Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • خیبرپختونخوا سے 8 نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھا لیا

    خیبرپختونخوا سے 8 نومنتخب سینیٹرز نے حلف اٹھا لیا

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا سے منتخب ہونے والے 8 نومنتخب سینیٹرز نے سینیٹ رکنیت کا حلف اٹھا لیا۔

    خیبرپختونخوا سے منتخب 11 سینیٹرز میں سے 8 ارکان نے سینیٹ اجلاس میں رکنیت کا حلف اٹھایا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے بھی نومنتخب سینیٹرز کو مبارکباد دی۔حلف اٹھانے والے سینیٹرز میں سینیٹر طلحہ محمود، روبینہ خالد، فیصل جاوید، نورالحق قادری، مرزا محمد آفریدی، دلاور خان، عطا الحق اور نیاز احمد شامل ہیں۔ نیاز احمد مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر امیر مقام کے صاحبزادے ہیں۔

    یاد رہے کہ خیبرپختونخوا سے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں 11 اراکین منتخب ہوئے جن میں آزاد امیدوار مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی، نورالحق قادری، مسلم لیگ (ن) کے نیاز احمد، ،پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود اور روبینہ خالد، جے یو آئی کے عطا الحق اور دلاور خان جبکہ خواتین نشست پر آزاد امیدوار روبینہ ناز، ٹیکنوکریٹ نشست پر اعظم سواتی (آزاد)شامل ہیں۔تاہم مراد سعید، اعظم سواتی اور روبینہ ناز نے تاحال سینیٹ رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا۔

    علاوہ ازیں پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کے حافظ عبدالکریم بھی سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، یہ نشست سینیٹر ساجد میر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق باقی ماندہ سینیٹرز کے حلف اٹھانے کے لیے آئندہ اجلاس میں موقع دیا جائے گا۔

    وزیراعظم کا سستی بجلی پیکج ختم ہونے کو، ریلیف مرحلہ وار واپس

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی

    طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    نوکریاں نہ دیں تو مزدور طبقہ مخالف جماعتوں کا رخ کرے گا، برطانوی یونینز

  • مودی کا برطانیہ کا دورہ، تجارتی معاہدے پر دستخط

    مودی کا برطانیہ کا دورہ، تجارتی معاہدے پر دستخط

    بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج سے برطانیہ کا دو روزہ سرکاری دورہ شروع کر دیا ہے، جس کے دوران بھارت اور برطانیہ کے درمیان ایک تاریخی آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔

    یہ معاہدہ برطانیہ کے لیے بریگزٹ (یورپی یونین سے علیحدگی) کے بعد سب سے اہم تجارتی معاہدہ تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کے لیے یہ ایشیا سے باہر پہلا بڑا تجارتی معاہدہ ہے۔معاہدے کے تحت بھارت کو کئی اہم شعبوں میں مراعات حاصل ہوئی ہیں۔ برطانوی حکومت بھارتی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کرے گی، پروفیشنل ڈگریز اور اسناد کو تسلیم کیا جائے گا، جبکہ بھارت سے آنے والے افراد کو نیشنل انشورنس کی ادائیگی سے بھی جزوی طور پر چھوٹ ملے گی۔

    معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ برطانیہ بھارت کی 99 فیصد برآمدات پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دے گا۔ ان برآمدات میں زیورات، ٹیکسٹائل، چمڑا، انجینیئرنگ مصنوعات اور فوڈ پروڈکٹس شامل ہیں۔بھارت نے تاہم زراعت کے شعبے کو معاہدے سے باہر رکھا ہے، کیونکہ یہ شعبہ ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح قانونی اور مالیاتی خدمات بھی اس معاہدے کا حصہ نہیں بنیں، کیونکہ ان پر بات چیت اب بھی جاری ہے اور یہ سرمایہ کاری کے علیحدہ معاہدے کے تحت شامل کی جائیں گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی شراکت داری کو ایک نئی سمت دے گا اور تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

    وزیراعظم کا سستی بجلی پیکج ختم ہونے کو، ریلیف مرحلہ وار واپس

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی

    طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    نوکریاں نہ دیں تو مزدور طبقہ مخالف جماعتوں کا رخ کرے گا، برطانوی یونینز

