Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • مودی اور نیتن یاہو خوش کھو بیٹھے، کراچی پر حملے کی دھمکی،یورپ بھر میں مظاہرے

    مودی اور نیتن یاہو خوش کھو بیٹھے، کراچی پر حملے کی دھمکی،یورپ بھر میں مظاہرے

    معروف اینکر پرسن و تجزیہ کار مبشر لقمان نے اپنے تازہ ترین و لاگ میں خطے اور دنیا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم انکشافات اور دعوے کیے ہیں۔

    ان کے مطابق ایک جانب بھارت پاکستان کے خلاف جنگی بیانات اور فوجی تیاریاں بڑھا رہا ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے گولڈن فلوٹلا کے امدادی کارکنوں کی گرفتاری نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ ساتھ ہی پاک-افغان سرحد پر جھڑپوں اور قطر میں جاری مذاکرات پر بھی غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔مبشر لقمان نے کہا کہ اسرائیل نے انسانی امداد لے جانے والے گولڈن فلوٹلا کے کارکنان کو گرفتار کر کے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ نہ تو کسی عالمی قانون کا پابند ہے اور نہ ہی انسانی و اخلاقی اقدار کی پرواہ کرتا ہے۔ ان کارکنان کو حراستی مراکز اور جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اب تک ان تک کسی انسانی حقوق کے ادارے یا وکیل کو رسائی نہیں دی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ گرفتار کارکن غزہ میں محصور شہریوں کے لیے خوراک اور دیگر امدادی سامان لے جا رہے تھے، لیکن اسرائیلی فورسز نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جیسے وہ جنگی قیدی ہوں۔ اس واقعے کے بعد یورپ بھر میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ اٹلی میں مظاہرین نے ٹرین سروس بند کر دی، جرمنی میں پولیس اور عوام کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جبکہ اسپین، فرانس، ڈنمارک اور ناروے میں بھی بڑی تعداد میں احتجاج کیا گیا۔ ترکی میں نوجوان اسرائیلی دفاتر کے باہر جمع ہوئے اور اسرائیلی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ اس قافلے میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے تین شہری بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق پاکستانی کشتیوں کو اسرائیلی بحری جہازوں اور ڈرونز نے تقریباً ایک گھنٹے تک تعاقب میں رکھا تاہم وہ سائپرس کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ امدادی کارکن اب بھی خطرے میں ہیں اور کسی بھی وقت انہیں دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اپنے و لاگ میں مبشر لقمان نے کہا کہ دوحہ میں جاری مذاکرات میں امریکی صدر ٹرمپ کے امن فارمولا پر کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ حماس کی سیاسی قیادت جزوی طور پر اس منصوبے پر رضامند دکھائی دیتی ہے لیکن غزہ میں موجود عسکری قیادت اس پر سخت موقف رکھتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی سے انکار نے پورے امن عمل کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور آنے والے 72 گھنٹے غزہ میں سیز فائر کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔مبشر لقمان نے بھارت کی حالیہ سرگرمیوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مذہبی تہواروں کے دوران پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور فوجی قیادت کھلے عام اسلحے کی نمائش کر رہی ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے حالیہ بیان میں کہا کہ "کراچی کے لیے ایک راستہ سرکریک سے ہو کر گزرتا ہے”۔

    مبشر لقمان کے مطابق بھارتی قیادت کے یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئی دہلی جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کی تو اس کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔اپنے و لاگ میں انہوں نے بتایا کہ کنڑ اور نورستان کے علاقوں میں پاک فوج اور سرحد پار موجود مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پاک فوج نے جوابی کارروائیاں کیں اور کئی شدت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

    ساتھ ہی مبشر لقمان نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے بگرام ایئربیس کو خالی کرنا شروع کر دیا ہے اور وہاں سے امریکی فوجی سامان دوسرے مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان وزیر خارجہ جلد بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں جس کے نتائج خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

    مبشر لقمان نے اپنے و لاگ کے آخر میں کہا کہ خطہ ایک نئے دوراہے پر کھڑا ہے۔ اسرائیل کی کارروائیوں کے خلاف عالمی احتجاج، غزہ میں امن مذاکرات کی غیر یقینی کیفیت، بھارت کی جارحانہ پالیسی اور پاک-افغان سرحد پر بڑھتی جھڑپیں — یہ سب مل کر خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والے دن خاص طور پر پاکستان، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔

    حماس کا ٹرمپ کی دھمکی پر باضابطہ جواب آگیا، بڑا اعلان کر دیا

    بحیرہ عرب میں ڈیپ ڈپریشن، سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان

    عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع

  • حماس کا ٹرمپ کی دھمکی پر باضابطہ جواب آگیا، بڑا اعلان کر دیا

    حماس کا ٹرمپ کی دھمکی پر باضابطہ جواب آگیا، بڑا اعلان کر دیا

    حماس نے امریکی صدر کے جنگ بندی مجوزہ منصوبے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے باضابطہ اعلامیہ جاری کردیا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کا انتظام غیرجانبدار ٹیکنو کریٹس کو دینے کیلئے تیار ہیں، نئی انتظامیہ قومی اتفاق رائے سے قائم ہونی چاہیے۔تنظیم نے مطالبہ کیا کہ نئی انتظامیہ کو عرب و اسلامی حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے، اسرائیلی قیدی زندہ اور لاشوں کے تبادلے کے لیے تیار ہیں۔قیدیوں کے تبادلے کے لیے اچھی صورتحال فراہم کی جائے، ثالثوں کے ذریعے فوری مذاکرات پر تیار ہیں۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق پر قومی سطح پربات ہوگی۔فلسطینی عوام کے حقوق عالمی قوانین و قراردادوں کے مطابق فراہم کیے جائیں، مستقبل کے تمام معاملات قومی فریم ورک میں طے کیے جائیں گے۔غزہ پر قبضے اور فلسطینی عوام کی جبری بےدخلی کو مسترد کرتے ہیں، جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاہی امن کی ضمانت ہے۔

    حماس نے بتایا کہ اس فیصلے سے پہلے قیادت اور تمام فلسطینی دھڑوں سے وسیع مشاورت کی گئی اور عرب و اسلامی ممالک، دوست ممالک اور ثالثوں سے بھی بات چیت کی گئی۔ مزید کہا گیا ہے کہ عرب،اسلامی، عالمی اور امریکی صدر کی کوششوں کو سراہتے ہیں، حماس نے جنگ بندی، اسیران کے تبادلے اور فوری امداد کی فراہمی پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حماس کو دھمکی دیتے ہوئے غزہ منصوبے کا جواب دینے کے لیے اتوار کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

  • بحیرہ عرب میں ڈیپ ڈپریشن، سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان

    بحیرہ عرب میں ڈیپ ڈپریشن، سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان

    شمال مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ڈیپ ڈپریشن آج رات تک سمندری طوفان کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں اس کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سسٹم کے زیرِ اثر تھرپارکر، عمرکوٹ، بدین، ٹھٹھہ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹیاری اور جامشورو میں جبکہ کراچی ڈویژن کے چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ہے۔ صوبے کے دیگر حصوں میں گرم اور خشک موسم برقرار رہے گا۔سندھ کے ساحلی علاقوں میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جو 55 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی ہیں۔ ماہی گیروں کو اتوار تک گہرے سمندر میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ آندھی اور بجلی سے کچی آبادیوں کے کمزور ڈھانچوں، چھتوں، دیواروں، بجلی کے کھمبوں، بورڈز، گاڑیوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔کراچی میں ہفتے کے روز موسم زیادہ تر ابرآلود اور مرطوب رہنے کا امکان ہے، ساتھ ہی ہلکی پھوار پڑ سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 سے 34 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے جبکہ صبح کے وقت نمی 75 سے 85 فیصد اور شام کے وقت 60 سے 70 فیصد تک رہ سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جاری ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ 4 سے 6 اکتوبر کے دوران خلیج بنگال اور شمالی بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع

    سندھ ایمپلائز الائنس نے دھرنا مؤخر اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

    اسرائیلی افواج کے وحشیانہ حملے، مزید 63 فلسطینی شہید، 227 زخمی

    اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

  • بھارت اور چین کے درمیان پانچ سال بعد براہِ راست پروازیں بحال

    بھارت اور چین کے درمیان پانچ سال بعد براہِ راست پروازیں بحال

    بھارت اور چین نے پانچ سالہ تعطل کے بعد رواں ماہ براہِ راست پروازیں بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بکنگ کا آغاز آج سے کر دیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازیں 2020 میں کووِڈ-19 وبا کے دوران معطل کر دی گئی تھیں اور سرحدی تنازعات کے باعث دوبارہ شروع نہیں ہو سکی تھیں۔گزشتہ سال روس کے شہر قازان اور رواں برس اگست میں چین میں بھارتی و چینی رہنماؤں کی ملاقاتوں کے بعد تعلقات میں کچھ بہتری آئی اور تکنیکی مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پایا۔

