Baaghi TV

Author: طہٰ منیب

  • شدت پسندی کے سدباب میں منبر و محراب ،ریاست اور عوام کا کردار از طہ منیب

    شدت پسندی کے سدباب میں منبر و محراب ،ریاست اور عوام کا کردار از طہ منیب

    شدت پسندی سب سے بڑا مسئلہ ہے، شدت پسندی کا سبب جہالت ہے۔ جہالت کا خاتمہ علم سے ممکن ہے۔ علم کا منبع قرآن و حدیث ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں بھی مسجد کا منبر و محراب سب سے موثر پلیٹ فارم ہے ۔ اس پلیٹ فارم کے درست استعمال سے معاشرے میں تعمیر و ترقی اور امن و امان کا قیام ممکن ہے ۔ شدت پسندی کے خاتمہ کیلئے سب سے پہلے علماء آگے بڑھیں اور اپنے اپنے مسالک میں موجود شدت پسندی پر مبنی کفر وتکفیر کے فتوے بانٹنے والے علماء کا بائکاٹ کرکے انہیں تنہا کریں اسکے بعد ریاست منبر و محراب کے تعاون سے ایسے شدت پسندوں کے خلاف ریاستی رٹ کو بحال کرے اور آخر میں عامتہ الناس اجتماعی شعور کا ثبوت دیتے ہوئے شدت پسندوں کی حوصلہ شکنی کرے۔

    یاد رہے ذاتی رنجشوں کی بنیاد پر گستاخی کے فتوے اور اسکی بنیاد پر ایک مسلمان کا خون جو کعبتہ اللہ کی حرمت سے بڑا ہے کسی صورت خیر کا باعث نہیں ہوگا۔ خوشاب واقعہ ابتدا ہے ، اگر سب نے اپنا کردار ادا نا کیا تو فتنہ و فساد اور فرقہ واریت کا خوفناک باب کھلنے کا خدشہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و حدیث کا درست فہم اور اور معمولی فروعی معاملات کو پس پشت ڈال کر اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔

  • 2 سال میں 150 سے زائد جانوں کا ضیاع ، وزیر ریلوے پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے از طہ منیب

    دو سال میں 150 سے زائد جانوں کا ضیاع ، وزیر ریلوے پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے از طہ منیب

    کل شیخوپورہ کے بعد آج خان پور میں شالیمار مال گاڑی سے ٹکرا گئی ، ‏تواتر سے ٹرین حادثات ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، کل کے بعد آج ایک اور ٹرین حادثہ، گزشتہ دو سالوں میں سب سے زیادہ ٹرین حادثات ہوئے، صرف 2019 میں ٹرین کے 74 حادثات ہوئے جن میں 98 افراد جاں بحق ہوئے ، جبکہ سال 2020 حادثے سمیت دو سالوں میں حادثات کی سنچری مکمل ہوچکی، جس میں کل کے حادثے سمیت 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے، جبکہ آج کی اموات شامل نہیں ہیں، یعنی دو سالوں میں 150 سے زائد افراد ریلوے حادثات میں جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ زخمیوں کی تعداد یقیناً سینکڑوں میں ہو گی اور اکثر ساری زندگیوں کیلئے معذور ہو گئے، ان سینکڑوں خاندان کو دکھ اور غم دینے والوں کا زمہ دار کون ہے؟

    دنیا بھر میں ایسے حادثات پر وزراء استعفے بھی دیتے ہیں اور ان پر مقدمات و سزائیں بھی، لیکن کیا پاکستانیوں کا خون اس قدر سستا ہے کہ اتنی قتل و غارت پر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

    ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے، پی آئی اے کے بعد ریلوے سے بھی منسٹر سمیت کالی بھیڑوں کو نکالیں، جو بڑھکوں سے بڑھ کر کام بھی کریں۔ پی آئی اے ہو یا ریلوے دونوں محکموں میں اس قدر غفلت اور انسانی جانوں کے نقصان پر دونوں محکموں کے وزرا پر قتل کے مقدمات بنائے جائیں، تاکہ انسانی جان کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو بعد ازاں ہر شخص، ادارہ، فرد اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کرے اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ہو۔

