Baaghi TV

Blog

  • بنگلا دیش کی بیمان ایئر لائنز کو ہفتہ وار تین پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت

    بنگلا دیش کی بیمان ایئر لائنز کو ہفتہ وار تین پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت

    کراچی:پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بنگلا دیش کی بیمان ایئر لائنز کو ہفتہ وار تین پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت جاری کر دی ہے۔

    اب بنگلا دیش کی بیمان ایئر لائنز ڈھاکا سے کراچی کے لیے ہفتہ وار تیسری پرواز بھی آپریٹ کرے گی ایئر لائن کی جانب سے تیسری پرواز کے لیے مسافروں کی تعداد سمیت مارکیٹ فیکٹر اور دیگر عوامل کو مد نظر رکھا جائے گا بیمان ایئر اس وقت بوئنگ 737 کے ساتھ ہفتہ وار دو پروازیں ڈھاکا سے کراچی کے درمیان آپریٹ کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ بنگلا دیش کی بیمان ایئر لائنز نے 14 سال بعد 29 جنوری سے جمعرات اور ہفتہ کو دو طرفہ پروازوں کا آغاز کیا تھا۔

  • رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک  وزیرداخلہ بلوچستان مقرر

    رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک وزیرداخلہ بلوچستان مقرر

    بلوچستان کی صوبائی سیاست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں رکن بلوچستان اسمبلی علی مدد جتک کو باضابطہ طور پر وزیرداخلہ بلوچستان مقرر کر دیا گیا ہے۔

    علی مدد جتک نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، گورنر بلوچستان نے ان سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی، جس میں صوبائی کابینہ کے اراکین، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران آئینی تقاضوں کے مطابق حلف لیا گیا اور نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد علی مدد جتک نے وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھال لیا۔ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ بلوچستان کا اہم قلمدان گزشتہ دو سال سے باقاعدہ وزیر کے بغیر تھا۔ اس عرصے کے دوران یہ ذمہ داری وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے پاس رہی، جو بطور وزیر داخلہ صوبے میں امن و امان، سیکیورٹی اور داخلی امور کی نگرانی کر رہے تھے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ علی مدد جتک کی بطور وزیرداخلہ تقرری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بلوچستان کو امن و امان، دہشت گردی، سرحدی سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں نئی تقرری کو صوبائی حکومت کی جانب سے انتظامی اور سیکیورٹی معاملات کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی ریکارڈ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تیسرے دن مزید کمی ریکارڈ کی گئی۔

    مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونا 21 ہزار 500 روپے سستا ہو کر پانچ لاکھ روپےکم ہو گیا ہے، فی تولہ سونے کی قیمت کم ہو کر 4 لاکھ 90 ہزار 362 روپے ہو گئی ہے، جبکہ 10 گرام سونا 18 ہزار 433 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 20 ہزار 406 روپے کی سطح پر آ گیا ہے۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں سونا فی اونس 215 ڈالر سستا ہو کر 4 ہزار 676 ڈالر فی اونس پر آ گیا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت بھی مزید 6ڈالر 01سینٹ کی کمی سے 79 ڈالر 30 سینٹ کی سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ چاندی کی قیمت 1ہزار 601روپے کی کمی سے 8 ہزار 405 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 516 روپے کی کمی سے 7 ہزار 205 روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک سخت مالی اقدامات کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بانڈز اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع نسبتاً زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سونے کی مانگ متاثر ہوتی ہے۔

  • خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    وہ دونوں ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا
    ایک ہاتھ میں لرزتی ہوئی دعا
    اور دوسرے میں عمر بھر کی تھکن۔
    سفید داڑھی میں الجھی ہوئی سسکیاں جھریوں میں قید برسوں کے دکھ اور آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ جیسے دنیا کی روشنی سے نہیں، اپنی قسمت کی سختی سے آنکھیں چرا رہا ہو۔
    یہ وہ ہاتھ تھے جنہوں نے کبھی کسی کے سامنے نہیں پھیلے تھے مگر آج رب کے حضور خالی تھے۔
    اس نے پوری زندگی محنت کی۔
    دھوپ میں جلتا رہا سردیوں میں ٹھٹھرتا رہا۔
    اولاد کے خوابوں کو اپنے خوابوں پر ترجیح دی۔
    ماں باپ کے لیے سہارا بنا بچوں کے لیے سایہ۔
    مگر جب وہ خود سہارا مانگنے کے قابل ہوا، تو سب مصروف نکلے۔
    آج اس کے پاس نہ شکوہ تھا، نہ شکایت۔
    بس ایک سوال تھا جو آنسوؤں میں ڈوبا ہوا تھا:
    “یا اللہ میں نے کسی کا حق نہیں مارا، پھر یہ تنہائی کیوں؟”
    ہوا نے اس کی کانپتی انگلیوں کو چھوا۔
    لب ہلے، آواز نہ نکلی۔
    صرف آنکھوں سے وہ آنسو گرے جو لفظوں سے زیادہ سچے تھے۔
    شاید یہ دعا کسی اخبار کے صفحے پر خبر نہ بنے
    مگر عرش تک ضرور پہنچی ہو گی۔
    کیونکہ جب انسان سب دروازے کھٹکھٹا کر تھک جائے،
    تب جو آخری دستک ہوتی ہے
    وہ سیدھی خدا کے دل پر پڑتی ہے۔
    اور خدا
    خالی ہاتھوں کو کبھی خالی نہیں لوٹاتا

