Baaghi TV

Blog

  • پی ایس ایل 11 کے شیڈول میں تبدیلی:محسن نقوی نے شائقین کرکٹ سے معذرت کرلی

    پی ایس ایل 11 کے شیڈول میں تبدیلی:محسن نقوی نے شائقین کرکٹ سے معذرت کرلی

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے پی ایس ایل 11 کے شیڈول میں تبدیلی پر شائقین کرکٹ سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ آج کی یہ قربانی کل کی آسانی بن کر سامنے آئے گی-

    لاہور میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کی جانب سے پی ایس ایل 11 کی تمام ٹیموں کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی، چیئرمین پی سی بی نے ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں اور معزز شخصیات کا استقبال کیا،تقریب کے دوران پی ایس ایل 11 کی ٹرافی کی رونمائی کی گئی جبکہ پی ایس ایل 11 کا ترا نہ بھی لانچ کیا گیا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ شائقین کرکٹ سے دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہوں، آپ کو ملک و قوم کا وسیع تر مفاد سب سے پہلے دیکھنا ہوتا ہےخطے کی صورتحال کے باعث قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پی ایس ایل 11 کو محدود کیا گیا ہے مجھے یقین ہے کہ آج کی یہ قربانی کل کی آسانی بن کر سامنے آئے گی،پی ایس ایل ایک ٹاپ انٹرنیشنل برانڈ بن چکا ہے اور ہم نے اسے مزید آگے لے کر جانا ہے۔

    تقریب میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، عطاءاللہ تارڑ، سالک حسین، علی پرویز ملک سمیت اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان،سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، صوبائی وزیر شافع حسین، طلحہ برکی، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے شرکت کی، فرنچائز اونرز، ہیڈ کوچ پاکستان ٹیم، قومی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں سمیت پی ایس ایل کے لیے آئے ہوئے انٹرنیشنل کھلاڑی بھی تقریب میں شریک ہوئے۔

  • ٹیکساس میں آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی

    ٹیکساس میں آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی

    امریکا کی ریاست ٹیکساس میں ایک آئل ریفائنری میں دھماکے کے بعد خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹیکساس کی پورٹ آرتھر کی Valero ریفائنری میں آگ لگنے سے پہلے دھماکے بھی ہوئے جن سے قریبی گھر لرز اٹھے عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے کے بعد آگ کے بڑے شعلے اور سیاہ دھوئیں کے بادل آسمان کی طرف بلند ہو رہے ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ لگنے کی وجہ ایک صنعتی ہیٹر کا دھماکہ ہو سکتا ہے تاہم واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کیلئے مزید تحقیقات جاری ہیں خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کیلئے کارروائی شروع کر دی۔

    لبنان میں ہلاکتیں 1039 تک پہنچ گئیں، اسرائیلی حملوں میں شدت

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی تنصیبات پہلے ہی حساس صورتحال کا شکار ہیں، جس کے باعث اس قسم کے حادثات پر عالمی توجہ مرکوز ہو رہی ہے، رئفائنری میں خام تیل کو ساڑھے چار لاکھ بیرلز روزانہ کی بنیاد پر گیسولین، ڈیزل اور جیٹ فیول میں پراسیس کیا جاتا ہے۔

    لبنان میں ہلاکتیں 1039 تک پہنچ گئیں، اسرائیلی حملوں میں شدت

  • لبنان میں ہلاکتیں 1039 تک پہنچ گئیں، اسرائیلی حملوں میں شدت

    لبنان میں ہلاکتیں 1039 تک پہنچ گئیں، اسرائیلی حملوں میں شدت

    
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1,039 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 2,876 تک پہنچ چکی ہے۔
    وزارت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 90 افراد زخمی ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال بدستور سنگین ہے اور انسانی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
    ‎ادھر اسرائیلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شمالی علاقوں میں اپنے شہریوں کو حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
    ‎دوسری جانب فرانس، برطانیہ اور جرمنی سمیت یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ لبنان میں زمینی کارروائی کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر لڑائی میں اضافہ ہوا تو نہ صرف لبنان بلکہ پورا خطہ ایک بڑے انسانی اور سیکیورٹی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