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔

  • چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب

    چہار اطراف دشمن کی جارحیت کے مقابل ہماری دفاعی حکمت عملی از طہ منیب

    آج سے ڈیڑھ سال قبل ملک کی ایک بڑی دعوتی، فلاحی ، دفاعی جماعت کی قیادت و اثاثے بھارتی و بین الاقوامی دباؤ پر بند کر دئیے گئے ، ملکی ناقص معاشی صورتحال کی وجہ سے تحویل میں لیے گئے جماعت کے اداروں کا بوجھ اٹھانا حکومت کیلئے مسئلہ بن چکا ہے ، لاکھوں غرباء مساکین بے آسرا ہو گئے محض اس بات پر کہ شاید عالمی قوتیں اور بھارت خوش ہو جائے ، شاید ہمارے وجود کو تسلیم کر لیا جائے، شاید ہم اچھے ہمسائے بن جائیں ، شاید معاشی پابندیاں کم ہو جائیں،شاید ایف اے ٹی ایف کوئی رعایت کر دے مگر مہینوں گزرنے کے بعد بھی۔۔۔۔۔

    5 اگست سے کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن اور سینکڑوں جوانوں کی شہادت ، ایل او سی پر مسلسل فائرنگ اور آزاد کشمیر کے شہریوں کی شہادتیں، بلوچستان میں آرمی پر حملے اور فوجی جوانوں کی شہادتیں، چند دن قبل کراچی کی طرف بھارتی فضائیہ کی اڑانیں، بھارتی قیادت کی مسلسل پاکستان پر حملے کی دھمکیاں۔۔۔۔۔۔

    اور دشمن کی چہار اطراف جارحیت کے مقابل ماشاءاللہ دفاعی حکمت عملی میں پہلے جماعت کے سربراہ اور اب باقیماندہ قیادت کو سزائیں و جرمانے۔

    اللہ ہمارے فیصلہ سازوں پر رحم کرے اور درست فیصلے کرنے کی توفیق دے۔ آمین

  • "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    خواہش تھی کہ طارق عزیز مرحوم کے ساتھ ملاقات ہو، بس سستی کی وجہ سے ملاقات رہ گئی، جانے والے کہاں رکتے ہیں، انکے پروگرام نیلام گھر سے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں، کیا خوبصورت، ادب، معلومات ، مزاح سے بھرپور پروگرام ہوتا تھا جو دہائیوں تک یاد رہے گا۔ اپنے مخصوص انداز "دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے” سے پروگرام کا آغاز کرنے والے طارق عزیز آج کچھ دیر قبل چل بسے۔ 1936 کو جالندھر میں پیدا ہوئے ، قیام پاکستان پر پاکستان تشریف لائے ، اداکار ، میزبان ، ادیب ، سیاستدان جیسے متعدد کرداروں کے حوالے پہچان بنائی۔ بڑی سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔

    ابو نے 1997 کی الیکشن مہم کا ایک واقعہ سنایا کہ الیکشن سے قبل نواز شریف کا دورہ ملتان تھا، جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ، میں بھی اس جلسے میں تھا ، طارق عزیز کی دس منٹ کی تقریر نے مجمع جما بھی دیا تھا اور تقریر ختم ہوتے ہی پنڈال خالی ہونا شروع ہوگیا جیسے عوام نواز شریف نہیں طارق عزیز کو سننے آئی ہو، جبکہ نواز شریف سٹیج پر موجود تھے، نواز شریف کی اپیل پر طارق عزیز دوبارہ مائک پر آئے کچھ منٹ مزید گفتگو کی۔

    پی ٹی وی کی نشریات کے آغاز کا اعزاز آپکو حاصل ہے، طارق عزیز نے 1974 میں نیلام گھر نامی کوئز پروگرام کا آغاز کیا جو تقریباً چار دہائیوں تک جاری رہا۔ 1997 تا 1999 مسلم لیگ کی طرف سے دو سال ایم این اے بھی رہے۔ اٹھارہ گھنٹے قبل ٹویٹر پر ٹویٹ کی کہ یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہے اور اٹھارہ گھنٹوں بعد واقعی وقت تھم گیا۔ موت ایک حقیقت ہے، سال دو ہزار بیس بہت جان لیوا ثابت ہوا ہے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد وبا کی وجہ سے موت کی آغوش میں گئی وہاں بڑے بڑے نام بھی اس سال داغ مفارقت دے گئے ، طارق عزیز مرحوم بھی انہیں میں سے ایک ہیں ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین

  • سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سات گنا بڑے دشمن کے مقابل دفاع کیلئے مختص کیا گیا بجٹ برائے نام ہی ہے از طہ منیب

