Baaghi TV

Blog

  • ٹرمپ کی اوباما جوڑے سے متعلق تضحیک آمیز ویڈیو شیئر، امریکا میں شدید ردِعمل

    ٹرمپ کی اوباما جوڑے سے متعلق تضحیک آمیز ویڈیو شیئر، امریکا میں شدید ردِعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر بارک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشعل اوباما سے متعلق ایک تضحیک آمیز ویڈیو شیئر کیے جانے پر امریکا میں شدید ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

    ویڈیو کو نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس کی سخت مذمت کی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ مختصر ویڈیو شیئرکی، جس میں بارک اوباما اورمشعل اوباما کو جنگل میں بندروں کے روپ میں دکھایا گیا ہےویڈیو کے اختتام پر اوباما جوڑے کی اصل تصاویر کو بندروں کے جسموں پر فِٹ کیا گیا، جسے سیاہ فام افراد کے خلاف توہین آمیز اور نسل پرستانہ تصور قرار دیا جا رہا ہے۔

    ویڈیو میں 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق بے بنیاد الزامات بھی شامل ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابی نتائج چرائے گئے پس منظر میں چند لمحوں کے لیے گانا ’’دی لائن سلیپس ٹونائٹ‘‘ بھی سنائی دیتا ہے۔

    ری پبلکن سینیٹر ٹِم اسکاٹ، جو امریکی سینیٹ میں واحد سیاہ فام ری پبلکن ہیں نے ویڈیو کو کھلے الفاظ میں نسل پرستانہ قرار دیتے ہوئے صدرٹرمپ سے فوری طور پر پوسٹ ہٹانے کا مطالبہ کیا انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وائٹ ہاؤس سے اس سے زیادہ توہین آمیز مواد انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس تنقید کو ’’جعلی غصہ‘‘ قرار دیتے ہوئے صدر کے اقدام کا دفاع کیا ہے،لیکن ویڈیو کے وائرل ہونے کے 12 گھنٹے بعد اسے حذف کر دیا۔

    جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’’میں نے کوئی غلطی نہیں کی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے عملے کے کسی رکن کی طرف سے پوسٹ کرنے سے پہلے ویڈیو کا آغاز ہی دیکھا تھا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس میں اوباما کی تصویر کشی ہے۔

    متعدد ریپبلکن سینیٹرز کی جانب سے شدید تنقید کے بعد ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ سے پوسٹ ہٹا دی گئی۔

    جیسے ہی تنقید بڑھ رہی تھی، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ پوسٹ کو ہٹا دیا گیا ہے۔ اوباما کے کلپ کو ایک منٹ طویل ویڈیو کے آخر میں شامل کیا گیا تھا جس میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے دوران مشی گن میں ووٹنگ کی سازش کے دعوے شامل تھے۔

    ٹرمپ کی اوبامہ پر تنقید کرنے کی ایک تاریخ ہے جو صدر کے طور پر ان کی پہلی مدت سے پہلے کی ہے۔ اس نے باقاعدگی سے یہ جھوٹ پھیلایا کہ ہوائی میں پیدا ہونے والا اوباما دراصل کینیا میں پیدا ہوا تھا اور اس لیے وہ صدر بننے کے لیے نااہل تھا۔

    این اے اے سی پی کے قومی صدر ڈیرک جانسن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ویڈیو "صاف نسل پرست، نفرت انگیز اور سراسر حقیر ہے۔”

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، ِاسلام آباد میں موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے مری، گلیات اور گرد و نواح میں موسم شدید سرد رہنے کا امکان ہے، خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے، پشاور میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔

    دیر، بٹگرام، تورغر، مانسہرہ، ہری پور، ایبٹ آباد، باجوڑ، اورکزئی، خیبر، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان، ٹانک، شمالی و جنوبی وزیر ستان میں بارش ہو گی،صوبے کے بالائی اضلاع میں پہاڑوں پر برف باری کا امکان ہے سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موسم سرد اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔

  • صائم ایوب پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے پاکستانی کھلاڑی بن گئے

    صائم ایوب پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے پاکستانی کھلاڑی بن گئے

