Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • سندھ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سخت سزائیں نافذ

    سندھ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سخت سزائیں نافذ

    محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور بھاری جرمانوں کا اعلان کیا ہے۔

    حکام کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کو مالی جرمانوں کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس پر پوائنٹس کٹنے اور جیل کی سزا کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اہم خلاف ورزیاں اور جرمانے درج ذیل ہیں ون ویلنگ یا کار ڈرفٹنگ: 25,000 سے 50,000 روپے جرمانہ اور 8 پوائنٹس کی کٹوتی۔ہیلمٹ کے بغیر ڈرائیونگ: 5,000 روپے جرمانہ، پچھلی سیٹ پر بیٹھنے والے مسافر کے لیے بھی ہیلمٹ لازمی، خلاف ورزی پر 5,000 روپے جرمانہ۔بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے ڈرائیونگ: 20,000 سے 50,000 روپے جرمانہ اور 6 پوائنٹس کی کٹوتی۔بغیر رجسٹریشن کے گاڑی چلانا: 10,000 سے 100,000 روپے جرمانہ اور 8 پوائنٹس کی کٹوتی۔

    کم عمر (نابالغ) ڈرائیورز: 25,000 سے 100,000 روپے جرمانہ۔غلط لین، یو ٹرن یا خاموش زون میں ہارن بجانا: 5,000 سے 20,000 روپے جرمانہ۔پولیس کے اشارے پر نہ رکنا یا لائسنس دکھانے سے انکار: 10,000 سے 20,000 روپے جرمانہ۔دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں: 5,000 سے 20,000 روپے جرمانہ۔مقررہ وزن سے زیادہ لوڈنگ، ناقص سی این جی کٹ یا بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانا: 25,000 سے 50,000 روپے جرمانہ اور قید کی سزا بھی ممکن۔

    محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ قوانین کی سختی سے پاسداری کریں، ورنہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں ڈرائیونگ لائسنس معطل یا منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے۔

    پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    ٹرمپ کی حماس کو سخت وارننگ، وائٹ ہاؤس نے "سرخ لکیر” کھینچ دی

  • پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کوہاٹ روڈ قمر دین گڑھی کے مقام پر پولیس موبائل کے قریب دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ قمر دین چوک کے قریب پولیس موبائل معمول کے گشت پر تھی کہ اچانک سڑک کنارے نصب بارودی مواد پھٹ گیا۔دھماکے کے باعث پولیس موبائل کو نقصان پہنچا اور 4 اہلکار زخمی ہوئے۔ سی سی پی او کے مطابق پولیس ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں جبکہ زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ٹرمپ کی حماس کو سخت وارننگ، وائٹ ہاؤس نے "سرخ لکیر” کھینچ دی

  • ٹرمپ کی حماس کو سخت وارننگ، وائٹ ہاؤس نے "سرخ لکیر” کھینچ دی

    ٹرمپ کی حماس کو سخت وارننگ، وائٹ ہاؤس نے "سرخ لکیر” کھینچ دی

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن منصوبے پر حماس کے ردعمل کے لیے "سرخ لکیر” کھینچیں گے۔

    واشنگٹن میں امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ہمیں امید اور توقع ہے کہ حماس غزہ امن منصوبہ منظور کرلے۔امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کو غزہ امن منصوبے کی تجاویز پیش کی تھیں اور حماس کو اس پر غور کے لیے تین سے چار روز کی مہلت دی گئی تھی۔دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے منصوبے میں شامل غیرمسلح ہونے کی شق میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔

    فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس کے مذاکرات کاروں نے منگل کو دوحہ میں ترک، مصری اور قطری حکام کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں، تاکہ منصوبے کی کچھ شقوں میں تبدیلی پر بات چیت کی جا سکے۔

    آئی سی سی ویمن ورلڈکپ،تیسرا میچ،بنگلہ دیش نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے ہرا دیا

