Baaghi TV

Author: یاسمین آفتاب علی

  • ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    ڈالر کے جال سے نکلنے کا راستہ

    پاکستان کو اس وقت اہم معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں خستہ حال معیشت، غیر ملکی ذخائر کی کمی، اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران شامل ہیں۔ تاہم، ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ بارٹر تجارتی معاہدے کرنے کا حالیہ فیصلہ ذہانت کا ایک نمونہ ہے اور بہترین تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ غیررسمی حکمت عملی واقعی قابل ذکر ہے۔
    بارٹر ٹریڈ پاکستان کو غیر ملکی ذخائر کی ضرورت کے بغیر مختلف مصنوعات کا تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، اس سے غیر ملکی کرنسی کے کم ہوتے ذخائر پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ تبادلے کے لیے دستیاب مصنوعات میں قدرتی گیس، پیٹرولیم، پھل، گری دار میوہ، چاول، دودھ، سبزیاں، مٹھائیاں، کھیلوں کے سامان، بجلی کی اشیاء، ٹیکسٹائل، دواسازی اور چمڑا شامل ہیں۔

    بارٹر ٹریڈ میں دواسازی کی اشیاء کی شمولیت سے مقامی شعبے دوائیں بنانے کے لیے بااختیار ہو جائیں گے، خاص طور پر زندگی بچانے والی، اور دیگر عام دوائیں جن کی سپلائی یا تو کم ہے یا اجزاء کی کمی کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔ سرکاری اور نجی ملکیت والے دونوں ادارے کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد بارٹر پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ بات غور طلب ہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کے پاس خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ماہ سے بھی کم مالیت کا زرمبادلہ موجود ہے۔

    ایران اور افغانستان سے اسمگلنگ ہماری معیشت کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اگرچہ اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، مگر بارٹر ٹریڈ سے اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں کمی آنی چاہیے اور غیر ملکی ذخائر کو بچانے میں بھی مدد ہونی چاہیے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین اقتصادیات، اور وزارت تجارت کے اعلیٰ عہدیداروں کی ایک ٹیم کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعے کے مطابق، ملک میں سمگل کی جانے والی اعلیٰ اشیاء سالانہ (25 نومبر 2020) 3.3 بلین ڈالر کماتی ہیں۔ ان سمگل شدہ مصنوعات میں سیل فون، ٹائر، انجن آئل اور کھانے کی اشیاء شامل ہیں۔ مثال کے طور پر، سگریٹ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے، جو پہلے 200 روپے کے مقابلہ میں اب 500 روپے فی پیکٹ فروخت ہوتے ہیں، افغان سگریٹ کو پاکستان میں ایک منافع بخش مارکیٹ ملی ہے، جو اچھی کوالٹی کا سگریٹ 130 روپے فی پیکٹ سے بھی کم میں مل جاتا ہے

    لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو صرف 11 اشیا کی سمگلنگ (12 جنوری 2023) کی وجہ سے سالانہ 2.63 بلین امریکی ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

    بارٹر ٹریڈ کے علاوہ، ہمیں دیگر اہم مسائل کو حل کرنے پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ میری تین تجاویز ہیں:

    سب سے پہلے ہمیں سازگار حالات بنا کر آئی ٹی جیسی صنعتوں پر پانچ سال کے لیے ٹیکس ختم کردینا چاہیے۔ ہم ان کی ترقی اور توسیع کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ اس سے ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں اور صارفین کی قوت خرید میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

    دوسرا، ہمیں گرے اکانومی سے پیسے کی خاطر خواہ آمد کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں، جو کہ غیر سرکاری ذرائع سے چلتی ہے۔ یہ دس سال کے لیے ٹیکس چھوٹ دے کر اور بعد کے سالوں میں ٹیکس چھوٹ دے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    تیسرا، ہمارے ماہرین اقتصادیات کو 21ویں صدی کے حقائق کو قبول کرنے اور کریپٹو کرنسی کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے قانونی شکل دینا اور منظم کرنا ضروری ہے۔ ہمیں باصلاحیت نوجوانوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں جو اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تاکہ ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل ہو سکے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان 21ویں صدی میں قدم رکھے اور ایسی اختراعی حکمت عملی کو اپنائے جو معاشی مشکلات پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے۔

  • پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں آگے کیا ہوگا؟

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ مسلسل بدل رہا ہے، اس میں کوئی ایک لمحہ دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتا۔ آئیے موجودہ منظر نامے کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں:

    عمران خان زمان پارک سے اپنی تقاریر میں فوج پر تنقید کرتے رہتے ہیں. اسے کریک ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اور اسے جمہوریت پر ایک حملہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے بیانیے میں واحد تبدیلی اس کی کریک ڈاؤن کے خلاف امریکہ سے مدد کی اپیل ہے۔

    کچھ "لبرلز” فوج کے ردعمل پر سوال اٹھا رہے ہیں اور کیپیٹل ہل میں ہونے والے واقعات پر امریکی حکومت کے ردعمل سے اس کا موازنہ بھی کر رہے ہیں۔ جو اس کا علم رکھتے ہیں وہ ایک نکتہ اٹھاتا ہے کہ کیا کیپیٹل ہل ایک فوجی تنصیب تھی اور کیا ٹرمپ کے حامیوں نے کسی فوجی یا فضائیہ کے اڈوں، پینٹاگون، یا کسی جنرل کی رہائش گاہ پر حملہ کیا؟ متعدد شہروں میں 9 مئی کو ہونے والے ہم آہنگ حملے یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی . اس وجہ سے یہ نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر میں ایک بے مثال واقعہ ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے کبھی بھی صرف فوج کو نشانہ نہیں بنایا۔

    9 مئی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارٹی پر عمران خان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔ محاذ آرائی کی سیاست، جو کہ دور اقتدار میں بھی خان کے موقف کی بنیاد اور ان کی پارٹی کا خاصہ رہا ہے. اسی کے نتیجے میں ایک غیر فعال طرز حکمرانی کا عمل منظرعام پہ آیا تھا۔

    بیشک کہ اگر جہانگیر ترین کے خلاف آرٹیکل 62[1][f] کے تحت الیکشن لڑنے پر پابندی برقرار رہے گی، چوںکہ اس کے ہٹائے جانے کے بہت کم امکانات ہیں، کیونکہ نواز شریف کو بھی اسی قانون کے تحت 2017 میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ اور ترین کو ریلیف دینے کا مطلب ہے کہ شریف کو بھی دینا پڑے گا۔ بہر حال، ترین کے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اور انہیں پی ٹی آئی سے منحرف ایم این ایز اور ایم پی اے کی کثیر تعداد کی حمایت بھی حاصل ہے۔ امکانات ہیں کہ وہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

    یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک جلد ہی تشکیل دیا جائے گا اور اس کا اعلان اس تحریر کی اشاعت سے کچھ ہی پہلے ہو سکتا ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کے منحرف ہونے کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔نیز چوہدری شجاعت بھی ایک مضبوط سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    انتخابات اس سال کسی وقت، اور ممکنہ طور پر اکتوبر ہی میں ہو سکتے ہیں۔ یہ اب بھی "ممکنہ” ہے۔ تاہم، جب تک پارٹیوں کے بنیادی ڈھانچے کی اندرونی صفائی نہیں ہوتیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی جانب سے ضروری تبدیلیوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، بشمول ‘ان میں سے کوئی نہیں'(NOTA) کے آپشن کو متعارف کرانا، ممکن ہے کہ وہی جانے پہچانے چہرے واپس آجائیں۔ . ضروری اقدامات کے متعلق مزید تفصیلات میرے ویلاگ مورخہ 4 جون 2023 میں بھی بیان ہو چکے ہیں۔

  • سوڈان میں انسانی بحران: عوامل اور علاقائی تناظر کا ایک پیچیدہ جال

    سوڈان میں انسانی بحران: عوامل اور علاقائی تناظر کا ایک پیچیدہ جال

    سوڈان میں انسانی بحران عبوری حکومت کے فوج کے ہاتھوں قبضے سے بڑھ گیا ہے. اس کے نتیجے میں ملک بھر میں مظاہرے اور مسلّح جھڑپیں ہورہی ہیں۔ اس سنگین صورتحال کی وجہ سے 1.1 ملین سے زیادہ پناہ گزینوں کی نقل مکانی ہوچکی ہے، بالخصوص اریٹیریا اور جنوبی سوڈان سے، جو اس وقت مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔ ان بے گھر افراد کی سب سے بڑی تعداد وائٹ نیل ریاست اور خرطوم میں مقیم ہیں۔

