Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ریسٹورنٹس اور ریٹیلرز کی جعلی رسیدوں کی رپورٹنگ پر انعامات، ایف بی آر کا نیا اقدام

    ریسٹورنٹس اور ریٹیلرز کی جعلی رسیدوں کی رپورٹنگ پر انعامات، ایف بی آر کا نیا اقدام

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے عوام کو ٹیکس نظام میں شفافیت کو فروغ دینے اور ٹیکس چوری کے تدارک کے لیے نیا اقدام اٹھاتے ہوئے ریسٹورنٹس اور ریٹیلرز کی جعلی رسیدیں رپورٹ کرنے پر 20 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایف بی آر کا یہ اقدام ٹیکس وصولی کو بہتر بنانے اور عوام کو ٹیکس سے متعلق آگاہی دینے کے لئے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ایف بی آر کے مطابق شہری اپنے موبائل فون پر ٹیکس آسان ایپ کے ذریعے کسی بھی ریسٹورنٹ یا ریٹیلر کی جاری کردہ رسید کے کیو آر کوڈ کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ اس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی شخص خریداری کے دوران جاری کی گئی رسید کا معائنہ کر سکتا ہے اور یہ جان سکتا ہے کہ آیا یہ رسید حقیقی ہے یا جعلی۔ اگر کیو آر کوڈ کی مدد سے یہ تصدیق ہو جائے کہ رسید جعلی ہے تو صارف کو موقع پر ہی جیو ٹریکنگ کی مدد سے ایف بی آر کو رپورٹ کرنے کا اختیار ہوگا۔
    ایف بی آر نے مزید وضاحت دی ہے کہ یہ رپورٹنگ کرنے کا طریقہ کار اور دیگر تفصیلات اس کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں تاکہ عوام اس عمل کو آسانی سے سمجھ سکیں اور اس مہم میں حصہ لے سکیں۔ اس کے ساتھ ایف بی آر نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف ان رسیدوں کی رپورٹنگ کریں جو کہ حقیقی معنوں میں مشکوک ہوں اور رسید کی عدم تصدیق کی صورت میں فوری طور پر رپورٹ کی جائے۔حکام کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے اس اقدام کا مقصد ملک میں ٹیکس چوری کو روکنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے عام شہری ٹیکس چوری کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کرسکیں گے اور ان کے تعاون سے ایف بی آر کو ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لئے مدد ملے گی۔ایف بی آر کے اس اقدام کو عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے نہ صرف ٹیکس نظام کی شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک میں ٹیکس چوری کے مسائل کو بھی کافی حد تک کم کیا جا سکے گا۔

  • بلوچستان میں عدم تحفظ پر گہری تشویش ہے، محمود خان اچکزئی

    کوئٹہ: ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک جنگی ماحول پایا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بیان کوئٹہ سے جاری کیا گیا، جہاں انہوں نے بلوچستان کی سڑکوں کی عدم تحفظ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی شاہراہوں پر درجنوں افراد کے قتل اور ٹرکوں کو جلا دینے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔اچکزئی نے کہا کہ ملک میں انصاف کا معیار سب کے سامنے ہے، اور اس صورتحال کے سبب جمہوریت کو کمزور سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دکی میں غریب مزدوروں کے قتل کا ذکر کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ گاڑیوں کو کون آگ لگاتا ہے، اور قیام امن کے لیے ہم ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی کے فلور پر صرف باتیں کی جاتی ہیں اور کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ "ووٹ کو عزت دو” کے نعرے کے تحت آئین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ یہ الفاظ اچکزئی کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ امن و انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔محمود خان اچکزئی نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اس جنگی ماحول سے نکلنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اور عوامی نمائندوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ ان کی اس گفتگو نے بلوچستان کے عوام کی مشکلات کی عکاسی کی ہے اور ایک مرتبہ پھر سیکیورٹی اور انصاف کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔

  • رضوان قومی ٹیم کے کپتان، سلمان علی آغا وائٹ بال کے نائب کپتان مقرر

    رضوان قومی ٹیم کے کپتان، سلمان علی آغا وائٹ بال کے نائب کپتان مقرر

    لاہور: چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے محمد رضوان کو قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان اور سلمان علی آغا کو وائٹ بال ٹیم کا نائب کپتان مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان لاہور میں پی سی بی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس میں سلیکٹر عاقب جاوید اور محمد رضوان بھی موجود تھے۔محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ رضوان کو کپتان بنانے کا فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیا گیا ہے اور ینگ ٹیلنٹ کو ٹیم میں شامل کرنے پر زور دیا گیا۔ بابر اعظم کی کپتانی سے متعلق سوال پر محسن نقوی نے کہا کہ بابر اعظم پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کے استعفے کے بعد نئے کپتان کی تعیناتی کیلئے تمام سے مشاورت کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابر اعظم نے اپنی مرضی سے عہدہ چھوڑا، اور یہ فیصلہ ان پر کسی قسم کا دباؤ ڈالے بغیر کیا گیا۔
    چیئرمین پی سی بی نے عاقب جاوید کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت نے ٹیسٹ سیریز میں کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "عاقب جاوید کی محنت کو سراہتا ہوں، انہیں بورڈ میں شامل کرنے میں کچھ تاخیر ہوئی لیکن وہ ایک بہترین انتخاب ثابت ہوئے ہیں۔پریس کانفرنس میں فخر زمان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ فخر زمان کا مسئلہ فٹنس کا ہے اور اگر سلیکشن کمیٹی کسی کھلاڑی کو منتخب نہیں کرتی تو اس پر سوشل میڈیا پر بیانات دینا مناسب نہیں۔
    سلیکٹر عاقب جاوید نے اس موقع پر کہا کہ ملتان اور پنڈی کے گراؤنڈ اسٹاف نے پچ کی بہتری کے لیے بھرپور محنت کی ہے اور ہمیں اپنی ہوم سیریز میں اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑی بیٹنگ اور باؤلنگ میں مزید بہتری لا سکتے ہیں۔نئے کپتان محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ان کا فوکس لانگ ٹرم کامیابی پر ہے اور سلمان علی آغا کے ساتھ ان کا کمبی نیشن بہترین ثابت ہوگا۔

  • سندھ میں عوامی سہولیات اور پارکس کا فقدان ہے، مفتاح اسماعیل

    سندھ میں عوامی سہولیات اور پارکس کا فقدان ہے، مفتاح اسماعیل

    سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حیدر آباد میں اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے عوام پاکستان پارٹی کی طرف سے منعقدہ اس پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعلیٰ کے اپنے حلقے میں کوئی اچھا پارک نہیں ہے، جو عوامی سہولیات کی عدم دستیابی کا واضح ثبوت ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو 2008 سے لے کر اب تک سندھ کے عوام کے لیے کچھ اہم تبدیلیاں لانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے حیدر آباد اور سندھ کے دیگر علاقوں کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کو وہ سہولیات فراہم نہیں کیں جن کی انہیں ضرورت تھی۔سابق وزیر خزانہ نے حیدر آباد میں درپیش اہم مسائل کا ذکر کیا، جن میں سڑکوں کی خراب حالت، پینے کے پانی کی قلت، بجلی کی لوڈشیڈنگ، اور بے روزگاری شامل ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر رانی باغ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اور دیگر پارک مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو تفریحی مقامات کی کمی کا سامنا ہے۔
    مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ کراچی کو چھوڑ کر سندھ بھر میں کوئی بھی فیملی پارک موجود نہیں ہے، جو کہ عوام کی بنیادی تفریحی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکامی کی علامت ہے۔ انہوں نے عوامی تفریح کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے حکومت کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا۔مفتاح اسماعیل نے عوام کو یقین دلایا کہ اگر انہیں موقع دیا گیا تو وہ پورے سندھ میں بہتر حکمرانی کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے تاریخی تناظر میں یاد دلایا کہ حیدر آباد میں کسی دور میں ٹیسٹ میچز منعقد ہوا کرتے تھے، جس کا اب دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے۔اس پریس کانفرنس نے سندھ کی موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ایک نئے سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے اور عوامی سہولیات کی کمی کی جانب توجہ دلائی ہے۔ مفتاح اسماعیل کی یہ تقریر عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پارٹی کی ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہے۔

  • ایف بی آر میں ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت تنظیم نو: وزیراعظم کی منظوری سے کسٹمز میں اہم تبدیلیاں

