Baaghi TV

Blog

  • آپریشن غضب لِلحق کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی

    آپریشن غضب لِلحق کے بعد دہشتگردی میں نمایاں کمی

    خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے واقعات میں آپریشن غضب لِلحق کے آغاز کے بعد 65 فیصد کمی آئی ہے۔

    سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں سال آپریشن سے پہلے صوبے میں دہشت گردی کے 240 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ آپریشن کے بعد اب تک یہ تعداد 80 تک پہنچ گئی ہے،سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات رواں سال کے نویں ہفتے میں 48 درج ہوئے، جو آپریشن کے بعد بارہویں ہفتے میں کم ہوکر 12 رہ گئے،وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے سے دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے، آپریشن کے دوران اسلام آباد اور بنوں میں دہشت گردی حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور خطرناک دہشت گرد ہلاک ہوئے جنہوں نے پاکستان پر حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کی۔

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی رکوانے میں پاکستان کا کرداراہم،بھارت خبردار ہو جائے،مبشر لقمان

    مشرق وسطیٰ کشیدگی رکوانے میں پاکستان کا کرداراہم،بھارت خبردار ہو جائے،مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مشرق وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال ، پاکستان کے ثالثی کے کردار بارے پوسٹ کی ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان، ترکی اور مصر ممکنہ عالمی جنگ کو روکنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تینوں ممالک مشکل حالات کے باوجود امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، جن میں پاکستان کی کاوشیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان حالات میں بھارت باز نہیں آیا اور مثبت اقدامات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، افغانستان اور بھارت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھانے میں مصروف ہیں،مبشر لقمان نے خبردار کیا کہ آنے والے وقت میں دنیا کے نقشے میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ کچھ ممالک کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہو سکتی ہے اور بھارت کو بھی اس حوالے سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے فوجی اڈوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور آنے والے برسوں میں کچھ اڈے بند کیے جا سکتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تین ممالک کو اپنی شناخت کے حوالے سے سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ دو ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی تقریباً یقینی دکھائی دیتی ہے، آنے والا وقت ہی ان پیشگوئیوں کی حقیقت کو واضح کرے گا۔

  • بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتے حملے، بھارتی وزارتِ خارجہ کے منہ پر طمانچہ

    بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتے حملے، بھارتی وزارتِ خارجہ کے منہ پر طمانچہ

    بھارت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے پاکستان پر “منظم طور پر ظلم” کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد خود بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر خاموشی شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سخت بیانات دینے کے باوجود اندرونِ ملک بڑھتی ہوئی عدم برداشت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق بھارت میں عیسائی برادری کے خلاف حملوں میں گزشتہ دہائی کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں جہاں ایسے واقعات کی تعداد تقریباً 127 سے 139 کے درمیان تھی، وہیں 2024 میں یہ بڑھ کر 834 تک پہنچ گئی۔ ان واقعات میں گرجا گھروں پر حملے، تشدد، اور جبری تبدیلی مذہب کے الزامات کے تحت مقدمات شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق کئی کیسز میں مقامی انتہا پسند گروہوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

    بھارت میں مسلم کمیونٹی بھی مسلسل دباؤ اور تشدد کا شکار رہی ہے۔ مختلف رپورٹس میں “گاؤ رکھشا” کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں تشدد ، مذہبی بنیادوں پر قتل، اور نفرت انگیز تقاریر کے سینکڑوں واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے 1100 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں درجنوں اموات بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور سیاسی بیانات میں بڑھتی ہوئی نفرت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

    بھارت میں دلت (شیڈولڈ کاسٹس) کے خلاف جرائم بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 میں دلتوں کے خلاف 57 ہزار سے زائد جرائم درج کیے گئے، جن میں قتل، زیادتی، تشدد اور زمینوں پر قبضے جیسے سنگین واقعات شامل ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق اوسطاً ہر 18 منٹ میں ایک جرم رپورٹ ہوتا ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی حکومت ایک طرف عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے بیانات دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ ناقدین کے مطابق یہ “دوہرا معیار” نہ صرف داخلی سطح پر عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی اور مقامی تنظیموں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے، نفرت انگیز جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

