Baaghi TV

Author: یاسمین آفتاب علی

  • پٹرولیم مصنوعات میں سبسڈی کا حکومتی منصوبہ ناقابل عمل

    پٹرولیم مصنوعات میں سبسڈی کا حکومتی منصوبہ ناقابل عمل

    پاکستان کی وزارت پٹرولیم کو ایک مضحکہ خیز ذمہ داری دی گئی جس پر عمل نہیں ہو سکتا ہے پھر بھی وہ کام کر رہے ہیں، اس ذمہ داری کا مقصد ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہے جس میں امیروں سے پٹرول کے پیسے زیادہ وصول کئے جائیں گے اور چھوٹی گاڑیوں والوں کو سبسڈی دی جائے گی،جو مہنگائی کی وجہ سے متاثر ہیں،

    حکومت کی اس تجویز پر کیا کیا جائے؟ کیونکہ اس طرح مسئلے کا حل نہیں ہو گا اور یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے،سب سے پہلے بڑی گاڑیوں میں وین اور ٹرک شامل ہیں، اگر ان کے لئے تیل کی قیمت میں اضافہ کیا جائے گا تو اسکا اثر تمام چیزوں پر پڑے گا اور افراط زر میں اضافہ دیکھنے میں ملے گا، حالانکہ مصنوعات کی قیمتیں تمام صارفین کے لئے ایک ہیں ،دوسرا، تعمیراتی سامان بھی وینوں اور ٹرکوں میں لے جایا جاتا ہے جیسے سیمنٹ، لکڑی، ریت، بجری،اسکی لاگت بھی خریدار پر ہی آئے گی،

    تیسری چیز، وین اور بس، سامان کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال معاشرے کا غریب طبقہ ہی کرتا ہے جن کے پاس کار یا موٹر سائیکل نہیں ہوتی، تعلیمی اداروں کے طلبا کے لئے بھی بسوں کا استعمال ہوتا ہے،چوتھا، گھروں میں جہاں ایک چھوٹی اور بڑی کار ہوتی ہے، گھر پہنچنے کے بعد چھوٹی کار کو ٹینک بھرنے اور بڑی گاڑی میں لوڈ آف لوڈ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔پانچواں ،حکومت کے اس فیصلے سے کریم اور ان ڈرائیو جیسی کار سروسز کے کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔ اور اس سے متاثر ہونے والے وہ لوگ ہوں گے جو عام طور پر گاڑی کے متحمل نہیں ہوتے ہیں

    حکومت کے اس سبسڈی والے آئیڈیا کو دیکھا جائے تو اس پر عمل کرنا اور لاگو کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کیونکہ اس کے ناکام ہونے کی کئی وجوہات سامنے آ رہی ہیں،

  • سعودی عرب کا پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ

    سعودی عرب کا پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ

    سعودی عرب نے پاکستان کو اقتصادی ریڈ کارڈ دے دیا۔ سیاسی اشرافیہ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اس کی بنیادی وجہ ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ اصلاحات سے چند منتخب افراد کے مفادات کو پورا کرنے سے گریز کیا جاتا ہے. اسکے ساتھ ہی جن لوگوں کی مقبولیت کا گراف بلند ہے ان کے احتساب کی حقیقت بھی سامنے ہے، ایسے میں سعودی عرب کی جانب سے سے پاکستان کو بلاسود قرضے فراہم کرنے سے انکار کرنا حیران کن نہیں ہونا چاہئے،

    سعودی وزیر خزانہ نے جنوری میں ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کہا، "ہم بغیر کسی تار کے براہ راست گرانٹ اور ڈپازٹس دیتے تھے اور ہم اسے تبدیل کر رہے ہیں۔ ہم کثیرالجہتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ کہا جا سکے کہ ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستانی سیاست دانوں کو لگتا ہے کہ اس تبدیلی نے پاکستان کو نکال دیا ہے، تو انہیں اب بہتر معلوم ہونا چاہیے

    ایسے میں پاکستان کی حکمت عملی ایسی ہے کہ جیسے وہ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ دنیا انکی مقروض ہے، ایک سوچ یہ بھی تھی کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، دنیا پاکستان کو گرنے نہیں دے گی، جو کہ غلط تھی

