Baaghi TV

Blog

  • سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ

    آج بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 7ہزار 900روپے کے اضافے سے 5لاکھ 23ہزار 962روپے کی سطح پر آگئی،اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 6 ہزار 773روپے بڑھ کر 4لاکھ 49ہزار 212روپے کی سطح پر آگئی،جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 79ڈالر کے اضافے سے 5ہزار 012ڈالر کی سطح پر آگئی۔

    دوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت 358روپے کے اضافے سے 8ہزار 404روپے کی سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 7205روپے کے اضافے سے 7ہزار 205روپے کی سطح پر آگئی۔

  • ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے۔

    صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیر اعظم نیویارک میں موجود ہیں، جو صدر ٹرمپ کی دعوت پر امریکا کے دورے پر ہیں، آج وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے اس کے علاوہ وزیراعظم کی اہم امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

    ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی نیویارک میں موجود ہیں نائب وزیراعظم نے فلسطینی مستقل مندوب اور مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ملاقات کی ہے آسٹریا کے دورے سے قبل نائب وزیر اعظم کے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ٹیلیفون رابطے بھی ہوئے،وزیر اعظم نے ویانا، آسٹریا کا دورہ بھی کیا جو آسٹرین وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر کی دعوت پر تھا۔ دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا آسٹریا میں وزیر اعظم نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی سے بھی ملاقات کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان غزہ میں صرف امن کے قیام میں کردار ادا کرے گا بورڈ آف پیس سے امیدیں وابستہ ہیں جس سے غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کے خلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے نائب وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ہم امن عمل میں شریک ہوں گے تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے امید ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس غزہ کے عوام کی مشکلات کو کم کرے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ پروفیسر احسن اقبال نے نئی بنگلا دیشی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی، رواں ہفتے پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے اسرائیل کے مغربی کنارے کے الحاق سے متعلق متنازع قانون کی شدید مذمت کی، ہم نے بھارتی شہری نکھیل گپتا کی گرفتاری کی رپورٹس دیکھی ہیں پاکستان میں بھارتی پشت پناہی سے فعال دہشت گرد گروہوں کے شواہد موجود ہیں، انٹرنیشنل اسسٹنس سیکیورٹی فورسز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

  • ایف بی آر کا  تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

    ایف بی آر کا تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

    ایف بی آر کا ٹیکس چوری روکنے اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی جانب بڑا قدم، تمام کاروباری ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کرلیا گیا، انکم ٹیکس رولز میں مزید ترامیم سے متعلق مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    ایف بی آر کے مطابق بڑے ری ٹیلرز، پروفیشنلز اور سروس پرووائیڈرز کی نگرانی ہوگی، ڈاکٹرز، وکلاء، اکاؤنٹنٹس، بڑے شہروں کے ایلیٹ کلب زد میں آئیں گے،رپورٹ کے مطابق ایئرکنڈیشن ریسٹورنٹ، ہاسٹل، گیسٹ ہاؤس، میرج ہال، مارکیز بھی شامل ہیں جبکہ پوائنٹ آف سیل سسٹم، ای انوائسنگ کے بغیر سیل سروس دینا ناممکن ہوگا،رپورٹ کے مطابق بیوٹی پارلرز، سلیمنگ، مساج اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز کی بھی نگرانی ہوگی، بڑے نجی ڈاکٹرز، تعلیمی ادارے بھی پی او ایس سسٹم سے مربوط ہونگے،ایف بی آر کا کہنا ہے کہ 500 روپے سے زیادہ فیس والے ڈینٹسٹ، پلاسٹ سرجن بھی پابند ہوں گے، 50 ہزار سے زیادہ فیس والے فوٹو، ویڈیو گرافرز، ایونٹ منیجرز کی بھی نگرانی ہوگی، کوریئر، کارگو سروسز، فارن ایکسچینج ڈیلرز، کمپنیز بھی پابند ہوں گی، ایکسرے، سٹی اسکین، ایم آر آئی کرنیوالی میڈیکل لیبارٹریز بھی شامل ہیں۔

  • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری:مالیاتی مشیر کی تقرری کے لیے مذاکراتی کمیٹی قائم

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری:مالیاتی مشیر کی تقرری کے لیے مذاکراتی کمیٹی قائم