  • خاموش بیانیہ، کمزور تاثر: پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    خاموش بیانیہ، کمزور تاثر: پاکستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    عالمی کردار مضبوط، مگر بیانیہ کمزور: پاکستان کو کیا کرنا ہوگا؟
    اشتہارات سے آگے: ریاستی ابلاغ کی اصل ذمہ داری
    جب ریاست بولتی نہیں، تو دنیا اس کے بارے میں خود بولتی ہے
    دنیا اس وقت ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے نہ صرف علاقائی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سیاسی حرکیات تک پھیل چکے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کی نئی لہریں، اور معاشی غیر یقینی — یہ سب اب کسی ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک مشترکہ عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

    ایسے ماحول میں پاکستان کا کردار نہایت اہم اور کثیرالجہتی نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک جانب ملکی سرحدوں کا مؤثر دفاع جاری ہے، تو دوسری طرف اندرونی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ خطے میں افغانستان کی صورتحال اور اس سے جڑے پیچیدہ عوامل، پاکستان کے لیے ایک مستقل چیلنج بھی ہیں اور ذمہ داری بھی۔ مزید برآں، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان ایک محتاط مگر فعال سفارتی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے۔

    یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
    مگر اس کے ساتھ ایک اہم سوال جنم لیتا ہے:
    کیا یہ کردار دنیا تک صحیح انداز میں پہنچ رہا ہے؟ اور کیا خود پاکستان کے عوام اس سے پوری طرح آگاہ ہیں؟
    بدقسمتی سے، اس کا جواب حوصلہ افزا نہیں۔
    آج کے دور میں ریاستی طاقت کا ایک اہم ستون مؤثر ابلاغ بھی ہے۔ جدید دنیا میں صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، بلکہ اس کی وضاحت، تشریح اور درست تناظر میں پیشکش بھی ناگزیر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو ایک واضح خلا کا سامنا ہے۔
    وزارتِ اطلاعات، جو کہ قومی بیانیے کی تشکیل اور ترسیل کا بنیادی ادارہ ہے، بظاہر اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ابلاغ کا عمل محدود ہو کر رسمی بیانات اور اشتہارات تک سمٹ گیا ہے، جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم اور دنیا دونوں کو باقاعدہ بریفنگز، مدلل مؤقف اور جامع تجزیات کے ذریعے اعتماد میں لیا جائے۔

    اہم قومی و بین الاقوامی معاملات پر صحافیوں، دانشوروں اور پالیسی ماہرین کو منظم انداز میں آگاہ کرنا، ایک مربوط بیانیہ تشکیل دینا، اور بروقت معلومات فراہم کرنا — یہ سب وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی بھی سنجیدہ ریاست کے ابلاغی نظام کا حصہ ہوتی ہیں۔
    حال ہی میں وزیراعظم کے متوقع خطاب کے حوالے سے جو فضا بنی، وہ اس خلا کی ایک واضح مثال تھی۔ عوام ایک جامع اور رہنمائی فراہم کرنے والے پیغام کے منتظر تھے، مگر جو سامنے آیا وہ ایک رسمی بیان سے زیادہ حیثیت اختیار نہ کر سکا۔ اس موقع پر نہ صرف داخلی سطح پر اعتماد سازی ممکن تھی بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا۔

    یہ محض ایک موقع کا ضیاع نہیں، بلکہ ایک بڑی ابلاغی کمزوری کی علامت ہے۔
    اگر ایک ریاست اپنے کردار کو خود مؤثر انداز میں بیان نہ کرے، تو یہ خلا دوسروں کے بیانیے سے پُر ہو جاتا ہے — اور اکثر یہ بیانیہ اس کے مفادات سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔
    پاکستان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اس کی پالیسیز، اس کے اقدامات، اور اس کا علاقائی کردار سب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان سب کی اصل قوت تبھی سامنے آئے گی جب انہیں واضح، مربوط اور پُراعتماد انداز میں دنیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
    خاموشی بعض اوقات حکمت ہوتی ہے، مگر مسلسل ابہام کمزوری بن جاتا ہے۔
    اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے ابلاغی نظام کو محض معلومات کی ترسیل تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک مؤثر سفارتی اور قومی طاقت کے طور پر استعمال کرے۔
    کیونکہ آج کی دنیا میں صرف درست ہونا کافی نہیں ،

