Baaghi TV

Blog

  • بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

    بھارتی طیاروں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع

    پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی ہے، جس کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو مسلسل مالی نقصان کا سامنا ہے۔

    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ 12ویں نوٹم کے مطابق بھارتی پروازوں پر پابندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے، پابندی تمام بھارتی ایئرلائنز، بھارتی آپریٹرز کے زیرِ انتظام طیاروں، بھارت میں رجسٹرڈ جہازوں اور بھارتی فوجی طیاروں پر لاگو ہوگی،پاکستانی فضائی حدود بھارت کے طیاروں کے لیے 24 اپریل 2026 صبح 5 بجے تک بند رہے گی۔

    واضح رہے کہ یہ پابندی پہلی بار 23 اپریل 2025 کو پاک بھارت کشیدگی کے بعد عائد کی گئی تھی، اور نئی توسیع کے بعد یہ مدت تقریباً ایک سال مکمل کر لے گی،اس فیصلے کے باعث روزانہ 200 سے زائد بھارتی کمرشل پروازیں متاثر ہو رہی ہیں، طویل فضائی راستوں، اضافی اسٹاپ اوورز اور مسافروں کے غیر ملکی ایئرلائنز کا رخ کرنے کے باعث بھارتی کمپنیوں کو اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    عیدالفطر: مری جانے والے سیاحوں کیلئے نئی ایڈوائزری سامنے آگئی

    اب وقت آ گیا ہے کہ غلطیوں کا ازالہ کیا جائے،خواجہ آصف

    عید الفطر کے موقع پر شراب کی سپلائی ناکام ،ملزم 100 بوتل شراب سمیت گرفتار

  • عیدالفطر: مری جانے والے سیاحوں کیلئے نئی ایڈوائزری سامنے آگئی

    عیدالفطر: مری جانے والے سیاحوں کیلئے نئی ایڈوائزری سامنے آگئی

    عیدالفطر کے موقع پر پولیس نے ٹریفک اور سیکیورٹی انتظامات مکمل کرتے ہوئے شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر محمد رضا تنویر کے مطابق عید کی تعطیلات کے دوران 4 سے 5 لاکھ سیاح مری کا رخ کر سکتے ہیں گزشتہ سال عید کے پہلے دن 28 ہزار 6 سو 88 گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں، جبکہ اگلے تین دنوں میں بالترتیب 51 ہزار 3 سو 80، 57 ہزار 8 سو 55 اور35 ہزار 1 سو 19 گاڑیاں ریکارڈ کی گئیں۔

    عدالتی احکامات کے تحت روزانہ 8 ہزار گاڑیوں کی حد مقرر ہے، تاہم رش کے دنوں میں یہ تعداد 12 ہزار تک پہنچ سکتی ہے،پولیس نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ سفر سے قبل Safe Tourism Murree ایپ لازمی ڈاؤن لوڈ کریں، اس ایپ کے ذریعے پولیس، ریسکیو 1122، ٹریفک پولیس اور موٹروے پولیس سمیت ایمرجنسی سروسز تک فوری رسائی ممکن ہے۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ غلطیوں کا ازالہ کیا جائے،خواجہ آصف

    ایپ میں ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن، ڈی پی او سے براہِ راست واٹس ایپ رابطہ، ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کی معلومات اور موسم کی تازہ صورتحال بھی دستیاب ہے، عید کے دوران مری میں بارش اور آندھی کا امکان ہے، اس لیے سیاحوں کو محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی پابندی کی ہدایت کی گئی ہے،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری ہیلپ لائن 15 یا موبائل ایپ کے ذریعے متعلقہ اداروں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

    عید الفطر کے موقع پر شراب کی سپلائی ناکام ،ملزم 100 بوتل شراب سمیت گرفتار

  • اب وقت آ گیا ہے کہ غلطیوں کا ازالہ کیا جائے،خواجہ آصف

    اب وقت آ گیا ہے کہ غلطیوں کا ازالہ کیا جائے،خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کابل میں طالبان حکمرانوں نے شہری آبادیوں کے اندر اپنے اڈے اور کیمپ قائم کر رکھے ہیں اور عام شہریوں کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ طالبان کی دونوں فرنچائز TTPاورTTAکے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے بھول گئے ہیں مسجدوں کے نمازی سکولوں کے طالب علم بچے کس کا نشانہ بنتے رہے ہیں ۔ر زمین پہ ہوئی۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جس ہاتھ نے نصف صدی کھلایا جس مٹی سے تین نسلوں نے رزق کمایا ان کے DNA میں وفا نہیں ان کی قیادت کے سرکردہ لوگوں کی پیدائش بھی پاک سر زمین پہ ہوئی،خواجہ آصف نے اس صورتحال کو پاکستان کی پالیسی کی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان غلطیوں کا ازالہ کیا جائے اور تمام معاملات کا مکمل حساب لیا جائے گا۔

    حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہو،سعودی عرب کی ایران کو وارننگ

    تہران میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

  • عید الفطر کے موقع پر شراب کی سپلائی ناکام ،ملزم 100 بوتل شراب سمیت گرفتار

    عید الفطر کے موقع پر شراب کی سپلائی ناکام ،ملزم 100 بوتل شراب سمیت گرفتار

    قصور
    عیدالفطر کے موقع پر شہر اور گردونواح میں شراب کی سپلائی کی کوشش ناکام بنا دی گئی
    تھانہ صدر قصور پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شراب کی 100 بوتلیں برآمد کر لیں اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا
    پولیس کے مطابق ایس ایچ او تصدق حسین کھوکھر کی سربراہی میں پیرووالا روڈ کے قریب سپیشل ناکہ بندی کے دوران کارروائی عمل میں لائی گئی جہاں کوٹ عثمان خاں قصور کا رہائشی ملزم یعقوب عرف سنی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ شراب شہر میں سپلائی کر رہا تھا
    گرفتار ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والی 100 بوتلیں شراب تحویل میں لے کر اس کے خلاف امتناع منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے
    ڈی پی او محمد عیسیٰ خاں کی ہدایات پر ڈی ایس پی صدر کی زیر نگرانی ضلع بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ عید کے موقع پر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن مذید تیز کیا جائے گا

  • حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہو،سعودی عرب کی ایران کو وارننگ

    حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہو،سعودی عرب کی ایران کو وارننگ

    سعودی عرب نے ایران کو واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے خلاف اس کا صبر لامحدود نہیں، اور اگر خلیجی ممالک پر حملے فوری بند نہ کیے گئے تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

    سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ امید ہے ایران آج کے پیغام کو سمجھ چکا ہوگا ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے بجا ئے دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی، سعودی عرب کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران پر جو معمولی اعتماد باقی تھا وہ بھی حالیہ حملوں کے بعد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے جواز ناقابل قبول ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے اور ایران کی علاقائی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

    تہران میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

    رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے ایران نے ریاض سمیت متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جنہیں تہران نے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔

    سعودی وزارت دفاع کے مطابق حالیہ حملے میں ریاض کی جانب داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ اب تک سعودی فضائی دفاعی نظام 457 سے زائد ڈرونز، 40 بیلسٹک میزائل اور 7 کروز میزائل ناکام بنا چکا ہے۔

    ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

  • تہران میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

    تہران میں علی لاریجانی سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ ادا، ہزاروں افراد کی شرکت

    اسرائیلی حملوں میں شہید جانے والے علی لاریجانی سمیت اہم ایرانی رہنماؤں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی-

    سرکاری میڈیا کے مطابق سابق سیکیورٹی سربراہ علی لاریجانی، بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی سمیت دیگر افراد کی نمازِ جنازہ انقلاب اسکوائر پر ادا کی گئی، جہاں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ،اسی روز امریکی کارروائی میں نشانہ بننے والے ایرانی بحری جہاز کے شہید ہونے وا لے اہلکاروں کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔

    ادھر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کا جواب غیر معمولی ہوگا، جبکہ صدر مسعود پزشکیان اور عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ان ہلاکتوں کا بدلہ ہر صورت لیا جائے گا۔

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

    دوسری جانب ایرانی فورسز نے قومی سلامتی کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت کے بعد وسطی اسرائیل پر کلسٹر میزائلوں سے بڑا حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد گاڑیاں تباہ جبکہ تل ابیب میں دو سو افراد ہلاک ہوگئے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب بیان کے مطابق اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر خرمشہر 4، قدر، عماد اور خیبرشکن میزائل داغے اور 100 سے زائد فوجی اور سکیورٹی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ 200 افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    یروشلم، رامات گن اور بنی براک سمیت مرکزی اسرائیل کے مختلف مقامات پر بھی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں ایک 70 سالہ مرد اور خاتون ہلاک ہوگئے جو کسی محفوظ پناہ گاہ میں موجود نہیں تھے، شارون کے علاقے میں کم از کم پانچ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

    دوسری جانب اسرائیل میں مختلف علاقوں، خصوصاً تل ابیب اور وسطی علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں بعض مقامات پر آگ لگنے کی بھی خبریں ہیں،ایرانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں میں ایران میں 1400 سے زائد افراد جاں بحق اور 18 ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

