Baaghi TV

Author: طہٰ منیب

  • لاک ڈاون اور چاروں طرف پھیلا بھوک کا عفریت از فیصل ندیم

    میری زندگی میں اور شائد اس سے بہت پہلے تک دنیا نے ان حالات کا سامنا نہیں کیا کرونا وائرس نے گویا ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اپنی توپوں اور میزائلوں سے دنیا کے بیشمار ملکوں کو تباہ و برباد کردینے والے دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک بھی کرونا کے سامنے ڈھیر ہوچکے ہیں امریکہ جسے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس کے سب جدید شہر نیویارک کے جدید ترین ہسپتالوں کے انتہائی قابل ڈاکٹر آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ایسے میں پاکستان جیسا ملک بھی جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے کرونا کے خلاف اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے بیس کروڑ لوگوں کا ملک وسائل کی کمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ اپنی عوام کو اس مہیب خطرے سے بچایا جاسکے اس مقصد کیلئے ملک کے کونے کونے میں قرنطینہ سینٹر اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن چونکہ یہ مرض افراد میں ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہیں مساجد مندر چرچ تعلیمی ادارے شاپنگ سینٹرز ہوٹل ریستوران کارخانے کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ جہاز ٹرین سب ہی بند کیا گیا ہے یہ ٹھیک ہے سماجی فاصلہ رکھنا اس مہلک بیماری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے اور اس کیلئے یہ سب اقدامات بھی ضروری ہیں لیکن ان اقدامات سے ایک اور بہت بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے یہ وہی خطرہ ہے جس کی جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔

    ہر طرح کا کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے مزدور طبقہ تو فوری طور پر بری طرح متاثر ہوگیا اور بیروزگاری کے پہلے دن سے روز کمانے اور روز کھانے والے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ گزرتے دنوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی بیروزگاری کا عفریت تلے دب کر روزی روٹی کی تنگی کا شکار ہونا ہے بھوک کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے
    یہ پاکستان کے عوام کی مستقل بدقسمتی ہے کہ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سیاسی قیادت کی موقع اور مفاد پرستی کے سبب درست منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے دیرپا اور دور رس اقدامات سے ہمیشہ محروم رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار و افتراق کی صورت میں نکلتا رہا ہے آج بھی کہ جب ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے ہم قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کا زبردست فقدان ہے اس مہیب خطرے سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر زور زیادہ ہے ایسے میں پاکستانی عوام پریشان ہیں کرونا وائرس اور بھوک کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا راستہ اختیار کریں

    پاکستان کے عوام دنیا میں فلاحی کاموں پر شائد سب سے زیادہ خرچ کرنے والی قوم ہیں اب بھی بیشمار لوگ اس حوالہ سے میدان عمل میں موجود ہیں ماسک سینیٹائزر کھانا اور خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی ہر طرف جاری ہے لیکن اس بار ضرورت شائد اتنی زیادہ ہے کہ روایتی طریقوں سے اس آفت کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے
    سب سے پہلے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے کرونا کے مقابلے کی تحریک کو آگے بڑھائیں انفرادی طور پر کی جانے والی تمام کوششوں کو مربوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے کہ مستحق افراد تک کم از کم خوراک ضرور پہنچائی جاسکے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھندوں میں پھنسے ہمارے ملک کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سارے ملک کو بٹھا کر کھلا سکے اس کار خیر میں مخیر حضرات کو شامل کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن سیاستدانوں پر عمومی بد اعتمادی اس کار خیر کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا پاکستان میں عوامی سطح پر احترام کیا جاتا ہے انہیں آگے لاکر ان کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اگلا کام جو اس سے بہت زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقے جو اب تک کرونا سے محفوظ ہیں انہیں پوائنٹ آؤٹ کرکے علیحدہ کیا جائے ان میں بیرونی آمد و رفت کو سوائے اجناس کی ترسیل کے نظام کے بند کیا جائے اور پھر انہیں ہر طرح کی سرگرمی کیلئے کھولا جائے تاکہ کاروبار زندگی کو چلا کر لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے تمام بڑے کارخانوں اور فیکٹریز کو کھولا جائے ان میں احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام شروع کیا جائے تاکہ جہاں ہم اپنے لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرکے بھوک کا مقابلہ کرسکیں وہیں دنیا سے مہنگے داموں اشیائے ضرورت خریدنے کے بجائے اپنے پاس ان کی پروڈکشن شروع کرسکیں یہ طے ہے کہ کرونا وائرس سے نجات دنوں میں ممکن نہیں ہے چین جیسے باوسائل اور جدید ملک کو بھی اس خطرے سے نمٹتے چوتھا مہینہ ہے تو ہم جیسے معاشی طور پر کمزور اور غریب ملک کو شائد اس خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوگا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سارے ملک کو بند رکھ کر ملک میں بھوک سے بدحال لوگوں کا جم غفیر جمع کرلیا جائے اللہ نہ کرے بھوک کے بڑھنے سے ملک افراتفری اور انتشار کی طرف بھی جاسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی جان لیجئے قیادت کی اہلیت کا اصل اندازہ ہمیشہ مشکلات میں ہوتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس کڑے وقت میں ملکی اور صوبائی قیادت اپنے اوسان قابو میں رکھے اپنی عمومی سیاسی ضروریات سے قطع نظر ہوکر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان اور اس کی عوام کا تحفظ ممکن ہو پاکستانی قوم کو بھی اس وقت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ذاتی اور انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کام کرنا ہوگا اپنے اردگرد موجود اپنے ضرورت مند پاکستانی بھائیوں کی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مدد کرنا ہوگی مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرلیا تو ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا

    خیر اندیش
    فیصل ندیم

  • 23 مارچ ، تجدید عہد وفا کا دن از محمد نعیم شہزاد

    قومی زندگی میں بعض لمحات بڑے قیمتی ہوتے ہیں اور زندہ قومیں ان لمحات کو ضائع نہیں ہونے دیتیں اور تاریخ رقم کر جاتی ہیں۔ پاکستان کی قومی تاریخ میں ایسا ہی ایک اہم دن 23 مارچ 1940 کا دن ہے جب
    لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

    اس کے پس منظر میں مسلم لیگ کو عام انتخابات میں ہونے والی شکست اور ہزیمت تھی جس نے مسلم قوم کی نمائندہ جماعت ہونے کے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936ء/1937ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے اور ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے ایک میں بھی مسلم لیگ اپنی حکومت قائم نہ کر سکی۔ اور مسلم لیگ برصغیر کی سیاست میں یکسر ناکام ہو کر رہ گئی تھی۔ اور مسلم لیگ پر واضح ہو گیا کہ اس کو مسلم نمائندہ جماعت ہونے کی بنا پر ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس بنا پر مسلم لیگ کی قیادت میں دو قومی نظریے کی اہمیت اجاگر ہوئی اور انھیں ایک روٹ میپ مل گیا کہ ہندو مسلم دو الگ قومیں ہیں جن میں اتحاد ممکن نہیں۔

    اسی اثنا میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر تاج برطانیہ اور کانگریس کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی۔ اس طرح مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دئے۔ اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ کو شروع ہوا۔ 23 مارچ کو ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر الگ آزادانہ مسلم حکومت قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ ایک اہم گھڑی تھی اور اس وقت درست لیے گئے فیصلے کی بدولت قریب ساڑھے سات برس کے عرصے میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن قائم کر لیا گیا۔

    قیام پاکستان کے 9 برس بعد اسی دن پاکستان کے پہلے آئین کو اپنایا گیا اور پاکستان پہلے اسلامی جمہوریہ کے طور پر سامنے آیا ۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ کے دن کی اہمیت دوچند ہو گئی۔

    آج الحمدللہ پاکستان اسی نظریے پر قائم ہے اور اُس وقت اِس نظریے کی مخالفت کرنے والے لوگ بھی آج اپنے فیصلے پر خود پچھتا رہے ہیں ۔ ہمسایہ ملک بھارت کے قانون میں ہونے والی حالیہ ترامیم کو ہی دیکھ لیجیے کہ کس طرح دین اسلام سے عداوت نبھاتے ہوئے متنازعہ شہریت بل پیش کیا گیا۔ اخبارات کی شہ سرخیاں اب نظریہ پاکستان کے مخالفین کو منہ چڑھا رہی ہیں اور وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کے قائل ہو گئے ہیں۔

