Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • قومی ایئرلائن کی نجکاری ایک مرتبہ پھر مؤخر ہو گئی

    قومی ایئرلائن کی نجکاری ایک مرتبہ پھر مؤخر ہو گئی

    پاکستانی قومی ایئرلائن کی نجکاری ایک مرتبہ پھر مؤخر ہو گئی، قبل ازیں نجکاری کی پاکستانی پارلیمانی کمیٹی نے بتایا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے بولی یکم اکتوبر کو لگائی جائے گی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان نے کہا ہے کہ بولی اب 31 اکتوبر کو ہو گی اور اس تاریخ کی وزارت نے منظوری دے دی ہے۔وزارت کے دو عہدیداروں نے بتایا ہے کہ پراسیس میں تاخیر اس وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ بولی لگانے والوں نے نیلامی کے لیے شرائط و ضوابط کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔بولی کے لیے چھ کمپنیاں پری کوالیفائی کر چکی ہیں۔ ان میں فلائی جناح، ایئر بلیو لمیٹڈ، پاک ایتھنول (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی قیادت میں ایک کنسورشیم، وائے بی ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی قیادت میں ایک کنسورشیم، عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ اور بلیو ورلڈ سٹی شامل ہیں۔

    ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہونے پر حکومتی اتحادی ایم کیو ایم ناراض

    یاد رہے کہ پاکستانی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے تحت خسارے میں جانے والی ایئر لائن کے 51 فیصد سے زائد حصص فروخت کرے گا۔

    پاکستان کی ایوی ایشن مارکیٹ میں پی آئی اے کا حصہ

    نجکاری پینل کے مطابق پاکستان کی ایوی ایشن مارکیٹ میں پی آئی اے کا حصہ 23 فیصد ہے، جو اس وقت بھی کسی ایئرلائن کا سب سے بڑا حصہ ہے اور اس کے مزید ترقی کر کے 30 فیصد تک پہنچنے کے روشن امکانات ہیں۔پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن کے پاس 34 طیارے ہیں، جن میں 17 ایئربس، 12 بوئنگ B777 اور پانچ ATR شامل ہیں۔تاہم مشرق وسطیٰ کے مختلف شہروں تک اس ایئر لائن کی براہ راست پروازوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے، مشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز اس مارکیٹ پر 60 فیصد شیئرز کے ساتھ غلبہ حاصل کی ہوئی ہیں۔

    پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا ہوا

    پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 713 ارب روپے سے زائد ہے جبکہ اس میں سے 285 ارب روپے کے قرضوں کی براہ راست ضمانت وفاقی حکومت نے دے رکھی۔اس میں وہ رقوم شامل نہیں ہیں، جو پی آئی اے کے ذیلی اداروں نے بطور قرض لے رکھی ہیں۔چند ماہ قبل پی آئی اے کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو سن 2030 تک اس کا سالانہ خسارہ بڑھ کر 259 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ کمرشل بینک، خسارے سے دوچار پی آئی اے کو نئے قرض فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

    کراچی میں طیارہ حادثے کے بعد پاکستان میں پائلٹوں کے لائسینسوں کا اسکینڈل بھی منظر عام پر آیا تھا، جس کے بعد یورپ اور برطانیہ نے اس ایئرلائن کے سب سے منافع بخش روٹس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

  • ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہونے پر حکومتی اتحادی ایم کیو ایم ناراض

    ترقیاتی فنڈز کا اجراء نہ ہونے پر حکومتی اتحادی ایم کیو ایم ناراض

    وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ناراض ہوگئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے لئے ترقیاتی فنڈز کا اجرا نہ ہونے پر ایم کیو ایم ناراض ہے، طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد میں پیشرفت نہ ہونا بھی وجہ تنازع ہے۔سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے ن لیگ کے ساتھ اتحاد پر سوال اٹھا دیئے۔علی خورشیدی نے کہا کہ کارکنان، ووٹر، سپورٹر پوچھ رہے ہیں وفاق میں اتحادی ہونے کا کیا فائدہ ہے، کراچی کی ترقی کے لئے وفاقی حکومت نے توقعات کے مطابق کردار ادا نہیں کیا، لگتاہے کہ سندھ کو ترقی کی دوڑ سے دور نکال دیا ہے۔اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ ہم نے ذاتی ایشوز نہیں کراچی کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

