کا اہم طبقہ ہے. صحافی حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں.

    سادہ الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحافی ہر عام و خاص کی آ واز ہیں اور اپنے قلم سے عوامی مسائل کو اجاگر کرکے ان کے مسائل کے حل کے لئے راہ ہموار کرکے ایک بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں اور اسی کردار کی وجہ سے انہیں معاشرے میں ایک منفرد حیثیت حاصل ہے. میڈیا خاص کر ٹیلی ویژن جو معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اسکے لئے مختلف پروگرام نشر کرتا ہے پر مجھے لگتا ہے کسی حد تک معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کررہا ہے کیونکہ میڈیا کا کردار کسی ملک کو سنوارنے یا بگاڑ میں اہم ہوتا ہے.

    مثال کے طور پر گھر میں داخل ہونے کے بعد اکثر لوگ پہلا کام یہ کرتے ہیں ٹی وی آن کرتے ہیں. اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں میڈیا نے ہر انسان کو باخبر بنا دیا ہے کیونکہ عام انسان بے شک وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو ٹی وی پر خبریں سن لیتا ہے.

    ایک چیز کی داد تو بنتی ہے کہ پاکستانی میڈیا نے حساس سیاسی اور باقی معاملات پر نہایت ذمے داری سے رپوٹنگ کی ہے. چاہے وہ طاقت ور طبقے کی کرپشن ہو یا انسانی حقوق کی بحث یا کہیں بے ضابطگیاں ہو یا 27 فروری بھارت کا ڈرامہ. انکو بے نقاب کیا ہے. ان میں سرفہرست نام مبشر لقمان کا آ تا ہے جو بنا کسی خوف کے, بنا کسی لالچ کے اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں. ان کا مشہور ٹی وی پروگرام کھرا سچ ہر خاص وعام کا پسندیدہ پروگرام ہے. کئی چہرے اس پروگرام کے ذریعے انھوں نے بے نقاب بھی کئے. اور سچائی پر مبنی حقائق عوام کے سامنے لائے. کئی بار جب وہ سٹوری کرتے ہیں تو ان پر دباؤ بھی آتا ہے کہ ہمارے خلاف رپورٹنگ کررہے ہیں وغیرہ وغیرہ ،مبشر لقمان کا پروگرام کھرا سچ واقعی میں کھرا سچ ہے جس میں ہر بات کھری ملتی ہے

    مگر مبشر لقمان کھل کر نہ صرف تنقید کرتے ہیں بلکہ جہاں اچھا ہورہا ہو اسکو اجاگر بھی کرتے ہیں. انھوں نے معاشرے کے بہت سارے جرائم کو بےنقاب بھی کیا ہے. مبشر لقمان ہی ہیں جس نے دلیری سے اس بات کا پہلی دفعہ میڈیا پر انکشاف کیا کہ ایم کیو ایم کے مرکزی لیڈر بھارتی شہری ہیں. مبشر لقمان ہی تھے جس نے بھارت کی طرف سے تین پاکستانی شہریوں پر لگنے والے جھوٹے دہشتگردی کے الزام کا بھانڈا پھوڑنے کے لئے لاہور کی مارکیٹوں میں ایک پروگرام کیا جس کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی تھی. اسی طرح نجم سیٹھی کے ماضی کی جھلک پہلی دفعہ میڈیا پر مبشر لقمان کے پروگرام میں ہی نشر ہوئی تھی.

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا میڈیا مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اچھے اقدامات سے بھی عوام کو باخبر رکھے . ذاتی مفادات کو سائیڈ رکھ کے ملک اور ملک کی سلامتی کے لئے کام کرے تو یقیناً معاشرے میں بھی مثبت تبدیلیاں آئیں گئیں.

  • ہم اور ہماری قوتِ برداشت .تحریر :  ریحانہ بی بی  (جدون )

    ہم اور ہماری قوتِ برداشت .تحریر : ریحانہ بی بی (جدون )

