Baaghi TV

Blog

  • امریکا کا بحری ناکہ بندی کا اعلان،تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

    امریکا کا بحری ناکہ بندی کا اعلان،تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان سامنے آیا ہے۔

    برینٹ کروڈ، اتوار کے روز 8 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا یہ پہلی بار ہے کہ قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر گئی ہے، اس سے قبل گزشتہ ہفتے قیمتیں 92 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تھیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کے داخل یا خارج ہونے والے تمام بحری جہازوں کو روک دے گی۔

    تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی، ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا،جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 17 رہ گئی ہے۔

    امریکا کے اس اعلان کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی، جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس 0.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایک فیصد سے زائد گر گیا، امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے

  • مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    مذاکرات میں ناکامی: ٹرمپ کا ایران کے خلاف فضائی کارروائی پر غور، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود فضائی حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔

    امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران اس حوالے سے مختلف حکمت عملیوں کا جائزہ لے رہے ہیں امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ مذاکرات میں تعطل کے بعد ایران کے خلاف محدود نوعیت کے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے جائیں، جبکہ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھا جائے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ اقدام کو ایران پر دباؤ بڑھانے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کے طریقہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی بمباری کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، تاہم اس آپشن کو کم ترجیح دی جا رہی ہے،ایک اور زیر غور آپشن یہ ہے کہ امریکا وقتی نوعیت کی ناکہ بندی برقرار رکھے اور اپنے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے طویل المد تی فوجی حفاظتی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بڑے پیمانے پر حملے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ ماضی میں طویل فوجی تنازعات سے گریز کی پالیسی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

  • آج 10 بجے سے  آبنائے ہرمز میں  ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    آج 10 بجے سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے،ہم ناکہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ایران تیل نہ بیچ سکے اور اس عمل کا آغاز آج صبح سے ہو رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ناکہ بندی کے باقاعدہ وقت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی وقت کے مطا بق آج صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی آمدورفت بند کر دی جائے گی۔

    سینٹ کام کے مطابق، اس ناکہ بندی کا اطلاق تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے، تاہم سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو جہاز خلیج اور بحیرہ عمان کی دیگر غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے، انہیں نہیں روکا جائے گااس حوالے سے تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی نقل و حمل کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایران بلکہ اپنے اتحادیوں اور مذہبی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاانہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے کردار سے بہت مایوس ہو چکے ہیں اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے مسیحی پیشوا پوپ لیو پر غیر معمولی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں کمزور اور خوفناک قرار دے دیا، جرم کے معاملات میں پوپ لیو کا رویہ بہت نرم ہے اور وہ ان کے مداح نہیں ہیں۔

    دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کی نیوی کو سمندر میں ڈبونے اور اب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھے گا، جس سے اسے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے-

  • جنگ کے بعد امریکہ نے جنگ بندی کی درخواست کی: ایران


    جنگ کے بعد امریکہ نے جنگ بندی کی درخواست کی: ایران


    ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی قیادت کے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران شدید دباؤ اور حملوں کے بعد امریکا نے بالآخر جنگ بندی کی کوششیں شروع کر دیں۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ محمود نبویان کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں مخالف فریق کسی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکا اور چند دنوں کے اندر ہی صورتحال بدلنا شروع ہو گئی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 10 سے 15 دن کی شدید لڑائی کے بعد مخالفین کو احساس ہوا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پا رہے، جس کے بعد جنگ بندی کے مطالبات سامنے آنا شروع ہوئے۔ نبویان کے مطابق مختلف ممالک کے رہنماؤں نے بھی جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کی۔
    ‎ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایران سے رابطہ کیا اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے پیغامات پہنچائے۔ ان کے مطابق یہ پیغامات بالواسطہ طور پر مختلف ذرائع سے منتقل کیے گئے جن میں پاکستان کا کردار بھی شامل تھا۔
    ‎نبویان کے مطابق ایران نے فوری طور پر ان درخواستوں کا جواب نہیں دیا بلکہ اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے دباؤ اور مسلسل حملوں نے مخالفین کے منصوبے ناکام بنا دیے، جس کے باعث انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
    ‎انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ذریعے امریکا کے پیغامات تقریباً دو ہفتے قبل پہنچائے گئے تھے، تاہم ایران نے محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے فوری ردعمل سے گریز کیا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

