Baaghi TV

Blog

  • 
آپریشن وعدہ صادق 4 کی نئی لہر، ایرانی حملوں کا دعویٰ

    
آپریشن وعدہ صادق 4 کی نئی لہر، ایرانی حملوں کا دعویٰ

    
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 87ویں لہر کے دوران مختلف علاقوں میں دشمن کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
    پاسدارانِ انقلاب کے جاری بیان کے مطابق ان حملوں میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ڈرون ہینگرز، ویپن سپورٹ تنصیبات اور امریکی و اسرائیلی فوجیوں اور پائلٹس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی کو پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شہدا، خصوصاً شہید ریئر ایڈمرل تنگسیری کے نام منسوب کیا گیا ہے۔‎ایرانی حکام کے مطابق اس لہر میں خطے میں موجود پانچ امریکی اڈوں سمیت جنوبی، وسطی اور شمالی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎مزید بتایا گیا کہ حملوں میں جدید بیلسٹک میزائل جیسے عماد، قیام اور خرمشہر 4 کے ساتھ ساتھ خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے گئے، جو مائع اور ٹھوس ایندھن دونوں ٹیکنالوجیز پر مبنی ہیں۔‎ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات اور دعوے خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اس سے سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

  • تلہ گنگ ضلع کا خواب دفن؟ اربوں کے فنڈز کہاں گئے — چوہدری راسخ الہی تلہ گنگ کا حال دیکھ کر پھٹ پڑے

    تلہ گنگ ضلع کا خواب دفن؟ اربوں کے فنڈز کہاں گئے — چوہدری راسخ الہی تلہ گنگ کا حال دیکھ کر پھٹ پڑے

    تلہ گنگ (فیضان شیخ باغی ٹی وی): چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے چوہدری راسخ الہی نے تلہ گنگ کی موجودہ صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک فعال ضلع کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت غیر فعال کیا گیا، جبکہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے آج سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
    باغی ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر فیضان شیخ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلہ گنگ کو ضلع بنانے کے لیے چار ارب 75 کروڑ روپے کے فنڈز ریلیز کروائے گئے، 200 کنال اراضی ضلعی کمپلیکس کے لیے مختص کی گئی، مگر آج ان منصوبوں کا کہیں وجود نظر نہیں آتا۔
    انہوں نے سخت سوال اٹھایا کہ تلہ گنگ کے 36 دیہات کو سوئی گیس کی فراہمی کی منظوری دی گئی، عمار یاسر نے اس منصوبے کو یقینی بنایا، مگر آج تک کسی ایک محلے کو بھی گیس نہیں مل سکی—آخر یہ منصوبہ کہاں دفن ہو گیا؟
    ان کا کہنا تھا کہ ضلع بننے کے بعد 23 سرکاری محکمے فوری طور پر فعال کیے گئے تھے اور افسران نے باقاعدہ چارج لے کر کام شروع کر دیا تھا، مگر آج وہی محکمے یا تو ختم کر دیے گئے یا چکوال کے افسران کے اضافی چارج پر چل رہے ہیں، جو کھلی انتقامی کارروائی کے مترادف ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او جیسے کلیدی عہدوں پر افسران تعینات کیے گئے، لیکن انہیں اچانک یہاں سے ٹرانسفر کر دیا گیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ عناصر کو ضلع تلہ گنگ کا قیام ہضم نہیں ہو رہا۔
    چوہدری راسخ الہی نے کہا کہ تلہ گنگ کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا اور اس کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل جھونک دیے، مگر بدقسمتی سے سیاسی انتقام اور ذاتی انا کی سیاست نے اس پورے علاقے کو پیچھے دھکیل دیا۔
    انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بنایا گیا ٹراما سینٹر آج بھی ویران کھڑا ہے، جبکہ سڑکوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے متعدد منصوبے ادھورے چھوڑ دیے گئے—عوام کو صرف اعلانات اور وعدوں کے سہارے پر رکھا گیا۔
    انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ نمائندے نااہلی کی بدترین مثال بن چکے ہیں، جو اپنے ذاتی مفادات سے باہر نکلنے کو تیار نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ تلہ گنگ کا ضلع عملی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے سیاست نہیں بلکہ خدمت اولین ترجیح ہے