    اس عظیم قومی دن کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مگر اس سال کرونا وائرس جیسے وبائی مرض کے پھیلاؤ نے پوری قوم کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اور ایک عجیب خوف کی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ چین کے ایک شہر سے شروع ہونے والی اس بیماری نے اس وقت قریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ روز بروز حالات دگرگوں ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ کرونا وائرس کے مبینہ مریضوں کی بغیر مناسب سکیننگ ملک میں آمد ہی پاکستان میں کرونا کے پھیلنے کا سبب بنی۔ مگر اب جب سانپ گزر گیا تو لکیر کو پیٹنے سے کیا حاصل؟ لہذا ہمیں مستقبل پر نظر کرنی چاہیے اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے کاربند ہونا جانا چاہیے۔

    آج پھر ایک قومی سوچ و فکر کی ضرورت ہے۔ آئیے تجدید عہد کے اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اس وبائی بیماری کو شکست دیں گے اور اپنے قومی جذبات کی حرارت سے اس وبا کا خاتمہ کر دیں گے۔ اور ملک و قوم کو اس بیماری کے خلاف فتح سے ہمکنار کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ تاریخ کے تناظر میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہمیشہ بروقت لیے گئے درست فیصلے ہی کامیابی کی ضمانت قرار پاتے ہیں۔ لہذا بلا تاخیر سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلا جائے اور رش کے مقامات سے دور رہا جائے۔
    اس موقع پر دوسرا اہم پیغام حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ہے کہ عوامی شعور کو بیدار کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات تسلی بخش ہیں اور امید کی جا سکتی کہ پاکستانی قوم اس وبا کو ضرور شکست دے گی۔

  • 23 مارچ اور اتحاد از عاشق علی بخاری

    اگر بغور جائزہ لیں تو اس کے پیچھے ایک طویل اور تھکادینے والی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں آپ کو نظر آئیں گی. وطن عزیز حاصل کرنا بچوں کا کھیل نہیں تھا بلکہ دو ایسی طاقتوں سے مقابلہ تھا، جن میں سے ایک برسرِ اقتدار انگریز اور دوسرے انہی کے مہرے تھے.

    سیدھے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ آپ بے سر و سامان تھے اور اور مقابل پورے توپ تفنگ سے آراستہ تھا، سمجھیں یہ وہی منظر تھا کہ ایک طرف 313 تو دوسری طرف 1000 کا لشکر تلواروں، نیزوں اور بہترین گھوڑوں پر سوار.
    یہاں بھی جب فضائے بدر پیدا ہوئی تو آسمانی مدد پورے جلال کے ساتھ مسلمانوں کے شانہ بشانہ موجود تھی. جب ہم نے آزادی حاصل کی تو ہمارے اثاثے تک روک لیے گئے، ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، یہاں تک کہ دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو ہم دو ٹکڑے ہوگئے، لیکن ہم اس وقت سے اب تک سروائو کرتے چلے آئے ہیں.

    پوری انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ جب بھی، اور کہیں بھی پختہ عزم اور کامل یقین کے ساتھ جس نے بھی جدوجہد کی وہ یقیناً کامیاب ہوا ہے.
    منگول سلطنت ہو یا سلطنت عثمانیہ یا پھر امیر تیمور ہو یا مغلیہ سلطنت اس کے علاوہ بھی بے شمار حکمران اور افراد گزرے ہیں، جنہوں نے عزم کیا تو بالآخر اپنی منزل پر پہنچ ہی گئے.
    یہ دن بھی ہمارے لیے تاریخ کا بہترین سبق رکھتاہے.
    ہم لاالہ الااللہ کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے، اسی پر ہم نے جمع رہنا ہے،
    اپنی منزل سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے رستوں پر چل نکلے تو پھر منزل سے ضرور بھٹک جائیں گے، ہمیشہ اپنے مرکز لاالہ الا اللہ کے قریب رہنا ہے اسی میں ہماری بقا کا راز چھپا ہوا ہے.

