Baaghi TV

Blog

  • پاکستان اور امریکا کا رواں برس سرمایہ کاری فورم کا اعلان

    پاکستان اور امریکا کا رواں برس سرمایہ کاری فورم کا اعلان

    پاکستان اور امریکا نے اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    وزارت خزانہ پاکستان کے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیر تجارت ہاورڈ اے لٹنک سے ملاقات کی، جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی، دونوں فریقین نے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا، اور امریکی جانب سے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا، رواں سال 31 مارچ کو پاک امریکا تجارتی و سرمایہ کاری فورم منعقد ہوگا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ نے فورم کے انعقاد میں یو ایس چیمبر آف کامرس کے کردار کو سراہا، اس فورم میں دونوں ممالک کی معروف کمپنیوں کے علاوہ وزارتی سطح کی نمائندگی بھی متوقع ہے اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امید ظاہر کی کہ امریکی وزیر تجارت کا دفتر بھی فورم میں شرکت کرے گا، اور دونوں ممالک نے سرمایہ کاری کے شعبے میں روابط مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • پنجاب حکومت کا کم عمر میں شادی کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا کم عمر میں شادی کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کا فیصلہ

    پنجاب حکومت نے صوبے میں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے سخت قانونی اقدامات کی تجویز دے دی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سلسلے میں آئندہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس پیش کیا جائے گا مجوزہ آرڈیننس کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے گا،اگر کوئی بالغ شخص کم عمر لڑکی سے نکاح کرے تو اسے کم از کم 2 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ ایسے عمل میں ملوث فرد پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا سرپرست یا والدین اگر کمسن بچے یا بچی کی شادی کرائیں تو انہیں 2 سے 3 سال قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    قانون میں یہ بھی شامل ہے کہ شادی کے بعد کم عمر لڑکی کے ساتھ رہائش یا ازدواجی تعلق قائم کرنا چائلڈ ابیوز تصور ہوگا، جس پر پانچ سے سات سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے آرڈیننس کے مطابق چائلڈ میرج سے متعلق تمام مقدمات سیشن کورٹ میں زیرِ سماعت آئیں گے، اور عدالت کو پا بند کیا جائے گا کہ وہ ایسے کیسز کا فیصلہ نوّے دن کے اندر کرے۔

    اس سے قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں 18 سال سے کم عمر شادی کو جرم قرار دیا جا چکا ہے، تاہم جے یو آئی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں نے اس قانون کی مخالفت کی-

  • حکومت کا قائداعظم اور علامہ اقبال پر تاریخی ویب سیریز بنانے کا اعلان

    حکومت کا قائداعظم اور علامہ اقبال پر تاریخی ویب سیریز بنانے کا اعلان

    حکومتِ پاکستان نے بانیانِ قوم کی زندگی اور فکر کو جدید انداز میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اعلان کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر عالمی معیار کی تاریخی ویب سیریز تیار کی جائیں گی،یہ اقدام محض رسمی تقریبات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے قومی فکری تجدید اور نظریاتی بیداری کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بامقصد کہانی کے ذریعے قوم سازی کے عمل کو تقویت دی جا سکتی ہے۔

    وزیر منصوبہ بندی کے مطابق ان پروڈکشنز کے ذریعے نوجوانوں کو قیامِ پاکستان کے نظریاتی پس منظر، آئینی جدوجہد اور قومی اقدار سے روشناس کرایا جائے گا،ائداعظم کی آئینی جدوجہد اور علامہ اقبال کے فکری وژن کی اہمیت آج بھی عالمی سطح پر برقرار ہے تاریخی ڈرامے سافٹ پاور اور ثقافتی سفارتکاری کے مؤثر اوزار بن سکتے ہیں، اسی مقصد کے تحت حکومت تقریباً 50 کروڑ روپے تک سیڈ فنڈنگ فراہم کرے گی ساتھ ہی مصنفین اور پروڈیوسرز کے لیے تحقیقی ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ مواد مستند، تحقیق پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق ہو۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیاکہ تخلیقی صنعت کے ساتھ اشتراک کے ذریعے قومی بیانیے کو مضبوط بنایا جائے گا اور قومی ورثے کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔

  • کے پی حکومت ک  عوام کے مسائل سے غرض نہیں، عظمیٰ بخاری

    کے پی حکومت ک عوام کے مسائل سے غرض نہیں، عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی غرض نہیں، ان کے لیے عمران خان کی آنکھ، دانت اور آسائشیں اہم ہیں۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پنجاب میں رمضان نگہبان پیکج کی فراہمی مرحلہ وار اور منظم انداز میں جاری ہے، جہاں مستحق افراد کو امداد ان کی دہلیز تک شفاف طریقے سے پہنچائی جا رہی ہے اس عمل میں میرٹ کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