  • ‎خیبرپختونخوا میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق

    ‎خیبرپختونخوا میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق

    
ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں نے جہاں موسم خوشگوار بنا دیا ہے وہیں خیبر پختونخوا میں تباہی بھی مچادی ہے، جہاں مختلف حادثات میں 17 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
    رپورٹس کے مطابق سوات، بنوں، ہنگو، نوشہرہ، ٹانک، باجوڑ، کرک، پاراچنار، ملاکنڈ سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ مسلسل بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں مکانات کو نقصان پہنچا اور حادثات پیش آئے۔
    ‎ایبٹ آباد میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون شدید زخمی ہوگئی۔ جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچیاں بھی شامل ہیں، جس نے واقعے کو مزید دلخراش بنا دیا۔
    ‎پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق 25 مارچ سے جاری بارشوں کے دوران مختلف اضلاع میں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے مجموعی طور پر 17 افراد جاں بحق جبکہ 56 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 14 بچے، ایک مرد اور 2 خواتین شامل ہیں۔
    ‎مزید بتایا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث کم از کم 11 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ زیادہ تر حادثات بنوں اور شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئے۔
    ‎محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منگل تک مزید بارش کا امکان ہے، جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع جن میں سرگودھا، بھکر، لودھراں، وہاڑی، چنیوٹ، حافظ آباد اور بہاولپور شامل ہیں، وہاں بھی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

  • ‎ٹرمپ کا دعویٰ، ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی

    ‎ٹرمپ کا دعویٰ، ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے حوالے سے ایک ہفتے بعد واضح معلومات دی جائیں گی۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں رجیم چینج ہو چکا ہے اور امریکا اب ایک نئے گروپ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
    انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی ریفائنری پر ایران کے حملے کا جواب جلد سامنے آئے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ ایرانی قیادت مذاکرات اور تعاون کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں، جبکہ اس وقت مختلف دعوؤں اور بیانات کی تصدیق بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

  • 
ایران میں یتیم خانے پر حملہ، 2 افراد شہید

    
ایران میں یتیم خانے پر حملہ، 2 افراد شہید

    
ایران کے دارالحکومت تہران کے مغرب میں واقع ایک یتیم خانے پر مبینہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہو گئے ہیں۔ اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اور سنگین پہلو کو سامنے لا دیا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق فاردیس کے علاقے میں زیر تعمیر یتیم خانہ حملے کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ زخمی افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ حملوں میں بچوں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک 230 بچے جاں بحق جبکہ 1800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری تنصیبات، خاص طور پر یتیم خانوں جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنانا انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تشویش کا باعث ہے اور اس سے عالمی سطح پر ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں جنگی صورتحال مزید شدت اختیار کر رہی ہے اور مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

  • 
برطانیہ جنگ میں شامل نہیں ہوگا، کیئر اسٹارمر کا واضح اعلان

    
برطانیہ جنگ میں شامل نہیں ہوگا، کیئر اسٹارمر کا واضح اعلان

    ‎برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ برطانیہ ایران سے متعلق جاری تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی وہاں فوج تعینات کی جائے گی۔
    ‎اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ برطانیہ کی جنگ نہیں ہے اور ملک کو اس میں گھسیٹا نہیں جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیح اپنے شہریوں، قومی مفادات اور خطے میں موجود اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎کیئر اسٹارمر نے بتایا کہ برطانیہ اس وقت دفاعی نوعیت کے اقدامات کر رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے، تاہم اس کا مقصد جنگ میں شامل ہونا نہیں بلکہ اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، کیونکہ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق برطانیہ کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ مغربی ممالک اس تنازع میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہتے ہیں اور زیادہ تر سفارتی و دفاعی حکمت عملی پر انحصار کر رہے ہیں۔

  • 
سکھر میں میٹرک امتحان، نقل پر طلبہ کے خلاف کارروائی

    
سکھر میں میٹرک امتحان، نقل پر طلبہ کے خلاف کارروائی

    
سکھر تعلیمی بورڈ کے زیر انتظام جاری میٹرک امتحانات کے دوران نقل کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جس پر امتحانی حکام نے سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔
    اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں ایک طالبہ کو نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا جسے فوری طور پر امتحانی ہال سے باہر نکال دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ طالبہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔‎مزید بتایا گیا ہے کہ اسی امتحانی مرکز میں مجموعی طور پر 23 طلبہ نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے، جن کے خلاف کاپی کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ان طلبہ کے امتحانی پرچے منسوخ کیے جانے اور دیگر تادیبی اقدامات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎امتحانی حکام کے مطابق شفاف امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ نقل کے رجحان کے خاتمے کے لیے نہ صرف سخت اقدامات ضروری ہیں بلکہ طلبہ میں ایمانداری اور محنت کے فروغ کے لیے شعور اجاگر کرنا بھی اہم ہے۔