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرِ ثانی درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • امریکہ میں 15واں شٹ ڈاؤن، کانگریس اور وائٹ ہاؤس اختلافات، حکومت جزوی طور پر بند

    امریکہ میں 15واں شٹ ڈاؤن، کانگریس اور وائٹ ہاؤس اختلافات، حکومت جزوی طور پر بند

    امریکی حکومت نے اپنے زیادہ تر محکمے اور ادارے بند کر دیے، کیونکہ کانگریس اور وائٹ ہاؤس بجٹ پر کوئی معاہدہ نہ کر سکے۔

    یہ 1981 کے بعد امریکہ میں 15واں شٹ ڈاؤن ہے، اور اس کے اثرات اس بار کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔شٹ ڈاؤن اس وقت ہوتا ہے جب بجٹ منظور نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کے غیر ضروری ادارے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس کا اثر سوشل سیکورٹی، نیشنل پارکس، ہوائی سفر اور دیگر خدمات پر پڑتا ہے۔ ہزاروں وفاقی ملازمین گھر بھیج دیے جاتے ہیں اور تنخواہیں معطل ہو جاتی ہیں، جب تک بجٹ منظور نہ ہو۔امریکہ کے زیادہ تر محکمے 1.7 ٹریلین ڈالر کے فنڈ پر چلتے ہیں، لیکن ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز اس پر متفق نہیں ہو سکے۔

    ڈیموکریٹس چاہتے ہیں ہیلتھ کیئر کی سہولتوں کا دورانیہ بڑھایا جائے، جبکہ ریپبلکنز اس کے مخالف ہیں۔ سینیٹ نے عارضی اخراجات کے بل کو مسترد کر دیا، جس سے فنڈز ختم اور شٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔شٹ ڈاؤن سے7.5 لاکھ وفاقی ملازمین متاثر ہوں گے، روزانہ نقصان تقریباً 400 ملین ڈالر ہوگا۔ فوجی اہلکار، ایئر ٹریفک کنٹرولرز، ایف بی آئی اور بارڈر سیکیورٹی ادارے کام جاری رکھیں گے لیکن تنخواہیں نہیں ملیں گی۔ سوشل سکیورٹی، میڈی کیئر اور فوڈ ایڈ پروگرام وقتی طور پر چلیں گے، جبکہ عدالتیں محدود عرصے تک کام کر سکیں گی۔ چھوٹے کاروبار کے لیے قرضے اور سہولتیں رک جائیں گی۔

    شٹ ڈاؤن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور وفاقی حکومت کے حجم میں کمی کے منصوبے سے جڑا ہے۔ ڈیموکریٹس ہیلتھ کیئر کے بغیر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جبکہ ریپبلکن اسے سیاسی کھیل قرار دیتے ہیں۔اس بحران نے عالمی منڈیوں کو بھی ہلا دیا، وال اسٹریٹ فیوچرز گر گئے، سونے کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچی اور ایشیائی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی شدت پسندی کی وجہ سے یہ شٹ ڈاؤن ماضی کے مقابلے میں زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ سب سے طویل شٹ ڈاؤن 2018-19 میں 35 دن جاری رہا۔

    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان نے کوآرڈینیٹر تبدیل کرنے کی درخواست دی

    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان نے کوآرڈینیٹر تبدیل کرنے کی درخواست دی

    پاکستان اور بھارت امریکی انسانی اسمگلنگ کی لسٹ میں شامل

    حماس کا امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ، تحفظ کی ضمانتیں درکار

  • بھارت: نئی فلم کے پوسٹر سے تاج محل پر تنازع ، شیو کی مورتی دکھانے پر تنقید

    بھارت: نئی فلم کے پوسٹر سے تاج محل پر تنازع ، شیو کی مورتی دکھانے پر تنقید

    بھارت میں ایک بار پھر تاج محل کو متنازع بنانے کی کوشش سامنے آئی ہے، جب نئی فلم "دی تاج اسٹوری” کے پوسٹر میں تاج محل کے گنبد سے شیو کی مورتی نکلتی دکھائی گئی۔

