Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • ایران کے میزائل حملے کے وقت ٹرمپ سچویشن روم میں موجود تھے

    ایران کے میزائل حملے کے وقت ٹرمپ سچویشن روم میں موجود تھے

    ایران کی جانب سے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کے وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں موجود تھے۔

    برطانوی اخبار کے مطابق امریکی صدر اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ شیڈول کے مطابق ملاقات جاری رکھنا چاہتے ہیں، جو کہ امریکی وقت کے مطابق دوپہر 1 بجے طے تھی۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون خطے میں ممکنہ خطرات سے باخبر ہیں اور صورت حال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی فوجی کمانڈرز، جوہری سائنسدانوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا تھا، جب کہ صہیونی حکومت نے امریکا سے ایران کی اہم ترین فردو جوہری تنصیب کو تباہ کرنے میں مدد مانگی تھی۔اس کے جواب میں 22 جون کو علی الصبح امریکی صدر ٹرمپ کے حکم پر ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات پر 30 ہزار پاؤنڈ وزنی 14 بم برسائے گئے تھے، جب کہ متعدد میزائل حملے بھی کیے گئے۔

    ان حملوں کے بعد ایران نے کھلے الفاظ میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی، جس پر عمل کرتے ہوئے 23 جون کی رات ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس وقت نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور موجودہ کشیدگی ایک بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

    سعودی عرب کی قطر میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملے کی مذمت

    ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر حملے سے قبل آگاہ کیا، نیو یارک ٹائمز

    اسرائیل نے ایران سے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کردی، حملوں کے خاتمے کا عندیہ

    بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی کے لیکچرار پر طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام، مقدمہ درج

  • ایران کے میزائل حملے سے قبل امریکا نے جنگی طیارے منتقل کردیے تھے

    ایران کے میزائل حملے سے قبل امریکا نے جنگی طیارے منتقل کردیے تھے

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران نے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جن میں قطر کا معروف العدید ایئر بیس بھی شامل ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایران کے میزائل حملے سے تین روز قبل امریکا نے العدید ایئر بیس سے اپنے 40 جنگی طیارے منتقل کر لیے تھے، جن میں ہرکولیس C-130 جیسے حساس جاسوس طیارے بھی شامل تھے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے یہ واضح ہوا کہ بیس پر موجود اہم فضائی اثاثوں کو حملے سے پہلے ہی وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    العدید ایئر بیس قطر میں واقع ہے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کا سب سے بڑا فوجی اڈہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بیس 1996 میں قائم ہوئی اور 2001 کے بعد سے اسے امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے فارورڈ ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس اڈے پر اس وقت تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

    ایرانی حملوں کے بعد خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ چکی ہے، جب کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ وسیع جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ العدید ایئر بیس پر حملہ نہ صرف اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے بلکہ خطے میں امریکی موجودگی کے خلاف ایک واضح پیغام بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

    سعودی عرب کی قطر میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملے کی مذمت

    ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر حملے سے قبل آگاہ کیا، نیو یارک ٹائمز

    اسرائیل نے ایران سے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کردی، حملوں کے خاتمے کا عندیہ

  • ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر حملے سے قبل آگاہ کیا، نیو یارک ٹائمز

    ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر حملے سے قبل آگاہ کیا، نیو یارک ٹائمز

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے سے قبل قطری حکام کو پیشگی اطلاع دے دی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق ایران نے حملے سے قبل قطر کو آگاہ کیا، تاکہ کسی بڑے انسانی نقصان سے بچا جا سکے۔ پاسداران انقلاب نے قطر میں امریکی اڈے پر میزائل داغنے کی تصدیق کی ہے۔نیو یارک ٹائمز نے اس حوالے سے ماضی کے ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا، جب 2020ء میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے تھے، اور عراق کو بھی حملے سے پہلے اطلاع دے دی گئی تھی۔

    رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے سے متعلق خود امریکی حکام نے پیشگی اطلاع فراہم کی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا نے خفیہ طور پر ایران کو آگاہ کیا کہ صرف تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا، جس کا مقصد مکمل جنگ سے گریز کا پیغام دینا تھا۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی پیشگی اطلاع کے بعد ایران نے اپنی جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تھا۔

    اسرائیل نے ایران سے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کردی، حملوں کے خاتمے کا عندیہ

    توقع تھی ایران کا جوابی حملہ ہو گا،ٹرمپ مزید فوجی کاروائی نہیں چاہتے،ذرائع وائیٹ ہاؤس

