Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس،گرفتار ملزمان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس،گرفتار ملزمان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے

    میر پور خاص میں توہینِ مذہب کے الزام میں مارے گئے ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کیس میں گرفتار مزید 9 ملزمان کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔عدالت نے اس قتل کیس میں ملزمان کو 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میرپور خاص کے سندھڑی تھانے میں پولیس افسران کے خلاف درج قتل و دہشت گردی کی ایف آئی آر کی بھی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں۔توہینِ مذہب کے الزام میں مارے گئے ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کے مقدمے میں عمر کوٹ کے عمر جان سرہندی، احمدشاہانی، ریاض پنہور کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر شاہنواز کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا، ان کی لاش پر صرف گولیوں کے ہی نہیں بلکہ کندھے، ہاتھ اور ٹانگوں پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں۔
    ورثاء کی 19 رکنی وکلاء کی ٹیم کے سربراہ بیرسٹر اسد اللّٰہ راشدی نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نئے ایکٹ کے مطابق پولیس حراست میں قتل کا معاملہ ایف آئی اے کے پاس جائے گا۔
    انہوں نے بتایا ہے کہ مقامی پولیس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔بیرسٹر اسد اللّٰہ راشدی نے کہا کہ پولیس مقابلے کی ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بڑے تضادات ہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ بنانے والے بھی انکوائری کی زد میں آئیں گے، قتل پر جشن منانے اور سوشل میڈیا پر اکسانے والے بھی جوابدہ ہوں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر شاہنواز کے برادر نسبتی کی مدعیت میں سندھڑی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    ایم کیو ایم نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے،سید امین الحق

  • ایم کیو ایم نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے،سید امین الحق

    ایم کیو ایم نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے،سید امین الحق

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید امین الحق نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پر اس شہر کے لوگ اعتماد کرتے ہیں، ہم ہمیشہ امن کی بات کرتے ہیں.

    باغی ٹٰی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوسائٹی ٹاؤن کے تحت محفل زکر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شرکت کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا انکا مزید کہنا تھا کہ اگر سب ساتھ ملکر چلیں گے تو صوبہ ترقی کرے گا، کشمیر میں مسلمانوں پر خون بہایا جا رہا ہے، فلسطین اور لبنان میں روزانہ کی بنیادوں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، پاکستانی قوم ہمیشہ اپنے بھائیوں نے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، ہم نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ ایم کیو ایم سمجھتی ہے کراچی کے میئر کے ساتھ دیگر شہروں کے میئر بھی با اختیار ہونے چاہئیں، اس لیے قومی اسمبلی میں آئین میں ترمیم کا مسودہ پیش کیا ہے۔ ایم نے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے اور صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی خدمت کو ترجیح دی، ایم کیو ایم کی کاوشوں کی وجہ سے مردم شماری میں کراچی کی آبادی بڑھی نتیجتاً شہری سندھ میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں کا اضافہ ہوا۔ آج ہماری کوششوں کی بدولت کے فور منصوبے پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہم نے شہر کے انفراسٹرکچر کو بہتر کیا۔ شہر میں فلائی اوور اور انڈر پاسز کا جال بچھایا۔

    ایم کیو ایم کا 30ستمبر1988ءسانحہ حیدرآباد شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش

    انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد میں 544 طلبہ و طالبات کا ایڈمیشن ہوا جبکہ کراچی میں 32 ارب کی لاگت سے آئی ٹی پارک بننے جا رہا ہے، طالب علموں کے مسائل پر خصوصی توجہ مرکوز ہے، ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں آؤٹ آف دی سلیبس سوالات پوچھے گئے جس پر انکے مسئلے کو ہر سطح پر اٹھائیں گے نیز صوبائی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ایم ڈی کیٹ کے طلبہ و طالبات امتحانی مراکز نہ پہنچ سکے۔ ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں طلبہ و طالبات کے لیے امتحانی مراکز بھی کم بنائے گئے تھے۔ اس صوبے پر جن لوگوں کی حکومت ہے وہ آپ لوگوں کا خیال نہیں رکھتے، ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں سود کو ختم کرنے متعلق قرارداد جمع کروا دی ہے۔