    ہم اور ہماری قوتِ برداشت

    انسان کی سب سے بڑی قوت, قوتِ برداشت ہے. اور حقیقت میں برداشت کرنا بزدلی نہیں ایک بہادری ہے کہ کسی دوسرے کے اختلاف رائے کو آپ کھلے دل سے برداشت کرلیتے ہیں. جتنی آپکی قوت برداشت مضبوط ہوگی اتنا ہی آپ خوش رہنے میں کامیاب ہونگے….
    مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آج اس دور میں کوئی ماں باپ کی گالی دے تو ہم اسکو جان سے مارنے پہ تُل جاتے ہیں اور اگر وہی ماں باپ جب اولاد کے کسی غلط کام پر اسکو ڈانٹیں یا غصہ کریں تو اولاد نافرمانی کرنے پر اتر آتی ہے. ماں باپ کے آ گے نہ صرف اونچی آواز میں بولنے لگتی ہے بلکہ اُنکی آ نکھوں میں آنکھیں ڈالنے لگتی ہے.
    کئی حضرات گھر چھوڑ کے چلے جاتے ہیں کہ ہماری بےعزتی ہوگئی ہے. وہ اپنی انا کا مسلہ بنا لیتے اسکو… وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس کی ڈانٹ کو وہ اپنی بےعزتی سوچ رہے اسی ہستی کی بدولت دنیا میں تشریف لائے, اسی ہستی نے اُنکو پالا پوسا, پڑھایا لکھایا…
    اسکی بنیادی وجہ دین سے دوری ہے جسکی وجہ سے غصہ انکی شخصیت میں رچ بس گیا ہے.
    قوت برداشت نہ ہونے سے کئی شادیاں ناکام ہوجاتیں ہیں, مثلاً آپ اپنے پارٹنر کی چھوٹی سی غلطی پر بھی اُسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اسطرح رشتوں میں خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے.
    یہاں قصور کسی ایک پارٹنر کا نہیں دونوں طرف کا بھی ہوسکتا ہے. مرد اپنے پسند کی آیات حفظ کیے ہوتا ہے کہ بیوی پر اسے برتری حاصل ہے سو وہ ایک حاکم کی طرح خود کو سمجھنے لگتا ہے اور بیوی کے لئے اُسکے مزاج اسکے خاندان اسکی خوشی اسکی پسند ناپسند معنی رکھے.
    جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں ناچاقیاں جنم لینے لگتی ہیں. اور پھر بات بات پہ اسکی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے. بعض اوقات اولاد کے سامنے.. اور پھر وہ اولاد کیا احترام کریگی ؟؟
    نتیجہ یہ نکلتا ہے وہ گھر آخر ٹوٹ جاتا ہے .
    آج کی دنیا میں لڑائی جھگڑے بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ لوگوں میں قوت برداشت کی کمی ہے.
    بہترین انسان وہ ہے جو مسائل حل کرتا ہے اور بدترین انسان وہ ہے جو مسائل پیدا کرتا ہے.
    آج کی سیاست کو دیکھ لیں!
    اگر ایک پارٹی کسی دوسری پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے تو بدلے میں اس سے بھی سخت الفاظ میں جواب آ تا ہے کہ میں ایسا نہیں تم ایسے ہو تم ویسے ہو وغیرہ وغیرہ کی سیاست جاری ہے. بس ایک دوسرے کی کردار کشی شروع ہوجاتی ہے.
    خود اپنے لئے بہترین وکیل کی طرح اپنا دفاع کرنے لگتے ہیں.

    اور تو اور ہمارے معاشرے میں اگر کسی کا کسی سے جھگڑا ہوتا ہے تو فریقین گولیاں برسانے لگتے ہیں اور کئی گھرانے انہی جھگڑوں کی وجہ سے اجڑ گئے.

    دیکھیں زندگی ایک بار ملتی ہے اسے نفرتوں اور اختلافات میں ضائع نہ کریں. محبتیں بانٹیں کیونکہ ایسا کرنے سے دل کو بھی سکون ملے گا..

    کچھ چیزوں کو, کچھ باتوں کو, کچھ لوگوں کو نظرانداز کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیں کیونکہ ضروری نہیں ہم ہر عمل کا ایک ردِعمل دکھائیں کیونکہ ہمارے کچھ ردعمل صرف اور صرف ہمیں ہی نقصان دیں گے بلکہ ہوسکتا ہے ہماری جان بھی لے لیں.
    دنیا میں سیاست دان ہوں, حکمران ہوں یا عام انسان انکا اصل حسن انکی قوت برداشت ہوتی ہے.
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے اندر برداشت کیسے پیدا کرسکتے ہیں..
    بہت آسان جواب.. حضرت محمد کی حیات طیبہ کو مد نظر رکھ کر.
    ایک بار ایک صحابی نے رسول اللہ سے عرض کیا یا رسول اللہ آپ مجھے زندگی کو پُرسکون اور خوبصورت بنانے کا کوئی فارمولا بتا دیں.
    آپ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو.

    دیکھا جائے تو غصہ دنیا میں 90 فیصد مسائل کی ماں ہے اگر انسان اپنے غصے پر قابو پالے تو اسکی زندگی کے 90 فیصد مسائل حل ہوجاتے ہیں.
    جس شخص میں قوت برداشت ہے وہ کبھی ہار نہیں سکتا.