  • وسیم اکرم سمیت 11 افراد کے ساتھ”ڈیٹ”تاہم 50 سالہ اداکارہ اب بھی "کنواری”

    وسیم اکرم سمیت 11 افراد کے ساتھ”ڈیٹ”تاہم 50 سالہ اداکارہ اب بھی "کنواری”

    ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ سشمیتا سین کی زندگی میں متعدد رشتے آئے، تاہم 50 سال کی عمر کے قریب پہنچنے کے باوجود وہ اب تک شادی نہیں کر سکیں۔

    رپورٹس کے مطابق سشمیتا سین نے اپنے کیریئر کے دوران کئی معروف شخصیات کو ڈیٹ کیا، جن میں بزنس مین، ماڈلز اور شوبز سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ ان کے مبینہ طور پر 11 افیئرز کا ذکر بھی سامنے آتا رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ اکثر میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔اداکارہ نے 1994 میں مس یونیورس کا اعزاز حاصل کر کے عالمی شہرت حاصل کی اور بعد ازاں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے بیوی نمبر 1، میں ہوں نا، آنکھیں اور میں نے پیار کیوں کیا جیسی کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ذاتی زندگی کے حوالے سے خبروں میں رہنے کے باوجود سشمیتا سین نے ایک مضبوط اور خودمختار خاتون کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے کم عمری میں ایک بچی کو گود لے کر ماں بننے کا فیصلہ کیا، جسے ان کے مداحوں نے خوب سراہا۔

    ان کے ماضی کے تعلقات میں پاکستانی کھلاڑی وسیم اکرم سمیت کئی نامور شخصیات کا ذکر کیا جاتا ہے، تاہم اداکارہ نے ہمیشہ اپنی ذاتی زندگی کو اپنی شرائط پر جینے کو ترجیح دی،اداکارہ کے مبینہ طور پر امتیاز کھتری، بنٹی سجدیہہ، رتک بھسین، مدثر عزیز اور للت مودی کے ساتھ بھی تعلقات کی باز گشت سنائی دیتی رہی ہے،ماہرین کے مطابق سشمیتا سین کی غیر شادی شدہ زندگی کو ان کی ذاتی پسند اور خودمختاری سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے، اور وہ آج بھی شوبز انڈسٹری میں متحرک اور بااعتماد شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی،اسلام آباداہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا

    مشرق وسطیٰ کشیدگی،اسلام آباداہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں اہم سفارتی سرگرمیاں ہونے جا رہی ہیں، جس کے تحت سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد پہنچیں گے۔

    جیونیوز سے خصوصی گفتگو میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نہ صرف باہمی مشاورت کریں گے بلکہ اگلے روز وزیراعظم شہباز شریف سے بھی اہم ملاقات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات دراصل ترکیے میں طے پائی تھی، تاہم مصروفیات کے باعث انہوں نے برادر ممالک کے وزرائے خارجہ کو اسلام آباد مدعو کیا۔نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے کوششیں کر رہا ہے، جبکہ دوست ممالک بھی اس سلسلے میں بھرپور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔اسحاق ڈار کے مطابق ایران کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا عمل جاری ہے، تاہم جاری مذاکرات کے پیش نظر میڈیا پر تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب سفارتی ذرائع کے مطابق اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکا نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی فارمولا پیش کیا تھا، جس کی ایران نے تصدیق کی۔ بعد ازاں ایران نے بھی اپنا جواب پاکستان کے توسط سے امریکا تک پہنچایا۔