    سعودی عرب ان دنوں ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف جا رہا ہے، پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت تھی، سعودی ریڈار پر ہم ایک درجہ کم ہو گئے ہیں ، ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی گیم چینجر ہے، سعودی عرب ایران میں سرمایہ کاری بھی شروع کرے گا،علاوہ ازیں ترکی کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کا آغاز 2020 میں ہوا تھا ۔ ترکی سمجھ گیا تھا کہ اسے سعودی عرب کے ساتھ ایک بہتراور مضبوط تعلقات بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے تجارت بڑھانے، سعودی عرب سے زیادہ سیاحوں کو راغب کرنے اور ان سے براہ راست سرمایہ کاری حاصل کرنے پر توجہ دی

    نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب خود کئی مواقع اور مقامات پر واشنگٹن سے مدد مانگ رہا ہے، اس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا بھی شامل ہے جو امریکہ کے کچھ احسانات سے مشروط ہے

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛ پاکستان کیلئے مفید

    ورلڈ بینک 2020 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں نظام شمسی سے توانائی حاصل کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ ملک کے صرف 0.071 فیصد رقبے کو شمسی توانائی کی پیداوار کے لیے استعمال کرنے سے پاکستان کی بجلی کی موجودہ طلب پوری ہو جائے گی۔ یہ صرف ایک مثال ہے کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہئے اسکی بجائے جو وہ کر رہا ہے،

    بدقسمتی سے، بدعنوانی، ذاتی مفادات کا تحفظ، مقدس گائے سمیت پورے بورڈ میں قانون کے نفاذ میں ناکامی نے پاکستان کو سرمایہ کاروں کے لیے ناخوشگوار بنا دیا ہے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بین الاقوامی میدان میں کوئی دوست نہیں البتہ اتحادی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دوست اور دشمن دونوں بدل جاتے ہیں۔

    قانون کی حکمرانی کی بھاشن دینے والے آج عدالتی احکامات کی دھجیاں اڑا رہے ہیں،شرجیل میمن
    میئر کراچی کیلئے مقابلہ دلچسپ، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی نشستیں برابر ہوگئیں
    مکیش امبانی کے ڈرائیورز کی تنخواہ کتنی؟ جان کردنگ رہ جائیں
    سعود ی عرب :بچوں سے زیادتی کے مجرم سمیت 2 ملزمان کو سزائے موت

  • آئی ایم ایف کی شرائط میں مسلسل تبدیلی، ڈار کی ناکامی؟

    آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی اگلی قسط جاری کرنے کے لئے شرائط کی تبدیلی،اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو ترک کرنے کی بات اسحاق ڈار کی ناکامی ہے،

    سینئر صحافی مبشر بخاری نے کل مجھے فون کیا اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط میں تاخیر کے حوالہ سے بات کی، اس دوران انہوں نے ایک دلچسپ بات کی اور کہا کہ جب سوالیہ پرچہ حل کرنے لگتے ہیں تو نصاب بدل دیا جاتا ہے، ہمیں اس نقطہ نظر پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف جس نے پاکستان کو قرض دینا ہے نے کم از کم چار بار اپنا ارادہ بدلا،شرائط بدلیں، آئی ایم ایف نے قرض کے لئے حتمی معاہدے سے قبل پاکستان سے کئے گئے چار اقدامات کی تشریح بدل دی ہے ،اور نظر ثانی شدہ اقدامات کے حوالہ سے بات کی ،آئی ایم ایف نے پاکستان کے سامنے چار شرائط رکھی

    1] پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ جس سے یقینی طور پر پاکستان میں مہنگائی بڑھے گی،

    2] دوست ممالک سے بیرونی مالیاتی فرق کے لئے تحریری یقین دہانی

    3] بجلی کی قیمتوں میں تین روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے، سرچارج چار ماہ کے بجائے مستقل بنیادوں پر کرنے کا کہا گیا ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے چار ماہ کی مدت کو آئی ایم ایف نے مسترد کیا گیا

    4] آخری افغانستان سے نمٹنے کے لیے شرح مبادلہ کا اخراج

    یہ بات کی جا رہی تھی کہ پالیسی کم آمدنی والے افراد کے لئے بہتر اور دوستانہ ہو گی لیکن ایسا نہیں ہے، جی ایس ٹی میں اضافہ سے یہ واضح ہو گیا ہے،رواں برس 16 مارچ کو پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ہر بارآئی ایم ایف کا جائزہ پروگرام ایک نیا پروگرام بن رہا ہے، یہ بہت غیر معمولی ہے،