  • اسپین نے گولڈن ویزا اسکیم ختم کر دی، نئی پالیسی کا اعلان

    اسپین نے گولڈن ویزا اسکیم ختم کر دی، نئی پالیسی کا اعلان

    ‎یورپی ملک اسپین نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے متعارف کرائی گئی مشہور گولڈن ویزا اسکیم ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت جائیداد خرید کر رہائش حاصل کی جا سکتی تھی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کی جانب سے اس قسم کی اسکیموں پر مسلسل تنقید کی جا رہی تھی۔
    ‎اس اسکیم کے تحت غیر ملکی شہری کم از کم پانچ لاکھ یورو کی پراپرٹی خرید کر اسپین میں رہائش کی اجازت حاصل کر سکتے تھے۔ گزشتہ چند برسوں میں اس پروگرام کے ذریعے ہزاروں افراد نے اسپین میں سرمایہ کاری کر کے وہاں قیام حاصل کیا، تاہم اب حکومت نے اس راستے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎اسپین کی حکومت کے مطابق اس فیصلے کی بڑی وجہ بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی ہاؤسنگ بحران ہے۔ بارسلونا اور میڈرڈ جیسے شہروں میں جائیداد کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مقامی شہریوں کے لیے گھر خریدنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی رہائش کی کمی تھی۔
    ‎نئی قانون سازی کے تحت اب غیر ملکی افراد جائیداد خرید کر اسپین میں رہائش حاصل نہیں کر سکیں گے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ دیگر ویزا آپشنز بدستور موجود ہیں۔ ان میں ڈیجیٹل نومیڈ ویزا، ماہر پیشہ ور افراد کے لیے خصوصی پروگرامز، کاروباری افراد کے لیے انٹرپرینیور ویزا اور نان لوکریٹو ویزا شامل ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اسپین کی معیشت اور ہاؤسنگ مارکیٹ کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کم ہوگا اور مقامی آبادی کے لیے رہائشی سہولیات بہتر ہونے کا امکان ہے۔ ساتھ ہی یہ پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسپین اب ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہا ہے جو طویل المدتی اور حقیقی معاشی ترقی کا باعث بنے۔
    ‎یہ پیش رفت ان افراد کے لیے اہم ہے جو یورپ میں رہائش کے خواہاں ہیں، کیونکہ اب انہیں نئے قوانین اور متبادل راستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔

  • بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، عالمی کشیدگی نے مارکیٹ ہلا دی

    بٹ کوائن کی قیمت میں کمی، عالمی کشیدگی نے مارکیٹ ہلا دی

    ‎کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اچانک مندی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات بغیر کسی حتمی نتیجے کے ختم ہو گئے، جس کے بعد عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق 11 اپریل کو بٹ کوائن تقریباً 72 ہزار 974 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا جبکہ مذاکرات کے دوران اس کی قیمت عارضی طور پر 73 ہزار ڈالر تک بھی پہنچی۔ اس سے قبل بٹ کوائن 74 ہزار ڈالر کے قریب بھی جا چکا تھا، تاہم جیسے ہی مذاکرات کے بغیر معاہدے کے ختم ہونے کی خبر سامنے آئی، مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور قیمت نیچے آنا شروع ہو گئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس اچانک تبدیلی کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور خدشات ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے عالمی مالیاتی ماحول کو متاثر کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے فروخت شروع کر دی۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کمی کے پیچھے بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت اور ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز سے سرمایہ نکالنا بھی اہم عوامل قرار دیے جا رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بٹ کوائن کی قیمت مزید نیچے جا سکتی ہے اور بعض اندازوں کے مطابق یہ 63 ہزار ڈالر تک بھی گر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ عالمی سیاسی حالات سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے، اس لیے کسی بھی بڑی خبر کا فوری اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
    ‎ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جذباتی فیصلوں سے گریز کریں اور مارکیٹ کی صورتحال کا بغور جائزہ لے کر سرمایہ کاری کریں۔ موجودہ حالات میں احتیاط ہی بہترین حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔

  • پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، سعودی عرب سمیت اہم ممالک کو مذاکرات پر بریفنگ

    پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، سعودی عرب سمیت اہم ممالک کو مذاکرات پر بریفنگ