  • 
اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو

    
اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو

    
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
    ‎ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے موجودہ کشیدہ حالات پر تفصیلی گفتگو کی اور امن و استحکام کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔
    ‎اسحاق ڈار نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت ہی مؤثر راستہ ہے، جبکہ دونوں ممالک نے بدلتی صورتحال کے پیش نظر قریبی رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔
    ‎حکام کے مطابق یہ رابطہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔

  • 
ہیلیم بحران کا خطرہ، ٹیکنالوجی اور طبی نظام متاثر ہونے کا امکان

    
ہیلیم بحران کا خطرہ، ٹیکنالوجی اور طبی نظام متاثر ہونے کا امکان

    
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے جہاں تیل کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے، وہیں اب ہیلیم جیسے اہم وسائل کی فراہمی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، جو جدید ٹیکنالوجی اور طبی سہولیات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
    ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑی مقدار میں ہیلیم خلیجی خطے خصوصاً قطر سے برآمد ہوتا ہے، اور اس کی ترسیل کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتا ہے۔ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ہیلیم کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا ممکن نہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر صرف 40 سے 45 دن کا محدود اسٹاک موجود ہوتا ہے۔
    ‎ہیلیم کی قلت کے ممکنہ اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ طبی شعبے میں ایم آر آئی مشینیں ہیلیم کے بغیر کام نہیں کر سکتیں، جس سے اسپتالوں میں تشخیصی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح سیمی کنڈکٹر اور کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بھی ہیلیم بنیادی جز کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جس سے ٹیکنالوجی انڈسٹری کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
    ‎مزید برآں خلائی پروگرامز، راکٹ لانچنگ سسٹمز اور سائنسی تحقیق میں بھی ہیلیم کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اور اس کا کوئی متبادل دستیاب نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران طویل ہوا تو نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ عالمی صحت کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا نے تیل کے لیے تو اسٹریٹجک ذخائر بنا لیے ہیں، لیکن ہیلیم جیسے حساس وسائل کے لیے کوئی مؤثر عالمی نظام موجود نہیں، جو مستقبل میں بڑے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

  • 
سعودی شہزادی نورہ بنت عبدالعزیز انتقال کرگئیں

    
سعودی شہزادی نورہ بنت عبدالعزیز انتقال کرگئیں

    
سعودی عرب کے شاہی خاندان کی معزز رکن شہزادی نورہ بنت عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود انتقال کر گئی ہیں، جس پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے۔
    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ایوانِ شاہی کی جانب سے جاری بیان میں شہزادی کے انتقال کی تصدیق کی گئی اور مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت کی اپیل کی گئی۔
    ‎اعلامیے کے مطابق شہزادی نورہ بنت عبدالعزیز کی نماز جنازہ منگل 24 مارچ کو بعد نماز عصر ریاض کی معروف جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ میں ادا کی جائے گی، جہاں شاہی خاندان، اعلیٰ حکام اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
    ‎شاہی خاندان کی شخصیات کی وفات کو سعودی عرب میں اہم قومی واقعہ تصور کیا جاتا ہے، اور اس موقع پر ملک بھر میں تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق مرحومہ کا شمار شاہی خاندان کی باوقار شخصیات میں ہوتا تھا اور ان کی زندگی مختلف سماجی اور خاندانی خدمات سے جڑی رہی۔
    سعودی عوام اور حکام کی جانب سے شہزادی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  • 
متحدہ عرب امارات میں شدید بارشیں، کئی شہر زیرِ آب، نظامِ زندگی متاثر

