وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 50 ہزار سے زائد طلبہ MDCAT پاس کرنے کے باوجود میڈیکل کالجز میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں، کیونکہ ملک میں میڈیکل کالجز کی نشستیں ناکافی ہیں۔
کراچی میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی 59ویں کنووکیشن کی تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ تقریب میں ملکی اور غیر ملکی طبی ماہرین، سینئر ڈاکٹرز اور سینکڑوں نئے اہل ڈاکٹروں کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ ملک اپنے ڈاکٹرز کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی زیادہ تعداد کی وجہ سے اہل امیدوار بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو ایک تعلیمی اور صحت کا بحران ہے۔ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور میڈیکل کالجز کی سیٹس بڑھانے پر کام جاری ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے یہ بھی بتایا کہ قطر میں پاکستانی ڈاکٹروں کی درجہ بندی کم ہونے کے مسئلے کو سفارتی سطح پر اٹھایا گیا، جس کے بعد قطر نے پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے امتحان کی شرط ختم کر کے سابقہ حیثیت بحال کر دی ہے۔ اب پاکستانی ڈاکٹرز اپنی ڈگری کی بنیاد پر براہِ راست قطر میں خدمات انجام دے سکیں گے۔
Blog
-
50 ہزار سے زائد ایم ڈی کیٹ پاس طلبا میڈیکل کالجز میں داخلے سے محروم, وفاقی وزیر صحت
-

صدر زرداری نے ترلائی دھماکے پر دکھ اور متاثرین کے لیے مدد کی ہدایت دی
صدر آصف علی زرداری نے ترلائی دھماکے پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، متاثرین کے لیے مکمل معاونت کی ہدایت دی
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ترلائی دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
صدر کا کہنا تھا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ آصف زرداری نے مزید کہا کہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ -

امریکی ناظم الامور نے راولپنڈی میں خودکش حملے کی سخت مذمت کی
امریکی ناظم الامور نے راولپنڈی مضافاتی علاقے میں خودکش حملے کی شدید مذمت کی
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے راولپنڈی کے مضافاتی علاقے میں خودکش حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس دھماکے میں بے گناہ نمازی جاں بحق اور زخمی ہوئے، اور وہ متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
نیٹلی بیکر نے کہا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف دہشت گردی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا پاکستان کی امن اور سلامتی کے فروغ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور استحکام کے لیے اپنی شراکت داری پر قائم ہے۔ -

سوات کے بالائی علاقوں میں تازہ برفباری، سیاحوں کی آمد میں اضافہ
سوات کے بالائی علاقوں میں برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کے بعد سردی کی شدت میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مالم جبہ، وادی کالام اور دیگر بالائی علاقوں میں برفباری سے ہر طرف سفید چادر بچھ گئی ہے اور حسین مناظر مزید دلکش ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تازہ برفباری کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد نے مالم جبہ اور دیگر خوبصورت وادیوں کا رخ کر لیا ہے۔ سیاح برف پوش پہاڑوں، قدرتی مناظر اور سرد موسم سے خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ مقامی سطح پر سیاحت میں بھی سرگرمی بڑھ گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک بالائی علاقوں میں سرد موسم اور وقفے وقفے سے برفباری کا امکان ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے سیاحوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ -

میں صحافی نہیں ہوں
میں صحافی نہیں ہوں
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
میں صحافی نہیں ہوں۔یہ جملہ میں نے کسی جذباتی لمحے میں نہیں کہا، بلکہ 2026 میں اُس دن خود سے دہرایا جب ڈیرہ غازیخان کی ضلعی انتظامیہ نے ہفتہ کے روز پریس کلب کی ووٹر لسٹ جاری کی اور وہ فہرست میرے سامنے آئی۔ میں نے نام تلاش کیا، کئی بار دیکھا، مگر میرا نام اس فہرست میں موجود نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے برسوں پر محیط میرا صحافتی سفر، میری شناخت اور میرا وجود ایک سرکاری کاغذ کے ایک فیصلے سے بے معنی بنا دیا گیا ہو۔ یہ محض ایک فہرست نہیں تھی، بلکہ میرے لیے یہ اعلان تھا کہ میں اب سرکار کی نظر میں صحافی نہیں رہا۔یہ کوئی تکنیکی غلطی نہیں تھی، نہ ہی کسی لاپرواہی کا نتیجہ۔ یہ ایک دانستہ اقدام تھا، جس کے پیچھے وہی سرکاری چمچے، نام نہاد لیڈر اور وہ عناصر کارفرما تھے جنہوں نے پریس کلب کی سیاست کو اصولوں کے بجائے مفادات کا کھیل بنا رکھا ہے۔ حیرت اس بات پر نہیں کہ میرا نام نکالا گیا، حیرت اس بات پر ہے کہ 23 برس سے جاری صحافتی سفر، ذمہ داریاں، عہدے اور خدمات سب کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔
میرا صحافتی سفر 2003 میں روزنامہ سنگ میل ملتان سے شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ میں نے نمائندہ خصوصی، کرائم رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر، بیورو چیف اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں، حتیٰ کہ گروپ ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچا۔ آج بھی میں مبشر لقمان جیسے سینئر صحافی کے ادارے باغی ٹی وی میں بطور انچارج نمائندگان خدمات انجام دے رہا ہوں، جبکہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں ڈیرہ غازی خان کا بیورو چیف ہوں۔ قومی اور بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ پر مسلسل کالم لکھ رہا ہوں۔ پریس کلب کی سیاست میں بھی میرا کردار محض تماشائی کا نہیں رہا؛ مختلف ادوار میں باڈی کا حصہ رہا اور الیکشن شیڈول جاری ہونے تک بطور سینئر نائب صدر (الیکٹرانک میڈیا) ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ اس سب کے باوجود، سرکاری فہرست میں میرا نام نہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
اس کا جواب بہت سادہ مگر بہت تلخ ہے۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں برائی کے اڈے نہیں چلاتا، نہ ان کی سرپرستی کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہوں جو خبر کے نام پر راتوں کو شراب اور گناہ کی محفلیں سجاتے ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں مانا کہ صحافت کے لیے کردار کی قربانی دینا لازم ہے، اسی لیے میں سرکار کی فہرست میں قابلِ قبول نہیں۔میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نے کبھی جوئے کے اڈے نہیں چلائے، نہ شراب و شباب کی محفلوں کا حصہ بنا اور نہ کسی قبیح فعل کو “ذاتی معاملہ” کہہ کر نظرانداز کیا۔ میں نے برائی کو برائی کہا، چاہے وہ کسی دوست کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ شاید یہی سب سے بڑا جرم ہے۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں تاجر نہیں ہوں جو تجارت کی آڑ میں دو نمبر سامان بیچتا پھرے۔ میرے پاس نہ چمکتی دمکتی گاڑی ہے، نہ کسی چیمبر آف کامرس کی چھتری، اور نہ ہی اشتہار کے بدلے خبر بیچنے کا ہنر۔ میں نے ہمیشہ قلم کو روزی نہیں، ذمہ داری سمجھا۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نہ سمگلر ہوں اور نہ سمگلروں کا سہولت کار۔ نہ کسی افسر کا کارِ خاص ہوں جو پردے کے پیچھے سودے طے کراتا پھرے۔ میں نے خبر کو کبھی “مفاد” کے ترازو میں تول کر ہلکا یا بھاری نہیں بنایا۔
میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میرے پاس وہ گاڑی نہیں جس میں محکمہ تعلقاتِ عامہ کے افسران کو گھمایا جائے، ان کے لیے محفلیں سجائی جائیں یا انہیں مہمانِ خصوصی بنا کر خوش رکھا جائے۔ میں نے صحافت کو ٹیکسی سروس یا تعلقات کا ذریعہ نہیں بنایا۔
میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کے دفاتر میں حاضری دینے کا عادی نہیں۔ میں نے کبھی ان کے دروازوں پر کھڑے ہو کر سلامی نہیں بھری، نہ کسی کا سفارشی بنا اور نہ ہی کسی سفارش کا سہارا لیا۔ میرے نزدیک خبر طاقت کے ایوانوں میں نہیں، عوام کے دلوں اور گلیوں سے جنم لیتی ہے۔
اور میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں کسی سرکاری دفتر سے منتھلی کا خواہشمند نہیں رہا ہوں۔ نہ چوکیدار ہوں، نہ چپڑاسی، نہ وہ دیوس جو افسران کی راتیں رنگین کرنے کا کام کرے۔ میں اپنی حق حلال کی کمائی پر جیتا ہوں اور اسی پر فخر کرتا ہوں۔
یہ تمام باتیں دراصل میری نااہلی کی فہرست ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر مجھے بتایا گیا کہ میں اب صحافی نہیں رہا۔ مگر میں پورے شعور کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ اگر صحافی ہونے کی شرط یہی سب کچھ ہے تو پھر مجھے یہ اعزاز قبول نہیں۔
میں صحافی نہیں ہوں، مگر میں سچ لکھنے والا انسان ہوں۔میں وہ شخص ہوں جس کی جیب خالی ہو سکتی ہے، مگر ضمیر نہیں۔میں وہ شخص ہوں جسے پریس کلب کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، مگر صحافت سے عشق ہے۔
دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں،ایشیا ہو یا یورپ، امریکہ ہو یا افریقہ..کہیں بھی حکومتیں صحافیوں کی "ووٹر لسٹیں” مرتب نہیں کرتیں۔ کہیں کسی ڈپٹی کمشنر، ضلعی انتظامیہ یا کسی نوکر شاہی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ میز پر بیٹھ کر یہ طے کرے کہ "کون صحافی ہے اور کون نہیں”۔ صحافی کی پہچان اس کا قلم، اس کا کام اور اس کی عوامی ساکھ ہوتی ہے، نہ کہ کسی سرکاری دفتر سے جاری ہونے والی کوئی فہرست۔ مگر حیرت ہے کہ مملکتِ خداداد میں "ڈیرہ غازی خان” وہ واحد بدقسمت ضلع بن چکا ہے جہاں ضلعی حکومت صحافیوں کے شجرے اور فہرستیں مرتب کرنے میں مصروف ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اب پورے پاکستان میں صحافیوں کی سندِ صداقت بانٹنے کا اختیار ڈپٹی کمشنرز کو سونپ دیا گیا ہے؟ یا پھر ڈیرہ غازی خان میں صحافت پر پہرے بٹھانے کا کوئی ایسا انوکھا اور خطرناک تجربہ کیا جا رہا ہے جسے ‘گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ’ میں درج کروانا مقصود ہے؟ اربابِ اختیار جواب دیں کہ کیا اب ضلعی افسر یہ طے کریں گے کہ سچ بولنے کا مجاز کون ہے؟ اگر آج صحافی کی پہچان سرکار کی مرضی سے ہوگی، تو کل خبر کا متن بھی سرکار لکھ کر دے گی، اور پرسوں سچ لکھنا ریاست کے خلاف بغاوت قرار پائے گا۔
میں برملا کہتا ہوں کہ میں "سرکاری صحافی” نہیں ہوں،اگر صحافت کی قیمت اپنی آزادی، ضمیر اور قلم کو کسی سرکاری فہرست کی زنجیر پہنانا ہے، تو مجھے ایسی صحافت سے توبہ ہے۔ یاد رکھیے! ووٹر لسٹ سے میرا نام تو کاٹا جا سکتا ہے، مگر تاریخ کے اوراق سے میری آواز مٹانا کسی سرکاری قلم کے بس میں نہیں۔ میں صحافی نہیں ہوں… اور شاید اسی لیے آج بھی آزاد ہوں۔
آخر میں صرف چھوٹا سا سوال "کیا ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ غازی خان کی تمام عوامی محرومیاں ختم کر دی ہیں کہ اب ان کے پاس صرف صحافیوں کی لسٹیں بنانےکا کام باقی رہ گیا ہے؟”