    اداکار پریش راول نے تین دن پہلے یہ پوسٹر سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس کے بعد صارفین کی جانب سے شدید ٹرولنگ کے باعث انہیں پوسٹر ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ فلم کی پروڈکشن ٹیم نے وضاحت جاری کی کہ "دی تاج اسٹوری” نہ مذہبی موضوع پر بنی فلم ہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ تاج محل کسی شیو مندر پر بنایا گیا۔تاج محل پر ایسے دعوے نئی بات نہیں ہیں۔ 1989 میں مورخ پی این اوک نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ یہ جگہ مغلوں سے پہلے ہندو راجا جے شاہ کی ملکیت تھی، تاہم بھارت کی معروف مورخ ڈاکٹر راچیکا شرما اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اس دعوے کی تردید کی۔ 2018 میں آرکیالوجیکل سروے نے تصدیق کی کہ تاج محل مغل شہنشاہ شاہ جہاں اور ممتاز محل کا مقبرہ ہے۔

    اس کے باوجود بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے تاج محل کو مسلسل ہدف بنایا۔ 2022 میں رجنیش سنگھ نے ہائی کورٹ میں درخواست دی کہ تاج محل کے 22 بند کمروں کو ہندو مورتیاں ڈھونڈنے کے لیے کھولا جائے، جبکہ جے پی کی رکن اسمبلی دیا کماری نے دعویٰ کیا کہ تاج محل کی جگہ ان کے پُرکھوں کی ملکیت تھی۔تاریخ دان ولیم ڈیل رمپل نے شیو مندر پر تاج محل بنانے کے دعوے کو مضحکہ خیز اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا اور پی این اوک کے الزامات کو حقیقت سے دور بتایا۔

    یہ تازہ تنازع بھارت میں تاج محل کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت پر جاری سیاسی اور مذہبی جھڑپوں کو مزید جنم دے سکتا ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان نے کوآرڈینیٹر تبدیل کرنے کی درخواست دی

    پاکستان اور بھارت امریکی انسانی اسمگلنگ کی لسٹ میں شامل

    حماس کا امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ، تحفظ کی ضمانتیں درکار

    پیپلز پارٹی سے معافی نہیں بنتی، اتحاد برقرار رکھیں گے: سینیٹر افنان اللّٰہ

  • توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان نے کوآرڈینیٹر تبدیل کرنے کی درخواست دی

    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان نے کوآرڈینیٹر تبدیل کرنے کی درخواست دی

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی دوران سماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اپنے قانونی کوآرڈینیٹرز تبدیل کرنے کی درخواست عدالت میں دائر کی۔

    اسلام آباد اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے علاوہ بانی کی تینوں بہنیں، بشری بی بی کی بھابھی، بیٹی اور داماد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔عدالت میں سینیٹر علی ظفر اور سینیٹر مشعال یوسفزئی بھی شریک رہیں۔ عمران خان کی جانب سے قوسین فیصل مفتی ایڈووکیٹ اور ایف آئی اے کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک عدالت میں پیش ہوئے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان نے نئے کوآرڈینیٹرز میں بیرسٹر علی ظفر اور حامد خان کو شامل کیا ہے، جبکہ سابق کوآرڈینیٹر وکیل انتظار حسین پنجوتھا اور نیاز اللہ نیازی کو ہٹا دیا گیا۔ اس سے قبل بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا بھی عمران خان کے کوآرڈینیٹرز تھے۔توشہ خانہ ٹو کیس میں اب تک مجموعی طور پر 20 گواہوں کی شہادتیں قلمبند ہو چکی ہیں، جن میں 19ویں گواہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد پرویز پر وکیل صفائی نے جرح مکمل کی۔ کیس میں بیسویں گواہ نیب افسر محسن ہارون پر جرح کل (جمعرات) تک مکمل کی جائے گی۔