    @Rehna_7

  • مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    مصائب اور اسکا مقابلہ .تحریر : ریحانہ بی بی

    انسانی زندگی میں خوشی اور غم کا عجیب سنگم ہے, کبھی بہت زیادہ خوشی اور کبھی کوئی مصیبت…
    پہلی بات یہ ہے کہ اگر زندگی میں دکھ نہ ہو تو خوشی کا احساس بھی نہیں ہوتا. زندگی اپنی تمام تر خوشیوں اور غموں کے ساتھ, پھول کے ساتھ کانٹے, دھوپ کے ساتھ چھاؤں کا حسین امتزاج ہے. البتہ خوشی کے لمحات غیر محسوس طریقے سے گزر جاتے ہیں.
    اس دنیا میں کبھی بھی انسان کو دائمی خوشی حاصل ہے نہ دائمی غم. یہ سلسلہ ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے کوئی اس سے خالی نہیں. پر جب کسی پہ پریشانیوں کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ دنیا کی ساری مصیبتیں اسی کو مل رہی ہیں..
    ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ان مشکلات سے بددل ہوجاتے ہیں کہ انکی زندگی آ زمائشوں کا مجموعہ بن گئی ہے, وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ انکی قسمت ہی ایسی بنائی گئی ہے…… مگر یاد رکھیں اللہ کے نبی کا ارشاد ہے کہ :
    لوگوں میں سب سے زیادہ مصائب اور آ زمائش انبیاء کو پہنچے, پھر نیک و صالح لوگوں کو پھر جو اُن سے زیادہ مشابہت رکھنے والے انکو.
    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آ زمائش کس کی ہوتی ہے ؟
    آ پ نے فرمایا انبیاء کی, پھر صالحین کی کی.
    حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ جب کسی قوم کو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے تو اسے آ زمائش میں ڈالتا ہے. بندہ جب اس پر راضی رہتا ہے تو اللہ اس سے راضی و خوش ہوجاتا ہے.
    اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض بیماری, پریشانی, آزمائش, سزا نہیں بلکہ اُس آ زمائش پر صبر نہ کرنے میں ہے.
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ جب اپنے بندے کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلدی سزا دے دیتا ہے اور اگر اللہ اپنے بندے کے ساتھ خیر کرنا نہیں چاہتا تو اسکے گناہوں کے باوجود اسکی گرفت نہیں کرتا, پھر قیامت کے دن اسکا بدلہ دیتا ہے.

    ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ ہمیں مصائب و آ زمائش میں کس طرح رہنا ہے , اس سے کس طرح نمٹنا چاہئے.
    منفی انداز اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ منفی طرزعمل بندے کو اللہ سے دور کر دیتا ہے.
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی طرح کی آ زمائش میں مبتلا نہ ہو ہاں اسکی نوعیت الگ الگ ضرور ہوتی ہے.
    میری اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو مصائب کیوں درپیش ہوتے ہیں اور انکا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے.
    انسان مصائب کا مقابلہ صبر سے کرے. اس میں کوئی شک نہیں کہ اسکے مصائب نعمتوں سے بدل جائیں اور نعمتوں کی حفاظت شکر ادا کرکے کریں.

  • حسد اور انسانی رویے .تحریر  :  ریحانہ  بی بی

    حسد اور انسانی رویے .تحریر : ریحانہ بی بی

    رویے کا تعلق نفسیات سے ہے اور علم نفسیات کے مطابق رویے سے مُراد انسان کی شخصیت کاایسا گہرا عنصر ہے جو خاص طور پر سوچنے, محسوس کرنے اور اس پر عمل کرنے پر آ مادہ ہوتا ہے تو یہ اسکا رویہ کہلاتا ہے.

    حسد :
    دوسرے کی اچھی قسمت کی وجہ سے تکلیف ہو یا اسکے اچھے کاموں سے جلن ہو, اسے حسد کہہ سکتے…
    حسد کے معنی ہے کسی دوسرے شخص کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اسکے نقصان کے درپے ہونا.
    کسی کی ترقی سے دل میں گھٹن محسوس ہونا اور ناخوش ہونا وغیرہ یا اسکا زوال چاہنا…
    حسد کا بنیادی سبب تو یہی ہے کہ حاسد اس نعمت سے محروم ہے جو دوسرے کو مل گئی ہے.

    اب آ تے ہیں حسد اور انسانی رویوں پر
    موجودہ دور میں لوگوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر کے رویے منفی ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اسی منفی سوچ اور رویے کی وجہ سے ایسے لوگوں سے دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں ہوتی اور برداشت نہ ہونے کی صورت میں نوبت حسد تک پہنچ جاتی ہے.

