Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • پاک افغان وزرائے خارجہ ملاقات، سی پیک میں افغان شمولیت کا خیرمقدم

    پاک افغان وزرائے خارجہ ملاقات، سی پیک میں افغان شمولیت کا خیرمقدم

    پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں دو طرفہ تعلقات، تجارت اور خطے میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔

    ملاقات نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغان وزیر خارجہ ملا امیر متقی کے درمیان ہوئی۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ اپریل 2023 کے بعد پاک افغان تعلقات اور باہمی تجارت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے افغانستان کی سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) میں دلچسپی اور شمولیت کو خوش آئند قرار دیا۔

    علاقائی تعاون اور امن پر زور
    دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مزید بہتر بنانے، تجارتی حجم بڑھانے، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

    ملاقات کا مقصد
    اس ملاقات کا بنیادی مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور خطے میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ملاقات کو سفارتی حلقوں میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں بداعتمادی کو ختم کرنے اور معاشی تعاون کو وسعت دینے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

    قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس کل طلب کرلیا، بڑے فیصلوں کا امکان

  • او آئی سی اعلامیہ جاری،  اسرائیلی جارحیت کی مذمت، کشیدگی کم کرنے کے لیے وزارتی گروپ قائم

    او آئی سی اعلامیہ جاری، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، کشیدگی کم کرنے کے لیے وزارتی گروپ قائم

    استنبول میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے دو روزہ ہنگامی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اعلامیے میں ایران کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور خطے میں خطرناک حد تک بڑھتی کشیدگی پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے حملے بند کرے اور خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف نہ دھکیلے۔ او آئی سی نے اس سلسلے میں وزارتی سطح کا ایک رابطہ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

    رابطہ گروپ کا کردار
    اعلامیے کے مطابق وزارتی رابطہ گروپ بین الاقوامی اور علاقائی فریقین سے رابطے کرے گا تاکہ خطے میں امن قائم کیا جا سکے اور ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت روکی جا سکے۔ گروپ کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو مؤثر بنانے میں بھی کردار ادا کرے گا۔

    بین الاقوامی برادری سے مطالبہ
    او آئی سی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران پر اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے فوری، مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ بنایا جائے۔

    امریکی حملوں کا ذکر غائب
    خبر ایجنسی کے مطابق او آئی سی کے مشترکہ اعلامیے میں ایران پر مبینہ امریکی حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جس پر بعض حلقوں میں تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں رکن ممالک کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلم دنیا کے اجتماعی کردار پر زور دیا گیا۔ او آئی سی کے اس اعلامیے کو ایران کے ساتھ یکجہتی کے علامتی اقدام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

    قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس کل طلب کرلیا، بڑے فیصلوں کا امکان

  • قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس کل طلب کرلیا، بڑے فیصلوں کا امکان

    قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس کل طلب کرلیا، بڑے فیصلوں کا امکان

    وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا اہم اجلاس کل دوپہر 12 بجے طلب کر لیا ہے۔

    اجلاس میں ملک کی داخلی و سرحدی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر تفصیلی مشاورت بھی متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع، وزیر داخلہ، نائب وزیراعظم، عسکری قیادت اور اعلیٰ سول حکام شریک ہوں گے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں ایران سے اظہارِ یکجہتی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر حالیہ دورۂ امریکا کی تفصیلات سے اجلاس کو آگاہ کریں گے اور امریکی قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں پر کمیٹی کو اعتماد میں لیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی حکمت عملی، سرحدی سلامتی، اور خارجہ پالیسی پر ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کو خفیہ اداروں کی جانب سے تازہ سیکیورٹی بریفنگ بھی دی جائے گی۔

    ایران پر امریکی حملے، فرانس کا ہنگامی دفاعی اجلاس طلب

    ایران میں موساد کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک اور شخص کو سزائے موت

    امریکی حملوں کے بعد کشیدگی، سعودی عرب، بحرین اور کویت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

    پاک افغان وزرائے خارجہ ملاقات، سی پیک میں افغان شمولیت کا خیرمقدم

  • سندھ طاس معاہدے سے انکار پر دفتر خارجہ کا بھارت کو سخت ردعمل

    سندھ طاس معاہدے سے انکار پر دفتر خارجہ کا بھارت کو سخت ردعمل

    دفتر خارجہ پاکستان نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیا ہے اور اسے بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ امیت شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گا اور پاکستان کو "ناجائز طور پر ملنے والا” پانی روک دیا جائے گا۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امیت شاہ نے ہفتے کی صبح ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے گفتگو میں کہا کہ نہیں، سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔ ہم پاکستان جانے والے پانی کو ایک نہر کے ذریعے راجستھان منتقل کریں گے۔”