    حماس کا امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ، تحفظ کی ضمانتیں درکار

    پیپلز پارٹی سے معافی نہیں بنتی، اتحاد برقرار رکھیں گے: سینیٹر افنان اللّٰہ

    بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بشریٰ رند کا استعفیٰ، قیادت پر الزام

    افغانستان میں 48 گھنٹے بعد موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال، شہریوں کا جشن

  • پاکستان اور بھارت امریکی انسانی اسمگلنگ کی لسٹ میں شامل

    پاکستان اور بھارت امریکی انسانی اسمگلنگ کی لسٹ میں شامل

    امریکی محکمہ خارجہ کی انسانی اسمگلنگ (ٹی آئی پی) رپورٹ 2025 میں پاکستان اور بھارت کو ان ممالک میں شامل کیا گیا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے کم از کم معیارات پر پورا نہیں اترتے، مگر اس کے لیے نمایاں کوششیں کر رہے ہیں۔

    دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے، اور اسے جدید دور کی غلامی قرار دیا گیا ہے، جس میں جبری مشقت، جنسی استحصال اور دیگر جبر کی شکلیں شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں مرد، خواتین اور بچے خاص طور پر افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے آنے والے تارکین وطن جبری مشقت کے شکار ہوتے ہیں۔ اسمگلرز افغانستان، ایران اور دیگر ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیوں (اور کم حد تک لڑکوں) کو پاکستان میں جنسی استحصال کا نشانہ بناتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خود کو ہم جنس پرست یا دو جنسی رجحان رکھنے والے افراد شدید استحصال کے خطرے میں ہیں، کیونکہ پاکستان میں ہم جنس پرستی جرم قرار دی گئی ہے اور ایسے افراد کو منظم امتیاز اور تشدد کا سامنا رہتا ہے، جس سے ان کے اسمگلنگ کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔سول سوسائٹی کی تنظیموں نے امریکی حکام کو آگاہ کیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد، بشمول ’غیرت کے نام پر قتل‘، انہیں اسمگلنگ نیٹ ورکس کے لیے خاص طور پر کمزور بنا دیتا ہے۔

  • حماس کا امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ، تحفظ کی ضمانتیں درکار

    حماس کا امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ، تحفظ کی ضمانتیں درکار

    فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے میں بعض شقوں پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے ان میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔

    حماس نے سب سے زیادہ تحفظات غیر مسلح ہونے اور رہنماؤں کی بے دخلی سے متعلق نکات پر ظاہر کیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مکمل اسرائیلی انخلا اور رہنماؤں کے اندر یا باہر قتل نہ کیے جانے کی بین الاقوامی ضمانتیں چاہتی ہے۔ذرائع کے مطابق حماس کے مذاکرات کاروں نے دوحہ میں ترک، مصری اور قطری حکام سے ملاقات کی ہے اور یہ معاملہ نہایت حساس نوعیت کا ہے۔ حماس کو باضابطہ جواب دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ دو سے تین دن درکار ہیں۔

    ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے میں جنگ بندی، حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی 72 گھنٹوں کے اندر رہائی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ سے اسرائیلی فوج کا تدریجی انخلا شامل ہے۔فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ حماس غیر مسلح ہونے اور مزاحمتی دھڑوں کی بے دخلی جیسی شقوں میں تبدیلی چاہتی ہے۔ مزید برآں تنظیم نے اس بات کی یقین دہانی بھی مانگی ہے کہ اسرائیل یا کسی اور فریق کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ نہیں کی جائے گی۔

    پیپلز پارٹی سے معافی نہیں بنتی، اتحاد برقرار رکھیں گے: سینیٹر افنان اللّٰہ

    بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بشریٰ رند کا استعفیٰ، قیادت پر الزام

    افغانستان میں 48 گھنٹے بعد موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال، شہریوں کا جشن

    ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر حساس بات چیت جاری ہے،وائٹ ہاؤس