    مزے کی بات ہے کہ بظاہر ایسے لوگوں کا رویہ دوستانہ اور ہمدردانہ ہوتا ہے. جب ان سے کوئی اپنی کامیابی کا ذکر کرتا ہے تو ظاہری طور پر اسکا دل رکھنے کے لئے بہت خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن باطنی طور پر جلن محسوس کرتے ہیں.
    یاد رکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش رہنا سیکھنا ہوگا ورنہ حسد دشمنی اور دشمنی فساد کی طرف لے جاسکتی ہے. جس سے نہ صرف گھر بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے. اور حسد آ خرت میں اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے.
    اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی ایک کو نعمت عطا کرتا ہے تو دوسرے کو وہ نعمت عطا نہیں کرتا. ایسی صورت میں اللہ قرآن پاک کی سورۃ النساء میں فرماتا ہے.. اور اس فضیلت کی تمنا نہ کرو جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر دی ہے.

    سورۃ الفلق میں ہے کہ, میں اپنے پروردگار سے پناہ مانگتا ہوں خاص کر حاسد کے شر اور بُرائی سے جب وہ حسد کرنے لگے.
    رسول پاک ص نے حسد سے بچنے کیلئے یوں تلقین فرمائی
    حسد کرنے سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آ گ لکڑی کو کھا جاتی ہے.
    اگر ہم قرآن و سیرت نبوی اور صوفیاء کے حالات زندگی پڑھیں تو یقیناً یہ مرض ختم ہوجائے گا.
    اس بات پ پختہ یقین کرلیں کہ نعمتیں عطا کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے جو اپنے بندوں کو نعمتوں سے نوازتی ہے. بندہ مومن ہونے کے ناطے ہمیں اللہ کے فیصلے اور تقسیم پر راضی ہونا چاہیے.
    کسی کی کامیابی پر یا اسکی اس نعمت پر ( جو اللہ نے عطا کی) دل سے اسی طرح خوشی کا اظہار کریں جیسے بظاہر آ پ ان سے دوستانہ رویے سے کرتے ہیں.
    رویے میں منافقت تو نہ کریں, بظاہر اچھا رویہ اور اندر سے اسکی نعمت کے زوال کی خواہش….
    یہ منافقت آ پ اپنے ساتھ کرکے کسی اور کا نقصان کریں نہ کریں مگر اپنا ضرور کردیں گے کیونکہ حاسد سکون اور قناعت کی دولت سے محروم رہتا ہے. اپنے حسد کی بھڑکتی آ گ میں جلتا رہتا ہے اور مایوسی اسکا مقدر بن جاتی ہے.
    اس لئے اپنی سوچ مثبت رکھئیے. جب آ پکی سوچ مثبت ہوگی آ پکے رویے اچھے ہونگے ( ظاہری اور باطنی دونوں)
    یاد رکھیں رویے انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اور مثبت رویوں سے ہی مثبت تبدیلی آتی ہے.

  • انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان اور انسان سے جڑے رشتے.تحریر : ریحانہ جدون