    انہوں نے خیبرپختونخوا کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ابھی تک رمضان پیکج کے حوالے سے نہ باقاعدہ پیشرفت سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی واضح اعلان کیا گیا ہے، صوبائی حکومت کی ترجیحات عوامی ریلیف کے بجائے دیگر معاملات پر مرکوز دکھائی دیتی ہیں،مخصوص فہرستوں کے ذریعے تقسیم کیا گیا ،خیبرپختونخوا حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی غرض نہیں، ان کے لیے عمران خان کی آنکھ، دانت اور آسائشیں اہم ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے صوبہ بھر میں جامع سروے مکمل کیا، جس کے تحت ہر شہری کا ڈیٹا مرتب کیا گیااسی سروے کی بنیاد پر 42 لاکھ خاندانوں کو رمضان نگہبان کارڈ جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ مسیحی برادری کے لیے بھی الگ سے مالی معاونت رکھی گئی ہے، یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا رمضان ریلیف پروگرام ہے۔

  • سندھ کو توڑنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کو توڑنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے کی تقسیم کیخلاف صوبائی اسمبلی میں قرار داد جمع کرادی۔
    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوشش آئین کے منافی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کی، جس میں سندھ کی تقسیم کی کوئی بھی کوشش جمہوری اقدار کے منافی قرار دی گئی ہے۔قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش آئین کے منافی ہے، تاریخ میں کئی حملہ آور آئے اور چلے گئے مگر سندھ ناقابل تقسیم رہا۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ اور اتحاد کی علامت ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی باتوں کی مذمت کرتا ہوں، صوبہ سندھ کو توڑنے کا نہ سوچا جائے، سندھ پاکستان بنانے والا صوبہ ہے، سندھ کو توڑنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

  • بدترین ہیں وہ جو ناجائز منافع ،ذخیرہ اندوزی کے نام پر عوام کا خون چوستے ہیں، احسن محمود

    بدترین ہیں وہ جو ناجائز منافع ،ذخیرہ اندوزی کے نام پر عوام کا خون چوستے ہیں، احسن محمود

    روزے اور عبادات اسی کے قبول ہوتے ہیں جو حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی ادا کرے ۔ اسلام شفقت اور محبت کا دین ہے، جو دوسروں کیلئے آسانیاں فراہم کرنے اور حقوق العباد کی پاسداری کا حکم دیتا ہے ۔

    ان خیالات کا اظہارقرآن پبلشرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین سید احسن محمود شاہ ، صدر قدرت اللہ اور سرپرست اعلیٰ حفیظ البرکات شاہ نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ رحمتوں ، برکتوں اور سعادتوں والا مہینہ شروع ہوچکا ہے ، یہ مہینہ اللہ کے قرب ، انسانیت کی خدمت، حقوق العباد کی پاسداری ، گناہوں سے بچنے، اپنی زندگیاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بتلائی ہوئی تعلیمات کے مطابق بسر کرنے کے عہد کا مہینہ ہے ۔ ضروری ہے کہ اس مہینے میں جہاں ہر مسلمان بھر پور طریقے سے اللہ کی عبادات کرے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ حقوق العباد، اپنے پڑوسیوں ، ہمسائیوں اور ضرورتمندوں کا بھی خیال رکھا جائے ۔ دکانداروں کو چاہئے کہ وہ ناجائز منافع خوری سے باز رہیں سرکاری اداروں کا بھی فرض ہے کہ وہ اشیائے خودردوش کی قیمتوں پرچیک اینڈ بیلنس رکھیں ۔اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ رمضان المبارک میں دکاندار اشیائے خودرنوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کردیتے ہیں جبکہ ناجائز منافع خوری کرنا اوراشیائے خورد نوش کی قیمتیں حد سے زیادہ وصول کرنا اسلام کی تعلیمات کے منافی اور عوام الناس کا خون چوسنے کے مترادف ہے ۔انھوں نے کہا عبادات اور رمضان کے روزے بھی اسی کے قبول ہوتے ہیں جو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھے اور دوسروں کیلئے آسانیاں کرے ۔رمضان میں ہمیں اپنی زندگیاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارنے جھوٹ سے بچنے اور اچھا مسلمان بننے کا عہد کرنا ہوگا اسی صورت میں ہماری عبادات راتوں کاقیام اور دن کے روزے قبول ہوں گے۔ رمضان ناجائز منافع کمانے ، ذخیرہ اندوزی کرنے کا مہینہ نہیں ، بدترین ہیں وہ مسلمان جو ناجائز منافع اور ذخیرہ اندوزی کے نام پر عوام کا خون چوستے ہیں

