امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی کا انٹرویو شیئر کرتے ہوئے اسے "عرب دنیا کے جذبات کی حقیقی عکاسی” قرار دیا ہے۔
قطری وزیراعظم نے امریکی میڈیا ادارے Breitbart News کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دیا گیا انٹرویو میں کہا کہ غزہ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے عرب دنیا صرف صدر ٹرمپ کی قیادت پر بھروسہ کر رہی ہے اور وہی واحد شخصیت ہیں جو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو روک سکتے ہیں۔محمد بن عبدالرحمن الثانی نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے ان کی بات سنی، مثبت ردعمل دیا اور امن کے لیے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے اسرائیل کے حالیہ حملے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ حملہ امریکی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
قطری وزیراعظم نے ٹرمپ کی قیادت کو عرب دنیا میں امن کے لیے "نیا موقع” قرار دیا اور کہا کہ خطے میں استحکام صرف ٹرمپ کی کوششوں سے ممکن ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یکم نومبر 2025 سے دیگر ممالک سے درآمد ہونے والے تمام درمیانے اور ہیوی ڈیوٹی ٹرکوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
بلومبرگ کے مطابق یہ اقدام امریکی صنعت کو بیرونی مسابقت سے تحفظ دینے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ٹرمپ کے اعلان سے قبل ڈیٹرائٹ کی بڑی آٹو کمپنیوں نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے لابنگ کی تھی تاکہ ٹیکس کو مؤخر یا نرم کیا جا سکے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ فیصلہ اکتوبر کے بجائے نومبر سے نافذ ہوگا تاکہ کمپنیوں کو تیاری کا وقت دیا جا سکے۔صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ نیا ٹیرف یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا تاہم کمپنیوں کی جانب سے ممکنہ اثرات کے حوالے سے اپیلوں کے بعد اس میں تاخیر کر دی گئی۔
افغانستان کے حوالے سے روس، چین، ایران اور پاکستان کے نمائندوں کا خصوصی اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں روسی صدر کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان نے روسی وفد کی نمائندگی کی۔ یہ اجلاس ماسکو فارمیٹ کی رابطہ گروپ کے طور پر کام کر رہا ہے۔اجلاس میں ساتویں ماسکو فارمیٹ مشاورت اجلاس کے ایجنڈے اور حتمی اعلامیہ کی تیاری پر غور کیا گیا۔شرکاء نے افغانستان میں امن، استحکام اور علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کے بینیولنٹ فنڈ نوٹیفکیشن معطل کرنے، کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے سرنڈر کی پالیسی، گندم اجراء پالیسی 2025–26 اور آئل کمپنیوں سے انفرااسٹرکچر سیس کی وصولی سمیت کئی فیصلے کیے گئے۔
بینیولنٹ فنڈ کے تحت کابینہ نے سرکاری ملازمین کے مطالبات پر محکمہ خزانہ کے پنشن اصلاحات سے متعلق نوٹیفکیشنز معطل کر دیے اور کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی۔کچے کا امن منصوبہ: ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے کی پالیسی منظور کی گئی، جس کے تحت غیر مسلح ہونا، خاندانوں کا تحفظ، روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ کچے میں اسکول، اسپتال اور ترقیاتی منصوبے بھی بحال ہوں گے۔
گندم پالیسی کے تحت 1.265 ملین میٹرک ٹن گندم فلور ملز اور چکیوں کو فی 100 کلو بوری 9500 روپے میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ آٹے کی قیمتیں مستحکم رہیں۔انفرااسٹرکچر سیس کے تحت آئل کمپنیوں پر 102 ارب روپے کے واجبات کی وصولی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دیگر فیصلے:
78 ایل بی او ڈی ملازمین مستقل۔صوبے بھر میں ٹائر پیرو لائسز پلانٹس پر پابندی۔پراپرٹی ٹیکس نظام میں اصلاحات۔وفات سرٹیفکیٹ فیس ختم۔وراثتی سرٹیفکیٹس میں ترامیم۔آغوش اسپیشل چلڈرن اسکول کا کنٹرول ڈی ای پی ڈی کے سپرد۔این ای ڈی یونیورسٹی میں ریسرچ کمرشلائزیشن کمپنی قائم۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدامات شفافیت، معاشی استحکام اور صوبے کی پائیدار ترقی کے لیے اہم ہیں۔