    دفتر خارجہ کا مؤقف
    پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے باضابطہ بیان میں ان بیانات کو بین الاقوامی قانون، معاہدے کی شقوں اور سفارتی روایات کے منافی قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک غیر سیاسی معاہدہ ہے، جس میں یکطرفہ طور پر کسی بھی قسم کی معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں۔دفتر خارجہ نے بھارت کے اعلان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام نہ صرف ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔

    "پانی کو ہتھیار بنانا” قابل مذمت
    دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول عمل ہے، جو کسی ذمہ دار ریاست کے شایانِ شان نہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کو یقینی بنائے۔بیان کے اختتام پر دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ اکستان اپنی طرف سے سندھ طاس معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے اور اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”

    واضح رہے کہ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں پہلے ہی پانی اور سلامتی سے متعلق کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات جنوبی ایشیا کے امن کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، سیلاب کا الرٹ جاری

    اصفہان پر اسرائیلی حملے کی تصدیق، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

    پاکستان او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا دوبارہ رکن منتخب

  • قطر کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت، کشیدگی میں کمی پر زور

    قطر کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت، کشیدگی میں کمی پر زور

    قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں ایران کی سرزمین پر جاری اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    قطری نشریاتی ادارے کے مطابق شیخ محمد بن عبدالرحمٰن نے اسرائیلی جارحیت کو ایران کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی پامالی ہے۔قطری وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کو فوری کم کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کی اشد ضرورت ہے۔ بیان میں خطے میں قیام امن کے لیے تمام فریقین کو صبر و تحمل سے کام لینے کی تلقین کی گئی۔

    ایران کا سخت مؤقف
    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اس تنازع میں فریق بنا تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ استنبول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کی شمولیت نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرناک ہو گی۔”

    انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی جنگ یا تصادم کا خواہاں نہیں، لیکن اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں کی موجودگی میں کوئی بات چیت ممکن نہیں۔”تنازع پر مذاکرات اسی وقت ہو سکتے ہیں جب اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند کرے۔” عباس عراقچی

    یہ ملاقات اور بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، اور خطے میں کسی بھی ممکنہ عالمی تصادم کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

    پاکستانیوں کی سالانہ آن لائن شاپنگ 1 ارب ڈالر سے تجاوز، 5 فیصد ٹیکس عائد

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، سیلاب کا الرٹ جاری

    اصفہان پر اسرائیلی حملے کی تصدیق، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

  • پاکستانیوں کی سالانہ آن لائن شاپنگ 1 ارب ڈالر سے تجاوز، 5 فیصد ٹیکس عائد

    پاکستانیوں کی سالانہ آن لائن شاپنگ 1 ارب ڈالر سے تجاوز، 5 فیصد ٹیکس عائد

    پاکستانیوں کی جانب سے سالانہ بنیادوں پر ایک ارب ڈالر (تقریباً 317 ارب روپے) کی آن لائن خریداری کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد حکومت نے نئے مالی بجٹ میں فیس بک، گوگل، یوٹیوب، نیٹ فلیکس، علی بابا اور دیگر بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کر لی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک بھر میں آن لائن ٹرانزیکشنز کی تعداد 4 کروڑ 26 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ صرف فیس بک پر ادائیگیوں کی مد میں پاکستانی صارفین نے 123 ارب روپے خرچ کیے، جبکہ گوگل کو 5.94 ارب، نیٹ فلیکس کو 2.79 ارب، اور علی بابا کو 2 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔

    دیگر نمایاں اعداد و شمار کے مطابق ایپ اسٹورز (iTunes، Play Store): 5.14 ارب روپے،علی ایکسپریس: 4.9 ارب روپے،ٹیمو: 1.82 ارب روپے، شاپی فائی: 1 ارب روپے سے زائد ضبخۃ دیگر غیر ملکی پلیٹ فارمز: 281 ارب روپے سے زائد کی شاپنگ کی گئی.حکومت کی جانب سے ان ڈیجیٹل ادائیگیوں کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے "ڈیجیٹل پروسیڈز ایکٹ” کی منظوری بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سے حاصل کر لی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ اقدام ملکی ریونیو کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل معیشت کو ضابطے میں لانے کی کوشش ہے، تاہم اس کا براہ راست اثر صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے، جو آن لائن سروسز اور مصنوعات پر اضافی لاگت برداشت کریں گے۔

