Baaghi TV

Blog

  • شاہد آفریدی کی ایران امریکا جنگ بندی پر پاکستان کی سفارتکاری کو سراہا

    شاہد آفریدی کی ایران امریکا جنگ بندی پر پاکستان کی سفارتکاری کو سراہا

    ‎پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اہم پیغام جاری کیا ہے۔
    ‎دنیا بھر میں جہاں اس جنگ بندی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، وہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی کو خراج تحسین پیش کر رہی ہیں۔
    ‎شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام امن کا دین ہے اور اسی لیے پاکستان ایک پیس میکر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی کامیاب ثالثی پر مبارکباد دیتے ہوئے “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ بھی بلند کیا۔
    ‎سابق کپتان کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خوش آئند ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے ذریعے مستقل امن کی راہ ہموار ہوگی۔
    ‎واضح رہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا نے 39 روز سے جاری کشیدگی کو کم کرتے ہوئے 15 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 10 اپریل سے اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ امن مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ کردار عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے اور اسے ایک مؤثر سفارتی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

  • سلمان خان کو راجستھان ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    سلمان خان کو راجستھان ہائیکورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    ‎بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان کو راجستھان ہائیکورٹ سے ایک اہم قانونی ریلیف حاصل ہوا ہے، جہاں عدالت نے گمراہ کن اشتہار سے متعلق کیس میں ان کے خلاف جاری قابلِ ضمانت وارنٹ معطل کر دیے ہیں۔
    ‎بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کیس ‘راج شری پان مصالحہ’ کے اشتہار سے متعلق تھا، جس میں سلمان خان سمیت دیگر شخصیات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ عدالت نے نہ صرف وارنٹ معطل کیے بلکہ متعلقہ پروڈکٹ کے اشتہار پر عائد پابندی کو بھی وقتی طور پر روک دیا ہے۔
    ‎یہ فیصلہ جسٹس انوپ سنگھ پر مشتمل سنگل بینچ نے سلمان خان اور کمپنی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے بعد سنایا۔ درخواست میں ڈسٹرکٹ کنزیومر کمیشن اور اسٹیٹ کمیشن کے ان احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا جن کے تحت اشتہار پر پابندی اور اداکار کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔
    ‎سماعت کے دوران سلمان خان کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ شکایت گزار یوگیندر سنگھ خود کو سماجی کارکن ظاہر کرتے ہیں لیکن وہ اس پروڈکٹ کے صارف نہیں ہیں، اس لیے ان کی درخواست قانونی بنیادوں پر کمزور ہے۔ مزید یہ کہ اشتہار میں دکھایا گیا آئٹم پان مصالحہ یا گٹکا نہیں بلکہ چاندی کے ورق سے مزین الائچی ہے، جس پر پابندی لگانا غیر قانونی قرار دیا گیا۔
    ‎وکلاء نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ اس نوعیت کے معاملات مرکزی کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، نہ کہ مقامی کمیشن کے۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد نچلی عدالتوں کے تینوں احکامات کو معطل کر دیا۔
    ‎واضح رہے کہ شکایت گزار نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ راج شری پان مصالحہ کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور سلمان خان کو اس کی تشہیر سے روکا جائے، تاہم فی الحال ہائیکورٹ کے فیصلے سے اداکار کو بڑا ریلیف مل گیا ہے۔

  • ٹرمپ نے ایران کا امن منصوبہ مسترد کر دیا

    ٹرمپ نے ایران کا امن منصوبہ مسترد کر دیا

    وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی شرائط کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے غیر سنجیدہ قرار دیا ہے۔
    ‎وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیا گیا 10 نکاتی امن منصوبہ صدر ٹرمپ نے “ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا” کیونکہ وہ امریکی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر غیر سنجیدہ تھا اور قابل قبول نہیں تھا۔
    ‎ترجمان کے مطابق بعد میں ایران نے ایک مختصر اور ترمیم شدہ منصوبہ پیش کیا، جو امریکی 15 نکاتی تجویز کے قریب تر تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اصل مذاکرات بند کمروں میں ہو رہے ہیں اور عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات حقیقت سے مختلف ہو سکتی ہیں۔
    ‎کیرولین لیویٹ نے کہا کہ یہ تصور کرنا کہ صدر ٹرمپ ایران کی شرائط کو جوں کا توں قبول کر لیں گے، مکمل طور پر غلط ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران عوامی سطح پر کچھ اور اور نجی مذاکرات میں کچھ اور مؤقف اختیار کر رہا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی واضح شرائط میں ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہ دینا شامل ہے، کیونکہ یہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت فراہم کر سکتی ہے۔
    ‎یاد رہے کہ ایران نے اپنے 10 نکاتی منصوبے میں امریکی فوجی اڈوں کے انخلا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے جیسے مطالبات شامل کیے تھے، تاہم امریکا نے ان شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور حتمی معاہدے کے لیے مزید پیچیدہ مذاکرات درکار ہوں گے۔

  • لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں, وائٹ ہاؤس کا مؤقف

    لبنان جنگ بندی کا حصہ نہیں, وائٹ ہاؤس کا مؤقف

    ‎وائٹ ہاؤس نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
    ‎امریکی صدارتی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان اس معاہدے کا حصہ نہیں اور یہ بات تمام فریقین تک پہنچا دی گئی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ابھی مزید اہداف باقی ہیں۔
    ‎جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بات چیت جاری رہے گی، تاہم فی الحال لبنان اس معاہدے میں شامل نہیں ہے۔
    ‎ایک اور سوال کے جواب میں، جس میں اسرائیل کے لبنان پر حملوں کو جنگ بندی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا، ترجمان نے دوبارہ نیتن یاہو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنا خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور امن کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیگر محاذوں پر جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔

  • ایران میں خامنہ ای کے چہلم پر تعزیتی جلوس

    ایران میں خامنہ ای کے چہلم پر تعزیتی جلوس

    ‎ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر ملک بھر کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر تعزیتی جلوس نکالے گئے۔ ان جلوسوں میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
    ‎عرب میڈیا کے مطابق اردبیل، ایلام اور سمنان سمیت کئی شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جلوسوں میں خواتین، بچے، بزرگ اور نوجوان سبھی شامل تھے، جس سے عوامی شرکت کا بھرپور مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔
    ‎شرکاء نے ایرانی پرچم اٹھا کر شہید سپریم لیڈر کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو یاد کیا۔ مختلف مقامات پر دعائیہ تقاریب بھی منعقد کی گئیں جہاں ان کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ان جلوسوں کے دوران سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس طرح کے بڑے اجتماعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایرانی عوام اپنے قائد سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ان کی یاد کو بھرپور طریقے سے زندہ رکھتے ہیں۔

  • لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ بند

    لبنان پر اسرائیلی حملوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ بند

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں زمینی کارروائی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا ایک اہم نکتہ ہے۔
    ‎امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد وقتی طور پر آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال ہوئی، تاہم ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں ایک بار پھر تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر یونان اور لائبیریا کے دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، مگر بعد ازاں ایران نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر سخت اقدامات نافذ کر دیے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
    ‎برطانوی میڈیا کے مطابق ایرانی پیٹرولیم ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی نے بتایا کہ یہ ٹول ٹیکس کرپٹو کرنسی میں وصول کیا جائے گا اور ہر جہاز کو اپنے کارگو کی مکمل تفصیلات ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی۔ جانچ کے بعد جہازوں کو چند سیکنڈز میں بٹ کوائن کے ذریعے ادائیگی کرنا ہوگی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران ہر جہاز کی نگرانی کرنا چاہتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی قسم کی ہتھیاروں کی ترسیل نہ ہو۔ خالی جہازوں کو بغیر فیس کے گزرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ تیل بردار جہازوں پر ٹیکس لاگو ہوگا۔
    ‎ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے تحت ایران اور عمان دونوں اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے محصولات وصول کریں گے، جبکہ ایران اس آمدن کو تعمیر نو کے لیے استعمال کرے گا۔
    ‎ادھر غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ خلیج میں اس وقت تقریباً 187 جہاز موجود ہیں جن پر 175 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات لدی ہوئی ہیں، جو صورتحال بہتر ہونے کے منتظر ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

  • جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر شدید حملے، 112 افراد شہید

    جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر شدید حملے، 112 افراد شہید

