Baaghi TV

Blog

  • ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں-

    پاکستان نے افغانستان میں جو بڑی سرجیکل سٹرائیکس کی ہے ان میں ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈڑوں کی نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں افغان طالبان اگرچہ جواب میں وہی روایتی جذباتی حربے استعمال کر رہے ہیں کہ گھروں ، عورتوں بچوں کو نشانہ بنایا، مسجد کو نشانہ بنایا وغیرہ فیک تصاویر بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ گھسے پٹے حربے ہیں افغان طالبان کے پالے ہوئے ٹی ٹی پی دہشت گرد پاکستان میں مساجد پر حملے کریں، عام آدمیوں کو نشانہ بنائیں، خواتین، بچے شہید ہوں، جوان نشانہ بنیں مگر ان دین کے نام نہاد ٹھیکے داروں طالبان کو کوئی پروا نہیں۔ پاکستان نے سٹرائیک کی تو اب واویلا شروع کر دیا۔

    ترجمان طالبان حکومت کی جانب سے یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب افغانستان کے مشرقی علاقوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور کارروائیوں کے بارے میں متعدد مرتبہ دستاویزی شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تشویش ظاہر کی جا چکی ہے پاکستان نے بار بار افغان علاقے سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں خبردار کیا اور طالبان حکومت سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ختم کرے اور نیٹ ورکس کو ختم کرے، جیسا کہ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا۔ متعدد سرکاری و رسمی انتباہات جاری کیے گئے اور سیکیورٹی تعاون کے مکینزم کی تجاویز دی گئیں اس سے قبل کہ کوئی کارروائی کی جا ئے، سفارتی چینلز، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ثالثی کے تمام امکانات استعمال کیے گئے۔

    پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ کارروائیاں کیں اور اپنی دفاعی حق کو جواز بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا۔ بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے اصولوں کے مطابق، جب غیر ریاستی عناصر غیر ملکی علاقے سے حملے کرتے ہیں اور میزبان حکومت کارروائی میں ناکام رہتی ہے تو خود دفاع کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے حکمرانی میں ٹی ٹی پی کو زیادہ آزادی اور کارروائی کا موقع ملا ہے، جو ان کی موجودگی کے عوامی انکار کے برعکس ہے دہشت گرد نیٹ ورکس کی مسلسل سرپرستی یا برداشت نے ان کے دوبارہ گروہ بندی اور بیرونی حملوں کو ممکن بنایا ہے۔

    طالبان حکومت نے جان بوجھ کر ٹی ٹی پی کو مقامی آبادی میں آباد کیا جب بھی دہشت گردی کا ڈھانچہ نشانہ بنایا جاتا ہے، طالبان حکومت فوری شہری نقصا نا ت کے دعوے کرتی ہے، بغیر کسی شفاف اور آزاد تصدیق کے اس سلسلے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار طالبان حکومت ہے، جس نے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو شہری آبادی میں قائم رہنے دیا،پائیدار امن اور کشیدگی میں کمی محض بیانیہ یا بیانات سے نہیں آئے گی، بلکہ یہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کی شفاف طور پر تحلیل اور سرحد پار سیکیورٹی تعاون کے منظم اقدامات پر منحصر ہے۔

  • برمنگھم : مسجد کے باہر 18 سالہ مسلمان نوجوان کا چاقو  سےقتل ،2 زخمی

    برمنگھم : مسجد کے باہر 18 سالہ مسلمان نوجوان کا چاقو سےقتل ،2 زخمی

    برطانیہ کے شہر برمنگھم میں چاقو کے حملے میں 18 سالہ برٹش پاکستانی نوجوان جاں بحق ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق واقعہ جمعے کی شب نمازِ تراویح کے وقت اولڈبری جامع مسجد کی کار پارکنگ میں پیش آیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں حملے میں 19 اور 22 سال کے دو نوجوان زخمی بھی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ 18 سالہ نوجوان ذیشان افضل جانبر نہ ہو سکا –

    پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کو رات تقریباً 9 بجے سے کچھ پہلے سینڈویل کے سمیتھ وِک روڈ پر واقع جامع مسجد کے باہر جھگڑے کی اطلاع ملی،اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں،واقعے کے وقت رمضان المبارک کے باعث مسجد میں عشا کی نماز کی ادائیگی کے لیے اچھا خاصا رش تھا۔

    موقع پر متعدد ایمبولینسیں، ایک پیرا میڈک افسر اور ایئر ایمبولینس کی گاڑی بمعہ کریٹیکل کیئر پیرا میڈکس بھی موجود تھے ویسٹ مڈلینڈ پولیس نے واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے پولیس نے عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ وہ معلومات فراہم کریں تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر اس واقعے کو مذہبی یا نسلی بنیاد پر کیا گیا حملہ قرار نہیں دیا جا رہا سمیتھ وِک میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد قتل کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور علاقے میں دیگر شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • تیز رفتار ٹریلر اور پولیس وین میں تصادم، 5 پولیس اہلکار ہلاک  3 شدید زخمی

