Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی مکمل بحالی میں ناکامی، پی ٹی اے کی ڈیڈ لائن گزر گئی

    ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی مکمل بحالی میں ناکامی، پی ٹی اے کی ڈیڈ لائن گزر گئی

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے دی گئی تاریخ گزر جانے کے باوجود ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔ کئی شہروں کے صارفین اب بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں ڈاؤن لوڈنگ، اپ لوڈنگ، ڈاکومنٹس بھیجنے، اور وائس نوٹس بھیجنے میں تاخیر جیسے مسائل شامل ہیں۔آن لائن کاروبار کرنے والے افراد خاص طور پر اس صورتحال سے متاثر ہیں، کیونکہ انٹرنیٹ کی بار بار معطلی نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر منحصر کاروباری افراد نے بتایا کہ انٹرنیٹ سروس کے خراب ہونے سے ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، اور وہ اپنے کاروبار کو جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔موبائل ڈیٹا پر انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں تاخیر نے سوشل میڈیا صارفین کو بھی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ لوگوں کو پیغامات بھیجنے اور سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
    ملک بھر میں تقریباً دو ماہ سے انٹرنیٹ سروس میں بار بار خلل پڑ رہا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔ شہری اور دیہی علاقوں کے صارفین مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ انٹرنیٹ کی غیرمستقل دستیابی نے ان کی زندگیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 20 اکتوبر تک انٹرنیٹ سروس سے متعلق تمام تکنیکی پیچیدگیاں اور خرابیاں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن اس تاریخ کے گزر جانے کے باوجود انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی۔ پی ٹی اے کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جس سے صارفین کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مسلسل تاخیر سے نہ صرف کاروباری طبقہ بلکہ عام صارفین بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اس مسئلے کے فوری حل کے لیے پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو اپنی کارکردگی بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگ پی ٹی اے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے اور صارفین کو انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرے۔

  • اسد قیصر اور علی امین گنڈاپور کی جانب سے پارٹی وفاداریوں  کی تبدیلی پر کڑی تنقید

    اسد قیصر اور علی امین گنڈاپور کی جانب سے پارٹی وفاداریوں کی تبدیلی پر کڑی تنقید

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے حالیہ سیاسی کشیدگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن سینیٹرز اور ایم این ایز نے اپنے ضمیر کا سودا کیا اور ووٹ فروخت کیا، وہ تمام غدار ہیں اور ان کی پارٹی رکنیت فوری طور پر معطل کی جانی چاہئے۔ اسد قیصر نے یہ بیان 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جاری کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے غیر آئینی طریقے سے پاس کیا گیا ہے۔اسد قیصر نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ "کل اندھیرے میں اس آئینی ترمیم کو غیر آئینی طریقے سے منظور کیا گیا، یہ ترمیم غیر اخلاقی ہے اور اداروں کے درمیان مزید محاز آرائی کا سبب بنے گی۔ اس ترمیم کو اتنی جلدی پاس کرانے کی کیا ضرورت تھی؟” انہوں نے مزید کہا کہ "سب جانتے ہیں کہ ووٹ کو غیر آئینی طور پر خریدا گیا، ووٹ کی عزت کرنے والوں نے خود ووٹ کی بے حرمتی کی۔ ممبران پیسوں کے عوض بک گئے، پارلیمنٹ کی بے توقیری ہوئی، اور چادر اور چار دیواری کی پامالی ہوئی۔”اسد قیصر نے بلاول بھٹو زرداری کو بھی مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ "کیا یہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ "ممبران کو خرید کر اور ان کی بہن بیٹیوں کو ڈرا دھمکا کر یہ ترمیم پاس کرائی گئی۔” ان کا کہنا تھا کہ "بکنے والوں نے پارٹی کے ساتھ ساتھ بانی پی ٹی آئی اور قوم سے بھی غداری کی ہے، اور قوم ان غداروں سے خود حساب لے گی۔”
    دوسری جانب، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اسد قیصر کے بیانات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وفاداریاں بدلنے والوں کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا، "جنہوں نے اپنی وفاداریاں بدلیں، ہم ان سے حساب لیں گے۔ یہ اتنی آرام سے ہضم نہیں ہونے دیا جائے گا۔”علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ "جعلی مینڈیٹ والی حکومت نے عدلیہ پر حملہ کیا اور مرضی کے بندے بٹھا کر فیصلے کرنے کی کوشش کی۔ رات کے اندھیرے میں ایک غیر آئینی اقدام کیا گیا، جو صرف اشرافیہ کو فائدہ دینے کے لیے کیا گیا۔” انہوں نے یقین دلایا کہ "آج رات تک نام آجائیں گے اور کسی بندے کو نہیں چھوڑا جائے گا۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے چار ایم این ایز نے قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس سے پارٹی میں اندرونی کشمکش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا تھا کہ مزید ایم این ایز بھی غداری کے لئے تیار تھے، جو پارٹی کے لیے تشویش کی بات ہے۔ اسد قیصر اور علی امین گنڈاپور کے بیانات پارٹی کے اندر جاری اختلافات اور وفاداری کی کشمکش کی عکاسی کرتے ہیں، جو آنے والے دنوں میں پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • مریم نواز کا پارلیمنٹ کی بالادستی کا عزم: آئینی ترمیم کو عوامی مفاد کی ترجیح قرار دیا

