Baaghi TV

Author: طہٰ منیب

  • مسئلہ عید پر فواد و مفتی منیب مقابلے بازی پر میری رائے از طہ منیب

    گئے دنوں کی بات ہے صاحب حکومت کے ترجمان ہوا کرتے تھے، میڈیا کی سکرینوں پر راج ہوا کرتا تھا، کیمرہ مین آگے پیچھے پھرتے تھے، سب اچھا چل رہا تھا ، پھر کسی کے اشارہ ابرو پر اس وزارت سے سائیڈ پر لگا دئے گئے تو وہ درد اور غم ایسا تھا کہ ناقابل برداشت۔ وزرات سائنس و ٹیکنالوجی کی بدقسمتی کہ ایک بدزبان و بدچلن وکالت کا پیشہ رکھنے والا آدمی جس کی زبان اور ہاتھ دونوں سے لوگ پریشان ہیں اسے میڈیا میں ان رہنے کیلئے کچھ تو چاہیے تھا۔

    بھلا ہوا ہمارے دینی بھائیوں کہ ان سیکیورٹی کا کہ حضرت کا آسان ترین ہدف رویت ہلال اور اسکے ماضی کے تضادات اچھا ہدف نظر آئے تو سو بسم اللہ کر گزشتہ سال کی طرح امسال دوپہر میں ہی اعلان کر دیا کہ آج ٹھٹھہ میں چاند نظر آئے گا اور کل عید ہوگی۔ ہمارا دینی طبقہ حسب سابق ان سیکیورٹی کا شکار ہو کر دفاعی و جارحانہ پوزیشن میں آگیا اور یوں صاحب بہادر کو مطلوبہ اہداف حاصل ہو گئے۔

    اور رویت کے مسئلہ پر لبرل و سیکولر بریگیڈ کی جانب سے فواد چوہدری کی اس نوک جھونک کو سائنس و ٹیکنالوجی کی فتح قرار دیا جانا بھی کسی بیوقوفی سے کم نہیں ہے۔ ایک مشیر نے تو یہاں تک کہا ہے کہ یہ پریس کانفرنس ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی کے نئے باب کھولے گی۔

    ان کو عرض کی کہ لگتا ہے ‏فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کے اگلے ہی لمحے پاکستان نے چاند پر قدم رکھ دئیے، کرونا کی ویکسین ایجاد ہو گئی، غربت مٹ گئی، دنیا بھر سے طلباء ٹیکنالوجی کی تعلیم لینے پاکستان آ رہے ، چینی، روسی و امریکی ماہرین کی اعلی تعلیم کیلئے فواد چوہدری سے اپیل کرنے لگے ہیں، جس پر کچھ ان کے بہی خواہوں کو تکلیف پہنچی تو گزارش کی کہ ‏نان ایشو کو ایشو بنانے اور اسکی بنیاد پر پورے ملک میں انتشار پر مبنی اقدام کو سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی سے تعبیر کرنے پر اگر کچھ جواب دے ہی دیا تو وہ گستاخی ہو گئی۔

    اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایک شہرت کے بھوکے میڈیا کے ترسے شخص کو ویلیو کیوں دیں؟ اس کی اسلام دشمنی جو وہ مولوی کو گالی اور جہالت کے طعنے دے کر پوری کرے اسے لفٹ ہی کیوں کرائیں۔ دونوں فریقین میں بنیادی اختلاف اپنی آنکھ سے دیکھنا اور ایپ سے سائنٹیفکلی جاننا ہے اور ہونا وہی ہے جو رویت ہلال کمیٹی نے طے کرنا ہے کہ کل عید ہو گی یا نہیں اور اسی بنیاد پر کل عید کا فیصلہ کر دیا ہے ۔

    ایسے گھٹیا طور طریقے اختیار کر کے کبھی اسلام پسند کو پاکستان کے قیام کا اور اسکی ترقی کا دشمن قرار دینے والے شخص کو آپکا حد سے زیادہ ڈسکس کرنا اسے یقیناً اور تسکین پہنچائے گا۔

  • پی آئی اے ائر بس 320 لاہور سے کراچی کا افسوسناک سانحہ از طہ منیب

    اٹھائیس رمضان المبارک کو یہ افسوسناک سانحہ ناقابل بیان غم دے گیا ہے، دل بوجھل ہے، کتنی چاہتیں،حسرتیں لیے ، گھروں کو لوٹ رہے ہونگے، تین ماہ کی جدائی کے بعد اپنوں سے ملنے کی خواہش ہوگی، لیکن اچانک ۔۔۔۔۔ کیا سے کیا ہو گیا۔

    سب بدل گیا ، زندگی موت میں ، خوشی غم میں، عید وعید میں، انسان کیا سوچتا ہے اور ہوتا کیا ہے۔ جب زندہ بچ جانے والے مسافر زبیر کی بقول سب نارمل تھا، پائلٹ نے کہا اب ہمیں لینڈنگ کرنی ہے لیکن اچانک جہاز بلڈنگ سے ٹکرا گیا، ٹاور سے ہوئی گفتگو میں کیپٹن نے بتایا ہمارا انجن جواب دے گیا ہے، کہا گیا دونوں رن وے فری ہیں ، گئر فیلئر کے باوجود بیلی لینڈنگ کریں اوکے کا پیغام آیا اور چند ہی لمحوں میں رن سے چند سو میٹر دور منزل کے بالکل قریب پہنچ کر بھی حقیقی منزل مقصود کو پا گئے۔

