Baaghi TV

Author: ریحانہ جدون

  • بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

    بچوں کی تربیت بڑا کٹھن کام ہے کیونکہ آج کے اس دور میں بچے کی تربیت کے ساتھ ساتھ آپکو اپنی تربیت بھی کرنا پڑے گی, آ پکو اپنی عادات بھی درست کرنا پڑیں گی کیونکہ بچہ آ پ سے ہی سیکھتا ہے, آ پ ہی کی نقل کرتا ہے, ہر بات میں ویسا ہی ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا آ پ کرتے ہیں جیسا دیکھے گا ویسا کریگا اور جیسا سنے گا ویسا بولے گا. اپنا بچہ کس کو پیارا نہیں ہوتا… یہ ہمارے پیار کی شدت کا ہی ایک پہلو ہے کہ ہم اسکی ضرورت سے زیادہ دیکھ بھال اور نگرانی کرتے ہیں اور فکر رہتی ہے کہ اسکو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسکا بچہ ذہنی و جذباتی لحاظ سے بھی صحت مند ہو, اُسکا کردار اُسکی عادات اچھی ہوں اور بڑا ہوکر ایک مہذب اور کامیاب انسان بنے.

    ہماری اسی شدت آرزو کی وجہ سے ہم بچے کو متوازن بنانے کی کوشش میں خود متوازن نہیں رہتے اور کئی دفعہ ہم منفی رویہ اختیار کرجاتے ہیں, جیسا کہ عموماً ہم کرتے ہیں,, یہ نہ کرو, وہ نہ کرو, تم کوئی کام نہیں کرتے, یہ کیوں کِیا, یہ کیا کردیا, وغیرہ وغیرہ

    اب زرا غور کریں تو اس میں صرف دو جُز نظر آئیں گے ایک نفی اور دوسرا حکم کا…
    اور یہ دونوں اجزاء تعمیر کے نہیں بلکہ تخریب کے ہیں اور تربیت کے لئے سخت مضر.

    بیشک آپکا مقصد نیک ہے اور آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں مگر یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ اگر آ پ تعمیر چاہتے ہیں تو آپکا انداز بھی تعمیری ہونا چاہیے .بچہ ایک مستقل شخصیت رکھتا ہے اور اسکی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی. بچے کو مناسب آزادی دیں کہ وہ اپنی اصلی شخصیت ظاہر کرسکے. آپکی ڈانٹ ڈپٹ آپکا منفی رویہ بچے کی شخصیت کو دبا دے گا. کوشش کریں کہ اپنی شخصیت بچے پر مسلط نہ کریں.

    بات چیت اور رویے میں غصے, اکتاہٹ اور کھردرے پن کا ثبوت نہ دیں. اگر بچے کے کسی کام یا بات سے آپکو غصہ آ رہا ہوتو کوشش کریں اُس وقت بچے سے بات نہ کریں, اپنے غصے پر قابو پانے کے بعد بات کریں, صبر و ضبط کا ثبوت نہ دیں گے تو بچوں میں تحمل کہاں سے آئے گا؟اُن کو پیار سے سمجھائیں اور آپکا لہجہ ایسا ہونا چاہیے کہ بچہ اسکو غور سے سُنے اور سمجھے. جہاں تک ممکن ہو انکے کھیل کود میں دخل نہ دیں کیونکہ بچوں کا کھیل بھی انکے کام کا حصہ ہوتا ہے اور کھیل سے وہ کام کرنا سیکھتے بھی ہیں. بچوں کے ساتھ دوستانہ رہنمائی کا انداز اختیار کریں, منفی کی بجائے مثبت رویہ اپنائیں. اسطرح ایک مثبت ذہن تیار ہوگا.

    کئی والدین بچوں کے ساتھ سخت رویہ اپناتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بچہ کوئی غلطی کردیتا ہے تو والدین کے خوف سے والدین سے بات چھپانے لگتا ہے, بچے کے ساتھ آپکا دوستانہ رویہ ہوگا تو بچہ ہر بات آ پ سے شیئر کریگا. بچہ جب اسکول یا مدرسے سے واپس آ ئے تو دوستانہ رویے سے پوچھیں آج میرےبچے نے کیا کیا پڑھا آج کیا کیا کِیا… اور دیکھنا وہ شوق سے آپکو بتائے گا ہم نے آج یہ پڑھا, آج یہ کھیل کھیلا وغیرہ