    گھر سے بھاگنے والی 3نابالغ بچیاں انسانی سمگلرز کے ہتھے چڑھنے سے بچ گئیں

    واضح رہے کہ سندھ میں اور کراچی بلدیہ عظمی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باعث ایم کیو ایم کو فنڈ کے اجرا میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث پارٹی نے کئی دفعہ معاملہ وفاقی حکومت اور وزیراعظم کے ساتھ اٹھا یا ہے.

  • گھر سے بھاگنے والی 3نابالغ بچیاں انسانی سمگلرز کے ہتھے چڑھنے سے بچ گئیں

    گھر سے بھاگنے والی 3نابالغ بچیاں انسانی سمگلرز کے ہتھے چڑھنے سے بچ گئیں

    ریلوے پولیس نے سائوتھ افریقہ جانے کے لئے گھر سے بھاگنے والی 3نابالغ بچیوں کو ریسکیو کر کے ورثاء کے حوالے کر دیا ۔

    باغی ٹی وی کے موصول اطلاعات میں ترجمان ریلوے پولیس نے بتایا کہ ڈی جی خان کی رہائشی 14سالہ عافیہ، علیشا اور ایمن آپس میں کزن تھیں، نابالغ بچیاں پہلے لاہور سے کراچی پھر سائوتھ افریقہ جانا چاہتی تھیں۔تینوں بچیاں بس کے ذریعے ڈی جی خان سے ریلوے اسٹیشن لاہور آپہنچی تھیں۔ڈیوٹی کانسٹبل شاہ نواز نے بچیوں کو ریلوے اسٹیشن کے مین پورچ میں لاوارث پاکر حفاظتی تحویل میں لیا۔ بچیوں نے انکشاف کیا کہ وہ بہتر مستقبل کیلئے گھر سے نکلی ہیں۔ بچیوں کے ورثا نے ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر تھانہ کوٹ مبارک ڈی جی خان میں درج کروا رکھی تھی۔ ریلویز پولیس کی بروقت کارروائی نے بچیوں کو انسانی اسمگلرز کے ہتھے چڑھنے سے بچالیا۔ ورثا نے ریلویز پولیس کا شکریہ ادا کیا جن کی بروقت کارروائی کی بدولت بچیوں کو بحفاظت ان کے حوالے کردیا۔

    سیکریٹری ریلوے کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات، جاری منصوبوں پر تبادلہ خیال

  • سیکریٹری ریلوے کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات، جاری منصوبوں پر تبادلہ خیال

    سیکریٹری ریلوے کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات، جاری منصوبوں پر تبادلہ خیال

    وفاقی سیکریٹری ریلوے، مظہر علی شاہ، نے منگل کے روز چیف سیکریٹری سندھ، آصف حیدر شاہ سے ملاقات کی جس میں مختلف ریلوے منصوبوں، بشمول ایم ایل 1 اور تھر کول کی ریلوے لائن پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران، سیکریٹری ریلوے نے تھر کوئلے کی ریلوے منصوبے کی پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ اکتوبر 2025 سے آپریشنل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے نیٹ ورک سالانہ 10 ملین ٹن کوئلہ منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے ملک بھر کے پاور پروجیکٹس کو سستا ایندھن فراہم کیا جا سکے گا۔چیف سیکریٹری سندھ، آصف حیدر شاہ، نے تھر کوئلے کی ریلوے لائن کی اہمیت پر زور دیا، اور کہا کہ یہ لائن تھر کے کوئلے کو پورٹ قاسم، لکی، اور دیگر بجلی گھروں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ تھر کوئلے کی مکمل صلاحیت کا استعمال ملک کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور درآمد شدہ کوئلے کی جگہ مقامی تھر کوئلے کے استعمال سے بجلی کی قیمتوں میں کمی لائی جائے گی۔ چیف سیکریٹری سندھ نے یہ بھی بتایا کہ سندھ حکومت تھر کوئلے کی ریلوے لائن کے لیے زمین فراہم کر رہی ہے، جس سے منصوبے کی بروقت ترقی ممکن ہو سکے گی۔