    آٹھ کریو ممبران کے ساتھ نوے مسافر سفر کر رہے تھے، جن میں کچھ معروف میڈیا کی شخصیات، بنک آف پنجاب کے صدر ( جو قسمتی سے محض زخمی ہوئے اور اب خطرے سے باہر ہیں)، فیملیز کے ہمراہ آرمی کے جوان اور دیگر مسافروں سمیت سات سے آٹھ بچے سوار بھی تھے، ان میں ایک سکینڈ لیفٹینٹ بھی تھا جو پاسنگ آوٹ کے بعد پہلی بار گھر جا رہا تھا ، اٹھانوے مسافروں میں سے چھیاسٹھ کی شہادت کنفرم ، اور کچھ ابھی بھی زخمی ہیں جبکہ کچھ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    اہلیان کراچی، رینجرز ، ایدھی، الخدمت، جے ڈی سی سب اپنا سب کچھ بھلا کر امدادی فلاحی سرگرمیوں میں جت گئے، اب تک لگے ہوئے ہیں، یہی جذبے انسانیت کا پتہ بتاتے ہیں۔

    یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خالق و مالک ہے اور اسی کے قبضہ و اختیار میں سب کچھ ہے لیکن وجوہات کیا تھی غلطی کہاں تھی زمہ دار کون ہے اس سب کا جاننا حکومت وقت کا کام ہے کیونکہ ایک ایک جان قیمتی ہے اور مستقبل میں ان حادثات بچاؤ کیلئے اس سب کا کیا جانا وقت کی ضرورت ہے۔

    اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

    انا للہ وانا الیہ راجعون 😥

  • اور اب ترک ہمیں بتائیں گے کہ ہمارا دوست اور دشمن کون ہے ؟ از طہ منیب

    گزشتہ رات سے ٹویٹر پاکستان پر #BoycottUAE کا ٹرینڈ ٹاپ پر ہے۔ اس ٹرینڈ پر کی گئی ریسرچ کے مطابق صبح سحری تک صرف تین ہزار ٹویٹس ہوئیں تھیں، اس ٹرینڈ کو شروع کرنے والے ترک ایکٹوسٹس اور حیران کن طور پر انڈین ٹرولز (جن میں بطور خاص میجر ریٹائرڈ گورو جو گزشتہ دنوں بلوچستان میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں سے متعلق اپنے پاکستان مخالف بیانات پر خبروں میں تھے) کے اکاؤنٹس تھے جنہیں ابتدائی طور پاکستان کی لوکیشن سے کچھ فیک اکاؤنٹس کی مدد حاصل تھی جبکہ بعد ازاں کچھ اصلی اکاؤنٹس بھی اسکا حصہ بن گئے جن کی بنیاد پر یہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ۔

    https://twitter.com/alikeskin_tr/status/1262757587721715712?s=19

    https://twitter.com/alikeskin_tr/status/1262890377780121602?s=19

    https://twitter.com/alikeskin_tr/status/1262900340271259649?s=19

    ترکی کے اکاؤنٹس کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو پاکستان سمیت امت مسلمہ ، پاکستان ، کشمیر و فلسطین کا دشمن جبکہ کافروں کا دوست بتایا جا رہا تھا۔ جبکہ بھارتیوں کی جانب سے گزشتہ دنوں عرب ایکٹوسٹس کی جانب سے کی گئی بھارت مخالف مہم (جس میں انڈین مسلمز اور کشمیریوں کی حمایت کی گئی جس پر متحرہ عرب امارات میں مقیم بھارتی سفیر ، وزیر خارجہ وزیر مودی تک کی جانب سے وضاحتیں دی گئیں ) کی تعریفوں کو مزاق کا نشانہ بنایا گیا ہے یہی پاکستان چند دن پہلے عربوں کی حمایت میں بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے اور آج ان عربوں کے خلاف بائکاٹ کا ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

    گزارش یہ ہے کہ یہ ترک اب اپنی پاکستانی فالوونگ کو پاک عرب دوستی کے درمیان دراڑیں ڈالنے کیلئے استعمال بھی کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور ارطغرل کے زیر اثر پروان چڑھتے پاکستانی جوان ایک ڈرامہ کو بنیاد بنا پر طیب اردوغان کو مستقبل کا خلیفتہ المسلمین سمجھتے ہوئے ترکوں کے پیچھے عربوں کے خلاف مہم کا حصہ بن گئے۔ تاہم کچھ پاکستانیوں کی جانب سے اس ٹرینڈ کی مخالفت بھی کی جا رہی جن میں غالباً قاضی حسین احمد کے بیٹے محمد ابراہیم قاضی بھی شامل جنہوں نے پاکستان متحدہ عرب امارات برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اس ٹرینڈ کی مخالفت کی۔