    مریم نواز کا پارلیمنٹ کی بالادستی کا عزم: آئینی ترمیم کو عوامی مفاد کی ترجیح قرار دیا

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حالیہ بیان میں پارلیمنٹ کو بالادستی اور خود مختاری کا حق دلانے کا عزم کیا ہے، اور کہا ہے کہ ان کی حکومت نے ریاست اور عوام کے مفاد کو ترجیح دی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے حوالے سے مریم نواز نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی قائدین کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے سیاست کے بجائے ریاست اور عوام کے مفاد کو ترجیح دی ہے، اور پارلیمنٹ کو بالادستی اور خود مختاری کا حق دلایا ہے۔مریم نواز نے مزید وضاحت کی کہ یہ ترمیم ایک حفاظتی دیوار کی مانند ہے تاکہ کوئی بھی آئین، پارلیمنٹ، حکومتوں اور اداروں کی وقار کے ساتھ من مانی نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "1973 کے آئین کی خالق جماعتوں نے ایک بار پھر دستور پاکستان کو بہتر اور مضبوط بنانے کا تاریخی کردار ادا کیا ہے۔”
    وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اس ترمیم میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر عوامی رائے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے عدلیہ کا وقار، ساکھ اور کردار بہتر ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئینی ترمیم کے نتیجے میں صرف وہ جج آئیں گے، جو آئین اور عوام کے حقوق کے پاسدار ہوں گے۔مریم نواز نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف کے سیاسی وژن کو بھی سلام پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کوشاں ہے۔یہ بیان مریم نواز کی جانب سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں وہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی کوششوں کو نمایاں کر رہی ہیں۔ ان کے اس عزم سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

  • قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر اظہارِ خیال

    قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کا آئین اور مولانا فضل الرحمان کے کردار پر اظہارِ خیال

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کے کردار کو پاکستان کی سیاست میں اہم قرار دیا، خاص طور پر اپنے والد سابق صدر آصف علی زرداری کے بعد۔ انہوں نے پارلیمانی عمل اور آئین کی عزت پر زور دیتے ہوئے کہا، "اگر میں قرآن پاک کے بعد کسی کتاب کو مانتا ہوں تو وہ پاکستان کا آئین ہے۔”انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی اور حال میں سیاسی قائدین کے درمیان اختلافات ہمیشہ رہے ہیں، لیکن ان اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتوں کو جمہوری اقدار اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے اکٹھا ہونا پڑا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آج کی سیاست میں پولرائزیشن عروج پر ہے، تاہم تمام جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر ملک و قوم کے مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے۔
    بلاول نے 18ویں ترمیم کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ موجودہ قانون سازی کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے، تاکہ جمہوریت اور گورننس میں بہتری آئے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اور موجودہ سیاسی صورتحال میں بھی ہمیں جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔بلاول بھٹو زرداری کے بیان نے ملک میں جمہوری عمل کے استحکام اور سیاست میں اتفاقِ رائے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جبکہ انہوں نے تاریخی پس منظر میں سیاسی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں بھی سیاسی اتحاد اور تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔

  • اختر مینگل نے اپنے دو  سینیٹرز سے استعفیٰ مانگ لیا

    اختر مینگل نے اپنے دو سینیٹرز سے استعفیٰ مانگ لیا

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اپنے دونوں سینیٹرز، نسیمہ احسان اور قاسم رونجھو، کو 26ویں آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دینے کے بعد سینیٹ سے فوری استعفیٰ دینے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کو سینیٹ میں 26ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد سامنے آیا، جب نسیمہ احسان اور قاسم رونجھو نے پارٹی کی پالیسی اور اختر مینگل کی ہدایت کے برخلاف یہ ووٹ دیا۔ اس واقعے نے بی این پی کے اندرونی معاملات میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔سینیٹر نسیمہ احسان نے بعد میں بیان دیا کہ ان پر آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دینے کے لیے دباؤ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر نے انہیں اس ووٹ کے لیے مجبور کیا۔ دوسری طرف، اختر مینگل نے اپنی بات میں کہا کہ سینیٹر قاسم رونجھو اسلام آباد میں ڈائیلاسز کے لیے گئے تھے، جہاں سے انہیں اور ان کے بیٹے کو اغوا کیا گیا تھا۔ تاہم، قاسم رونجھو نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزادانہ طور پر وہاں موجود تھے۔
    26ویں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد سردار اختر مینگل نے دونوں سینیٹرز کو سختی سے تنبیہ کی کہ اگر وہ کل تک سینیٹ سے استعفیٰ نہیں دیتے، تو انہیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ یہ ہدایت بی این پی کے اندر تنظیمی ڈسپلن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پارٹی اپنے اصولوں کے خلاف جانے والے ارکان کے ساتھ کس طرح کی سختی سے پیش آتی ہے۔سینیٹ میں اس واقعے نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیاسی مستقبل اور اتحادوں پر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اختر مینگل کے اس فیصلے سے یہ واضح ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی پالیسیوں اور اصولوں کے خلاف جانے والے ارکان کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتیں گے۔ سینیٹرز کی یہ صورتحال بی این پی کے اندر پارٹی کی وفاداری اور قیادت کی سمت میں ایک اہم موڑ ہو سکتی ہے، اور اس کے ممکنہ اثرات آئندہ سیاسی حالات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 26ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش: جمہوری اصلاحات اور عدلیہ میں اہم تبدیلیاں متعارف

    26ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش: جمہوری اصلاحات اور عدلیہ میں اہم تبدیلیاں متعارف

    قومی اسمبلی کا اجلاس آج اسپیکر سردار ایاز صادق کی موجودگی میں شروع ہوا، سینیٹ سے منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کےلیے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف سمیت دیگر اراکین اسمبلی بھی موجود ہیں۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میثاق جمہوریت پر شہید بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے۔سینیٹ میں 26ویں آئینی ترمیم 2 تہائی اکثریت سے منظور کرلی گئیاسپیکر ایاز صادق نے رولنگ دی کہ اجلاس رات 11 بجکر 55 منٹ پر ملتوی کیا جائے گا، اجلاس دوبارہ 21 اکتوبر 12 بجکر 5 منٹ پر شروع ہوگا۔اجلاس کے دوران، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میثاق جمہوریت کا ذکر کیا، جس پر شہید بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے مل کر قانون سازی کی، جس میں اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں مختلف بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی تھیں۔
    اعظم تارڑ نے مزید کہا کہ یہ ترمیم اس بات کی ضامن ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری میں نیپوٹزم اور دیگر بدعنوانیوں کو روکا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کی اکاؤنٹیبلٹی کے لیے ایک علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے بھی اہم کردار ادا کیا، اور انہوں نے کہا کہ یہ آئینی ترمیم ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں نے اس عمل میں بھرپور تعاون کیا ہے تاکہ پارلیمانی نظام کو مستحکم کیا جا سکے۔

    نوازشریف کی آمد: مسلم لیگ ن کے ارکان نے خوشی کا اظہار کیا
    نوازشریف کی قومی اسمبلی میں آمد پر مسلم لیگ ن کے ارکان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ‘شیر آیا شیر آیا’ کے نعرے لگائے۔ نوازشریف نے بلاول بھٹو زرداری سے بڑی گرم جوشی کے ساتھ مصافحہ کیا، جو کہ ایوان میں ان کی آمد کا ایک خاص لمحہ تھا۔ مولانا فضل الرحمان بھی ایوان میں پہنچ گئے، جہاں نوازشریف اور وزیراعظم نے نشست سے اٹھ کر ان سے مصافحہ کیا۔ اس دوران مولانا فضل الرحمان نے نوازشریف سے سرگوشی بھی کی، جو کہ اجلاس کے ماحول میں ایک دلچسپ لمحہ ثابت ہوا۔
    پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا بھی ایوان میں پہنچ گئے ہیں۔ ایوان میں جاری اس سرگرمی کے دوران، 26ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے بحث اور ووٹنگ کی توقع کی جا رہی ہے، جو ملکی سیاست میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔

    26ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات:
    ججز کی تقرری کے نظام میں مزید شفافیت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے تین سینیئر ججز اس عمل کا حصہ ہوں گے۔ اسی طرح وفاقی وزیر قانون، پاکستان بار کونسل کے نامزد نمائندے، اور پارلیمانی کمیٹی کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔26ویں ترمیم میں آئینی عدالتوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ آئینی مقدمات اور اپیلوں کا جلدی اور منصفانہ فیصلہ کیا جا سکے۔
    شریعت کورٹ اور ربا کے فیصلے: وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے اور آئینی عدالتوں میں ربا سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ججز کی کارکردگی کی جانچ: اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے گا تاکہ ان ججز کی نشاندہی کی جا سکے جو اپنی ذمے داریوں کو مناسب طریقے سے ادا نہیں کر رہے۔
    عمر کی حد میں تبدیلی: ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری کے لیے عمر کی حد کو 45 سال سے کم کرکے 40 سال کیا گیا ہے تاکہ نوجوان اور قابل وکلا کو مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
    صوبائی مختاری: ہائی کورٹ کے بینچز کے قیام کے حوالے سے صوبائی مختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔
    وزیر قانون نے وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین، بشمول مولانا فضل الرحمن کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کی تیاری میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم جمہوریت کی بحالی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
    سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اجلاس چند منٹ کے لئے موخر کیا گیا،

  • وفاقی وزیر خزانہ  امریکہ کے دورے پر روانہ،  آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک  سے اہم ملاقاتیں متوقع

    وفاقی وزیر خزانہ امریکہ کے دورے پر روانہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اہم ملاقاتیں متوقع

    اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق اس اہم دورے کے دوران وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں شیڈول کی گئی ہیں، جو ملک کی مالیاتی پالیسیوں اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب دورہ امریکہ کے دوران نہ صرف آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے بلکہ چین، برطانیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کے اپنے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی اقتصادی تعاون، قرضوں کی سہولت کاری، سرمایہ کاری کے مواقع اور عالمی معیشت کے تناظر میں پاکستان کی مالیاتی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا امریکہ کے سٹیٹ اور ٹریثری ڈیپارٹمنٹس کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ یہ ملاقاتیں پاک امریکہ اقتصادی تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس کے علاوہ، محمد اورنگزیب عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، کمرشل بینکوں اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کار بینکوں کے حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن کا مقصد پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا اور مالیاتی استحکام کے لیے عالمی اعتماد بحال کرنا ہے۔
    دورہ امریکہ کے دوران وزیر خزانہ مختلف سرمایہ کاری فورمز اور سمینارز سے بھی خطاب کریں گے، جہاں وہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کے معاشی منظر نامے کو واضح کریں گے۔ ان مواقع پر وزیر خزانہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات، ملک کی اقتصادی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کو اجاگر کریں گے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ کاروباری مواقع کو مزید فروغ دیا جا سکے۔دورے کے دوران محمد اورنگزیب امریکہ کے معروف تھنک ٹینکس کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ پاکستان کے اقتصادی چیلنجز اور مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ ملاقاتیں عالمی معیشت کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرنے اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی اقتصادی پوزیشن کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ وزیر خزانہ بین الاقوامی اور امریکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جس کے دوران وہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر روشنی ڈالیں گے۔وزیر خزانہ کا یہ دورہ پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ عالمی مالیاتی اداروں اور بڑے سرمایہ کاروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے اور ملکی معیشت کو استحکام دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