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے-

    نجکاری کمیشن بورڈ نے مالیاتی مشیر کی تقرری کے لیے ایک مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، فی الحال ایئرپورٹ آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کا ارادہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل کارکردگی میں بہتری، مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور حکومتِ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق مشیرِ نجکاری محمد علی کی زیر صدارت بورڈ اجلاس میں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری سے متعلق مختلف امور پر غور کیا گیا، اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ممکنہ مالیاتی مشاورتی خدمات کے معاہدے کی شرائط پر بات چیت کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی منظوری دی گئی۔

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ پرائیویٹائزیشن کمیشن ریگولیشنز 2018 کے تحت کیا گیا ہے، جو بورڈ کے اس سابقہ فیصلے کا تسلسل ہے جس کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی منظوری دی گئی تھی، مذاکراتی کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ قابلِ اطلاق ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق بات چیت کرے اور اپنی سفارشات بورڈ کو منظوری کے لیے پیش کرے۔

    بورڈ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نجکاری کا عمل کھلے، شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کے تحت انجام دیا جائے گا منصوبے کے تحت رعایتی ماڈل کے ذر یعے ایئرپورٹ آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کا ارادہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل کارکردگی میں بہتری، مسافروں کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور حکومتِ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنا ہے بورڈ نے نجکاری کے تمام لین دین شفاف، اصول پر مبنی اور عوامی مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے،نجکاری کمیشن بورڈ نے قانونی تقاضوں کے مطابق مالی سال 2024-25 کے لیے نجکاری کمیشن کے آڈٹ شدہ ما لیا تی گوشواروں کی بھی منظوری دے دی۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ سے متعلق حکومتی کوششوں میں اب تک کوئی حتمی پیشرفت نہ ہونے پر اس معاملے کو نجکاری کمیشن کے سپرد کیا گیا تھا۔

  • فرح گوگی کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج

    فرح گوگی کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج

    فرحت شہزادی عرف فرح گوگی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے خلاف تھانہ صدر میں فراڈ اور دھوکا دہی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں مسلم لیگ (ن) کے سابق صوبائی وزیر چوہدری اقبال گجر کو بھی نامزد کیا گیا ہے، چوہدری اقبال گجر فرح گوگی کے سسر اور احسن جمیل کے والد ہیں،پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں چوہدری اقبال گجرکے بیٹے، بھائی اور بھتیجے بھی نامزد ہیں جبکہ سوسائٹی کے منیجر اور ملازمین بھی ملزم نامزد ہیں،ایف آئی آر کے مطابق سوسائٹی 2005 میں بنائی گئی، جی ڈی اے سے پی ٹی آئی دور حکومت میں منظوری لی گئی، ملزمان نے سوسائٹی میں پارک، اسکول اور قبرستان کے لیے مختص اراضی کو فروخت کیا،ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے جعلی دستاویزات تیار کرکے سرکاری اراضی فروخت کی۔

  • 10 ارب سے زائد مالیت کا طیارہ،مریم نواز شدید تنقید کی زد میں

    10 ارب سے زائد مالیت کا طیارہ،مریم نواز شدید تنقید کی زد میں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے نیا طیارہ خرید لیا گیا،گلف اسٹریم جی 500 طیارے کی قیمت 10 ارب روپے کے قریب بتائی جارہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق طیارے کا نمبر این 144 ایس اور قیمت تقریباً 10 ارب روپے ہے، اس طیارے کا پاکستان میں سفر کا ریکارڈ بھی ہے، یہ طیارہ ابھی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہوا، یہ امریکی رجسٹریشن پر ہے،طیارے کی خریداری پر پنجاب حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے عوام پر لگائے جائیں، قومی خزانے سے لگژری طیارہ خریدنا زیب نہیں دیتا۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا مؤقف ہےکہ ائیر پنجاب کے لیے ایک فلیٹ بنانا ہے جس میں ہرطرح کے جہاز ہوں گے، مختلف جہاز خرید رہے ہیں کچھ لیزپرلیں گے، یہ اسی سلسلےکی کڑی ہے، جیسے ہی معاملات حتمی شکل اختیار کریں گے آپ کو بتا دیں گے، مفتاح اسماعیل کو ادھوری بات کرنےکا بہت شوق ہے، ہم بہت ساری ٹیکس چوریوں سے متعلق بات کریں گے تو یہ سیاسی انتقام ہوجائےگا۔

