Baaghi TV

Blog

  • صوبائی وزیر کے ایک ٹکٹ میں دو مزے

    صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک مظفرگڑھ میں پی ایم اے کی تقریب میں شرکت کے لئےنجی میرج کلب آئے تو تقریب تاخیر کا شکار ہوتی دیکھ کر چند قدم کے فاصلہ پر موجود ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال مظفرگڑھ کا "اچانک” دورہ کرڈالا،اس موقع پر انھوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں سے انکے مسائل دریافت کئے.صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن مظفرگڑھ کی تقریب میں شرکت کے لئے سیال میر ج کلب میں آئے تو تقریب کچھ تاخیر کا شکار ہوتی دیکھ انہوں نے اپنی کارکردگی دیکھانے کے لئے میرج ہال سے چند قدم کے فاصلہ پر موجود ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ کا دورہ کرلیا،صوبائی وزیر توانائی نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں سے مسائل دریافت کیے.اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بیڈز کی کمی ہے جس کے حوالے سے وہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے بات کریں گے.صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا تھا کہ ملتان میں نشتر ہسپتال 2 کا افتتاح کردیا گیا ہے جو 2 سال کے عرصے میں مکمل ہوجائے گا.ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی.

  • ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا

    امین بھایانی کا افسانوی مجموعہ ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا۔امریکہ میں مقیم معروف ادیب امین بھایانی کا تیسرا افسانوی مجموعہ ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا ہے۔ کتاب کا تعارفی فلیپ ممتاز و نامور ادبا نے لکھا ہے جس میں انہوں نے شاندار الفاظ میں مصنف کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ امین بھایانی نے اس کتاب میں لوگوں کے عمومی مسائل کو کہانیوں کا موضوع بنایا ہے اور ان کی نفسیاتی توضیح بھی کی ہے جو کہ ایک کہنہ مشق ادیب ہی کر سکتا ہے۔مصنف نے اپنے دلچسپ اسلوب سے ہر عمر کے لوگوں کے لیے اس کتاب میں دلچسپی کا سامان کر دیا ہے۔ مصنف کی گہری سوچ اور فلسفہ ان افسانوں میں جھلکتا ہے۔ اس سے قبل امین بھایانی کے دو افسانوی مجموعے ”بھاٹی گیٹ کا روبن گوش“ اور ”بے چین شہر کی پُرسکون لڑکی“ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں داد پا چکے ہیں۔ اس کتاب میں شامل افسانے پاک و ہند کے نامور ادبی جرائد میں شائع ہوکر داد پاچکے ہیں۔امین بھایانی مصنف منفرد طرز تحریر کی بدولت ادبی حلقوں میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی کتابوں کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور پذیرائی کے اعتبار سے یہ سر فہرست شمار ہوتی ہیں۔کتاب خوب صورت ٹائٹیل اور عمدہ طباعت سے مزین ہے۔ یہ افسانوی مجموعہ ”کتاب والا پبلشر“ اور ”فضلی سنز“ کے باہمی اشتراک سے شائع کیا گیا اور کتاب سرائے اردو بازار لاہور سے بھی دستیاب ہے۔

  • آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    وہ ہمت جرات غیرت کا پیکر مجسم تھا۔وہ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کا متلاشی تھا۔وہ نور کرنوں میں لپٹا چہرا ہزاروں دلوں کی امیدوں کا محور تھا۔وہ صحابہ کرام کے رستوں پر چلنے والا ایک مرد مسلم تھا۔وہ خزاں کے دور میں بہار کی آخری امید تھا۔وہ لاکھوں بہنوں ،ماؤں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت کا محافظ تھا۔وہ فتح علی بن حیدر علی ٹیپو تھا۔
                              اس نے بچپن سے ہی شیروں سے کھیلنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی اپنے باپ سے عزت کی زندگی گزارنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی انگریزوں اور مرہٹوں سے ان ہزاروں لاکھوں خون کے قطروں کا انتقام لینے کا عزم کیا ہوا تھا جو بنگال کی مٹی پی گئی تھی۔اس نے بچپن سے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف آخری قلعہ سمجھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی طاقت و جرات کے غیر معمولی جوہر سیکھے تھے۔
            سلطان کی عمر ابھی کم ہی تھی کہ انہیں ان کے والد نے مختلف محاذوں مرہٹوں اور انگریزوں کے خلاف بھیج دیا۔سلطان معظم کی بہادری اور جرات کے اوپر سارا میسور رشک کرتا تھا۔پھر ایک تاریک رات میں،ایک ٹمٹماتا چراغ بھج گیا۔میسور کی عزت کا محافظ اور سلطان ٹیپو کے والد نواب حیدر علی وفات پاگئے۔جنگی صورتحال تھی۔میسور ایک وقت میں مرہٹوں، میر نظام علی اور انگریزوں کے خلاف مد مقابل تھا۔ایسی صورتحال میں جب حیدر علی وفات پاگئے، میسور کو انتہائ خطرناک نتائج مل سکتے تھے لیکن سلطان فتح علی حیدر ٹیپو کی مدبرانہ پالیسی نے میسور کے گرتے قلعے کو سنبھالا۔
         اس اولوالعزم مجاہد نے ہندوستان کے مسلمانوں کے دور انحتاط میں محمد بن قاسم کی غیرت،محمود غزنوی کے جاہ و جلال اور احمد شاہ ابدالی کے عزم و استقلال کی یاد تازہ کر دی تھی۔ہندوستان کے مسلمانوں پر جب مایوسی و بے بسی چھا رہی تھی، تب سلطان ٹیپو کی ریاست میں امیدوں اور ولولوں کی نئ دنیا آباد ہورہی تھی۔جب ہندوستان پر مسلمانوں کے قلعے مسمار کیے جارہے تھے تب میسور میں سرنگا پٹم، چتل ڈرگ اور منگلور میں سلطنت خداداد کے معمار نئے قلعے اور حصار تعمیر کر رہے تھے۔
                           سلطان ٹیپو کا تمام دور عہد جنگوں میں گزری۔سلطان کے خلاف تین طاقتیں تھی۔مگر جس ایک طاقت سے سلطان لڑنا نہیں چاہتا تھا وہ میر نظام علی کی طاقت تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ میر نظام علی ہی وہ حکمران تھا جو مسلمانوں کے چراغ بھجا رہا تھا اور انہیں غلامی کی تاریکیوں میں دھکا دے رہا تھا۔اس حکمران نے اپنے مفاد، فقط اپنے مفاد کیلیے لاکھوں عزتوں کا سودا کیا۔سلطان ٹیپو اس سے اس لیے نہیں لڑنا چاہتے تھے کہ اس کے ساتھ فوج مسلمان تھی۔سلطان ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی فوج کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگے جائیں۔تاریخ گواہ ہے سلطان معظم نے ہر ممکن کوشش کی کہ اگر ان کا ساتھ حاصل نہ ہوسکے تو کم از کم انہیں میدان جنگ میں نہ لایا جائے۔مگر میر نظام علی کا تو مقصد صرف خزانے بھرنا تھا۔
                  بالآخر ٹیپو کی ایک ریاست، تین دشمنوں کے ساتھ محو جنگ ہوئ۔اب یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔سلطان ٹیپو اس جنگ کو فتح کرسکتے تھے مگر ایمان فروشوں نے سلطان کی مخبریاں کرکے اسے شکست دلوائ۔میر صادق، پورنیا، میر قمر الدین اور میر معین الدین جیسے غداروں نے صرف میسور کا ہی سودا نہیں کیا تھا بلکہ تمام ہندوستان کے  مسلمانوں کی عزت کا سودا کیا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ اس سودے سے انکے اپنے گھر محفوظ نہ رہے۔جنگ جیتنے کے بعد انگریزوں نے انکی اپنی بہنوں،بیٹیوں کو نہیں چھوڑا تھا۔
                                ٹیپو سلطان 4 مئی 1799ء کو انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے میدان میں آئے۔سلطان نے میسور کے  ہراول دستوں کیساتھ لڑا۔سلطان معظم پر ایک انگریز نے گولی چلائ۔مگر سلطان نے زخم کی فکر نہ کی۔سلطان کے جسم نے خون نکل رہا تھا مگر سلطان معظم اس خون سے سرنگاپٹم کی زمین کو سیراب کرنا چاہتے تھے۔سلطان پر ایک اور گولی لگی اور سلطان پر نقاہت کے آثار ظاہر ہونے لگے مگر وہ لڑتے رہے۔جب زخموں کھ باعث سلطان کی ہمت جواب دینے لگی تو سلطان کے باڈی گارڈ دستے نے سلطان سے کہا "عالی جاہ!اب اس کے سوا کوئ چارہ نہیں کہ آپ اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کردیں”
      سلطان نے جواب دیا؛ "نہیں______میرے لیے شیر کی زندگی کا ایک لمحہ گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے!”