    ایف بی آر میں ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت تنظیم نو: وزیراعظم کی منظوری سے کسٹمز میں اہم تبدیلیاں

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں مخصوص تبدیلیاں وزیراعظم کی منظوری سے ادارے کے ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت کی گئی ہیں، جس کا مقصد کسٹمز کے اندرونی نظام کو مزید مؤثر اور بہتر بنانا ہے۔ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (کسٹمز) کا مینڈیٹ اور فرائض جوں کے توں برقرار رہیں گے۔ اس ضمن میں تنظیم نو کا بنیادی مقصد کسٹمز کے شعبے میں موجود دوہرے کردار کو ختم کرنا ہے۔ ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت غیر ضروری علاقائی دفاتر کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ان علاقوں میں صرف وہی دفاتر برقرار رکھے جائیں گے جنہیں ناگزیر سمجھا گیا ہے۔
    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسٹمز کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، اور ضبط شدہ سامان کی مالیت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کامیابی کے نتیجے میں محصولات کی وصولی میں ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی غیر معمولی رہی ہے۔ایف بی آر کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کسٹمز نے محدود وسائل کے باوجود بہترین نتائج فراہم کیے ہیں۔ اب انہیں اہم ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے، جو کہ مستقبل میں اسمگلنگ روکنے اور محصولات بڑھانے کے لئے معاون ثابت ہو گی۔ یہ تبدیلیاں وزیراعظم کی منظوری سے لائی گئی ہیں، اور اس کا مقصد ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے کارکردگی میں مزید بہتری لانا ہے تاکہ قومی خزانے کو بہتر طور پر محفوظ کیا جا سکے اور اسمگلنگ جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔

  • چینی سفیر کی جانب سے پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی پر زور

    چینی سفیر کی جانب سے پاکستان میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی پر زور

    اسلام آباد: پاکستان میں تعینات چینی سفیر جیانگ زیدونگ نے حال ہی میں چینی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کو مکمل کامیاب قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ چینی شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشتگرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ جمعہ کو چینی سفارت خانے میں صحافیوں کے ایک منتخب گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے، جیانگ زیدونگ نے کہا کہ "چینی اہلکاروں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ وہ ملک کی ترقی میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "چینی باشندے بے گناہ ہیں اور انہیں اس طرح کی قربانی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔”
    چینی سفیر نے حالیہ دورے کے دوران پاکستانی قیادت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کا ذکر کیا، جس میں حکومت کا دہشتگردی کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا عزم شامل ہے۔ انہوں نے کہا، "چینی وزیر اعظم کے دورے کے دوران، پاکستانی قیادت نے یقین دلایا کہ وہ چینی اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنائیں گے۔سفیر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چینی شہریوں پر رواں سال دوسرا دہشتگردانہ حملہ ہوا ہے، جس میں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر دو چینی انجینئرز ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا، "یہ قابل قبول نہیں ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان اپنے بیانات کو ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرے گی۔”
    جیانگ زیدونگ نے مزید کہا کہ ان کا ملک انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور اس لعنت کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کے اعلیٰ سطح کے منصوبوں کے لیے اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے۔چینی سفیر نے چینی وزیراعظم کے دورے کے نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ مسلسل اعلیٰ سطح کے تبادلوں کی علامت ہے، خاص طور پر پاکستان کی نئی حکومت کے قیام کے بعد سے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا، جو کہ ایک غیر معمولی اقدام ہے کیونکہ چینی صدر عام طور پر صرف سربراہان مملکت کو پیغامات بھیجتے ہیں۔
    انہوں نے اس دوستی کو مضبوط دو طرفہ تعلقات اور سربراہ مملکت کی سفارتکاری کی کامیابی قرار دیا، اور کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے تعلقات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک سینیئر چینی سفارتکار نے بھی صحافیوں کو وزیراعظم لی چیانگ کے دورے کے بارے میں بریفنگ دی، جسے مکمل طور پر کامیاب قرار دیا گیا۔ یہ بات چینی حکومت کی پاکستان کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون کی راہ ہموار کرتی ہے۔