    چاہے کیسے بھی جھکڑ، طوفان چلیں، کیسی ہی ہوائیں مخالف کیوں نہ ہوجائیں، ہم نے اتحاد کے سبق کو نہیں بھولنا یہ گویا موت و حیات کے بیچ لٹکی ہوئی رسی ہے، اگر ذرا بھی ہاتھ ڈھیلا ہوا تو لکڑبگھوں اور اژدھوں کا نوالہ بن جائیں گے.
    ملک پاکستان ابتداء سے لیکر اب تک مختلف بحرانوں اور مسلسل مشکلات کا شکار ہے، اور حالیہ وبائی سلسلے میں بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ان تمام حالات میں ہم نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہے، حکومتی اقدامات چاہے کچھ بھی نہ ہوں لیکن ہم نے وہ تمام ضروری کام کرنے ہیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں، آپ اپنا بالکل نہ سوچیں بلکہ اگر آپ بیٹے ہو تو والدین بہن بھائیوں کا سوچو، اگر شوہر ہو تو بیوی، بچوں کا سوچیں، آپ آپ نہیں ہیں بلکہ بہت سارے لوگوں کی امید ہیں آپ. بہت سارے لوگوں کے چہروں پر آپ مسکراہٹ کا سبب ہیں، اس نے کہا تھا نہ
    احتیاط ضروری اے.

    ہمارا ملک کسی بھی لسانی، صوبائی، فرقہ وارانہ کاموں کا متحمل نہیں ہوسکتا، لہذا وہ تمام کام جو مسلمانوں کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوں ان سے خود بچنا یے اور دوسروں کو بچانا ہے.
    یہ ملک کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے، تو اس کے منافی کام کرکے اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں پر پانی نہیں پھیرنا، اس ملک میں نہ لبرل ازم کی کوئی جگہ ہے اور نہ ہی سیکولرازم کی.
    سندھی، پنجابی، بلوچ سب نے مل کر اس کی بنیاد رکھی تو اب بھی ہر ایک اس کا نگران او نگہبان ہے، کوئی کسی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا.
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • جہاں بڑے ملک صحت کی بہترین سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ طہ منیب

    سلام ہے حکومتی عہدیداران کو جو کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر صحافیوں اور لوگوں کے جھرمٹ میں بیان کر رہے۔ سوشل ڈسٹینسنگ گیدرنگ میں کھڑے ہو کر بیان کی جا رہی۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    لوگ کرونا سے متعلق احتیاط کی بجائے سیر سپاٹے اور رشتہ داروں ، میکے و سسرال کے پروگرام بنا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر میمز اور شغل لگ رہے، فرقہ فرقہ کھیلا جا رہا ہے، پارکوں، بازاروں میں رش ویسے کا ویسا ، ریسٹورینٹ، اڈے ، بسیں، ٹرینیں سب روٹین کے مطابق، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، توکل کے ساتھ احتیاط اور عمل بھی ضروری ہے، علماء سنجیدہ ہونے کی بجائے مقابلے بازی پر اتر آئے ہیں، پیر فقیر آن لائن دم درود کی دکانیں چلا رہے،

    اللہ نا کرے کے یہ وبا پھیلے ، اگر ایسا ہوا تو ہمارا نظام صحت اس سب کو برداشت کرنے کے قابل نہیں، جہاں اٹلی، امریکہ، سپین ، جرمنی سمیت بڑے بڑے ملک بہترین صحت کی سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ "او کچھ نہیں ہوتا” سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا احتیاط کریں، یہ علاج سے بہتر ہے۔

  • ٹک ٹاک ماڈل حریم شاہ کی اہم شخصیات و حساس مقامات تک رسائی حکومت پر سوالیہ نشان، رپورٹ