    اسرائیلی فوج نے ایران کے ساتھ جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود لبنان پر اب تک کے شدید ترین فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے اور خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
    لبنانی وزارت صحت کے مطابق تازہ حملوں میں 112 افراد شہید جبکہ 800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق دارالحکومت بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا، جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے لگے۔
    ‎اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی اور مربوط کارروائی تھی، جس میں بیروت، وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 100 سے زائد کمانڈ سینٹرز اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور عوام سے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
    ‎اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق ان حملوں میں حزب اللہ کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں امن کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے اور کشیدگی مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔

  • ترسیلات زر میں بڑا اضافہ، مارچ میں 3.8 ارب ڈالر موصول

    ترسیلات زر میں بڑا اضافہ، مارچ میں 3.8 ارب ڈالر موصول

    ‎اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ترسیلات زر کا سلسلہ بدستور مضبوط ہے اور مارچ 2026 میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق مارچ 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3.8 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو فروری 2026 کے مقابلے میں تقریباً 16.5 سے 17 فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
    ‎مالی سال 2026 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مجموعی ترسیلات زر 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 28 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.2 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ مسلسل بہتری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرون ملک پاکستانی معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
    ‎ملک میں ترسیلات زر کے بڑے ذرائع میں سعودی عرب سرفہرست رہا جہاں سے مارچ میں 918 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 824 ملین ڈالر اور برطانیہ سے 587 ملین ڈالر کی ترسیلات آئیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور بیرونی کھاتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
    ‎اگرچہ بعض رپورٹس کے مطابق مارچ 2025 کے مقابلے میں معمولی سالانہ کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر مالی سال کے دوران ترسیلات زر میں اضافہ ایک مثبت رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎حکومت اور معاشی تجزیہ کار اس بہتری کی وجہ رسمی بینکنگ چینلز کے استعمال کی حوصلہ افزائی، شرح مبادلہ میں استحکام اور بیرون ملک افرادی قوت کی بڑھتی تعداد کو قرار دے رہے ہیں۔

  • ‎جے یو آئی کا احتجاج مؤخر، حکومت کی یقین دہانی پر بڑا فیصلہ

    ‎جے یو آئی کا احتجاج مؤخر، حکومت کی یقین دہانی پر بڑا فیصلہ

    اسلام آباد میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام لے کر ایک اعلیٰ سطحی حکومتی وفد جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا۔ وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چوہدری شامل تھے۔
    ‎ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے جے یو آئی سے درخواست کی کہ ایران، امریکا اور دیگر ممالک کے وفود کی اسلام آباد آمد کے پیش نظر جمعہ کو اعلان کردہ مظاہرے مؤخر کیے جائیں تاکہ عالمی سطح پر مثبت پیغام دیا جا سکے اور جاری امن مذاکرات کو حتمی شکل دینے میں آسانی ہو۔
    ‎ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے حکومتی وفد کو عوام میں بڑھتی بے چینی سے آگاہ کیا، خاص طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔
    ‎اس موقع پر حکومتی وفد نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ چند روز میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس یقین دہانی کے بعد مولانا فضل الرحمان نے جماعتی قیادت سے مشاورت کی اور جذبہ خیرسگالی کے تحت ملک بھر میں جمعہ کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔
    ‎جے یو آئی کی جانب سے عوام کو اپیل کی گئی ہے کہ وہ 12 اپریل 2026 کو مردان میں ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کریں، جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
    ‎بیان کے اختتام پر ملک اور عالم اسلام کے لیے امن و سلامتی کی دعا بھی کی گئی۔

  • پی ٹی آئی نے حکومت کی درخواست پر جلسہ ملتوی کر دیا

    ‎تحریک انصاف نے حکومت کی درخواست پر کل ہونے والا اپنا جلسہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے جلسہ مؤخر کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ ملاقات قومی اسمبلی کی اپوزیشن لابی میں ہوئی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
    ‎ملاقات میں حکومتی وفد کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور راجا پرویز اشرف نے کی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی، بیرسٹر گوہر، عامر ڈوگر اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔
    ‎ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن سے سیکیورٹی اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر جلسہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، جسے پی ٹی آئی نے قبول کرتے ہوئے تعاون کا مظاہرہ کیا۔
    ‎دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مذاکرات کے باعث 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیل کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان دنوں شہر میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ حساس صورتحال میں سیاسی جماعتیں اور حکومت باہمی تعاون کے ذریعے معاملات کو بہتر انداز میں سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