    مسلّح جھڑپیں اور اس کے نتائج:
    سوڈان کی مسلح افواج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی کی وجہ سے خاصا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور معاشی سرگرمیاں اس کی وجہ سے مکمل طور پر رک گئی ہیں. جس کے نتیجے میں اشیاء ضرورت، ادویات، آکسیجن اور جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے، بین الاقوامی امدادی اداروں نے بھی اپنی امداد معطل کر دی ہے. اس سے پہلے سے ہی سنگین حالات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    علاقائی تناظر اوراس کے اثرات:
    امریکہ جنگ زدہ علاقوں میں کشیدگی سے بھاگنے والے شہریوں کے لیے محفوظ راہداریوں کے قیام پر توجہ دے رہا ہے۔ پڑوسی ممالک پر منفی اثرات کو روکنے کے لیے نقصان پر قابو پانا ضروری ہے۔ سوڈان کے اندر بھی 2003 سے جاری دارفور میں جاری تنازعہ کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ سوڈان کی تباہی کے مزید پھیلنے اور پڑوسی ممالک پر اثر انداز ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. خاص طور پر جب سوڈان کی جغرافیائی اور سیاسی مقام پر غور کرتے ہیں۔
    SudaneseCrisis

    جغرافیائی اور سیاسی اہمیت:
    خطے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سوڈان کے مقام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تیل کی پائپ لائنیں اور دریائے نیل جو جنوبی سوڈان میں یونٹی آئل فیلڈ کو پورٹ سوڈان سے ملاتا ہے، پڑوسی ممالک کی قسمت سوڈان کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ سوڈان میں جاری لڑائی ممکنہ طور پر چاڈ کو بھی غیر مستحکم کر سکتی ہے. حکومت نواز سوڈانی عرب ملیشیا، جنجاوید کے نام سے مشہور ہیں. ان کے اور چاڈ کے درمیان جھڑپیں ایک معمول کا مسئلہ ہے۔ ایتھوپیا کو دو طرفہ تشویش کا سامنا ہے، ایک سرحدی تنازعہ کو حل کرنا اوردوسرا گرینڈ ایتھوپیا رینیسانس ڈیم میں اپنا دعویٰ منوانا، جو کہ تکمیل کے بلکل قریب ہے اور ملک کی پانی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    وسطی افریقی جمہوریہ اور لیبیا کے تناظر اوراس کے اثرات:
    وسطی افریقی جمہوریہ ریاست سوڈان کے جنوب مغرب میں واقع ہے.یہ فرقہ وارانہ فسادات اور بدانتظامی کی ایک مثال ہے۔ اسے پہلے ہی خوراک کے ذرائع کی قلّت کا سامنا ہے، اور سوڈان کے حالیہ بحران نے خطے میں خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں سوڈانی پناہ گزین لیبیا کا رخ کر سکتے ہیں. اس سے موجودہ کمزور معاشی وسائل پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔
    SudaneseCrisi

    بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ:
    سوڈان میں موجود انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے کلیدی نمائندہ گروہ اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے متحد ہو کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ سوڈان کے تمام متحارب دھڑوں کے ساتھ ایک جامع بات چیت کا آغاز ہونا چاہیے. تاکہ ایک ایسا حل تلاش کیا جا سکے جو دوستانہ، جامع ہو اور اس میں شامل تمام افراد کی فلاح و بہبود کو مددنظر رکھا جائے،

    نتیجہ: سوڈان میں انسانی بحران ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو متعدد عوامل کا ملغوبہ ہے، بشمول اندرونی تنازعات، جغرافیائی اور سیاسی تحفظات، اور علاقائی تناظر اور اثرات ۔ بین الاقوامی برادری کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ یکجا ہو کر تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کریں اور ایک پائیدار حل کے لیے کام کریں. ایسا حل جو سوڈان کی عوام کے مصائب کو کم کرے اور خطے میں مزید عدم استحکام کو روکے۔

  • کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    کیا ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اضافہ ہو گا ؟

