سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ کی مذمت ،دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوت کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان.
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے سیٹلائیٹ ٹاؤن مارکیٹ دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کا بھر پور مقابلہ کریں گے. پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے. انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا. یاد رہے کہ اس دھماکے میں اب تک چار پولیس اہلکاروں کی شہادت جبکہ سویلین سمیت 11 زخمی ہیں. انہوں نے زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی.
Blog
-

سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ کی مذمت ،دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوت کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال
-
کوئٹہ سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ میں شہید پولیس اہلکاروں کی تعداد چار ہو گئی
کوئٹہ دھماکہ، شہید پولیس اہلکاروں کی تعداد 4 ہو گئی سیٹلائیٹ ٹاؤن مین مارکیٹ میں موٹرسائیکل پر نصب بم کے پھٹنے سے ایک پولیس وین تباہ ہوگئی، جس میں 4 پولیس اہلکار شہید جبکہ میں پولیس و سویلین زخمیوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے.
گوادر پی سی ہوٹل کے حملے کے ٹھیک دو دن کوئٹہ میں حملہ ہو گیا. شہداء کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ. -

عارضی رہائشی ایکٹ کی خلاف ورزی پر لالہ موسیٰ میں متعدد افراد گرفتار
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی) گجرات پولیس نے عارضی رہائش ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیاتفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات سید علی محسن کی سربراہی میں گجرات پولیس نے عارضی رہائش ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ایس ایچ او تھانہ سٹی لالہ موسیٰ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کر کے پنجاب عارضی رہائش ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر ملزمان تنویر حسین ولد پیر ادتہ قوم موچی سکنہ کرنانہ، حاجی عنصر سکنہ چوہدری پٹرولیم،رفاقت علی سکنہ لالہ موسیٰ اور شہباز بٹ سکنہ تلہ کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرلئے۔مزید بھکاریوں کے خلاف کارروائی کرکے غلام قادر عر ف ملنگی سکنہ لالہ موسیٰ اورنغمہ بیوہ اللہ رکھا سکنہ گھوٹکی کو گداگری کرتے ہوئے گرفتار کرکے پنجاب ویگرنسی آرڈیننس 1958کے تحت ا لگ الگ مقدمات درج کرلئے
-
کوئٹہ سیٹلائیٹ ٹاؤن میں دھماکہ، 6 پولیس کے جوان زخمی
کوئٹہ سیٹلائیٹ ٹاؤن مارکیٹ میں ایک دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے. دھماکہ سے ایک پولیس وین کو بھی نقصان پہنچا ہے.
سیکورٹی فورسز نے پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے. زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ایمرجنسی لگ چکی ہے.
دھماکہ کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی. سیٹلائیٹ ٹاؤن کو کوئٹہ کا حساس ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے. -

پانی انسان کے لیے کتنا ضروری ہے؟؟؟ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ
جسمانی ٹشوز کے وزن کا ٪ 70 پانی ہوتا ہے اور پروٹو پلازم کا لازمی جزو ہے۔ خوراک کے بغیر انسان 15 یوم تک زندہ رہ جاتا ہے مگر پانی کے بغیر انسان 48 گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ایک خاص واقعہ ہو سکتا ہے۔
یہ ہمارے جسمانی نظام کے لئے بے حد اہم ہے۔
یہ خوراک ہضم کرنے اور ہضم شدہ غذاء اور دوسرے بے شمار مادوں کو مائع حالت میں ترسیل میں مدد دیتا ہے۔