  • ابوظبی میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، 5 افراد زخمی

    ابوظبی میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، 5 افراد زخمی

    متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں ایک خطرناک واقعہ پیش آیا جہاں ایئر ڈیفنس سسٹم کی جانب سے فضا میں تباہ کیے گئے بیلسٹک میزائل کا ملبہ زمین پر گرنے سے دو مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ 5 افراد زخمی ہو گئے۔

    حکام کے مطابق یہ واقعہ خلیفہ اکنامک زون (KEZAD) کے قریب پیش آیا، جو ایک اہم تجارتی، لاجسٹک اور صنعتی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئر ڈیفنس سسٹم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، تاہم اس کے ملبے کے گرنے سے قریبی علاقوں میں دو الگ الگ مقامات پر آگ لگ گئی۔حکام نے تصدیق کی ہے کہ زخمی ہونے والے پانچوں افراد بھارتی شہری ہیں، جنہیں معمولی سے درمیانے درجے کی چوٹیں آئی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور فائر بریگیڈ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

    ابوظبی میڈیا آفس کے مطابق صورتحال پر قابو پانے کے لیے خصوصی آلات اور ہنگامی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جبکہ مزید تفصیلات صورت حال واضح ہونے پر جاری کی جائیں گی۔

  • پاکستان اور خطے کے امن کیخلاف بھارت اور افغانستان کی منظم سازش بے نقاب

    پاکستان اور خطے کے امن کیخلاف بھارت اور افغانستان کی منظم سازش بے نقاب

    پاکستان اور خطے کے امن کیخلاف بھارت اور افغانستان کی منظم سازش بے نقاب ہوگئی، پاکستان کی عالمی اہمیت سے خائف بھارت دنیا کے امن کا دشمن بن گیا۔

    افغانستان کے ساتھ مل کر بھارت نے اسٹریٹجک ڈس انفارمیشن حملہ کیا، مشرق وسطیٰ میں امن کی پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق ایران کے نام پر پاکستان کیخلاف منظم پروپیگنڈا آپریشن لانچ کیا گیا، جعلی ایرانی شناخت کے ذریعے پاکستان میں نفرت پھیلانے کا بیانیہ گھڑنے کا انکشاف ہوا ہے۔آئی این این ایران نیوز اور ایران ٹی وی جیسے گھوسٹ ایکس اکاؤنٹس سے ڈس انفارمیشن پھیلائی گئی، پاکستان پر امریکا کیلئے تیل ترسیل کا جھوٹا الزام لگا کر نفرت انگیز پروپیگنڈے کو بنیاد فراہم کی گئی، ایرانی شناخت رکھنے والے درجنوں اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ کیے جارہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کیخلاف مصنوعی ایرانی ردعمل افغانستان سے آپریٹ اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا گیا، افغان نیٹ ورک کو بطور پرولفریٹررز استعمال کرنے کا ثبوت بھی سامنے آگیا۔

    بھارتی ڈس انفارمیشن حملے کا مقصد امن کوششوں کے کلیدی کردار پاکستان کو متنازع بنانا تھا، بیانیہ سازی، کنٹرول اور اسٹریٹجک ڈائریکشن بھارتی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی۔سازش میں ٹائمز آف ایران نیوز مرکزی پروپیگنڈا حب قرار دیا گیا ہے، بھارت سے آپریٹ ہونے والا پلیٹ فارم عالمی سطح پر جھوٹ پھیلاتا رہا، ڈس انفارمیشن مہم کے پورے آپریشن کے ماسٹر مائنڈ اکاؤنٹس بھارتی نکلے۔

    “پاکستان نے ایران سے غداری کی” کا بیانیہ کسی مستند خبر یا حقیقی واقعے پر مبنی نہیں تھا بلکہ ایک سوچی سمجھی، منظم اور مربوط ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ تھا۔اس ٹویٹ میں دکھائےگئے infographics اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یہ مہم بھارت اور افغانستان سے منسلک آپریٹرز کے درمیان ایک مشترکہ اور مربوط (coordinated) نیٹ ورک کے ذریعے چلائی گئی، جہاں جعلی ایرانی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بیانیہ تخلیق اور پھیلایا گیا۔ اس مہم کا آغاز ان اکاؤنٹس سے ہوا جو خود کو ایرانی ظاہر کرتے تھے، جیسے INN Iran National News (
    @INNewx
    ) اور Iran TV (
    @Irania_TV