                                  سلطان کے گھوڑے پر ایک گولی لگی تو اس نے گرتے ہی دم توڑ دیا۔گھوڑے کیساتھ گرتے وقت سلطان کی دستار ان سے علحیدہ ہوگئ۔سلطان نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک گولی سلطان کے سینے پے لگی۔پاس ہی ایک انگریز نے سلطان کی کمر سے مرصع پیٹی اتارنے کی کوشش کی۔لیکن سلطان میں ابھی زندگی کے چند سانس باقی تھے۔انہوں نے یہ توہین برداشت نہ کی۔سلطان نے اچانک اٹھ کر تلوار بلند کی اور پوری شدت کیساتھ اس پر وار کیا۔انگریز نے اپنی بندوق آگے کی۔اس کے ساتھ ہی سلطان کی تلوار ٹوٹ گئ۔اس کے ساتھ ہی ایک اور انگریز نے اپنی بندوق کی نالی کا سرا سلطان کی کنپٹی کے ساتھ لگاتے ہوئے فائر کردیا اور وہ آفتاب جس کی روشنی میں اہل میسور نے آذادی کی حسین منازل دیکھی تھیں، ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا۔اس آفتاب کے روپوش ہونے کے ساتھ ہی ہندی مسلمانوں کے اوپر ایک تاریک دور آگیا۔
                                اگلے روز سلطان کا جنازہ جب محل سے نکلا تو سرنگاپٹم کا ہر بچہ اس جنازے میں شریک ہوا۔ہر چشم سلطان کے غم میں پرنم تھی۔اس روز شدید آندھی کے آثار آسمان پر تھے۔جیسے ہی سلطان کے مقدس جسم کی تدفین ہوئ ویسے ہی بادلوں نے اشک جاری کردیے۔
                           تاریخ گواہ ہے کہ اس دن اتنی بارش ہوئ کہ سرنگاپٹم کی گلیاں بازار ندیوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔
                                دیکھنے والوں نے دریائے کاویری کی طغیانی دیکھی۔کاش وہ غدار جنہوں نے قوم کے مستقبل کا سودا کیا تھا، ایک دن اور انتظار کرلیتے تو دشمن کی فوج اسی دریا میں ڈوب جاتی______کاش،
                           سلطان معظم!
                            قوم کی جس آذادی کا آپنے خواب دیکھا تھا،وہ آذادی ایک ایسی قوم کو ملی ہوئ ہے جس کو دنیا پاکستانی کے نام سے جانتی ہے۔جو ریاست میسور آپنے قائم کی تھی، اور جو پورے ہند کے مسلمانوں کی محافظ تھی، آج اس جیسی ایک اور ریاست قائم ہے جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔اور یہ ریاست تمام عالم اسلام کی محافظ ہے۔قوم کے جو رضاکار آپکے قافلے میں شامل تھے، وہی رضاکار اس قافلے میں شامل ہیں۔یہ آفت و مصیبت کے وقت، یہ زلزلے اود سیلاب کے وقت امداد کی ناقابل یقین داستانیں رقم کردیتے ہیں۔اور میدان جنگ میں وہ افواج کے دوش دبدوش لڑتے ہیں۔اگر اس ریاست میں کہیں باغیانہ شعور بیدار ہو تو یہ رضاکار اٹھتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کیلیے چل دوڑتے ہیں۔مصائب جھیلتے ہیں، آہنی چٹانوں کو سر کرتے ہیں، اپنے لوگوں کے طعنے سنتے ہیں مگر آپکی طرح،آپکے رضاکاروں کی طرح،آپکی قوم کی طرح یہ لوگ اپنے حوصلے کم نہیں ہونے دیتے،اپنے منشور میں پیچھے نہیں ہٹتے۔
                             سلطان معظم!
                                           جس طرح آپکی ریاست اہل کفر اور انکے ہاتھوں میں کھیلتے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اسی طرح یہ ریاست کفار اور ان کے چیلے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔
                                                  جس طرح آپ کی فوج کم تعداد ہوتے ہوئے بھی دشمن پر غالب رہتی تھی،اسی طرح اس ریاست کی فوج بھی بہادری کے جوہر دکھاتی ہے۔دشمن یہ سوچ کر ان پر حملہ کرتا ہے کہ یہ سو رہے ہوں گے، مگر یہ بیدار رہتے ہیں اور دشمن کو ایسا سبق سکھا جاتے ہیں کہ وہ کبھی بھول نہ پائے۔
                          سلطان معظم!
                                     جس طرح آپکی ریاست میں غدار تھے جو آپکی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوششیشیں کر رہے تھے اسی طرح اس ریاست میں بھی غدار پائے جاتے ہیں۔کچھ پہلے حکمران بن کر آتے ہیں،کچھ  الگ بھیس میں آتے ہیں-مگر پھر آفریں کہ اس ریاست کی چاک و چوبند افواج اور اس کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی عوام ان غداروں کو انجام تلک پہنچاتے ہیں۔
                   اس ریاست کے لوگ اے سلطان معظم! آپکو بہت یاد کرتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپ کو اپنی انسپائریشن سمجھتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپکے ہی اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ:
      "شیر کی ایک لمحہ کی زندگی،گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
                 اللہ سلطان معظم اور انکے ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے جو آج کے دن یعنی 4 مئی کو انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوئے اور ہماری اس ریاست پاکستان میں ان جیسے حکمران پیدا فرمائے۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    آخر میں علامہ اقبال کے کچھ اشعار:
    آں شہیدان محبت را امام
    آبروئے ہند و چین و روم شام