  • عمران خان کی رہائی تک پرامن احتجاج جاری رکھیں گے،علیمہ خان

    عمران خان کی رہائی تک پرامن احتجاج جاری رکھیں گے،علیمہ خان

    تحریک انصاف کی بانی چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خان نے جہلم جیل سے رہائی کے بعد اہم بیان جاری کیا، کہتی ہیں عمران خان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں، انہیں فوری رہا کیا جائے۔
    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ، علیمہ خان نے ڈسٹرکٹ جیل جہلم سے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف اس وقت کوئی قانونی مقدمہ نہیں ہے اور انہیں بلاوجہ قید رکھا گیا ہے، ان کی رہائی کے لیے پرامن احتجاج جاری رہے گا اور ہم اپنا آئینی حق ہر حال میں استعمال کریں گے۔علیمہ خان نے جہلم جیل کی حالت زار اور وہاں قید تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں تقریباً 400 کارکن بھی قید ہیں جنہیں حکومتی ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ علیمہ خان نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر قسم کے قانونی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ علیمہ خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انہیں اور دیگر کارکنان کو گرفتار کرتے وقت وہ پرامن احتجاج کی تیاری میں تھے، ابھی احتجاج شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمارا آئینی حق چھیننے کی کوشش کی، لیکن ہم پرامن احتجاج ضرور کریں گے اور جب آئین ہمیں احتجاج کا حق دیتا ہے تو کوئی بھی ہمیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔
    علیمہ خان نے تین ہفتے جیل میں گزارنے کے تجربے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس مدت میں انہوں نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ عمران خان کس طرح کی زندگی گزار رہے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل میں رہنا اگرچہ آسان نہیں ہوتا، لیکن جب مقصد بڑا ہو تو یہ مشکل بھی قابلِ برداشت ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ ہم چپ رہیں گے، تو یہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہمیں چاہے 100 مرتبہ جیل میں ڈالا جائے، ہم چپ نہیں بیٹھیں گے اور عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔علیمہ خان کے ساتھ موجود عظمیٰ خان نے بھی اس موقع پر اپنی آواز بلند کی اور کہا کہ جس مقصد کے لیے وہ نکلے ہیں، اس کے لیے کوئی بھی قربانی بڑی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہر حال میں ثابت قدم رہیں گے۔

  • نواز شریف کے لندن جانے کے شیڈول میں ممکنہ تبدیلیوں کے امکانات

    نواز شریف کے لندن جانے کے شیڈول میں ممکنہ تبدیلیوں کے امکانات

    سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کے لندن جانے کے شیڈول میں ممکنہ تبدیلیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، نواز شریف آج دبئی پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کے لندن پہنچنے کے بارے میں ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ابتدائی شیڈول کے مطابق، نواز شریف نے دبئی میں ایک دن قیام کے بعد ہفتے کو لندن پہنچنا تھا۔ تاہم، اب یہ ممکن ہے کہ ان کی لندن آمد منگل تک مؤخر ہو جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے لندن پہنچنے پر (ن) لیگ برطانیہ نے ان کے پرجوش استقبال کا اعلان کیا ہے، جو ان کی جماعت کی طرف سے ایک اہم اقدام ہوگا۔ پارٹی کارکنان اور رہنما نواز شریف کے استقبال کے لیے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں۔
    اس کے علاوہ، پارٹی کے اہم رہنما مریم نواز، جو وزیراعلیٰ بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ نومبر کے پہلے ہفتے میں لندن پہنچیں گی۔ یہ دونوں رہنما ایک ساتھ یورپ کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نواز شریف کا لندن میں مختصر قیام کرنے کے بعد، ان کا امریکہ جانے کا بھی امکان ہے، جہاں وہ مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ ان کی یہ دورے پارٹی کے لیے اہمیت کے حامل ہیں اور ان سے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی حکمت عملی پر اثر انداز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ پارٹی کے کارکنان اور حامی اس دوران نواز شریف کی سیاسی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار کر رہے ہیں، جو پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