    پاکستان سپر لیگ کی فرنچائزز سیالکوٹ اسٹالینز اور حیدرآباد نے اپنی ریٹینشنز کا اعلان کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق دونوں فرنچائزز کو ہر کیٹیگری میں ایک ایک کھلاڑی ریٹین کرنے کی اجازت تھی،حیدرآباد نے صائم ایوب کو پلاٹینم کیٹیگری میں 12 کروڑ 60 لاکھ روپے میں ریٹین کیا جس کے بعد صائم ایوب پی ایس ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں جبکہ عثمان خان کو ڈائمنڈ کیٹیگری میں 4 کروڑ 62 لاکھ روپے، عاکف جاوید کو گولڈ کیٹیگری میں ایک کروڑ 96 لاکھ روپے اور معاذ صداقت کو ایمرجنگ کیٹیگری میں 3 کروڑ 50 لاکھ روپے میں ریٹین کیا۔

    سیالکوٹ اسٹالینز نے محمد نواز کو پلاٹینم کیٹیگری میں 6 کروڑ 16 لاکھ روپے، سلمان مرزا کو ڈائمنڈ کیٹیگری میں 3 کروڑ 92 لاکھ، احمد دانیال کو گولڈ کیٹیگری میں 2 کروڑ 24 لاکھ اور سعد مسعود کو ایمرجنگ کیٹیگری میں 84 لاکھ روپے میں ریٹین کیا ہے۔

  • تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر  کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    تائیوان کو اسلحے کی فروخت: امریکی صدر کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے

    چین نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین کا متوقع دورہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکا نے ممکنہ طور پر تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ تائیوان کو بیچنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں اہم دفاعی نظام شامل ہیں۔

    چین نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فروخت بیجنگ،واشنگٹن تعلقات میں سنجیدہ رکاوٹ بن سکتی ہے، خاص طور پر صدر ٹرمپ کے اپریل میں بیجنگ جانے والے دورے کے تناظر میں،تائیوان کے حوالے سے امریکا کو “احتیاط سے کام لینے” کی ضرورت ہے ورنہ دوطرفہ تعلقات میں مشکلات پیدا ہوں گی۔

    صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کو فون پر خبردار کیا ہے کہ اسلحے کی فروخت جیسے اقدامات تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں،چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور کسی بھی غیر ملکی اسلحے کی فروخت کو اس کی خودمختاری پر برا اثر اور امن کیلئے خطرہ تصور کرتا ہے۔

  • بسنت نہیں مناؤں گی،مگر پتنگ تھیم کلیکشن،ماریہ بی پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید،منافق قرار دیا

    بسنت نہیں مناؤں گی،مگر پتنگ تھیم کلیکشن،ماریہ بی پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید،منافق قرار دیا

    ماریہ بی سوشل میڈیا پر اس وقت تنقید کی زد میں آگئیں جب انہوں نے بسنت کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان کے بعد تہوار کی مناسبت سے بچوں کا لباس متعارف کرایا- ۔

    ماریہ بی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئی ہیں جب بسنت نہ منانے کے بیان کے بعد انہوں نے پتنگ تھیمڈ بچوں کے ملبوسات لانچ کیےحالیہ پوسٹس میں، ڈیزائنر نے کائٹ کلب کے عنوان سے اپنی آنے والی بچوں کے لباس کی لائن کو فروغ دیا، بہار سمر کلیکشن ’26، ایک ایسا مجموعہ جس کی برانڈنگ نمایاں طور پر پتنگوں کا حوالہ دیتی ہے – بسنت کی مرکزی علامت۔ اسی وقت ماریہ بی نے اعلان کیا تھا کہ وہ تہوار نہیں منائیں گی۔

    ماریہ بی نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بسنت نہیں منا رہیں اور دوستوں سے درخواست کی ہے کہ دعوتیں بھیجنا بند کریں ان کے مطابق یہ خوشی کا موقع نہیں بلکہ غور و فکر اور افسوس کا وقت ہے، کیونکہ ہم اپنی انسانیت اور اقدار کھو چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جشن منانے سے پہلے خود احتسابی ضروری ہے۔

    انٹرنیٹ صارفین نے اس تضاد کو کھلی منافقت قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل دیا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بسنت سے اصولی اختلاف ہے تو اس سے جڑی تھیم پر بزنس کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ یہ معاملہ مختلف پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث ہے، جہاں کچھ لوگ اسے صرف ایک تجارتی حکمتِ عملی جبکہ دیگر اسے بیانیے اور عمل کے درمیان واضح فرق قرار دے رہے ہیں۔

  • ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کی تاریخی پونچھ ہاؤس میں آمد

    ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کی تاریخی پونچھ ہاؤس میں آمد

    لاہور: سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کا تاریخی پونچھ ہاؤس میں پرتپاک استقبال کیا۔