    کہنا یہ ہے کہ بچے کی اپنی شخصیت کو ابھرنے کا موقع دیں. آپ اپنی شخصیت کو زبردستی اس پر نہ مسلط کریں. بچے کو کسی جائز کام اور ضروری بات سے محض اس لئے نہ روکیں کہ وہ آپکے مزاج کے خلاف ہے یا آپ کے مشاغل میں فرق آتا ہے. دیکھیں ایک حیوان بھی اپنے بچوں کو بھوکا نہیں چھوڑتا کسی نہ کسی طرح انکا پیٹ بھر دیتا ہے, مگر صرف انسان ہی ہے جو اپنی اولاد کو اگر کچھ قیمتی دے سکتا ہے ہے تو وہ ہے بہترین تربیت… آ پکی یہی بہترین تربیت انسان کی بہترین خدمت بھی ہے اس طرح آپکا بچہ ایک بہترین اور مہذب انسان بنے گا انشاءاللہ

  • منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات اور ہمارا معاشرہ .تحریر : ریحانہ جدون

    منشیات وہ اشیاء جات ہیں جن کے استعمال کی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ ذہنی و جسمانی آسودگی ہے- دنیا بھر میں سینکڑوں اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں انسان منشیات کے نشے میں گرفتار ہیں اور اس کی وجوہات میں میڈیا (رسائل، فلم، ٹی وی، ناول، کہانی وغیرہ) پر منشیات کے استعمال کو دلفریب انداز میں پیش کرنا، والدین کی ناقص توجہ اور تربیت، سنگت و صحبت کا اثر، دوسروں کو دیکھ کر رشک و طلب وغیرہ شامل ہیں- لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نشے کی عادت کیوں لاحق ہوجاتی ہے؟
    پہلی بات کہ اسلام میں ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اسکی خرابیوں سے ہر کوئی واقف بھی ہے اس لئے اسے ایک صحت مند انسان قبول نہیں کرسکتے.

    سب سے پہلا سوال کہ منشیات کیا ہے ؟؟
    منشیات مختلف کیمیائی مرکبات سے بنائی جاتی ہے جو ایک انسانی جسم میں معمول سے ہٹ کر وہ کیفیت پیدا کرے جسے استعمال کرنے والے شخص کی چاہ ہو.. منشیات میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے
    منشیات کا استعمال تو آدمی اپنے اختیار سے شروع کرتا ہے؛ لیکن جب وہ اس لت میں پڑ جاتا ہے تو آپ اپنے قابو میں نہیں رہتا، وہ اضطراراً منشیات کے خرید نے اوراستعمال کرنے پر گویا مجبور ہوتا ہے ، چاہے کھانے کو دو روٹی میسر نہ ہو ، گھر کے لوگ بھوک اور فاقہ سے گذار رہے ہوں ، علاج کے لئے پیسے میسر نہ ہوں ؛ لیکن جو اس عادت کا اسیر ہو گا، وہ انسانی ضروریات کو پس پشت ڈال کر پہلے اپنی اس بری عادت کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا ، اس لئے اسراف اور فضولی خرچی کا یہ بہت بڑا محرک ہے، نشہ خوری نے خاندان کے خاندان کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ، …

    دیکھا جائے تو اس کے استعمال پر پابندی ہونے کے باوجود یہ آ سانی سے دستیاب ہے بلکہ اب تو رواج کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے.
    اور جس طرح ہماری نوجوان نسل نشے کی لت میں مبتلا ہورہی ہے وہ تشویش ناک ہے, اتنی پابندیوں کے باوجود اسکے استعمال کی شرح میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے,
    نوجوانوں میں یہ وباء عام ہونے کی وجوہات میں کچھ وجوہات یہ بھی ہیں مثلاً بےخوفی کا بڑھ جانا
    موت سے غافل ہونا
    آ خرت کی فکر اور اللہ کی بارگاہ میں حاضری اور جواب دہی کا استحضار نہ رہنا,
    جب یہ سب ہوگا تو یہ گناہوں کی طرف جائیں گے ایسا لگتا ہے کہ انکی لگام انکے نفس کے قبضے میں ہے,
    افسوس کے کچھ لوگ معاشرے میں اسکا عادی ہونا فخر سمجھتے ہیں
    منشیات کے بہت سی اقسام ہیں جن میں چرس, نشہ آور ادویات, تمباکو نوشی, شراب, گھٹکا وغیرہ…
    سب سے زیادہ خطرناک نشہ ہیروئن کا ہے, جب کوئی شخص ہیروئن کی لت میں پڑ جاتا ہے وہ نشے کا مریض کہلاتا ہے.
    آ ج پاکستان کی کئ مصروف شاہراہیں دیکھ لیں سینکڑوں نوجوان وہاں نیم بےہوشی میں پڑے نظر آ ئیں گے, ان میں کچھ گھریلو مسائل سے تنگ آ کے نشے کی طرف راغب ہوئے اور کچھ لیلیٰ مجنوں کی کہانی کا حصہ خود کو سمجھنے لگے تھے, کچھ بےروزگاری اور معاشرتی بے حسی کی وجہ سے…. وہ اسطرح کہ جب معاشرتی طعنوں کی ضد میں انسان تنہائی پسند رہتا ہے اور اسکی بےسکونی اسکی توجہ نشے کی طرف مبذول کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ معاشرتی لعن طعن سے بےحس ہونے کے لئے اسکا استعمال کرتا ہے.