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اپنے ساتھ رشتوں اور تعلق کا ایک سلسلہ لے کر آتا ہے, والدین , بہن بھائی, دادا دادی, نانا نانی, وغیرہ
    پر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے تو تعلق کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے جن میں دوست, اسکول فیلوز پارٹنر وغیرہ شامل ہوجاتے ہیں.
    کوئی انسان خوش نصیب ہوتا ہے کہ اسکو مخلص اور وفادار دوست مل جاتے ہیں اور کوئی کی زندگی اس نعمت سے خالی ہوتی ہے.
    رشتے اور تعلق کے اعتبار سے اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں دو طرح کی انتہا ملتی ہیں. ایک انتہا وہ ہے جس میں انسان سب رشتوں سے لاتعلق بن جاتا ہے اور صرف اپنی دنیا بسا لیتا ہے اور دوسری انتہا یہ کہ انسان اپنے دوستوں کو اپنی دنیا سمجھنے لگتا ہے.
    یہ دونوں صورتیں ایک انسان کو معیاری زندگی سے دور لے جاتی ہیں.
    بعض دفعہ ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے تعلقات کو اپنے رشتوں پہ فوقیت دینے لگتا ہے اور اسطرح اپنے رشتوں سے بےحس ہوجاتا ہے.
    وہی رشتے جو پیدا ہوتے ہی اپنے ساتھ لے کے آ یا ہوتا ہے.
    ایک مثال دیتی ہوں..
    جن بہن بھائیوں کے ساتھ میں کھیل کود کے بڑا ہوا ہوتا ہے, دن میں 50 بار ان سے لڑ جھگڑ کے ایک دوسرے کو مار پیٹ کے) رات کو پھر ایک ساتھ ایک دسترخوان پہ اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں.
    ایسی کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے ان رشتوں سے دوری اختیار کرلیتا ہے ؟؟
    میرا جانا ایک گھر ہوا وہاں کچھ دیر باتوں باتوں میں پتا چلا کہ چار بہنیں ہیں ایک بھائی ہے ( جو انکو چھوڑ چکا ہے)
    اس عورت کی زبانی کے ماں کی وفات بہت پہلے ہوگئی تھی اور بابا نے دوسری شادی نہیں کی ہم بہن بھائی کو پالا.
    بھائی سب سے چھوٹا تھا اس لئے بہت لاڈلا بھی تھا. دو بہنوں کی اور بھائی کی شادی ہوگئی ایک دن باپ نے اپنی 3 دکانیں ایک گھر بھائی کے نام کردیا اور بھائی کو بیٹھا کے کہا کہ تمھارا حصہ میں نے اپنی زندگی میں دے دیا ہے اب یہ گھر رہ گیا ہے یہ گھر میری چارو بیٹیو کو دونگا.
    یہ سن کے بیٹا غصے میں آ گیا اور کہا کہ بہنوں کو کیوں دوگے یہ بھی میرا ہے..
    اس بات پہ باپ بیٹے کی بحث اس حد تک بڑھ گئی کہ بیٹا اپنی بیوی کو لے کے لاہور شفٹ ہوگیا.
    باپ کو فالج ہوا اسکی بیماری میں بھی باپ کو ملنے نہ آ یا اور 4 سال تک وہ بستر پر رہا…
    اس دوران اسکو بیٹیاں ہی سنبھالتی رہی اور پھر ایک دن باپ فوت ہوگیا باپ کی فوتگی کی خبر بیٹے کو دی گئی مگر وہ باپ کے جنازے کو کندھا دینے تک کو نہ آ یا.

    جیسے جیسے وہ عورت داستان سنا رہی تھی کہ آ نسو میری آنکھوں سے نکل رہے تھے اور بار بار ایک ہی سوال میرے زہن میں گونج رہا تھا کہ کیا پیسہ, جائیداد اتنی قیمتی ہوجاتی ہے کہ اپنے رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ؟؟؟
    یا شاید اس اولاد کی بدقسمتی تھی کہ دنیا میں ہی اپنی جنت اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا..
    ہم جانتے ہیں کہ کوئی بھی انسان ایک دم اتنا بےحس, بے درد نہیں ہوجاتا جب تک خود اسکے ساتھ ایسا مسلسل نہ ہورہا ہو جو اسکی برداشت سے باہر ہوگیا ہو….
    پر میرے خیال میں رشتوں کو برداشت نہیں کیا جاتا انکو نبھایا جاتا ہے اپنا فرض سمجھ کے.
    پر جب دُنیاوی محبت انسان پہ حاوی ہو جائے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا…

    لوگوں کے اس جنگل میں ہر طرح کے لوگوں سے آ پکا واسطہ پڑا ہوگا یا پڑ سکتا ہے بعض دفعہ آ پکو ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو بظاہر بڑے نیک, خوش اخلاق ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں ہے..
    یاد رکھیں عظیم انسان وہ ہے جو اپنے ساتھ جڑے رشتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا .
    اور ماں باپ کو تو کبھی بھی نہیں..
    خدارا اپنے تعلقات نبھائیے پر اپنے رشتے بھی مت توڑیں..
    دنیا کی عیش کی زندگی کی خاطر ان قیمتی رشتوں سے خود کو محروم نہ کریں.
    عارضی چیزوں میں سکون تلاش کرنے کی بجائے اللہ کی رضا میں خوش رہنا سیکھیں اللہ کی محبت تمھیں بھٹکنے نہیں دے گی.
    اس محبت میں اتنی طاقت ہے کہ اللہ کے ایک حکم پر عمل کرنے کے لیے انسان اس فانی دنیا سے لڑ جاتا ہے وہی کام کرنے لگتا ہے جو اللہ کو پسند ہو جب اسے اللہ کی رضا میں رہنا آ جاتا ہے تو پھر ہر طرف سکون ہی سکون,
    دنیا کی محبت دنیا کے تعلقات ایک سائیڈ کرکے اللہ کے بتائے راستے پر چل کے تو دیکھو ہر طرح کی ڈپریشن سے آ زاد ہوجائیں گے
    امید ہے یا شاید آ پ میرا پیغام سمجھ گئے ہونگے