    ایران اور افغانستان کے درمیان 1973 میں دو طرفہ پانی کے مطلق معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم، ایران میں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے داخلی نقل مکانی کی بڑی وجہ پانی کی قلت اور بڑھتا ہوا گرم موسم کہا جاتا ہے۔ 2021 میں، تقریباً 41,000 ایرانی بوجہ جنگلات کی کٹائی، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کی وجہ سے اپنے قدرتی رہائش گاہوں سے بے گھر ہوئے۔ایرانی اور افغان کی افواج کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ، ایران دعویٰ کرتا ہے کہ افغانستان کم پانی چھوڑ رہا ہے جو کہ دوطرفہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایران کا جنوب مشرقی علاقہ جو خشک سالی سے شدید متاثر ہے، افغانستان سے آنے والے پانی پر کثیر انحصار کرتا ہے۔

    افغانستان کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیم کھلنے کے باوجود بھی پانی ایران میں نہیں جائے گا۔ دو طرفہ آبی معاہدے کے مطابق افغانستان دریائے ہلمند سے سالانہ 850 ملین کیوبک میٹر پانی ایران کو فراہم کرنے کا پابند ہے۔
    ایران کا دعویٰ ہے کہ جب سے طالبان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، اس نے معاہدے کے تحت طے شدہ پانی میں سے صرف 4 فیصد پانی حاصل کیا ہے (حسن کاظمی قومی، ا ایرانی خصوصی نمائندہ براے افغاستان : RFE/RFL ریڈیو فاردا، 19 مئی، 2023)۔

    پانی کی قلت کی کے بڑھنے سے ایران کو اپنی عوام کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس کے برعکس افغانستان میں جاری خشک سالی، جو 2021 سے 2022-2023 تک برقرار رہی، اس نے پانی کے بحران کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ 20 نومبر 2022 کی یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق، "79 فیصد گھرانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پینے، کھانا پکانے، نہانے یا طہارت جیسی اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے پانی ناقافی ہے۔ خوراک کی قلّت اور گھرداری پر تباہ کن اثر۔”

    افغانستان کے کم پانی رکھنے کے دعوے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، بلخصوص کمال خان ڈیم کی 2022 میں تکمیل کے مدنظر۔ افغان صدر غنی نے ایران کو مفت پانی کی فراہمی بند کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا تھا، اور ایران کے ساتھ پانی کے بدلے تیل کے تبادلے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس سے افغانستان کی پانی کی قلّت کے دعووں پر سوالات اٹھتے ہیں۔
    کیا کمال خان ڈیم اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے باوجود بھی افغانستان میں سابقہ خشک سالی برقرار ہے یا نہیں، اس کا اندازہ صرف آزاد ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ ان سے معاملات کی جانچ اور ایک فیصلہ تک پہنچنا ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہونا چاہئے۔

  • کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟

    کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟

    کیا سعودی عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں؟
    ہاں وہ کر سکتے ہیں. اطلاعات کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے ایک سفارت کار نے اشارہ دیا ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکہ ریاض کے جوہری پروگرام کے حصول پر رضامند ہو جائے اس شرط پہ کہ باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کئے جائیں ۔ تاہم، یہ مطالبہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے، اور ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں امریکہ اس کی تعمیل کرے گا۔ ریاض نے معاہدے پر دستخط کرنے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے جب تک کہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی دفاعی تعاون نہ ہو ۔
    سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ہی مختلف حوالہ سے امریکہ کے لیے اہم اتحادی ہیں. حالیہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے، اور ایران اور شام کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم، امریکہ جمال خاشقجی کے قتل کو نہیں بھولا. اس کے ساتھ ساتھ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے سعودی عرب کے عزم نے تعلقات کو متاثر کیا ہوا ہے۔

    اسی دوران، واشنگٹن میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ سعودی عرب اسرائیل سے سنجیدہ سفارتی کوششوں کی بھی توقع رکھتا ہے. بالخصوص تجارت کے لیے فلسطینی کرنسی کے استعمال کے حوالے سے۔ یہ ایک وجہ ہے کہ ریاض ابراہم معاہدے میں شامل نہیں ہوا۔

    اگر دونوں ملک ان مشکلات سے نمٹیں اور سفارتی تعلقات قائم کر لیں تو کافی مثبت نتائج نمودار ہوسکتے ہیں۔ اولین طور پہ، یہ مشرق وسطیٰ میں پختہ امن و استحکام کے قیام کا حصہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی مفاہمت کے لیے ضروری ہے کہ بنیادی تنازعات کو حل کیا جائے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ دوم، یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ بیشتر عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات کی پالیسی کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ تیسرے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا انحصار اس چیز پہ ہے کہ اس وقت اقتدار میں بادشاہ کا طرز عمل کیا ہے۔ بالاخر، یہ بات قابل غور ہے کہ اگرچہ اسرائیل اور سعودی عرب کے علاقائی مفادات بعض مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ واشنگٹن کے مفادات سے بھی ہم آہنگ ہوں۔