    اے این ایف کا منشیات سمگلنگ کے خلاف کریک ڈائون ، 5ملزمان گرفتار

    اس کے علاوہ، سیکریٹری ریلوے نے بتایا کہ کراچی سے حیدرآباد کے ایم ایل 1 پیکیج پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی اسپیڈ ایم ایل 1 کی تکمیل ملک کے ٹرانسپورٹ اور کارگو کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ سیکریٹری ریلوے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایم ایل 1 کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ پاکستان کے ٹرانسپورٹ نظام کو جدید بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، ملاقات میں سیکریٹری توانائی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، ڈی ایس ریلوے اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔#

  • اے این ایف کا منشیات سمگلنگ کے خلاف کریک ڈائون ، 5ملزمان گرفتار

    اے این ایف کا منشیات سمگلنگ کے خلاف کریک ڈائون ، 5ملزمان گرفتار

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے کارروائی کرتے ہوئے 24گھنٹوں کے دوران سوا کروڑ روپے مالیت کی 159کلوگرام منشیات برآمد کرکے 5ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی کو اے این ایف ہیڈکوارٹر راولپنڈی سے جاری بیان کے مطابق اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے طلبا کو منشیات فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف موثر کریک ڈاؤن جاری ہے ۔ترجمان نے کہاکہ اے این ایف منشیات سے پاک تعلیمی اداروں کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر مہم کی قیادت کر رہی ہے، 24 گھنٹوں کے دوران 5 کارروائیوں میں 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ۔ان کارروائیوں میں سوا کروڑ روپے مالیت کی 159 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی ۔ڈیرہ اسماعیل خان میں ملتان روڈ پر واقع ہاسٹل کے قریب ملزم سے 100 گرام چرس برآمدکی گئی ۔

    کمشنر کراچی کی زیر صدار ت اجلاس،پیشہ ورگداگروں کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ

    گیگا مال اسلام آباد کے قریب کار سوار ملزم سے 500 گرام چرس برآمد کی گئی ۔فیتھ چوک حیدرآباد کے قریب ملزم سے 2 کلوگرام چرس برآمد کی گئی ۔کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن میں ملزم سے 65 گرام ہیروئن اور 50 گرام چرس برآمدکی گئی ۔گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلباکو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیاہے ۔اے این ایف ترجمان نے کہاکہ نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ڈالنے والوں کے خلافقانونی کارروائی کی جائے گی۔
    تعلیمی اداروں کے ارد گرد مشکوک افراد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔موٹروے ٹول پلازہ اسلام آباد کے قریب سوزوکی پک اپ سے 141 کلو 600 گرام چرس اور 14 کلو 400 گرام افیون برآمدکرکے ایک ملزم کو گرفتارکیاگیا۔ترجمان اے این ایف نے بتایاکہ گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  • کمشنر کراچی کی زیر صدار ت اجلاس،پیشہ ورگداگروں کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ

    کمشنر کراچی کی زیر صدار ت اجلاس،پیشہ ورگداگروں کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ

    کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدار ت ان کے دفتر میں اجلاس منعقد ہوا جس میں شہر میں ٹریفک سگنلز چوراہوں، بازاروں اور شاہراہوں پر پیشہ ور گداگروں کے خلاف موثر کریک ڈائون شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کمشنرکراچی نے کہا کہ ٹریفک سگنلز اور دیگر مقامات پر پیشہ ور گداگروں کی بھرمار سے شہری پریشان ہیں ان کی روک تھام اور خاتمہ کے لئے گداگروں کے خلاف کوششوں کو مو ثر بنانے کی ضرورت ہے۔
    انہوں نے ڈپٹی کمشنرز اور ٹریفک پولیس کو ہدایت کی کہ وہ پیشہ ور گداگروں کے خلاف مربوط کارروائی کریں۔انہوں نے ڈپٹی کمشنرز سے کہا کہ وہ متعلقہ اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کا تعاون حاصل کر یں، ان عناصر اور عوامل کو تلاش کریں جو ان کے پیچھے کام کر رہے ہیں اور گداگری کا سببب ہیں۔اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر ون غلام مہدی شاہ، ڈپٹی کمشنر جنوبی الطاف ساریو،اسسٹنٹ کمشنر سول لائنز جاوید عالم اسسٹنٹ کمشنر ریوینیو سجاد ابڑو، سیکریٹری آر ٹی اے اور ایس پی ٹریفک جنوبی اور دیگر نے شرکت کی جبکہ دیگر ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

