Baaghi TV

Blog

  • مریم نواز کا پرواز کارڈ پروگرام، ہنرمند نوجوانوں کیلئے بڑی خوشخبری

    مریم نواز کا پرواز کارڈ پروگرام، ہنرمند نوجوانوں کیلئے بڑی خوشخبری

    ‎وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ پرواز کارڈ کے ذریعے صوبے کے ہنرمند نوجوانوں کو تین لاکھ روپے بلا سود فراہم کیے جائیں گے۔
    ‎پرواز کارڈ، راہ روزگار اور اسکل ڈیولپمنٹ پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام کو ریلیف اور سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پروگرام میں رقوم کی فراہمی میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور 50 ہزار ہنرمند نوجوان اس سہولت سے مستفید ہوں گے۔
    ‎مریم نواز نے بتایا کہ صوبے کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ چیف منسٹر اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 2 لاکھ بچوں کو تربیت دی گئی، جبکہ ایک ہزار بچوں کو گارمنٹس کے شعبے میں روزگار فراہم کیا گیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو نہ صرف ہنر سکھایا جا رہا ہے بلکہ باعزت روزگار بھی فراہم کیا جا رہا ہے، اور ای کامرس کے ذریعے بھی نوجوان اپنی صلاحیتوں سے کما رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام وسائل عوام کی خدمت کے لیے خرچ کیے جا رہے ہیں، اور موبائل پولیس اسٹیشن گھروں کی دہلیز پر عوام کے مسائل حل کر رہے ہیں۔
    ‎مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ ہنر مند افرادی قوت کی دنیا بھر میں طلب ہے، اور پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔

  • یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا تیسرا کانووکیشن، 4924 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا تیسرا کانووکیشن، 4924 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں

    درینالہ خورد (نامہ نگار) یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے زیرِ اہتمام تیسرے سالانہ کانووکیشن کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مجموعی طور پر 4 ہزار 924 فارغ التحصیل طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ تقریب کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم رانا سکندر حیات نے کی، جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد واجد، رجسٹرار جمیل عاصم اور کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر فہیم ارشد بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ کانووکیشن کے دوران مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے 72 پوزیشن ہولڈرز کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران اپنی تحقیق مکمل کرنے والے 18 پی ایچ ڈی اسکالرز نے بھی اپنی ڈگریاں وصول کیں۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر رانا سکندر حیات نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی متحرک قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ نے تعلیمی معیار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کی قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ جلد ہی ملک کی صفِ اول کی جامعات میں شامل ہو جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان محنت اور لگن کو اپنا شعار بنائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ صوبائی وزیر نے یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مرکزِ امتیاز (Center of Excellence) کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے تقریب میں شرکت پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور تعلیمی اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو نصیحت کی کہ عملی زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اعتمادی اور جدت پسندی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ دیانت داری سے محنت کریں اور بڑے خواب دیکھیں تاکہ وہ معاشرے کے لیے ایک کارآمد شہری ثابت ہو سکیں۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں نے کامیاب طلبہ میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں، جبکہ اساتذہ اور والدین نے طلبہ کی اس اہم کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔

  • ننکانہ :ڈی ایچ کیو ہسپتال میں انتظامی بحران،حکام کی غفلت سے ایم ایس کی نشست خالی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب اس وقت شدید انتظامی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث پورا طبی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ سابق ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کی معطلی کے بعد پیدا ہونے والا خلا تاحال پُر نہیں کیا جا سکا، جس کی وجہ سے ہسپتال جیسے حساس ادارے کا نظم و ضبط داؤ پر لگ گیا ہے اور انتظامی معاملات میں عدم استحکام کے باعث طبی سہولیات کے معیار میں شدید گراوٹ کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بااختیار اور مستقل قیادت تعینات نہ کی گئی تو یہ بڑا طبی مرکز محض ایک ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا اور غریب مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق سابق ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی معائنہ ٹیم کے اچانک دورے کے دوران سامنے آنے والی سنگین انتظامی کوتاہیوں کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد سے ہسپتال کی اعلیٰ ترین انتظامی نشست خالی پڑی ہے، جس کا براہِ راست اثر ہسپتال کے روزمرہ کے کاموں اور ادویات کی فراہمی پر پڑ رہا ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے ادارے کو قائم مقام (Acting) ایم ایس کے رحم و کرم پر چھوڑنا عملی طور پر اسے تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے، کیونکہ عارضی چارج رکھنے والا افسر بڑے اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا، جس سے پالیسی سازی اور عملدرآمد کا عمل رک جاتا ہے۔