    https://twitter.com/miqazi/status/1262825609010524161?s=19

    سوال یہ ہے کیا ہم پاکستانیوں نے ہمیشہ عربوں،ایرانیوں اور ترکوں کے پیچھے لگ کر ہی خوش ہونا ہے یا اپنی بھی عقل سمجھ کو استعمال کرتے ہوئے متناسب و متوازن موقف رکھنا ہے۔
    جہاں تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو اسکی تاریخ تمام برادر اسلامی ممالک سے برابری اور دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر ہے جو آئندہ بھی یقینا اسی بنیاد پر چلنی ہے۔
    جذباتی پاکستانی ترکوں کے چند بیانات کی بنیاد پر عربوں کو گالی تو دے رہے لیکن یہ نہیں سمجھ رہے کہ چالیس لاکھ پاکستانیوں کی روزی روٹی ان ممالک سے وابستہ ہے جو ہر سال اربوں روپے زرمبادلہ پاکستان میں بھیجتے ہیں۔ ترکوں کو
    ایک برادر اسلامی ملک میں نئی تفریق پیدا کرنے پر کم از کم شرم کرنی چاہیے اور حکومت پاکستان ترک سفارت خانے سے رابطہ کر کے باقاعدہ یہ معاملہ اٹھائے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مسلم ملکوں سے متعلق خارجہ محاز پر ہمارے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ، عوامی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کی گئی مہمات بہرحال ایک اثر رکھتی ہیں اس پر بند باندھنا لازم ہے۔ پاکستانی عوام کو عربوں و ایران کے بعد ترکوں کو اپنا مائی باپ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہم پاکستانی ہی بہتر ہیں۔

  • کسی طبقہ کی بیوقوفی اور اس پر حکومتی مجرمانہ غفلت کب سے ہمارے لیے معیار ہو گئی ؟ تحریر، طہ منیب

    ہم ردعمل کا شکار ہی کیوں ہوں ؟ کیا ہم میں عقل خرد سمجھ بوجھ نہیں رہی جو ہم کسی کے عمل کے ردعمل کی بنیاد پر فیصلہ سازی کریں؟ کسی کا کنویں میں کودنا ہمارے لیے کب سے کودنے کی دلیل بن گیا؟ جو جس نے جتنا غلط کیا اسکی سزا خود کو دینا کسی صورت دانش مندی کا تقاضہ نہیں۔ وائرس پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے اور ان کے ان جلوسوں سے یقیناً بڑھے گا اور اسکے ردِعمل کا شکار ہم ہونگے تو پھلے پھولے گا جسکا نتیجہ پوری قوم بھگتے گی،

    وائرس نا رکا تھا نا رکا ہے، کسی کے جاننے والے کو ہوا یا نہیں سے اب اکثر کو یہ لگ چکا ہے، اب ہر طبقہ میں اسکے متاثرین موجود ہیں، اس کو سنبھالنے کے لیے حکومتی وسائل اب ناکافی ہوچکے، قرنطینہ مراکز بھر چکے، اب یہ آپ پر ہے آپ ردِعمل کا شکار ہوکر سب سے پہلے خود، اپنی فیملی، حلقہ احباب ، ملک و قوم کو اسکا شکار بناتے ہیں یا عقلمندی و خرد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزباتیت اور ردعمل کا شکار ہوئے بغیر احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے سب کی حفاظت کے ضامن بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی کو بروئے کار کر درست فیصلوں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

  • ارطغرل غازی نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے، تحریر طہ منیب

    ارطغرل غازی ترکی کی ایک معروف ڈرامہ سریل ہے جو ترکی کے سرکاری چینل ٹی آر ٹی کی پروڈکشن ہے، تین سو سے زائد اقساط اور پانچ سیزنز پر مبنی یہ سیریل خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے ترک قائی قبیلے ایک سردار ارطغرل غازی کی زندگی کے نشیب و فراز ، سازشوں و چالوں اور بیک وقت عیسائیوں، منگولوں اور اندرونی سازشوں کا مقابلہ کرکے ترک ریاست کے قیام کی کہانی ہے جو بعد ازاں اسکے تیسرے بیٹے عثمان کے نام سے ایک ترک ریاست سے بڑھ کر خلافت عثمانیہ کی بنیاد پر منتج ہوتی ہے۔ کورلش عثمان کے نام سے ایک نئی سیریز ارطغرل کا تسلسل ہے اور اسکے بیٹے عثمان کی زندگی پر بنائی گئی ہے جسکا پہلا سیزن ٹی آر ٹی ترک سرکاری چینل پر دکھایا جا رہا ہے۔

    ارطغرل اسلامی روایات جہاد، عدل و انصاف اور دیگر شعائر کی ترجمانی کرتا فلم و ڈرامہ انڈسٹری کا شاہکار ہے، جس نے دنیا بھر میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑے ہیں۔ متعدد تراجم اور سب ٹائٹلز کے ساتھ چوبیس سے زیادہ ممالک کے سرکاری و غیر سرکاری چینلز پر دکھایا جانے والا یہ ڈرامہ ہالی وڈ انڈسٹری پر بم بن کر گرا ہے۔ نیویارک ٹائمز تک کو آرٹیکل لکھنا پڑ گیا کہ ترکی اس ڈرامے کو بنیاد بنا کر خلافت عثمانیہ تجدید نو پر گامزن ہے۔ سعودیہ عرب، متحدہ عرب امارات نے فتویٰ کی بنیاد پر سرکاری طور پر ارطغرل کو بین کیا جبکہ بھارت نے بھی بین کیا ہے۔