    دستاویز میں یہی پیٹرن “initiator” اکاؤنٹس کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں ابتدائی مواد ایرانی شناخت کے پردے میں تیار کیا جاتا ہے تاکہ بیانیہ مستند اور مقامی معلوم ہو، حالانکہ اس کا کنٹرول بیرونی نیٹ ورک کے پاس ہوتا ہے۔
    ان پلیٹ فارمز نے بغیر کسی تصدیق شدہ ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان امریکہ کے لیے تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کر رہا ہے، جس کے ذریعے ایک مصنوعی ایرانی ردعمل تخلیق کیا گیا۔

    دستاویز کے مطابق اس نوعیت کے اکاؤنٹس درحقیقت ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو اپنی اصل شناخت اور جغرافیائی وابستگی چھپا کر بیانیہ گھڑتے ہیں۔ بعد ازاں اس بیانیے کو وسعت دینے کے لیے افغان بیسڈ اکاؤنٹس کو بطور proliferators اور amplifiers استعمال کیا گیا۔ W.A. Mubariz (115 ہزار فالوورز) اور Burhan Uddin (86 ہزار فالوورز) جیسے اکاؤنٹس نے اس بیانیے کو مزید بڑھایا اور اسے معاشی غداری اور مذہبی حساسیت سے جوڑ کر عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی۔یہ مرحلہ دستاویز میں دکھائے گئے اسٹرکچر سے مطابقت رکھتا ہے جہاں افغان نیٹ ورک بیانیے کو تیزی سے پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی دوران بھارتی اکاؤنٹس اس پورے آپریشن کے اسٹریٹجک کنٹرولر اور بیانیہ ساز کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ Ravikumar M (114 ہزار فالوورز)، JanNayak Raghu اور Sumit Tomar جیسے اکاؤنٹس نے مسلسل اس بیانیے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو ایک غیر قابلِ اعتماد اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔دستاویز میں بھی بھارتی آپریٹرز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جو بیانیہ تشکیل دیتے، اسے سمت دیتے اور مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے amplify کرواتے ہیں۔ اس مشترکہ نیٹ ورک میں Times of Iran News (176 ہزار فالوورز) کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جسے دستاویز میں واضح طور پر “main amplifier” کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس کے بھارت سے آپریٹ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ پلیٹ فارم جھوٹے دعوؤں کو خبر اور تجزیے کی شکل دے کر انہیں قابلِ اعتبار بنانے اور عالمی سطح پر پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

    مزید شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی اور افغان آپریٹرز باہمی ہم آہنگی کے ساتھ ایرانی شناخت اختیار کر کے اکاؤنٹس چلا رہے تھے، جہاں مسلسل ہینڈل تبدیلی (handle renaming)، مختلف ناموں کا استعمال، اور coordinated پوسٹنگ کے ذریعے ایک ہی بیانیے کو تقویت دی جاتی رہی۔دستاویز کا “initiator → proliferator → amplifier” ماڈل اسی مربوط اور مرحلہ وار آپریشن کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ایک کثیر سطحی اور مشترکہ آپریشن تھا جعلی ایرانی ذرائع → افغان پھیلاؤ (proliferation) → بھارتی بیانیہ سازی اور کنٹرول → عالمی سطح پر amplification

    یہ تمام شواہد اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی اتفاقی سوشل میڈیا سرگرمی نہیں بلکہ بھارت اور افغانستان پر مبنی ایک مکمل، منظم اور اسٹریٹجک انفارمیشن وارفیئر مہم تھی، جس کا مقصد خطے میں بداعتمادی پیدا کرنا، مذہبی جذبات کو بھڑکانا، اور پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنا تھا۔

  • سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 36 دہشتگرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 36 دہشتگرد گرفتار