  • امریکی صدارتی انتخابات میں ہیرس اور ٹرمپ کے درمیان زبردست مقابلے کی توقع

    امریکی صدارتی انتخابات میں ہیرس اور ٹرمپ کے درمیان زبردست مقابلے کی توقع

    امریکی صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف پولز کے نتائج منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ہیں، جن میں حکومتی جماعت ڈیموکریٹک کی کملا ہیرس اور ریپبلکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ حالیہ سی این این پول کے مطابق، کملا ہیرس کو 48 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ 47 فیصد کے ساتھ ان کے پیچھے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اس صدارتی دوڑ میں کوئی واضح لیڈر موجود نہیں ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ ووٹرز کا ذہن اس وقت تک مکمل طور پر کسی ایک امیدوار کے حق میں تیار نہیں ہوا ہے۔
    اس پول کے مطابق، دو فیصد ووٹرز نے لیبرٹیرین کے چیس اولیور کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جبکہ ایک فیصد ووٹرز گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹین کے حق میں ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی سیاست میں تیسری پارٹیوں کی موجودگی بھی کمزور نہیں ہے، حالانکہ وہ حتمی فیصلے میں بڑی تبدیلیاں نہیں لا سکتی۔
    کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کے حمایتیوں میں ان کی پسندیدگی کی شدت بھی نظر آتی ہے۔ ٹرمپ کے 72 فیصد سپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کی پسند ہیرس کے مقابلے میں ٹرمپ کے لیے زیادہ ہے، جبکہ ہیرس کے حمایتیوں میں یہ تعداد 60 فیصد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں امیدواروں کے حمایتیوں میں خاصی وفاداری ہے، جو انتخابی مہم کے دوران ایک اہم عنصر ثابت ہوسکتی ہے۔یہ پولز ووٹرز کے رویے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ جولائی کے پول میں، جب صدر جو بائیڈن نے دستبرداری کا اعلان کیا اور ہیرس نے اپنی نامزدگی حاصل کی، تو ان کے حمایتیوں کی رائے تقسیم تھی۔ اس وقت بائیڈن کے سپورٹرز نے بڑے پیمانے پر ٹرمپ کی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔ اس نئی صورتحال میں، ہیرس کے حامیوں نے اپنی مثبت حمایت کا اظہار کیا ہے، جو اس بات کی نشانی ہے کہ وہ اپنے امیدوار کے حق میں متحد ہو رہے ہیں۔
    امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے اس مرحلے پر، یہ پولز ہیرس اور ٹرمپ کے مابین سخت مقابلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ووٹرز کے رویوں میں ہونے والی تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انتخابات میں مزید دلچسپی اور شمولیت کی توقع کی جا رہی ہے۔ یہ انتخابات امریکی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، جس میں امیدواروں کی مہمات اور عوامی رائے کی صورت حال اہم کردار ادا کرے گی۔

  • پاکستان میں پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ؛ رواں سال متاثرہ بچوں کی تعداد 41 ہوگئی

    پاکستان میں پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ؛ رواں سال متاثرہ بچوں کی تعداد 41 ہوگئی

    پاکستان میں پولیو کے کیسز میں اضافے کے خدشات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ بلوچستان کے ضلع لورالائی میں ایک اور بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ رواں سال اس نئے کیس کے بعد پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 41 ہو گئی ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف محکمہ صحت کے لیے باعث تشویش ہے۔ حالیہ کیس کے بعد صوبے میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے، جو کہ ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ رواں سال بلوچستان کے ضلع لورالائی سے رپورٹ ہونے والا پہلا کیس ہے۔
    رواں سال بلوچستان کے 11 مختلف اضلاع میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ ان اضلاع میں قلعہ عبداللّٰہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں سے 6 کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ کوئٹہ سے 3 اور پشین، ژوب اور چمن سے 2، 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ دیگر اضلاع میں قلعہ سیف اللّٰہ، ڈیرہ بگٹی، خاران، نوشکی، جھل مگسی، اور اب لورالائی میں ایک، ایک کیس سامنے آیا ہے۔محکمہ صحت کے حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو انسداد پولیو ویکسین پلانے میں بھرپور تعاون کریں۔ حکام کے مطابق 28 اکتوبر سے ایک نئی انسداد پولیو مہم شروع ہو رہی ہے جس میں بچوں کو ویکسین دی جائے گی تاکہ اس مہلک بیماری کا مؤثر طریقے سے خاتمہ کیا جاسکے۔
    پاکستان کے مختلف علاقوں میں پولیو وائرس کے کیسز میں اضافے سے محکمہ صحت کے لیے اہم چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ عوامی آگاہی اور ویکسینیشن مہمات کے ذریعے ہی اس مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