Baaghi TV

Author: یاسمین آفتاب علی

  • قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد  کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    ابراہم لنکن نے کہا تھا "انتخابات کا تعلق عوام سے اور یہ ان کا فیصلہ ہے، اور اگر وہ آج کسی غلط انسان کا انتخاب کرتے ہیں تو کل کو انہیں ہی سب کچھ بھگتنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے یہ فیصلہ خود کیا تھا.” انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو عملی طور پر شفاف رکھنا ہوگا۔ جبکہ ریاست میں انتخابات سے قبل وفاقی اور صوبائی دونوں میں نگران حکومتوں کے قیام کیلئے آئین میں دفعات موجود ہیں تاکہ انتخابات کو یقینی طور پر شفاف بنایا جا سکے اگر دو جگہوں پر الیکشن ہو گئے اور پھر اگلی قسط میں د ونگران حکومتوں کے دور میں ہوئے اور وفاقی حکومت میں، تو پھر صوبائی حکومتیں وفاقی الیکشن میں سرکاری مشنری کا غلط استعمال کر سکتی ہیں

    اگر عمران خان کی خواہش کے مطابق پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں الیکشن ہوتے ہیں تو وفاقی حکومت تو اپنی جگہ پر قائم رہے گی دو صوبوں میں نگران حکومتیں ہیں الیکشن ہوں گے اور پھر شکست کھانے والی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے گا اور الزام تراشی ہوگی جبکہ بعدازاں یہ بھی الزام عائد ہونے کا خطرہ ہے کہ حکومتی مشینری کو حکمران جماعت کے حق میں استعمال کیا گیا ہے.

    تاہم خیال رہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 224 اور 224-A سے بھی متصادم ہوگا جو اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں نگراں حکومتوں کی تقرری کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ لہذا آئین کو ایک کھلونا نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر نظرانداز کردیا جائے. لہذا میری رائے میں مناسب یہ ہوگا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کروائے جائیں تاکہ بار بار انتخابات یعنی ڈبل الیکشن یا علیحدہ علیحدہ انتخابات پر وسائل کا ضیاع نہ ہو. اور تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر الیکشن کے میدان میں اترنے کا موقع دیا جائے جبکہ سیاسی وفاقی حکومت کے صوبہ میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کے امکانات یعنی ریاستی مشینری کے استعمال کے امکانات کو بھی دور کیا جاسکتا ہے.

  • پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان کو اس وقت شدیدترین ماحولیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ جنگلات کی کٹائی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی اور زمینی آلودگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ جبکہ جنگلات کی کٹائی نہ صرف گلوبل وارمنگ کیلئے اہم کردار ہے بلکہ یہ کٹاؤ ساحلی سیلاب کا باعث بھی بنتتا ہے جس سے نہ صرف پودوں کو ختم کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ چرند، پرند اور جانوروں کے گھر بھی تباہ ہوتے ہیں.

    اگر ہم صحت کے حوالے سے اس کا جائزہ لیں تو درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اورآکسیجن فراہم کرتے ہیں جبکہ دوران سیلاب تیز پانی کے بہاؤ کو بھی روکتے ہیں علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک میں تو درختوں کا ہونا اس لئے بھی انتہائی ضروری ہے کہ موسمی حالات کے بدلتے وقت جیسے سردیوں میں لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا وغیرہ پکانے یعنی آگ کیلئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بڑے شہروں کے علاوہ گیس کی سہولت میسر نہیں ہے.

    دوسری جانب ہمارے ملک میں آبی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ بہت سارا کیمیائی فضلہ (کچرا) پانی میں پھینکا جاتا ہے جس سے زہریلے مادے بھی پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے جبکہ اس میں کارخانوں میں استعمال کے بعد پیدا ہونے والا کچرا، اور ناقص سیوریج سسٹم بھی آبی آلودگی کا باعث بنتے ہیں،

    صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ لاہور جو بہت بڑا شہر ہے اور سردیوں کے موسم میں اسے سموگ کا سامنا رہتا ہے ، اس سے علم ہوتا ہے کہ یہاں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے، علاوہ ازیں گاڑیوں میں اضافہ کے سبب دھواں، ایندھن نیز کارخانوں اور کاروں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں ،تاہم واضح رہے کہ زمین کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے غلط نظام کے سبب زمین کے کھلے پلاٹوں میں کچرا پڑا رہتا ہے جس سے نہ صرف ناگوار بدبو، بیماریاں اور آلودگی پھیلتی ہے بلکہ ماحول بھی گندہ ہوتا ہے اور حکومت کا صرف پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کوئی جامع حکمت عملی بنانی ہوگی.

