جنوبی اسرائیل کے شہر بئر السبع کے صنعتی زون پر ایرانی حملے کے بعد خطرناک کیمیائی مواد کے اخراج کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث حکام نے فوری حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے قریبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے، کھڑکیاں اور دروازے بند رکھنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر بئر السبع کو وسطی اسرائیل سے ملانے والی مرکزی شاہراہ بھی بند کر دی گئی ہے تاکہ ممکنہ آلودگی کو قابو میں رکھا جا سکے اور امدادی کارروائیاں بغیر رکاوٹ جاری رہیں۔
رپورٹس کے مطابق متاثرہ صنعتی زون میں تقریباً 19 مختلف فیکٹریاں قائم ہیں، جن میں کیمیائی مادہ برومائیڈ بنانے والے پلانٹس، دوا ساز ادارے اور خطرناک فضلہ ٹھکانے لگانے کے مراکز شامل ہیں۔ ان حساس تنصیبات کی موجودگی کے باعث کسی بھی ممکنہ اخراج کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ حملے میں کون سا مخصوص پلانٹ نشانہ بنا یا وہاں کس نوعیت کا مواد موجود تھا، کیونکہ اس حوالے سے معلومات فوجی سنسر شپ کے تحت محدود رکھی جا رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کیمیائی اخراج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مقامی آبادی بلکہ ماحول پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہوں گے۔
Blog
-

بئر السبع میں ایرانی حملے کے بعد کیمیائی اخراج کا خدشہ
-

ایران کی سخت وارننگ، زمینی کارروائی ذلت آمیز انجام پر ختم ہوگی
ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی زمینی کارروائی کا انجام دشمن کے لیے ذلت آمیز ہوگا۔
اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف زمینی کارروائی کی گئی تو حملہ آوروں کو نہ صرف شکست کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ امریکی افواج کے لیے یہ خطہ محفوظ نہیں رہے گا۔
ابراہیم ذوالفقاری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیلی وزیراعظم کے زیر اثر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پالیسیوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔
ترجمان نے مزید الزام عائد کیا کہ امریکی قیادت مختلف دباؤ کا شکار ہے اور اسی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال کو قریب سے دیکھ رہی ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ -

تہران میں العربی چینل کی عمارت پر حملہ، نشریات معطل
قطری نیوز چینل العربی نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں اس کی عمارت کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دفتر کو شدید نقصان پہنچا اور نشریات عارضی طور پر معطل ہو گئیں۔
چینل کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک میزائل نے دارالحکومت تہران میں واقع ان کے دفتر کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کے اندر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ واقعے کے بعد فوری طور پر لائیو نشریات متاثر ہوئیں۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دفتر کے اندر ٹوٹے ہوئے شیشے، بکھرا ہوا سامان اور ملبہ دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ عمارت کے باہر قریبی علاقوں میں بھی نقصان کے آثار نظر آئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج کی طرف سے اس واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ اس عمارت میں دیگر اداروں کے دفاتر بھی موجود تھے یا نہیں۔
ماہرین کے مطابق میڈیا اداروں کو نشانہ بنانا خطے میں کشیدگی کے ایک نئے پہلو کو ظاہر کرتا ہے، جس سے اطلاعات کی ترسیل اور صحافتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ -

آبنائے ہرمز سے پاکستانی جہازوں کو اجازت، بڑی سفارتی پیش رفت
خطے میں کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایران نے پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس پیش رفت کو علاقائی استحکام اور سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر 20 پاکستانی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے تحت روزانہ دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکیں گے۔ انہوں نے ایران کے اس اقدام کو مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ خطے میں امن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بحری جہازوں کی بحالی سے نہ صرف تجارت میں بہتری آئے گی بلکہ علاقائی اعتماد سازی میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں سفارتکاری اور مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں عالمی رہنماؤں کو بھی ٹیگ کیا، جس سے اس معاملے کی بین الاقوامی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس پیش رفت کو اہم قرار دیتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کو شیئر کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے سے پاکستانی جہازوں کی آمدورفت کی بحالی نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی خوش آئند پیش رفت ہے۔ -

ایران میں میزائل حملہ، کراچی کا نوجوان جاں بحق
ایران میں ہونے والے ایک میزائل حملے کے نتیجے میں کراچی کے علاقے ماڑی پور سے تعلق رکھنے والا 26 سالہ نوجوان یاسر خان جاں بحق ہو گیا، جس سے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس پر پیش آیا جہاں یاسر خان ایک ٹگ بوٹ پر ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اچانک ہونے والے میزائل حملے کے دوران وہ شدید زخمی ہوا اور جانبر نہ ہو سکا۔
یاسر کے بھائی واجد خان کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 23 مارچ کی رات پیش آیا جب وہ معمول کے مطابق اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ حملہ اچانک ہوا جس نے کئی افراد کو متاثر کیا۔
اہل خانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یاسر کی میت کو جلد از جلد پاکستان لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ خاندان کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی شہری بھی خطے میں جاری کشیدگی سے محفوظ نہیں ہیں اور انہیں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ -

سعودی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم ہاؤس آمد، اہم معاملات زیر غور
اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے وزیر اعظم ہاؤس کا دورہ کیا اور اہم ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم ہاؤس آمد پر سعودی وزیر خارجہ کا استقبال وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ سید طارق فاطمی نے کیا، جبکہ بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے دفتر میں معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے فروغ پر گفتگو کی گئی۔ اس اہم ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، مشیر برائے قومی سلامتی اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل محمد عاصم ملک بھی شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اس ملاقات کو خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اور قریبی تعلقات موجود ہیں، اور اس طرح کے اعلیٰ سطحی رابطے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ -

ایران میں محدود زمینی کارروائی خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے،برطانوی اخبار
ایک برطانوی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہے تو اسے کم از کم 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی، جبکہ چند ہزار یا محدود فوجی تعیناتی اس مقصد کے لیے ناکافی ثابت ہوگی۔
معروف دفاعی تجزیہ کار سیم کیلی نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ماضی کی جنگیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ملک میں محدود زمینی کارروائی نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہےامریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، تاکہ وہ پہلے سے موجود تقریباً 8 ہزار امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے سکیں تاہم ماہرین کے مطا بق یہ تعداد کسی بڑی کامیابی کے لیے ناکافی ہے۔
رپورٹ میں عراق اور افغانستان کی جنگوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ عراق میں 2007-2008 کے دوران تقریباً 1 لاکھ 85 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی تعینات تھے، جبکہ لاکھوں مقامی فورسز بھی موجود تھیں، اس کے باوجود مکمل استحکام حاصل نہ ہو سکا اسی طرح افغانستان کے صوبہ ہلمند میں بھی ہزاروں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حالات مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکے۔
تجزیہ کار کے مطابق ایران کا رقبہ اور آبادی دونوں بہت بڑے ہیں، اور وہاں کی فوجی طاقت بھی خاصی مضبوط ہے، جس میں پاسداران انقلاب، باقاعدہ فوج اور بسیج ملیشیا شامل ہیں ایسے میں کسی بھی زمینی جنگ کے لیے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو لاکھوں فوجیوں کی ضرورت ہوگی ابتدائی حملوں میں امریکا کچھ اہم اہداف حاصل کر سکتا ہے، جیسے تیل کی تنصیبات یا اہم جزائر پر کنٹرول، تاہم بعد میں شدید مزاحمت، گوریلا جنگ اور جدید ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو جنگ کو طویل اور مہنگا بنا دے گا۔
برطانوی فوج کے سابق سینئر افسران کا بھی کہنا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد واضح نہ ہو تو ایسی کارروائی ناکامی پر ختم ہو سکتی ہے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کے خلاف کسی بڑی زمینی جنگ کا فیصلہ عالمی سطح پر سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
-

روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی
یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر پابندی عائد کردی ہے،اس اقدام کا مقصد ملکی سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارت توانائی کو پیٹرول برآمدات پر پابندی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے نوو اک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ نے تیل اور پیٹرولیم کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا دیا ہے اس کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ روس روزانہ 120,000 سے 170,000 بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے۔
اس فیصلے سے چین، ترکی، برازیل، افریقی ممالک اور سنگاپور کے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے یہ ممالک روسی پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریدار ہیں، ہندوستان پر اس کا اثر کم سے کم ہوگا کیونکہ وہ ریفائنڈ پیٹرول کے بجائے خام تیل درآمد کرتا ہے۔
نائب وزیر اعظم نوواک نے اجلاس کے دوران بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تیل کمپنیو ں نے توثیق کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ دستیاب ہے اور یہ کہ ریفائنریز پوری صلاحیت پر یا اس سے بھی زیادہ کام کر رہی ہیں، اس طرح موجودہ طلب کو پورا کیا جا رہا ہے۔
-

مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر گوجرانوالہ سے گرفتار
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے انسانی سمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کے اہم رکن کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم قاصد علی کو گوجرانوالہ سے حراست میں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر مراکش کشتی حادثے میں بھی ملوث تھا۔
ایف آئی اے کے بیان کے مطابق ملزم کا نام ریڈ بک میں شامل تھا اور وہ طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ اس کے خلاف انسانی سمگلنگ، بھتہ خوری، جبری مشقت، فراڈ اور تارکین وطن کی اموات جیسے سنگین مقدمات درج ہیں۔
حکام کے مطابق ملزم شہریوں کو یورپ بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کرتا تھا۔ متاثرین سے سپین بھجوانے کے نام پر فی کس تقریباً 33 لاکھ روپے لیے جاتے تھے، جبکہ انہیں غیر قانونی اور خطرناک راستوں سے افریقی ممالک منتقل کیا جاتا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیٹ ورک متاثرہ افراد کو موریطانیہ منتقل کرنے کے بعد تشدد، جبری مشقت اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بناتا تھا، جس کے باعث کئی افراد اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ -

لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل
لاہور میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل نے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے-
لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو اسکینڈل نے تہلکہ مچا دیا، جہاں دورانِ آپریشن ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کی ویڈیوز بنانے کا انکشاف سامنے آیا، نہ صرف طبی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ ڈاکٹرز کے درمیان مبینہ مقابلہ بازی نے مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ایک سیکیورٹی گارڈ کے مبینہ طور پر مریض کو اسپائنل اینستھیزیا دینے کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جو کہ صرف ماہر ڈاکٹر کا کام ہوتا ہےیہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، مریضوں کی پرائیویسی اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایم ایس اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے جواب طلب کر لیا، جبکہ متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو معطل کر دیا گیا ہے 5 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر ختم کر دی،یہ اقدام پالیسی اینڈ پروسیجر مینوئل کی شق 13.2 کے تحت غفلت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اٹھایا گیا۔
متاثرہ ڈاکٹرز میں ڈاکٹر طیبہ فاطمہ، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر آمنہ رشید شامل ہیں، جبکہ معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کو بھی بھجوا دیا گیا ہے ادھر شہری جنید ستار بٹ ایڈووکیٹ نے پولیس میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ مریضوں کے وقار اور اعتماد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