  • وزیراعظم کا سستی بجلی پیکج ختم ہونے کو، ریلیف مرحلہ وار واپس

    وزیراعظم کا سستی بجلی پیکج ختم ہونے کو، ریلیف مرحلہ وار واپس

    بجلی صارفین کے لیے بری خبر، وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دیے گئے سستی بجلی پیکج کے تحت دی جانے والی رعایت کی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف مدات میں دیے گئے ریلیف اب مرحلہ وار واپس لیے جا رہے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.55 روپے فی یونٹ کمی کا ریلیف اس ماہ ختم ہو جائے گا، جو گزشتہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین کو دیا گیا تھا۔اس سے قبل 4.51 روپے فی یونٹ تک کمی کا ریلیف گزشتہ ماہ ختم کیا جا چکا ہے، جس میں کراچی کے صارفین کے لیے 3.61 روپے فی یونٹ رعایت بھی شامل تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2023-24 کی دوسری سہ ماہی میں دی گئی 1.90 روپے فی یونٹ کمی کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے، جب کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1.71 روپے فی یونٹ رعایت بھی جون 2025 میں ختم کر دی گئی تھی، جس سے K-Electric صارفین کو بھی فائدہ حاصل ہو رہا تھا۔علاوہ ازیں، ری-ٹینڈ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں 90 پیسے فی یونٹ رعایت کی مدت بھی مکمل ہو گئی ہے، جس کا اطلاق صرف ڈسکوز (DISCOs) کے صارفین پر ہوتا تھا۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 3 اپریل کو گھریلو صارفین کے لیے بجلی 7.41 روپے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں بھی 1.16 روپے فی یونٹ کمی کی ہے۔ ساتھ ہی ڈسکوز صارفین کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 50 پیسے فی یونٹ کی رعایت کا اطلاق بھی جاری ہے۔

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ پیکج مکمل طور پر واپس لے لیا گیا تو بجلی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جو عام صارفین کے لیے مزید مالی دباؤ کا باعث بنے گا۔

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی

    طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    نوکریاں نہ دیں تو مزدور طبقہ مخالف جماعتوں کا رخ کرے گا، برطانوی یونینز

    اسرائیلی پارلیمنٹ کی متنازعہ قرارداد، عرب و اسلامی ممالک کی شدید مذمت

  • زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی

    ملک کے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ ہفتے معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد مجموعی زرِمبادلہ کی مالیت 19 ارب 91 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے ذخائر میں 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔اعداد و شمار کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر کی مالیت کم ہو کر 14 ارب 45 کروڑ 60 لاکھ ڈالر پر آ گئی، جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 5 ارب 46 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔یوں ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب 91 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سطح پر برقرار ہیں۔

    معاشی ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ درآمدی ادائیگیوں، بیرونی قرضوں کی واپسی اور عالمی مالیاتی ادائیگیوں سے جڑا ہوا ہے، تاہم موجودہ سطح اب بھی معیشت کے لیے نسبتاً مستحکم سمجھی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی پارلیمنٹ کی متنازعہ قرارداد، عرب و اسلامی ممالک کی شدید مذمت

    ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

    ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

  • طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    افغانستان کی طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جاری کردہ رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یو این رپورٹ میں جن افراد کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ حقائق پر مبنی نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ یہ افراد افغان حکومت کے مخالف ہوں یا جان بوجھ کر پروپیگنڈا اور افواہیں پھیلانا چاہتے ہوں، اور اس مقصد کے لیے افغانستان میں موجود اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) کو استعمال کر رہے ہوں۔

    اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طالبان حکام ایران اور پاکستان سے وطن واپس آنے والے افغان شہریوں کے ساتھ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔تاہم طالبان حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد اور جانبدار قرار دیتے ہوئے انکار کیا ہے کہ افغان حکومت پناہ گزینوں یا وطن واپس آنے والوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک روا رکھ رہی ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک پر یقین رکھتی ہے اور اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ غیر جانب دار اور حقائق پر مبنی رپورٹس جاری کرے۔

    اسرائیلی پارلیمنٹ کی متنازعہ قرارداد، عرب و اسلامی ممالک کی شدید مذمت

    ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

    چین، بھارت میں نہیں، امریکا میں ملازمتیں پیدا کریں،ٹرمپ کا کمپنیوں کو انتباہ

  • نوکریاں نہ دیں تو مزدور طبقہ مخالف جماعتوں کا رخ کرے گا، برطانوی یونینز

    نوکریاں نہ دیں تو مزدور طبقہ مخالف جماعتوں کا رخ کرے گا، برطانوی یونینز

    برطانیہ کی دو بڑی مزدور یونینز نے لیبر حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر گرین انرجی کے شعبے میں فوری نوکریاں پیدا نہ کی گئیں تو مزدور طبقہ ان سیاسی جماعتوں کا ساتھ دے سکتا ہے جو نیٹ زیرو پالیسی کی مخالفت کر رہی ہیں۔