    ڈی-8 مندوبین میں بنگلہ دیش، مصر، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائجیریا، ترکی اور آذربائیجان کے نمائندے شامل تھے جنہوں نے پنجاب کے ثقافتی حسن اور ثقافتی ورثے کے تحفظ و فروغ کے اقدامات کو سراہا،بسنت کی رنگا رنگ ثقافتی تقریب میں ڈی-8 مندوبین پتنگ بازی اور مقامی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے، اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک سید عاشق حسین کرمانی اور دیگر ملکی و غیر ملکی وفود بھی موجود تھے۔

    دو روزہ قیام کے دوران وفد نے واہگہ بارڈر، شالامار باغ، مزار اقبال، بادشاہی مسجد، حضوری باغ اور شاہی قلعہ کا دورہ کیا، دوروں کے دوران وفد کو تاریخی و ثقافتی اہمیت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، مندوبین نے پنجاب کی مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی، وفد نے دورے کے اختتام پر باہمی خیرسگالی اور دوستانہ تعلقات کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ثقافتی روابط، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کا اعادہ کیا۔

  • اسلام آباد امام بارگاہ خودکش حملہ آور کا بہنوئی کراچی سے، والدہ اسلام آباد سے گرفتار

    اسلام آباد امام بارگاہ خودکش حملہ آور کا بہنوئی کراچی سے، والدہ اسلام آباد سے گرفتار

    اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں وسیع کارروائیاں شروع کر دی ہیں –

    رپورٹس کے مطابق، خودکش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے اہلِ خانہ اور معاونین کی اہم گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، بمبار کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے بھائی کو پشاور سے حراست میں لیا گیا،ایک اہم سہولت کار کو نوشہرہ میں ہلاک کر دیا گیا، جب کہ سب سے اہم گرفتاری بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کر کے تفتیش کے لیے منتقل کیا گیایہ کارروائیاں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کو ختم کرنے اور دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کی جا رہی ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات آئندہ سامنے آئیں گی۔

    دوسری جانب امام بارگاہ پر خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے 15 شہدا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی،13 شہداء کی نماز جنازہ جی نائن امام بارگاہ میں ادا کی گئی جس میں وفاقی وزراء طارق فضل چودھری، سردار محمد یوسف، راجہ خرم نواز، آئی جی اسلام آباد سمیت بڑی تعداد میں شہریوں اور تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی۔

    جنازہ گاہ کے اطراف سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، شہداء کے نماز جنازہ سیکرٹری جنرل نفاذ فقہ جعفریہ، امام جامعہ مسجد خدیجۃ الکبری علامہ بشارت نے پڑھائی۔ نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو تدفین کیلئے روانہ کردیے گئے دو شہدا کی نماز جنازہ امام بارگاہ جامع صادق میں ادا کی گئی جس میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی شرکت کی۔، آغا شیخ محمد شفا نجفی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

    گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں کی امام بارگاہ و مسجد جامعہ خدیجۃ الکبری میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 32 افراد شہید اور 162 زخمی ہوگئے تھے جن مین سے 29 کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

    اسلام آباد بم دھماکے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا، شہداء کی تعداد 33 ہوگئی

    ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص اسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد شہادتوں کی تعداد 33 ہو گئی،اسپتال ذرائع نے بتایا کہ پمز اسپتال میں دھماکے کے بعد کل 149 افراد لائے گئے تھے جن میں 121 زخمی اور 28 لاشیں شامل تھیں۔

    رات بھر طبی امداد کے بعد زخمیوں کی تعداد 64 رہ گئی ہے جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک اور 9 افراد آئی سی یو میں ہیں،زخمیوں کا علاج سرجیکل وارڈ 1 اور سرجیکل وارڈ 4 میں جاری ہے، جبکہ پولی کلینک اسپتال میں 13 زخمی زیر علاج ہیں۔

  • اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

    اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

    اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت

    اسلام آباد میں پیش آنے والا حالیہ دلخراش واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک صدمہ ہے امریکہ، یورپ، روس، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے مذمتی بیانات اور افسوس کا اظہار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ذی شعور انسان کے لیے قابلِ مذمت ہے اور اس پر کسی دو رائے کی گنجائش نہیں۔

    افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر کے ممالک اس سانحے پر پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے، وہیں ہمارے اپنے سوشل میڈیا پر موجود نام نہاد دانشوروں نے بغیر تحقیق اور ذمہ داری کے اس واقعے کو ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کا ذریعہ بنا لیا۔ یہ طرزِ عمل نہ تو جمہوری اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔

    پاکستان کی قربانیاں: ایک نظر ماضی پر

    اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہزارو ں سویلین، فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شہید ہوئےآپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردّالفساد جیسے جامع آپریشنز کے ذریعے پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں نے مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ڈھانچے کو بڑی حد تک توڑا۔ یہ کامیابیاں آسان نہیں تھیں بلکہ ان کے پیچھے بے مثال قربانیاں شامل ہیں۔

    ایسے میں ریاستی اداروں پر اندھا دھند تنقید کرنا، بغیر شواہد کے الزامات لگانا، درحقیقت دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ریاست سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر بات پر خاموشی اختیار کی جائے، لیکن یہ ضرور ہے کہ تنقید ذمہ دارانہ، باخبر اور تعمیری ہو۔

    علاقائی عدم استحکام اور بیرونی عوامل

    ریاستِ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے، جن کا مقصد پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

    یہاں عالمی برادری، خصوصاً وہ ممالک جو بھارت اور افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں—جیسے متحدہ عرب امارات، قطر، دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، چین اور دیگر عالمی طاقتیں—ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان ریاستوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

    قومی اتحاد: وقت کی اہم ترین ضرورت

    سوال یہ نہیں کہ ایک واقعہ کیوں پیش آیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطور قوم اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ کیا ہم انتشار، الزام تراشی اور اداروں کی تضحیک کا راستہ اپنائیں گے؟ یا قومی یکجہتی، صبر اور اجتماعی شعور کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے؟پاکستانی عوام نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے دفاعی اور سلامتی کے اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہ بننے دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اور اس جنگ میں سب سے مضبوط ہتھیار قوم اور ریاست کے درمیان اعتماد ہے۔

    اسلام آباد کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے، مگر اسے قومی کمزوری میں بدلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم جذباتیت، افواہوں اور پروپیگنڈا کے بجائے ہوش، اتحاد اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں—کیونکہ مضبوط قومیں حادثات سے نہیں، انتشار سے ٹوٹتی ہیں۔

  • ہسپتال میں مبیبہ غفلت سے مریض جانبحق،احتجاج،ڈی سی کا دورہ

    ہسپتال میں مبیبہ غفلت سے مریض جانبحق،احتجاج،ڈی سی کا دورہ

    قصور
    بابا بلہے شاہ سپتال میں مبینہ غفلت سے شہری سراپا احتجاج،ڈپٹی کمشنر کا رات ایک بجے اچانک دورہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال المعروف بابا بلہے شاہ ہسپتال میں مبینہ غفلت کے باعث ایک اور مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد شہریوں اور لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا گیا
    ذرائع کے مطابق مریض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن بروقت طبی امداد، مناسب توجہ اور ضروری سہولیات فراہم نہ کی جا سکیں
    لواحقین کا الزام ہے کہ ڈاکٹروں کی غیر سنجیدگی اور تاخیر کی وجہ سے مریض کی حالت بگڑتی گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکا
    واقعہ کے بعد ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا
    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا نے ڈی رات ایک بجے ہسپتال کا دورہ کیا اور صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا گیا جس میں ادویات کی دستیابی اور طبی سہولیات کے حوالے سے مریضوں اور تیمارداروں کی جانب سے فیڈبیک لیا گیا ہوا
    شہری حلقے ابھی بھی مبینہ غفلت اور انتظامی کوتاہی پر تحفظات رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عملی اقدامات کے ذریعے مریضوں کے مسائل حل کیے جائیں

  • کویت میں رمضان کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقات کار مختصر

    کویت میں رمضان کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقات کار مختصر

    ‎رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی کویت نے سرکاری دفاتر کے نئے اوقات کار کا اعلان کر دیا ہے۔ یکم رمضان سے سرکاری اداروں میں کام کے اوقات ساڑھے چار گھنٹے ہوں گے۔
    ‎عرب میڈیا کے مطابق سول سروس کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمین صبح ساڑھے 8 بجے سے ساڑھے 10 بجے کے درمیان کسی بھی وقت دفتر آ کر ساڑھے چار گھنٹے کام مکمل کر سکتے ہیں۔
    ‎کمیشن نے رمضان کے دوران تمام سرکاری اداروں میں مقررہ دورانیے پر عمل درآمد کی ہدایت بھی کی ہے۔
    ‎واضح رہے کہ خلیجی ممالک میں پہلا روزہ 18 فروری جبکہ پاکستان سمیت دیگر خطے کے ممالک میں 19 فروری کو ہونے کا امکان ہے۔