    اس موسمیاتی تبدیلی نے تباہ کن سیلاب بھی لائے جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں ، سیلاب زمینیوں سمیت زرعی کھیتوں کو تباہ کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل نینو سمندری رجحان کی وجہ سے زیادہ بارشوں کے خطرے سے دوچار 20 ممالک میں شامل ہے۔ (ڈان نیوز)

    پاکستان کو ان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع پالیسیاں اور قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ افراد، کارپوریشنز اوراداروں کو انکی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے،حکومت کو ان مسائل کو حل کرنے موثر پالیسیاں بنانے اور ان پرعمل درآمد کرنے میں آگے بڑھنا چاہئے تا کہ پاکستان کا مستقبل پائیدار ہو.

  • روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    پاکستان کو جلد ہی روس سے ملاوٹ شدہ تیل کی پہلی کھیپ موصول ہونے والی ہے جو اس کی توانائی کی ضروریات کو جزوی طور پر پورا کرے گی۔ کیونکہ پاکستان کے پاس خام تیل کو ملاوٹ شدہ تیل میں ریفائن کرنے کی ٹیکنالوجی کا فقدان ہے، اور روس نے تیل برآمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روس نے چینی یوآن، یو اے ای درہم اور روسی روبل میں ادائیگی قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی جو کہ امریکی ڈالر کے معمول کے لین دین سے ہٹ کر ہے.

    تاہم واضح رہے کہ یہ درآمدگی مستقبل میں کم نرخوں پر خریداری کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے وسیع البنیاد نقطہ نظر کے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو امریکی ڈالر کے علاوہ کرنسی استعمال کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے جو کہ پاکستان کی نقدی کی تنگی کی صورتحال کے پیش نظر ایک راحت کی سانس ہے۔ ادائیگی کے ماڈیول سے الگ ہونے والا یہ واحد قدم پاکستان کے لیے لائف لائن ہے۔ اور پھر امریکہ کی طرف سے کوئی اعتراض کرنے کا امکان بھی نہیں ہے.

    حالانکہ بڑی حد تک اس حقیقت کی وجہ سے کہہ بہت سے ممالک نے روس پر امریکی سپانسر شدہ پابندیوں سے خود کو دور کر لیا ہےاور یہ سمجھتے ہوئے کہ مستقبل قریب میں انہیں بھی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماسکو پر انحصار کرنا پڑے گا. اور پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی عجلت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

    2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بجلی کی طلب گرمیوں میں 28,000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جس سے سپلائی کا فرق 4,000 سے 6,000 میگاواٹ رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں طلب اور رسد کا فرق 8,000 میگاواٹ ہوتا ہے۔ لہذا اسی لیے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف پیٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات پر انحصار طویل مدت میں غیر پائیدار ہے۔

    مزید برآں پٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جس کے نتیجہ میں تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور پھر اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت خود کی ذمہ داری سے بچنے کیلئے خود کوہی شکست دینے والا طریقہ ہے اختیار کرتی ہے۔ لہذا پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ تیل کی درآمدات پر ملک کا انحصار کم ہو اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    کیا سیاست کے علاوہ بھی کوئی جہاں ہے؟

    ہم بحیثیت قوم بیمار اور جنونی ہو چکے ہیں اور وہ ایسے کہ سیاست دان کیا کہتے ہیں یا کرتے ہیں جبکہ میڈیا ہمیں کیا فیڈ کرتا ہے، اور ہمیں کیا قبول کرنے کی شرط لگائی گئی ہے لہذا ہم اس میں اتنے پھنس چکے ہیں کہ باقی تمام معاملات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس طرف ہمارا دھیان بھی نہیں.

    میڈیا ہمیں وہی فیڈ کرتا ہے جو ہم چاہتے ہیں، اور جو ہم چاہتے ہیں وہ زیادہ تر گندگی اور گھٹیا ہوتا ہے۔ ہم اسے اپنے روزانہ کے مینو کے طور پر قبول کرتے ہیں جبکہ کوئی ٹھوس خبر نہ ہونے پر بھی میڈیا نان ایشوز کو ایشوز بنا دیتا ہے۔اور ہم اس سب کو ناصرف قبول کرتے بلکہ ہضم بھی کرتے ہیں.