    تیز رفتار ٹریلر اور پولیس وین میں تصادم، 5 پولیس اہلکار ہلاک 3 شدید زخمی

    بھارتی ریاست اوڑیسہ کے جھارسوگڑا میں ایک تیز رفتار ٹریلر کے پولیس وین سے ٹکر مارنے کے واقعے میں 5 پولیس اہلکار ہلاک اور 3 شدید زخمی ہو گئے۔

    حادثہ ادارش ویدیالا جھارسوگڑا کے سامنے، صدر پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا، پولیس اہلکار وین میں ڈیوٹی پر تھے کہ مخالف سمت سے آنے والے بھاری ٹریلر نے ان سے ٹکرا دیا،ہلاک ہونے والوں کی شناخت کشی رام بھوئی اور دیب ادوتا سا، نیرنجن کجور، لنگراج دھروہ اور بھکتابندھو مرڈھا کے طور پر کی گئی ہے۔

    مقامی افراد زخمیوں کو فوری طور پر امداد کے لیے اسپتال لے گئے 5 اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 3 زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ،ز خمیوں میں سے 2 کی حالت بگڑنے پر انہیں ویمسار میڈیکل کالج، بورلا اور بعد میں پرائیویٹ اسپتال، بارگارہ منتقل کیا گیا زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

    حادثے کے دوران ٹریلر کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا اور اسے جھارسوگڑا کے ہسپتال میں داخل کیا گیا ہےجھارسوگڑا کے ایڈیشنل ایس پی مدھوسکتا مشرا نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور سینئر پولیس افسران نے حادثہ گاہ کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔

  • بنگلہ دیشی وزیراعظم کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

    بنگلہ دیشی وزیراعظم کی سعودی سفیر سے ملاقات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

    بنگلہ دیشی وزیراعظم سے سعودی سفیر نے ملاقات کی-

    اتوار کی صبح سیکریٹریٹ میں کابینہ ڈویژن کے دفتر میں بنگلہ دیش میں تعینات سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر عبداللہ جعفر سے خیرسگالی ملاقات کے دوران وزیراعظم طارق رحمان نے امید ظاہر کی ہے کہ بنگلہ دیش اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات مستقبل میں ’نئی بلندیوں‘ تک پہنچ جائیں گے۔

    سعودی سفیر نے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ریاض کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب بنگلہ دیش کے ساتھ ’ہر ممکن تعاون‘ جاری رکھے گا ملاقات میں وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اور وزیراعظم کے مشیر ہمایوں کبیر بھی موجود تھے۔

    اس سے قبل وزیراعظم طارق رحمان صبح 9 بج کر 5 منٹ پر باقاعدہ طور پر دفتری امور کا آغاز کرنے کے لیے سیکریٹریٹ پہنچے، جہاں کابینہ سیکریٹری اے بی ایم عبد الستار نے ان کا استقبال کیاحکام کے مطابق ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

  • مریم نواز شریف نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باقاعدہ افتتاح  کر دیا

    مریم نواز شریف نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باقاعدہ افتتاح کر دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سی ایم گرین ٹریکٹر پروگرام فیز 3 کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے قرعہ اندازی کا آغاز کر دیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم کے باعث صوبے کا زرعی لینڈ اسکیپ تبدیل ہو رہا ہے گزشتہ 25 برس میں 20 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے، جبکہ صرف 2 سال کے دوران پنجاب کے کاشتکاروں کے لیے 31 ہزار ٹریکٹر فراہم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے کاشتکاروں کو مبارکباد دی اور بعض خوش نصیب کسانوں کو خود فون کر کے خوشخبری سنائیمبہاولپور کے کاشتکار حمزہ لیاقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرعہ اندازی میں آپ کا ٹریکٹر نکل آیا ہے، مبارک ہو- پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز رکھی ہے اور آئندہ بھی کسان دوست پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    صوبائی وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی نے پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گرین ٹریکٹر اسکیم کے تیسرے مرحلے کے لیے 5 ایکڑ اراضی کے 4 لاکھ 27 ہزار مالک کاشتکاروں نے درخواستیں جمع کرائیں، گزشتہ 5 برسوں میں ملک میں ٹریکٹروں کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے مکمل قیمت پر ٹریکٹر خریدنا مشکل ہو گیا تھا۔