    ارطغرل یوٹیوب چینل پرصرف دو ہفتوں میں ایک ملین سبسکرائبرز

    چند ماہ قبل وزیراعظم پاکستان کی ترک صدر طیب ارگان سے ملاقات کے بعد ارطغرل کے اردو ترجمہ کی پاکستانی سرکاری چینل پی ٹی وی پر آن ائر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جو تسلیم کیا گیا، ٹی آر ٹی ارطغرل پی ٹی وی کے نام سے رمضان سے چند دن قبل یوٹیوب پر ایک نیا چینل بنایا اور روزانہ کی بنیاد پر شام سات بج کر پینتالیس منٹ پر نئی قسط اپلوڈ کی جاتی ہے جس کی ری پیٹ رات اور اگلے دن بارہ بجے دکھائی جاتی ہے۔ ارطغرل اردو کا یوٹیوب چینل مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے صرف دو ہفتوں میں ایک ملین سبسکرائبرز کا عدد عبور کر چکا ہے جبکہ یوٹیوب پر ورلڈ ریکارڈ ایک مہینے میں چھے اعشاریہ چھے ملین سبسکرائبرز کا ہے، اب پی ٹی وی کا اگلا ہدف یقیناً پچیس اپریل تک چھے ملین سے زائد سبسکرائبرز لے کر ورلڈ ریکارڈ بنانے کا ہے یہ ہدف مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس مقبولیت نے پی ٹی وی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے زوال کا شکار تھا۔

    پی ٹی وی کی پروموشنل ٹویٹ

    یوٹیوب پر اب تک اپلوڈ کی گئی ہر قسط کے ویوز ملینز میں ہیں

    ارطغرل ڈرامہ سیریل یوٹیوب پر اب تک اپلوڈ ہوئی تمام چودہ اقساط میں ہر ایک کے ویوز ملینز میں ہیں۔ ارطغرل غازی ٹویٹر پاکستان پر اب تک متعدد بار ٹرینڈنگ ٹاپک بن چکا ہے اس وقت بھی ٹاپ ٹرینڈ ارطغرل سے متعلق ہی ہے۔ #ErtugrulYoutubeRecord ۔فیس بک پر گزشتہ دو ہفتوں سے ارطغرل زیر بحث ہے، جہاں ارطغرل کے حامیوں کی بڑی تعداد اس کے فوائد و ثمرات گنوا رہی ہے وہاں فریق مخالف بھی فتاویٰ اور دیگر دلائل کے ہمراہ میدان میں ہے۔ ٹک ٹاک پاکستان پر بھی ہر دوسری ویڈیو کا عنوان ارطغرل ہی ہے۔

    پی ٹی وی کا یوٹیوب ریکارڈ ٹویٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ

    جہاں پاکستان کے بہت سے معروف لوگوں حمزہ علی عباسی و دیگر نے اسکی حمایت کی اور دیکھنے کی درخواست کی وہاں لالی وڈ انڈسٹری کے کچھ بڑے نام جیسا کہ شان شاہد نے اسکی مخالفت کی اور اپنے ہیروز پر کام کرنے کی تجویز دی۔قطع نظر اختلافات کے ارطغرل غازی ڈرامہ سیریل اس سے بہت بہتر ہے جو پروڈکشن پاکستانی اور انڈین ڈرامہ و فلم انڈسٹری پیدا کر رہی ہے۔

  • انجینئر بننے کا خواب دیکھنے والا جوان جو مجاہدین کا کمانڈر بنا ، آج شہید ہو گیا، تحریر طہ منیب

    حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف ریاض نیکو آج دوپہر کو بھارتی فوج سے مقابلے میں شہید ہو گئے۔ چار دن قبل ہوئے ایک معرکے میں مجاہدین کے ہاتھوں تین افسروں (کرنل ، میجر ، ایس او جی انچارج ) اور متعدد فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھ گئی تھی ، جس کے بعد بھارت پر جوابی کارروائی کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ گزشتہ رات ریاض نیکو کی اپنے آبائی گاؤں آمد کی انٹیلیجنس پر بھارتی فوج نے انکے گاؤں کا گھیراؤ کیا، صبح نو بجے گن فائٹ کا آغاز ہوا جو چار گھنٹے جاری رہا ، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فوج نے بارود لگا کر انکے گھر کو تباہ کر دیا جس میں ریاض نیکو کی شہادت ہو گئی ، شجاعت و ہمت کا ایک باب مکمل ہوا۔

    ریاض نیکو انجنیئر بننے کے خواہاں تھے، لیکن 2010 میں کچھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے ، بھارت کے خلاف تاریخی پتھراؤ تحریک چلی اس میں ریاض نیکو دوستوں کے ساتھ گرفتار ہو گئے اور ٹارچر سیلوں میں ہونے والی مار نے انجینئر بننے کا خواب چکنا چور کر دیا ، ریاض نیکو نے گن اٹھا کر پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا، بارہ لاکھ سر کی قیمت لیے گزشتہ آٹھ سالوں سے بھارت کا مطلوب ترین شخص ریاض نیکو ہی تھا۔ کیونکہ چار سال پہلے کشمیر کے پوسٹر بوائے برہان وانی کی شہادت کے بعد حزب کو آپریشنلی سںنبھالا اور بھارتی فوج کیلئے درد سر بنے رہے۔