    نامشں از خورشید و مہ تابندہ تر
    خاک قبرش از من و تو زندہ تر

    ازنگاہ خواجہ بدر و حنین
    فقر سلطان وارث جذب حسین ؓ

  • پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو

    پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو

    سیالکوٹ (نمائندہ باغی ٹی وی ) پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو کامران اکمل نے کہا کہ شاہد آفریدی کی عزت کی طرح سب کی عزت ہے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہیں کرنی چاہئیے شاہد آفریدی نے آئی سی سی سینچری بنائی اس وقت عمر بتا دیتے تو اچھا ہوتا انہوں نے کہا ورلڈ کپ سے پہلے نیٹ سیریز جیتنا بہت اہم ہ پاکستانی ٹیم بہت اچھا پرفارمنس کرے گی بھارتی میڈیا کھلاڑیوں اور فوج کے متعلق باتیں کرتا رہتا ہے سعید اجمل کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے لئے منتخب ہونے والوں کو مبارکباد دیتے ہیں محمد عامر کی بالنگ بہت اچھی ہے حسن علی کے علاوہ کوئی بالر نہیں ہے سعید اجمل نے کہا سئنیرز کی عزت سب کو کرنی چاہئیےجاوید میانداد لیجنڈ ہیں انکی عزت کرنی چاہئیے تقریب میں آئے عثمان شنواری نے کہاورلڈ کپ کی ٹیم پر مطمئن ہیں کوچ اور ٹیم بہترین ہے امید ہے ورلڈ کپ جیت جایئں گے شاہد آفریدی کی کتاب کے سوال پر انہوں نے کہا آئے گی تو سب واضح ہو جائے گا