    ویسے نشے کا استعمال کس دور میں ہوا یہ معلوم نہیں اور جو لوگ نشے کے استعمال سے تکلیف, ذہنی دباؤ ختم کرنا چاہتے ہیں وہ اسکا بےدریغ استعمال کرتے ہیں پر وہ نہیں جانتے کہ اس سے ذہنی دباؤ وقتی طور پر ختم ہوجاتا ہے پھر مصیبت ہمیشہ گلے پڑ جاتی ہے.
    نشے کا استعمال کرنے والے افراد حقیقت میں کمزور قوت ارادی کے ہوتے ہیں, اس لئے بعض اوقات بے سکونی اور اضطرابی کی کیفیت بھی انسان کو نشے میں مبتلا کرسکتی ہے.
    نشے کے نقصانات زیادہ ہیں یہ تیزی سے انسان کو اسکے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں, ایسے لوگ معاشرے میں دوسروں کی نظروں سے گر جاتے ہیں اور کئی تو اپنا گھر بار نشے کی لت میں بیچ دیتے ہیں,
    انکے بچے رُل جاتے ہیں. انکے خاندان بکھر جاتے ہیں.
    منشیات کا عادی انسان نہ صرف خود کا نقصان کردیتا ہے بلکہ اپنے سے جُڑی زندگیوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے انکی زندگی کو بھی توڑ پھوڑ کا شکار بنا دیتا ہے .
    ایسے لوگ حقیقت میں بہت مظلوم ہوتے ہیں انکو ہماری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم انکو دوبارہ سے زندگی کی سہی راہ پہ لا سکتے ہیں. اس لئے انکو حقارت سے نہ دیکھیں, انکی عزت نفس مجروح ہونے سے بچائیں, ایسے لوگوں کو توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور انھیں احساس دلانا ہے کہ وہ بھی اس معاشرے کا فرد ہیں…

  • ظلمت کے راستے .تحریر : ریحانہ جدون

    ظلمت کے راستے .تحریر : ریحانہ جدون

    ظلمت اور نور کے دو راستے ہیں جب ھم اللہ تعالٰی کی باتیں مانتے ھیں تو نور کا راستہ اختیار ھو جاتا ھے اور جب ھم شیطان کا راستہ اختیار کرتے ھیں تو ظلمت کا راستہ بن جاتا ھے اللہ تعالیٰ نے جتنی باتیں کہی ھیں اور جتنا فرمان الٰہی ھے اس کے کرنے سے ھم نور کے راستے میں آجا تے ہیں اور اگر شیطان کی باتوں میں آجاتے ھیں تو ظلمت میں آجاتے ہیں
    اور جس طرح جھوٹ سب برائیوں کی جڑ ہے اسی طرح جب کسی قوم میں انصاف کا نظام سہی نہ ہو وہ قومیں تباہ ہوجاتیں ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے یہاں ہر چیز خواہ وہ زندگی ہو, موت ہو, عزت ہو , غیرت ہو یا انصاف ہو سب بک جاتا ہے.
    سچ کے نام پہ جھوٹ بِکتا ہے قابلیت کے نام پہ جہالت بکتی ہے, پیسے کے نام پر یہاں سب کچھ بِکتا ہے.
    ایک غریب سے اگر چھوٹا سا جرم ہوجائے تو اُسکی ساری زندگی یا تو پیشیاں بھگتنے میں یا پھر جیل میں گزر جاتی ہے , ہاں اگر آ پکے پاس پیسہ ہے تو اتوار کو بھی عدالت آ پکا کیس سننے کے لئے لگائی جاسکتی ہے.
    افسوس کئی بےگناہ جیل میں ہی وفات پا گئے اور اُنکی وفات کے بعد عدالت نے اُنکو بےگناہ قرار دیا جی ہاں یہ ہے غریب کے لئے انصاف کی رفتار