    جس طرح برہان کے بعد سینکڑوں برہان کھڑے ہوئے ، ایک ریاض نیکو کے بعد ہزاروں جوان انکی جگہ لیں گے۔ کشمیری جان چکے کہ آزادی کی منزل کا راستہ کیا ہے، یہ قربانیوں اور غیرت کا راستہ طویل ضرور ہے لیکن نتیجہ خیز ہوگا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

  • جامعہ ملیہ کے طلبا پر بھارت سرکار کا کریک ڈاؤن ، عرب ایکٹوزم اور امریکی رپورٹ، تحریر طہٰ منیب

    کرونا کی تباہ کاریوں اور عربوں کے سوشل میڈیا ایکٹوزم اور اب چند گھنٹے قبل امریکہ کی جانب سے بھارت پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے باوجود محسوس ایسا ہوتا ہے کہ مودی ہٹ دھرمی سے باز آنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں گزشتہ شام سے #ReleaseJMIPeople یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لوگوں کو رہا کرو ٹرینڈ ٹاپ پر ہے،

    یہ تین لوگ ہیں جنکی رہانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صفورہ زرگر، شفاالرحمان، میران حیدر تینوں جامعہ کے طلبا ہے جن پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایکٹ UAPA Unlawful Activities Prevention Act لگا کر گرفتاری کے بعد دس دس دن کے ریمانڈ پر عدلیہ کے زریعے پولیس کے حوالے کر کے تہاڑ جیل نیو دہلی میں ڈال دیا گیا ہے، شفا الرحمان سابق طالبعلم ہیں، صفورا زرگر کی دو سال قبل شادی ہوئی ، پریگننٹ حالت میں اسے کوئی رعایت بخشے بغیر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے،

    صفورہ زرگر

    صفورہ زرگر تہاڑ جیل میں

    شفا الرحمان

    میران حیدر

    ان کا جرم چند ماہ قبل مسلم دشمن متنازعہ شہریت بل سٹیزن شپ امینڈمیٹ بل CAB کی مخالفت میں اواز بلند کرنا تھا ، جس بل کا مقصد مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے فارغ کر کے انہیں حراستی مراکز ڈیٹینشن کیمپوں میں ڈال کر نسل کشی کرنا تھا، جس پر روایتی بھارتی مسلم قیادت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور جامعہ ملیہ کے طلبا نے ظلم و تشدد آنسو گیس ، شیلنگ ، فائرنگ، لاٹھی چارج اور بعد ازاں بڑی تعداد میں گرفتاریاں پیش کر کے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی، اور یہ آواز ہر غیر متعصب انسان کی آواز بنی ، مسلمان بھی جاگے،

    کرونا لاک کی تباہ کاریوں نے کچھ عرصے کیلئے اس توجہ بٹائی تو ضرور تھی لیکن انتہا پسند ہندو کرونا وائرس کا زمہ دار مسلمانوں کو ٹھرانے لگے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ایک نئی لہر اٹھی اور عرب بلاگرز اور زمہ داران کی توجہ سے کچھ معاملہ بظاہر تو ٹھنڈا ہوا تو اب ان طلبا کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں،
    گوکہ امریکی سرکاری ادارے نےبھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر سفری اور دیگر پابندیوں کی تجاویز دی ہیں لیکن شاید ہی امریکہ سرکار اس پر کوئی ایکشن لے، ہمارے بھارتی بھائیوں کو ظلم کی یہ سیاہ رات اپنی قربانیوں سے کاٹنی ہے اور وہ اب کسی حد تک تیار ہو بھی چکے ہیں، ہمارا کام انکے لئے آواز بلند کرنا اور رمضان کی بابرکت ساعتوں میں انکے دعائیں کرنا ہے کہ ظلم کی یہ رات ختم ہو اور ہندو کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کی صبح نصیب ہو

  • سارا بھارت تبلیغی جماعت کے کارکنان کو ہیرو کہ کر خراج تحسین پیش کر رہا ہے، تحریر طہ منیب

    بھارتی ٹویٹر میں تبلیغی ہیروز ٹاپ ٹرینڈ پر

    تبلیغی ہیروز کا ٹرینڈ اس وقت بھارتی ٹویٹر میں ٹاپ پر ہے۔

    مسلم ایکٹوسٹس ، سیکولر ہندو، بھارت کی اکثر اہم غیر متشدد شخصیات تبلیغی جماعت کے کارکنان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، یہ وہی انڈیا ہے جہاں چند دن سے تبلیغی جماعت کو کرونا پھیلانے کا زمہ دار قراد دیا جا رہا تھا، جس کی بنیاد ایک تبلیغی اجتماع کو بتا دیا جا رہا تھا۔