  • گورنر سندھ نے ارشد ندیم کو کراچی میرا تھن کابرانڈ ایمبیسیڈر مقرر کردیا

    گورنر سندھ نے ارشد ندیم کو کراچی میرا تھن کابرانڈ ایمبیسیڈر مقرر کردیا

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی ضلع خانیوال میاں چنوں آمد، گورنر سندھ نے اولمپئین ارشد ندیم سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر سندھ نے قومی ہیرو کو اولمپکس میں ملک وقوم کانام روشن کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ارشد ندیم کو کراچی میرا تھن کابرانڈ ایمبیسیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا، اس ضمن میں ارشد ندیم کو کراچی میرا تھن کا برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کرنے کے ایم او یو پر بھی دستخط کیئے گئے۔
    گورنر سندھ نے کہا کہ ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کر دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا، قومی ہیرو کاکراچی آمد پر والہانہ استقبال بھی کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ ایک گائوں سے نکل کر دنیا میں ملک کا نام روشن کرنے والے ہیرو کو سلام پیش کرتا ہوں، گورنر سندھ نے ارشد ندیم کی درخواست پر گا?ں کی مسجد کا کام مکمل کرانے کا بھی اعلان کیا، قومی ہیرو کی زندگی نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ارشد ندیم کی تجویز پر کراچی میں جنوری میں 60 سے زائد کھیلوں کے مقابلے کرائے جائینگے۔

    ایم کیو ایم کا 30ستمبر1988ءسانحہ حیدرآباد شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اولمپئین ارشدندیم کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم صلاحیتوں میں دنیا میں کسی سے کم نہیں، پاکستان ہم سب کا ملک ہے ملکر کر اسے ترقی دلائینگے، گورنر سندھ نے کہا کہ والہانہ استقبال پر میاں چنوں کے عوام کا شکر گزار ہوں، انہوں نے مزید کہا کہ گورنر ہائوس سندھ کے دروازے عوام کیلئے کھلے ہیں، پنجاب کی ترقی کیلئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز بہترین کام کررہی ہیں، میڈیا کی جانب ایک سوال کے جواب میں گورنر سندھ نے کہا کہ بلوچستان واقعات میں بیرونی عناصر بھی ملوث ہوسکتے ہیں، دشمن نہیں چاہتا کہ ملک ترقی کرے ،ان کو منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔

  • ایم کیو ایم کا 30ستمبر1988ءسانحہ حیدرآباد شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش

    ایم کیو ایم کا 30ستمبر1988ءسانحہ حیدرآباد شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا سانحہ حیدرآباد 30ستمبر1988 میں شہید ہونے والوں کی پینتیسویں برسی کے موقع پر شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سانحہ حیدرآباد کو بیتے گو کہ ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے مگر اس کے اثرات آج بھی متاثرہ خاندانوں کے ذہن میں نقش ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ 30ستمبر1988ء کے دن جس طرح جدید اسلحے سے لیس تعصب اور نفرت زدہ ذہنیت نے پاکستان کی محبت سے لبریز افراد کو موت کے گھاٹ اتارا اُس کی نظیر مُلک تو کیا دُنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کی پاداش میں مُلک بنانے والوں پر وُہ ظُلم کے پہاڑ توڑے گئے جن کے آگے ہلاکو اور چنگیز خان کی سفاکیت بھی ماند پڑ گئی، لطیف آباد گاڑی کھاتہ پریٹ آباد مارکیٹ چوک غرض پُورے حیدرآباد شہر کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مجرموں کو تختہ دار تک لایا جاتا مگر افسوس کہ مُلک بنانے والے اور اُن کی اولادوں کو ہی تختہ مشق بنا کر اِس سفاک سلسلے کو جاری رہنے دیا گیا، مجرمان آج بھی دندناتے ہوئے گھوم رہے ہیں، 1971ء میں ملک کو دولخت کرنے والے عناصر ہی سانحہ حیدرآباد پکا قلعہ قصبہ علی گڑھ سہراب گوٹھ 12 مئی کے پسِ پردہ سہولت کار تھے کیوں کہ اُنھیں کہیں کوالٹی تو کہیں کوانٹٹی سے خطرہ لاحق تھا آج بھی وہی سازشی عناصر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لئے زور لگا رہے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ تمام شواھد کی موجودگی کے باوجود عدالتوں کا آنکھوں کو بند رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اِس مُلک کا عدالتی نظام صرف فرزندان زمین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہے۔

    کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم پر46 فیصد سے زائد کام مکمل

  • کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم پر46 فیصد سے زائد کام مکمل

    کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم پر46 فیصد سے زائد کام مکمل

    کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم (کے فور) پر اب تک 46 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے۔

    باغی ٹی وی کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کی تعمیر پر اب تک 59.5 ارب روپے کی رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ 126 ارب روپے کے منظور شدہ پی سی ون منصوبے کا پہلا مرحلہ دسمبر 2025 میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کے مختلف مقامات بشمول انٹیک ورکس، پمپنگ اسٹیشنز، پریشرڈ پائپ لائن، ایکسیس روڈ، پروجیکٹ آفسز اور پراجیکٹ کالونی پر تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہے۔کے فور منصوبے کے تحت کراچی کو کینجھر جھیل سے روزانہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ دو مرحلوں میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس وقت واپڈا کراچی کو 260 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تعمیر کر رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں کراچی کو مزید 390 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جائے گا۔

    کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی

  • کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی

    کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی کے حق اور وسائل پر کسی کو سانپ نہیں بننے دیں گے ،پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے ،خود کام کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو مقامی بینکویٹ میں جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن کے چیئرمینوں ،وائس چیئرمینوں اور بلدیاتی ذمہ داران کے ہمراہ بلدیاتی رپورٹر کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا .15 ماہ قبل قابض میئر نے زبردستی منتخب ہو کر حلف اٹھایا اس کے بعد کراچی کے شہری پہلے سے زیادہ اذیت اور کرب کا شکار ہوئے ،کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے ماضی میں بھی صرف جماعت اسلامی نے ہی کراچی کا مقدمہ لڑا اور آئندہ بھی لڑیں گے ،عوام کے حقوق اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات لے کر رہیں گے ،جماعت اسلامی کے 9ٹاؤنز میں 10 ماہ کے دوران اختیارات و فنڈز کی کمی کے باوجود مثالی کام کیے گئے ۔