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:قومی ٹیم لاہور سے سری لنکا کیلئے روانہ

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ:قومی ٹیم لاہور سے سری لنکا کیلئے روانہ

    آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے قومی ٹیم لاہور سے سری لنکا کیلئے روانہ ہو گئی۔

    پاکستانی ٹیم سری لنکا پہنچ کر آج اور کل مکمل آرام کرے گی، پاکستان ٹیم 4 فروری کو آئرلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ کھیلے گی،15 کھلاڑیوں پر مشتمل قومی اسکوا ڈ میں کپتان سلمان علی آغا،ابرار احمد اور بابر اعظم شامل ہیں،فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ نافع، سلمان مرزا، نسیم شاہ اور صاحبزادہ فرحان بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں ،قومی اسکواڈ میں محمد نواز، صائم ایوب، شاداب خان، شاہین آفریدی، عثمان خان اور عثمان طارق بھی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا آغاز 7 فروری سے ہوگا پاکستان ٹیم اپنا پہلا میچ 7 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گی۔ دوسرا میچ 10 فروری کو امریکا اور چوتھا میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف کھیلے گی،پاکستان ٹیم حکومت کے فیصلے کے مطابق 15 فروری کو شیڈول بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔

  • کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    بھاٹی گیٹ حادثہ والی جگہ پر سڑک تنگ کر کے، پیدل گزرگاہ ختم کرکے غیرقانونی پارکنگ چلائی جارہی تھی۔ ایسی ہی سینکڑوں غیر قانونی پارکنگ لاہور سمیت دیگر شہروں کی ہر سڑک پر قائم ہیں۔ انتظامیہ کی رشوت ستانی کی وجہ سے تمام اہم شاہراؤں پر کار شورومز اور ورکشاپ سڑکوں پر قائم ہیں، تجاوزات کے خاتمے کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا گیا ہے۔

    شدید دھند کے دنوں میں گھروں کے باہر اور بازاروں میں بنائے گئے غیر قانونی ریمپ، گھروں کے باہر سڑک پر رکھے گئے پتھر، اضافی گرین بیلٹ اور غیر قانونی گارڈ رومز سے ٹکرا کر سینکڑوں حادثات ہوئے لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کیونکہ صرف زخمی ہونا کافی نہیں تھا، حکمرانوں تک آواز پہنچانے کیلئے مرنا ضروری ہے۔واسا، ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور میونسپل کارپوریشن کے افسران کی اربوں روپے کے بجٹ میں ڈاکہ ذنی کے راستے تلاش کرنے کے علاوہ دوسری سوچ ہی نہیں۔واسا، پی ایچ اے اور ڈی سیز نے چائنہ کی رنگ برنگی بتیوں کے ساتھ ایک ویڈیو بنا کر چیف منسٹر کو ٹیگ کر کے شاباش بھی لے لینی ہوتی ہے اور کروڑوں روپے کی گیم بھی ڈال لینی ہوتی ہے جبکہ اسی جگہ سمیت باقی سارا شہر اور ضلع کھنڈر بنا ہوتا ہے۔سرکاری میلوں، سیمینارز اور جشن بہاراں جیسی سرگرمیاں کمائی کا اہم زریعہ ہیں۔