    دوسری جانب پنجاب ائیر لائن کی پہلی پرواز اپریل سے شروع ہوگی جس کے لیے پہلے مرحلے میں7 جہاز خریدے جا رہے ہیں،ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق پنجاب ائیرلائن صوبے کی اپنی ائیرلائن ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 2 سال تک صرف اندرون ملک پروازیں چلائی جائیں گی، پنجاب ائیرلائن 2 سال بعد انٹرنیشنل فلائٹس بھی شروع کرےگی۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا موجودہ ہیلی کاپٹر بھی پنجاب ائیرلائن کا حصہ بنا دیا جائےگا، وزیراعلیٰ سرکاری سفر کے لیے پنجاب ائیرلائن کے جہاز استعمال کریں گی، ان کے لیے الگ سے خصوصی جہاز نہیں خریدا جائےگا۔ذرائع کے مطابق قومی خزانے پر اضافی بوجھ نہ ڈالنےکا فیصلہ کیا گیا ہے، موجودہ اور نئے جہازوں کو مکمل طور پر منافع کے حصول کے لیے استعمال کیا جائےگا، نئے جہاز مسافروں اور وزیراعلیٰ دونوں کے استعمال میں آئیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب ائیر لائن کا جہاز استعمال کریں گی تو اس کا کرایہ دیا جائےگا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور پنجاب کی “اونچی اُڑان” پر سوالات کھڑے ہو گئے ،قومی ایئرلائن Pakistan International Airlines جس کے پاس 18 آپریشنل اور 30 قابلِ مرمت جہاز تھے، اسے تقریباً 10 ارب میں فروخت کر دیا گیا۔دوسری طرف 19 نشستوں والا ایک طیارہ 11 ارب میں خرید لیا گیا۔قومی ایئرلائن ختم کرکے صوبائی ایئرلائن بنانے کی دانشمندی کیا ہے؟ عوام جواب چاہتے ہیں۔

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کی طرف سے یہ موقف پیش کیا جا رہا ہے کہ مبینہ گلف اسٹریم طیارہ “ایئر پنجاب” کے فلیٹ کے لیےُ لیاجا رہا ہے، مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ گلف اسٹریم کوئی کمرشل پسنجر جہاز نہیں بلکہ ایک لگژری پرائیویٹ جیٹ ہے جو دنیا بھر میں وی آئی پی موومنٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ تاثر پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ یہ سہولت موجودہ یا آئندہ وزرائے اعلیٰ کے استعمال کے لیے ہوگی۔ اس پر بھونڈی صفائیاں دینے کے بجائے سچ واضح کرنا چاہیے کیونکہ مسئلہ صرف ایک جہاز کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔

    ایک ایسا صوبہ جہاں کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، ہزاروں فیکٹریاں بند اور لاکھوں افراد بے روزگار ہوں، جہاں نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہوں اور کاروباری سرگرمیاں سکڑتی جا رہی ہوں، وہاں سرکاری وسائل کا رخ روزگار، صنعت اور ریونیو جنریشن کی طرف ہونا چاہیے، نہ کہ نمائشی منصوبوں کی طرف۔ یہ پیسہ آخر عوام کا ہے، کوئی ذاتی جاگیر نہیں کہ جس پر دل چاہے تجربات کیے جائیں۔مزید تضاد یہ ہے کہ وفاقی سطح پر یہی جماعت نجکاری کا درس دیتی ہے، کہتی ہے حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ ریگولیٹ کرنا ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو آگے آنا چاہیے۔ مگر دوسری طرف صوبائی حکومت خود ایئرلائن بنانے نکل پڑی ہے۔ ایک ہی جماعت کے اندر پالیسی کا یہ تضاد آخر کس منطق کے تحت ہے؟ ایک طرف “پرائیویٹائزیشن”، دوسری طرف “سرکاری بزنس ایکسپینشن” عوام کو آخر کون سا بیانیہ ماننا چاہیے؟