    ننکانہ صاحب کے شہریوں اور طبی حلقوں نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نادیہ ثاقب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے کسی ایماندار، تجربہ کار اور سخت گیر ڈاکٹر کو مستقل طور پر ایم ایس تعینات کریں تاکہ ہسپتال میں ڈسپلن بحال ہو سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محض عارضی انتظامات سے ہسپتال کا نظام نہیں چلایا جا سکتا بلکہ ایک مستقل اور بااختیار سربراہ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کی اصلاحاتی پالیسیوں کو نچلی سطح تک پہنچا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اب بھی بروقت اور درست فیصلہ نہ کیا گیا تو ہسپتال کا نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا، جس کا خمیازہ ضلع بھر کے مریضوں کو بھگتنا پڑے گا۔

  • فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    ضلع کیچ کے علاقے بلاچا کے پاس کرولا گاڑی میں سوار چند لوگ آئے اور ایک مقامی عورت نرگس کو زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر بھاگے۔

    عورت کے شوہر نے جب دیکھا تو اپنے بھتیجے کے ساتھ گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد سٹی میں گاڑی روکنے پر کامیاب ہوا۔گاڑی سے ایک شخص کلاشنکوف سے مسلح نیچے اترا اور پیچھے سے دو موٹر سائیکل سوار فتنہ الہندستان کا پرچم اوڑے بھی نمودار ہوئے۔ انہوں نے عورت کے شوہر اور بھتیجے کو خوب مارا اور عورت کو لے کر جنگل کی طرف بھاگ گئے۔ماہرین کے مطابق فتنہ الہندستان کے یہ درندے اسی طرح معصوم خواتین کو اغوا کر کے ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہیں اور وڈیو بنا کر ان کو شاری بلوچ کی طرح بناتے ہیں۔فتنہ الہندستان معاشرے کا وہ ناسور بن چکے ہیں جن سے عام عوام کی زندگی اور عزت دونوں خطرے میں ہے

    واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اغوا کاروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات علاقے میں خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،خطرناک دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،خطرناک دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں دہشت گردی کے خدشات کے پیشِ نظر انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلی۔ سی ٹی ڈی پنجاب نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر عارف والا روڈ پر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد کو گرفتار کرلیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق گرفتار دہشت گرد کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے، جو انتہائی مطلوب اور حساس نوعیت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد، ڈیٹونیٹرز اور اسلحہ برآمد کیا گیا، جسے ممکنہ طور پر کسی بڑی تخریبی کارروائی میں استعمال کیا جانا تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گردی کے واقعے کو ناکام بنا دیا گیا۔ گرفتار دہشت گرد کو فوری طور پر نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے دوران اس کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ دہشت گرد عناصر سے متعلق اہم انکشافات کی توقع ہے۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزم کے خلاف دہشت گردی، اسلحہ رکھنے اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں تاکہ امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سی ٹی ڈی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

  • تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع تربت میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جسک کراس کے قریب کی گئی جہاں سکیورٹی فورسز نے مشکوک سرگرمیوں پر گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ گاڑی نے چیک پوسٹ سے بچنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت سلیم کے نام سے ہوئی ہے، جو طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور مختلف تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ دوسرے ہلاک دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جس کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    کارروائی کے بعد دہشت گردوں کی گاڑی کی تلاشی لی گئی، جس سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ مواد برآمد ہوا۔ برآمد ہونے والے اسلحے کو قبضے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا مزید دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • عمر ایوب اور شبلی فراز پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی سے مستعفی

    عمر ایوب اور شبلی فراز پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی سے مستعفی

    ‎پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی سے دو اہم رہنما سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور شبلی فراز نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور سیاسی کمیٹی میں موجودہ آفس ہولڈرز کو شامل کرنے کی تجویز دی۔
    ‎اس کے ساتھ ہی آج سیاسی کمیٹی میں دو نئے اراکین زلفی بخاری اور انتظار پنجوتھہ کو شامل کیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی نے جاری کیا۔
    ‎یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پی ٹی آئی نے سیاسی کمیٹی کی ازسر نو تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت 23 اہم رہنماؤں کو کمیٹی میں شامل کیا گیا جبکہ علی امین گنڈاپور، مراد سعید، شہباز گل اور علی محمد خان کو کمیٹی سے خارج کیا گیا تھا۔