    اس کے باوجود بھی، اگر آخرکار تل ابیب اور ریاض کے مابین کوئی معاہدہ طے پاتا ہے، تو یہ دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    عامر لیاقت رات رو رہے تھے، کہہ رہے تھے میں مر جاؤں گا، ملازم

    افتخار درانی کی نازیبا ویڈیو سامنے آئی ہے

  • چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟

    چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟

    چین، ترکی اور سعودی عرب نے G20 سری نگر اجلاس میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟
    چین اور بھارت کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازعہ، جو 3,440 کلومیٹر (2,100 میل) پر پھیلا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے سرحدی علاقے میں ایک بلند و بالا فضائی اڈے کی حالیہ تعمیر نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تقریباً 20 سال کی تعمیر کے بعد 2019 میں لداخ میں دربک-شیوک-دولت بیگ اولڈی (DSDBO) سڑک کی تکمیل کے بعد، تنازع کی صورت میں وسائل اور عملے دونوں کو متحرک کرنے کی ہندوستانی صلاحیت نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ 2022 کے آخر میں، ریاست اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں پہلی بار دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی۔
    2021 میں چین نے ہندوستان پر اپنے فوجیوں پر فائرنگ کا الزام لگایا تھا جس کی ہندوستان نے زوردار تردید کی تھی۔ اگر درست ہے، تو یہ واقعہ 1996 میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی پہلی خلاف ورزی ہو گی. اس معاہدہ کا مقصد سرحد کے قریب ہتھیاروں کے استعمال کو روکنا تھا۔

    سری نگر میں 2023 میں طے شدہ G20 سربراہی اجلاس تنازعات میں گھرا ہوا ہے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ چین اور سعودی عرب نے شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی اور 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے حاصل ہونے والے مثبت نتائج کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔ تاہم، جیسا کہ ڈی شان اسٹوکس نے اشارہ کیا، "ناحق حاصل شدہ مراعات کے حامل افراد اکثر چیزوں کو ‘سیاسی درستگی’ کے طور پر گھماتے ہیں، ظلم کرنا چاہتے ہیں۔”
    چین، جو پاکستان کا قریبی اتحادی ہے، اس اجلاس میں شرکت نہیں کرنا چاہتا، جسے وہ کشمیر پر بھارت کے "غیر قانونی قبضے” کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب متنازعہ علاقہ پر منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے ہر تنازع سے بچنے کو ترجیح دیتا ہے۔

    ترکی، جو کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے لیے پہچانا جاتا ہے، اجلاس میں شرکت نہ کرنے میں چین، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ شامل ہے۔ مصر نے بھی شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بھارت کی جانب سے متنازعہ خطے میں اجلاس کی میزبانی کے فیصلے کوایسے دیکھا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کے ان سفارت کاروں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش. جو اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ چین، پاکستان اور ترکی خطے پر قبضہ کے خلاف ہیں۔ کشمیر پر عوامی موقف کی بنا پر شرکت کا کوئی امکان نہیں۔

  • آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کیوں؟

    پاکستان میں نو مئی کو رونما ہونیوالے واقعات ایک سیاہ دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،پاکستانی قوم نے دیکھا کہ سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کیا گیا، دس قیمتی جانیں گئیں، یہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جانے والا حملہ تھا جس کا مقصد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا اور بنایا گیا، بدقسمتی سے حملہ آور، شرپسند جو چاہتے تھے وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئے،جن مقامات پر شرپسندوں نے حملہ کیا ان میں جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس لاہور، آئی ایس آئی دفتر فیصل آباد شامل ہیں، ایم ایم عالم نے 1965 کی جنگ میں چھ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اس کے مشہور طیارے کو بھی آگ لگا دی گئی، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس میں بھارت آج تک کامیاب نہیں ہو سکا لیکن پاکستان میں موجود گمراہ کن پاکستانی شرپسندوں نے اپنے رہنما کی عقیدت میں آ کرسب کچھ تباہ کر دیا،

