Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • بھارت کو چابہار بندرگاہ آپریشن پر 6 ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ؟

    بھارت کو چابہار بندرگاہ آپریشن پر 6 ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ؟

    بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی چابہار بندرگاہ کے آپریشن کے لیے نئی دہلی کو چھ ماہ کی پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا ہے، جس سے افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت نے گزشتہ سال ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ کی ترقی اور آپریشن کے لیے دس سالہ معاہدہ کیا تھا۔ رواں ماہ نئی دہلی نے طالبان حکومت کے زیر انتظام افغانستان کے ساتھ روابط بڑھانے کے لیے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا ہے۔چاہ بہار بندرگاہ ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے اور اس منصوبے کا مقصد افغانستان کو ریل لنک کے ذریعے جوڑنا اور کراچی بندرگاہ پر انحصار کم کرنا ہے۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت کو چھ ماہ کی رعایت دی گئی ہے اور امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے

    دہشتگرد کارروائیوں سے روکنے کے لیے تحریری معاہدہ ضروری ہے،رانا ثنااللہ

    2027 کے ای اسپورٹس اولمپکس کی میزبانی سعودی عرب سے واپس

    سرحدی کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع

  • دہشتگرد کارروائیوں سے روکنے کے لیے تحریری معاہدہ  ضروری ہے،رانا ثنااللہ

    دہشتگرد کارروائیوں سے روکنے کے لیے تحریری معاہدہ ضروری ہے،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے لیے تحریری معاہدہ نہیں کریں گے تو پاکستان خود اس کا بھرپور حل اپنائے گا۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں رانا ثنااللہ نے بتایا کہ پاکستان کا مطالبہ واضح ہے: افغان سرزمین کسی بھی صورت میں پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہی اصول طالبان نے دوحہ معاہدے میں بھی عالمی منظرنامے پر رکھا تھا۔پاکستان نے افغان طالبان کو شواہد بھی فراہم کیے ہیں کہ افغانستان سے ہی حملے لانچ ہوتے ہیں اور وہاں سے ہمارے خلاف دہشتگرد کارروائیاں کی جاتی ہیں، لہٰذا سرحدی علاقوں میں ایسا بفر زون قائم کیا جانا چاہیے جس سے ممکنہ حملوں کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔ اُن کے مطابق یہی واحد اور جائز مطالبہ ہے۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ افغان طالبان بفر زون کی ضرورت زبانی طور پر تسلیم کر رہے ہیں مگر تحریری طور پر پابندی لکھ کر دینے سے گریزاں ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ یہ وعدہ تحریری صورت میں ہو تاکہ باہمی سمجھوتہ معاہدے کی شکل اختیار کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ نگرانی کے لیے غیرجانبدار دوست ممالک کا کردار ہو تاکہ معاہدے پر عمل کی مانیٹرنگ ممکن بن سکے اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی ہو۔ رانا ثنااللہ نے ترکی اور سعودی عرب کو ایسے سہولت کار ممالک کے طور پر موزوں قرار دیا جو دونوں طرف کا اعتماد حاصل ہیں۔

    خواجہ آصف کی سربراہی میں مذاکراتی وفد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران سفارتی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ معاہدے کے ڈرافٹ متعدد بار تیار کیے جا چکے ہیں مگر کابل سے رابطے پر نئی شرائط سامنے آ جاتی ہیں۔رانا ثنااللہ نے مذاکرات میں انٹرنل مداخلت کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ بھارت حالات بگاڑنے میں سرگرم عمل ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان نے بیان کیا کہ اگر انہیں مالی امداد مل گئی تو وہ ٹی ٹی پی کو کہیں اور منتقل کر دیں گے، مگر اگر اُن کے پاس یہ اختیار ہی نہیں تو منتقلی کیسے ممکن ہے۔

    آخر میں اُنہوں نے واضح کیا کہ اگر افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف عملی قدم اٹھانے میں ناکام رہے یا بفر زون قائم نہ کیا گیا تو پاکستان نے خود کارروائی کا اختیار محفوظ رکھا ہے اور ضرورت پڑنے پر سرحد پار جا کر وہ قدم اٹھائے گا، کیونکہ سرحدی علاقوں سے حملے ہمارے جوانوں کی جانیں لے رہے ہیں اور مزید برداشت ممکن نہیں.