    کیا انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا بنیادی حق نہیں ہے, اگر انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا حق ہے تو چھوٹے موٹے مقدمات کی سماعت میں 5 سے 7 سال کیوں لگ جاتے ہیں ؟؟
    کیوں غریب انسان عدالتی نظام کو بددعائیں دیتا نظر آ تا ہے؟

    جواب اسکا آ سان ہے غریب کی درخواست ہزاروں فائلوں کے نیچے دب جاتی ہے. اس مفلوج نظام سے ملک وقوم کو انصاف کی امیدیں وابستہ ہیں لفظ آ یا ہے قوم تو ایک سوا ل اور پوچھنا چاہتی ہوں وہ یہ کہ کیا واقعی ہم ایک قوم ہیں ؟؟
    افسوس اس معاشرے میں اتنا بگاڑ پیدا ہوگیا ہے کہ اس میں رہنے کے لئے اپنے ضمیر کو مارنا ہوگا جو سچ بولتے ہیں ان کو چپ کروانا ہوگا…..
    انصاف کے لئے عدل کے ترازو میں رشوت اور اپنے حق کے لئے سفارشی کلچر اپنانا ہوگا کیونکہ یہاں انسانی جان تک کی کوئی قدر و قیمت نہیں, یہاں انسانی خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ سڑک پہ کوئی انسان ایڑیاں رگڑ کر مر رہا ہو تو لوگ اُسکو دیکھ کے رکیں گے ضرور ( ویڈیو بنانےکے لئے)
    مگر اُسکی مدد نہیں کریں گے.
    حقیقت میں ہم ایک قوم ہے ہی نہیں بلکہ لوگوں کا ہجوم ہیں جو اپنے اپنے مفادات کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے اور زلت اسکا مقدر بنتی جارہی ہے .
    دیکھا جائے تو یہاں نفرت بیچنے والے بھی جا بجا دکھائی دیتے ہیں جو محبت کی بجائے فرقہ پرستی کی تجارت کرتے ہیں
    یہاں سستے داموں اپنی مرضی کےفتوے مُفتی سے
    آ سانی سے مل جاتے ہیں …..
    ہمیں اس ظلمت کے راستے سے واپس اُجالوں کی طرف لوٹنا ہوگا, خوشحالی ہماری منزل ہے ترقی کی راہیں ہماری منتظر ہیں, ہمیں اندھیروں سے پیچھا چھڑانا ہوگا اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہر ایک اپنے حصے کی زمہ داری پوری ایمانداری سے نبھا ئے گا

  • کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    انسان کو جب تک دکھ, تکلیفیں نہیں ملتیں اُسے خوشیوں کا احساس نہیں ہوتا اور بعض دفعہ ایسا دکھ ملتا ہے کہ وہ گزرے لمحات کو یاد کرکے روتا ہے کہ وہ وقت کتنا اچھا تھا…
    پھر چاہ کر بھی وہ وقت انسان واپس نہیں لا سکتا, وہ ایک یاد بن کر ہمیں اس چیز کا احساس بھی دلاتا رہتا ہے کہ تب ہم اتنے لاعلم, اتنے لاپروا کیوں تھے, تب ہم نے ایسا کیوں سوچا کہ تھا کہ یہ وقت ہمیشہ ہی رہے گا…
    اپنی زندگی میں مشغول ایسے تھے کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک پل میں سب کی زندگی بدل جائے گی کہ پھر ہنسنے کا دل کریگا بھی تو ….. آ نکھوں میں آ نسو آ جائیں گے.
    میرا خاموش رہنا صرف میری ماں ہی محسوس کرتیں تھیں, میرے چہرے کو اداس دیکھ کر وہ سمجھ جاتیں تھیں کہ آ ج میرا دل اداس ہے.
    زندگی پُرسکون رواں دواں تھیں کہ ایک صبح 4:30 پہ سوات کے پولیس اسٹیشن سے کال آ ئی کہ ایک گاڑی نے ہماری گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کیا ( جس کا ڈرائیور سو گیا تھا) اور اس ایکسیڈنٹ میں میرے بھائی کی موت ہوگئی ہے یہ خبر کسی قیامت سے کم نہیں تھیں بھائی کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوگئے
    اُس لمحے کسی کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے .
    سبھی دُکھی تھے پر میری ماں کو کسی طرح صبر نہیں آ رہا تھا وہ بس ایک ہی بات کہہ جارہی تھیں میری زندگی کا وسیلہ میرا بیٹا مجھے کیسے چھوڑ کے جاسکتا ہے. سب انکو تسلیاں دے رہے تھے بھائی کی میت شام کو گھر پہنچی ایک کہرام برپا تھا ہر آ نکھ اشک بار تھی میری ماں بار بار بے ہوش ہوجاتیں تھیں آ دھی آ دھی رات اٹھ کے بھائی کی قبر پہ چلی جاتیں پھر شاید میری ماں کی تڑپ ہی تھی کہ بھائی کے چالیسویں کی رات میری ماں مجھے چھوڑ کر بھائی کے پاس چلی گئیں بھائی کا ایکسیڈنٹ رات 1:30 کے قریب ہوا اور یہی وقت میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا اور 10 منٹ میں ہی میری ماں مجھے چھوڑ کے بھائی کے پاس چلی گئیں…

    اُس رات میرے ساتھ رات 12:15 تک بیٹھیں باتیں کرتیں رہیں, باتوں باتوں میں کچھ نصیحتیں کرتیں رہیں مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ اُنکی آ خری باتیں ہونگیں اور جن کا احساس اُنکی موت کے بعد ہُوا… انکی کہی یہ بات کہ بیٹا بڑا وہی ہوتا ہے جس کا دل بڑا ہوتا ہے تم سب سے چھوٹی ہو کوئی بات کہہ بھی جائے تو دل بڑا کرلیا کرو…
    میں اب کس سے کہوں کہ ماں میرا دل اتنا بڑا نہیں ہے میری آ نکھوں کے آ گے سے آ پکا چہرہ ہٹتا ہی نہیں ہے..
    میرے کانوں میں آ پکی آ واز گونجتی رہتی ہے, میں کسی محفل میں بھی جاتی ہوں تو میری آ نکھوں میں آ نسو آ جاتے ہیں.
    میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ماں آ پ اسطرح اچانک سے مجھے چھوڑ جائیں گی.. کیا آ پ کے لئے بھائی ہی سب کچھ تھا..
    ماں آ پ کے ہوتے میں نے کبھی خود خیال نہیں کیا کہ اب میں بڑی ہوگئی ہوں میری آ پ سے ضد کرکے بات منوانا ویسے ہی رہا جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے ضد کرکے منواتا ہے..
    میں نے کئی لوگوں کی موت دیکھی میں نے کبھی ان لوگوں کے درد کو محسوس نہیں کیا جو کسی اپنے کی موت دے کے جاتی ہے…
    میں سوچتی تھی کہ ماں باپ جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو انکی خدمت کی جاتی ہے جب بیمار ہوتے ہیں اُنکی خدمت کی جاتی ہے..
    پر مجھ بدنصیب کو کیا معلوم تھا کہ ماں کی خدمت میرے نصیب میں ہے ہی نہیں,
    میری ماں تو آخری دن تک میرا خیال کرتیں رہیں…
    میری چیزیں سنبھال کے رکھنا اور پھر اُنکا یہ کہنا کہ میں کب تک تیری چیزوں کو سنبھالو گی..
    پھر ماں سے کسی بات پہ ناراض ہوجانا اور انکا پھر میری پسند کی چیزیں ابو سے منگوانا…
    ماں مجھے احساس ہوگیا ہے پر اب میرے پاس آپ نہیں ہو,
    میں خود کو بہت ٹوٹا ہوا بہت ادھورا محسوس کرتی ہوں…
    اب تو میں نے ناز نخرے کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
    ماں اب تو میں نے روٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے…
    ماں سب کا مقام اپنی اپنی جگہ خاص ہے پر ماں آ پکے گلے لگ کے خوشی یا غم کا رونا کسی اور کے ساتھ ممکن نہیں…
    ایسا کوئی نہیں جو بنا پوچھے سمجھ جائے.. میری وہ بے فکر زندگی صرف آ پکے بدولت تھی ماں
    میرے دل کی حالت بیان کرنے کو سمجھ نہیں آ تا الفاظ کہاں سے لاؤں بس اتنا ہی کہ