  • اوکاڑہ: پولیو مہم کے 100 فیصد اہداف کے لیے ڈپٹی کمشنر کی سخت ہدایات

    اوکاڑہ: پولیو مہم کے 100 فیصد اہداف کے لیے ڈپٹی کمشنر کی سخت ہدایات

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے اجلاس میں 2 فروری سے شروع ہونے والی مہم کے لیے 100 فیصد اہداف مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ اجلاس میں محکمہ صحت، ایجوکیشن، ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی، جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر فواد افتخار نے مہم کے مائیکرو پلان، ٹیموں کی تشکیل، لاجسٹک سپورٹ اور سیکیورٹی پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے لیے پولیو کا خاتمہ ناگزیر ہے اور ضلع کو پولیو فری بنانے کے لیے تشکیل دی گئی ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مکمل تیاریاں کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے اور دور دراز علاقوں و خانہ بدوش بستیوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ پولیس حکام کو ہدایت کی گئی کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جائے اور حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ مہم کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کی جائے گی اور روزانہ شام کو جائزہ اجلاس منعقد کر کے ٹیموں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے گا تاکہ ہر علاقے میں مکمل ریلیف اور مؤثر حکمت عملی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: بوائز سکول میں سیکیورٹی اور سول ڈیفنس کی فرضی مشق

    اوکاڑہ: بوائز سکول میں سیکیورٹی اور سول ڈیفنس کی فرضی مشق

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی سکول میں سیکیورٹی اور سول ڈیفنس کے حوالے سے ایک جامع فرضی مشق کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد طلبہ اور اساتذہ کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا تھا۔ اس اہم تربیتی پروگرام میں محکمہ سول ڈیفنس، مقامی پولیس، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ مشقوں کے دوران ماہرین نے طلبہ کو عملی طور پر یہ سکھایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے دوران بروقت رسپانس کیسے دیا جاتا ہے تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ ان فرضی مشقوں کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں تحفظ کے احساس کو اجاگر کرنا اور طلبہ میں درست ردعمل کی صلاحیت پیدا کرنا تھا۔

    مشق کے دوران مختلف ممکنہ خطرات بشمول سیکیورٹی تھریٹ، دہشت گردی کی کوشش اور اچانک آگ لگنے جیسے واقعات کا فرضی منظر نامہ تیار کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے طلبہ کو عمارت سے محفوظ طریقے سے نکلنے (ایویکویشن)، کسی زخمی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے اور آگ بجھانے والے آلات کے درست استعمال کے بارے میں تفصیلی آگہی فراہم کی۔ ماہرین نے زور دیا کہ ایسی صورتحال میں سب سے اہم چیز گھبراہٹ پر قابو پانا ہے، کیونکہ خوفزدہ ہونے کے بجائے نظم و ضبط اور طے شدہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

    اس موقع پر سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ہر شہری بالخصوص طلبہ کے لیے سول ڈیفنس کی بنیادی تربیت حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی مشقوں سے نہ صرف طلبہ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ وہ نامساعد حالات میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل بنتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس طرح کے تربیتی سیشنز دیگر تعلیمی اداروں میں بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو حفاظتی اقدامات سے روشناس کرایا جا سکے۔

  • حکومتِ پنجاب کا کان کنی کے فروغ کا فیصلہ

    حکومتِ پنجاب کا کان کنی کے فروغ کا فیصلہ

    ‎حکومت پنجاب نے شعبہ کان کنی کو فروغ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور محفوظ جنگلات و پروٹیکٹڈ ایریاز میں بھی کان کنی کی اجازت دینے کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔
    ‎پنجاب اسمبلی میں ایک ہی نوعیت کے تین مختلف مسودہ قوانین پیش کر دیے گئے ہیں۔ مسودہ قانون کے متن کے مطابق صوبے میں معدنی وسائل کے حصول کی راہ ہموار کرنے اور کان کنی کی سرگرمیوں کی اجازت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون سازی کا مقصد معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور وسائل کے استعمال کو بڑھانا ہے، تاہم ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خدشات پر بھی بحث متوقع ہے۔