    شعبہ صحت کا بیڑا غرق ہوچکا ہے لوگ مر رہے ہیں اور افسران جیبیں بھر رہے ہیں۔سرکاری طور پر تقسیم کیے گئے مفت ہیلمٹ اور موٹر بائک راڈز کے بل دیکھ کر آپ چکرا جائیں گے کہ ہزار فیصد ایکسٹرا ریٹ لگائے جاتے ہیں اور اگر تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے تو حقیقت میں بیس ہزار تقسیم کی جاتی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے بیس ہزار والی ریڑھی ساٹھ کی اور ساٹھ ہزار والی ایک لاکھ ساٹھ میں تیار کروا کر ریڑھی بازاروں کے نام پر خوب کمائی کی، پھر وہی ریڑھی دینے کیلئے بھی بیس سے تیس ہزار کی دھیاڑی لگائی گئی۔ پھر انہی ریڑھیوں سے روزانہ بھتہ بھی لیا جاتا ہے۔ سرکاری ریڑھی بازار کے بالکل سامنے سڑک پر پرائیویٹ ریڑھیوں اور ٹھیلوں کو بھی رشوت کے عوض دکانداری کی اجازت ہے۔ یعنی سرکاری ملازمین کی ساری توجہ فراڈ سکیموں اور پیسہ بنانے پر ہوتی ہے عوام مرتی ہے تو مرجائے انکی دھیاری لگنی چاہئے۔

    انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا جاتاہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہوتی ہے۔ گھر کے باہر زیادہ سے زیادہ 2 فٹ تک گرین بیلٹ ہوتا ہے لیکن لاہور سمیت تمام شہروں میں پانچ سے پندرہ فٹ تک گرین بیلٹ، پارکنگ اور گارڈ روم کی نام پر جگہ پر قبضہ کیا گیا ہے۔ گارڈ روم والی بدمعاشی سرکاری کن ٹٹوں نے کی ہوئی ہے۔ ہر سرکاری افسر گھر کے باہر سڑک پر گارڈ روم بنانا، بدمعاشی دکھانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔ بہت سارے افسران نے جی او آر کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجی ہیں کہ انکے ساتھی افسران کس طرح بدمعاشی کرکے راستہ بند کردیتے ہیں اور گلی پر قبضہ کرکے پختہ تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ جو اپنے گھر سرکاری کالونی سے تجاوزات ختم نہیں کروا سکتے وہ باہر کیا کریں گے۔

    سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جا رہی۔ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگا کر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔سرکاری گاڑیوں کی اکثریت بنا نمبر پلیٹ ہے یا نمبر کے آگے راڈ لگا کر چھپایا ہوتا ہے ، عام پبلک کا آن لائن چالان اور ان سرکاری بدمعاشوں کو کھلی چھٹی کیوں ؟رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو دو ہزار روزانہ پر بلا نمبر پلیٹ چلانے کی اجازت ہے کیوں کہ مجموعی طور پر یہ رقم 60 کروڑ روزانہ سے زائد ہے۔عام شہریوں کو ان قانون شکن اور بدمعاش سرکاری و پرائیویٹ مافیا سے انصاف اور حق لینے کیلئے مرنا ضروری ہے کیا ؟

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی

    پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی

    او آئی بی عدالت اسلام آباد،تحریک انصاف کے خلاف بنائے گئے بیرونی فنڈنگ کیس کو پر لگ گئے

    بیرونی فنڈنگ کیس میں عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی،او آئی بی عدالت کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کیس پر سماعت کی ،فارن فنڈنگ کیس میں اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک عدالت میں پیش ہوئے ،جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ آپ ابھی تک کیا کررہے ہیں چالان مکمل کیوں نہیں ہوا، پراسکیوٹر واثق ملک نے کہا کہ اس کیس میں متعلقہ ملک سے رائے لینے کیلئے خط لکھ ہوئے ہیں، جج عبدالغفور کاکڑ نے کہا کہ میں تفتیشی کو شوکاز نوٹس اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرتا ہوں اگلی تاریخ پر،یہ معاملہ2022 سے چل رہا ہے اور آپ نے ابھی تک دلچسپی ہی نہیں لی، پراسکیوٹر واثق ملک نے کہا کہ عدالت ایک ہفتے یا دس دن کا ٹائم دے ہم چالان مکمل کر لیتے ہیں، عدالت سے استدعا ہے ایک موقع دیا جائے، شوکاز نوٹس اور ڈی جی طلبی کا حکم ابھی نہ دیا جائے، جج عبدالغفور کاکڑ نے کہا کہ میں اس معاملے کو دیکھ لیتا ہوں آپ دو دن میں اپنی کارکردگی دکھائیں، عدالت نے پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کردی