    جس کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف پہلے سے موجود شدت میں اور اضافہ ہوا ، نفرت بڑھی، جگہ جگہ بائیکاٹ کیا گیا، معروف ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی بات کی جانے لگی، حتیٰ کہ مسلمان مریضوں کو ہسپتال تک میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔ اس نفرت کا دائرہ بھارت سے نکل کر عرب ریاستوں میں قیام پزیر لاکھوں ہندوؤں تک پھیل گیا، کچھ عربوں کی غیرت جاگی جس پر کچھ ہندو انتہا پسندوں نے انہیں گالیاں دیں ، جسکے جواب میں کویت سے لے کر متحدہ عرب امارات کے تمام متحرک، ایکٹوسٹس، بلاگرز، صحافی، شاہزادے اور شہزادیوں نے خبردار کیا کہ اوقات میں رہو یہاں تمہاری وجہ سے وائرس پھیل رہا اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نازیبا سلوک بند کرو، کہیں ایسا نا ہو کہ روزی روٹی سے جاؤ،

    آج سارا بھارت جس وجہ سے تبلیغی ہیروز کی بات کر رہا انہیں خراج تحسین پیش کر رہا وہ یہ ہے کہ 129 تبلیغی ارکان نے دہلی کے ایک ہسپتال میں پلازما عطیہ کیا ہے، ایک فرد کے پلازمے سے 4 کرونا مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ یہ وہی تبلیغی ہیں جنہیں نفرت، گالی ، بیماری بنا دیا گیا تھا آج انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت لوگوں کی جان بچانے کیلئے پلازمہ دے رہے ہیں جسکی تصدیق بھارتی وزارت صحت بھی کر چکی ہے۔ یہی اسلام کی تعلیمات ہیں۔ سلام ہے تبلیغی ہیروز کو۔

  • 41 سال قبل جب بھٹو کو پھانسی دی گئی، خود نوشت نذیر لغاری

    یہ اپریل 1979 ء کی تیسری تاریخ ہے۔ مجھے صبح سویرے اُٹھ کر سندھ ہائیکورٹ پہنچنا ہے جہاں شفیع محمدی نے دوسری بار قسمت آزمائی کرنی ہے۔ قبل ازیں جب سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی اپیل کو ایک متنازع اور منقسم فیصلے کے ذریعے مسترد کرتے ہوئے تین کے مقابلے میں چار ججوں کی اکثریت سے لاہور ہائی کورٹ کے کے انتہائی متعصبانہ فیصلے کو برقراررکھا تھاتو شفیع محمدی ایڈووکیٹ نے اس فیصلے کے خلاف 21 مارچ 1979ء کو سندھ کی شریعت بنچ میں اپیل دائر کی تھی۔ اس اپیل کی تیاری میں ، میں شفیع محمدی صاحب کے ساتھ ساتھ تھا۔ میں نے ادھر اُدھر کی لائبریریوں اور اردو بازار سے تاریخ طبری، تاریخ مسعودی، طبقات ابن سعد، تاریخ ابنِ خلدون، تاریخِ یعقوبی، تاریخ علامہ جلال الدین السیوطی اور دیگر تاریخی کتب کے حصول میں ان کے ساتھ ساتھ رہاتھا۔ سندھ کی شریعت بنچ کے سربراہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عبدالقادر شیخ تھے جبکہ بنچ کے دیگر دو جج جسٹس ڈاکٹر آئی محمود اور ذوالفقار مرزا کے والد جسٹس ظفر حسین مرزا تھے۔ شفیع محمدی نے اپیل کی تیاری میں حضرت علی کی شہادت کے واقعہ کو بطورنظیر پیش کیا تھا۔ نظائر کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی نظیر تھی جسے شریعت کورٹ مسترد نہیں کرسکتی تھی۔ تاریخ کے مطابق کوفہ میں حضرت علی کو شہید کرنے کی سازش تیار کی گئی تھی، پھر اس سازش پر عملدرآمد کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ منصوبے کے مطابق پہلے مسجدِ کوفہ کے دروازے پر حضرت علی پر وار کیا گیا جو خطا ہوا، دوسرا وار کچھ آگے بڑھنے کے بعد کیا گیا، وہ وار بھی خطا ہوگیا، تیسرا وار منصوبہ کے مطابق حضرت علی کی امامت میں نماز کی ادائیگی کے دوران کیا گیا، اس وار سے حضرت علی کو شدید زخم لگا، حضرت علی کو مسجدِ کوفہ سے ایوانِ امیرالمومنین لایا گیا۔ میں نے مسجد کوفہ میں جاکر حضرت علی کی سجدہ گاہ اور گھر کا وہ مقام دیکھا جہاں پر آپ کو لایا گیا۔ کچھ ہی دیر میں حملہ آور عبدالرحمن ابنِ ملجم کو پکڑ کر حضرت علی کے روبرو پیش کیا گیا۔ آپ کے سامنے تمام حقائق لائے گئے، ابنِ ملجم کا اعترافی بیان بھی آگیا۔ اس پر امیرالمومنین نے فیصلہ دیا کہ جن لوگوں نے قتل کی سازش تیار کی ان میں سے کسی کو کچھ نہ کہا جائے، جس شخص نے پہلا وار کیا اسے بھی کچھ نہ کہا جائے، دوسرا وار کرنے کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اب رہا، ابنِ ملجم تو اگر میں اس وار کی شدت سے بچ گیا تو میں اپنا بدلہ خود لوں گا اور اگر اس وار سے میری جان چلی جائے تو ابنِ ملجم پر ایک ہی وار کیا جائے کیونکہ اس نے مجھ پر ایک ہی وار کیا ہے۔