پاکستانی نژاد برطانوی رکنِ پارلیمنٹ اور وزیر داخلہ شبانہ محمود کو فلسطین کے حق میں بڑھتے ہوئے مظاہروں کو محدود کرنے کے اعلان پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
شبانہ محمود نے کہا کہ مظاہروں نے یہودی برادری میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے، اس لیے پولیس کو ان مظاہروں پر پابندیاں اور شرائط عائد کرنے کے زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔یہ اقدام مانچسٹر کی ایک عبادت گاہ پر گزشتہ ہفتے حملے کے بعد سامنے آیا۔ شبانہ محمود نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو بیان میں کہا کہ قانون سازی کے ذریعے پولیس کو اختیار ملے گا کہ اگر کسی جگہ بار بار مظاہرے خلل یا بے چینی کا باعث بنیں تو انہیں محدود یا مشروط کیا جا سکے۔
بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام احتجاج پر پابندی لگانے کے بارے میں نہیں بلکہ ان پر شرائط لگانے سے متعلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ ہر وقت اسے استعمال کریں۔تاہم اس فیصلے پر برطانیہ بھر میں سیاسی رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی شخصیات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔رکنِ پارلیمنٹ زارا سلطان نے کہا کہ وزیر داخلہ دراصل فلسطین کے حق میں مظاہروں پر پابندی لگانا چاہتی ہیں اور وہ شہری آزادیوں اور احتجاج کے حق کی پامالی کر رہی ہیں۔
گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے کہا کہ شبانہ محمود غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں کہ وہ غزہ کے خلاف مظاہروں کو مانچسٹر سنیگاگ حملے سے جوڑ رہی ہیں۔اداکار اور کامیڈین تز الیاس نے 2014 کی ایک تصویر شیئر کی جس میں شبانہ محمود فلسطین نواز احتجاج میں شریک دکھائی دیتی ہیں اور سوال اٹھایا کہ اقتدار میں آنے سے قبل وہ مظاہروں کی حمایت کرتی تھیں۔
امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس اور اسرائیل غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر متفق نہ ہوئے تو امریکی حکومت اپنا متبادل امن فارمولا پیش کرے گی تاکہ فوری جنگ بندی اور خطے میں امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائنا لیوٹ نے صحافیوں کو بریفنگ میں بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے میں مکمل طور پر شامل ہیں اور وہ یرغمالیوں کی جلد رہائی کے خواہاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ "اگر فریقین کسی معاہدے پر نہیں پہنچے تو ہم اپنی طرف سے ایک ٹھوس اور قابلِ عمل فارمولہ پیش کریں گے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق اس وقت مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں تکنیکی مذاکرات جاری ہیں جن میں براہِ راست نہیں بلکہ بالواسطہ بات چیت ہو رہی ہے، اور مصری حکام ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ان مذاکرات کا محور مرحلہ وار جنگ بندی، یرغمالیوں کا تبادلہ اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی ہے۔
کیرولائنا لیوٹ نے کہا کہ تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ضروری ہے اور صدر ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی فریم ورک کو قبول کیا جا چکا ہے۔امریکی ترجمان کے مطابق ٹرمپ کا امن منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہے، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ کے بعد پائیدار امن و استحکام کا قیام.انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں اسرائیلی یرغمالیوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی قیدیوں کی فہرست بھی زیر غور ہے، تاہم ایک موقع پر انہوں نے فلسطینی سیاسی قیدیوں کو "سکیورٹی قیدی” کہہ دیا جسے انہوں نے ممکنہ طور پر زبان کی لغزش قرار دیا۔
کیرولائنا لیوٹ نے کہا کہ غزہ تنازع کے ساتھ ساتھ امریکا میں سیاسی کشیدگی بھی عروج پر ہے۔ ان کے مطابق حکومتی شٹ ڈاؤن سے بچنے کے لیے 5 ڈیموکریٹس کے ووٹ درکار ہیں مگر ڈیموکریٹس رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ "ڈیموکریٹس نے ہزاروں امریکیوں کی نوکریاں داؤ پر لگا دی ہیں، ان کی ترجیحات میں غیر قانونی ایلینز پہلے اور امریکی عوام بعد میں ہیں۔”