    صوبہ پنجاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں ایک ماہ میں کارروائیوں کے دوران مختلف کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 36 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ فیصل آباد اور جہلم سے فتنہ الخوارج کے 2 خطرناک دہشت گرد بھاری بارودی مواد اور اسلحہ سمیت گرفتار کیا

    ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی 366 کارروائیاں کیں، جن میں 338 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 36 دہشت گردوں کو اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ مواد سمیت گرفتار کیا ، گرفتار دہشت گردوں میں باچا خان ۔محفوظ ۔نوال ۔سردار خان ۔زمان ۔ملک فیض ۔نظیر ۔معظم ۔رب نواز ۔عطا ۔مسلم ۔شاہ وغیرہ شامل ہیں ، ان گرفتار دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے ہے گرفتار دہشت گردوں کا تعلق لاہور ۔ساہیوال ۔چکوال ۔اوکاڑا ۔خانیوال ۔چنیوٹ ۔اٹک ۔راولپنڈی ۔سیالکوٹ ۔ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔جھنگ ۔جہلم سے ہیں، دھماکہ خیز مواد6262 گرام، ڈیٹونیٹر 34 سیفٹی فیوز وائر 34 فٹ، ای ائی ڈی بم 5. کالعدم تنظیم کے پمفلٹ ، میگزین.پرائمہ کارڈ .موبائل فون اور نقدی دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کر لی ہے

    ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں نے مختلف شہروں میں اہم عمارتوں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف 31 مقدمات درج کر کے ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے 7799 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، 296521 افراد کو چیک کیا گیا، 1261 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، 1090 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 709 بازیابیاں کی گئیں۔

  • گائنی آپریشن تھیٹر میں دو مریضوں کی سی سیکشن کی ویڈیو بنانے پر چار ڈاکٹر معطل

    گائنی آپریشن تھیٹر میں دو مریضوں کی سی سیکشن کی ویڈیو بنانے پر چار ڈاکٹر معطل

    لاہور کے لیڈی ولنگڈن اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں 2 مختلف سرجریز کے دوران ڈاکٹرز کے مقابلے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آپریشن تھیٹر میں 2 مختلف سرجریز کی جا رہی ہیں اور اسی دوران ڈاکٹر اور عملے کے ارکان وکٹری کا نشان بھی بناتے رہے۔ لیڈی ولنگڈن اسپتال لاہورمیں گائنی آپریشن تھیٹر میں دو مریضوں کی سی سیکشن کی ویڈیو بنانے کے الزام میں چار ڈاکٹروں کو معطل کردیا گیا۔آپریشن کے دوران ڈاکٹرزکی مقابلہ بازی کی وائرل ویڈیوپرپنجاب حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے ایم ایس اور ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ سےتین روزمیں جواب طلب کرلیاگیا۔چارڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کو بھی معطل کردیا گیا،محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے مراسلہ جاری کردیا گیا۔وزیرصحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نےکہاکہ ویڈیو پرانی ہےلیکن ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لیا جائےگا،سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود نےکہا کہ تحقیقات کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ویڈیومیں نظر آنے والی ڈاکٹرز کے خلاف اندراج مقدمہ کے لئے اسلام پورہ تھانے میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔

    ایم ایس لیڈی ولنگڈن ہسپتال ڈاکٹر فرح انعام اور ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں جواب طلبی جبکہ 4 ڈاکٹرز ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور عائشہ افضل کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کو معطل کر دیا گیا،نوٹس میں کہا گیا کہ مذکورہ بالا پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کریں،محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے اس حوالہ سے نوٹی فکیشن جاری کردیا ،​ صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مبینہ اقدامات طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں، جو کہ حکومتی قواعد اور ہسپتال کے ایس او پیز (SOPs) کے تحت سختی سے ممنوع ہیں،مجاز اتھارٹی نے اسے سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت کی ایک سنگین مثال قرار دیا ہے، جو کہ سنگین بدنظمی اور انتظامی خامیوں کی عکاسی کرتی ہے،سیکرٹری صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں تادیبی کارروائی شروع کر دی جائے گی،