    اگر واقعی حکومت اپنی کمرشل اہلیت اور گورننس ماڈل ثابت کرنا چاہتی ہے تو میدان کھلا ہے۔ پنجاب کی ڈسکوز نجکاری کے عمل میں جا رہی ہیں انہیں سنبھال کر دکھائیں، اپنے نظم و نسق سے چلا کر عوام اور صنعت دونوں کو ریلیف دیں، لائن لاسز کم کریں، بجلی سستی کریں، ریکوری بہتر کریں۔ اصل امتحان وہ ہے جہاں عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے۔

    حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فضائی سفر عام آدمی کی ضرورت نہیں بلکہ ایک محدود طبقے کی سہولت ہے۔ اندازاً صرف دو فیصد آبادی سالانہ فضائی سفر کرتی ہے، جبکہ بجلی سو فیصد پاکستانی استعمال کرتے ہیں۔ ہر گھر، ہر دکان، ہر اسپتال، ہر صنعت اور پوری معیشت بجلی پر چلتی ہے۔ اب فیصلہ خود کریں کہ زیادہ اہم کیا ہے ایک ایئرلائن یا بجلی کا نظام؟ اگر کمرشل کاروبار کرنے کا واقعی شوق ہے تو اس شعبے میں آئیں جہاں سو فیصد عوام کو ریلیف ملے، جہاں گورننس بہتر ہو تو نرخ کم ہوں، سروس بہتر ہو اور معیشت مضبوط ہو۔ورنہ یہ سب کچھ محض نمائشی منصوبے لگتے ہیں جو وقتی سرخی تو بنا سکتے ہیں مگر عوام کی زندگی نہیں بدل سکتے۔ قوم اب نعروں سے نہیں، ترجیحات سے فیصلے کرے۔

  • اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل  اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    اقوام متحدہ کا سلامتی کونسل اجلاس:پاکستان کی مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت

    نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فلسطین سے متعلق بریفنگ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےاسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں کنٹرول کے دائرہ کار میں توسیع، جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں، غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں،مذکورہ اسرائیلی اقدامات کو فوری طور پر روکا اور واپس لیا جانا چاہیے۔

    وزیرِ خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ مؤثر پیش رفت کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں نمایاں اضافہ اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔

    انہوں نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا حصول ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے یقینی بنایا جانا چاہیے، جو بین الاقوامی قانونی جواز اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو اس عمل کا اختتام 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی، آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر منسلک ریاستِ فلسطین کے قیام پر ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، اور عالمی برادری کو فوری، مؤثر اور اجتماعی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خونریزی کا خاتمہ اور مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • عطا اللہ تارڑ کی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے خبروں کی سخت تردید

    عطا اللہ تارڑ کی بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے خبروں کی سخت تردید

    وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کسی ڈیل یا رعایت کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے-

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر شئیر کئے گئے اپنے پیغام میں وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ عمران خان کے حوالے سے نا کوئی ڈیل ہے اور نا ہی کوئی ڈھیل، کسی بھی قسم کی رعایت کا تاثر دینا بالکل غلط ہے،عمران خان عدالتوں سے سزا یافتہ مجرم ہیں اور رعایت کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں، ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں۔

    سہیل آفریدی کی ٹک ٹاک بنوانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،صارفین کی شدید تنقید

    چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    پی ایچ ایف صدر مستعفیٰ،کپتان پر دو سال کی پابندی عائد کر دی

  • انڈین آرمی کی  فریڈم فائٹرز نے دوڑیں لگو ادیں

    انڈین آرمی کی فریڈم فائٹرز نے دوڑیں لگو ادیں

    مودی ہے تو ممکن ہے !!! منی پور ہوا آزاد ۔۔۔
    ارنب گوسوامی بدحال ، بنگلہ دیش کو کوسنے لگا

  • افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی،افغان حکام کی دفترخارجہ طلبی

    افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی،افغان حکام کی دفترخارجہ طلبی

    پاکستان نے 16 فروری کوباجوڑ میں دہشت گرد حملے میں 11 فوجیوں کی شہادت پرافغان طالبان حکومت سے سخت احتجاج کیا ہے،افغان ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا گیا ۔

    دفتر خارجہ نے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔دفتر خارجہ نے فتنہ الخوارج ، ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک حملے کر رہے ہیں،پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوری، سخت اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ افغان طالبان حکومت پر واضح کیا گیا ہےکہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاکستان اپنے فوجیوں اور شہریوں کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا،دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، فتنہ الخوارج کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