    ہم جیسے تالاب میں مینڈک کی طرح مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور اس گندے تالاب میں کودتے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور وہاں کی وسیع دنیا کو دیکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اور بھی بہت ساری دکھ بھری داستانیں ہیں جو ہمیں پکار رہی ہیں.

    جیسے کہ مثال کے طور پر پچھلے سیلاب میں، 10 ملین لوگ تباہ ہوئے اور یہ لوگ اب بھی خوراک، کپڑوں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کے بعد پھر سیلاب آیا۔ ابتدائی ردعمل کے بعد ضرورت مندوں تک پہنچنے کے لیے رائے عامہ کتنی متحرک ہوئی ہے؟ ہم اپنے ہی لوگوں کو بھول چکے ہیں تو پھر یہ شکایت کیوں کریں کہ عالمی برادری نے اب تک صرف 50 فیصد امداد کا وعدہ کیا ہے؟

    دوسری جانب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک دن میں دو وقت کا کھانا تک کھانے کی اوقات نہیں رکھتے۔ جبکہ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے جسے اب لوگوں نے اسے اپنے روزانہ یا ہفتہ وار کھانے کے حصے کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ حالانکہ وہ پریشان حال ہیں اور نامید ہیں.

    شاہد ستار نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں 75 فیصد پاکستانی موسم اور موسمیاتی آفات سے متاثر ہوئے ہیں جس کا تخمینہ 29 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بنتا ہے (ورلڈ بینک گروپ 2022)۔ ہم نے مرکزی ذرائع ابلاغ یا کی بورڈ جنگجوؤں کے ذریعے اس پر بحث کیوں نہیں کی؟ لہذا ہمیں ذیلی متن میں شامل مسائل کو حل کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ یہی اصل مسائل ہیں۔ اور ہمیں اپنا وقت فضول میں ضیاع کرنے سے بہتر ہے کہ ان مسائل پر توجہ دیں.

    آخر میں صرف اتنا کہوں گی کہ ہمیں اپنے نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور اہم مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور سیاست سے بالاتر ہوکر اپنی قوم کو متاثر کرنے والے حقیقی مسائل کو حل کرنا ہوگا لہذا آئیے ہم ایک بیمار اور جنونی قوم نہ بنیں بلکہ ایک ایسی قوم بنیں جو اپنے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے کو تیار ہو۔

  • کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’طالبان نے مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کا تختہ الٹ کر ’’غلامی کا طوق‘‘ توڑ دیا ہے۔ (13 جنوری 2022 ریڈیو فری یورپ) تاہم پاکستان کے لیے اس واقعے کے اثرات زیادہ تر لوگوں کو پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آ پائے۔

    مشرق وسطی میں نئی ​​پیش رفت یہ ہوئی کہ سب سے پہلے سعودی عرب کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ بشکریہ چین اور پھر ان کا شام کے ساتھ دوبارہ روابط بشکریہ روس ہوا لہذا دونوں مفاہمتی معاہدے ایک گیم چینجر ہیں۔ اگرچہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی تعلقات کی بحالی کا بالواسطہ فائدہ اٹھانے والا ہے لیکن یہ دونوں پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا منفی اثر لے کر آئی جسے زیادہ تر تجزیہ نگار سمجھنے سے قاصر رہے.

    خیال رہے کہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر آچکا جس کا پاکستان کے لیے مطلب ہے کہ مشرقی محور اب موجود نہیں ہے۔ پاکستان کو جغرافیائی طور پر تزویراتی طور پر رکھا جا سکتا ہے تاہم ریکارڈ رفتار سے ہونے والی زبردست پیش رفت نے اقوام کی ترجیحات اور مفادات کو تبدیل کر دیا ہے۔

    تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بڑی نوعیت کے مسائل کی طرف بڑھ گئی ہے لہذا مشرقی محور کو مشرق وسطیٰ کے محور نے پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان اب دنیا کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہے۔ پاکستان کو اس بات کو سمجھنے اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب ہم نے ان کا اسٹریٹجک مفاد کھو دیا ہے۔