    افسانہِ دلِ برباد کیا سناؤں ماں
    اجڑ گئ میری دنیا کہاں میں جاؤں ماں
    کہاں تلاش کروں ہائے اب متاعِ سکوں
    کہاں گئی میری جنت ، کہاں سے لاؤں ” ماں "

  • ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون
    ہم اپنے خوابوں کو پانے کے لئے بہت کوشش کرتے ہیں اسکے لئے در در کی ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں.. کئی بار ہمیں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر کبھی قسمت مہربان ہوتو انسان کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے.
    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ لوگ کامیابی کے مقام پہ پہنچ کر خود کو بڑا محسوس کرنے لگتے ہیں (سب نہیں مگر موسٹلی ایسا ہوتا ہے) وہ اپنے سے چھوٹے کو کمتر اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں, وہ بھول جاتے ہیں جس خدا نے انکو کامیابی دی وہی خدا ان لوگوں کا بھی ہے جن کو وہ کمتر سمجھ رہے ہیں.
    کیونکہ انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو, کتنا ہی کامیاب اور مشہور کیوں نہ ہو آ خر اُس نے اُسی مٹی میں دفن ہونا ہے جس میں ایک عام انسان دفن ہوگا, خاک سے بنا جسم آ خر خاک میں ہی تو ملنا ہے کیونکہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور یہ ہم سب جانتے بھی ہیں لیکن وہ وقت کونسا ہے اس راز سے ہم ناواقف ہیں.

    موت ہی ایسی چیز ہے جسکے آ گے طاقتور سے طاقتور بےبس ہوجاتے ہیں. پھر نہ تو شہرت اور نہ روپیہ پیسہ اسکی موت ٹال سکتے ہیں اور نہ ہی ذندگی کے دن بڑھا سکتے ہیں.. اصل میں انسان اپنی عارضی خوشیوں کو پانے کے لئے اسقدر بہت آ گے نکل جاتا ہے کہ واپسی ممکن نہیں رہتی اور تب اُسے اللہ یاد آ تا ہے تب وہ سوچتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا.
    آ ج اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں کونسا گناہ, کونسی ایسی بُرائی نہیں جس میں ہم کسی نہ کسی طرح جھکڑے ہوئے ہیں, کسی کے حق پہ ڈاکہ ڈالتے ہوئے, جھوٹ بولتے ہوئے, چوری, قتل , یا (یہ جو آ جکل معصوم بچوں کو نوچا جارہا) ہم اپنی موت کو کیوں بھول جاتے ہیں؟؟

    ہم اپنے اس رب کو کیوں بھول جاتے ہیں جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ؟
    ہم کسی کی ذات پہ تہمت لگاتے زرا دیر نہیں لگاتے پر اپنے پہ بات آ تی تو ہزاروں دلیلیں لئے بیٹھے ہوتے خود کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے…
    اللہ کے بندوں.. یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے
    اللہ کے بندوں.. اللہ کے بندوں پہ ظلم کرتے کیوں بھول جاتے ہوکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے.
    آ ج اللہ نے اگر شہرت دی پیسہ دیا, عہدہ دیا تو اسکا صحیح استعمال کرنا سیکھو, غلط استعمال کروگے تو ایک نہ ایک دن منہ کے بل گر جاؤ گے, اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کو حقیر مت جانو…
    تمھارا تکبر کہیں تمھیں رسوا نہ کردے کیونکہ تکبر اللہ کو پسند نہیں.
    کہیں کسی کی حق تلفی ہوتے دیکھو تو اسکو روکو
    کہیں ظلم ہوتے دیکھو تو ظلم کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرو اپنی آ واز بلند کرو.
    اپنی غلطی کو تسلیم کرنا سیکھو, یہ دولت یہ شہرت آ پکو دنیا میں تا کام آ سکتی ہے پر آخرت میں تمھارے اعمال ہی تمھیں بچائیں گے..