ہمارے جسم میں ہونے والے تمام کیمیائی عوامل پانی کی موجودگی میں محلول (سلوش فارم) میں ہوتے ہیں۔
انسانی جسم میں پانی پینے سے اور بعض غذائیں مائع حالت میں لینے سے حاصل ہوتا ہے۔
اسی طرح جسم سے فاسد مادوں پیشاب اور فضلہ کا اخراج، جلد اور پھیپھڑوں کے راستے سے بھی دن میں 2 سے 3 لیٹر پانی خارج ہوتا ہے جسکی کمی پانی پینے سے پوری ہوتی ہے۔
اسکے علاوہ دیگر انزائمز بھی پانی کی موجودگی ہی میں فعال ہوتے ہیں۔
پانی خون کو پتلا رکھتا ہے جسکی وجہ سے یہ جسم کے ہر سیل تک پہنچتا ہے.
پانی جسم کے درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتا ہے.
پانی کی کمی سے ڈی ہائیڈریشن ہو جاتی ہے جو مہلک ثابت ہو سکتی ہے.
سبز پودوں میں فوٹو سینتھیسز کا عمل اسکے بغیر ممکن نہیں.
انسانی جسم کیلئے پانی کی مقدار کا انحصار کسی انسان کی سر گرمیوں اور ماحولیاتی حالات پر ہوتا ہے.
ایسے لوگ جو گرم اور خشک علاقوں میں رہتے ہیں انہیں پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے.
اسی طرح سانس لینے پسینہ اور پیشاب کے اخراج سے جسم سے پانی کا اخراج ہوتا رہتا ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک عام نارمل اور صحت مند بالغ انسان کو تقریباً 3 لیٹر پانی کی دن بھر میں اوسطاً ضرورت ہوتی ہے۔ -

گجرات میں بادلوں کے ڈیرے، ٹھنڈی ہواؤں کا راج
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی) گجرات اور گردونواح میں سرشام آسمان پر بادلوں کے ڈیرے، ٹھنڈی ہواؤں سے موسم خوشگوار تفصیلات کے مطابق سرشام گجرات اور گردونواح میں آسمان پر بادلوں نے ڈیرے جما لئے جس کی وجہ سے ٹھنڈی ہوائیں چل پڑی اور موسم خوشگوار ہوگیا گجرات میں روزہ داروں نے ٹھنڈے ماحول میں روزہ افطار کیا اور اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ کل کا روزہ بھی خوشگوار موسم میں گزرے گا۔
-

ساہیوال:رات گئے پولیس کو سرچ آپریشن کرنا پڑا
ساہیوال:ڈی پی او ساہیوال کیپٹن ر محمد علی ضیاء کی ہدایت پر تھانہ فرید ٹاؤن پولیس کا مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن،
کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنےوالے مالکان و کرایہ داران کے خلاف 4 مقدمات درج کر کے گرفتار کرلیا گیا،
انسپکٹر عابد حسین بھلہ ایس ایچ او فرید ٹاؤن کا کہنا تھا کہ ہر وہ شخص جو اپنا مکان, دوکان ,پلاٹ یا زرعی رقبہ کرایہ پر دے،اس کا اندراج فوری تھانہ میں کروائےوگرنہ بلا تفریق قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، -
دو ہفتوں کے دوران 42 خطرناک اشتہاریوں سمیت 132 ملزمان گرفتار
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کے احکامات کے تحت پنجاب بھر میں جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کریک ڈاون کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور صوبہ بھر سے بڑی تعداد میں اشتہاری ملزمان اور منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اسی سلسلہ میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صادق علی ڈوگر کی سربراہی میں ضلعی پولیس نے گزشتہ دو ہفتوں میں 132 خطرناک اشتہاری ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار اشتہاری ملزمان میں سے 42 کا تعلق اے کیٹگری سے ہے جبکہ90 اشتہاریوں کا شمار بی کیٹگری میں ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیوں کے نتیجے میں بھی 45 مقدمات درج کر کے6.872کلوگرام چرس اور527 لیٹر شراب برآمد کر کے45 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف 42 مقدمات درج کر کے02 عدد کلاشنکوف، 2 بارہ بور بندوق، 3 رائفل،1کاربین سمیت30 بور کے 34 پسٹل معہ 54 کارتوس برآمد کر کے قبضہ میں لئے گئے اور مجموعی طور پر 42 ملزمان کو گرفتار کر لیاگیا۔ اس موقع پرڈی پی او مظفرگڑھ نے کہا کہ ضلع کو جرائم سے پاک کر نے اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام و سائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ڈی پی اوصادق علی ڈوگر نے کہا ہے کہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کے ویژن کے تحت طے شدہ ایس او پیز کے مطابق ضلع بھر میں سرچ آپریشنز اور چیکنگ کا عمل جاری ہے اور عوام کی جان ومال اور عزت و آبرو کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ضلع کو جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر سے پاک کر نے کی مہم تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کے خلاف جاری مہم کو کامیاب بنانے کے لئے آئی جی پنجاب کے احکامات پر کریک ڈاؤن کے لئے تشکیل دی گئی ٹیموں کی نگرانی میں خود کر رہا ہوں اور خاص طور پر اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دوران آپریشن قانون پسند شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