Baaghi TV

Blog

  • پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    نامور برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا ہیں۔

    فنانشل ٹائمز میں بھارتی دفاعی تجزیہ کار سوشانت سنگھ کی جانب سے لکھے گئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا جبکہ بھارت مشرق وسطیٰ مذاکرات سے خارج اور امریکا میں اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔انہوں نے لکھا کہ پاکستان، ترکیے، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل بلاک علاقا ئی اثر و رسوخ میں تبدیلی کا اشارہ ہے جو بھارت کواپنی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبورکر رہا ہے۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے اپنے مضمون میں کہا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے ہیں اور صدرٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل کو ثالث کے طور پر ترجیح دیتے ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سفارتی ہزیمت کا سامنا ہے۔

  • ایران کے حملوں سے خلیجی خطے میں ڈیجیٹل بحران ،ایمازون کے ڈیٹا سینٹرز شدید متاثر

    ایران کے حملوں سے خلیجی خطے میں ڈیجیٹل بحران ،ایمازون کے ڈیٹا سینٹرز شدید متاثر

    خلیجی خطے میں جاری کشیدگی نے اب عالمی ٹیکنالوجی کے شعبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں ایران کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ایمازون کی کلاؤڈ سروس، ایمازون ویب سروس، کے بحرین اور دبئی میں موجود اہم ڈیٹا سینٹرز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان حملوں کے باعث دونوں مقامات پر موجودا یمازون ویب سروس کے “ایویلیبیلٹی زونز” (Availability Zones) میں سے کچھ مکمل طور پر بند ("ہارڈ ڈاؤن”) ہو چکے ہیں جبکہ دیگر جزوی طور پر متاثر ہونے کے باوجود محدود پیمانے پر کام کر رہے ہیں۔ اندرونی کمپنی مراسلے کے مطابق ان سروسز کی بحالی میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔ایمازون ویب سروس کے اندرونی پیغام میں ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ بحرین اور دبئی کے متاثرہ ریجنز کو فی الحال کم ترجیح دی جائے۔ مراسلے میں کہا گیا "یہ دونوں ریجنز اب بھی متاثر ہیں، اور سروسز سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ معمول کی کارکردگی اور استحکام کے ساتھ چلیں گی۔”مزید بتایا گیا کہ کمپنی متاثرہ صارفین کو دیگر محفوظ ریجنز میں منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، اور سسٹمز کو کم سے کم وسائل پر چلانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ صارفین کی منتقلی میں آسانی ہو۔

    اطلاعات کے مطابق بحرین میں ایمازون ویب سروس کے ڈیٹا سینٹرز پر متعدد بار حملے کیے گئے، جن میں ایک حملہ بدھ کے روز ہوا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات، خصوصاً دبئی میں بھی ان تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ایمازون ویب سروس کے ہر ریجن میں عام طور پر تین ایویلیبیلٹی زونز ہوتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں بعض مکمل طور پر بند جبکہ دیگر جزوی طور پر متاثر ہو چکے ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے مزید امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں سامنے آئی ہیں، جن میں گوگل،مائیکروسافٹ اور ایپل شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ایمازن کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی متاثرہ صارفین کو دیگر ایمازون ویب سروس ریجنز میں منتقل کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے، اور بڑی تعداد میں صارفین پہلے ہی کامیابی سے اپنی ایپلی کیشنز کو منتقل کر چکے ہیں۔”ہم مسلسل متاثرہ صارفین کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں متبادل ریجنز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔”

    یہ واضح نہیں کہ بحرین اور دبئی کے ڈیٹا سینٹرز کب مکمل طور پر بحال ہو سکیں گے، جس سے خطے میں ڈیجیٹل سروسز اور آن لائن کاروباروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

  • ایران جنگ، امریکی  طیارے گرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں

    ایران جنگ، امریکی طیارے گرنے کی تفصیلات سامنے آگئیں

    28 فروری سے 3 اپریل 2026 تک جاری رہنے والے مبینہ فوجی آپریشن کے دوران امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ مختلف اوپن سورس انٹیلیجنس رپورٹس، کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متعدد جدید طیارے اور فوجی اثاثے تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ F-35 Lightning II ایرانی فضائی دفاعی نظام کی زد میں آ کر نقصان کا شکار ہوا۔ اس طیارے کی فی یونٹ لاگت تقریباً 110 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔اسی طرح F-15E Strike Eagle کے چار طیارے تباہ ہوئے، جن میں سے تین کویت کے اوپر جبکہ ایک ایران کے اندر مار گرایا گیا۔ اس طیارے کی ابتدائی لاگت 1998 میں 270 ملین ڈالر تھی جو اب اندازاً 700 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔مزید برآں، قریبی فضائی مدد فراہم کرنے والا A-10 Thunderbolt II بھی ایرانی میزائل سسٹم کا نشانہ بنا، جس کی مالیت تقریباً 18.8 ملین ڈالر ہے۔اہم فضائی نگرانی طیارہ E-3 Sentry AWACS کو سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر تباہ کر دیا گیا، جس کی لاگت تقریباً 40 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

    ہیلی کاپٹروں کے حوالے سے بھی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک HH-60M Black Hawk عراق میں تباہ جبکہ دو HH-60W Jolly Green II ایران کے اوپر پرواز کے دوران نقصان کا شکار ہوئے۔ایندھن کی فراہمی کے لیے استعمال ہونے والے KC-135 Stratotanker طیاروں میں سے کم از کم دو مکمل طور پر تباہ جبکہ پانچ کو شدید نقصان پہنچا۔

    ڈرونز کے محاذ پر بھی امریکی فوج کو بڑا دھچکا لگا، جہاں 17 MQ-9 Reaper یو سی اے ویز تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایک MQ-9 ریپر کی قیمت تقریباً 30 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے۔

  • رومبور: ایس ایچ او عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ شاندار خدمات پر پروقار خراجِ تحسین

    رومبور: ایس ایچ او عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ شاندار خدمات پر پروقار خراجِ تحسین

    ایس ایچ او تھانہ رومبور عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ کارکردگی پر شاندار خراجِ تحسین
    رومبور ( فتح اللہ) چترال کی مشہور و معروف سیاحتی مقام وادی کالاش کے علاقے رومبور میں تعینات ایس ایچ او تھانہ رومبور عبد الوکیل کا تبادلہ تھانہ ارکاری کر دیا گیا ہے۔ وہ تقریباً ایک سال تک رومبور میں خدمات انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے بطور پولیس افسر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔تبادلے کے موقع پر مقامی پولیس اور علاقہ عمائدین کی جانب سے ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں ایس ایچ او عبد الوکیل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں خصوصاً منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے، ایس ایج او صاحب کی ایک سالہ دورانیے میں علاقے میں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہوئی۔
    تقریب کے دوران مقامی روایات کے مطابق انہیں شومن کا ہار پہنا کر عزت افزائی کی گئی۔ اس موقع پر مولانا محمد اسحاق، برزنگی کالاش سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے۔ویلج کونسل رومبور کے چیئرمین سلطان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبد الوکیل ایک فرض شناس، دیانتدار اور عوام دوست پولیس افسر کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کا تبادلہ علاقے کے لیے باعثِ افسوس ہے، تاہم سرکاری ملازمت میں تبادلے ایک معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ایس ایچ او عبد الوکیل کے لیے نئی ذمہ داریوں میں کامیابی کی دعا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی اسی پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

  • ایران کے افزودہ یورینیئم پر قبضے کی ٹرمپ کی تجویز، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا

    ایران کے افزودہ یورینیئم پر قبضے کی ٹرمپ کی تجویز، ماہرین نے خطرناک قرار دے دیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاس موجود 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیئم اپنے قبضے میں لینے کا امکان ظاہر کیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین نے اس نوعیت کے کسی بھی فوجی مشن کو انتہائی خطرناک اور پیچیدہ قرار دے دیا ہے۔

    امریکی صدر کے بیان کے مطابق ایران کا تقریباً 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم گہرائی میں زیرِ زمین محفوظ ہے، جس تک رسائی حاصل کرنا نہایت مشکل عمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی عملی صورت حال چیلنجز سے بھرپور ہے۔