    بھارتی حکومت کے بیان کے مطابق، براہِ راست پروازیں اکتوبر کے آخر تک بحال ہو جائیں گی جس سے عوامی روابط کو سہولت ملے گی اور دوطرفہ تعلقات کی بتدریج بحالی میں مدد ملے گی۔بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے اعلان کیا ہے کہ وہ 26 اکتوبر سے کولکتہ اور گوانگژو کے درمیان روزانہ براہِ راست پروازیں شروع کرے گی، جس کے بعد اس سروس کو نئی دہلی تک بڑھایا جائے گا۔

    ایئرلائن کے مطابق یہ پروازیں سرحد پار تجارت، اسٹریٹجک کاروباری شراکت داریوں اور سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔یاد رہے کہ اگست میں بھارت اور چین نے یہ طے کیا تھا کہ وہ براہِ راست پروازیں بحال کرنے کے ساتھ ساتھ سرحدی مسائل پر مذاکرات اور تجارت کو آگے بڑھائیں گے۔

    عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع

    سندھ ایمپلائز الائنس نے دھرنا مؤخر اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

    اسرائیلی افواج کے وحشیانہ حملے، مزید 63 فلسطینی شہید، 227 زخمی

    اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

  • عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع

    عوامی ایکشن کمیٹی سے معاملات طے، معاہدے پر جلد دستخط متوقع

    وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں اور جلد معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔

    اپنی ایکس پوسٹ میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے لکھا کہ مذاکرات کا آخری دور جاری ہے اور عوامی مفادات کے ساتھ امن ہماری اولین ترجیح ہے۔واضح رہے کہ اس وقت مظفرآباد میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس سے قبل کہا تھا کہ کشمیری عوام کے زیادہ تر مطالبات پہلے ہی منظور کیے جا چکے ہیں جبکہ چند نکات کے لیے آئینی ترامیم درکار ہیں، جن پر بات چیت جاری ہے۔

    مذاکرات میں حکومت کی طرف سے سینیٹر رانا ثنااللہ، احسن اقبال، سردار یوسف، طارق فضل چوہدری، قمر زمان کائرہ اور انجینئر امیر مقام شریک ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان بھی وفد کا حصہ ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی شوکت نواز میر، راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم زمان کر رہے ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کی حکومتی کمیٹی بھی اجلاس میں شریک ہے۔

    سندھ ایمپلائز الائنس نے دھرنا مؤخر اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

    اسرائیلی افواج کے وحشیانہ حملے، مزید 63 فلسطینی شہید، 227 زخمی

    اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

  • سندھ ایمپلائز الائنس نے دھرنا مؤخر اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

    سندھ ایمپلائز الائنس نے دھرنا مؤخر اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا

    سندھ ایمپلائز الائنس کے وفد نے چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ سے ملاقات کے بعد 6 اکتوبر کو طے شدہ دھرنا مؤخر کرنے اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    حاجی اشرف خاصخیلی کی قیادت میں 8 رکنی وفد نے سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات کی جس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن، سیکریٹری فنانس، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ بھی شریک ہوئے۔ یہ اجلاس چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ہدایت پر منعقد ہوا۔اجلاس میں سرکاری ملازمین کے مسائل، بالخصوص پنشن اصلاحات، ڈی آر اے الاؤنس، گروپ انشورنس اور دیگر مطالبات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ دوران ملاقات چیف سیکریٹری نے وزیراعلیٰ سندھ سے براہِ راست رابطہ کیا، جس پر مراد علی شاہ نے یقین دہانی کرائی کہ یہ معاملات پیر کو کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیے جائیں گے۔

    اس پیش رفت کے بعد حاجی اشرف خاصخیلی نے اعلان کیا کہ ملازمین کل سے ڈیوٹی پر واپس آئیں گے اور دفاتر میں رپورٹ کریں گے۔مزید برآں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں جنرل ایڈمنسٹریشن، فنانس، اسکول ایجوکیشن اور لاء کے سیکریٹریز کے ساتھ سندھ ایمپلائز الائنس کے چار نمائندے شامل ہوں گے، جو باہمی اتفاق سے سفارشات تیار کر کے حکومت سندھ کو پیش کریں گے۔

    چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت ملازمین کے جائز مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے اور ان کا تعمیری حل یقینی بنایا جائے گا۔بعدازاں سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ نے سندھ کابینہ کے آئندہ اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا، جس میں سندھ ایمپلائز الائنس کے مطالبات بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