    اب موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں جو چیز محض مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے وہ پی ٹی آئی کی بنیادی زمینی حقائق کے سے لاعلمی یا لاتعلقی ہے کیونکہ انہوں‌نے ایک PR فرم کو $25,000 فی ماہ پر ہائیر کرنا اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ اپنے الگ تھلگ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا کچھ بھی ڈلیور نہیں کرے گا. ادھر بریڈ شرمین نے سیکرٹری آف اسٹیٹ بلنکن کو ایک خط لکھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ "سیاسی نشانہ بنانے کے عمل” سے متعلق کہا گیا.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    یہ بھی واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی ہائیر کردہ پی آر فرم صرف اتنا کر سکتی ہے بین الاقوامی توجہ یعنی ایک قوم کی حکمت عملی، دوسرے ملک کی حرکات بارے میں ان کی سمجھ، پارٹیوں اور رہنماؤںسمیت دیگر کام میں تبدیل کرنا اور امریکہ میں پاکستان مخالف لوبینگ کرنا ہے جبکہ میرا زاتی خیال ہے کہ وہ اس وقت یا مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے خاص طور پر عمران خان کے معاملے میں جنہوں نے ماضی قریب میں یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ واشنگٹن ان کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث تھا لیکن یہ یاد رکھیں کہ امریکہ اس وقت تک بالکل مداخلت نہیں کرے گا جب تک کہ ان کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں۔

  • میکرون نے چین کا دورہ کیوں کیا؟

    میکرون نے چین کا دورہ کیوں کیا؟

    میکرون نے چین کا دورہ کرنے کی وجہ؟

    سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک معاہدے کی ثالثی میں چین کی سفارتی ثالثی ایک ایسا اہم قدم تھا جس نے چین کے قد و قامت کے معیار کو اوپر پروان چڑھائی یہ جبکہ ایک معاہدہ گیم چینجر ہے۔ اگرچہ فرانس یوکرین کا اتحادی ہے اور اس نے پہلے ہی 18 سیزر ہووٹزر یوکرین بھیجے ہیں لیکن وزیر دفاع لیکورنو نے کہا کہ یہ صرف یوکرین کے دفاع کے لیے ہے۔

    تاہم فرانس یوکرین میں جنگ بندی چاہتا ہے اور اس دورے کا بنیادی مقصد شی جن پنگ سے ماسکو پر یہ تاثر دینا تھا کہ وہ ایک طویل عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ میکرون اور بائیڈن دونوں نے کیو سے ماسکو کے انخلاء کے حصول میں بیجنگ کی مدد حاصل کرنے کے لیے ٹیلی فونک تبادلہ خیال پر اتفاق کیا تھا۔

    اب اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ چین اس تنازعے میں غیرجانبداری کا دعویٰ کرتا ہے تاہم اس نے 2022 میں کریملن کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے جبکہ زیادہ عرصہ پہلے کی بات نہیں ہے جب شی جن پنگ نے ماسکو کا سرکاری دورہ کیا.

    خیال رہے کہ بیجنگ نے پہلے ہی ایک کاغذ بھیج دیا تھا جس میں 12 نکات پیش کیے گئے تھے جبکہ اس میں ماسکو اور کیو کے درمیان جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نکات میں مغربی ممالک کی طرف سے روس کے خلاف پابندیوں کا خاتمہ سمیت شہریوں کے باہر نکلنے کے لیے راہداری کا قیام اور اناج کی برآمد کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی بھی شامل تھی۔ اس میں "سرد جنگ کی ذہنیت” کو ختم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ جبکہ یوکرینی صدر نے چین کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا تھا.

    تاہم الجزیرہ کی 24 فروری 2023 کی خبر کے مطابق یوکرینی صدر کے ایک سینئر مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے کہا تھا کہ یوکرین میں روس کی جنگ کو ختم کرنے کے کسی بھی منصوبے میں سوویت یونین کے انہدام کے وقت 1991 میں یوکرین کی سرحدوں سے ماسکو کی فوجوں کا واپس بلانا شامل ہونا چاہیے. لیکن یہ بھی واضح رہے کہ اگر چین مذاکرات کار کے طور پر کام کرتا ہے تو بھی راتوں رات کچھ نہیں ہونے والا ہے کیونکہ اس میں ابھی کافی وقت لگے گا اور بہت سارے معاملات کو دیکھنا ہوگا.