  • بلوچستان ہائیکورٹ نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

    کوئٹہ : بلوچستان ہائیکورٹ نے پی ایس ڈی پی سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا بلوچستان عوامی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام پلاننگ کمیشن کے سفارشات سے منافی قرار دیا ہائیکورٹ نے 5 ارب 30 کروڑ کے بی اے ڈی ڈی پی کو معطل کردیا ہائیکورٹ کا حکومت پی ایس ڈی پی پر پلاننگ کمیشن کی سفارشات سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا حکم ہائیکورٹ نے آئندہ پی ایس ڈی پی بنانے سے متعلق حکومت کو ایک درجن کے قریب گائیڈ لائنز دے دیں اور حکومت 2019-20 اور مستقبل کے پی ایس ڈی پیز ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے, حکم حکومت فنڈز مختص کرتے وقت جاری اسکیمات کو ترجیح دے تاکہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہو اور اضافی لاگت سے بچا جاسکے تعلیمی, زرعی, صحت, جنگلات, گلہ بانی پر محکمانہ پالیسی بنایا جائے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف اور عام عوام کو فائدہ پہنچے حکومت پی ایس ڈی پی میں خالصتا اجتماعی نوعیت, مفاد عامہ پر مبنی منصوبے شامل کرےہائیکورٹ کے حکم نامے میں دیگر نکات بھی شاملصوبائی پی ایس ڈی پی سے متعلق آئینی درخواست شہری شیخ عالم نے 2016 میں دائر کی تھی بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل بینچ سے فیصلہ سنایا۔

  • جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔۔۔ سلمان آفریدی

    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔۔۔ سلمان آفریدی


    بات آگے نہيں سچ پوچھو تو بہت آگے نکل چکی ہے ۔۔ جہاں سب سرے ہاتھ میں آ چکے ہیں ، ڈر دور ہو چکا ہے، خوف کے بادل چھٹ چکے ہیں اور بے بنیاد وسوسے اپنی موت آپ مرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سچ بہت کڑوا ہے جبکہ جھوٹ کے تانے بانے مکڑی کا جال ثابت ہو رہے ہیں۔

    سرپھرے سبز لہو سے وفا کی داستان لکھ رہے ہیں جبکہ ٹوپی بردار "انقلابیے” انارکی پھیلانے کو نئی سبیلیں تلاشتے پھرتے ہیں۔۔

    پیاری چندا! تمہاری سرخ "فتانت” کو سلام ۔۔ ایک زمانے سے رواج چلا آتا ہے کہ  بزعم خود ذہین و فطین نابغے زمام اقتدار سنبھالتے ہیں ۔۔ خوب گھڑمس مچاتے ہیں ۔۔ عوام کا لہو جونکوں کی مانند  چوستے ہیں ۔۔اربوں روپے ادھر ادھر کرتے ۔۔ اپنی ناقص پالیسیوں ، غلط فیصلوں اور کرسی سے چمٹے رہنے کی ہوس میں ملک و قوم کے گلے پر کند چھریاں پھیرتے ہیں اور جب جاں بلب احوال کی اصلاح شروع ہوتی ہے تو تم سب مل كر”اشارہ ابرو” کو قصوروار ٹھہراتے ہو ۔ 

    چندا رانی! ماجھے کی بھینس یہ خود کھولتے ، چوری کا الزام فوجے پہ دھرتے اور مارتے پنڈ کے مکینوں كو ہيں. صلح صفائی کی تو "تو رہن ای دے” اور واہ وا صرف اللہ بادشاہ کی ہے۔

    خدا ہدایت دے !شاہیں کو بے بال و پر کرنا ہو ، چیونٹی کو ہاتھی دکھانا ہو یا پھر سانپ کو نیولہ ثابت کرنے کی سامریت چلانی ہو تمہاری زبان کی کاٹ اور فکر کی کجی کی کوئی حد نہیں۔ رہی حد پر آپ کی شدومد تو ہمارے تو ذمے ہی نگہداری کی خدمت ہے۔ باقی سائیبیرین پرندوں کی سردیاں حرام کرنے "اربوں” کے دہ سالہ مہمان جنہیں اس پاک سرزمین پر فرعونیت کا دعوی تھا کو بھی سبھی جانتے ہیں۔

    جان کی امان کے ساتھ ایک محبت بھری گزارش سن لو تو شاید طبیعت کو افاقہ ہو جائے ۔ حالات اب واقعی وہ نہیں رہے بلکه بہت بہتر ہو چکے ہیں بیٹا باپ کے کندھے سے کندھا جوڑے اس کا دست و بازو بنا ہوا ہے ۔۔ جلنے والے کا منہ کالا۔