  • میانوالی ،کوئٹہ تک لگژری طیارے پر سفر کا شوق ہے تووزیراعلیٰ پنجاب ذاتی پیسہ لگائیں،حافظ خالد نیک

    میانوالی ،کوئٹہ تک لگژری طیارے پر سفر کا شوق ہے تووزیراعلیٰ پنجاب ذاتی پیسہ لگائیں،حافظ خالد نیک

    مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے کہا ہے کہ 11 ارب کا لگژری طیارہ خرید کر اس پر میانوالی اور کوئٹہ کا چکر لگانے والی وزیراعلیٰ پنجاب جواب دیں کہ طیارہ کن مقاصد کے لئے خریدا گیا، ایک طرف پنجاب کی عوام غربت کی وجہ سے خودکشیاں کر رہی ہےتو دوسری جانب حکمرانوں کی شاہ خرچیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ حکومتوں کا کام عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے نہ کہ قومی خزانے کا بے جا ضیاع کرنا، لگژری طیارے کی خریداری بے جا فضول خرچی کے علاوہ کچھ نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کو اگر لگژری طیاروں پر سفر کا شوق ہے تو ذاتی پیسہ استعمال کریں، قوم کا پیسہ استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے، اب طیارے کے استعمال پر ماہانہ کروڑوں کا خرچ وہ بھی پنجاب کے خزانے سے جائے گا، ابھی بسنت میں جاں بحق افراد کا غم کم نہیں ہوا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی شاہ خرچیوں نے قوم کو مزید پریشان کر دیا،مرکزی مسلم لیگ پنجاب حکومت کی بے جا خرچوں پر خاموش نہیں بیٹھے گی،قوم حکمرانوں کا احتساب کرے گی.

  • بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جاملے

    بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جاملے

    بنوں خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی حافظ گل بہادر سے جاملے، فتنہ الخوارج اتحاد المجاہدین نے ذمہ داری قبول کرلی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اتحاد المجاہدین کا تعلق فتنہ الخوارج کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہے، اتحاد المجاہدین کا مرکزی سرغنہ گل بہادر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے، حافظ گل بہادر گروپ پاکستان میں دہشتگردی اور فتنہ انگیزی میں ملوث ہے۔ذرائع کے مطابق میر علی سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں متعدد حملوں کی ذمہ داری اسی گروپ نے قبول کی، حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بھی افغانستان سے کی گئی۔حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنوں کی افغانستان میں موجودگی ثبوت ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے، افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی سے واضح ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، شواہد سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد عناصر افغان نژاد یا افغانستان سے مربوط نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں،

    واضح رہے کہ بنوں حملے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 5 خوارج بھی مارے گئے۔

  • ماں بولی کا عالمی دن ، پنجابی اور ایک نئی اُمید،:تحریر کامران اشرف

    ماں بولی کا عالمی دن ، پنجابی اور ایک نئی اُمید،:تحریر کامران اشرف

    21 فروری محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں، یہ شناخت، شعور اور ثقافتی بقا کا دن ہے۔ ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زبان صرف بولنے کا وسیلہ نہیں بلکہ قوموں کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی حافظے کی محافظ ہوتی ہے۔ جس قوم کی زبان کمزور پڑ جائے، اس کی تہذیبی بنیادیں بھی لرزنے لگتی ہیں۔

    پنجاب کی سرزمین صدیوں سے علم و ادب، صوفیانہ فکر اور ثقافتی رنگا رنگی کی امین رہی ہے۔ پنجابی زبان نے محبت، مزاحمت، حکمت اور روحانیت کے ایسے نقوش چھوڑے جو برصغیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہیں۔ مگر افسوس کہ اپنے ہی گھر میں یہ زبان اجنبی بنتی جا رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو وہ مقام حاصل نہیں جو اس کا حق ہے۔ بچے اسکول میں اپنی مادری زبان بولنے سے جھجکتے ہیں، اور والدین اسے ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف لسانی بلکہ فکری بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ایسے ماحول میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پنجابی زبان، ثقافت اور تہذیب کے فروغ کے حوالے سے حکومتی سطح پر سنجیدہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب اس مسئلے کو محض ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ پالیسی کے دائرے میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پنجابی کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف زبان کی بقا بلکہ نئی نسل کی شناخت کے تحفظ کی ضمانت ہوگا۔

    یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس حوالے سے واضح فیصلہ دے چکی ہے کہ تعلیمی اداروں میں پنجابی کو پڑھایا جائے۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ مؤقف دراصل آئینی تقاضوں اور ثقافتی ذمہ داری کا عکاس ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس فیصلے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کب ہوگا؟