    بھارتی ایئر چیف کا پاکستان کے خلاف نیا دعویٰ مزاق بن گیا

    ٹرمپ کا حماس کو الٹی میٹم، غزہ معاہدہ پر اتوار شام تک کی مہلت

    یو این پابندی میں نرمی کے بعد افغان وزیر خارجہ کا بھارت دورہ متوقع

    مظفر آباد: حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور جاری

  • اسرائیلی افواج کے وحشیانہ حملے، مزید 63 فلسطینی شہید، 227 زخمی

    اسرائیلی افواج کے وحشیانہ حملے، مزید 63 فلسطینی شہید، 227 زخمی

    قابض اسرائیلی افواج نے غزہ میں وحشیانہ فضائی اور زمینی حملے مزید تیز کر دیے، جن کے نتیجے میں 63 فلسطینی شہید اور 227 زخمی ہو گئے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صرف غزہ شہر میں ہی 37 افراد شہید ہوئے، جبکہ جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں النصر اسپتال کے مطابق 7 افراد کی شہادت کی تصدیق ہوئی۔ اسی دوران غزہ شہر کے قریب انصار کے علاقے میں ایک اور حملے میں 2 افراد شہید ہوئے۔صبرا محلے میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 3 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ النصیرات کیمپ پر فضائی حملے میں مزید 2 افراد شہید ہوئے۔ مرکزی غزہ میں سول ڈیفنس اہلکاروں نے النصیرات پناہ گزین کیمپ کے ایک تباہ شدہ گھر کے ملبے سے ایک زخمی کو زندہ اور 2 لاشوں کو برآمد کیا۔

    طبی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک سے بھی مزید 2 افراد، جن میں ایک بچہ شامل ہے، شہید ہو گئے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنگ کے دوران بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 457 ہو گئی ہے، جن میں 152 بچے شامل ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہادتوں کی مجموعی تعداد 66 ہزار 288 اور زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 69 ہزار 165 تک پہنچ گئی ہے۔

    اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

    بھارتی ایئر چیف کا پاکستان کے خلاف نیا دعویٰ مزاق بن گیا

    ٹرمپ کا حماس کو الٹی میٹم، غزہ معاہدہ پر اتوار شام تک کی مہلت

    یو این پابندی میں نرمی کے بعد افغان وزیر خارجہ کا بھارت دورہ متوقع

  • اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

    اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے مزید 11 کشتیاں غزہ کی جانب روانہ

    بین الاقوامی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) کی مزید 11 کشتیاں غزہ کی پٹی کی طرف روانہ ہو گئی ہیں تاکہ برسوں سے جاری اسرائیلی محاصرہ ختم کیا جا سکے۔

    ترک خبر رساں ادارے مطابق ایف ایف سی نے بیان میں بتایا کہ اٹلی اور فرانس کے جھنڈے بردار دو کشتیاں 25 ستمبر کو اوترانتو (اٹلی) سے روانہ ہوئیں اور 30 ستمبر کو ایک اور کشتی ’کنشینس‘ کے ساتھ جا ملیں۔ یہ کشتیاں جلد ہی 8 کشتیوں پر مشتمل قافلے ’تھاؤزنڈ میڈلینز ٹو غزہ‘ سے مل کر مجموعی طور پر 11 کشتیوں کا قافلہ تشکیل دیں گی۔بیان کے مطابق اس وقت تقریباً 100 افراد کشتیوں پر سوار ہیں جو یونان کے ساحل کریٹ کے قریب موجود ہیں۔

    2008 میں قائم ہونے والی ایف ایف سی اب تک درجنوں مشنز کر چکی ہے، جن کا مقصد امداد پہنچانا اور اسرائیلی محاصرے میں پھنسے غزہ کے انسانی بحران کی طرف عالمی توجہ دلانا ہے۔یہ قافلہ ایسے وقت روانہ ہوا ہے جب ایک روز قبل اسرائیلی بحریہ نے غزہ جانے والی 42 کشتیوں پر حملہ کر کے انہیں قبضے میں لے لیا اور ان پر سوار 450 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ اس سے قبل بھی اسرائیل بارہا کشتیوں پر حملہ، سامان ضبط اور کارکنوں کو ملک بدر کر چکا ہے۔

    اسرائیل نے تقریباً 18 سال سے 24 لاکھ کی آبادی والے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ مارچ 2025 میں محاصرہ مزید سخت کرتے ہوئے سرحدی راستے بند کر دیے گئے جس سے خوراک اور ادویات کی ترسیل رک گئی اور قحط مزید بڑھ گیا۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 66 ہزار 200 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ غزہ رہنے کے قابل نہیں رہا اور بھوک و بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    بھارتی ایئر چیف کا پاکستان کے خلاف نیا دعویٰ مزاق بن گیا