    نو مئی کو پاکستان میں ہونیوالے تباہی کی کاروائیوں کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرپسند افراد اور جو بھی اس میں ملوث ہیں انکے خلاف 1952 کے آرمی ایکٹ کے تحت کاروائی کی جائے گی، آرمی کی تنصیبات پر حملوں کے مقدمے ہوں گے، اس حوالہ سے ایمنسٹی انٹرنینشل کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر دنوشیکا ڈسانائیکے کا کہنا ہے کہ "یہ دہشت زدہ کرنے کا ایک طریقہ ہے اوراس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اختلاف کرنے والوں میں ایک ایسے ادارے کیلئے خوف پیدا کیا جائے جس ادارے کا آئینی حدود سے تجاوز کرنے پر کبھی بھی احتساب نہیں کیا گیا ،پاکستان کی طاقتور فوج کا حوالہ دیتے ہوئے ،آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ کیوں؟ "وائس آف امریکا

    بیرون ممالک کے لوگ اور یہ ایجنسیاں اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہیں کہ ان کے معاشرے کی روایات ہم سے الگ ہیں، کیا وہ لوگ تشدد کرتے ہیں، جب انکا کوئی رہنما گرفتار ہوتا ہے تو اپنے ہی وطن کو آگ لگاتے ہیں؟ کیا وہ شہریوں پر تشدد کرتے ہیں اور سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کرتے ہیں؟ پاکستان میں حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا اسکے بعد اب جو لوگ آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل اور مقدمے کو سخت اور غلط کہہ رہے ہیں انہوں نے ان واقعات کی مزمت بھی نہیں کہ بلکہ وہ اسوقت خاموش رہے جب سپریم کورٹ سے عمران خان جو ایک ملزم تھا اور اسکے کیس کی سماعت تھی اس کو گاڑی بھیجی گئی،آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل پر اعتراض کرنیوالوں نے کیا انصاف کے غیر مساوی ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا؟ عمران خان کو اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے سے قبل سول لائنز پولیس کے گیسٹ ہاؤس میں بطور مہمان رکھا گیا، کیا عدالتوں سے عمران خان کو ملنے والے اس ریلیف پر عدم اطمینان کا کوئی واویلا کیا گیا؟

    لیکن جب فوجی عدالتیں پی ٹی آئی کے حمایتی اور شرپسند عناصر کے خلاف مقدمے چلائیں تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شور کیوں؟ اب وقت آ گیا ہے کہ باہر کے لوگ اور ایسی ایجنسیز پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے سے باز رہیں،واضح ہے کہ ریاست اب پیچھے نہیں ہٹے گی اور کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں ہو گی،کیونکہ انصاف کو برقرار رکھنے کا عزم اور امن کی بحالی غیر متزلزل ہے،

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

  • پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالے واقعات میں عوام میں احساس کی نمایاں کمی دیکھی گئی، احتجاج میں شریک افراد نے انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، سرکاری عمارتوں، ایمبولینس گاڑیوں، پولیس کی گاڑیوں اور نجی و سرکاری املاک کو تباہ کیا گیا جن کی ویڈیو بھی سامنے آ رہی ہیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ کے ساتھ لوٹ مار بھی کی گئی

    پرامن احتجاج کا حق سب کو حاصل اور کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ عام شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہیں ہونے چاہئے، بدقسمتی سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالے احتجاج میں بہت تباہی ہوئی، پولیس کی 26 گاڑیاں، سات سرکاری عمارتیں ، 10 نجی املاک میں توڑ پھوڑ کی گئی، پاکستان کی مسلح افواج کی املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا، کور کمانڈر ہاؤس لاہور جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ تھی اور اسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے کو بھی نشانہ بنایا، راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا، لاہور کی تحصیل ماڈل ٹاؤن میں عسکری ٹاور کو نقصان پہنچایا گیا، اس ہنگامہ آرائی ے دوران دس اموات بھی ہوئیں جوکہ افسوسناک امر ہے

    اسی احتجاج کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ ہوا، تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرین نے میانوالی ایئر بیس پر "دی لٹل ڈریگن” طیارے کو آگ لگائی، یہ طیارہ ایئر کموڈور ایم ایم عالم کا تھا، جنہوں نے 1965 کی جنگ میں ایک منٹ میں چھ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اور اس پر انہیں ستارہ جرات دیا گیا تھا، مظاہرین کی جانب سے ایسا کرنے پر ہمارے قومی ورثے کو نہ صرف داغدار کیا گیا بلکہ فوج کے خلاف نفرت کو بھی ہوا دی گئی