    ‎پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات کی پیشرفت سے سعودی عرب سمیت اہم دوست ممالک کو آگاہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہیں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
    ‎اسحاق ڈار نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے معاہدوں کی پاسداری نہایت ضروری ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
    ‎اس کے علاوہ نائب وزیر اعظم نے ترکیہ کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ اسی طرح مصر کے وزیر خارجہ سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات شیئر کی گئیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے مختلف اہم ممالک کو بریفنگ دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اس معاملے میں فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نہ صرف مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے بلکہ اس کے نتائج کو عالمی سطح پر ہم آہنگ کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

  • لاہور میں مہنگائی کا طوفان، سبزیاں اور گوشت عوام کی پہنچ سے باہر

    لاہور میں مہنگائی کا طوفان، سبزیاں اور گوشت عوام کی پہنچ سے باہر

    ‎لاہور میں روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق سبزیوں اور گوشت کی قیمتیں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ عام آدمی کے لیے خریداری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
    ‎مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح لہسن کی سرکاری قیمت 550 روپے مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں یہ 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ ادرک کی قیمت بھی کنٹرول سے باہر نظر آتی ہے، جہاں سرکاری نرخ 285 روپے ہیں مگر مارکیٹ میں یہ 350 روپے فی کلو دستیاب ہے۔
    ‎پیاز کی صورتحال بھی مختلف نہیں، سرکاری قیمت 62 روپے فی کلو ہونے کے باوجود مارکیٹ میں یہ 70 سے 75 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سبز مرچ کی قیمت میں سب سے زیادہ فرق دیکھا گیا ہے، جہاں سرکاری نرخ 105 روپے ہیں لیکن شہریوں کو یہ 180 روپے فی کلو خریدنا پڑ رہی ہے۔
    ‎شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹماٹر جیسی بنیادی سبزی بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے اور حکومت فوری اقدامات کرے تاکہ قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔
    ‎دوسری جانب دکانداروں کا مؤقف ہے کہ ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث قیمتیں بڑھانا مجبوری بن گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر اخراجات کم ہوں تو وہ بھی سستی اشیا فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔
    ‎صرف سبزیاں ہی نہیں بلکہ گوشت کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت 595 روپے ہے جبکہ مارکیٹ میں یہ 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ مٹن کی سرکاری قیمت 1600 روپے ہونے کے باوجود مارکیٹ میں 3000 سے 3300 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

  • ڈی آئی خان میں زہریلا حلوہ کھانے سے 3 بچے جاں بحق

    ڈی آئی خان میں زہریلا حلوہ کھانے سے 3 بچے جاں بحق

    ‎ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر مضر صحت حلوہ کھانے سے تین کمسن بچے جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق بچے ایک ایسے مقام پر موجود تھے جہاں جنگل کے قریب حلوہ رکھا ہوا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچوں نے وہی حلوہ کھا لیا جس کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی۔ متاثرہ خاندان پہاڑی علاقے میں مزدوری کے سلسلے میں مقیم تھا، جہاں سہولیات کی کمی کے باعث بروقت طبی امداد بھی ممکن نہ ہو سکی۔
    ‎واقعے کے بعد بچوں کو بچانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حلوہ وہاں کیسے پہنچا اور آیا اس میں کوئی زہریلا مادہ شامل تھا یا نہیں۔
    ‎یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مضر صحت خوراک کے باعث بچوں کی اموات کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس نے خوراک کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو غیر محفوظ یا نامعلوم جگہوں پر رکھی اشیاء کھانے سے روکیں، جبکہ حکام کو بھی چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کریں۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معمولی سی لاپرواہی بھی قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے احتیاط اور بروقت اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

  • آبنائے ہرمز کے قریب جنگی جہاز پر سخت کارروائی ہوگی، ایرانی پاسداران کا انتباہ

    آبنائے ہرمز کے قریب جنگی جہاز پر سخت کارروائی ہوگی، ایرانی پاسداران کا انتباہ

    ‎ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جنگی جہاز کی اس حساس سمندری علاقے کے قریب موجودگی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
    ‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی بحریہ کے کنٹرول اور جدید نظام کے تحت منظم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
    ‎بیان میں واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز غیر فوجی اور تجارتی جہازوں کے لیے مخصوص ضوابط کے تحت کھلی ہے، تاہم کسی بھی فوجی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایران کا یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز میں سرگرمیوں کو بڑھانے کے اشارے دیے جا رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے اور کسی بھی غلط قدم سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