    حریم شاہ اور صندل خٹک نے معروف سوشل سائیٹ ٹک ٹاک سے شہرت پائی. ٹک ٹاک پر مختلف گانوں اور آوازوں پر اپنی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں.چند ماہ قبل حریم شاہ کی صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوئیں.
    بعد ازاں انہیں معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کے جہاز پر دیکھا گیا.مبشر لقمان نے ان پر جہاز سے چوری کا الزام لگایا ، ایف آئی آر کے بعد تحقیقات جاری ہیں.
    چند دنوں بعد انکی دفتر خارجہ کے میٹنگ روم میں وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کی ویڈیو وائرل ہو گئی. شدید عوامی ردعمل پر حریم کے خلاف تحقیقات کا آغاز تو ہوا لیکن اسکے بعد خاموشی ہے.
    حریم شاہ کی ویڈیوز سے انکے شاہانہ لائف سٹائل کا اندازہ ہوتا ہے.نجی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں حریم شاہ نے بتایا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں اپنے زاتی گھر ہیں.حریم شاہ نے ٹک ٹاک اور ماڈلنگ کو اپنا زریعہ معاش بتایا ہے.لیکن یہ شاہانہ طرز زندگی صرف مبینہ کمائی سے ممکن نہیں.کمائی کے اور زرائع کیا ہیں متعلقہ اداروں کو اسکی تحقیقات کرنی چاہئیں.
    چند دن پہلے حریم شاہ نے شیخ رشید کے ساتھ چیٹ کی ویڈیو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئر کی. حریم شاہ نے الزام لگایا کہ شیخ رشید نے پہلے بیٹی اور اب "بےبی ” کہا ہے.سوشل میڈیا پر پی ٹٰی آئی کارکنان کے شدید ردعمل کے بعد حریم شاہ نے وزیر اعظم کی ویڈیو لیک کرنے کی دھمکی دی ہے.ماضی میں بھی حریم شاہ کی جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی سمیت حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں کی ساتھ تصاویر وائرل ہو چکی ہیں
    ایک ٹک ٹاک سٹار ماڈل کی اس قدر اہم اور حساس شخصیات و مقامات تک رسائی حکومتی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے.کیا حریم شاہ اور اس سے متعلقہ کرداروں کے خلاف تحقیقات ہونگی ؟

  • سٹیزن شپ امینڈمٹ ایکٹ CAA کیا ہے اور انڈیا کے مسلمانوں کو اس سے کیا خطرات ہیں؟ طہ منیب

    یہ قانون 11 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کیا گیا۔ یہ قانون بظاہر ہمسائیہ ممالک کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی اقلیتوں کو شہریت دینے کیلئے بنایا گیا ہے۔ ان اقلیتوں میں ہندو ، سکھ، عیسائی اور بدھ مت تو شامل ہیں لیکن مسلمان نہیں
    انڈین مسلمانوں کو خوف ہے کہ یہ قانون انکے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے جو NRC (نیشنل رجسٹر آف سیٹیزن ) کی ابتدائی شکل ہے۔

    نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کیا ہے ؟ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کا مقصد انڈیا کے تمام شہریوں کو ایک نیشنل رجسٹر میں شامل کرنا ہے۔ جس سے قبل انہیں اپنے آباء و اجداد کے تاریخی کاغذات کے زریعے یہ ثابت کرنا ہے کہ انہیں انڈیا میں رہنے کا حق کیوں ہے؟
    یاد رہے کہ شناختی (ID) کارڈ یا ٹیکس کی رسیدات نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کیلئے ناکافی ہیں۔

    بھارت کے کروڑوں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے پاس اپنے آباء و اجداد کے بھارتی ہونے کے دستاویزی ثبوت نہیں ہیں۔ سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل کے زریعے مسلمانوں کے علاوہ تمام دیگر اقلیتوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔ جبکہ کروڑوں مسلمانوں کو بھارت سے بے دخل یا حراستی (Detention) کیمپس میں رکھا جائے گا۔

    اس قانون کے بننے کے بعد بھارت کی اقلیتیں خاص طور پر مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاج کی ابتداء یونیورسٹی طلباء نے کی جن میں جامعہ ملیہ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء شامل ہیں۔پولیس نے نہتے طلباء پر لاٹھی چارج ، فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد بڑی تعداد میں طلباء کو گرفتار کیا۔احتجاج کا دائرہ کار ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں پھیل گیا. دنیا بھر میں یونیورسٹی طلباء پر تشدد کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

    19 دسمبر کو پورے بھارت میں احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک سینکڑوں زخمی اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا
    نیو دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں میں انٹرنیٹ اور فون سروس معطل کر دی گئی۔آج 20 دسمبر بروز جمعہ احتجاج بدستور جاری ہے۔

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گلوبل رفیوجی کانفرنس جنیوا میں عالمی دنیا کی توجہ بھارت میں پیدا ہونیوالے بحران کی طرف مبذول کروائی۔انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی حکومت کے انتہا پسندی پر مبنی قانون اور اسکے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کو کوریج دی۔محمد علی جناح کا ستر سال قبل پیش کیا گیا موقف درست ثابت ہوا۔بھارت کے مسلم و سیکولر حلقوں کی جانب سے مودی کو وقت کا ہٹلر قرار دیا جا رہا ہے جو ہند کو تقسیم کرنے کے درپے ہے۔