    بریفنگ کے مطابق 2024 میں پنجاب حکومت نے زرعی مشینری کے استعمال پر خصوصی توجہ دی اسکیم کے پہلے 2 مراحل میں 21 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ تیسرے مرحلے میں 50 سے 65 ہارس پاور کے مزید 10 ہزار ٹریکٹر دیے جائیں گے پنجاب میں 10 ہزار ایکڑ اراضی پر صرف 140 ٹریکٹر موجود ہیں، جو دیگر ممالک کے تناسب سے 50 فیصد سے بھی کم ہےانہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پنجاب کی زرعی معیشت میں ٹریکٹر سب سے اہم مشینری ہے اور اس اسکیم سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

  • پاکستان ہاکی ٹیم 24 فروری کو مصر روانہ ہوگی

    پاکستان ہاکی ٹیم 24 فروری کو مصر روانہ ہوگی

    لاہور:نئے کوچز کی نگرانی میں پاکستان ہاکی ٹیم 24 فروری کو اسلام اباد سے مصر کیلئے روانہ ہوگی۔

    8سال بعد پاکستان ٹیم کے ورلڈ کپ میں جگہ پانے کے روشن امکانات ہیں کپتان عماد بٹ نے مطالبات پورے ہونے پر خوشی کا اظہارکیا ہے ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی اوروزارت بین الصوبائی رابطہ کے سیکرٹری عبوری صدر ہاکی فیڈریشن محی الدین وانی معاملات کو بہتر کرنے کی کو شش کررہے ہیں، اس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

    عماد بٹ نے کہا کہ پرانے کوچز کی جگہ نئی ٹیم انتظامیہ کا تقررہونے پر اب ٹیم کا ماحول بہت اچھا ہے، رمضان میں رات کو ٹریننگ سیشن جاری ہے، سب کھلاڑی بہت محنت کررہے ہیں، مصر میں یکم مارچ سے سات مارچ تک ورلڈکپ کوالیفائرز میں بہترین پرفارمنس دینا ہدف ہے ایک لمبے وقفے کے بعد پاکستان کے پاس ورلڈکپ میں کوالیفائی کرنے کا یہ سنہری موقع ہے، قوم کو خوشیاں دینے کی پوری کوشش کریں گے۔

    واضح رہے کہ ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کی تیاریوں کے لیے قومی ٹیم کا تربیتی کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے ماہ رمضان کی وجہ سے کھلاڑی رات کو 12 سے سحری تک ٹریننگ کررہے ہیں محی الدین وانی عبوری صدر ہاکی فیڈریشن کی حییثت سے ٹیم کے تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔

    مصرمیں پاکستان کو ملائیشیا، آسٹریا، چین کا چیلنج درپیش ہوگا، سیمی فائنل میں رسائی پانے کی صورت میں پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے کی اہل بن سکتی ہے ہاکی ورلڈ کپ اگست کے دوسرے ہفتے ہالینڈ اور بیلجیم میں کھیلا جائے گا۔

  • افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث ان میں سے بڑی تعداد کو امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب تقریباً 17.4 ملین افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی بیمار بچے علاج کے مراکز تک بھی نہیں پہنچ پا رہے اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو درپیش معاشی اور انتظامی بحران نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی ملک میں وسائل کی کمی اور بدانتظامی کے باعث عوامی محرومی کی نشاندہی کر چکے ہیں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مزید انسانی المیہ جنم نہ لے۔

  • اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے،صدر مملکت

    اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے پانچ لاکھ سے زائد اسکاؤٹس کو مبارکباد دی۔

    تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے نوجوان کردار سازی پر توجہ دیں اسکاؤٹس کو گرین اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ پاکستان کیلئے متحرک ہونا چاہئیے منشیات سے پاک اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار قوم کی تشکیل اہم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں اسکاٶٹس کا کردار ناگزیر ہے پاکستان سے پولیو کے خاتمے میں اسکاؤٹس کی فعال شمولیت ضروری ہے، قائد اعظم نے اسکاؤ ٹنگ کو نوجوانوں کی کردار سازی کیلئے اہم قرار دیا تھا پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن عالمی سطح پر مزید مؤثر کردار ادا کرے گی،اسکاؤٹس قوم کی تعمیر میں مؤثر محرک ثابت ہوں گے۔

  • افغانستان میں کارروائی صرف  آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    افغانستان میں کارروائی صرف آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے کہ یہ سرزمین کمزور نہیں بلکہ شہدا کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کاررو ا ئی اُن معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دی گئیں، یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ہر اُس ماں کے آنسوؤں کا جواب ہے جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا اور ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے۔

    طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی سرزمین، اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے انہوں نے خبردار کیا کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا یہ وطن ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارا ایمان ہے انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تھا، پاکستان آج بھی ہے اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔

    واضح رہے کہ آج شب پاکستان نے رات گئے افغانستان کے اندر قریباً 7 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں پاکستان کے خلاف برسرپیکار فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے کیمپس اور کمین گاہیں شامل ہیں۔