    یاد رہے کہ میکرون کے اس چین دورہ کے دوران ایک اضافی ڈش کے طور پر ان کے ساتھ تاجروں کا ایک دستہ بھی شامل تھا جو چین میں تجارتی معاہدے کرنے کی امید میں تھا۔

  • پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات کا سلسلہ تاحال جاری

    ایک طرف پوری قوم آئینی ڈرامہ کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کسمپرسی کی حالت گزار رہے ہیں. ایک اندازے کے مطابق تقریبا دس ملین افراد پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جبکہ جو پانی دستیاب ہے اس سے پھیلنے والی بیماریاں اموات کا باعث بن رہی ہیں۔ جیسے کہ ملیریا اور ہیضہ سب سے زیادہ پھیلنے والی بیماریاں ہیں۔

    اسی طرح خوراک کی کمی سے غذائی قلت پیدا ہو رہی ہے اور ریکارڈ کی جانے والی اموات کی تعداد تقریباً 1,739 ہوچکی ہیں اور زیادہ تر اموات ایسی ہیں غیر محفوط ماحول کے پیش نظر ہوئی ہیں. الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو سیلاب سے پہلے بھی کوئی خاص پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں تھی جبکہ جو پانی کا دستیاب نظام موجود تھا اسے بھی سیلاب نے بری طرح نقصان پہنچایا دیا۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ ’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے پاس بیماریوں سے متاثرہ پانی پینے اوراسے استعمال کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے.

    یونیسیف پاکستان نے 20 مارچ 2023 کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ "پاکستان میں سیلاب کے 6 ماہ بعد، 9.6 ملین بچوں کو اب بھی زندگی بچانے والی امداد کی ضرورت ہے۔ ہمیں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے اور بیت الخلاء کی تعمیر سمیت متاثرین کو صفائی کی اہم خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے عطیہ دہندگان کا مسلسل تعاون درکار ہے کیونکہ اس سب کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ تاہم ڈونر ایجنسی کے مطابق اب تک امداد کی نصف سے بھی کم ضرورت پوری ہوئی ہے.

    جبکہ سب سے پہلے ان ضروری معاملات کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے اور اسکے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کرنا، بھی لازمی تاکہ لوگوں پر پڑنے والے پیچیدہ منفی اقتصادی اثرات سے بھی بچا جا سکے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق صرف تنظیم نو کی لاگت 16.3 بلین ڈالر ہے جبکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں بحالی اور تعمیر نو کا فریم ورک (4RF) معاش اور زراعت کی بحالی سمیت نجی مکانات کی تعمیر نو اور سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی شامل ہے.

    واضح رہے کہ سیلاب سے متاثرہ اکثر آبادی خوراک، کپڑے سمیت بنیادی سہولیات اور سروں پر چھت سے محروم ہے جبکہ بنیادی ادویات کی بھی کمی ہے جیسے تیز بخار پر قابو پانے کے لیے اینٹی پائریٹک گولیاں وغیرہ شامل ہیں علاوہ ازیں بچوں میں غذائیت کی کمی کے ساتھ صحت کے مسائل جیسے سستی اور کمزوری وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے۔

  • شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی روس کے لیے ایک قابل ذکر جیت ہے لیکن یہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جبکہ ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی پالیسی نے سفارتی اڈے کو وسعت دینے کی طرف مائل کیا ہے جو اب تک امریکہ تک محدود تھا، جہاں تک سپر پاورز کی بات ہے وہ روس اور چین دونوں کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سرشار کوشش ہے۔ تاہم شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ بیجنگ کے قریب آنے کا واضح اقدام ہے۔

    صدر بائیڈن نے 2022 میں اپنے دورہ ریاض کے دوران ولی عہد کو ماسکو اور ریاض کے قریب جانے سے بچنے کے لیے اپنی رائے سے آگاہ کیا تھا تاہم یقینی طور پر واشنگٹن مندرجہ بالا پیش رفت پر خوش نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اہم سوال یہ ہوگا کہ کاموں میں اسپینر پھینکنے کے لیے امریکہ کتنا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ لیکن دوسری طرف واشنگٹن اسے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ سکتا ہے:

    جبکہ عرب ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ دوستانہ بنیادوں پر استوار کرنا اور دمشق کے ساتھ مضبوط قدم جمانا۔ شام میں امریکی افواج کے دستے کے پس منظر اور شام اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے پیش نظر، اسد کی حکومت کے ساتھ رابطے کا راستہ کھولنے کے لیے یہ یقینی طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت ایک حقیقت ہے.