    عالمی میڈیا رپورٹس اور تحقیق کاروں کے مطابق 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے وقت ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام یورینیئم 60 فیصد تک افزودہ حالت میں موجود تھا، جسے باآسانی 90 فیصد تک بڑھا کر ہتھیاروں کے معیار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس تقریباً 1000 کلوگرام یورینیئم 20 فیصد جبکہ 8500 کلوگرام 3.6 فیصد تک افزودہ شکل میں موجود ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کا زیادہ تر اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیئم ممکنہ طور پر اصفہان میں محفوظ ہے، جو ایران کی اہم زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں شامل ہے۔ اس مقام کو گزشتہ برس امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کو مزید مضبوط اور محفوظ بنا لیا ہے۔ خاص طور پر اصفہان میں سرنگوں کے داخلی راستے مٹی سے بند کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث کسی بھی بیرونی فوجی کارروائی کو عملی جامہ پہنانا نہایت دشوار ہو گیا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اس طرح کا کوئی آپریشن شروع کرتا ہے تو اسے نہ صرف بھاری مشینری کے استعمال کی ضرورت پڑے گی بلکہ ممکنہ ایرانی جوابی حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • امریکا اور ایران کے مابین ثالثی بارے جھوٹی خبریں،ترجمان دفتر خارجہ کی تردید

    امریکا اور ایران کے مابین ثالثی بارے جھوٹی خبریں،ترجمان دفتر خارجہ کی تردید

    ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید کردی۔

    ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نےکہاکہ خطے میں کشیدگی اورپاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے متعلق رپورٹس کو نوٹ کیا، ان رپورٹس میں نام نہاد سرکاری ذرائع کا حوالہ دیا گیا،انہوں نے بتایاکہ وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیاگیا، ایسے مواد کا حوالہ دیا گیا جو نہ زیربحث آئے اور نہ ہی ان کی طرف اشارہ کیاگیا،ترجمان دفترخارجہ نے سوشل میڈیا پرزیرگردش جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بے بنیاد اور من گھڑت خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ یہ الزامات بےبنیاد اور محض تصور کی پیداوارہیں،انہیں سرکاری ذرائع سےمنسوب کرناغلط ہے،انہوں نے علاقائی حساسیت اور نازک وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی کہاکہ میڈیاپلیٹ فارم مکمل تحقیق سےکام لیں اور قیاس آرائی سےگریز کریں اور درست اوربروقت معلومات کےلیےصرف سرکاری بیانات پرانحصارکریں۔

  • ایسٹر 2026: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ڈیرہ غازی خان میں مسیحی برادری کے لیے خصوصی صفائی انتظامات مکمل

    ایسٹر 2026: ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ڈیرہ غازی خان میں مسیحی برادری کے لیے خصوصی صفائی انتظامات مکمل

    ڈیرہ غازی خان میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن “ستھرا پنجاب” پروگرام کے تحت ایسٹر 2026 کے موقع پر مسیحی برادری کے لیے خصوصی صفائی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کی واضح اور سخت ہدایات کی روشنی میں متعلقہ ادارے متحرک ہیں تاکہ شہر بھر میں صاف، ستھرا اور خوشگوار ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران اور ورکرز فیلڈ میں سرگرم عمل ہیں۔بالخصوص سینٹ اینتھونی یونائیٹڈ چرچ اور اس سے ملحقہ راستوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ چرچ آنے جانے والے راستوں کو بھی مکمل طور پر صاف رکھا جا رہا ہے تاکہ عبادت کے لیے آنے والے افراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریجنل منیجر ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ منصور ناگرہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ایسٹر کے موقع پر صفائی کے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ شہر کو صاف ستھرا رکھا جا سکے۔ڈویژنل کوآرڈی نیٹر عبداللہ عباسی نے کہا کہ مسیحی برادری کے مذہبی تہوار کے پیش نظر خصوصی صفائی پلان ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت چرچ کے اطراف اور اہم شاہراہوں کی صفائی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔شہریوں نے ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انتظامیہ کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔

  • پاکستان  کامتحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس سودسمیت واپس کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کامتحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس سودسمیت واپس کرنے کا فیصلہ

    حکومت رواں ماہ کے دوران 3.5 ارب ڈالر کے 2 بڑے بیرونی قرضے واپس کرنے کی تیار ی کررہی ہے۔

    حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس 17 اپریل کو 6 فیصد سود کے ساتھ واپس کیے جائیں گے، اس کے علاوہ 8 اپریل 2026 کو یورو بانڈ کی مدت پوری ہونے پر 1.3 ارب ڈالر بھی ادا کیے جائیں گے،مجموعی طور پر پاکستان کو اصل رقم اور منافع سمیت 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی جب کہ متحدہ عرب امارات کے مزید 1 ارب ڈالر کے ڈپازٹس جولائی 2026 میں واجب الادا ہونگے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ممکنہ طور پر 3 ارب ڈالر کی پوری رقم ایک ساتھ واپس کرنے کو ترجیح دے سکتا ہے، حکومت نے متحدہ عرب امارات کو اس رقم کی مدت بڑھانے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی مگر بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اب واپسی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد دوست ممالک سے عبوری مالی معاونت (بریج فنانسنگ) حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے جمعہ کی شام دی نیوز کو تصدیق کی کہ حکومت متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس مقررہ تاریخ پر واپس کرنے کیلئے تیار ہے.یاد رہے کہ دی نیوز انٹرنیشنل نے فروری 2026 میں رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں2 ماہ کی توسیع کی منظوری دیدی تھی جس کی نئی تاریخ 17 اپریل 2026 تھی تاہم اب حکومت نے سود سمیت اس رقم کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے 2 ارب ڈالر کو صرف ایک ماہ کیلئے رول اوور کیا تھا جس میں ایک ارب ڈالر کی مدت 16 فروری اور باقی ایک ارب ڈالر کی 22 فروری کو ختم ہوئی تھی، پاکستانی حکومت نے پہلے 2 سال کیلئے توسیع کی درخواست دی تھی اور بعد میں مزید مہلت کیلئے نئی درخواست بھی دی تھی

  • سیالکوٹ: پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف شدید احتجاج، “پٹرول بم” مسترد

    سیالکوٹ: پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف شدید احتجاج، “پٹرول بم” مسترد

    سیالکوٹ بیورو چیف مدثر رتو کے مطابق، سیالکوٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیرِ اہتمام حاجی پورہ کے علاقے میں ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر اعجاز نصر، جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ سیالکوٹ نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل عوام پر “پٹرول بم” گرانے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام سے مزید ریلیف چھین لیا گیا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ اشیائے ضروریہ بھی مزید مہنگی ہو جائیں گی، جس کا براہِ راست اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر قیمتوں میں کمی کرے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔مظاہرے میں شریک شہریوں نے بھی حکومت کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184.49 روپے فی لیٹر اضافہ سراسر ظلم ہے۔ ان کے مطابق پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام کے لیے یہ اضافہ ناقابلِ برداشت ہے۔شرکاء نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا جواز بنا کر حکمران عوام کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں حکومت کو عوام کو ریلیف دینا چاہیے تھا، لیکن موجودہ حکومت اس میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، جبکہ مرکزی مسلم لیگ نے اعلان کیا کہ وہ ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

  • پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل مگر مہنگائی کا طوفان مذید بڑھ گیا

    پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل مگر مہنگائی کا طوفان مذید بڑھ گیا

    قصور
    پیٹرول کی قیمتوں میں ردوبدل، مہنگائی کا طوفان برقرار ، شہریوں کے سوالات بڑھ گئے
    تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 458 روپے تک پہنچائے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے بظاہر ریلیف دیتے ہوئے 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا تاہم اس عارضی کمی کے باوجود مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا
    قصور میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے فوری بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جبکہ نان، روٹی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بے تحاشا بڑھ گئیں ہیں
    شہریوں کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز مہنگی کر دی جاتی ہے لیکن جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اشیاء کی قیمتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں
    شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت صرف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور کمی تک ہی محدود ہے یا پھر وہ مارکیٹ میں دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی کنٹرول کر سکتی ہے؟
    عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کے حوالے سے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آ رہا جس کے باعث عام آدمی کو ریلیف نہیں مل پا رہا
    ماہرین کے مطابق قیمتوں میں استحکام کے لیے موثر مانیٹرنگ سسٹم اور سخت حکومتی عملدرآمد ناگزیر ہے بصورت دیگر وقتی ریلیف کا فائدہ عوام تک منتقل نہیں ہو پاتا
    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت نہ صرف پیٹرول کی قیمتوں کو متوازن رکھے بلکہ ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی سختی سے عملدرآمد کروائے تاکہ حقیقی معنوں میں عوام کو ریلیف مل سکے