  • کراچی میں گرفتاربچوں سے زیادتی کا ملزم پنجاب پولیس کا بھی مطلوب نکلا

    کراچی میں گرفتاربچوں سے زیادتی کا ملزم پنجاب پولیس کا بھی مطلوب نکلا

    کراچی ایسٹ انویسٹی گیشن ون پولیس کے ہاتھوں سیریل ریپسٹ کی گرفتاری کے معاملے میں اہم پیشرفت ہوگئی۔

    کراچی پولیس کا انتہائی مطلوب ملزم پنجاب پولیس کا بھی موسٹ وانٹڈ نکلا، گرفتار ملزم 100 سے زائد بچوں سے زیادتی میں ملوث تھا۔پنجاب پولیس نے ملزم کی گرفتاری کیلئے کراچی پولیس سے رابطہ کرلیا، ٹیپو سلطان سے ملزم عمران کو ساتھی وقاص سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزم کیخلاف خانیوال، طارق آباد میں 8 مقدمات درج ہیں، مقدمات اغواء، بچوں سے زیادتی، اقدام قتل کی دفعات کے تحت درج ہوئے، ڈکیتی چوری اور دیگر دفعات بھی ایف آئی آرز میں شامل ہیں،پنجاب پولیس کے مطابق تمام مقدمات 2018ء سے 2023ء تک درج ہوئے، ملزم عمران کی پنجاب میں لال بادشاہ کے نام سے عرفیت تھی، بھاٹی گیٹ تھانے میں ملزم کیخلاف 2018ء میں 2 مقدمات درج ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مقدمہ بچے کو قید میں رکھ کر بدفعلی اور دیگر دفعات کے تحت درج ہوا جبکہ دوسرا مقدمہ 2022ء میں شاہدرہ میں بچے کے اغواء کا مقدمہ شامل ہے، 2023ء میں بھی بہاء الدین زکریا تھانے میں عمران کیخلاف 4 مقدمات درج ہوئے۔

  • مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ

    اوگرا نے مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 175 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے مٹی کے تیل کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہو گیا ہے۔

    مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے سے ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے صارفین پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے، جہاں آج بھی مٹی کا تیل گھریلو استعمال، روشنی اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہےتوانائی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

  • تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے

    تھانہ مندرہ و جاتلی کی حدود میں ڈاکو راج شہری لٹ گئے

    سنگھوری میں مسلح ڈاکوؤں کی گھر میں گھس کر غنڈہ گردی، اہلخانہ پر تشدد اور لاکھوں کی لوٹ مار ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا ملک تنویر اشرف
    چوروں اور ڈاکوؤں نے پولیس کا ناطقہ بند کر دیا، سنگین وارداتوں نے امن و امان کے دعوؤں کی دھجیاں اڑا دیں شہری حلقوں کا اصلاح و احوال کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان کے مختلف علاقوں میں لاقانونیت کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے، جہاں ڈاکوؤں اور چوروں نے پولیس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ تھانہ مندرہ کے علاقے سنگھوری سرور شہید میں ہاؤس رابری کی ایک لرزہ خیز واردات نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے پولیس نے مقدمہ درج کرکے اپنی تفتیش کا آغاز کر دیا ایس ایچ او ملک تنویر اشرف نے کہا کہ ملزمان کو جلد ہی گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں تھانہ مندرہ کی حدود میں کرائم کا گراف پیک پر تھا جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور گشت کے موثر نظام سے کافی حد تک کرائم کے گراف میں کمی آئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، جمعہ 30 جنوری کی رات پونے آٹھ بجے، جب لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے، 4 مسلح سفاک ڈاکو مظہر حسین کے گھر میں داخل ہوئے۔ ان درندہ صفت ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر زین مظہر اور دیگر اہلخانہ کو یرغمال بنا کر ایک کمرے میں بند کر دیا اور مزاحمت پر زین مظہر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈاکو اطمینان کے ساتھ پورے گھر کو کھنگالتے رہے اور طلائی بالیاں، 35 ہزار نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے۔ دوسری جانب تھانہ جاتلی کی حدود بھی جرائم کا گڑھ بن چکی ہے۔ بھیر کلیال میں عمیر یوسف کے قیمتی مویشی چوری کر لیے گئے، جبکہ دولتالہ میں قیصر محمود کے گھر کے تالے توڑ کر طلائی زیورات اور موٹر سائیکل اڑا لی گئی۔ اسی علاقے میں محمد عثمان نامی شہری کو بھی موبائل فون سے محروم کر دیا گیا۔ ان پے در پے وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور جان و مال کے تحفظ کے لیے ترس رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان بے لگام ڈاکوؤں کو فوری نکیل ڈالی جائے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