    ٹرمپ کا حماس کو الٹی میٹم، غزہ معاہدہ پر اتوار شام تک کی مہلت

    یو این پابندی میں نرمی کے بعد افغان وزیر خارجہ کا بھارت دورہ متوقع

    مظفر آباد: حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور جاری

  • بھارتی ایئر چیف کا  پاکستان کے خلاف نیا  دعویٰ مزاق بن گیا

    بھارتی ایئر چیف کا پاکستان کے خلاف نیا دعویٰ مزاق بن گیا

    رواں سال مئی میں پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد بھارتی حکومت، آرمی اور میڈیا اپنی عوام کو خوش کرنے کے لیے بیانات اور من گھڑت دعوے کر رہے ہیں۔

    اسی سلسلے میں بھارتی فضائیہ کے سربراہ امر پریت سنگھ نے ایک نیا دعویٰ کیا ہے۔بھارتی ایئر چیف کے مطابق مئی میں پاکستان کے ساتھ فضائی جھڑپ کے دوران بھارت نے پاکستان کے 5 جنگی طیارے مار گرائے، جن میں امریکی ساختہ ایف-16 اور چینی ساختہ جے ایف-17 شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار عوامی سطح پر یہ بتایا جا رہا ہے کہ مار گرائے گئے طیاروں میں ایف-16 اور جے ایف-17 کلاس شامل تھی۔ اس سے قبل اگست میں انہوں نے صرف 5 طیارے اور ایک فوجی جہاز گرانے کا ذکر کیا تھا لیکن ان کی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

    پاکستان پہلے ہی یہ مؤقف دے چکا ہے کہ مئی کی اس جھڑپ میں اس نے بھارت کے 6 جنگی طیارے مار گرائے، جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل بھی شامل تھے۔ بھارت نے کچھ نقصانات تسلیم کیے ہیں لیکن 6 طیاروں کے نقصان کی تردید کی ہے۔پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی ایئر چیف کے دعوے پر دوٹوک ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جھڑپ میں بھارت کے 6 طیارے، بشمول 3 رافیل، تباہ ہوئے جبکہ بھارتی دعویٰ اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش ہے۔

    واضح رہے کہ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب بھارت نے پہلگام حملے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ لانچ کیا تھا، جس کا جواب پاکستان نے ’آپریشن بُنیان مرصوص‘ کی صورت میں دیا۔ اس لڑائی کے بعد بھارت کو بھاری نقصان اٹھا کر جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔

    ٹرمپ کا حماس کو الٹی میٹم، غزہ معاہدہ پر اتوار شام تک کی مہلت

    یو این پابندی میں نرمی کے بعد افغان وزیر خارجہ کا بھارت دورہ متوقع

    مظفر آباد: حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور جاری

    جے ڈی سی سربراہ سے 14 کروڑ بھتہ طلب کرنے والے ملزمان گرفتار

  • ٹرمپ کا حماس کو الٹی میٹم، غزہ معاہدہ پر اتوار شام تک  کی مہلت

    ٹرمپ کا حماس کو الٹی میٹم، غزہ معاہدہ پر اتوار شام تک کی مہلت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزاحمتی تنظیم حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ منصوبے پر معاہدہ اتوار کی شام واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق 6 بجے تک طے پانا ضروری ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پیغام میں اس معاہدے کو ’آخری موقع‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس وقت تک معاہدہ نہ ہوا تو حماس کے خلاف بے مثال اور زبردست کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے لکھا کہ ہر متعلقہ ملک اس پر دستخط کر چکا ہے، اور معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں غزہ میں شدید اقدامات کیے جائیں گے۔صدر نے مزید کہا کہ اگر معاہدہ ناکام ہوا تو غزہ میں موجود حماس کے کارکن ’پھنسے‘ رہ جائیں گے اور انہیں ہدف بنایا جائے گا۔

    اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے معصوم شہریوں سے کہا کہ وہ محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہو جائیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ محفوظ علاقے کہاں ہوں گے۔یاد رہے کہ یکم اکتوبر کو حماس کے قریبی ذرائع نے بتایا تھا کہ وہ اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔

    یو این پابندی میں نرمی کے بعد افغان وزیر خارجہ کا بھارت دورہ متوقع

    مظفر آباد: حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کا دوسرا دور جاری

    جے ڈی سی سربراہ سے 14 کروڑ بھتہ طلب کرنے والے ملزمان گرفتار

    پنجاب حکومت کا دفاتر میں فائل سسٹم ختم، ڈیجیٹل نظام نافذ