    حکومت کراچی کے مسائل پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    100 سے زائد پارکوں کو بحال کر کے عوام کے لیے کھولا گیا ،بڑے پیمانے پر شجر کاری کی گئی اور اب اربن فاریسٹ بنارہے ہیں ،31 سرکاری سکولوں کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کی گئی ،38 ہزار سے زائد اسٹریٹ لائٹز نصب کی گئیں، 72 ہزار فٹ سے زائد سیوریج لائنوں کا کام کروایا گیا اور 100 ہزار فٹ پانی کی لائنیں ڈلوائی گئی جن سے 1200 گھرانوں نے پینے کے پانی کی سہولت حاصل کی ،ہمارے ٹاؤن چیئرمینوں نے نئی گاڑیاں خریدنے کے بجائے پرانی اور ناقص گاڑیوں کو قابل استعمال بنا کر کروڑوں روپے کی بچت کی ۔ہمارا عزم ہے کہ بقیہ 4سال میں اپنے 9ٹاؤنز کو شہر کے ماڈل ٹاؤن بنائیں گے ۔تقریب سے جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے خطاب کیا۔
    جبکہ ڈپٹی پارلمانی لیڈر قاضی صدر الدین نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن اور 87 یو سیز میں 10 ماہ کے دوران کیے جانے والے تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے کاموں پر مشتمل پریزنٹیشن پیش کی۔اس موقع پر بلدیاتی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ٹائون چیئر مینز کے ساتھ منعقدہ تقریب کو سراہا اور آئندہ بھی باہمی رابطوں پر زور دیا ۔
    منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے گئے 1973 کے آئین کے تحت اس دور میں بلدیاتی اداروں کو دیے گئے ،اختیارات بھی موجودہ بلدیاتی نظام میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو دینے پر تیار نہیں ،اس کا واضح مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی کو عوامی مسائل کے حل سے کوئی سروکار نہیں ہے یہ صرف مال بنانا چاہتی ہے اور اس نے کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھ رکھا ہے ،16 سال میں کراچی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ،اربوں روپے کا ترقیاتی بجٹ سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔
    کراچی کے عوام بجلی و پانی کے بحران ،صفائی ستھرائی اور سیوریج کے ناقص انتظام ،سڑکوں کی خستہ حالی ،ٹوٹ پھوٹ اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سمیت بے شمار مسائل کا شکار ہیں۔سڑکوں کی تعمیر و استرکاری میں نا اہلی اور کرپشن واضح طور پر کھل کر سامنے آگئی ہے۔حالیہ بارش سے قبل 4ارب روپے کی بنائی گئی سڑکیں بارش میں بہہ گئی۔ایک ماہ سے زائد وقت ہو گیا ہے 14 سڑکوں کی ناقص تعمیر اور ٹوٹ پھوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئی اور اس نااہلی و کرپشن کے کسی ذمہ دار کے خلاف عملا کوئی کاروائی نہیں کی گئی ،وزیر اعلی سندھ ،وزیر بلدیات اور قابض مئیر باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں، شرجیل میمن ہر دو ماہ بعد میڈیا پر ا ٓکر اعلان کرتے ہیں کہ ریڈ لائن پروجیکٹ مکمل ہونے والا ہے لیکن 20 کلومیٹر سے زائد سڑک کھود کر رکھ دی گئی ہے اور یونیورسٹی پر سفر عوام کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے لیکن یہ منصوبہ مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔
    منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی کے ساتھ ہمیشہ زیادتی اور حق تلفی کی گئی ہے ،کراچی 42 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے قومی خزانے میں 67 فیصد اور صوبہ سندھ کے بجٹ کا 96 فیصد حصہ کراچی فراہم کرتا ہے لیکن کراچی کو اس حساب سے عملا کچھ نہیں کچھ نہیں دیا جاتا،شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے اور کراچی کے عوام تاجر اور صنعت کار سب پریشان ہیں ۔جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن چیئرمین سندھ حکومت کے دیے گئے اختیارات وسائل سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں اور وہ کام بھی کروا رہے ہیں جو کہ ایم سی کی ذمہ داری ہے ۔
    ہمارے ٹاؤن چیئرمینوں نے اپنے بجٹ سے سرکاری ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کو ممکن بنایا ،کے ایم سی کی ذمہ داری ہے کہ بارش کے فوری بعد جراثیم کش اسپرے کرائے ، کے ایم سی کے پاس گاڑیاں ،عملہ اور وسائل موجود ہیں ،شہر میں بیماریاں پھیل رہی ہیں لیکن کے ایم سی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔جماعت اسلامی نے الخدمت کے تعاون سے ٹاؤن کی سطح پر بلاتخصیص پورے شہر میں جراثیم کش اسپرے مہم شروع کی ہے اور ہم تمام ٹاؤنز میں فیومیگیشن کرائیں گے ۔
    منعم ظفر خان نے کہاکہ کراچی کے عوام کی بڑی بدقسمتی ہے کہ 19سال سے کے فور کا منصوبہ نا مکمل ہے ،نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے اپنے دور میں کے تھری پروجیکٹ مکمل کیا اور کے فور شروع کیا لیکن ان کے بعد آنے والی کسی حکومت نے اسے مکمل نہیں کیا ۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہاکہ بلدیاتی نظام اور اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے میڈیا اپنا کردار اداکرے کیونکہ دنیا بھر کے ملکوں میں شہروںکو اختیارات اور وسائل دیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں تعمیر و ترقی کے کام ہوتے ہیںاور مسائل حل ہوئے ہیں۔
    2001 میں بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیے گئے جس کے نتیجے میں تعمیر و ترقی کے کام کیے گئے لیکن موجودہ بلدیاتی قانون بدنیتی پر مبنی ہے۔ بلدیاتی قوانین میں ابہام پایا جاتا ہے اوریونین کمیٹی کے پاس صفر اختیارات ہیں۔ سندھ حکومت نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت کوڑا اٹھانے کا نظام بنادیا جس میں یونین کمیٹی اور ٹاؤن چیئرمینز کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہے۔
    پورا نظام بدنیتی پر مبنی ہے ۔ٹاؤن کے ایکسین کے پاس صرف 3 لاکھ روپے کی پاور ہے۔ شہر کے وہ تمام ادارے جو سروسز فراہم کرنے والے ہیں ان سب پر سندھ حکومت نے قبضہ کرلیا ہے جس میں صرف اور صرف کرپشن کی جارہی ہے۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی سندھ حکومت ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرچکی ہے ،ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کو بھی سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی میں تبدیل کردیا گیا۔
    اندرون سندھ سے کرپٹ اور نااہل افسران بھارتی کردیے ہیں جو صرف اور صرف مال کمانے میں مصروف ہیں،وزیر بلدیات سعید غنی صرف اور صرف پوسٹنگ وٹرانسفر پر لگے ہوئے ہیں۔ وزارت بلدیات بدترین صورتحال پر ہے اور کرپشن کا اڈہ بنا ہوا ہے۔وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی زبردستی چیئرمین بنائے گئے ہیں جو اینٹی انکروچمنٹ کے ایم سی کے عملے کو اپنے علاقے میں آنے نہیں دیتے۔
    سعید غنی کے بھائی زبردستی پارکنگ کے پیسے جمع کرتے ہیں جس کا کے ایم سی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میگا پروجیکٹ اور کلک کے نام پر فنڈز فضول خرچ کیا جارہا ہے جس میں ٹاؤن چئیرمینز اور یونین کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ سسٹم کے نام پر ہر ادارے میں بدترین کرپشن کا نظام ہے۔ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز کے علاؤہ باقی ٹاؤنز میں کوئی ڈویلپمنٹ کا کام نظر نہیں آرہا۔
    جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے نہ خود کرپشن کرتے ہیں اور نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ کے ایم سی نے اربوں کھربوں روپے بغیر کسی ٹینڈر کے خرچ کردیے اور بل بنادیے گئے ہیں۔سسٹم کے نام پر کرپشن کا دھندا کراچی کو تباہ و برباد کردے گا۔آج تک سٹی کونسل کی کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی۔ سٹی کونسل میں کوئی بھی فیصلہ رائے شماری سے نہیں کیا جاتا۔کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی ،قابض مئیر آمرانہ سوچ کے تحت کام کررہے ہیں ۔