    مظاہرین نے لاہور میں جو کچھ کیا، اگر خدانخواستہ اسکے جواب میں کور کمانڈر لاہور مظاہرین کی جانب سے کئے حملے کا جواب دینے کا حکم دیتے تو اسکے تباہ کن نتائج ہو سکتے تھے جو ممکنہ طور پر 1971 کی یاد تازہ کر دیتے، اس سے ہمارے رہنماؤں کی سوچ بارے سوال اٹھتا ہے

    دوسری طرف لوگوں کو صرف اس لئے گرفتار کرنا کہ انکا تحریک انصاف کے ساتھ تعلق ہے یہ ان لوگوں کو جواز دے دے گا جو اس قسم کی تخریب کاری میں شامل ہوتے ہیں یا حمایت کرتے ہیں،

    ہم میں سے ہر ایک کو پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لینا چاہئے، تباہی پھیلانا اور نقصان کرنا یہ صرف ایک ایسے معاشرے کو دکھا رہا ہے جو جنگل کے قانون کی حمایت اور پیروی کرتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں بد نام زمانہ کردار گلو بٹ جیسے افراد کا اثر ہوتا جا رہا ہے،

    آخر کار ،ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم زمہ داری کے ساتھ چلیں گے یا اسے نظر انداز کر دیں گے ،ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ قانون کی پاسداری کریں اور آپس کے معاملات میں تہزیب کے دائرے میں رہیں یا ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس کے برعکس کریں

  • عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری
    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عدالت پیشی کے دوران گرفتار کر لیا گیا، عمران خان پر انکی حکومت کے عرصے کے دوران 2018 سے 2022 تک سرکاری تحائف کی فروخت کرنے کا الزام تھا، عمران خان کی گرفتاری غیر متوقع نہیں تھی تا ہم اسکے بعد تباہی دیکھنے کو ملی، تحریک انصاف کے کارکنان اور حامی سڑکوں پر نکلے ، دو چیزیں سامنے آئیں، ایک ، تحریک انصاف کی اول درجے اور دوم درجے کی قیادت اور رہنما عمران خان کی گرفتاری کے بعد سڑکوں پر احتجاج میں نظر نہیں آئے تھے، دوم،نام نہاد برگر کراؤڈ بھی اس احتجاج میں نظر نہیں آیا، عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو احتجاج ہوا اس میں جوش و جزبہ بھی دیکھنے میں نہیں آیا،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے کئی شہروں میں ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت نے موبائل فون نیٹ ورک کو بند کر دیا تا کہ رابطے نہ ہو سکیں، کئی شہروں میں ٹی وی کی نشریات بھی معطل کی گئیں، اسکے بعد آڈیو لیکس سامنے آنا شروع ہو گئیں، آڈیو لیکس میں ہونیوالی گفتگو سن کر یہ طے کرنا مشکل نہیں کہ اس ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی کون ہدایات دیتا رہا، آڈیو لیک کی گفتگو میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف بڑھنے کی ہدایات دی گئیں، تحریک انصاف کے رہنما، سینیٹر اعجاز چودھری اور انکے بیٹے علی چودھری کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز منہاس کی بھی آڈیو لیک ہوئی، دو اور بھی آڈیوز سامنے آئیں، جن میں ملک کے مفادات کے خلاف منصوبہ بندی کے ثبوت ملے،

    اختلافات سیاست کا فطری حصہ ہیں تا ہم اختلافات کو ختم کرنے اور آگے بڑھنے کا واحد حل بات چیت، مزاکرات ہیں ، لیکن بدقسمتی سے عمران خان کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے کو تیار نہیں تھے، اداروں، افراد اور حتیٰ کہ اقوام (جیسے امریکہ) پر الزام لگانے کا ان کا رجحان اس بات کی مثال ہے کہ سیاست میں کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ڈپلومیسی ایک فن ہے، اور اگر کوئی پارٹی رہنما اپنی پارٹی اور اپنی قوم کے مفادات کو ملکی سطح پر محفوظ رکھنے کے لیے سفارت کاری کا استعمال نہیں کر سکتا تو عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت کے حوالہ سے ان پر کوئی بھی سوال اٹھا سکتا ہے