  • 
سیالکوٹ میں شادی پر ڈالرز کی برسات، انوکھی بارات وائرل

    
سیالکوٹ میں شادی پر ڈالرز کی برسات، انوکھی بارات وائرل

    
سیالکوٹ میں ایک شادی کی تقریب اس وقت موضوعِ بحث بن گئی جب آسٹریلیا سے آئے بھائیوں نے اپنے بھائی کی شادی کو یادگار بنانے کے لیے ڈالرز اور پاکستانی کرنسی کی برسات کر دی۔ اس انوکھی بارات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
    تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ کے علاقے مراکیوال کے رہائشی دلہا قمر عباس کی بارات جب میرج ہال پہنچی تو وہاں ایک غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا۔ دلہا کے آسٹریلیا سے آئے بھائیوں نے بارات کے استقبال کے دوران آسٹریلین ڈالرز اور پاکستانی نوٹوں کے تھیلے کھول دیے اور حاضرین پر نچھاور کرنا شروع کر دیے۔
    ‎عینی شاہدین کے مطابق تقریباً ایک گھنٹے تک نوٹوں کی بارش جاری رہی، جس کے باعث میرج ہال کے اندر اور باہر ہر طرف کرنسی ہی کرنسی نظر آنے لگی۔ جیسے ہی یہ سلسلہ شروع ہوا، قریبی علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہو گئی اور نوٹ سمیٹنے کا منظر دیکھنے کو ملا، جس سے ہال کے باہر میلے جیسا ماحول بن گیا۔
    ‎مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات اب ایک نیا رجحان بنتے جا رہے ہیں جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانی شادیوں میں غیر ملکی کرنسی نچھاور کر کے تقریبات کو منفرد بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ‎سوشل میڈیا صارفین اس واقعے پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں، کچھ اسے خوشی کا اظہار قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے فضول خرچی بھی کہہ رہے ہیں۔

  • 
بنوں میں جعلی شناختی کارڈ بنانے والا گروہ گرفتار

    
بنوں میں جعلی شناختی کارڈ بنانے والا گروہ گرفتار

    
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغان مہاجرین کو پاکستانی خاندانوں میں شامل کر کے جعلی شناختی کارڈ بنانے والے گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی کی ہدایت پر خفیہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائی کی، جس کی قیادت ایس پی سٹی توحید خان اور ایس ایچ او ریاض خان نے کی۔ کارروائی کے دوران تین ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا جن میں اجمل، بادشاہ خان اور افغان شہری نقیب شاہ شامل ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق گروہ کے دو دیگر ارکان مامور اور زین اللہ فرار ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزمان افغان شہریوں کو پاکستانی شناختی کارڈز فراہم کرنے کے بدلے بھاری رقم وصول کرتے تھے اور ایک کیس میں 28 لاکھ روپے لینے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
    ‎یہ گروہ افغان مہاجرین کو مقامی پاکستانی خاندانوں کے شجرہ نسب میں غیر قانونی طور پر شامل کرتا تھا تاکہ انہیں پاکستانی شہری ظاہر کیا جا سکے۔
    ‎ڈی پی او بنوں کا کہنا ہے کہ جعل سازی اور ملکی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انہیں عدالت میں پیش کر کے سخت سزا دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔

  • 
ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، تفرقہ بازی نہیں ہونی چاہیے: مفتی منیب

    
ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، تفرقہ بازی نہیں ہونی چاہیے: مفتی منیب

    
تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی قسم کی تفرقہ بازی کی گنجائش نہیں اور ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    سرگودھا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کو تقسیم کرنے کی کوششیں نقصان دہ ہیں، اس لیے مسلمانوں کو باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کو مسترد کرنا ہوگا۔
    ‎انہوں نے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امن کے لیے قائم کیا گیا ادارہ اپنے مقاصد میں ناکام دکھائی دیتا ہے، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات اس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔
    ‎مفتی منیب الرحمان نے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور امید ہے کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی یہ کاوشیں مثبت نتائج دیں گی۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھی سیز فائر کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایسے بیانات اس وقت اہمیت رکھتے ہیں جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہو اور مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہو۔