انسپکٹر جنرل آف پولیس گلگت بلتستان فیصل محمود بٹ نے کہا ہے کہ ممتاز عالم دین اور اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان و کوہستان کے امیر قاضی نثار احمد پر حملے میں سہولت کاری کرنے والے 8 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سیکرٹری داخلہ اور ڈی آئی جی گلگت راجا مرزا حسن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی پولیس نے بتایا کہ جسٹس ملک عنایت الرحمٰن کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے 2 ملزمان کی شناخت بھی کر لی گئی ہے، ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ دہشت گردوں کے زیر استعمال چار گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔فیصل محمود بٹ نے کہا کہ جلد ہی قاضی نثار احمد پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوع سے حاصل کیے گئے فنگر پرنٹس اور خون کے نمونے ملزمان تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ قاضی نثار احمد کی سیکیورٹی پر پولیس کی ایک موبائل اور پانچ اہلکار تعینات تھے، جنہوں نے حملے کے دوران جوابی فائرنگ کر کے دو حملہ آوروں کو زخمی کیا اور انہیں ہدف کے حصول میں ناکام بنا دیا۔آئی جی پولیس نے کہا کہ تحقیقات پولیس اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر کر رہے ہیں اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت تک پہنچ چکے ہیں، جنہیں جلد عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کے وقت اتوار کا دن ہونے کے باعث سی پی او میں نفری کم تھی، جبکہ حملہ تین سے پانچ منٹ تک جاری رہا۔
آئی جی نے اس بات پر زور دیا کہ قاضی نثار احمد محفوظ رہے جو اللہ کے فضل اور پولیس اہلکاروں کی بہادری کا نتیجہ ہے، ورنہ علاقے کے حالات قابو سے باہر ہو سکتے تھے۔
وی لاگ کے آغاز میں مبشر لقمان نے ناظرین کو خوش آمدید کہا اور بتایا کہ وہ واٹس ایپ کے ذریعے آنے والے سوالات کے جوابات دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے، اور آڈیو سوالات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پیغام گویا اور واضح رہے۔
ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ بعض نقطۂ نظر کے مطابق حماس کے بعض اقدامات اسرائیل کو مطلوبہ سیاسی اور عسکری نتیجے دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، مگر ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقی تباہی اور جانی نقصان اصل میں اسرائیلی حملوں سے سامنے آیا ہے۔ انہوں نے دونوں جانب انسانی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور صورتحال کی پیچیدگی پر زور دیا۔
پاک-ہند تعلقات اور ممکنہ جنگی منظرنامے
مبشر لقمان نے کہا کہ اگرچہ نظریاتی طور پر دونوں ملک نیوکلیئر صلاحیت رکھتے ہیں، مگر عالمی سطح پر کوئی بھی طاقت اس حد تک کشیدگی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا تب ابتدائی موبلائزیشن میں 12 تا 15 دن درکار ہوں گے اور اندرونی سیاسی معاملات (مثلاً انتخابی کیلنڈر) اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دفاعی طور پر خود کفیل ہے اور ضروری جنگی ضروریات کی بڑی مقدار مقامی صنعتیں فراہم کر رہی ہیں، نیز سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھی ایک اہم عنصر ہے۔
وی لاگ میں مبشر لقمان نے JF-35 طیاروں کے بارے میں کہا کہ وہ رواں سال نومبر–دسمبر میں پاکستان کو موصول ہونے کی اطلاعات ہیں (بیان صرف وی لاگ میں موجود کلیم تک محدود ہے) اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ موجودہ فضائی اور بحری صلاحیتیں مطلوبہ ردعمل دینے کے قابل ہیں۔
سی پیک، چین اور علاقائی حکمتِ عملی
انہوں نے ذکر کیا کہ سی پیک (CPEC) پاکستان کی مفاد میں ہے اور اس کے سبب علاقائی متنازعہ فریقین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مبصر نے یہ بھی کہا کہ چین نے پہلے ہندوستان کو بھی اسی منصوبے میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، جسے ہندوستان نے قبول نہیں کیا۔