    دنیا بھر کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں اکثر قید یا طویل مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اپنے کارکنان کو عوامی املاک کو تباہ کرنے یا ریاست کے ساتھ تنازعات میں ملوث ہونے پر اکساتے نہیں قیادت خود ایسے واقعات سے دور رہتی ہے ،عمران خان نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر ہیں، انکے ریمانڈ میں توسیع ہو سکتی ہے یا انہیں جوڈیشل ریمانڈ میں جیل بھجوایا جا سکتا ہے، جس کے بعد انکئ ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جا سکتی ہے، تحریک انصاف کے رہنما فواد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، مزید کئی گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں،ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کے اندر اقتدار کی کشمکش ناگزیر ہو جاتی ہے ،کیونکہ پارٹی طے کرتی ہے کہ اب پارٹی قیادت کون کرے گا، اب حساب کا وقت آ گیا ہے

  • بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    حالیہ دنوں بھارت کے شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کو پاکستان میں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ مخالفین کے مطابق بلاول کو بھارت جاکر شرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔

    تاہم واضح رہے کہ جن لوگوں نے بلاول کی اس شرکت کو منفی رنگ دیا یا اس پر اعتراض کیا وہ یا تو مخالفت میں اندھے ہوچکے یا پھر حقائق سے نابلد ہیں کیونکہ وزیر خارجہ کا بھارت جاکر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے کا مقصد انڈیا کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کرنا نہیں تھا بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں اور اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    خیال رہے کہ اس اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات پر بلاول بھٹو زرداری اور جے شنکر کے درمیان کوئی دو طرفہ بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسی کسی قسم کی کوئی ملاقات ہوئی ، بھارت نہ چاہتا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس فورم میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت، سی پیک اور دہشت گردی کے بارے میں بات چیت ہو یا وہ اس میں شامل ہوں۔

    لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس فورم میں شرکت کرکے ان تمام مسائل کی طرف شرکاء کی ناصرف توجہ مبذول کروائی بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ اور ان مسائل کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اجاگر کرکے بلاول نے بہت اچھا کیا ہے جس پر انہیں سراہا جارہا ہے۔

    جنوبی ایشیائی امور کے ماہر امریکی صحافی مائیکل کوگلمین کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری نے وہ کام سرانجام دیا جو اسلام آباد چاہتا تھا، بھارت کے علاوہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کے علاوہ ایس سی او کے تمام ارکان کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں جو انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور یہ اس خطہ کے امن کیلئے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک یعنی بھارت اور پاکستان اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں جبکہ بھارت اس خطے میں اپنا سب سے بڑا حریف چین کو سمجھتا ہے ناکہ پاکستان کو لہذا وہ اب پاکستان کے ساتھ اب گٹھ جوڑ کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے لیئے سب بڑا خطرہ پاکستان کے بجائے چین کو سمجھتا ہے۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان بھی اندرونی طور پر مختلف مسائل سے نمٹ رہا ہے جیسے حالیہ آئینی بحران سمیت معاشی بحران جبکہ مہنگائی اور سیاسی انتشار اور نفرت عروج پر ہے ،

    حقانی نے ایک بیان میں درست نکتہ اٹھایا کہ گوا میں ہونے والے اجلاس سے یہ امید نظر آتی ہے کہ اس سے مثبت بات چیت کی طرف راہ ہموار ہوگی۔

    یاد رہے کہ علاقائی استحکام کے حصول کے لیے پاکستان کو بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ دونوں فریقین کو آگے بڑھ پہل کرکے اپنے تمام تر شکوک و شبہات اور خدشات کو دور کرنے کیلئے میز پر بیٹھنا چاہئے اور اس کیلئے کمیٹیاں بنانی چاہئے جو ایک میز پر بیٹھ کر دونوں طرف کے خدشات دور کریں۔

    ای اے بکیانیری نے کہا تھا کہ مسائل ایک دروازہ کی طرح ہوتے ہیں لہذا آپ کو اس کے اندر سے گزرنا پڑے گا لیکن اگر آپ آگے نہیں بڑھتے تو پھر دیوار کے ساتھ ٹکرانے کیلئے تیار ہوجائیں۔