    سرحدی کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع

    2027 کے ای اسپورٹس اولمپکس کی میزبانی سعودی عرب سے واپس

    قصور :پولیس ڈرائیونگ سکول میں پاسنگ آؤٹ تقریب، صفیہ سعید مہمانِ خصوصی

  • سرحدی کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع

    سرحدی کشیدگی، پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع

    استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان اہم مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب پاکستانی وفد نے کہا تھا کہ مذاکرات میں کوئی قابلِ ذکر نتیجہ حاصل نہیں ہو سکا۔

    برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ مذاکرات ترکی اور قطر کی درخواست پر دوبارہ شروع کیے گئے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ مزید نہ بڑھے۔ایک پاکستانی سیکیورٹی اہلکار کے مطابق پاکستان مذاکرات میں اپنا بنیادی مطالبہ پیش کرے گا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کے محفوظ ٹھکانے کے طور پر استعمال ہونے سے روکے اور ان کے حملوں کی منصوبہ بندی کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

    افغان طالبان کے وفد کے قریب ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان زیادہ تر مسائل خوش اسلوبی سے حل ہو چکے ہیں، تاہم پاکستان کے چند مطالبات پر اتفاق کے لیے مزید وقت درکار ہے کیونکہ یہ نکات نسبتاً مشکل نوعیت کے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے واضح طور پر زور دیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان مخالف دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، تاہم افغان وفد نے اس مطالبے پر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی اور بات چیت الزام تراشی کا شکار ہو گئی

    قصور :پولیس ڈرائیونگ سکول میں پاسنگ آؤٹ تقریب، صفیہ سعید مہمانِ خصوصی

    امریکا کے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر روس کا محتاط ردعمل

  • 2027 کے ای اسپورٹس اولمپکس کی میزبانی سعودی عرب سے واپس

    2027 کے ای اسپورٹس اولمپکس کی میزبانی سعودی عرب سے واپس

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے اعلان کیا ہے کہ 2027 میں ہونے والے افتتاحی ای اسپورٹس اولمپکس کی میزبانی اب سعودی عرب نہیں کرے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق آئی او سی اور سعودی نیشنل اولمپک کمیٹی نے مشترکہ بیان میں تصدیق کی کہ دونوں فریقین نے باہمی اتفاق سے ای اسپورٹس اولمپکس پر اپنا تعاون ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ ایونٹ رواں سال ریاض میں منعقد ہونا تھا لیکن فروری میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔گزشتہ سال جولائی میں آئی او سی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت مملکت کو 2025 سے 12 سال تک ان گیمز کی میزبانی حاصل تھی۔ اس وقت آئی او سی کے صدر تھامس باخ نے اس منصوبے کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم اب ان کی جگہ کرسٹی کووینٹری نے عہدہ سنبھال لیا ہے۔

    آئی او سی نے 2021 اور 2023 میں ’’اولمپک ای اسپورٹس سیریز‘‘ کے نام سے چھوٹے ورچوئل اسپورٹس مقابلے منعقد کیے تھے، تاہم گیمنگ ماہرین نے ان میں معروف ای اسپورٹس ٹائٹلز کی کمی پر تنقید کی تھی۔آئی او سی کے بیان کے مطابق دونوں فریقین اور ای اسپورٹس ورلڈ کپ فاؤنڈیشن نے حال ہی میں ملاقات میں منصوبے کا دوبارہ جائزہ لیا اور اتفاق کیا کہ اب وہ اپنے اپنے ای اسپورٹس پروگرامز کو علیحدہ طور پر آگے بڑھائیں گے۔

    واضح رہے کہ ای اسپورٹس ورلڈ کپ کے پہلے دو ایڈیشن، جن میں دنیا کے مقبول ترین ویڈیو گیمز شامل تھے، 2024 اور 2025 میں ریاض میں منعقد ہو چکے ہیں.