    آئی ایم ایف کی جانب سے بار بار نئی شرائط کی وجہ سے پاکستان جس کی معاشی صورتحال دگردوں ہو چکی ہے، کو قرض فراہمی تاخیر کا شکار ہو رہی ہے،وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے واضح کہا کہ کسی کو یہ بتانے کا حق نہیں ہے کہ پاکستان کے پاس کتنے میزائل ہیں یا نہیں۔ اس نے کسی کا نام نہیں لیا۔ لیکن ظاہر ہے کسی نے کیا۔ کون تھا؟

    11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت کی جانب سے زیر زمین پانچ ایٹمی تجربات کیے گئے۔ پاکستان نے 28 مئی 1998 کو 5 اور 30 مئی کو ایک اور ٹیسٹ کے ساتھ جوابی تجربات کامیابی کے ساتھ کئے۔ بعض حلقوں میں یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ 1998 میں جب پاکستان نے یہ ٹیسٹ کیے تھے تو اس کے بعد سے ہی پاکستان کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کچھ کوششیں کی گئی تھیں۔ پاکستان کی کمزور معاشی حالت کی وجہ سے بعض طاقتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے کوششیں کر سکتی ہیں ،

    پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال سب کے سامنے ہے، اس طرح کے تبصرے مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر کے پاکستان کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    غیر یقینی صورتحال میں پالیسی سازوں کے سامنے خطرات بھی ہوتے ہیں، کیونکہ انکے پاس ماضی کی کوئی مثال نہیں ہوتی اور نہ ہی عدم فیصلہ کی آسائش

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛  پاکستان کیلئے مفید

    ایران اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت؛ پاکستان کیلئے مفید

    سنی شیعہ دشمنی نے ہمیشہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کو جنم دیا ہے جبکہ سعودی عرب اور ایران نے اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو بڑھانے کے لیے مذہبی کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ہمیشہ پاکستانی میدان کو استعمال کیا ہے

    "ایران اور سعودیہ کے درمیان حالیہ دنوں ہونے والے معاہدے کیلئے چین کا شکریہ کیونکہ معاہدے کے بعد پاکستان کے دو بڑے فرقوں کے درمیان دشمنی کو ختم کرنے میں یہ بات اب کافی کارگر ثابت ہوگی اور ایک خوش آئند فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان کے اندر ایران کے بعد شیعہ برادری کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے لہذا امید ہے کہ یہ دونوں کے درمیان بہتر مذہبی رواداری کا باعث بنے گا۔”اس سے پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان زیادہ متوازن تعلقات برقرار رکھنے میں مدد ملے گی جیسے کہ موجودہ حالات ہیں سعودی عرب پاکستان کے لیے مالی طور پر بہت مددگار رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایران ایک علاقائی تجارتی پارٹنر ہے۔

    "سعودی عرب پاکستان کا مضبوط ترین حامی رہا ہے اور سعودی عرب پاکستان کو تسلیم کرنے والے اقوام متحدہ کے پہلے رکن ممالک میں شامل ہے۔ لہذا سفارتی اور مالی دونوں لحاظ سے سعودیہ نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ جو تعاون فراہم کیا اس پر کئی باب لکھے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ سعودی عرب میں اس وقت لاکھوں پاکستانی مختلف حصوں میں کام کر رہے اور برسر روزگار ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی فوجی 1960 کی دہائی سے وہاںانکی حفاظت کے لیے تعینات ہیں۔

    "سرکاری ذرائع کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت کا حجم تقریبا 392.08 ملین امریکی ڈالر ہے جس میں پاکستان کی ایران کو برآمد کی جانے والی 22.86 ملین ڈالر کی اشیا بھی شامل ہے علاوہ ازیں اس میں سبزیاں، کیمیکل، پھل، گوشت، چاول شامل ہیں۔ جبکہ ادھر ایران پاکستان کو کیمیائی مصنوعات، کھالیں، خام لوہا برآمد کرتا ہے۔”
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ بہتر تعلقات چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بی آر آئی جیسے منصوبے کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ تاہم اسرائیل اس معاہدے کو امریکہ کی جانب سے چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اسپیس دینے کے طور پر محسوس سکتا ہے کیونکہ اس معاہدے سے ایران کو عالمی تنہائی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ لیکن اسرائیل یا اسرائیل نواز عناصر آنے والے وقتوں کو نازک بناتے ہوئے طے پانے والے معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