    یونینز کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے فوسل فیول یعنی روایتی توانائی کی صنعت سکڑتی جا رہی ہے، حکومت کو چاہیے کہ صاف توانائی (گرین انرجی) میں ملازمتوں پر بھرپور توجہ دے، بصورتِ دیگر عوام میں نیٹ زیرو پالیسی پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔یاد رہے کہ ریفارم یو کے حالیہ دنوں میں یہ اعلان کر چکی ہے کہ اقتدار میں آکر وہ گرین انرجی کے معاہدے ختم کر دے گی، جب کہ کنزرویٹو پارٹی بھی نیٹ زیرو کی حمایت سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔

    یونین کے جنرل سیکرٹری گیری اسمتھ نے نئی مہم "کلائمیٹ جابز یو کے” کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹ زیرو کی جانب منتقلی میں مزدور طبقے کی آواز کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگوں کو اپنے علاقوں میں روزگار نہ ملا تو وہ ان جماعتوں کا رخ کریں گے جو ماحولیاتی تبدیلی کو جھٹلاتی ہیں۔اسی طرح پروسپیکٹ یونین کے جنرل سیکرٹری مائیک کلینسی نے کہا کہ اس وقت اصل مسئلہ کلائمیٹ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ کلائمیٹ جابز کا ہے۔

    یونینز کی جانب سے کروائے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق 55 فیصد عوام چاہتے ہیں کہ حکومت نوکریوں اور معیشت کو پہلی ترجیح دے
    ،صرف 30 فیصد کو یقین ہے کہ توانائی کی منتقلی سے نوکریوں میں اضافہ ہوگا،جب اپنے علاقے کی بات کی گئی تو صرف 10 فیصد نے کہا کہ انہیں کوئی روزگار کا موقع ملا ہے،یونینز کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر گرین انرجی کے شعبے کے لیے مؤثر صنعتی حکمتِ عملی مرتب کرے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں روایتی توانائی کی صنعت ختم ہو رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر لیبر حکومت نے فوری اقدام نہ کیا تو نیٹ زیرو پالیسی کے خلاف سیاسی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

    ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

    ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

    سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5900 روپے سستا ہو گیا

  • اسرائیلی پارلیمنٹ کی متنازعہ قرارداد، عرب و اسلامی ممالک کی شدید مذمت

    اسرائیلی پارلیمنٹ کی متنازعہ قرارداد، عرب و اسلامی ممالک کی شدید مذمت

    اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری کے نفاذ کی قرارداد منظور کیے جانے پر عرب اور اسلامی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی اس متنازع قرارداد کے حق میں 71 ووٹ آئے، جب کہ مخالفت میں صرف 13 ارکان نے ووٹ دیا، 36 ارکان اجلاس سے غیر حاضر رہے۔اس اقدام پر سعودی عرب، مصر، بحرین، انڈونیشیا، اردن، نائجیریا، فلسطین، قطر، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم نے مشترکہ طور پر سخت مذمتی بیانات جاری کیے۔

    ان ممالک نے واضح کیا کہ اسرائیلی قابض حکومت کے اس قسم کے اشتعال انگیز اور غیر قانونی اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں اور دو ریاستی حل کے نظریے کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔بیانات میں کہا گیا ہے کہ یہ قرارداد اسرائیلی حکومت کے تخریبی اور توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کرتی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔فلسطینی قیادت نے بھی اسرائیلی پارلیمنٹ کے اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینی سرزمین پر کھلا قبضہ اور جابرانہ عمل قرار دیا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    عرب اور اسلامی دنیا نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسے اقدامات سے باز رکھے جو علاقائی امن کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، اور فلسطینی عوام کے قانونی و انسانی حقوق کی بحالی کے لیے فوری کردار ادا کرے۔

    ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

    چین، بھارت میں نہیں، امریکا میں ملازمتیں پیدا کریں،ٹرمپ کا کمپنیوں کو انتباہ

    سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5900 روپے سستا ہو گیا

  • ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

    ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

    سینیٹ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں وزارت خزانہ کی جانب سے دیے گئے تحریری جواب میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لاہور دفتر سے سونے، چاندی اور کرنسی سمیت 43 قیمتی اشیاء کی خرد برد کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

    تحریری جواب کے مطابق ایف بی آر کے فیلڈ آفس اسٹیٹ ویئر ہاؤس کسٹمز ہاؤس لاہور سے مجموعی طور پر 43 اشیاء غائب پائی گئیں، جن میں 36 کرنسی آرٹیکلز اور 7 سونے و چاندی کی قیمتی اشیاء شامل ہیں۔وزارت خزانہ نے بتایا کہ اس خرد برد میں ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ یوسف خان اور انسپکٹر خالد پرویز بھٹہ ملوث پائے گئے، جب کہ خالد بھٹہ کو بنیادی طور پر ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ اس کیس کی تحقیقات کے بعد معاملہ ایف آئی اے کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