    قصور :پولیس ڈرائیونگ سکول میں پاسنگ آؤٹ تقریب، صفیہ سعید مہمانِ خصوصی

    یروشلم میں ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ

  • وزیراعلیٰ سندھ  سے میٹا وفد کی ملاقات، ڈیجیٹل اسکلز اور اے آئی تعاون پر اتفاق

    وزیراعلیٰ سندھ سے میٹا وفد کی ملاقات، ڈیجیٹل اسکلز اور اے آئی تعاون پر اتفاق

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے فیس بُک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی ملکیتی کمپنی میٹا کے وفد نے ملاقات کی، جس میں ڈیجیٹل اسکلز، تعلیم اور آئی ٹی سیکٹر میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق میٹا کے وفد کی قیادت سائوتھ اینڈ سینٹرل ایشیا کے ڈائریکٹر پبلک پالیسی صارم عزیز نے کی، جبکہ آٹھ رکنی وفد میں دانیہ مختار، تہارا پنچی ہیوا، روئیچی ٹی او، گیلن، ملک احسان، سنین قاضی اور عباس علی لوٹیا شامل تھے۔ملاقات میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر تعلیم سردار علی شاہ، معاون خصوصی برائے آئی ٹی علی راشد، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور سیکریٹری آئی ٹی نور محمد سموں بھی شریک ہوئے۔میٹا کے وفد نے سندھ میں ڈیجیٹل شمولیت، تربیتی پروگرامز اور آئی ٹی صلاحیتوں کے فروغ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، جدید ٹیکنالوجی نوجوانوں کے لیے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تعاون پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ حکومت سندھ، وفاقی حکومت اور میٹا کے درمیان ’لاما‘ منصوبے کے تحت شراکت داری اور مقامی جدت و قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا

    امریکا کے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر روس کا محتاط ردعمل

    یروشلم میں ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ

    شہباز شریف اور صدر زرداری کی ملاقات، آزاد کشمیر حکومت سازی پر مشاورت

    ای چالان غیر منصفانہ،کراچی میں مرکزی مسلم لیگ کی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

  • امریکا کے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر روس کا محتاط ردعمل

    امریکا کے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر روس کا محتاط ردعمل

    کریملن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے جوہری پابندی توڑی تو روس بھی اسی کے مطابق اقدام کرے گا۔

    کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ روس نے اب تک کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا، تاہم اگر امریکا نے اپنی پالیسی تبدیل کی تو ماسکو بھی جواباً قدم اٹھانے پر مجبور ہوگا۔پیسکوف کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے قبل روس کو واشنگٹن کی جانب سے کسی نئی حکمتِ عملی یا مؤقف کی اطلاع نہیں ملی۔ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ دیگر ممالک بھی جوہری تجربات کر رہے ہیں، لیکن روس کو اس حوالے سے کسی ملک کی سرگرمیوں کا علم نہیں۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ روس کے حالیہ بورویستنک کروز میزائل اور پوسائیڈن جوہری ٹارپیڈو کے تجربات دراصل جوہری ہتھیاروں کے تجربات نہیں تھے۔پیسکوف نے صدر ولادیمیر پیوتن کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس ہمیشہ جوہری تجربات پر عائد پابندی کا احترام کرتا آیا ہے، لیکن اگر کوئی ملک اس معاہدے سے انحراف کرتا ہے تو روس بھی اسی کے مطابق ردعمل دے گا۔

    یاد رہے کہ سوویت یونین نے آخری جوہری تجربہ 1990 میں، امریکا نے 1992 میں اور چین نے 1996 میں کیا تھا، جبکہ روس نے سوویت دور کے بعد سے اب تک کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا.

    یروشلم میں ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ

    شہباز شریف اور صدر زرداری کی ملاقات، آزاد کشمیر حکومت سازی پر مشاورت

    ای چالان غیر منصفانہ،کراچی میں مرکزی مسلم لیگ کی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

  • یروشلم میں ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ

    یروشلم میں ہزاروں قدامت پسند یہودیوں کا فوجی بھرتی کے خلاف مظاہرہ

    اسرائیل میں ہزاروں مذہبی طور پر قدامت پسند یہودی مردوں نے یروشلم میں فوجی بھرتی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے سیاہ لباس اور ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور فوجی خدمات سے استثنیٰ کے حق میں نعرے لگاتے رہے، وہی استثنیٰ جس کا وعدہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو طویل عرصے سے کرتے آئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے شہر کی مرکزی شاہراہوں پر مارچ کیا، فوجی بھرتی کے خلاف نعرے لگائے اور کئی مقامات پر ترپال کے ٹکڑوں کو آگ لگا دی۔ پولیس نے یروشلم کے تاریخی حصے میں ہزاروں اہلکار تعینات کر کے متعدد سڑکیں بند کر دیں۔یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حالیہ مہینوں میں اسرائیلی حکام نے مذہبی یہودیوں کو فوج میں شامل ہونے کے لیے طلبی کے نوٹس جاری کیے اور بھرتی سے انکار کرنے والے کئی افراد کو قید بھی کیا جا چکا ہے۔

    1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت ایک اصول کے تحت وہ مذہبی یہودی مرد جو مکمل طور پر مذہبی تعلیم میں مصروف ہوں، لازمی فوجی خدمت سے مستثنیٰ قرار دیے گئے تھے۔ تاہم غزہ جنگ کے بعد افرادی قوت کی کمی کے باعث اس استثنیٰ پر دباؤ بڑھ گیا۔جون 2024 میں اسرائیلی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مذہبی یہودیوں کے لیے فوجی سروس سے استثنیٰ ختم ہو چکا ہے، اور حکومت اب انہیں لازمی طور پر بھرتی کرے۔ اس کے بعد پارلیمانی کمیٹی ایک نئے بل پر غور کر رہی ہے جس میں صرف وہ نوجوان مستثنیٰ ہوں گے جو مکمل وقت مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہوں۔

