Baaghi TV

Blog

  • صدر ٹرمپ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی پر تنقید

    صدر ٹرمپ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی پر تنقید

    امریکی صدر ٹرمپ نے اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا،جبکہ ٹرمپ ماضی میں اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کی تعریف کرتے رہے ہیں ۔

    ٹرمپ نے کہا میرے تبصرے نہیں ، جارجیا میلونی خود ناقابلِ قبول ہیں کیوں کہ میلونی کو فکر نہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں یا نہ ہوں، میلونی کو یہ بھِی فکر نہیں کہ ایران کو اگر موقع ملے تو وہ دو منٹ میں اٹلی کو تباہ کردے گا ۔

    واضح رہے کہ ٹرمپ کی یہ تنقید اس وات سامنے آئی جب گزشتہ روز جارجیا میلونی نے اسرائیل کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فوجی سازوسامان کے تبادلے اور ٹیکنالوجی تحقیق شامل تھی۔

    اٹلی کی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے اور کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیاانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا نہایت اہم ہے، جو نہ صرف ایندھن بلکہ کھاد کی فراہمی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے-

    اس کے علاوہ امریکی صدر نے پوپ لیو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ پوپ لیو کو ایران کے ایٹمی خطرے کا کوئی علم نہیں، پوپ کو جنگوں پر بات نہیں کرنی چاہیے، پوپ کو پتا ہی نہیں ہے کہ دنیا میں ہو کیا رہا ہے؟

  • ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ایران امریکا مذاکرات کامیاب ہوئے تو ٹرمپ دستخط کیلئے خود پاکستان آئیں گے؟

    ماہرین اور سابق سفارتکاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب رہی تو یہ پیش رفت ایک بڑے معاہدے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

    چیئرمین پاکستان چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو ڈونلڈ ٹرمپ خود معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے پاکستان آئیں گے، امریکی صدر یہ ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپیں گے،اس ممکنہ پیش رفت کی صورت میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی پاکستان آمد بھی متوقع ہو سکتی ہے-

    سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے بھی مذاکرات کے اگلے مرحلے کے بارے میں پُرامید مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے راؤنڈ سے مثبت نتائج برآمد ہونے کا امکان ہے، جس سے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ مذاکرات بھی پاکستان ہی میں ہونے کو ترجیح قرار دیا ہے،انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کاوشوں کو بھی سراہا ہے،ایک امریکی اخبار سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہو سکتی ہے ، مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب زیادہ موزوں دکھائی دیتا ہے-

  • ننکانہ صاحب میں وساکھی میلہ کی رنگا رنگ تقریبات کا آغاز، دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتریوں کی آمد

    ننکانہ صاحب میں وساکھی میلہ کی رنگا رنگ تقریبات کا آغاز، دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتریوں کی آمد

    ننکانہ صاحب میں وساکھی میلے کی تقریبات کا آغاز اکھنڈ پاٹ کی رسم سے ہو گیاضلعی انتظامیہ کی جانب سے لنگر ، رہائش، صفائی ستھرائی اور سکیورٹی کے بہترین انتظامات دنیا بھر سے سکھ یاتری وساکھی تہوار میں شرکت کے لیے ننکانہ صاحب تشریف لا رہے ہیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گورونانک کی دھرتی پر آنے والے مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا جا رہا ہےدنیا کے مختلف ممالک سے 08 ہزار سے زائد سکھ یاتری میلے کی تقریبات میں شرکت کریں گے بھارت سے 28 سو سے زائد سکھ یاتری آج واہگہ بارڈر کے زریعے ننکانہ صاحب پہنچیں گےننکانہ صاحب میں وساکھی میلے کی تقریبات 12 اپریل تک جاری رہیں گی سکھ یاتریوں کی حفاظت کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے 04 ہزار افسران و اہلکاران سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور شہر بھر سمیت گوردوارہ جات کی سی سی ٹی وی کیمروں سے کڑی نگرانی جاری میلے کی تقریبات میں شرکت کرنے والے سکھ یاتری پاکستان سے اچھی یادیں لے کر جائیں گےپاکستان پرامن ملک ہے جہاں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے.

  • ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل چاہتے ہیں، جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جیمز ڈیوڈ (جے ڈی) وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی چھوٹے موٹے سمجھوتے کے بجائے ایک بڑا اور جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    جے ڈی وینس نے بدھ کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو چھ سات دن ہو چکے ہیں اور یہ اب بھی برقرار ہے،اگر ایران ایک نارمل ملک کی طرح رویہ اپنانے پر راضی ہو جائے تو امریکا اس کے ساتھ معاشی تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن واشنگٹن کی بنیادی پالیسی تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔

    جے ڈی وینس نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی تھی، تاہم جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا گزشتہ 49 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس قدر اعلیٰ سطح پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔

    وینس نے اعتراف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں کا عدم اعتماد ایک رات میں دور نہیں ہو سکتا، لیکن انہیں یقین ہے کہ مذاکرات کی میز پر دوسری طرف بیٹھے ایرانی حکام بھی ڈیل چاہتے تھے اگر ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا عہد کرے تو امریکا اسے معاشی طور پر ترقی دینے میں مدد کرے گا، تاہم وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو اپنی پراکسیوں کی مالی معاونت سے بھی روک دے۔

    تقریب کے دوران نائب صدر کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب مظاہرین نے ان کی تقریر میں خلل ڈالا ایک شخص نے نعرہ لگایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے، جس پر وینس نے جواب دیا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی نسل کشی کی حمایت نہیں کریں گے۔

    انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ صدر ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کیے اور ان کی انتظامیہ نے یہ مسئلہ حل کیا ہے وینس نے نوجوان ووٹرز کی مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے ناراضی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر وہ کسی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں تو انہیں الگ تھلگ ہونے کے بجائے عمل میں مزید شامل ہونا چاہیے تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے۔

    جے ڈی وینس نے پوپ لیو کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ سیا سی رہنماؤں کو کبھی تلوار یا طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نازیوں سے فرانس کو آزاد کروانے والے امریکیوں کے ساتھ خدا نہیں تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کا جواب یقیناً ہاں میں ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اور کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو کے درمیان ایران کے خلاف جنگی دھمکیوں پر لفظی جنگ جاری ہے،اس تمام صورتحال میں امریکی کیمپ سے مثبت اشارے مل رہے ہیں اور صدر ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا ہے کہ آنے والے دنو ں میں اسلام آباد میں مزید مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

  • ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور،  امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، سی این این

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں امریکی وفد کی قیادت امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔

    سی این این کی خبر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی ممکنہ دوسرے اجلاس میں شریک ہوں گے یہ دونوں شخصیات جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہی تھیں-

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی ذمہ داری اپنے 3 قریبی مشیروں کو سونپی ہے اور وہ اب بھی ان پر اعتماد رکھتے ہیں، جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر حالیہ دنوں میں ایرانی حکام اور ثالثوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں تاکہ کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے،امریکی حکام ممکنہ دوسرے اجلاس کی تفصیلات پر غور کر رہے ہیں، تاہم منگل کی شام تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ملاقات واقعی ہوگی یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آئندہ دو دنوں میں پاکستان میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم سی این این کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ مستقبل کے مذاکرات زیر غور ہیں، تاہم فی الحال کسی بھی ملاقات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔

  • جوئے کے اڈے پر جعلی کرنسی پر لڑائی،تشدد،مار مار کر پولیس کے حوالے

    جوئے کے اڈے پر جعلی کرنسی پر لڑائی،تشدد،مار مار کر پولیس کے حوالے

    قصور
    کوٹ بلوچاں، علیگڑھ کے علاقے میں حدود تھانہ بی ڈویژن کے اندر مبینہ طور پر جوئے کے دوران جعلی کرنسی کے استعمال پر جھگڑا شدت اختیار کر گیا جس کے نتیجے میں ایک محنت کش شخص کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا
    ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب جوئے کی محفل میں جعلی نوٹوں کے استعمال کا انکشاف ہوا جس پر شرکاء کے درمیان تلخ کلامی جھگڑے میں بدل گئی
    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لاڑی قصائی، طیب گجر اور علی نامی افراد نے فیکٹری میں کام کرنے والے ایک شخص کو مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث اس کی پسلیاں ٹوٹ گئیں
    مذید بتایا گیا ہے کہ زخمی شخص کو طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے ملزمان نے اسے اٹھا کر پولیس کے حوالے کر دیا جبکہ واقعہ کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا
    اہلیانِ علاقہ نے اس واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں جاری جوئے کے اڈوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے
    شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور زخمی شخص کو انصاف فراہم کیا جائے
    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو ایسے واقعات میں مذید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے

  • ترکیہ کے اسکول میں فائرنگ، 16 افراد زخمی

    ترکیہ کے اسکول میں فائرنگ، 16 افراد زخمی

    ‎ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک ہائی اسکول میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے نے خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں ایک مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ سے کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد حملہ آور نے خود کو بھی گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
    ‎غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ صوبہ شانلی عرفہ کے علاقے سیورک میں واقع ایک ووکیشنل ہائی اسکول میں پیش آیا، جہاں 18 سالہ سابق طالب علم شاٹ گن لے کر داخل ہوا اور فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے بعد وہ اسکول کی عمارت میں چھپ گیا، تاہم بعد میں اسی ہتھیار سے خودکشی کر لی۔
    ‎گورنر حسن شلداک کے مطابق زخمیوں میں 10 طلبا، 4 اساتذہ، کینٹین کا ایک ملازم اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق بیشتر زخمیوں کو مقامی اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے، جبکہ 5 شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے صوبائی دارالحکومت منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎واقعے کے فوراً بعد اسکول میں موجود تمام طلبا کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا اور پولیس کے خصوصی دستے موقع پر پہنچ گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال کو کنٹرول میں لیا اور بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
    ‎تاحال حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس افسوسناک واقعے کے محرکات سامنے لائے جا سکیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایسے واقعات تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں اور اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ طلبا کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔

  • حملوں سے 270 ارب ڈالر کا نقصان: ایران

    حملوں سے 270 ارب ڈالر کا نقصان: ایران

    ایرانی حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران کو ہونے والے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 270 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں اور اصل نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں کے باعث ملک کے مختلف شعبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، توانائی اور دیگر اہم تنصیبات شامل ہیں۔ ان کے مطابق نقصانات کی مکمل تفصیلات کا جائزہ ابھی جاری ہے۔
    ‎ترجمان نے مزید کہا کہ ان نقصانات کے ازالے کا معاملہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں بھی بات چیت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس معاملے کو سنجیدگی سے اٹھا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس کا مناسب حل نکالا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر یہ تخمینہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ حالیہ کشیدگی کے دوران ہونے والے بڑے معاشی نقصانات میں شمار ہوگا، جس کے اثرات ایران کی معیشت پر طویل مدت تک پڑ سکتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نقصانات کے ازالے کا مطالبہ آئندہ مذاکرات میں ایک اہم نکتہ بن سکتا ہے، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

  • چین کا امریکا کو جواب، ایران کو فوجی مدد کا الزام مسترد

    چین کا امریکا کو جواب، ایران کو فوجی مدد کا الزام مسترد

    ‎چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکا کی جانب سے ایران کو فوجی مدد فراہم کرنے کے الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس قسم کے دعوؤں کو من گھڑت سمجھتا ہے اور اپنی پالیسیوں پر قائم ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ اسلحہ برآمدات کے حوالے سے انتہائی محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتا ہے اور تمام فیصلے اپنے قومی قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پر لگائے گئے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
    ‎چینی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ان الزامات کو جواز بنا کر چین پر ٹیرف میں اضافہ کیا تو بیجنگ اس کا بھرپور جواب دے گا۔ ترجمان کے مطابق چین اپنے اقتصادی اور تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ چین عالمی سطح پر امن اور استحکام کا حامی ہے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرتا ہے جو کشیدگی میں اضافہ کرے۔ ان کے مطابق اسلحہ کی برآمدات پر چین سخت کنٹرول رکھتا ہے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہ ہو۔
    ‎ماہرین کے مطابق چین اور امریکا کے درمیان اس نوعیت کے بیانات دونوں بڑی طاقتوں کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی حساس ہے۔

  • ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے

    ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے

    ‎ایران کی عدلیہ نے ویمن فٹبال ٹیم کی کپتان زہرا غنبری کے ضبط شدہ اثاثے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے تنازع کے بعد ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ زہرا غنبری کے رویے میں تبدیلی اور ان کی بے گناہی کے اعلان کے بعد کیا گیا۔ عدالتی حکام کے مطابق ان کے خلاف عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور ان کے اثاثے واپس کر دیے گئے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق زہرا غنبری اُن چھ کھلاڑیوں میں شامل تھیں جنہوں نے رواں سال مارچ میں آسٹریلیا میں ہونے والے ایشین کپ کے دوران سیاسی پناہ لینے کی درخواست دی تھی۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ ایران واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے آغاز کے بعد بعض کھلاڑیوں کو ’غدار‘ قرار دے کر ان کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے، جن میں زہرا غنبری بھی شامل تھیں۔
    ‎یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایشین کپ کے دوران ایرانی ٹیم کے قومی ترانہ نہ پڑھنے کے عمل کو بعض حلقوں نے حکومت کے خلاف احتجاج سے تعبیر کیا تھا، جس کے بعد کھلاڑیوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں جب ٹیم نے ترانہ پڑھا تو اس پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
    ‎ماہرین کے مطابق زہرا غنبری کے اثاثوں کی بحالی اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران میں کھیل اور سیاست کے درمیان تعلقات پیچیدہ ہیں، اور ایسے معاملات میں کھلاڑی اکثر دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