    تاریخ کی تمام کتابوں میں حضرت علی کے اس فیصلے کو برہانِ قاطع کی حیثیت حاصل تھی۔ اب حقیقت یہ ہے کہ احمدرضا قصوری اور محمد احمد قصوری پر حملہ کے روز بھٹو صاحب ملتان میں تھے، چنانچہ شریعت کے اعتبار سے بھٹو صاحب کو سزا نہیں دی جاسکتی تھی۔صوبائی شریعت کورٹ کے تین رکنی بنچ نے شفیع محمدی کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اگلے روز کی تاریخ مقرر کردی اور ان سے معلوم کیا کہ آپ کے مقدمہ میں وکیل کون ہوگا، اس دوران شفیع محمدی سے کوئی مشورے کئے بغیر عبدالحفیظ پیرزادہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور بولے کہ میں اس کیس میں شفیع محمدی صاحب کی طرف سے پیش ہوں گا۔ اس کے بعد کورٹ برخاست ہوگئی۔ میں اور شفیع محمدی چیف جسٹس کی کورٹ سے بارروم میں آگئے، یہاں ہمیں عبدالحفیظ پیرزادہ کا انتظار تھا تاکہ وہ آئیں اور ہم سے اس کیس سے متعلق ہماری تیاری کو ایک نظر دیکھ لیں، کیونکہ عدالت نے اگلے روز یعنی 22 مارچ 1979ء کی تاریخ مقرر کی تھی۔ عبدالحفیظ پیرزادہ بارروم میں نہ آئے، ہم لگ بھگ دو گھنٹوں تک وہاں بیٹھ کر پیرزادہ کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران بار روم کا موضوع گفتگو یہی کیس تھا اور تمام وکلاء اسے بہت بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے۔ اس دور کے کرمنل لاء کے سب سے بڑے ماہر عزیزاللہ شیخ کہہ رہے تھے کہ شفیع صاحب آپ نے شریعت کورٹ کا راستہ اختیار کر کے کیس کو نیا موڑ دے دیا ہے، اب بھٹو صاحب کو پھانسی دینا آسان نہیں رہا۔ شفیع محمدی اور میں بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ جب بہت وقت گزر جانے کے بعد پیرزادہ نہ آئے تو میں اور شفیع صاحب سندھ مدرستہ الاسلام کے سامنے شفیع صاحب کے دفتر آگئے۔ ہمیں پیرزادہ کا رویہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اب کچھ کچھ پریشانی لاحق ہونے لگی تھی۔

    ہم دونوں شام سات بجے اُٹھ کر سن سیٹ بلیوارڈ پر واقع پیرزادہ کے گھر پر پہنچ گئے۔ وہ مختلف لوگوں سے ملاقاتوں میں مصروف تھے۔ دو گھنٹے انتظار کرانے کے بعد لگ بھگ سوا نو بجے پیرزادہ نے ہمیں شرفِ باریابی بخشا۔ ہم ملے تو بہت مطمئن نظر آئے اور کہنے لگے کہ شفیع صاحب اب تو ہمارے پاس بڑا وقت ہے۔ آپ فکر نہ کریں ، ہم یہ کیس جیت لیں گے۔ ہم پیرزادہ کے گھر سے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
    اگلے روز چیف جسٹس کی کورٹ میں شریعت بنچ کیلئے تین عدالتی کرسیاں لگی ہوئی تھیں، ٹھیک نو بجے تینوں جج صاحبان چیف جسٹس کے چیمبر سے نمودار ہوئے۔ کورٹ روم کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ عدالت میں تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ پورے ماحول پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کسی کے کھانسنے یا کھنکھارنے کی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ لوگوں کے ہاتھوں میں بندھی گھڑیوں کی ٹِک ٹِک اور سینوں میں دھڑکتے دلوں کی دھک دھک کو صاف سنا جا سکتا تھا۔ سندھ شریعت کورٹ میں ایک ہی کیس لگا ہوا تھا۔ جج صاحبان اپنی اپنی نشستیں سنبھال چکے تو چیف جسٹس عبدالقادر شیخ کی آواز نے سناٹے کا سینہ چیرتے ہوئے کہا”یس مسٹر پیرزادہ” پیرزادہ اپنی نشست پر روسٹرم کے سامنے کھڑے ہوئے اور ایک تباہ کن قیامت خیز جملہ ادا کیا "My lord I withdraw my case” ان کے اس جملہ کہنے شفیع محمدی اور میں حواس باختہ ہوگئے، ہمیں اپنے کانوں اور پیرزادہ کے ادا کئے گئے جملے کا یقین نہیں آرہا تھا۔ شفیع محمدی نے سراپا سوال بن کر شفیع محمدی سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا، پیرزادہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہماری ریویو پٹیشن لگی ہوئی ہے، ہمیں وہاں سے انصاف ملنے کا یقین دلایا گیا ہے۔ شفیع محمدی نے کہا سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کا ہماری شریعت کورٹ کی اپیل سے کیا تعلق ہے۔ پیرزادہ نے روکھے لہجے میں کہا آپ لوگ سپریم کورٹ کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں۔