    اری او چندا ! تکنیک کی تو تم بات ہی چھوڑو کہ وہ سب تو ہم نے ” غیروں” کے لیے سنبھال رکھی ہیں رہی نئی نسل تو وہ اب زرد پراپیگنڈوں پہ کان نہیں دھرتی۔ تاریخ کے کوڑے دان سے بیمار اور جانبدار بیانیہ کے بجائے ذکاوت ، دلیل اور ہماری خوبصورت اقدار میں گندھی ہوئی یہ دانی بینی پیڑھی حقیقی اور پائیدار بیانیوں میں یقین رکھتی ہے اور اس سے بڑھ کر لمبی زبانوں کو لگام دینا  بھی خوب جانتی ہے ۔

    جھلی چندا! خدا لگتی تو یہ ہے کہ چوہدراہٹ والی تو تو نے بونگی ہی ماری ہے۔ کس  گھر میں مسئلے نہیں ہوتے ؟ یہ گھر کے مسئلے ہیں اور گھر میں ہی حل ہو جائیں گے۔ان کے لیے پیٹ سے کپڑا اٹھا اٹھا کر جگ ہنسائی کا سامان فراہم کرنا نری بےوقوفی ہے۔

    میری مانو تو پرانوں شرانوں کے اشلوک چھوڑو اور قران سے لو لگاؤ کہ ہمارے لیے اصل راہنمائی وہیں سے پھوٹتی ہے۔ چاہو تو وقت نکال کر چائے کی پیالی پر مل بیٹھو کہ تبادلہ خیال تو ہو سکے۔  رہی شہہ تو وہ سرحد پار سے آرہی ہے نہ کہ مقامی کردار سے ۔ نہ جانے تمہاری معلومات ناقص ہیں یا تم جان کے گھنی بنی جاتی ہو۔

    باقی دلاری چندا ! دنیا تو دیکھ رہی ہے ۔۔ مان رہی ہے ۔۔ سرپھروں کی لازوال قربانی کو ۔۔ ذرا تم بھی آنکھیں کھول کر دیکھنے کی زحمت کر لو۔ تمہارے بے سر پیر کے "اولامے” پر تو میں اپنے دو عظیم ملکی شاعروں کی روح سے معذرت کے ساتھ اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ 

    "وہ جدھر بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا 
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں”

    (نوٹ: سفر میں ہونے کی وجہ سے موصوفہ کا کالم تاخیر سے دیکھا ورنہ نقد جواب چکا دیا جاتا۔)
    عاصمہ شیرازی کے جس کالم نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا اسے ذیل کے لنک سے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48103207?ocid=socialflow_facebook

  • تین کشمیریوں کی شہادت، شوپیاں میں مکمل ہڑتال

    تین کشمیریوں کی شہادت، شوپیاں میں مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں تین کشمیریوں کو بھارتی فوج نے گزشتہ روز شہید کیا آج شوپیاں میں مکمل ہڑتال کی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ کو شوپیاں اور پلوامہ میں مکمل ہڑتال رہی ، دکانیں بند رہیں، سڑکوں پر ٹریفک بھی نظر نہ آئی، تین کشمیریوں کی شہادت پر کشمیریوں نے آج ہفتہ کو بھرپور احتجاج کیا.اور بھارت سرکار کے خلاف نعرہ بازی کی.

    مقبوضہ کشمیر کے علاقے شوپیاں میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 3 کشمیریوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی. اس موقع پر عسکریت پسندوں نے شہیدوں کو سلامی دے کر بھارت سرکار کو پیغام دیا کہ کشمیری آزادی لے کر رہیں گے

    بھارتی فوج نے شوپیاں کے علاقے امام صاحب میں سرچ آپریشن کے د وران تین کشمیریوں کو شہید کیا تو کشمیری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے اور بھارتی فوج کے خلاف احتجاج کیا، اھتجاج کے دوران بھارتی فورسز نے کشمیری مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پہلے آنسو گیس کے شیل پھینکے کشمیری پھر بھی احتجاج کرتے رہے جس کے بعد بھارتی فوج نے کشمیریوں پر پیلٹ گن سے فائر کئے ،دوران احتجاج پیلٹ گن سے 17 کشمیری زخمی ہو گئے. جنہیں طبی امداد کے لئے سرینگر کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا .ایک زخمی کی شناخت مدثر احمد نامی ایک نوجوان کے طور ہوئی ہے جس کی ٹانگ میں گولی لگی ہے

  • وزیراعلیٰ کو تھپڑ پڑ گیا، بڑی خبر آ گئی

    وزیراعلیٰ کو تھپڑ پڑ گیا، بڑی خبر آ گئی

    نئی دلی کے وزیراعلیٰ کیجری وال کوریلی کے دوران تھپڑ پڑ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کے وزیر اعلی کیجری وال کو ریلی کے دوران تھپڑ مارا گیا ہے، تھپڑ لگنے پر ریلی میں افرا تفری مچ گئی، بھارتی پولیس نے تھپڑ مارنے والے کو گرفتار کر لیا ہے .

    بھارت میں یہ پہلا تھپڑ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے کانگریس کے رہنما کو بھی تھپڑ پڑ چکا ہے اس کو بھی تھپڑ الیکشن مہم کے دوران ایک جلسہ میں خطاب کے دوران پڑا ہے. کانگریس میں چند ماہ قبل شامل ہونے والے رہنما ہاردک پٹیل اپنی آبائی ریاست گجرات میں جلسہ سے خطاب کر رہے تھے کہ ایک شخص نے اسٹیج پر آ کر ان کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا، تھپڑ مارنے والے شخص کو سیکورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا ہے.

  • عمران خان کا لہجہ وزیراعظم کا نہیں کینٹینر والا ہے، شیریں رحمان

    عمران خان کا لہجہ وزیراعظم کا نہیں کینٹینر والا ہے، شیریں رحمان

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینٹر شیریں رحمان نے کہا ہے کہ عمران خان کا لہجہ اب بھی کنٹینروالاہے وزیراعظم والا نہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شیریں رحمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم معیشت اوراندرونی سیاسی بحران سےتوجہ ہٹانےکی کوشش نہ کریں ،عوام کی مہنگائی سےچیخیں نکال کرسیاسی بیان بازی کررہے ہیں. انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بڑھتی بیروزگاری کا اعتراف تشویشناک ہے،عمران خان عوام کورمضان سےقبل پیٹرول کی قیمت بڑھانےکی خبربھی سنا دیتے .انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ملکی مسائل کے حل کا کوئی پلان نہیں

  • سپریم کورٹ، آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ جاری

    سپریم کورٹ، آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ جاری

    سپریم کورٹ نےآیندہ ہفتے کا ججزروسٹراورکاز لسٹ جاری کردی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے چھ بینچ تشکیل دئیے گئے ہیں.چاربینچز اسلام آباد رجسٹری ، ایک لاہوراور ایک پشاور رجسٹری میں مقدمات سنے گا، سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق بینچ نمبر1 چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ،جسٹس سردارطارق ،جسٹس سجادعلی شاہ پرمشتمل ہوگا ،اعلامیہ کے مطابق بینچ نمبر2جسٹس عظمت سعید،جسٹس قاضی فائزعیسٰی ،جسٹس فیصل عرب پر مشتمل ہوگا ،اعلامیہ کے مطابق بینچ نمبر3 جسٹس مشیرعالم، جسٹس اعجازالاحسن ،جسٹس یحیٰٰ آفریدی پرمشتمل ہوگا ،اعلامیہ کے مطابق بینچ نمبر4 جسٹس عمرعطاءبندیال ،جسٹس مقبول باقر،جسٹس منیب اخترپرمشتمل ہوگا ،اعلامیہ کے مطابق لاہوررجسٹری میں بینچ جسٹس منظورملک،جسٹس منصورعلی شاہ ،جسٹس قاضی محمد امین پرمشتمل ہوگا ،اعلامیہ کے مطابق پشاوررجسٹری میں بینچ جسٹس گلزاراحمد اور جسٹس مظہرعالم پر مشتمل ہوگا ،آیندہ ہفتےاسکول فیس کیس، طیبہ تشدد کیس سنے جائیں گے