  • سینیٹ نے اتفاق رائے سے سود کے خاتمے کی آئینی ترمیم منظور کر لی

    سینیٹ نے اتفاق رائے سے سود کے خاتمے کی آئینی ترمیم منظور کر لی

    اسلام آباد: پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) نے ایک تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے ربا (سود) کے خاتمے سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے۔ اس ترمیم کا مقصد ملک میں سودی نظام کا مکمل خاتمہ اور اسلامی معاشی نظام کو فروغ دینا ہے۔یہ ترمیم جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیش کی، جس میں یکم جنوری 2028ء تک سود کو مکمل طور پر ختم کرنے کی شق شامل کی گئی تھی۔ ترمیم پر بحث کے دوران وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بھی اپنا موقف پیش کیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی اس بات پر متفق ہوچکی ہے کہ سود کے خاتمے کے حوالے سے کوئی مخالفت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ نے بھی اس ترمیم کی منظوری دے دی ہے۔سینیٹ اجلاس کے دوران اس آئینی ترمیم کی مخالفت میں کوئی رکن پارلیمان کھڑا نہیں ہوا۔ ترمیم کے حق میں 65 اراکین نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔ یہ واضح اکثریت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے پارلیمانی نمائندے سود کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
    اس ترمیم کے مطابق، ملک میں سودی نظام کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا اور یکم جنوری 2028ء تک تمام سودی لین دین مکمل طور پر غیر قانونی قرار پائے گا۔ اس ترمیم کا مقصد معاشی انصاف کو فروغ دینا اور اسلامی اصولوں پر مبنی ایک منصفانہ اور متوازن اقتصادی نظام قائم کرنا ہے۔وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ سودی نظام کے خاتمے کا یہ فیصلہ ایک طویل المدتی کوششوں کا نتیجہ ہے اور یہ عوام کے بہتر مستقبل کے لیے انتہائی اہم قدم ثابت ہوگا۔سینیٹ میں اس ترمیم کی منظوری کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ نیشنل اسمبلی میں بھی اسے بغیر کسی رکاوٹ کے منظور کر لیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں سودی نظام کا خاتمہ کیا جا سکے۔یہ فیصلہ اسلامی معیشت کے حامیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کیا جارہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے پاکستان میں اقتصادی استحکام اور سماجی انصاف کو فروغ ملے گا۔

  • 26ویں آئینی ترمیم منظوری کے بعد  پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات

    26ویں آئینی ترمیم منظوری کے بعد پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات

    اسلام آباد: سینیٹ آف پاکستان سے 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک وفد کو ملاقات کے لیے بلا لیا۔ پی ٹی آئی کا وفد مولانا سے ملاقات کے لیے پہنچ چکا ہے، جہاں دونوں جماعتوں کے رہنما قومی اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے اہم مشاورت کر رہے ہیں۔حکومت کو کافی کوششوں کے بعد سینیٹ سے 26ویں آئینی ترمیم منظور کروانے میں کامیابی ملی ہے۔ اس ترمیم کی منظوری سے ملکی سیاست میں ایک نئی تبدیلی متوقع ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد، آج سینیٹ میں بھی یہ آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی۔ سینیٹ کے اجلاس میں ترمیم کی تمام 22 شقوں کی باری باری منظوری دی گئی، جس کے بعد چیئرمین سینیٹ نے آئینی ترمیمی بل کے حق میں ووٹنگ کا عمل شروع کیا۔
    سینیٹ میں 26ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کے دوران 65 سینیٹرز نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ مخالفت میں صرف 4 ووٹ آئے۔ اس کے نتیجے میں چیئرمین سینیٹ نے اعلان کیا کہ بل دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا گیا ہے۔ آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد حکومت کی اس بڑی کامیابی کو سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی وفد کو ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ اس ملاقات کے دوران سیاسی صورتحال، 26ویں آئینی ترمیم کے اثرات، اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت ہو رہی ہے۔مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں پارلیمانی کارروائیوں اور دیگر سیاسی سرگرمیوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔
    26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مختلف اہم قانونی اصلاحات اور آئینی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جن کا مقصد ملک میں قانون کی بالادستی کو مزید مستحکم کرنا اور اداروں کے درمیان توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس ترمیم کی منظوری کو ایک بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے پارلیمانی معاملات میں حکومت کی گرفت مضبوط ہونے کی امید ہے۔آئینی ترمیم کی منظوری اور پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہوں گے۔

  • سینیٹ ملازمین کو کل بروز پیر چھٹی دے دی گئی

    اسلام آباد: آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد چیئرمین سینیٹ کی جانب سے سینیٹ ملازمین کو پیر کے روز چھٹی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق پیر کو سینیٹ سیکریٹریٹ بند رہے گا اور ملازمین کو چھٹی دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ آئینی ترامیم کی کامیاب منظوری کے بعد ملازمین کو ریلیف دینے کے لیے کیا گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے اس اقدام کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملازمین کی خدمات کے اعتراف میں ایک علامتی چھٹی ہے۔