    ایل پی جی سلنڈرز کی غیر قانونی فروخت، کراچی میں سینکڑوں دکانیں سیل

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے ضلع میں گداگری کو کاروباری نیٹ ورک بنانے والوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف کارروائی کریں گے اجلاس میں گدا گری کی وجوہات کو دور کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سلسلہ میں اقدامات کرنے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اس سلسلہ میں لاوارث بھکاری بچوں کے لیے بحالی سینٹر بنانے کی تجویز پر غور کیا گیا جہاں پر انہیں تعلیم و تربیت اور کھانا فراہم کیا جاسکے ۔
    بڑی عمر کے بے سہارا بھکاریوں کے لیے بھی لائحہ عمل بنانے پر غور کیا گیا،فیصلہ کیا گیا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو، محکمہ سوشل ویلفیئر گداگری کے خلاف کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں باالخصوص بچوں کے بھلائی کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کا تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ ساتھ ساتھ ان کی بحالی کے لئے بھی کام کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر جنوبی الطاف ساریو نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر سول لائنز اور دیگر سب ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنرز گاہے بہ گاہے پیشہ ور گداگروں کے خلاف کارروائی کررہے ہیں مختلف گداگروں کے گرفتار کر کے پولیس کے حوالہ کیا گیا ہے۔

    اسرائیل کےناپاک عزائم پرامت مسلمہ کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں‘حافظ نعیم الرحمن

    ڈپٹی کمشنر وسطی طلحہ سلیم نے بتایا کہ ضلع وسطی میں دس سے زائد پیشہ وار گدا گر گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کئے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کورنگی مسعو د بھٹو نے بتا یا کہ مختلف انٹر سیکشن اور دیگر مقامات سے 27 گداگر گرفتار کئے گئے ہیں۔ تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے علاقوں میں پشیہ ور گداگروں کی وجہ سے شہریوں کو درپیش پریشانیوں کو دور کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ گداگر دوبارہ واپس آجاتے ہیں،اس سے نمٹنے کےلئے مختلف اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • ایل پی جی سلنڈرز کی غیر قانونی فروخت، کراچی میں سینکڑوں دکانیں سیل

    ایل پی جی سلنڈرز کی غیر قانونی فروخت، کراچی میں سینکڑوں دکانیں سیل

    کراچی انتظامیہ کی ایل پی جی سلنڈرز کی غیر قانونی فروخت کے خلاف مہم جاری ہے۔ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اپنے ضلع میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران کی جانے والی کارروائیوں کی رپورٹ کمشنر کراچی کو پیش کردی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری اعلامیہ کے مطابق ایل پی جی سلنڈرز کی غیر قانونی فروخت میں ملوث 172 دکانیں سر بمہر کر دی گئیں ، تمام اضلاع میں اسسٹنٹ کمشنرز نے 352 دکانوں کا معائنہ کیا جن میں 172 دکانوں کو سیل کیا گیا جبکہ116 کو وارننگ دی گئی۔
    ضلع شرقی کے ڈپٹی کمشنر شہزاد فضل عباسی کی رپورٹ کے مطابق ضلع شرقی میں 15 دکانداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ضلع شرقی میں 97 دکانیں سیل کی گئیں جبکہ 15 دکانداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ ضلع جنوبی میں ایک دکان سیل کی گئی ، ملیر میں 12 ، کیماڑی میں 35 ، کورنگی میں 14 ، غربی میں 8 جبکہ وسطی میں 5 دکانیں سیل کی گئیں۔کمشنر نے کہا کہ ایل پی جی کے حادثات کی روک تھام کے لیے ایل پی جی کی غیر قانونی فروخت کی روک تھام کی کوششوں کو موثر بنانے کی ضرورت ہے، ڈپٹی کمشنرز اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے ڈپٹی کمشنرز سے کہا کہ وہ ایل پی جی کی غیر قانونی فروخت کی روک تھام کے لئے غیر قانونی فروخت کے خلاف مہم جاری رکھیں۔