    کسی شہنشاہ کسی شہزادے یا کسی صدر کی میت کو کسی نے سجا کے نہیں رکھا… اور نہ کوئی رکھے گا. جانا اسی مٹی میں ہے جس میں ایک غریب ایک عام انسان جائے گا.
    آ ج کسی عہدے دار کو دیکھ لیں لوگ اپنی درخواستیں لیے انکے انتظار میں گھنٹوں بیٹھے رہے ہونگے مگر وہ جب آ ئے گا تو ٹھاٹ سے اور انکو ٹھیک سے سنے گا بھی نہیں اور خود کو اپنے مقام (جو اللہ نے دیا ہوا) پر فخر کرتا گزر جائے گا.. کیا اس لئے اللہ نے تمھیں طاقت, عہدہ, مقام دیا ؟

    دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والوں یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں
    بہتر ہے اپنی اپنی جگہ درست کرلیں کیونکہ یہ ذندگی تو عارضی ہے اسے ایک سفر سمجھ کے گزاریں. لوگوں کے دکھ درد میں کام آنا ہی ایک انسان کا کام ہے. دنیا کے لالچ میں اندھے ہوکے اپنی آ خرت نہ بگاڑیں.

  • عورت اور معاشرہ . تحریر: ریحانہ جدون

    عورت اور معاشرہ . تحریر: ریحانہ جدون

    ایک معاشرے کی تعمیر میں عورت کا اہم کردار ہے.. عورت ہی ہے جو ایک اچھا اور مکمل معاشرہ بنا سکتی ہے, وہ بحیثیت ایک ماں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرے کہ وہ آ گے چل کے ایک اچھے معاشرے کو تشکیل دے سکے اور ہر ماں یہ کوشش بھی کرتی ہے کہ اسکے بچے ایک اعلیٰ مقام تک پہنچ سکیں, اسکے لئے وہ اپنی بھرپور کوشش کرتی ہے. میں نے ایسی کئی ماؤں کو دیکھا ہے جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کررہی ہوتیں ہیں, محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو پال رہی ہوتی ہیں.. افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کسی عورت کو طلاق ہوجائے تو اس پہ انگلی اٹھانے والی ہی عورتیں ہوتیں ہیں کہ اس میں ہی کوئی قصور ہوگا تبھی اسے طلاق ہوئی ہوگی. میں نے کسی مرد کو ایسی گفتگو کرتے نہیں دیکھا لیکن ہمارے معاشرے میں ایک طلاق یافتہ عورت کو کھلی تجوری کی طرح دیکھا ضرور جاتا ہے کہ اس تک رسائی آ سان ہے اور ہر کوئی بآسانی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے. ایک طلاق یافتہ عورت سے کم ہی کوئی کنوارا شادی کرتا ہے کیونکہ طلاق کا دھبہ اسکے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے چاہے وہ کتنی ہے بےگناہ یا بےقصور ہو.

    اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو یہی معاشرہ اسکے والدین میں یہ خوف بھی ڈال دیتا ہے کہ اگر ابھی اسکی شادی نہ ہوئی تو کبھی نہیں ہوگی کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا. بیشک وہ اپنی ذندگی میں خوش ہو ایک کامیاب ذندگی گزار رہی ہو لیکن معاشرہ اسکو یہ بات بار بار یاد کراتا ہے آ پ خود بھی کسی نہ کسی طرح یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ شاید ہم میں کوئی کمی رہ گئی ہے اور بہت سے لوگ یہ چاہتے بھی ہیں کہ آ پ اس کمی کو محسوس کریں. بعض اوقات ایسی ہی وجوہات ایک عورت کے لیے مشکلات کھڑی کردیتے ہیں.
    ایک عورت کو جب ایک فُل سپورٹ ملتی ہے ( جو اسکے خاوند کی یا والدین کی) تو وہ نہ صرف ایک اچھی ماں بلکہ ایک اچھی بیوی بیٹی بہن بن کر دکھاتی ہے.
    جس گھر میں عورت کی عزت نہ کی جاتی ہو اسکو کوئی اہمیت نہ دی جاتی ہو تو وہ احساس محرومی کا شکار ہوجاتی ہے, وہ اپنی ہی ذات میں الجھ کر رہ جاتی ہے تو وہ کیا ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے پائے گی جہاں اسکے اپنے بچے اسکا اپنا خاوند اسکی عزت نہ کرے…
    ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایک عورت کا مقام کیا ہے اسکی ضرویات کیا ہیں..
    جب اس کا جواب ملے گا اور اس پہ عمل ہوگا تو آنے والی نسلوں کو ایک اچھا معاشرہ خوش آمدید کہےگا