    یہ مسئلہ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی مخلوط حکومت کے لیے بڑا سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔ شاس پارٹی کے وزرا نے جولائی میں احتجاجاً استعفیٰ دیا، جبکہ یونائیٹڈ تورہ جوڈائیزم پارٹی پہلے ہی حکومت چھوڑ چکی ہے۔

    شہباز شریف اور صدر زرداری کی ملاقات، آزاد کشمیر حکومت سازی پر مشاورت

    ای چالان غیر منصفانہ،کراچی میں مرکزی مسلم لیگ کی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

  • شہباز شریف اور صدر زرداری کی ملاقات، آزاد کشمیر حکومت سازی پر مشاورت

    شہباز شریف اور صدر زرداری کی ملاقات، آزاد کشمیر حکومت سازی پر مشاورت

    ایوانِ صدر میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے درمیان اہم ملاقات جاری ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے وفود بھی شریک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر شیری رحمان اور سید نوید قمر بھی موجود ہیں، جب کہ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناءاللہ بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے معاملے پر تفصیلی مشاورت ہو رہی ہے۔

    قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ آزاد کشمیر میں ممکنہ ان ہاؤس تبدیلی کے تناظر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات ایوانِ صدر میں متوقع ہے۔واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے چوہدری یٰسین کو اپنا امیدوار نامزد کر رکھا ہے

    ای چالان غیر منصفانہ،کراچی میں مرکزی مسلم لیگ کی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

  • ای چالان غیر منصفانہ،کراچی میں مرکزی مسلم لیگ کی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

    ای چالان غیر منصفانہ،کراچی میں مرکزی مسلم لیگ کی سندھ ہائی کورٹ میں درخواست

    کراچی میں حال ہی میں نافذ کیے گئے ’ای چالان‘ سسٹم کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

    درخواست میں حکومت سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک، نادرا اور دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے ندیم اعوان نے مؤقف اپنایا کہ کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے اور ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں پر بھاری جرمانے کسی عذاب سے کم نہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ چالان کی آڑ میں شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں۔سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں لاہور اور کراچی کے ٹریفک چالان کا موازنہ بھی پیش کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ لاہور میں کم سے کم جرمانہ 200 روپے جبکہ کراچی میں کم سے کم جرمانہ 5 ہزار روپے رکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے بھی سندھ اسمبلی میں ای چالان نظام کے خلاف تحریکِ التوا جمع کرائی تھی، جس میں نظام اور جرمانوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا.

    اوکاڑہ: وزیراعلیٰ مریم نواز کا عوام دوست اقدام، سہولت بازار کی 108 دکانوں کی قرعہ اندازی مکمل

  • سمندری طوفان سے ہیٹی میں تباہی، 10 ہلاک، نظامِ زندگی مفلوج

    سمندری طوفان سے ہیٹی میں تباہی، 10 ہلاک، نظامِ زندگی مفلوج

    ہیٹی میں سمندری طوفان "میلیسا” کے باعث شدید بارشوں اور سیلاب سے 10 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ طوفان جمیکا سے ٹکرانے کے بعد کیوبا کے مشرقی ساحلوں سے ٹکرا گیا۔

    امریکی نیشنل ہریکن سینٹر کے مطابق طوفان "میلیسا” کی شدت کیٹیگری 3 تک پہنچ چکی ہے اور اس کے نتیجے میں 105 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔حکام کے مطابق لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات اور شیلٹرز میں منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں طوفانی ہواؤں اور ممکنہ سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔کیوبا کے پانچ صوبوں میں ہنگامی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق جمیکا میں طوفان میلیسا نے شدید تباہی مچائی، جہاں 5 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں۔

    درجنوں درخت اور بجلی کی تاریں گرنے سے نظامِ زندگی مفلوج ہوگیا ہے، کئی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں جبکہ اسپتالوں کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث مریضوں کو دیگر مراکزِ صحت میں منتقل کیا جارہا ہے.

    پاکستان کا ہر انچ دفاع، پی ٹی آئی بھی پاکستان کے ساتھ ہے،گوہر علی خان کا پیغام

    خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب آج ہوگا

    وزیرِ اعلیٰ خیبر لہجہ درست کریں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں،رانا ثناء اللّٰہ