    دہشتگردی سے نمٹنے کے لیےکئی اقدامات کیے ہیں ،مراد علی شاہ

    کراچی کیلیے خوشخبری، 12 چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار

  • دہشتگردی سے نمٹنے کے لیےکئی اقدامات کیے ہیں ،مراد علی شاہ

    دہشتگردی سے نمٹنے کے لیےکئی اقدامات کیے ہیں ،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے انتہاپسندی اور دہشتگردی سے نمٹنے کیلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔ انتہاپسندی کو شکست اور امن کو فروغ دینے کیلیے سماجی رابطہ کاری کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس 25 کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ 240 شرکا میں پاک فوج کے افسران سول سرونٹس اور 24 دوست ممالک کے فوجی افسران شریک تھے۔ شرکا کی قیادت چیف انسٹرکٹر میجر جنرل محمد اختر کر رہے تھے۔ صوبائی وزرا شرجیل میمن، سردار شاہ، ناصر حسین شاہ، سعید غنی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ اور دیگر صوبائی سیکریٹریز نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت نے پولیس فورس کو مضبوط کرنے کیلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں تربیتی پروگرام اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ بھی شروع کیا ہے۔ مزید برا?ں ایس فور پروجیکٹ کے ذریعے سندھ بھر کے چالیس ٹول پلازہ پر چہرے اور نمبر پلیٹ کی خودکار شناخت کا نظام نصب کیا گیا ہے۔
    مراد علی شاہ نے بتایا کہ انویسٹی گیشن کے اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تھانوں کیلیے چار ارب اسی کروڑ روپے کا براہ راست بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کیلیے چار ارب نوے کروڑ اور دس لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ شہدا پیکج بھی 10 ملین سے بڑھا کر 23 ملین روپے کردیا گیا ہے۔ شہید اہلکار کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک لواحقین کیلیے تنخواہ کا اجرا اور خاندان کے دو افراد کو نوکری بھی دی جائے گی۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کچے کے علاقے میں چیلنجز سے نمٹنے کیلیے بھی کوشاں ہے۔ افرا اسٹرکچر اور سماجی خدمات کو بہتر کیا جا رہا ہے۔ پولیس کو ڈرون، اے پی سیز اور 7۔12 بور بندوقیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ نقل و حمل کو بہتر بنانے کیلیے سڑکیں اور پل بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ صوبے کے مالی حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ 25-2024 کا بجٹ 3 کھرب، پانچ ارب اور ساٹھ کروڑ روپے کا ہے جس میں نقد محاصل 1912 ارب روپے ہیں۔
    959 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوں گے جبکہ 184ارب اور اسی کروڑ روپے سرمایہ کاری پر خرچ ہوں گے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے کے محاصل 2 کھرب، 56ارب اور 20 کروڑ روپے ہوں گے۔ 1900ارب اور اسی کروڑ روپے وفاقی منتقلی اور 661ارب اور 90 کروڑ روپے صوبائی وسائل سے حاصل ہوں گے تاہم حکومت کو رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ایف بی ا?ر سے 139 ارب روپے کم موصول ہوئے ہیں جبکہ صوبائی محاصل میں بھی 35ارب اور 90 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔
    حکومتی اخراجات 300 ارب ، نوے کروڑ روپے ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت کو 28ارب، نوے کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن کے ساتھ ضروری ماہانہ اخراجات 143 ارب روپے ہیں۔ حکومت بیرونی امدادی منصوبوں میں انفرا اسٹرکچر، سماجی تحفظ اور سماجی خدمات کو ترجیح دے رہی ہے۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں 70 فیصد صوبہ متاثر ہوا۔ ایک کروڑ 20 لاکھ افراد بیگھر اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ حکومت سندھ نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کیا اور 20 ارب ڈالر نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ جینیوا میں پاکستان موسمیاتی کانفرنس میں 11 ارب 60 کروڑ ڈالر کا بحالی منصوبہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق رواں مالی سال کے 959 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں انفرا اسٹرکچر، تعلیم، صحت اور زراعت کی بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے۔
    پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام میں پیش رفت جاری ہے۔ سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو ایشیا کا چھٹا بہترین یونٹ قرار دیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے۔ شمسی توانائی کے منصوبے سے 3 لاکھ 60 ہزار افراد مستفیذ ہو رہے ہیں۔ حکومت سندھ بحالی اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں کیلیے پرعزم ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے مقامی اداروں کا 23-2022 کے 82 ارب روپے کے مقابلے میں بجٹ بڑھا کر 267 ارب روپے کردیا ہے اور خصوصی پروگرام کے تحت ان کی صلاحیتوں میں ضافے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے مقامی انتخابات کرائے اور اختیارات منتخب اداروں کو منتقل کیے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ سسٹم میں پانی کی کمی کی وجہ سے سندھ کو پانی کے بحران کا سامنا ہوگا اور زراعت تباہ ہوجائیگی۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں ہندووں سے متعلق ایک سوال سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ہندو پرامن طور پر مقیم ہیں۔ انہوں نے ہندو مسلم بھائی چارے کا ذکر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ عام انتخابات کے دوران سندھ میں ایک رکن قومی اسمبلی اور دو رکن صوبائی اسمبلی ہندو منتخب ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات: اسلام کی تبلیغ اور اتحاد پر زور

    سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے

  • اسرائیل کےناپاک عزائم پرامت مسلمہ کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں‘حافظ نعیم الرحمن

    اسرائیل کےناپاک عزائم پرامت مسلمہ کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں‘حافظ نعیم الرحمن

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے آگے بڑھ رہا ہے اور امت مسلمہ کے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں.

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کحاٍط نعیم کا کہنا تھا کہ اہل غزہ کی جرات و بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں، جماعت اسلامی رواں ہفتہ اہل فلسطین و لبنان سے یکجہتی کے طور پر منائے گی، آج ( بدھ)چترال، 4 اکتوبر کو فیصل ابادمیں جلسے ہوں گے، 6 اکتوبر کو کراچی اور 7 اکتوبر کو اسلام اباد میں ملین مارچ ہوں گے،سات اکتوبر وفاقی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں بھی اظہاریکجہتی کے طور پر منایا جائے گا، تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں گھروں سے نکلیں اورپوری دنیا کو بتا دیں کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، مشترکہ احتجاج کے لیے پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں گے، اسے گلوبل بنانے کے لیے عالمی اسلامی تحریکوں سے بھی بات کی جائے گی،حکومت کی معاشی دہشتگردی کے خلاف حق دو عوام کو تحریک جاری ہے، حکمرانوں نے معاہدوں سے انحراف کیا ہے، 7اکتوبر کے بعد تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا، احتجاجی سرگرمیاں پوری شدت سے دوبارہ شروع ہوں گی۔