    ادھر ایران نے ایک شخص کو غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دینے کا بھی اعلان کیا ہے متحدہ عرب امارات کی وزار ت دفاع کے مطابق اس کے دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے 13 بیلسٹک میزائلوں اور 27 ڈرونز کو تباہ کر دیا، دبئی سمیت مختلف علاقوں میں دھما کوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

    ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

    عراق میں امریکی سفارتخانے کے قریب ڈرون حملے کی کوشش کو ناکام بنانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، اسی طرح کویت کی نیشنل گارڈ نے ایک ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی ہے، جبکہ سعودی عرب نے بھی ایک ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عیدالفطر کی نماز کھلے میدانوں میں ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے، اور ہدایت کی گئی ہے کہ نماز عید صرف مساجد میں ادا کی جائے گی۔

    توانائی تنصیبات حملوں کے بعد قطر کا ایرانی فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

  • ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

    ایرانی کا جوابی وار جاری،تل ابیب پرمیزائل حملے،عمارت،گاڑیاں تباہ،خوف و ہراس

    ایران نے اسرائیل پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے ایک بار پھر میزائل حملے کئے ہیں،

    تل ابیب میں دھماکے سنے گئے ہیں،ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں زور دار دھماکہ سنا گیا، اور ہنگامی خدمات فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ایک اور کلسٹر سب میونیشن میزائل تل ابیب کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے بعد اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ متعدد آبادکار ملبے تلے پھنس گئے ہیں۔شہر کے شمال میں شَرون علاقے میں ایک ایرانی کلسٹر میزائل حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ تل ابیب میں ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس میں لوگ اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔اسرائیلی حکام نقصان اور جانی نقصان کے حجم کا جائزہ لے رہے ہیں اور شہریوں کو حفاظتی علاقوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

  • ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

    ایران جنگ، ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام کے بیانات میں تضاد

    واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے تقریباً تین ہفتے بعد بدھ کے روز پہلی بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ انٹیلیجنس حکام نے عوامی سطح پر سینیٹ کی اہم کمیٹی کے سامنے گواہی دی، جہاں ان کے بیانات نے حکومتی مؤقف پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

    یہ سماعت امریکی انٹیلی جنس کمیٹی میں ہوئی، جس میں ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ، سی آئی اے کے سربراہ جوہن اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے شرکت کی۔ سینیٹرز نے ایران جنگ سے متعلق حکومتی دعوؤں اور انٹیلیجنس رپورٹس میں پائے جانے والے تضادات پر سخت سوالات کیے۔امریکی سینیٹ کی انٹیلی جینس کمیٹی میں امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گبارڈ کی کھنچائی کردی۔تلسی نے پچھلے سال جون میں ایران پر حملوں کے بعد کہا تھا کہ ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت بالکل ختم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی نے پوچھا کہ اب وائٹ ہاؤس نے یکم مارچ کو کہا کہ امریکا نے ایران کے لازمی ایٹمی خطرے کو ختم کرنے کے لیے مہم شروع کی ہے۔ جب جون میں ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم ہو گئی تھی تو اس کا خطرہ دوبارہ کیسے پیدا ہو گیا ؟تُلسی گبارڈ کئی بار پوچھنے کے باوجود جواب نہ دے سکیں، کہا کہ یہ طے کرنا صدر کا کام ہے کہ کوئی خطرہ لازمی ہے یا نہیں۔کمیٹی کے ایک رکن نے یہ بھی کہا کہ آپ نے ایران کی ایٹمی افزودگی کی صلاحیت ختم کرنے کا بیان اپنے تحریری جواب میں نقل کیا مگر تقریر میں کیوں چھوڑ دیا؟ اس پر تلسی گبارڈ نے کہا کہ ایسا وقت کی کمی کی وجہ سے کیا؟

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن انٹیلیجنس حکام نے اس دعوے کی بھی مکمل حمایت نہیں کی۔تلسی گبارڈ کے مطابق ایران اگر کوشش کرے بھی تو 2035 سے پہلے مؤثر بین البراعظمی میزائل تیار کرنا ممکن نہیں۔جبکہ جوہن نے بھی کسی مخصوص ٹائم لائن دینے سے گریز کیا، جس سے حکومتی بیانیے پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔

    ایران جنگ کا سب سے اہم جواز یہ بتایا گیا تھا کہ ایران امریکہ کے لیے “فوری خطرہ” بن چکا تھا۔ تاہم سماعت میں اس دعوے کی بھی واضح توثیق نہیں ہو سکی۔تلسی گبارڈ نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا کہ کوئی خطرہ فوری ہے یا نہیں، صدر کا اختیار ہے، نہ کہ انٹیلیجنس اداروں کا۔دوسری جانب جوہن نے کہا کہ ایران ایک مستقل خطرہ ضرور ہے، لیکن انہوں نے بھی اسے واضح طور پر “فوری” خطرہ قرار نہیں دیا۔