    تاہم ریاض کو یہ سوال ضرور حل کرنا چاہیے کہ شام میں سفارت خانہ کھولنا امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں لیکن ریاض اس مقام سے دمشق کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کیسے آگے بڑھے گا؟ اسے احتیاط سے آگے بڑھنا ہو گا واشنگٹن کے لیے اسے لیٹا جانا مشکل ہو سکتا ہے جسے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو جگہ دینے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ امریکہ کے دوست عرب ممالک پر پابندیاں نہیں لگا سکتا تاہم جنگ زدہ شام پر واشنگٹن کے ایسا ہی کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے.

    علاوہ ازیں آگے بڑھنے کے طریقہ سے متعلق ریاض کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھے گا کہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے بڑھتے ہیں اور یمن میں جنگ بندی جاری ہے یا نہیں؟ لہذا اگر دونوں پیش رفت مثبت رہیں تو واشنگٹن پر ریاض کا انحصار کم ہو جائے گا لیکن جہاں تک بات امریکی سلامتی کی ضمانتوں کا تعلق ہے تو وہ جیسا کہ عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلی آرہی ہے وہ مشرقِ وسطیٰ ایک بلبلا کڑھائی ہے جو ان علاقوں میں نئے کھلاڑی قائم کرے گا جنہیں اب تک امریکی اثر و رسوخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

  • کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    عالمی اتحاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا امریکہ کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہئے؟

    نیتن یاہوکی وزارت عظمیٰ پر واپسی کے فوراً بعد انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ملک کا شمالی مقبوضہ مغربی کنارے میں خالی کرائی گئی بستیوں کی تعمیر نو اور دوبارہ آباد کاری کا کوئی ارادہ نہیں،نتین یاہو کے اس اقدام کی امریکہ نے مذمت کی تھی، اورواشنگٹن میں اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا،منسوخ شدہ قانون نے 2005 میں اسرائیلی آباد کاروں کے انخلاء کے بعد اسرائیلی شہریوں کو جنین اور نابلس آنے جانے کی اجازت دی تھی، یہ وہ علاقے ہیں جو سب سے زیادہ تشدد کا شکار ہیں یہ فیصلہ آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان مسلح تصادم کا باعث بنے گا۔ مارچ 2023 کے اوائل میں ہی موجودہ اسرائیلی حکومت نے شرم الشیخ میں سیکیورٹی سربراہی اجلاس کے دوران اس عزم کو جاری رکھنے اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی جس کی وجہ سے واشنگٹن ناراض ہے،محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل کا کہنا ہے کہ کہ امریکہ اسرائیلی حکومت کی اس خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے

    بدلتے ہوئے عالمی اتحاد کے پس منظر میں، لازم و ملزوم جڑواں شہروں کے درمیان تعلق کوئی معنی نہیں رکھتا،اسرائیل تعلقات کی بہتری کے لئے کوشش نہیں کر رہا یہ بیانیہ فرسودہ ہو چکا کیونکہ اسرائیل نے ہی حال ہی میں کئی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کئے، اسرائیل کے مراکش، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ قطر نے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے امریکا کو شرائط پیش کی ہیں۔ اگرچہ دونوں میں غیر رسمی تعلقات ہیں اس کے علاوہ اسرائیل کے اردن اور مصر کے ساتھ امن معاہدے ہیں۔ دوحہ وہ نشست ہے جسے اسرائیلی ہیروں کے تاجر تجارت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت ہوئی،حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اب سعودی عرب شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لا رہا ہے، چینی یوآن چین، سعودی عرب اور روس کے لیے کرنسی کے تبادلے کے ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آرہا ہے