    گزشتہ برس 21 فروری 2025 کو مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی رخسانہ کوثر نے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پنجابی زبان کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، پنجابی کتب کی اشاعت کو فروغ دیا جائے اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں پنجابی کو مناسب مقام دیا جائے۔ یہ قرارداد محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ برسوں سے جاری مطالبے کی آئینی صورت تھی۔ اگر اس قرارداد پر عملی اقدامات کیے جائیں تو پنجاب کی لسانی تاریخ ایک نئے باب میں داخل ہو سکتی ہے۔

    مجھے آج بھی 21 فروری 2014 کی وہ دوپہر یاد ہے جب لاہور کی شملہ پہاڑی پر پنجابی تنظیموں کے زیر اہتمام مظاہرے میں شرکت کا موقع ملا۔ مختلف جماعتوں، ادبی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندے ایک ہی مطالبہ دہرا رہے تھے: پنجابی کو اس کا جائز مقام دیا جائے۔ وہ کوئی سیاسی اجتماع نہیں تھا بلکہ شناخت کی جنگ تھی۔ اس تحریک سے وابستہ تمام تنظیمیں اور افراد قابلِ قدر ہیں کہ انہوں نے مسلسل اور پُرامن انداز میں یہ مطالبہ زندہ رکھا۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پنجابی کو کیوں پڑھایا جائے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اسے کیوں نہ پڑھایا جائے؟ دنیا کی مہذب اقوام اپنی مادری زبان میں تعلیم کو بنیادی حق سمجھتی ہیں۔ ماہرینِ تعلیم اس امر پر متفق ہیں کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہو تو بچے کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ پنجابی کو نصاب کا حصہ بنانا کسی دوسری زبان کے خلاف اقدام نہیں بلکہ لسانی توازن کی بحالی ہے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ زبان کا فروغ صرف حکومتی نوٹیفکیشن سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے معاشرتی قبولیت، ادبی سرگرمی، نصابی تیاری، اساتذہ کی تربیت اور میڈیا کا مثبت کردار ضروری ہے۔ اگر پنجابی میں معیاری نصاب، جدید ادب، بچوں کی کہانیاں اور سائنسی مواد تیار کیا جائے تو یہ زبان نئی نسل کے لیے کشش بھی پیدا کرے گی اور افادیت بھی۔

    آج جب ماں بولی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے محض ثقافتی تقریب تک محدود نہ رکھا جائے۔ یہ دن ہمیں اجتماعی احتساب کا موقع دیتا ہے۔ کیا ہم اپنی زبان کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی آئندہ نسل کو اس کی اصل شناخت سے جوڑ رہے ہیں؟

    امید کی کرن موجود ہے۔ حکومتی سطح پر اقدامات، عدالتی فیصلے، اسمبلی کی قراردادیں اور سماجی تحریکیں اس بات کی علامت ہیں کہ شعور بیدار ہو رہا ہے۔ اگر نیت اور پالیسی میں تسلسل رہا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پنجابی باوقار انداز میں پڑھائی جائے گی، بچے اسے فخر سے بولیں گے اور ماں بولی کو احساسِ کمتری نہیں بلکہ شناخت کی علامت سمجھا جائے گا۔

    ماں بولی کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبانیں مرنے نہیں دی جاتیں، انہیں زندہ رکھا جاتا ہے — شعور سے، محبت سے اور عملی اقدامات سے۔ پنجاب کی دھرتی آج بھی بولنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے سننے اور سکھانے کا حوصلہ پیدا کریں۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی 3 اتحادی جماعتوں کے وفاقی وزراء سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی 3 اتحادی جماعتوں کے وفاقی وزراء سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی 3 اتحادی جماعتوں کے وفاقی وزراء سے ملاقات ہوئی ہے

    وزیرداخلہ نے تینوں جماعتوں کے رہنماؤں کو کے پی کے اور بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کیا،وزیرداخلہ محسن نقوی نے تینوں وفاقی وزراء کو قیام امن کیلئے کئے جانے والے اقدامات بارے بھی بتایا ۔سالک حسین، خالد مقبول صدیقی اور خالد مگسی نے قیام امن کیلئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہا ،تینوں رہنماؤں نے دوٹوک اعلان کیا کہ ہماری جماعتیں پاکستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ہمیشہ ساتھ کھڑا رہیں گی۔وفاقی وزراء نے امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر ساتھ چلنے کے عزم کا اعادہ کیا،چاروں وفاقی وزراء نے قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی دلیرانہ کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کیا،

    وفاقی وزراء نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