عوامی ذمہ داریاں: ماحولیات اور پانی کی حفاظت
مبشر لقمان نے عوامی شراکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دو عملی مشورے دئیے: (1) درخت لگائیں — آکسیجن اور صحت کے لیے مفید، (2) پانی کی بچت کریں — روزمرہ کے غیر ضروری پانی کے استعمال پر قابو پائیں۔ انہوں نے اعتراف بھی کیا کہ خود ان کے گھر میں بعض چیزیں ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئیں لیکن وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تحفّے اور رشوت میں فرق
ناظرین کے سوال پر مبشر لقمان نے واضح کیا کہ تحفہ اور رشوت میں فرق سمجھنا ضروری ہے — سادہ تحفے باہمی تبادلے ہوتے ہیں، جب کہ ایسی چیزیں جو وصول کنندہ واپس نہیں کر سکتا یا جن کا تعلق اختیارات/فوائد کے بدلے میں ہو وہ رشوت کہلائیں گی۔وی لاگ میں مبشر لقمان نے کہا کہ اگر پاکستان واقعی اسلامی قوانین کے مطابق چلنا چاہتا ہے تو سود (ربا) کا خاتمہ اہم شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سود کا نظام برقرار رہے گا، وہ ملک کو اسلامی ریاست نہیں کہلائے گا — یہ ان کا ذاتی موقف تھا جو انہوں نے ناظرین کے سوال کے جواب میں واضح کیا۔
غیرقانونی مقیم افغانوں اور شناختی کارڈز
ایک اور سوال پر انہوں نے غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی بڑھتی ہوئی شکایات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ایسے معاملات پر کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ بعض غیر قانونی حرکات پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرتی ہیں۔مبشر لقمان نے کہا کہ حقیقی پالیسی سازی اور عوامی مسائل کا حل عموماً مقامی حکومتوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ انتخابی اصلاحات پر ان کا خیال تھا کہ سیاسی جماعتیں مکمل اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں چونکہ شفاف نظام میں موجود بعض قوتیں متاثر ہوں گی۔
طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگرام ایئربیس دوبارہ لینے کے بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کسی صورت یہ ایئربیس امریکا کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔
اسکائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغان کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کسی کو نہیں دیں گے۔ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی کہ طالبان بگرام ایئربیس کا کنٹرول چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں، تاہم امریکی حکام کے ساتھ سفارتی مشن دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان چاہتے ہیں کہ کابل اور واشنگٹن میں سفارت خانے دوبارہ کھولے جائیں۔اقتدار میں واپسی کے چار سال بعد بھی طالبان بین الاقوامی سطح پر تنہا ہیں، اب تک صرف روس نے ان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ تاہم طالبان ترجمان نے کہا کہ کئی ممالک نے نجی سطح پر ان کی حکومت کو تسلیم کیا ہے، اگرچہ عوامی اعلان نہیں کیا گیا۔
بین الاقوامی تعلقات کی خواہش کے باوجود طالبان خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر اب بھی پابندی عائد ہے، جبکہ خواتین کو بیشتر سرکاری اداروں اور صحت کے شعبے سمیت دیگر ملازمتوں سے بھی روک دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے مسلسل جاری ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت میں مزید 21 فلسطینی شہید اور 96 زخمی ہوگئے۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مارچ میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 13 ہزار 568 فلسطینی شہید اور 57 ہزار 638 زخمی ہو چکے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی جارحیت میں 67 ہزار 160 فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 69 ہزار 679 زخمی ہوئے۔فلسطینی وزارت صحت نے مزید بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر حملوں میں 2 افراد شہید اور 19 زخمی ہوئے۔ اس طرح امداد کے منتظر شہیدوں کی مجموعی تعداد 2 ہزار 610 اور زخمیوں کی تعداد 19 ہزار 143 سے تجاوز کر گئی ہے۔