    پاور گیم کے اصول ،اسرائیل اور امریکا کے تعلقات یقیناً اسرائیل کے لیے موزوں ہیں لیکن امریکا کا کیا ہوگا؟ پس منظر میں نئے اتحادوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ ابھرتی ہوئی صورتحال میں، کیا امریکہ مسلم ریاستوں بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کی امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے کی نیک نیتی کو داؤ پر لگا رہا ہے؟امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات بہت پیچھے ہیں۔ اب امریکہ کو تیزی سے بدلتے ہوئے نئے عالمی نظام میں اپنے مفاد کا خیال رکھنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے،

    رجسٹرار سپریم کورٹ کی تعیناتی بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج، امان اللہ کنرانی وکیل مقرر

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • رمضان ، عوام اور مہنگائی

    رمضان ، عوام اور مہنگائی

    رواں برس رمضان المبارک میں پہلی بار ایسا کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے جو قربانی والی عید پر دیکھنے کو ملتا، رمضان میں راشن کے حصول کے لئے کل ایک ہی روز میں 10 سے 12 لوگوں نے میرے دروازے پر دستک دی،افسوسناک بات یہ کہ دیکھنے میں وہ غریب نہیں تھے، چھوٹے بچے، عورتوں کے ساتھ مرد تھے،جنہیں ہم لوئر مڈل کلاس کہتے ہیں، یقینا وہ اس علاقے میں کام کرنیوالی ملازمائیں ہوں گی یا سابقہ ملازمائیں جن کی کالز آتی ہیں رمضان میں راشن پیکج کے لئے،

    شہری علاقوں میں خوراک کی افراط زر کی شرح 42 فیصد ہو چکی ، چیزیں بہت مشکل ہو چکی صرف غریبوں کے لئے نہیں بلکہ جو اوپر کا طبقہ ہے وہاں بھی یہی صورتحال ہے، گھر، کاریں سب موجود ہے لیکن گھر کے اندر ملازموں کی تعداد کم کر دی گئی، ڈرائیور چلے گئے، گاڑیاں دھونے کے لئے قریبی علاقے کا لڑکا آ جاتا ہے، باروچی جو مستقل ملازم تھے انکو جزوقتی کر دیا گیا ہے،

    مالی مشکلات کی وجہ سے رمضان المبارک ایک آزمائش بن جاتا ہے،خود ساختہ مہنگائی بھی رمضان میں ہو جاتی ہے، اشیاء کی قیمتیں دکاندار تو من مانی قیمتوں پر فروخت کرتے ہی ہیں تا ہم اس بار رمضان کے آغاز سے حکومت نے بھی کچھ ایسا ہی کام کیا، آٹے کی قیمت جو رمضان سے قبل دس کلو کے تھیلے کی 650 روپے سرکاری قیمت تھی وہ رمضان کے آغاز سے حکومت نے قیمت بڑھائی اور اب وہی دس کلو کا سرکاری آٹا 1150 روپے میں مل رہا ہے،گروسری سٹور سمیت کوئی ایسی جگہ نہیں جو رعایتی نرخوں پر چیزیں فروخت کرے،لاہور ، اسلام آباد اور پنڈی میں سستی ایرانی مصنوعات میسر ہیں،گروسری سٹور میں ایرانی سامان موجود ہوتا ہے جس میں تیل اور پنیر بہت مشہور ہے، سامان بلوچستان ایران سرحد کے راستے لایا جاتا ہے، ایرانی مصنوعات پہلے بلوچستان اور لیاری کراچی میں ملتی تھیں لیکن اب دیگر شہروں میں بھی مل رہی ہیں

    ایک چیز جس پر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ کم ڈشز بنا رہے ہیں۔ سحر اور افطار کی تیاری کم کی جا رہی ہے لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو افطاری کے بعد نماز کے لیے وقفہ کرتے ہیں اورپھرنمازکے بعد اسی طرح ہی ڈنر کرتے ہیں،اور پھر سحری کے لیے خصوصی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اسلام کی روح ہے؟ کیا روزے کا مطلب یہ ہے کہ روزے سے پہلے اور بعد میں دس مختلف پکوانوں کے ساتھ سحری و افطاری کی جائے؟ ہم کیوں پکوانوں اور ڈشز کی طرف جاتے ہیں ، کسی عام کھانے سے روزہ کیوں نہیں کھولتے، جیسے سادہ افطاری کریں اور اسکے بعد ون ڈش ڈنر ہو، اگر کسی کو بہت کچھ نصیب ہو تو کیا وہ اسلام کی روح کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رقم کو غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے استعمال نہ کرے؟