  • حکومت کراچی کے مسائل پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    حکومت کراچی کے مسائل پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کراچی کے مسائل پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، بارشوں کے بعد ہی شہر کی سڑکوں کی مرمت کا کام شروع کیا گیا۔مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ 1.5 ارب روپے کے ایم سی کو سڑکوں کی مرمت کیلئے جاری کرچکی، کراچی کے مختلف منصوبوں پر 200 ارب روپے خرچ کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے اہم پروجیکٹس پر کام تیزی سے جاری ہے۔ ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی منصوبے مکمل ہونے سے ٹرانسپورٹ کے مسائل میں کافی حد تک بہتری آئے گی۔

    لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصر اللہ کا جسد خاکی مل گیا

  • بے گناہ مزدوروں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں، وزیر داخلہ

    بے گناہ مزدوروں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں، وزیر داخلہ

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی پنجگور کے علاقے میں فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ مزدوروں کے قتل میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ نے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ زخمی مزدور کی جلد صحت یابی کیلیے دعا بھی کی۔محسن نقوی نے کہا کہ تمام تر ہمدردیاں جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کے ساتھ ہیں، غم کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    واضح رہے کہ پنجگور کے علاقے خدا بدن میں مسلح افراد نے گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 7 مزدور جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوا ہے۔