    تحریری جواب میں مزید انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران نان فائلرز سے ایف بی آر نے مجموعی طور پر 7 ارب 81 کروڑ روپے جرمانے کی مد میں وصول کیے۔جولائی 2024 سے جون 2025 کے دوران ایف بی آر نے ریٹیل سیکٹر سے 628 ارب روپے انکم ٹیکس اور 389 ارب روپے سیلز ٹیکس کی وصولی کی۔ تاجر دوست اسکیم کے تحت 2 لاکھ 80 ہزار 197 نئے ریٹیلرز رجسٹر کیے گئے، جس کے بعد ریجسٹرڈ ریٹیلرز کی تعداد 8 لاکھ 41 ہزار 71 سے بڑھ کر 10 لاکھ 34 ہزار 143 ہو گئی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوری 2020 سے جون 2025 کے درمیان پاکستان میں ایک لاکھ 57 ہزار 960 گاڑیاں درآمد کی گئیں، جن میں سے سب سے زیادہ یعنی ایک لاکھ 55 ہزار 288 گاڑیاں جاپان سے منگوائی گئیں۔ دیگر ممالک میں جمیکا سے 1085، برطانیہ سے 865 اور جرمنی سے 257 گاڑیاں درآمد ہوئیں۔اسی مدت کے دوران پاکستان نے مقامی سطح پر تیار کردہ 248 گاڑیاں بھی بیرونِ ملک برآمد کیں، جن میں 151 گاڑیاں جاپان، اور 20 گاڑیاں کینیا کو بھیجی گئیں۔

    ایوان بالا میں پیش کی گئی یہ تفصیلات نہ صرف ایف بی آر میں شفافیت کے چیلنجز کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ ٹیکس نیٹ اور مقامی پیداوار کے رجحانات کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔

    سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5900 روپے سستا ہو گیا

    وزیراعظم کا ضم شدہ اضلاع کے لیے میڈیکل و انجینئرنگ کوٹہ بحال کرنے کا اعلان

    پی ٹی اے کا بڑا اقدام: لاکھوں چوری شدہ اور جعلی موبائل فونز بلاک

  • چین، بھارت میں نہیں، امریکا میں ملازمتیں پیدا کریں،ٹرمپ کا کمپنیوں کو انتباہ

    چین، بھارت میں نہیں، امریکا میں ملازمتیں پیدا کریں،ٹرمپ کا کمپنیوں کو انتباہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل، مائیکروسوفٹ اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین میں ملازمتیں دینے کے بجائے امریکا میں روزگار کے مواقع پیدا کریں۔

    واشنگٹن میں منعقدہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کمپنیاں طویل عرصے سے چین میں فیکٹریاں قائم کر رہی ہیں، بھارت میں ملازمتیں دے رہی ہیں اور آئرلینڈ میں منافع چھپا رہی ہیں، لیکن اب ایسا مزید نہیں چلے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ "مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں کامیابی کے لیے محض ٹیکنالوجی کافی نہیں، بلکہ حب الوطنی بھی ضروری ہے۔ امریکی کمپنیاں امریکا کو مقدم رکھیں اور امریکی عوام کو ترجیح دیں۔”

    انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے ساتھ ساتھ قومی مفاد کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا تاکہ امریکی معیشت مضبوط ہو اور روزگار کے مواقع مقامی سطح پر پیدا ہوں۔

    سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5900 روپے سستا ہو گیا

    وزیراعظم کا ضم شدہ اضلاع کے لیے میڈیکل و انجینئرنگ کوٹہ بحال کرنے کا اعلان

    پی ٹی اے کا بڑا اقدام: لاکھوں چوری شدہ اور جعلی موبائل فونز بلاک

  • سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5900 روپے سستا ہو گیا

    سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ 5900 روپے سستا ہو گیا

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے خریداروں کے لیے ریلیف کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 5900 روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 59 ہزار روپے ہو گئی ہے۔اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 5058 روپے کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 7 ہزار 784 روپے مقرر کی گئی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سونے کی قیمت میں 3700 روپے فی تولہ کا اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد فی تولہ سونا 3 لاکھ 64 ہزار 900 روپے تک پہنچ گیا تھا۔

    تازہ کمی کے بعد سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، جو بین الاقوامی مارکیٹ اور مقامی طلب و رسد سے جڑا ہوا ہے۔

    وزیراعظم کا ضم شدہ اضلاع کے لیے میڈیکل و انجینئرنگ کوٹہ بحال کرنے کا اعلان

    پی ٹی اے کا بڑا اقدام: لاکھوں چوری شدہ اور جعلی موبائل فونز بلاک

    پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز 2026 میں شیڈول