    کراچی کیلیے خوشخبری، 12 چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار

    ا نائب امیر جماعت اسلامی میاں اسلم، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور ڈائریکٹر سوشل و ڈیجیٹل میڈیا سلمان شیخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی اعلی ترین عدالت واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے، اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے ، موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی ذمہ داری چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر عائد ہوتی ہے، وہ اعلان کریں کہ آئینی ترمیم ہویا نہ ہو وہ ایکسٹینشن نہیں لیں گے۔
    منصور علی شاہ نئے چیف جسٹس آف پاکستان ہوں۔ آئینی ترمیم پر چوری چھپے رات کی تاریکیوں میںملاقاتیں نہیں ہونی چاہیں ۔امیر جماعت نے کہا کہ مصر سے عراق تک گریٹر اسرائیل صیہونیوں کا عقیدہ بن چکا ہے، اگر اسلامی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خاموش رہنے سے بچ جائیں گے تو واضح کرنا چاہتا ہوں کسی کو اسرائیل سے دوستی یا سازباز کرکے نجات نہیں مل سکے گی، اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف تمام جماعتوں سے مشترکہ احتجاج کے لئے رابطے شروع کردیئے گئے۔
    انھوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کا اہم ترین مسئلہ غزہ لبنان اور یمن پر اسرائیلی جارحیت ہے، اسرائیل دہشتگردی کرتے ہوئے آبادیوں کو بمباری کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے اور لبنان میں فوجیں داخل کرنے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ غزہ قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے،نہتے لوگوں کا قتل عام جاری ہے، 45 ہزار فلسطینیوں کی میتیں مل چکی ہیں جن میں 30 ہزار بچے اور خواتین شامل ہیں، سکولوں،خیمہ بستیوں مساجد،گرجا گھروں سمیت تمام عمارتوں کو اسرائیل نے بمباری کا نشانہ بنایا،ہزاروں نعشیں ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں،اس ظلم و جبر کے باوجود استقامت کے مظاہرے پر اہل غزہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
    انھوں نے کہا کہ بھارت کی بھی اسرائیل کو حمایت حاصل ہے اور بھارت اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا۔ امیر جماعت نے کہا کہ فارم 47سے بننے والی حکومت کی کوئی ساکھ نہیں، یہ آئینی ترمیم نہیں کر سکتی، سیاسی جماعتیں حکومتی جال میں نہ آئیں اور مکمل طور پر آئینی ترامیم کو مسترد کر دیں، نئے چیف جسٹس کے آنے کے بعد ترامیم کے مسئلے کو دیکھا جا سکتا ہے وہ بھی صرف مفاد عامہ کے لئے ہوں، اگر اس وقت ترامیم کی جاتی ہیں تو یہ طالع آزماؤں کو قوت پہنچانے کے مترادف ہو گی۔
    مرضی کا چیف جسٹس مرضی کا جج مرضی کی عدلیہ مرضی کا انصاف یہی تو طالع آزما چاہتے ہیں،اسی کو آمرانہ ذہنیت کہتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اشتراک عمل کے تحت سیاسی جماعتوں میں مشترکہ ایجنڈے پر بات ہو سکتی ہے، اس وقت غزہ فلسطین لبنان یمن کے معاملات ہیں، اپنی عوامی تحریک کے حوالے سے واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکمرانوں کو پسپائی پر مجبور کر دیں گے، عوام کا حق لے کر رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی سمیت دیگر جماعتیں واضح پیغام دیں کہ وہ حماس کے ساتھ ہیں۔

  • کراچی کیلیے خوشخبری، 12 چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار

    کراچی کیلیے خوشخبری، 12 چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار

    بارہ چینی کمپنیوں نے کراچی میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے چیئرمین چائنا بیلٹ اینڈ روڈ گروپ مسٹر وین زیائو کی قیادت میں ملنے والے چینی سرمایہ کاروں کے وفد کو کراچی میں سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی۔ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ کی معاونت وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور تواناتی ناصر حسین شاہ، وزیر بلدیات سعید غنی، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ نے کی۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت چین کی سرکاری اور نجی کمپنیوں کے اپنی مرضی کے منصوبوں میں براہ راست سرمایہ کاری یا حکومت سندھ کے ساتھ شراکت کریں، ہم دونوں صورتوں میں خیرمقدم کریں گے۔چیئرمین بیلٹ اینڈ روڈ نے کہا کہ چین کی بارہ سے زیادہ کمپنیاں کراچی میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان میں کچرے سے توانائی بنانا، گندے پانی کی صفائی، کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ، الیکٹرک بسوں کی تیاری، پیٹرول بائیکس کو الیکٹرک توانائی پر منتقل کرنے والی کٹس کی تیاری اور شہر کے نکاسی کے نظام کی تعمیر نو کے منصوبے شامل ہیں۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت چینی کمپنیوں کو پلانٹ لگانے کیلیے تمام ضروری سہولیات مہیا کرے گی۔ وزیراعلیٰ اور چیئرمین بیلٹ اینڈ روڈ گروپ نے اتفاق کیا کہ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور سرمایہ کارری بورڈ کے ساتھ ایک اور اجلاس کریں گے جس میں منصوبوں کے انتخاب اور کام کے آغاز پر بات کی جائے گی۔

    سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے