Baaghi TV

Author: یاسمین آفتاب علی

  • میڈیا سے اجتناب کرنا

    میڈیا سے اجتناب کرنا


    ہمارے اردگرد بہت شورشرابہ ہے۔ ٹی وی، یو ٹیوب چینلز، متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اور تو اور، تمام نسلوں کو میسجنگ کا نشہ ڈالنے والا موبائل فون، کثیر جہتی موضوعات پر واٹس ایپ گروپس – چوبیسس گھنٹے توجہ لیتے ہیں۔

    نوجوان نسل خاص طور پر، حقیقی زندگی میں دوستوں سے میل کے بجائے ورچوئل دوستوں، اور آن لائن تعلقات پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اوپر سے سوشل میڈیا کی ستم ظریفی کہ جہاں اس کا مقصد لوگوں کو اکٹھا کرنا ہے، وہیں یہ افراد اور ان کے ماحول کے درمیان ایک اہم خلا بھی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ عجب ستم ظریفی ہے۔ سوشل میڈیا لوگوں کو جوڑتا ہے لیکن دوسری طرف یہ صارفین کی حقیقی زندگی میں لوگوں کے ساتھ تعلق کے درمیان حائل ہوتا ہے۔

    ان کو FOMO کاخطرہ لاحق ہوجاتا ہے، یعنی ایسے احساس کہ ان کے بغیر کچھ ہو نہ جائے۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ وہ ماحول کے”اندر” نہیں ہیں اور پارٹیوں میں مدعو نہیں کیے جا رہے ہیں اور انہیں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک کمرے میں بیٹھا خاندان اکثر اپنے آپ کو اپنے موبائل میں مشغول اور ایک دوسرے کے ساتھ کم ہی پائے گا۔

    مزید برآں، سوشل میڈیا کی لت اکثر صحت مند سرگرمیوں سے غفلت کا باعث بنتی ہے. مثلاً کھیل، ورزش، اور باہر وقت گزارنے سے۔ اس کاہلی والے طرز زندگی کے نتیجے میں صحت کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    ایک دوست نے مجھے ایک اقتباس بھیجا، مصنف نامعلوم، "آج سٹاربکس میں ایک آدمی کو دیکھا۔ نہ آئی فون، نہ ٹیبلیٹ، نہ لیپ ٹاپ۔ وہ بس وہیں بیٹھا تھا۔ کافی پی رہا تھا۔ بلکل جیسے کوئی نفسیاتی مریض ہو۔” اس بات نے مجھے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔ کیا ہم نے سادہ خوشیوں کی لذت نہیں کھو دی؟ گھر والوں کا ایک ساتھ ناشتہ کرنا؟

    خط لکھنے اور وصول کرنے کی خوشی؟ پوسٹ کارڈز؟ اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی زندگی کے قصے کہانیاں سننا؟ ہماری یادداشت میں ہمیشہ کے لیے رہنے والی تصویر کی خواہش،بزرگوں سے عیدی ملنے کی خوشی، زیادہ بڑی رقم نہیں بلکہ وہ رقم جو احساس کے اعتبار سے معنی خیز تھی؟ تمام خاندان کا ایک گھر میں کھانے پر آنا؟ بچوں، نوجوانوں، اور بزرگوں سے بھرے ہوۓ کمرے؟ عید کی روایتی سوغات۔ چاندی کے ورق والی میٹھی سویاں، حلوے کے میٹھے ٹکڑے، کھٹی اور مسالے دار چاٹ، مختلف اقسام کے سموسے، کباب، شیرمال اور نان کے ساتھ نہاری، شیرہ ٹپکتی ہوئی گھریلو گلابی جامن۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    غم کے مواقع پر، مثلاً موت، یا بیماری کے وقت، متاثرہ گھر والوں کو خاندان کے دیگر افراد نے ایسے جیسے گھیر لیا ہو، کوئی کھانا لے کر آرہا ہو گا، یا ہسپتال میں مریض کے ساتھ رہنے آیا ہو گا، یا صرف سہارا دینے کے لیے وہاں موجود ہو گا۔

    مشکل اوقات میں برادری اور تعلق کا یہ احساس بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے. کیونکہ خاندان علیحدہ ہوتے جارہے ہیں اور لوگ ورچوئل دنیا میں مجذوب ہوتے جارہے ہیں۔

  • گیند آئی ایم ایف کی کورٹ میں

    گیند آئی ایم ایف کی کورٹ میں

    12 جولائی کو آئی ایم ایف کے بورڈ کی میٹنگ ہو گی جس میں اس امر کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کو نو ماہ کا نیا قرض پروگرام دیا جائے یا نہیں‌ ؟ حضور ،نوماہ؟ پیسہ لینے کے لئے تبدیلیاں کریں، ایک ایسی چھپی ہوئی اصطلاح کے لئے جسے ابھی تک آئی ایم ایف نے عوام کے لئے ظاہر نہیں کیا، اور اس برس 77 بلین ڈالر کے قابل واپسی کو واپس کریں
    قابل واپسی؟
    نہیں!
    قابل عمل؟
    نہیں!

    یہ معاملہ یہاں تک کہ اگر یو اے ای اور سعودی عرب آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کے بعد مجموعی طور پر 46 بلین ڈالر کی سرمایہ کریں،اگر اور کب ؟ دونوں صورتوں میں یہ فنڈنگ نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہو گی،پاکستان نے 2022-23 کے ابتدائی معاہدے کے تحت آئی ایم ایف کے زیادہ تر مطالبات پر عمل درآمد کیا تھا جب آئی ایم ایف نے دستبرداری اختیار کی تھی۔ تو اس معجزاتی شام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کن شرائط پر منظوری دی تھی کہ اس کے بعد نو ماہ کا معاہدہ ہوا ؟

    پاکستان کو صرف قرضوں کی ادائیگی کو پورا کرنے کے لیے 77 بلین ڈالر کی ضرورت ہے اور اس میں یکم جولائی 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال میں بین الاقوامی قرضوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ‘ایس بی پی کے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص غیر ملکی ذخائر 5,270.9 ملین ڈالر تھے۔ . اس طرح، 23 جون 2023 تک پاکستان کے پاس موجود کل مائع غیر ملکی ذخائر 9,340.8 ملین ڈالر تک پہنچ گئے۔‘‘ (پاکستان آبزرور)

    کیا کوئی سیاسی نظام معاشی بحران سے نمٹ سکتا ہے؟ نہیں، سینئر تجزیہ کار شہاب جعفری نے کچھ دن پہلے وی لاگ یاسمین کی بیٹھک میں بات کی،معاشی ماہر شہاب جعفری کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی سیٹ اپ کے لیے ووٹوں، وعدوں، مراعات کی ضرورت ہوتی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سخت قدم اٹھانے کی صورت میں اڑان بھرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں صورتوں میں، یہ عام آدمی کے لیے مشکل صورتحال ہو گی، مہنگائی بڑھے گی، پیٹرول ،ڈیزل بڑھے گا
    کوئی حل؟
    ہم ان دنوں میں ایک دن جاگیں گے اور حقائق کا سامنا کریں گے،

  • کیا امتیازی سلوک صرف پولیس کے نظام سے بالا، فرانسیسی نفسیات میں سرایت کرتا ہے؟

    کیا امتیازی سلوک صرف پولیس کے نظام سے بالا، فرانسیسی نفسیات میں سرایت کرتا ہے؟

    حالیہ واقعات میں، فرانسیسی پولیس کی طرف سے ایک 17 سالہ لڑکے کو گولی مار نے کے واقعے نے فرانس میں جاری تشدد کو ہوا دی ہے۔ جس سے فرانس کی پولیس میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی گہری جڑوں کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ متاثرہ شخص شمالی افریقی نژاد تھا، جو بنیادی رویوں اور تعصبات کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ 2023 میں پولیس اسٹاپ کے دوران فائرنگ کا تیسرا واقعہ ہے۔ پچھلے سال اسی طرح کے تیرہ واقعات ہوئے جن میں سے تین 2021 میں اور دو 2022 میں ہوئے۔ ان تمام واقعات میں متاثر لوگ یا تو عرب ورنہ افریقی تھے۔

    فرانسیسی پولیس فورس کے اندر نسلی امتیاز کے اس بار بار ہونے والے نمونے کو اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل، کونسل آف یورپ، اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اجاگر کیا ہے۔ ان کی رپورٹیں اور نتائج ایک یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں کہ مسئلہ ان الگ تھلگ واقعات سے زیادہ گہرا ہے۔

    مزید برآں، یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ مسئلہ پولیس سسٹم کے علاوہ بھی موجود ہے۔ فرانس کو بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی اجتماعی نفسیات کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس کی ایک مثال 2021 کے "اینٹی علیحدگی پسندی” بل میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جہاں ایک ترمیم کی منظوری دی گئی تھی، جس میں نابالغ بچوں کے پہننے والے نمایاں مذہبی نشانات، اور خواتین کی محکومیت کی علامت ہونے والے لباس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ ترمیم مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی گہری غلط فہمی کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ فرانس میں تقریباً 50 لاکھ مسلمان ہیں، لیکن ان میں سے صرف ایک حصہ یعنی تقریباً 2000 ، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے چہروں کو مکمل طور پر نقاب سے ڈھانپتے ہیں۔ لہٰذا، یہ قیاس آرائیاں کہ اس طرح کے لباس پوری مسلم آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، غلط بھی ہے اور امتیازی بھی۔ اسلام میں ہر عورت پردہ نہیں کرتی۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، وہ یقیناً اسلامی روایت کی پیروی کرتے ہیں جیسا کہ ان کا حق ہے۔

    فرانس کو نہ صرف اپنے ناقص پولیس سسٹم کی اصلاح کرنی چاہئے، بلکہ اس میں موجود وسیع تر سماجی مسائل کو بھی حل کرنا چاہیے۔ پولیس افسران فرانسیسی معاشرے کے رکن ہیں۔ جب امتیازی سلوک کو کسی بھی چیز یا کسی سے مختلف کے لیے اجتماعی رویہ کے طور پر قبول کیا جائے، تو اس نوعیت کے واقعات کا رونما ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوئی ادارہ تنہائی میں موجود نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس معاشرے سے تشکیل پاتے ہیں جس کا وہ حصہ ہیں۔

    آخر میں، فرانس کو اپنی صفوں کے اندر نسلی امتیاز کو دور کرتے ہوئے، اپنے پولیس انتظامیہ کی ایک جامع تحقیقات کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی قوم کو اپنے وسیع تر معاشرتی رویوں اور تعصبات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے، فرانس ایک زیادہ جامع اور انصاف پسند معاشرے کی تعمیر کے لیے کام کر سکتا ہے، جدھر امتیازی سلوک کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔

  • دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    دودھو دھلے ہونے کی خواہش

    سیاست ایک گندا کھیل ہے۔ سیاستدانوں کی کثیر تعداد؛ وہ سمجھ لیتی ہے کہ ہوائیں کس جانب چل رہی ہیں، 9 مئی 2023 عمران خان اور ان کی پارٹی کے لیے موت کا دن تھا۔ سب کچھ خاک ہو گیا۔ سیاسی برفباری کا اثر شروع ہوا اور اب بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ وہ گول پتھر جو خان کی پارٹی کی طرف لپکے تھے، سبز چراگاہوں تک جانے کے راستے کو نشانہ زد کرنے میں تیزی سے کوشاں تھے۔ جیسا کہ کہاوت ہے، ڈوبتے جہاز سے چھلانگ لگا دی! پی ٹی آئی کے کچھ "کٹر” حامی جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ "موت تک بھی ہم الگ نہیں ہوں گے” انہوں نے جہانگیر خان ترین کی استحکم پاکستان پارٹی میں شامل ہونے میں کوئی دیر نہ کی۔ اس کا آغاز بڑے دھوم دھام سے کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے دبئی سے آنے والی خبروں سے معلوم ہوا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی اس نوزائیدہ جماعت کے لئے سیٹوں میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں۔ نئی پارٹی میں شامل ہونے والے پہلے ہی پی پی پی جیسے پرانی جماعتوں میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔ اگرچہ ایسا ہو بھی سکتا ہے ،اور نہیں بھی،

    پاکستانی عوام میں جو سوال پوچھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ نادہندگان, جو پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی سابقہ وفاداری کے نادہندہ ہیں اور ہر طرح کی کرپشن کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ اور بعض نے اس عمل میں بھی اپنا حصہ بھی ڈال دیا ہے جو پاکستان کے اپنے 9/11 پر ہونے والی غداری کا عمل تھا، کیا ان کو وائٹ واش کرنے کی اجازت دی جائے گی، اور اس طرح پی ٹی آئی سے جانے کی بنیاد پر ہر غلط کام سے بری ہو جائیں گے؟

    اگر ایسا ہو جائے تو قابل افسوس بات ہو گی۔ ابھی تک نظریہ یہ ہے کہ نہ صرف 9 مئی کے مجرموں کا، بلکہ تمام بدعنوانیوں کا بھی کڑا احتساب ہوگا۔ تاہم، اگر ان بھگوڑے سیاستدانوں کو ان کی بداعمالیوں سے مستثنیٰ ہونے کی اجازت دی جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ احتساب کا عمل مخصوص ہے نہ کہ جامع۔ اس عمل میں تمام بدعنوان کارروائیوں کا احاطہ ہونا چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو۔ خواہ میڈیا کے اہلکار ہوں یا فوج اور عدلیہ کے،

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ، لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ایک بار اور تبدیلی کے لیے، انصاف کا یہ جملہ، ’’انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا دیکھا بھی جانا چاہیے‘‘۔ [یہ جملہ لارڈ ہیورٹ نے ترتیب دیا تھا، جو اس وقت کے لارڈ چیف جسٹس آف انگلینڈ تھے، ریکس بمقابلہ سسیکس جسٹس، [1924] 1 KB 256۔]”

  • کریک ڈاؤن!

    کریک ڈاؤن!

    آتش زنی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ فوج کے اس معاملے میں نرمی کا کبھی موقع نہیں دینا چاہئے۔ پہلی مثال ان کی اپنی صفوں میں سے ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل احمد شریف نے حال ہی میں اپنے خطاب میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں فوج کے "خود احتسابی کے عمل” کے ایک حصے کے طور پر ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین فوجی افسران کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ تین میجر جنرلز اور سات بریگیڈیئرز سمیت افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ (ڈان نیوز 26 جون 2023)

    پیغام بآواز بلند اور واضح ہے۔ نو مئی کے واقعات میں جو بھی ملوث ہیں، کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

    یہ کارروائی رواں برس 9 مئی کو ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں ملوث افراد کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ چاہے انہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے نعروں سے اکسایا گیا ہو کہ "عمران خان ہماری سرخ لکیر ہے” اور "ہم آپ کے "باپ” سے "حقیقی آزادی” لیں گے – آتش زنی کرنے والوں کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی "ماسٹر مائنڈ” کو بخشا جائے گا۔

    آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں کے ذریعے عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ یہ باقاعدہ قانون ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں پر کن حالات میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے، جب کوئی شہری خود کو غداری میں ملوث کرتا ہے، فوجی اہلکاروں، املاک پر حملہ کرتا ہے، یا پھر جاسوسی میں ملوث پایا جاتا ہے۔

    یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ
    1۔ 1973 کا غداری ایکٹ کیا ہے:

    2. سنگین غداری وغیرہ کی سزا۔ جہاں جب ایک شخص جو مجرم پایا جاتا ہے۔

    ا- 23 مارچ 1956 کے بعد سے کسی بھی وقت پاکستان میں نافذ العمل آئین کی تنسیخ یا تخریب کاری کا ارتکاب کرنا
    ب- آئین کے آرٹیکل 6 میں بیان کردہ سنگین غداری کی سزا موت یا عمر قید ہوگی۔

    باٹم لائن:

    3. طریقہ کار۔ کوئی عدالت اس ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم کا نوٹس نہیں لے گی، ماسوائے اس سلسلے میں کہ وفاقی حکومت کی طرف سے اختیار کردہ کسی شخص کی تحریری شکایت پر۔

    میرا معصومانہ سوال یہ ہے کہ پھر عدالت نے فوجی ٹرائیبیونلز کے ذریعے شہریوں کے مقدمات کو روکنے کی درخواستوں کی سماعت کیوں شروع کی؟

    دوسری صورت حال وہ ہے جب پاکستان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ اور ایمرجنسی کے اعلان کا سامنا ہو۔

    کریک ڈاؤن یہاں ہے۔ کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ جو لوگ اس پر خاموش ہیں، انہیں سمجھنا ہوگا کہ کھیل ختم ہوچکا ہے۔ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنا قابل قبول نہیں!

    پاکستانیوں کے پاس اندھا پیسہ، پرتگال میں مبشر لقمان نے کیا دیکھا؟

    انڈین کرکٹ ٹیم پاکستان کیوں نہیں آرہی ؟ بھارتی ہائی کمشنر نے مبشر لقمان کو کیا بتایا۔

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!

    مودی کے لیے پاکستان ایک ڈیفالٹ سیٹنگ ، جو لڑنا کبھی نہیں بھولتا!

    مودی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران، دہلی اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدے کیے گئے۔ پرائیویٹ سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کو بھی اجاگر کیا گیا جس نے اسے خاصا فروغ دیا۔

    اس دورے کے دوران مودی نے بھارت کے لیے جو بھی اچھی چیزیں حاصل کیں، ان کا اثر بائیڈن کے ساتھ ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا، "بھارت اور امریکہ نے سرحد پار دہشت گردی کی "سخت مذمت” کی نیز پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہ دے۔ مشترکہ بیان میں دہشت گرد حملوں کے خلاف جس میں دونوں ممالک کو "دنیا کے قریبی دوستوں میں سے” قرار دیا گیا۔

    پاکستان کے متعلق مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور بھارت "عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑے ہیں، اور دہشت گردی کی تمام اشکال کی واضح مذمت کرتے ہیں”۔ [دی انڈیپنڈنٹ، جون 2023]۔

    یہ مزاحیہ تھا! نہ صرف مودی کی طرف سے بیان جو اب بھی "گجرات کے قصاب” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے. جسے امریکی ویزا سے انکار کر دیا گیا تھا، اور "مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں” کی بنیاد پر تقریبا ایک دہائی تک امریکی خلا میں داخل نہیں ہو سکا۔ وہ امریکی سرزمین پر رہتے ہوئے یہ بیان دے رہے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ مودی کی نگرانی میں بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر رہا ہے۔ "گزشتہ ہفتے، ہیومن رائٹس واچ (HRW) نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ مودی-بائیڈن سربراہی اجلاس کے "مرکز” میں انسانی حقوق کے خدشات کو مد نظررکھے۔” {CNN نیوز}

    صورتحال کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے، امریکہ بھارت کو عالمی سطح پر چین کے عروج کے لیے سپیڈ بریکر کے طور پر دیکھتا ہے۔ ممکن نہیں کیونکہ ہندوستان ترقی کے اعتبار سے چین سے بہت زیادہ پیچھے ہے۔ پاکستان کی چین سے قربت ہے۔ واشنگٹن اور چین دونوں بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام آباد چاہے بھی تو وہ خود کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث نہیں کرسکتا. اس کی وجہ وہ سیاسی، عدالتی اور اقتصادی جاری بحران جس سے وہ کافی عرصے سے دوچار ہے۔
    اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان نے اپنی پالیسیوں کو خارجی اور داخلی دونوں طرح سے غلط طریقے سے استعمال کیا ہے۔ خود کو بین الاقوامی سطح پر غیر متعلقہ بنانے کے لیے یہ کافی ہے۔

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    پلوامہ حملے سے متعلق بھارتی بھارتی انٹیلیجنس کی رپورٹ،پاکستان کا رد عمل بھی آ گیا

    پلوامہ کے بعد گیلوان میں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کا ذمہ دار کون؟ بھارتی صحافی نے سیاسی قیادت پر بڑا سوال اٹھا دیا

    بھارت کی پلوامہ ڈرامے کی آڑ میں پاکستان کےخلاف سازش بے نقاب،بھارت نے جسکو مردہ کہا وہ پاکستان میں زندہ نکلا

  • انسانی سمگلنگ سے موت

    انسانی سمگلنگ سے موت

    پاکستان میں انسانی اسمگلنگ ایک مشہورو معروف مسئلہ ہے. بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی جبری شادیوں سے متعلق جنہیں ملک سے باہر لے جا کر جنسی مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان اسمگلنگ کے وسیع جال کے پریشان کن معاملات سامنے آئے تھے۔ بڑھتا ہوا مسئلہ نوجوان پاکستانی خواتین اور چینی شہریوں کے درمیان جعلی شادیوں کی وجہ سے تھا۔ یہ چینی شہری پاکستانی خواتین کو دھوکہ دیتے ہیں، جس سے وہ یہ سمجھتی ہیں کہ وہ قانون کے پاسدار، اور مالی طور پر مستحکم افراد ہیں۔ تاہم، چین پہنچتے ہی، بہت سی خواتین کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے "شوہروں” نے انہیں بطور جنسی غلام استحصال اور فروخت کی نیت سے خریدا ہے [ماخذ: پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا مقابلہ]۔ https://borgenproject.org/human-trafficking-in-pakistan/

    اس معاملے کو بڑھتا ہوا دیکھ کر پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے 52 چینی سمگلروں کو گرفتار کرکے ان پر فرد جرم عائد کی [ماخذ: بروکنگز انسٹی ٹیوٹ: مدیحہ افضل، مارچ 2022]۔ تاہم، مسئلہ ان گرفتار افراد سے آگے بڑھ گیا ہے۔

    طلبا کی بھی پریشان کن کہانیاں ہیں جو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بے چین ہیں لیکن مطلوبہ تعلیمی نتائج اور وسائل کی کمی کے باعث، ایسے طلبہ کو داخلے دلانے والی ایجنسیوں کے بھیس میں انسانی اسمگلنگ کی اسکیموں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ کمزور افراد اس استحصال کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

    اس انسانی سمگلنگ کے بحران کی بنیادی وجوہات مستقبل کے ناامید امکانات، بے روزگاری کی بڑھتی شرح، اور کام کے غیر مساوی مواقع کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ عوامل ایسے ماحول میں ہوتے ہیں جہاں افراد ہیرا پھیری اور جبر کا آسان نشانہ بنتے ہیں۔
    boat hadsa

    ابھی حال ہی میں یونان کے جنوبی ساحل پہ ایک المناک واقعہ پیش آیا. جہاں ایک کشتی ڈوب گئی جس میں بشمول درجنوں پاکستانی، دیگر قومیتوں کے افراد مثلا شامی، افغان، مصری اور فلسطینی بھی شامل تھے۔ مقامی میڈیا رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ 298 تصدیق شدہ ہلاکتیں پاکستانوں کی تھیں۔

    اگرچہ پاکستانی ایجنسیاں 10 مبینہ انسانی سمگلروں کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئیں، لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس مسئلے کا دائرہ، حکام کے تسلیم شدہ، اور فراہم کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

    انسانی سمگلنگ کا مسئلہ ایک بہت بڑا المیہ ہے، جسے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔ یونان کے ساحل پر رونما ہونے والا المیہ اس بڑے مسئلے کی محض ایک چھوٹی سی جھلک ہے۔

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا ساتوں اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہوا

    شہری ڈوب چکے، کئی کی لاشیں ملیں تو کئی ابھی تک لاپتہ ہیں،

    کشتی واقعے کے ذمہ داران کو جلد کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایت

  • باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    باکو سے سستی ایل این جی واقعی سستی ہے؟

    آذربائیجان اگلے ماہ پاکستان کو ایل این جی کی سپلائی شروع کرنے والا ہے، یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ "سستی” قیمت پر ہوگی تاہم، "سستے” کی اصطلاح گمراہ کن ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں پالیسی ساز ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی طرف آ رہے ہیں

    صاف ستھرے اور زیادہ سستی توانائی کے ذرائع کے لیے "پل فیول” کے طور پر اپنی شہرت کے باوجود، ایل این جی نے نادانستہ طور پر پاکستان کو زیادہ گندے اور زیادہ آلودگی پھیلانے والے ایندھن پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے جب قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ مثال کے طور پر، قیمتوں میں اضافے کے دوران، پاکستان میں سیمنٹ فیکٹریوں نے افغانستان سے کوئلہ خریدنے کا سہارا لیا، جس سے آلودگی کی سطح بڑھ گئی (بلومبرگ، 2022)۔

    ایل این جی پر بڑھتا ہوا انحصار نہ صرف ایندھن کی قیمت میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بھی دبا رہا ہے۔ ایل این جی درآمد کرنے سے پہلے گیس کی تقسیم کار کمپنیوں کی بیلنس شیٹس قابل انتظام تھیں۔ تاہم، ایل این جی کا بڑھتا ہوا استعمال، جو نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اہم لائن لاسز کا باعث بھی بنتا ہے، جس کے نتیجے میں گیس کے لیے بے حساب (UFG) کی وجہ سے کافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

    ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، پاکستان کو "سستے” نرخوں پر درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنے کی بجائے گھریلو گیس کی پیداوار کو ترجیح دینی چاہیے۔ بنیادی مسئلہ پیداوار میں ہے، اور ایک مہنگا متبادل درآمد کرنے سے بیلنس شیٹ میں مزید تناؤ آئے گا، جس سے توانائی کا شعبہ غیر پائیدار ہو جائے گا۔

    کیا ایل این جی پر زیادہ انحصار کم کرنا ممکن ہے؟ ہاں، توانائی پیدا کرنے کے متبادل ذرائع جیسے ہائیڈروجن اور بائیو گیس کو تلاش کریں۔ دوسرا، توانائی کی طلب کا تجزیہ کریں اور مختلف شعبوں کے لیے مناسب سپلائی کا تعین کریں۔ ایسی ٹرانسمیشن لائنوں میں ایل این جی کا استعمال کریں جو لائن لاسز کا کم سے کم شکار ہوں۔ تیسرا، نقصانات کو کم کرنے کے لیے تقسیم کے نظام میں اصلاحات کریں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے پورے نظام کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    نوجوان نسل کو حکومت میں شامل کرنا کیوں ضروری ہے؟

    کینیڈین مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن (سی ایم ایچ اے) کے مطابق: "نوجوانوں کی بامعنی شرکت کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کی قوت، دلچسپی اور صلاحیت کو پہچاننا اور ان صفات کی پرورش کرنا شامل ہے تاکہ انہیں انفرادی اور نظمی سطح پر اثرانداز ہونے والے فیصلوں میں شامل ہونے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ ”

    پاکستان میں گورننس کے مختلف شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا بہت ضروری ہے۔ وہ تخلیقی صلاحیتیں، انوکھی سوچ، اور ملک کی موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    بدقسمتی سے، پاکستان میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں انہی منصوبہ بندی کرنے والوں پر انحصار کرتی رہی ہیں، جو معاشی پالیسیوں میں مثبت تبدیلی لانے، اور پیچیدہ سماجی مسائل کا حل کرنے کے لیے ناکام رہے۔ نتیجتاً، پاکستان تیزی سے برین ڈرین کا سامنا کر رہا ہے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو دیگر ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے. جبکہ وہ اپنی معیشتوں کو ترقی دینے کے لیے اپنے انسانی وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں۔
    پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر والی ہے، البتہ نوجوانوں میں بے روزگاری بدستور زیادہ ہے۔ معیشت کی ترقی کے لیے ان کی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نوجوانوں کو ضروری ہنر مندی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ان دونوں شعبوں میں نمایاں کمی ہے۔

    برین ڈرین کا مقابلہ کرنے اور ترقی کرنے کے لیے پاکستان کو ٹیکنالوجی اور علمی نوعیت کی مصنوعات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ شعبوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے، جس میں خصوصی توجہ خصوصی مہارتوں اور ویلیو ایڈڈ نظریات کو تیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    اس عمل میں سب سے اہم قدم نوجوانوں کا مختلف شعبوں سے متعلق پالیسی سازی کے فیصلوں میں شمولیت ہے۔ نوجوان افراد کو ان فرسودہ پالیسی سازوں کی جگہ دینی چاہیے جو کئی دہائیوں سے براجمان ہیں اور 1990 کی دہائی کے بعد بدلتے وقت کے مطابق ڈھالنے میں ناکام ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنج فرسودہ ذہنیت سے دور ہونے کا ہے، جو اداروں کو ترقی پسند انداز میں ترقی دلانے سے قاصر رہے ہیں۔ جانبداری کا رواج، اور ایسے افراد کی سربراہان اور اسائنمنٹس کے عہدہ پہ تعیناتی جن کے پاس متعلقہ موضوع کا بہت کم علم ہو، اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے۔

    اب وقت ہے کہ ملکی حکمرانی میں نوجوانوں کی شمولیت کرا کے پاکستان اور اس کے مستقبل کو ترجیح دی جائے۔ ایسا کرنے سے پاکستان اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے مستفید ہو سکتا ہے، اپنی اہم مشکلات سے نمٹ سکتا ہے، اور ایک پائیدار ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔

  • کیا عمران خان کے پاس مذاکرات کیلئے کوئی پتا باقی ہے؟

    کیا عمران خان کے پاس مذاکرات کیلئے کوئی پتا باقی ہے؟

    12 جون کو عمران خان کے قوم سے ایک اور خطاب میں، خان کے بے ترتیب خیالات کا خلاصہ یہ تھا کہ کوئی بھی ان سے "بات نہیں” کر رہا ہے {یعنی آرمی چیف }۔ سوال یہ ہے کہ؛ کیا ان کے پاس میز پر رکھنے کے لیے کچھ ہے بھی کہ نہیں؟

    اب یہ بات سب کو کھلے عام معلوم ہے کہ پی ٹی آئی نے "امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات، اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ” پارٹی کے نظریات کی حمایت کے لیے واشنگٹن میں قائم ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں۔ غیر ملکی ایجنٹوں کے رجسٹریشن ایکٹ کے تحت امریکی محکمہ انصاف کے پاس دائر دستاویزات کے مطابق، معاہدہ 21 فروری کو چھ ماہ کی مدت کے لیے طے پایا تھا۔‘‘ (23 مارچ 2023)۔

    بلنکن کو خط لکھنا، کانگریسیوں کا اکٹھا کرنا، اور حالیہ سجاد برکی کا ایک ٹویٹ۔ وہ مبینہ طور پر امریکہ میں عمران خان کے نمائندہ ہیں اور پی ٹی آئی امریکہ کے سابق صدر بھی تھے۔ ٹویٹ میں کہتے ہیں ،”کانگریس مین گریگ کیسر کی میزبانی کے لیے مسٹر طارق مجید کا شکریہ۔ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی حمایت کا وعدہ کیا۔ وہ ملٹری ایڈ کو ملک میں انسانی حقوق کے حالات سے جوڑنے کے لیے ایک بل کی معاونت کر رہے ہیں۔
    @PTIofficial @ptuusaofficial @MoeedNj

    آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق، گزشتہ دو دن جی ایچ کیو میں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، چیف آف آرمی سٹاف عاصم منیر نے کہا، "جو لوگ بگاڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور انسانی حقوق کی جعلی خلاف ورزیوں کا ڈرامہ کرنا چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ ”
    یہ پیغام باآوازبلند اور بالکل واضح ہے! جب پی ٹی آئی نے 9 مئی کو سول اور ملٹری تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ جمہوری ڈھانچے سے نکل کر ایسی کارروائیوں میں مشغول ہوگئے جو دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں۔ اگر آج اس خطرناک حرکت کو نہیں روکا گیا تو مستقبل میں ٹی ٹی پی یا کسی دوسری سیاسی جماعت کو بھی معاشرے میں ایسے ناقابل قبول حملے کرنے سے کون روک سکتا ہے ؟
    فوج کی پیٹھ دیوار سے لگا دی گئی ہے۔
    کیپیٹل ہل ایک فوجی تنصیب نہیں تھی، مگر پھر بھی سٹیورٹ رہوڈز کو حملے کے ماسٹر مائنڈ کے الزام میں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بہتر ہے کہ کپتان یاد رکھے کہ وہ وکٹ کے دونوں طرف نہیں کھیل سکتا۔