    سال 2020-21 کا بجٹ آج پیش کر دیا گیا ہے۔ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاک ڈاون نے دنیا بھر کی معیشتوں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، ظاہر ہے اسکے اثرات پاکستان پر بھی ہیں۔ پہلے سے کمزور و ناتواں معاشی حالت کی ابتری میں یقیناً مزید اضافہ ہوا ہے، جہاں ریاست کے فنڈز میں کمی ہوئی وہیں عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہوا، بھوک نے ڈیرے ڈالے، سفید پوش طبقہ پاکستان کا سب سے بڑا طبقہ ہے جسکے لیے بھوک سے مرنا ہاتھ پھیلانے سے زیادہ آسان ہے، ایسے میں پاکستان کے مخیر حضرات نے بے لوث خرچ کر کے ہم وطنوں کی مدد میں انتہا کر دی، وہیں ریاست پاکستان کے احساس پروگرام نے بھی ملک بھر میں حقداروں کو اربوں روپے کی امداد دی۔ ان حالات میں موجودہ بجٹ پیش کیا گیا ہے. جس میں پہلی بار کسی قسم کے نئے ٹیکس کا اضافہ نہیں ہوا ، اوپر بیان کئے گئے حالات کے باوجود ٹیکس کا اضافہ نا ہونا یقیناً قابل تحسین عمل اور عام آدمی کیلئے راحت کا باعث ہوگا۔ اسی طرح اس بار سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ نہیں کیا گیا جسے میں تو خوش آئند ہی کہوں گا کیونکہ یہ وہ طبقہ جسے بہرحال ہر ماہ ایک لگی بندھی رقم گزر بسر کیلئے مل جاتی ہے گزشتہ تین ماہ لاک ڈاؤن کی سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار اور چھوٹے کاروباری یعنی دکاندار طبقہ تھا، ایسے میں تنخواہوں میں اضافہ نا کرنا بھی یقیناً ریاست و عوام کیلئے فائدہ مند ہوگا۔

    حسب سابق اس بار پھر ایک مخصوص طبقے کی جانب سے دفاعی بجٹ کا تعلیم و صحت سے موازنہ اور تنقید جاری ہے اس پر یہی گزارش کروں گا کہ یہ بارہ اعشاریہ نو تقریباً تیرہ کھرب کا دفاعی بجٹ جو اکہتر کھرب کے کل بجٹ کا تقریباً اٹھارہ فیصد بنتا ہے ، دشمن ریاست کے کل دفاعی بجٹ کے مقابلے میں سات گنا کم ہے، آپ اس بات سے اندازہ لگا لیں کے رواں سال بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستان کے کل بجٹ سے سات کھرب زیادہ یعنی اٹھہتر کھرب ہے ۔ یہ اعداد و شمار پبلک ہیں کوئی بھی انہیں چیک کر سکتا ہے، بھارت کی پاکستان دشمنی ساری دنیا کے سامنے ہے وہ شروع دن سے پاکستان کو مٹانے کے درپے ہے اور حالیہ دنوں بھارتی حکومت تو اکھنڈ بھارت کے نظریے پر کارفرما ہے، چین سے مار کھانے کے باوجود دو دن قبل انہوں نے کراچی کی طرف شرارت کی کوشش کی، بالاکوٹ ائر سٹرائک بھی پرانی بات نہیں، بلوچستان میں جاری شورش بھی آپ جانتے ہیں، جبکہ کشمیر و ایل او سی پر لاک ڈاؤن و جارحیت اور مسلسل شہادتیں جنکی تعداد رواں سال ہی سینکڑوں میں جا چکی ہے ، ایسے سات گنا بڑے ، گھٹیا اور چالاک دشمن کے مقابلے یہ بجٹ محض گزارہ ہی ہے۔

    جہاں تک بات تعلیم و صحت کی ہے تو عرض یہ ہے کہ یقیناً سیکورٹی سٹیٹس میں یہ چیزیں کمپرومائز ہوتی ہیں لیکن یہ دونوں شعبہ جات صوبوں میں بھی بجٹ کا ایک مناسب حصہ رکھتے ہیں جو جاری بحث میں اگنور کیا جاتا ہے جبکہ دفاع کا بجٹ محض وفاق کے حصے میں آتا ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں کرپشن سے پاک ، مخلص و صالح قیادت عطا کرے جو دشمنوں کے مقابلے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز میں بھی کرپشن کا خاتمہ کر ایک فلاحی ریاست کے قیام کا سبب بنے ۔ آمین

  • پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب

    پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب

    آج پاکستان میں کرونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے کراس کر گئی ہے، جو صورتحال چل رہی ہے خدانخواستہ لگتا ایسے ہی کہ ساری دنیا سے کرونا ختم ہو جانا لیکن پولیو کی طرح ہم بھی انہیں آخری دو چار ملکوں میں ہونگے جہاں یہ مصیبت رہنی ہے۔ پولیو سے متعلق بھی سازشی تھیوریوں نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اور شاید ہی کوئی پولیو مہم ہو جس میں پولیو ورکرز پر حملے نا ہوئے ہوں ، مفاد عامہ پر مبنی ویکسین کی مہم کی حساسیت یہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے کم محسوس نہیں ہوتی جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا پولیو فری ہو گئی لیکن ہم ابھی تک ان دور افتادہ تین چار افریقی ممالک میں شامل ہیں جہاں پولیو ابھی بھی موجود ہے اور رواں سال ماضی کی نسبت پولیو کیسز کی تعداد بڑھی ہے،

    سپین ، اٹلی ، جرمنی جو ووہان کے بعد کرونا کا مرکز بنے تھے تقریباً کرونا کی بڑھتی سپیڈ کو روک کسی حد تک نیچے لانے کے بعد ، لاک ڈاؤن کھول حالات کو نارمل کر رہے۔

    جبکہ یہاں حکومت و عوام دونوں کی غیر سنجیدگی پاکستان میں کرونا کو اس پوزیشن پر لے آئی ہے، چائنہ کو تو ہم ہفتہ قبل ہی پیچھے چھوڑ چکے اور اگلے چند دن نہایت گھمبیر ہونگے ، اللہ جانے ہم کہاں کھڑے ہونگے، واحد حل احتیاط، غیر ضروری باہر نکلنا بند ، سماجی دوری ، ماسک کا استعمال ہے ، یقیناً بہت سے لوگ غیر یقینی سے یقین کی پوزیشن میں آ گئے ہیں اور اسے حقیقت سمجھنا شروع ہو گئے ، اللہ کرے یہ شعور قومی سطح پر بیدار ہو اور ہم کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں، تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

  • پے در پے اہل حدیث علماء کی وفیات اور کرونا سے متعلق ہماری غفلت ، تحریر طہ منیب

    پے در پے اہلحدیث علماء کی وفات کسی سانحے سے کم نہیں، اس پر جسقدر افسوس کیا جائے کم ہے، جہاں ان علماء کی وفیات غم کا باعث ہیں وہیں کرونا کے حوالے سے ہماری غفلت کی بھی عکاس ہیں، پہلے دن سے کرونا سے متعلق صرف چند ایک کو چھوڑ کر بالعموم علماء کا موقف انتہائی نامناسب تھا، ہر مسئلہ میں اسلام کے خلاف کافروں اور یہودیوں کی سازش کو لائے بغیر ہماری بات میں وزن نہیں پڑتا، تقریباً سب علماء کی وفات سے قبل صورتحال وہی تھی جو کرونا کے متاثرین کی ہوتی ہے، یعنی سب ہی کھانسی اور سانس کی تکلیف کے باعث ہی خالق حقیقی سے جا ملے،

    رمضان المبارک سے قبل اس کا پھیلاؤ محدود سرکل میں تھا لیکن بعد میں یہ کسی خاص حلقے، کمیونٹی سے نکل کر عوامی ہو چکا تھا، رمضان المبارک کے شروع میں گوجرانولہ میں ہزاروی صاحب کے جنازے کے مناظر انتہائی تنگ جگہ پر بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے جنازے میں شریک عوام اور علماء کی اکثریت اہل حدیث حلقوں میں کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بنی اور بعد میں ہونیوالے جنازوں کے مناظر بھی پہلے جنازے سے مختلف نہیں تھے،

    حافظ ابن حجر کی وباؤں سے متعلق کتاب کی پوسٹ ایک بار پہلے بھی کی آج بھی تزکرہ کردیتا ہوں کہ جب بغداد میں وبا سے بچنے کیلئے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا اس کے بعد اموات کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی، اب اگر ان بزرگوں کے کرونا ٹیسٹس نہیں ہوئے تو اس بنیاد پر یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں کرونا نہیں تھا اور اس پر چشم پوشی خدانخواستہ باقیماندہ علماء کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ جوانوں کے برعکس بزرگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے ، جو پہلے سے کسی معمولی عارضے کا شکار ہوں انکے کیلئے کرونا کا معمولی وار جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔ کرونا ایک حقیقت ہے، اس سے متعلقہ زبان زد عام سازشی تھیوریاں ممکن ہے کسی حد تک درست ہوں لیکن اس وبا کا جان لیوا ہونا سو فیصد درست اور ثابت ہے، اب بھی وقت ہے، ضد چھوڑ ہم اس وبا سے متعلق بتائی گئی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