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، سیلاب کا الرٹ جاری

    اصفہان پر اسرائیلی حملے کی تصدیق، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

    پاکستان او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا دوبارہ رکن منتخب

    کوئٹہ کے قریب سی ٹی ڈی کی کارروائی،5 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ اور حساس نقشے برآمد

  • اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    اسرائیلٰ ،بھارتی خفیہ گٹھ جوڑ، ایران میں 121 بھارتیوں سمیت 141 موساد ایجنٹس گرفتار

    ایران نے چابہار کے قریب بڑی انٹیلی جنس کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے وابستہ 141 ایجنٹس گرفتار کر لیے ہیں، جن میں 121 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔

    اس پیش رفت نے بھارت کے مبینہ خفیہ کردار کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے مطابق یہ افراد ایران کے حساس علاقوں میں تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ دورانِ تفتیش ان کے قبضے سے خفیہ دستاویزات، انکرپٹڈ کمیونیکیشن ڈیوائسز، سیٹلائٹ فونز اور حساس ساز و سامان برآمد ہوا ہے، جو ان کے جاسوسی نیٹ ورک کا واضح ثبوت فراہم کرتا ہے۔

    بھارتی تعلق اور علیحدگی پسند روابط
    تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار شدگان کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچستان یوتھ کنکشن (BYC) جیسے علیحدگی پسند گروپوں سے بھی ہے۔ ان روابط سے ایران اور پاکستان دونوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کا سراغ ملا ہے۔ایرانی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار بھارتی شہری اسرائیلی موساد کے براہِ راست احکامات پر کام کر رہے تھے۔ اس خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے ایران کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور تجارتی مفادات کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

    خفیہ منصوبہ "پروجیکٹ گڈون-عشا”
    ایرانی حکام نے "پروجیکٹ گڈون-عشا” کے نام سے موسوم خفیہ منصوبے کی سلائیڈز برآمد کی ہیں، جن کے مطابق بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کی مشترکہ منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اس منصوبے میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW) کے براہِ راست ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن میں منی لانڈرنگ، اسلحے کی ترسیل اور ڈیجیٹل پروپیگنڈہ شامل ہیں۔

    مالی معاونت اور شیل کمپنیاں
    ایرانی رپورٹس کے مطابق بھارت ایران کے ساتھ بظاہر تجارتی شراکت داری کا دکھاوا کر رہا تھا، جب کہ ممبئی میں رجسٹرڈ شیل کمپنیوں کے ذریعے ایران مخالف گروہوں کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ بھارتی شہری راجیش سنگھ پر الزام ہے کہ اس نے 32 لاکھ ڈالر ایسے عناصر کو منتقل کیے، جو ایران اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    ایرانی تجزیہ کاروں کا ردعمل
    ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت درحقیقت مغربی اور صیہونی ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں بدامنی پھیلانے والے عناصر کے ساتھ شراکت دار بن چکا ہے۔ وہ اسٹریٹجک خودمختاری کے پردے میں طویل مدتی سازشوں کا حصہ ہے، جس میں انسانی حقوق کی آڑ میں تخریب کاری، باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی اور پروپیگنڈہ مہمات شامل ہیں۔

    یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں بھارت کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے اور تہران، اسلام آباد سمیت پورے خطے میں خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔

  • سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی  استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا، پاکستان کا پانی استعمال کریں گے،بھارتی وزیر داخلہ

    بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پاکستان کے ساتھ تاریخی سندھ طاس معاہدے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یہ معاہدہ کبھی بحال نہیں کرے گا اور پاکستان جانے والے دریائی پانی کا رخ موڑ کر اسے راجستھان میں استعمال کیا جائے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امیت شاہ کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو وہ پانی کبھی نہیں ملے گا جو اسے ناجائز طور پر مل رہا تھا۔” ان کے اس بیان نے خطے میں پانی کے حوالے سے جاری تنازع کو ایک بار پھر شدت دے دی ہے۔

    بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر حق حاصل ہے۔ بین الاقوامی طور پر بھی اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ زیریں علاقوں (downstream states) کو ان دریاؤں پر پہلا حق حاصل ہوتا ہے۔

    پاکستان کا مؤقف
    پاکستان کئی بار واضح کر چکا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری ممکن نہیں اور بھارت کی جانب سے پانی روکنے کا عمل نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہوگا بلکہ اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔سفارتی اور قانونی ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ اعلان عالمی قوانین، معاہدوں اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، جو جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔

  • ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، سیلاب کا الرٹ جاری

    ملک بھر میں شدید بارشوں کا امکان، سیلاب کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شدید بارشوں کے پیش نظر ملک بھر میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر ممکنہ خطرات سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    اتھارٹی کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والا سسٹم پاکستان کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث گلگت بلتستان، کشمیر اور دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کا امکان ہے۔ترجمان این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ مقامی ندی نالوں میں اچانک پانی کی سطح بڑھنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ شہریوں کو ندی نالوں، ڈھلانوں اور غیر محفوظ مقامات کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ عوام غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور نکاسی آب کے نظام کی صفائی کو یقینی بنائیں تاکہ بارش کے پانی کی روانی میں رکاوٹ نہ ہو۔ادھر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم اور گرد و نواح میں موسلا دھار بارش متوقع ہے۔ آندھی اور طوفانی ہواؤں کے باعث درختوں کے گرنے، بجلی کی بندش، اور گرد و غبار کے طوفان سے شہری املاک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بل بورڈز، کمزور عمارتوں اور کھلے علاقوں سے دور رہیں، اپنی گاڑیاں محفوظ مقامات پر پارک کریں اور موسمی صورتحال سے باخبر رہیں۔

    پاکستان او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا دوبارہ رکن منتخب

    کوئٹہ کے قریب سی ٹی ڈی کی کارروائی،5 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ اور حساس نقشے برآمد

    برازیل میں گرم ہوا کا غبارہ حادثے کا شکار، آگ لگنے سے 8 افراد ہلاک، 13 زخمی

    نیب کی بڑی کارروائی:،ملک ریاض کے بیٹے اور بحریہ ٹاؤن کی 457 جائیدادیں منجمد

  • اصفہان پر اسرائیلی حملے کی تصدیق، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

    اصفہان پر اسرائیلی حملے کی تصدیق، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں

    اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے ایران کے شہر اصفہان کے نزدیک واقع جوہری تنصیب پر حملہ کیا ہے۔

    آئی اے ای اے کے مطابق اس حملے میں سینٹری فیوج تیار کرنے والی ورکشاپ کو نشانہ بنایا گیا، تاہم وہاں کوئی جوہری مواد موجود نہیں تھا، جس کے باعث تابکاری کے کسی بھی خطرے کی تردید کی گئی ہے۔ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے بتایا کہ یہ ایران کی جوہری تنصیبات پر 13 جون کے بعد اسرائیل کی جانب سے تیسرا حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اصفہان میں موجود سہولت پر صرف وہ آلات تیار کیے جاتے ہیں جو یورینیم کی افزودگی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن وہاں جوہری مواد ذخیرہ نہیں کیا جاتا۔”

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایران اور اسرائیل کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے میں مزید تناؤ سے بچا جا سکے۔ادھر جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ کی یورپی رہنماؤں سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں ایرانی جوہری پروگرام پر گفتگو کی گئی۔ ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ یورپی ممالک کی پیش کردہ تجاویز غیر حقیقی ہیں اور کسی ممکنہ معاہدے کی جانب پیش رفت نہیں ہو رہی۔

    ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاعی صلاحیتوں یا میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں کرے گا، اور یورینیم کی افزودگی ختم کرنے کا مطالبہ "ڈیڈ اینڈ” قرار دیا۔ جنیوا مذاکرات کا جائزہ لے کر اگلی ملاقات میں ایران اپنا باضابطہ ردعمل دے گا۔

    پاکستان او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا دوبارہ رکن منتخب

    کوئٹہ کے قریب سی ٹی ڈی کی کارروائی،5 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ اور حساس نقشے برآمد

    برازیل میں گرم ہوا کا غبارہ حادثے کا شکار، آگ لگنے سے 8 افراد ہلاک، 13 زخمی

    نیب کی بڑی کارروائی:،ملک ریاض کے بیٹے اور بحریہ ٹاؤن کی 457 جائیدادیں منجمد