  • پیپلز پارٹی سے معافی نہیں بنتی، اتحاد برقرار رکھیں گے: سینیٹر افنان اللّٰہ

    پیپلز پارٹی سے معافی نہیں بنتی، اتحاد برقرار رکھیں گے: سینیٹر افنان اللّٰہ

    مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللّٰہ خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں، دونوں طرف سے کچھ باتیں ہوئیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ اتحاد قائم رہے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران سینیٹر افنان اللّٰہ خان اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان شریک ہوئے۔ ن لیگی سینیٹر نے کہا کہ پنجاب سے متعلق جتنی باتیں کی گئیں، ان کا جواب مریم نواز نے دے دیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے معافی بنتی نہیں، کچھ باتیں انہوں نے کیں اور کچھ ہم نے کیں، لیکن ہم پیپلز پارٹی کو منالیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ سب کو تعصب کی سیاست سے گریز کرنا چاہیے۔

    پنجاب کسی کی ملکیت نہیں، یہ لہجے بڑے سانحے کی طرف لے جائیں گے: سینیٹر پلوشہ خان

    پروگرام میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ پنجاب کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، ایسے لہجے قوم کو کسی بڑے سانحے کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مریم نواز کو تنقید بری لگتی ہے تو ان کے بڑوں کو انہیں سمجھانا چاہیے کہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کو اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

    پلوشہ خان نے کہا کہ اگر مریم نواز کو پانی کے معاملے پر بات کرنی تھی تو وہ نریندر مودی سے کرتیں، پنجاب کو ذاتی جاگیر نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پنجاب جاتی امرا نہیں، جاتی امرا کا پانی اور زمین ان کی اپنی ہوگی، باقی پنجاب عوام کی ملکیت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کے ڈھانچے میں پیپلز پارٹی کا کردار شامل ہے لیکن ہم حکومت کی قانون سازی میں حمایت نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق بے نظیر بھٹو پروگرام پر ن لیگ کو اعتراض تھا، مگر اسی کا ڈیٹا استعمال کر کے رمضان پیکیج بانٹا گیا۔

    پی پی سینیٹر نے خبردار کیا کہ ایسے رویے اور لہجے خطرناک ہیں، انہیں فوری طور پر بدلنا ہوگا تاکہ سیاسی اتحاد اور جمہوری عمل متاثر نہ ہو۔

    بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بشریٰ رند کا استعفیٰ، قیادت پر الزام

    افغانستان میں 48 گھنٹے بعد موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال، شہریوں کا جشن

    ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر حساس بات چیت جاری ہے،وائٹ ہاؤس

    پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کی منظوری

    خیبرپختونخوا کابینہ میں ردوبدل، وزرا و معاونین کے محکمے تبدیل

  • بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بشریٰ رند کا استعفیٰ، قیادت پر  الزام

    بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بشریٰ رند کا استعفیٰ، قیادت پر الزام

    بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی رکن بشریٰ رند نے پارٹی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پارٹی نے اپنے بنیادی وژن اور منشور سے انحراف کیا ہے جبکہ موجودہ قیادت کے رویے نے نہ صرف کارکنوں کو مایوس کیا بلکہ پارٹی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔بشریٰ رند کا کہنا تھا کہ وہ بی اے پی کے پلیٹ فارم پر مزید سیاست جاری نہیں رکھ سکتیں اور اسی وجہ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل سابق رکن اسمبلی روبینہ عرفان بھی بلوچستان عوامی پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوچکی ہیں، جس کے بعد پارٹی کو اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔

    ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر حساس بات چیت جاری ہے،وائٹ ہاؤس

    خیبرپختونخوا کابینہ میں ردوبدل، وزرا و معاونین کے محکمے تبدیل

    پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کی منظوری

    عدالتی امور ڈیجیٹلائز،سپریم کورٹ میں ای آفس سسٹم کا آغاز