    پی ائی اے کا پاکستان سے قطر، بحرین، کویت اور دبئی کا فضائی آپریشن منسوخ

    سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس سے امریکی طیاروں کی ہنگامی پروازیں

  • اسرائیل نے ایران سے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کردی، حملوں کے خاتمے کا عندیہ

    اسرائیل نے ایران سے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کردی، حملوں کے خاتمے کا عندیہ

    اسرائیل نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مزید حملے نہیں چاہتا اور جنگ بندی پر آمادہ ہے، تاہم حتمی فیصلہ ایران کو کرنا ہوگا۔

    امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اور عرب حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل آئندہ چند روز میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے خلاف اپنے اہم اہداف حاصل کرلے گا، جس کے بعد وہ حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔ امریکا نے اپنے عرب اتحادیوں کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ وہ اسرائیلی مؤقف ایران تک منتقل کریں۔ پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران مزید جوابی حملوں سے گریز کرتا ہے تو اسرائیل کشیدگی میں کمی پر آمادہ ہے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تل ابیب جنگ کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا خواہاں نہیں اور موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا: "ہم حملے بند کرنے میں سنجیدہ ہیں، لیکن اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے۔”

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی دیکھی گئی ہے، جس میں ایران نے جوابی میزائل حملے بھی کیے، جب کہ امریکا اور خطے کے دیگر ممالک جنگ کے دائرہ کار کو محدود رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    توقع تھی ایران کا جوابی حملہ ہو گا،ٹرمپ مزید فوجی کاروائی نہیں چاہتے،ذرائع وائیٹ ہاؤس

    پی ائی اے کا پاکستان سے قطر، بحرین، کویت اور دبئی کا فضائی آپریشن منسوخ

    سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس سے امریکی طیاروں کی ہنگامی پروازیں

    بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی کے لیکچرار پر طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام، مقدمہ درج

  • ایران کے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

    ایران کے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

    اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ایران نے قطر، بحرین، کویت اور عراق میں قائم امریکی تنصیبات کو میزائلوں کا نشانہ بنایا، جسے تہران کی جانب سے ایک جوابی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔تاحال ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان سے متعلق کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایران نے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے 7 میزائل داغے، جن میں سے 6 قطر میں موجود امریکی اڈوں جبکہ ایک عراق میں قائم امریکی تنصیب کی جانب فائر کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تمام میزائلوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے امریکی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کر دیا، واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایران نکے حملوں کے بعد دارالحکومت دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جب کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث قطر نے فضائی ٹریفک عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

    رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے قطر میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے 6 بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔ اس سے قبل بھی ایکسئیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران ان اہداف پر میزائل داغنے کی تیاری کر رہا ہے۔برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کے مطابق مغربی حکام نے اس سے قبل بتایا تھا کہ دوحہ کے نواح میں واقع العدید (Al-Udeid) بیس کو ایک ’ قابلِ یقین خطرے’ کا سامنا ہے۔

    یہ بیس امریکی سینٹکام (CENTCOM) کا صدر دفتر ہے، اور برطانوی فوجی اہلکار بھی یہاں باری باری خدمات انجام دیتے ہیں، تاہم، حالیہ ہفتوں میں متعدد طیارے اس بیس سے منتقل کیے جا چکے ہیں، جیسا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے۔

    اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر قطر نے احتیاطی تدبیر کے طور پر ملک بھر میں فضائی ٹریفک عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق، یہ اقدام عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور صورتحال پر علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

    قطر میں امریکی سفارت خانے اور دیگر مغربی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ دوحہ میں دھماکوں کی آوازوں کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔یاد رہے کہ ایران نے یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں اپنی جوہری تنصیبات پر ممکنہ ردعمل کے تحت کی ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

    ایران کا ’بشارت فتح‘ آپریشن، امریکی اڈوں پر جوابی میزائل حملہ

    ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملے کے جواب میں قطر اور عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ایک میزائل آپریشن لانچ کیا ہے، جسے ’بشارت فتح‘ کا نام دیا گیا ہے، جب کہ اس آپریشن میں ’یا ابا عبداللہ‘ کا کوڈ استعمال کیا گیا۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ اس آپریشن میں وہی تعداد میزائلوں کی استعمال کی گئی جو امریکا نے ایران پر بمباری کے دوران استعمال کیے تھے۔بیان کے مطابق ایرانی میزائل حملوں میں جس امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، وہ قطر میں شہری آبادی اور تنصیبات سے خاصے فاصلے پر واقع تھا تاکہ شہریوں کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