-

مریم نواز کا اسلام آباد دھماکے پہ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
مریم نواز نے اسلام آباد میں دھماکے پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے المناک دھماکے سے بہت زیادہ دکھی ہوں۔ میرا دل اس دردناک وقت میں متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں، اور اللہ تمام متاثرہ افراد کو صبر اور طاقت عطا فرمائے۔”
دھماکے کے شکار افراد کے لیے اسلام آباد میں 25 مکمل ساز و سامان سے لیس ایمبولینسیں روانہ کر دی گئی ہیں۔ راولپنڈی ڈسٹرکٹ کے تمام اسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ سرجری ٹیمیں، اینستھیٹسٹس، آرتھوپیڈک اور نیوروسرجیکل ماہرین اسٹینڈ بائی پر ہیں۔ خون کے بینک مکمل عملے کے ساتھ فعال ہیں اور آپریشن تھیٹرز مکمل ساز و سامان سے لیس ہیں تاکہ زخمیوں کو فوری اور موثر طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ -

اسلام آباد دھماکہ، خود کش بمبار کی شناخت، افغانستان سے تربیت لی
ترلائی کی مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور متعدد نمازی زخمی ہو گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، خودکش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے اور اس نے افغانستان سے دہشت گردانہ کارروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ خودکش بمبار متعدد بار افغانستان کا سفر کر چکا ہے اور کچھ عرصہ قبل واپس پاکستان آیا تھا۔ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ، طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان میں ہر دہشت گردانہ کارروائی کے پیچھے افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ موجود ہے۔ حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ پوری قوم ایسی مذموم اور بزدلانہ کارروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور مساجد یا معصوم شہریوں پر حملے پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ -

عثمان طارق کے ایکشن میں کوئی مسئلہ نہیں، وہ دو بار کلیئر ہو چکے ہیں: سلمان علی آغا
قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے عثمان طارق کے بولنگ ایکشن سے متعلق خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ایکشن میں کوئی مسئلہ نہیں اور وہ دو بار کلیئر ہو چکے ہیں۔
کولمبو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ عثمان طارق کے ایکشن پر اتنی زیادہ بات کیوں کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تو بس یہی رہ گیا ہے کہ عثمان طارق اپنے گلے میں لکھ کر ڈال لیں کہ وہ کلیئر ہیں۔ کپتان کے مطابق عثمان طارق ٹیم کے لیے ایکس فیکٹر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
سلمان علی آغا نے بابر اعظم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کنڈیشنز میں ٹیم کے لیے بہت اہم ہیں اور مسلسل اپنے اسٹرائیک ریٹ کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
سہ فریقی سیریز کے حوالے سے کپتان کا کہنا تھا کہ ٹیم پر ابتدائی میچز کا کوئی دباؤ نہیں، مقصد تمام میچز جیتنا ہے۔ اگر پاکستان تینوں میچز جیت لیتا ہے تو رن ریٹ کی فکر بھی نہیں رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم ہر میچ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گی، تیاری اچھی ہے اور اب پلان پر عملدرآمد ضروری ہے۔ سلمان علی آغا کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں ٹیم نے اچھی کرکٹ کھیلی ہے، موسم پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا، اصل چیز پرفارمنس ہے جو کھلاڑیوں کے ہاتھ میں ہے۔
کپتان نے مزید کہا کہ ٹیم وہی کمبی نیشن برقرار رکھے گی جو بہتر ثابت ہوگا اور سارا فوکس کھیل پر ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنسز میں غیر متعلقہ سوالات پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے علاوہ باتیں ہونا مناسب نہیں۔ -

عمان کے شہر مسقط میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران اور امریکہ نے جمعے کے روز عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر اہم اور حساس مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں جنگی خدشات بھی موجود ہیں۔
غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق جمعے کے روز ایک قافلہ، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس میں امریکی حکام شامل تھے، مسقط کے قریب واقع ایک محل میں داخل ہوا، جہاں مذاکرات منعقد ہو رہے ہیں۔ قافلے کی ایک گاڑی پر امریکی پرچم بھی دیکھا گیا۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو لے جانے والی گاڑیاں بھی وہاں پہنچیں، جنہوں نے عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعيدی سے ملاقات کی۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مسقط میں ہونے والی بات چیت صرف جوہری معاملات تک محدود رہے گی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں مکمل اختیار کے ساتھ شریک ہو رہا ہے تاکہ جوہری مسئلے پر ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
دوسری جانب واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات بھی شامل ہوں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ بات چیت کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
ایران کی قیادت امریکی دھمکیوں اور خطے میں امریکی بحریہ کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران کو امید ہے کہ امریکی فریق ذمہ داری، سنجیدگی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرے گا تاکہ سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔ -

لاہورمیں بسنت، مبشر لقمان بھی پتنگ اڑانے چھت پر پہنچ گئے
لاہور میں تقریباً 25 برس کے طویل وقفے کے بعد بسنت کے رنگ ایک بار پھر شہر میں لوٹ آئے، جس سے شہریوں میں خوشی اور جوش و خروش کی فضا قائم ہو گئی۔ شہر کی گلیوں، محلّوں اور چھتوں پر رنگ برنگی پتنگیں آسمان کی زینت بن گئیں، جبکہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ اور بچے بھی بسنت کی خوشیوں میں شریک دکھائی دیے۔
بسنت کی اس بحالی میں جہاں عام شہری پتنگ بازی کے شوق میں پیش پیش نظر آئے، وہیں سینئر صحافی، معروف اینکر پرسن اور باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ مبشر لقمان لاہور میں بسنت منانے کے لیے خود چھت پر پہنچ گئے، پتنگ اڑائی اور روایتی بسنتی ماحول سے بھرپور لطف اٹھایا، مبشر لقمان کی جانب سے ہفتہ کے روز لاہور میں خاندان اور قریبی دوستوں کے ساتھ بسنت منانے کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے لاہور کے علاقے مزنگ میں تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جہاں روایتی انداز میں بسنت فیسٹیول منانے کے انتظامات کیے گئے ہیں .