    آئینی مسودہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تیار کیاہے،شرجیل میمن

    پاک انڈونیشیا کے مابین گہرا رشتہ احترام اور اقدار پر مشتمل ہیں،گورنر سندھ

  • آئینی مسودہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تیار کیاہے،شرجیل میمن

    آئینی مسودہ مولانا فضل الرحمان نے بھی تیار کیاہے،شرجیل میمن

    کراچی(باغی ٹی وی) سندھ کے سنئیر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت میں طے ہوا تھا کہ عدالتی اصلاحات لائی جائیں۔ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ آئینی ترامیم کیلئے اتفاق رائے پیدا ہو۔اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے پی ٹی آئی سمیت سب سے بات ہوگی۔آئینی ترامیم میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے۔ پی ٹی آئی نہیں چاہتی کہ ملک میں کوئی بھی کام ٹھیک نہ ہو۔ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو کسی نہ کسی طرح فائدہ۔پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ لوگوں کو مسائل ہوتے رہیں اور انصاف نہ ملے۔ آئینی مسودہ مولانا فضل الرحمان نے بھی بنایا ہے۔

    واضح رہے کہ آئینی پیکیج پر اتفاق رائے نہ ہونے کے ہفتوں بعد حکومت اسے جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اسے امید ہے کہ پیکیج کی منظوری کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کر لے گی۔ سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ آئینی پیکیج اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ایوان میں پیش کیا جائے گا۔تاہم عرفان صدیقی نے اتفاق کیا کہ خاص طور پر سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰٰن کی حمایت کے بغیر آئینی ترامیم کا منظور ہونا ممکن نہیں ہے۔
    ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحاد اس حوالے سے سربراہ جے یو آئی (ف) کے ساتھ رابطے میں ہے، جنہوں نے آئینی عدالت کے تصور کی حمایت کی ہے لیکن وہ اہم معاملات پر وضاحت چاہتے ہیں، جس میں ججز کی تعداد، تقرر کا طریقہ کار، مدت، ریٹائرمنٹ کی عمر اور سروس سٹرکچر شامل ہیں۔

    تنخواہوں کی عدم ادائیگی،جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹرز کا 3 دن کا الٹی میٹم

    پاک انڈونیشیا کے مابین گہرا رشتہ احترام اور اقدار پر مشتمل ہیں،گورنر سندھ

  • تنخواہوں کی عدم ادائیگی،جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹرز کا 3 دن کا الٹی میٹم

    تنخواہوں کی عدم ادائیگی،جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹرز کا 3 دن کا الٹی میٹم

    جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹرز نے انتظامیہ و محکمہ صحت کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں تو سروسز کا بائیکاٹ کریں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق چار ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹرز نے احتجاج کیا۔ڈاکٹرز نے انتظامیہ اور محکمہ صحت سندھ کو تین دن کا الٹی میٹم دے دیا اور کہا اگر بدھ تک تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں تو اسپتال کی سروسز کا بائیکاٹ کریں گے۔
    مظاہرین نے کہا کہ ہمیں 4 ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو تنخواہیں نہیں دی گئی۔جناح اسپتال کے ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ 4ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی، سنگین ماہی بحران کا شکار ہیں گھر کے امور چلانا مشکل ہوگیا ہے، اس حوالے سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو صورتحال سے آگاہ کرچکے ہیں۔
    مظاہرین نے کہا اسپتال انتظامیہ مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، دوپہر 12 بجے کے بعد او پی ڈی سروس بند کردیں گے۔ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ اسپتال میں آنیوالے مریضوں کے لئے ایکسرے ،الٹرا ساونڈ ،ایم آر آئی سمیت مختلف ٹیسٹ چیلنج بن چکے ہیں، مریضوں کواسپتال میں ادویات تک فراہم نہیں کی جاتیں، جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں بنیادی سہولتیں بھی نہیں۔

    پاک انڈونیشیا کے مابین گہرا رشتہ احترام اور اقدار پر مشتمل ہیں،گورنر سندھ