    
متحدہ عرب امارات میں شدید بارشیں، کئی شہر زیرِ آب، نظامِ زندگی متاثر

    
متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں نے نظامِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جہاں دبئی، ابوظبی، راس الخیمہ، عجمان اور العین سمیت کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق دبئی اور ابوظبی میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث سڑکوں پر پانی کھڑا ہو گیا اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کئی علاقوں میں گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں۔
    ‎ریاست راس الخیمہ میں طوفانی بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں، جبکہ عجمان میں بھی متعدد اہم شاہراہیں پانی میں ڈوب گئیں جس سے آمد و رفت میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔
    ‎العین سٹی میں بھی بارش کے باعث سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ نکاسی آب کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
    ‎حکام نے ایمرجنسی سروسز کو الرٹ کر دیا ہے اور نکاسی آب کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسمی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
    ‎ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں اس نوعیت کی شدید بارشیں کم دیکھنے میں آتی ہیں، تاہم حالیہ موسمی تبدیلیوں کے باعث ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

  • 
عمان میں امریکی شہریوں کیلئے ’شیلٹر اِن پلیس‘ ایڈوائزری جاری

    
عمان میں امریکی شہریوں کیلئے ’شیلٹر اِن پلیس‘ ایڈوائزری جاری

    
سلطنت عمان میں امریکی شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت انہیں محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    مسقط میں امریکی سفارتخانے نے ’شیلٹر اِن پلیس‘ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور حالات معمول پر آنے تک محفوظ جگہوں پر رہیں۔
    ‎سفارتخانے کے مطابق یہ ہدایات موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر جاری کی گئی ہیں، جبکہ شہریوں کو مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور مزید ہدایات ضرورت کے مطابق جاری کی جائیں گی۔

  • 
ادویات کی قلت کا خدشہ، آبنائے ہرمز بحران کے اثرات گہرے ہونے لگے

    
ادویات کی قلت کا خدشہ، آبنائے ہرمز بحران کے اثرات گہرے ہونے لگے

    
آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی ادویات کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ماہرین کے مطابق پیٹروکیمیکل خام مال، جو ادویات کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر سپلائی میں تعطل برقرار رہا تو آئندہ 4 سے 6 ہفتوں میں ضروری ادویات کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
    ‎خصوصاً وہ ممالک جو ادویات کی برآمد میں نمایاں کردار رکھتے ہیں، اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے عالمی صحت کے نظام پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
    آبنائے ہرمز کی بندش کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع ہے، جس نے اس اہم سمندری گزرگاہ کو خطرناک بنا دیا ہے۔
    ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں، بارودی سرنگوں اور ڈرون خطرات کے باعث بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی شپنگ کمپنیوں نے اس راستے سے گزرنے سے گریز کیا ہے۔
    اس کے علاوہ جنگی صورتحال کے باعث خلیج میں امریکی اور اتحادی افواج کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عسکری تناؤ مزید بڑھ گیا ہے اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
    آبنائے ہرمز دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، تاہم موجودہ حالات میں صرف تیل ہی نہیں بلکہ کھاد، پیٹروکیمیکل مواد اور دیگر اہم اشیاء کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز بحران: تیل کے بعد خوراک اور کھاد کا بڑا خطرہ

    
آبنائے ہرمز بحران: تیل کے بعد خوراک اور کھاد کا بڑا خطرہ

    
آبنائے ہرمز کے بحران نے جہاں عالمی تیل مارکیٹ کو متاثر کیا ہے، وہیں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اصل خطرہ خوراک اور کھاد کی سپلائی میں خلل کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک عالمی یوریا تجارت کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، جبکہ حالیہ رکاوٹوں کے باعث کھاد کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اگلے چند ہفتوں میں سپلائی بحال نہ ہوئی تو جنوبی ایشیا سمیت کئی خطوں میں زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بحران صرف معاشی نہیں بلکہ حیاتیاتی نوعیت کا ہے، کیونکہ فصلوں کا نظام تاخیر برداشت نہیں کرتا۔