    سماعت سے ایک روز قبل نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو اس معاملے میں ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔اپنے استعفیٰ میں انہوں نے عندیہ دیا کہ حکومت نے ایران کے خطرے کے بارے میں مبالغہ آرائی یا غلط بیانی کی۔ تاہم سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان نے ان کے مؤقف کو زیادہ نمایاں طور پر زیر بحث نہیں لایا۔

    سماعت کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران جنگ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔انٹیلیجنس حکام کے بیانات، وائٹ ہاؤس کے دعوؤں اور مستعفی ہونے والے افسر کے الزامات ،سب مل کر ایک پیچیدہ اور متضاد تصویر پیش کرتے ہیں۔سماعت کے دوران تلسی گبارڈ سے جارجیا کمیں ایک متنازع ایف بی آئی چھاپے میں ان کی موجودگی پر بھی سوالات کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ وہ صدر کی ہدایت پر وہاں موجود تھیں، لیکن اس معاملے پر بھی حکومتی بیانات میں تضاد پایا گیا، جس سے مزید شکوک جنم لے رہے ہیں۔

    سینیٹ کی اس اہم سماعت نے ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے بیانیے کو شدید چیلنج کر دیا ہے۔انٹیلیجنس حکام کے بیانات نے نہ صرف حکومتی دعوؤں کی نفی کی بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ جنگ کے جواز، خطرات کی نوعیت اور مستقبل کی حکمت عملی پر خود امریکی قیادت کے اندر واضح تقسیم موجود ہے۔

  • ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

    ایران کے گیس فیلڈز پر حملے سے متعلق متضاد دعوے، امریکا نے تردید کر دی

    ایران کے توانائی کے اہم مراکز پر مبینہ حملوں کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکا اور اسرائیل پر حملے کا الزام عائد کیا، وہیں امریکی حکام نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران کے گیس فیلڈز پر حملہ امریکا نے نہیں کیا، بلکہ یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں امریکا براہِ راست ملوث نہیں تھا۔اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کی تیل و گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ساؤتھ پارس بھی شامل ہے۔ادھر ایک اسرائیلی ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اسرائیل نے جنوب مغربی ایران میں واقع اسالوئیہ کی گیس تنصیب پر حملہ کیا۔ ایک اور اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ساؤتھ پارس فیلڈ پر حملہ امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت کیا گیا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے اہم گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایرانی توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی مخالفت کردی،امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے، اس لیے توانائی تنصیبات پر مزید حملوں کی ضرورت نہیں،

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بدھ کے روز ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں شمار ہوتا ہے اور ایران کی توانائی کا اہم ذریعہ ہے،امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ کو اس حملے کا پیشگی علم تھا تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر کا مؤقف حتمی نہیں اور اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں مزید اشتعال انگیز اقدامات کیے تو وہ دوبارہ ایرانی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی حمایت کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ ایران نے ساؤتھ پارس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے کی ان تمام تیل تنصیبات کو اپنا ہدف قرار دے دیا جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیرِ انتظام چلائی جارہی ہیں،اسی سلسلے میں ایران نے قطر میں راس لفان انڈسٹریل سٹی پر میزائل سے حملہ کیا، حملے کے بعد آگ لگ گئی، قطر انرجی کے مطابق حملے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا،

  • توانائی تنصیبات حملوں کے بعد قطر کا  ایرانی فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

    توانائی تنصیبات حملوں کے بعد قطر کا ایرانی فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران قطر نے ایران کے فوجی اور سیکیورٹی اتاشیوں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ دوحہ میں ایرانی سفارت خانے کو باضابطہ نوٹ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں فوجی اتاشی، سیکیورٹی اتاشی اور ان کے دفاتر میں کام کرنے والے عملے کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے بار بار حملوں اور قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں ایران کو خبردار کیا گیا کہ اگر اس نے اپنا “جارحانہ رویہ” جاری رکھا تو قطر اپنے قومی مفادات، سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے مناسب جواب دے گا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی اہم گیس تنصیب راس لفان نیچرل گیس پروسیسنگ فیسلٹی کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ تنصیب قطر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔دوسری جانب تہران پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل پر اپنے تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کر چکا ہے اور خبردار کیا تھا کہ وہ خطے میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر جواب دے سکتا ہے۔