    ٹرمپ نے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کرلیا

    دوسری جانب امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حملے کے بعد اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کو 45 منٹ کے اندر وائٹ ہاؤس پہنچنے کا حکم دیا ہے، اور صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوری اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ حملہ نہ صرف ایک واضح پیغام ہے بلکہ خطے میں ایک بڑی جنگ کی جانب اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔

    قطر کی ایرانی حملے کی مذمت، خودمختاری کی خلاف ورزی قرار، جواب دینے کا انتباہ

    قطر نے اپنے ملک میں موجود امریکی فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    قطری حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دوحہ ایسے کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے براہِ راست جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قطر خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اپنے سرزمین پر کسی بھی جارحیت کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ایرانی حملے کے بعد قطر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور فضائی حدود پہلے ہی عارضی طور پر بند کی جا چکی ہیں۔

    ایرانی حملوں کے بعد یو اے ای نے بھی فضائی حدود بند کر دی

    قطر میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جس کے پیش نظر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے فلائٹ ریڈار کے ڈیٹا اور ایئر ٹریفک کنٹرول کی آڈیو کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود اس وقت بند ہے اور پروازوں کے راستے متاثر ہو چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فلائٹ آپریشن کی معطلی کے باعث کئی بین الاقوامی پروازیں متبادل راستوں کی جانب موڑ دی گئی ہیں، جب کہ مقامی ایئرلائنز کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    واٹس ایپ پر بھی کمائی کا موقع، جلد مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان

    قومی اسمبلی میں جمشید دستی کی انوکھی حرکت، ایوان کے فلور پر ناک رگڑتے رہے

    خطے کی کشیدگی: قطر نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی

  • واٹس ایپ پر بھی کمائی کا موقع، جلد مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان

    واٹس ایپ پر بھی کمائی کا موقع، جلد مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان

    معروف میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ پر جلد صارفین کو یوٹیوب اور فیس بک کی طرح کمائی کا موقع ملنے والا ہے، میٹا کی جانب سے مونیٹائزیشن پروگرام متعارف کرائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کے اسٹیٹس یا اسٹوری سیکشن میں اشتہارات دکھائے جائیں گے اور اسی سیکشن میں واٹس ایپ چینلز کے لیے کمائی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ میٹا نے حال ہی میں واٹس ایپ میں اشتہارات شامل کرنے کا اعلان کیا ہے اور اب کمپنی ایپلی کیشن کی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی کے طور پر مونیٹائزیشن فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ فیچر واٹس ایپ بزنس یا بڑے فالوورز رکھنے والے چینلز کو دیا جائے گا، بعد ازاں بتدریج دیگر صارفین کو بھی اس تک رسائی دی جائے گی۔ ممکنہ طور پر چینلز کی مونیٹائزیشن کے لیے فالوورز کی کم از کم تعداد کی شرط بھی رکھی جائے گی۔ذاتی اکاؤنٹس کو فی الحال مونیٹائزیشن پروگرام میں شامل کیے جانے کا امکان نہیں، تاہم ایسے اکاؤنٹس میں بھی اشتہارات نظر آ سکتے ہیں، خاص طور پر ان صارفین کو جنہوں نے واٹس ایپ چینلز کو فالو کیا ہوگا۔

    خطے کی کشیدگی: قطر نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی

  • قومی اسمبلی میں جمشید دستی کی انوکھی حرکت، ایوان کے فلور پر ناک رگڑتے رہے

    قومی اسمبلی میں جمشید دستی کی انوکھی حرکت، ایوان کے فلور پر ناک رگڑتے رہے

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت دلچسپ اور حیران کن صورتحال دیکھنے میں آئی جب رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے ایوان کے فلور پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے سامنے ناک رگڑنا شروع کردیا، ہاتھ جوڑے اور کان بھی پکڑے، تاہم ان کے اس اقدام کی وجہ سامنے نہ آسکی۔

    اجلاس کے دوران جمشید دستی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے پاس پہنچے اور ان سے کچھ دیر گفتگو کی۔بعد ازاں جمشید دستی اپنی نشست سے اٹھ کر اپوزیشن لیڈر کے سامنے فلور پر بیٹھ گئے اور کئی بار زمین پر ناک رگڑتے ہوئے لکیریں نکالیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ہاتھ جوڑتے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے واپس اپنی نشست پر چلے گئے۔

    جمشید دستی کی اس غیر معمولی حرکت پر ایوان میں موجود اراکین بھی حیران رہ گئے، جب کہ اس واقعے کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔

    خطے کی کشیدگی: قطر نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی

  • خطے کی کشیدگی: قطر نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی

    خطے کی کشیدگی: قطر نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کردی

    خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر قطر نے اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق قطر نے موجودہ علاقائی تناؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم شہریوں اور ملک میں مقیم افراد کی سلامتی کے لیے اٹھایا ہے۔قطری وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اپنی جوہری تنصیبات پر ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا اور برطانیہ نے قطر میں مقیم اپنے شہریوں کو گھروں یا محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

    ایران پر امریکی حملہ عالمی امن کے خلاف ہے، مسلم ممالک متحد ہوں: ثاقب مجید

  • ایران پر اسرائیلی حملہ سلامتی کونسل کے 3 ارکان کی مدد سے ہوا: پاکستان میں ایرانی سفیر کا انکشاف

    ایران پر اسرائیلی حملہ سلامتی کونسل کے 3 ارکان کی مدد سے ہوا: پاکستان میں ایرانی سفیر کا انکشاف

    پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے سلامتی کونسل کے تین مستقل ارکان کی مدد سے ایران پر حملہ کیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے عالمی خاموشی اور دوہرے معیار پر کڑی تنقید کی۔ایرانی سفیر نے کہا کہ13 جون کو اسرائیل نے شہری آبادی اور ایرانی کمانڈروں پر حملہ کر کے 15 جون کو عمان میں طے شدہ امریکا-ایران مذاکرات کو سبوتاژ کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل اس جنگ کو پورے خطے میں پھیلانا چاہتے ہیں، مگر ایران کی اولین ترجیح یہ ہے کہ اسلامی ممالک کو اس تنازع میں نہ گھسیٹا جائے۔

    رضا امیری مقدم کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے کسی سے فوجی مدد نہیں مانگی، ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں۔انہوں نے پاکستان کے صدر، وزیراعظم، سیاسی قیادت، میڈیا اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حمایت نے ایران کو تقویت دی۔

    ایرانی سفیر نے کہا کہ ہم جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے رکن ہیں، ہمارے ایٹمی پروگرام پر 15 بار آئی اے ای اے کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ پرامن ہے، جبکہ اسرائیل این پی ٹی کا حصہ ہی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران بڑی طاقتوں کے سامنے جھکا نہیں، اور یہ جنگ ہم اپنے وسائل کے ساتھ لمبے عرصے تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایران پر حملے جاری ، منصوبے کے مطابق کارروائیاں تیز کریں گے: اسرائیلی آرمی چیف

    یمن نے ایران کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا، جنگ میں باقاعدہ شمولیت

    دمشق: چرچ پر خودکش حملہ، 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی

    دمشق: چرچ پر خودکش حملہ، 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی

    وسطی ایران پر اسرائیلی فضائی حملے، پاسداران انقلاب کے 7 اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید

  • ایران پر حملے جاری ، منصوبے کے مطابق کارروائیاں تیز کریں گے: اسرائیلی آرمی چیف

    ایران پر حملے جاری ، منصوبے کے مطابق کارروائیاں تیز کریں گے: اسرائیلی آرمی چیف

    اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا ہے کہ ایران پر حملے ابھی ختم نہیں ہوئے، اور اسرائیل آپریشنل منصوبے کے مطابق ان کارروائیوں میں مزید اضافہ کرے گا۔

    ایال ضمیر نے اپنے بیان میں کہا کہہماری مہم جاری ہے، ابھی بھی نشانہ بنانے کے لیے اہداف موجود ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنی دفاعی اور جارحانہ کارروائیوں کی رفتار تیز کر رہا ہے، اور اس مقصد کے لیے فوج مکمل طور پر تیار ہے۔اسرائیلی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہم اپنے آپریشنل پلان کے تحت حملے بڑھائیں گے اور ضرورت کے مطابق کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایال ضمیر کے اس بیان سے واضح ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف فوجی مہم کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب کہ خطے میں پہلے ہی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔

    دمشق: چرچ پر خودکش حملہ، 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی

    چین ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز بند نہ ہو،امریکا کا مطالبہ

    وسطی ایران پر اسرائیلی فضائی حملے، پاسداران انقلاب کے 7 اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید

    خیبرپختونخوا: بارش و آندھی سے حادثات، 6 افراد جاں بحق

    صدر آصف علی زرداری کا مشرق وسطیٰ میں مکالمے اور تحمل پر زور