    رات کو بی بی سی نے آٹھ بجے کی نشریات میں اس خبر کو شامل کیا اور سیر بین کے تبصرے میں کہا گیا کہ بھٹو کو بچانے کاآخری موقع ضائع کردیا گیا۔
    پھر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا، سپریم کورٹ نے بھٹو صاحب کی نظرثانی کی اپیل مسترد کردی۔ اب شفیع صاحب اور میں دوبارہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے، دوبارہ پٹیشن تیار کی گئی اور 2 اپریل کو صوبائی شریعت کورٹ سے اس پٹیشن کی فوری سماعت کی استدعا کی گئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ اس پٹیشن کی فوری سماعت کی کیا ضرورت ہے۔ شفیع محمدی نے کہا کہ ضیاءالحق بدنیت ہے وہ بھٹو صاحب کو جلد پھانسی دے دے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نقطہ آپ نے پٹیشن میں درج نہیں کیا، شفیع صاحب نے جیب سے قلم نکالتے ہوئے کہا کہ میں اس پٹیشن میں قلم سے یہ جملہ درج کردیتا ہوں۔ چیف جسٹس عبدالقادر شیخ نے کہا کہ اب آپ یہ پٹیشن کل 3 اپریل کو دائر کیجیئے گا۔
    یہ اپریل 1978ء کی تیسری تاریخ ہے، میں صبح صبح پیراڈائز سینیما سے ہائی کورٹ کی بلڈنگ کی طرف جارہا ہوں، مجھے سامنے پاسپورٹ آفس کے قریب شفیع محمدی آتے ہوئے نظرآرہے ہیں، اُن کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ میرا دل بجھ گیا۔ میں تقریباً دوڑتے ہوئے ان کے قریب پہنچا اور پوچھا، کیا ہوا؟ شفیع محمدی نے روتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں سنتے، میں نے پوچھا کہ کہتے کیاہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ جسٹس ڈاکٹر آئی محمود بیمار ہوگئے ہیں۔ لہذا شریعت بنچ ڈسچارج ہوگئی ہے۔ میں نے کہا کہ عدالت سے کہتے ہیں کہ عدالت ہمارے خرچ پر جسٹس آئی محمود کے گھر چلے، وہاں چل کر ہم شریعت کورٹ کے روبرو استدعا کرتے ہیں۔ شفیع محمدی بولے کہ میں یہ بات کرچکا ہوں، چیف جسٹس اور جسٹس ظفر مرزا کہتے ہیں کہ جسٹس آئی محمود بات کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ ایک بار اور چل کر بات کرتے ہیں۔
    ہم دونوں یتیموں کی طرح چیف جسٹس کے چیمبر کے سامنے پہنچے، شفیع محمدی نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو چیف جسٹس نے اُکتاہٹ سے کہا کہ شفیع صاحب آج کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم دروازے سے ہی واپس پلٹ آئے۔ ہم دوسری منزل سے گراؤنڈ فلور پر سامنے لان کی طرف چلے گئے۔ دائیں طرف بلڈنگ کے کونے پر صدیق کھرل، حسین شاہ راشدی، رخسانہ زبیری، بیگم اشرف عباسی اوریو نعمت مولوی کھڑے تھے، ہم دونوں اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب خاموش، سب ہماری ناکامی سے واقف، سب دلگرفتہ، سب مایوس، سب دلگیر۔۔۔اچانک صدیق کھرل کی آواز خاموشی کے سینے اور خود ہمارے دلوں میں خنجر بن کر اُتر گئی۔ "کل ڈیڈ باڈی آرہی ہے” میرے اور شفیع محمدی کے مشترکہ دوست خان رضوانی کی اپنے ذرائع سے یہ قیامت خیز خبر چھپ چکی تھی۔ ہم سب نے بیگم اشرف عباسی سے کہا کہ آپ پیرزادہ سے رابطہ کرکے اصل صورتحال معلوم کریں، رات کو بارہ بجے کے بعد بیگم اشرف عباسی کا حفیظ پیرزادہ سے رابطہ ہوا، پیرزادہ نشے میں تھا، اس نے بیگم اشرف عباسی سے کہا” ڈارلنگ کل تم ایک خوشخبری سنو گی”
    اس رات کو گزرے 41 سال گزر چکے ہیں، میں رات کے اس تیسرے پہر 41 سال پرانے وقت میں جا چکا ہوں، بھٹو صاحب کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان کی میت رات کی تاریکی میں اسلام آباد ائیر پورٹ لائی جاچکی ہے۔ پیرزادہ سو چکا ہوگا، میں اپنے گھر میں جاگ رہا ہوں۔ قمر عالم شامی میرے گھر میرے برابر ایک چارپائی سورہا ہے، نرسری میں میری بہنوں سے بھی زیادہ عزیز بہنوں شاہدہ اور زبیدہ نے شامی کو میرے ساتھ بھیج

    دیا تھا۔ آج کی رات بہت بھاری تھی، اس رات میرے ساتھ کوئی توہو جو مجھے سہارا دے سکے۔ 41 سال گزر گئے، یہ رات آج بھی بھاری ہے۔

    نذیر لغاری